شیعہ کی سیاسی تاریخ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ کی سیاسی تاریخ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 11

شیعہ کی سیاسی تاریخ

شیعہ کی اسلام سے غداری، مسلم کشی اور کفار سے دوستی اور موالات کو ملاحظہ فرمائیں۔

(1) ابو لؤلؤ مجوسی ایرانی نے شہزادہ ہرمزان کی سازش سے مرادِ نبوت، فاتحِ اسلام، خسرِ رسولﷺ اور دامادِ علیؓ  سیدنا عمرؓ کو شہید کیا شیعہ اس دن عید مناتے ہیں اور قاتلِ عمرؓ فیروز مجوسی کو بابا شجاع کہہ کر فیروزہ نامی انگوٹھی کو متبرک جانتے ہیں۔      (2) حضرت عثمانؓ کو جن سبائی بلوائیوں نے شہید کیا ان کو اپنا پہلا شیعی گروہ اور متقی و صالح جانتے ہیں حالانکہ اسلام کا بڑا حادثہ یہی ہے۔

(3) جنگ جمل و صفین میں طلحہ و زبیر اور ستر ہزار صحابہ کرامؓ  و تابعینؒ کا قاتل بھی یہی گروہ ہے ان اہم حادثات پر خوش ہیں کبھی ماتمی مجلس قائم نہیں کی ہے۔

(4) نہروان میں سیدنا علیؓ سے جنگ کرنے والے خارجی اسی گروہ سے تھے جنہوں نے حضرت علیؓ کے شرعی فیصلے کے برخلاف ان الحکم الا للہ (حکومت صرف خدا کے مقرر کرنے سے ملتی ہے) کا نعرہ لگایا، آج بھی شیعہ کا یہی نعرہ ہے کہ امامت و خلافت خدا کی نص اور مقرر کرنے سے ملتی ہے شوریٰ اور مسلمانوں کے انتخاب سے نہیں ملتی شیعہ حضرت امیر معاویہؓ کی تو خوب مذمت کرتے ہیں مگر ان محاربان علی (خارجیوں) کی نہیں کرتے آخر مذہبی برادری کے سوا اور کیا راز ہو سکتا ہے؟؟؟

(5) قاتلِ علی ابن ملجم کٹر شیعہ اور مصری بلوائی تھا، اس کے پہلے کسی عمل کی شیعہ مذمت نہیں کرتے اور نمازوں کے بعد اس پر لعنت نہیں کرتے جیسے معاذاللہ خلفاۓ ثلاثہؓ و امیر معاویہؓ پر کرتے ہیں۔ اس کا راز اس کا شیعہ بھائی ہونا نہیں تو اور کیا ہے؟ 

اہلِ بیت پر مظالم

شیعہ احتجاجِ طبرس، منتہی الآمال، جلاءالعیون وغیرہ کتب شیعہ میں صراحت ہے کہ جب حضرت حسن المجتبیٰؓ نے اپنے ناناﷺ کی پیشین  گوئی اور رضا کے مطابق حضرت معاویہؓ کے ہاتھ پر بیعت و مصالحت کرلی سب مسلمان ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے وہ سال عام الجماعہ کہلایا۔ تو اتحادِ ملّی کے دشمن شیعہ حضرت حسنؓ سے ناراض ہو گئے۔ آپ کو بہت کوسا اور مطعون کیا۔ اس کی صدائے باز گشت آج بھی شیعہ ایوانوں میں سے آرہی ہے کہ حسنؓ صرف امامت در اولاد سے ہی محروم نہ ہوئے بلکہ ان کے کسی مخصوص کمال اور بزرگی پر نہ تو کوئی تقریب و مجلس منعقد ہوتی ہے نہ کوئی نام نہاد خطیب آلِ محمدﷺ اس عظیم کارنامہ اتحاد پر آپ کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ بس بعد از وفاتِ جنازہ پر ایک جھوٹا واقعہ مشہور کر کے غیروں کو خوب گالیاں دیتے ہیں۔ مگر جن شیعوں نے حضرت حسنؓ پر قاتلانہ حملہ کیا، ران کاٹی، مال و اسباب لوٹا، ان کی مذمت میں مجلسِ عزا قائم نہیں کرتے؟
(7) حضرت امام حسینؓ کے ساتھ اس سبائی ٹولے کا سلوک شہرہ آفاق ہے دہرانے کی حاجت نہیں۔

