ممنوعاتِ خیبر - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ممنوعاتِ خیبر

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 4

خیبر میں نبی اکرمﷺ نے چند چیزوں سے منع فرمایا۔

1: اہلی گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔ 

2: مالِ غنیمت جب تک تقسیم نہ ہو جائے اس کے بیچنے سے منع فرمایا۔ 

3: اور لہسن (یعنی کچے لہسن) کے استعمال سے منع فرمایا۔ 

5: اور لحوم خیل(گھوڑے کا گوشت) کی اجازت دی۔ (جس میں فقہاء کا اختلاف ہے) 

ان تمام امور کی تفصیل زرقانی از صفحہ 333 جلد 2 تا صفحہ 235 جلد 2 میں دیکھیں۔

تحریمِ متعہ:

صحیحین میں سیدنا علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے خیبر میں متعہ سے منع فرمایا۔ علاوہ ازیں قرآن کریم کی متعدد آیات سے متعہ کی حرمت ثابت ہوتی ہے۔

1: قَالَ تَعَالٰی: وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰفِظُوۡنَ اِلَّا عَلٰٓى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ‌ فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ‌  

(سورۃ المعارج: آیت 29 تا31)

ترجمہ:اور جو اپنی شرمگاہوں کی (اور سب سے) حفاظت کرتے ہیں۔ سوائے اپنی بیویوں اور ان کنیزوں کے جو ان کی ملکیت میں آچکی ہوں۔ کیونکہ ایسے لوگ قابلِ ملامت نہیں ہیں۔ ہاں جو اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہیں تو ایسے لوگ حد سے گزرے ہوئے ہیں۔

اور ظاہر ہے کہ متعہ کی عورت شیعوں کے نزدیک نہ باندی ہے اور نہ بیوی ہے، اس لیے کہ متعہ کی عورت کے لیے نہ شہادت ہے نہ اعلان ہے نہ نان نفقہ ہے نہ سُکنی ہے اور نہ طلاق ہے اور نہ لعان ہے اور نہ ظہار ہے اور نہ ایلاء ہے اور نہ عدت ہے اور نہ میراث ہے۔ 

2: نیز حق تعالیٰ نے فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ لَـكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ‌ میں نکاح کی حد مقرر فرما دی ہے کہ چار سے زیادہ نکاح کی اجازت نہیں اور متعہ میں نہ حد متعین ہے اور نہ کوئی عدد خاص ہے۔

3: نیز اس رسم قبیح کے جاری ہونے کی صورت میں نکاح کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔ اس لیے کہ اکثر نکاح کرنے والے نفسانی خواہش کے پورا کرنے کے لیے نکاح کرتے ہیں اور یہ خواہش جب متعہ سے پوری ہو سکے گی تو پھر نکاح ہی کی کیا ضرورت رہے گی۔

حرمت متعہ:

ابتداء اسلام میں حلال اور حرام کے بہت سے احکام رفتہ رفتہ نازل ہوئے۔ چنانچہ شراب اور سود کی حرمت کا حکم نبوت اور بعثت کے تقریباً پندرہ سال کے بعد نازل ہوا۔

اسی طرح متعہ کے بارے میں حکم خداوندی کے نازل ہونے سے پہلے جاہلیت کے عادت اور رسم و رواج کے موافق لوگ متعہ کیا کرتے تھے اور اب تک اس بارے میں کوئی صریح اور واضح حکم نازل نہ ہوا تھا، سب سے پہلے خیبر کی لڑائی میں جو ہجرت کا ساتواں سال تھا نبی کریمﷺ نے متعہ اور لحوم حمر الاہلیہ کی حرمت کا اعلان فرمایا جیسا کہ سیدنا علیؓ سے باسنید صحیحہ مروی ہے۔ (بخاری و مسلم)