(8) قتلِ حسینؓ کے بعد یہ لوگ نادم اور تائب ہوئے تاریخ میں ان کا لقب توابین مشہور ہے۔  قاضی نور اللہ شوستری لکھتے ہیں (قاتلانِ حسینؓ) شیعہ ایک مدت کے  بعد بیدار ہوئے۔ افسوس کھایا، اپنے اوپر لعنت کی کہ دنیا و آخرت کا گھاٹا ہمارے نصیب ہوا۔ کیونکہ ہم نے امیر المؤمنین حسینؑ کو بلایا پھر ان پر ہم نے تلوار کھینچی اور ہماری بے وفائی سے ہوا جو کچھ ہوا۔ 
اس جماعت کے سردار 5 اشخاص تھے۔ سلیمان بن صرد خزاعی، مسیب بن  نخبہ فزاری، عبداللہ بن سعد ازدی، عبداللہ بن دال تمیمی، رفاعہ بن شداد۔ اور یہ پانچوں حضرت علیؑ کے خاص اور معروف شیعہ تھے۔
(مجالس المؤمنین: صفحہ243 جلد2) 
(9) ان توابین نے پھر جو ظلم و بربریت پھیلائی اور عامۃ الناس کا قتلِ عام کیا۔ ایک طویل بحث اسی مجالس المؤمنین میں موجود ہے۔

(10) چند سالوں کے بعد "انتقامِ حسینؓ" کے بہانے بد ترین ظالم مختار بن عبید ثقفی اُٹھا۔
ستّر ہزار مسلمانوں کا قتلِ عام کر کے کوفہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ شرح دیوان  مرتضوی میں حسن عسکری کی روایت سے مقتولین کی تعداد 80301 ہے۔

(مجالس المؤمنین صفحہ251 جلد2)
آج بھی شیعہ اسے ناصر آلِ حسین کَہہ کر قومی ہیرو مانتے ہیں۔ 
حالانکہ یہ حسن المجتبیٰؓ کو گرفتار کرکے دشمنوں کے سپرد کرنا چاہتا تھا۔ لیکن چچا نے اسے ڈانٹ دیا۔ حضرت حسینؓ کے ساتھ غداری کی۔ پھر نبّوت کا دعویدار ہوا۔ محمد بن الحنیفہؒ کو اپنا امام بتایا۔ (حالانکہ مذہب شیعہ میں غیر امام کو امام کہنا بڑا کفر اور شرک ہے، ان کے نام سے دولت جمع کی۔ حضرت زین العابدینؒ اور محمد باقرؒ  نے اس پر پھٹکار کی اور اسے بے دین بتایا۔
(سب حوالہ جات "ہم سنّی کیوں ہیں؟" میں دیکھیے) 

لیکن شیعہ کو ہر سفاک سے پیار ہے۔ خواہ وہ بد عقیدہ اور ملعون ہو۔ یہ فتنہ حضرت مصعب بن زبیرؓ نے ختم کیا تھا۔
(11) حضرت زید شہید بن علی زین العابدینؒ جو فاضل سادات میں سے تھے۔ ظالم حکام کے  خلاف اٹھے چالیس ہزار کا لشکر تیار کیا۔ عین موقع پر ان کوفی شیعوں نے غداری کی اور کہا کہ تب ساتھ دیں گے جب سیدنا ابوبکرؓ و عمرؓ سے تبّرا کرو گے۔ حضرت زیدؒ نے فرمایا وہ تو میرے بزرگ آباء تھے میں ان سے کیسے تبّرا کروں؟ وہ سب ساتھ چھوڑ گئے۔ حضرت نے فرمایا: 

یٰقَوُمِ رفضتمونی
صفحہ 1 از 11