پھر اس کے بعد ہجرت کے آٹھویں سال کے آخر میں جنگ اوطاس کا واقعہ پیش آیا۔ صرف تین روز کے لیے متعہ کی اجازت ہوئی اور اباحت کے یہ معنیٰ ہیں کہ جن لوگوں نے حسب سابق متعہ کر لیا تھا اور خیبر میں جو متعہ کی ممانعت کی گئی تھی اس کا ان کو علم نہ تھا۔ اس لاعلمی میں جن لوگوں نے متعہ کر لیا (ان پر مواخذہ نہیں کیا گیا) لیکن اس کے بعد جب حضورﷺ عمرہ کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لائے تو خانہ کعبہ کے دونوں بازوؤں سے پکڑ کر یہ فرمایا کہ متعہ قیامت تک کے لیے ہمیشہ کے واسطے حرام کیا گیا۔ فتح مکہ کے بعد چونکہ ہزاروں آدمی دائرہ اسلام میں داخل ہوئے جن کو متعہ کی حرمت کا علم نہ تھا۔ اس لیے نا واقفی کی بنا پر حسبِ رسم جاہلیت انہی نومسلموں کے بعض لوگوں نے مقام اوطاس میں لاعلمی کی بنا پر متعہ کیا۔ نبی اکرمﷺ کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے باب کعبہ پر کھڑے ہو کر متعہ کی دائمی حرمت کا اعلان فرمایا۔

پھر نبی کریمﷺ نے غزوہ تبوک میں کچھ عورتوں کو مسلمانوں کے خیمہ کے قریب پھرتے دیکھا تو دریافت فرمایا کہ یہ کون عورتیں ہیں، عرض کیا گیا کہ ان عورتوں سے کچھ لوگوں نے متعہ کیا،معلوم ہوا کہ اس وقت یا کسی گزشتہ زمانہ میں۔(بین القوسین عبارت فتح الباری سے ماخوذ ہے)

  تو نبی اکرمﷺ سخت ناراض ہوئے اور غصہ کی وجہ سے چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا کی اور اس کے بعد متعہ سے منع فرمایا، صحابہؓ کہتے ہیں کہ اس کے بعد ہم نے کبھی متعہ نہیں کیا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہ ارادہ کر لیا کہ کبھی متعہ نہیں کریں گے۔

حوالہ(کذافی کتاب الاعتبار للامام الحازمی صفحہ 180)اخرج الامام الحازمی باسنادہ عن جابر بن عبداللہ الانصاری یقول خرجنا مع رسول اللہﷺ الی غزوہ تبوک حتی اذا کنا عندالعقبة ممایلی الشام جئن نسوۃ فذکرنا تمعتناھن یجئبن فی رحالنا او قال یطفن فی رحالنا فجاءنا رسول اللہﷺ فنظر الیہن فقال ھؤلاء النسوۃ فقلنا یارسول اللہ نسوۃ تمتعنا منہن فغضب رسول اللہﷺ حتی احمرت وجنتاہ وتغیر لونہ واشتد غضبہ و قام فینا خطیبا فحمداللہ واثنی علیہ ثم نہی عن المتعۃ فتوادعنا ویومئذ الرجال ولم نعد ولا نعود لہا ابد11ھ)

پس نبی کریمﷺ کا شدید ناراض ہونا حتیٰ کہ چہرہ مبارک کے رنگ کا سرخ ہو جانا اس امر کی صریح دلیل ہے کہ متعہ کی حرمت اور مخالفت آپﷺ پہلے ہی فرما چکے تھے بلکہ دو مرتبہ اس کی حرمت سے آگاہ کر چکے تھے۔ پہلی بار خیبر میں اور دوسری بار غزوہ اوطاس میں۔ پس دوسری مرتبہ کی ممانعت کے بعد جب یہ فعل ظہور میں آیا (اگرچہ وہ لاعلمی اور ناواقفیت کی بناء پر تھا) تو نبی کریمﷺ کو شدید ناگوار گزرا اور غصہ کے مارے چہرہ سرخ ہوگیا اور سہ بارہ آپ نے اس کی حرمت کے لیے خطبہ دیا اور تیسری بار اس کی حرمت کا تاکیدی اعلان فرمایا۔

اس کے بعد پھر حجۃ الوداع میں حرمت متعہ کا اعلان عام فرمایا تا کہ خواص اور عوام سب ہی کو اس کی حرمت کا علم ہو جائے۔

بعض راویوں کو تحریم متعہ کے اس بار اعلان سے یہ گمان ہوگیا کہ متعہ دو یا تین مرتبہ حلال کیا گیا اور دو یا تین مرتبہ حرام کیا گیا۔ حالانکہ دوبارہ اور سہ بارہ اعلان کوئی جدید تحریم نہ تھی بلکہ تحریم قدیم اور انہی سابق کا اعادہ اور تاکید تھی۔

صفحہ 1 از 4