خیبر میں نبی اکرمﷺ نے چند چیزوں سے منع فرمایا۔
1: اہلی گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔
2: مالِ غنیمت جب تک تقسیم نہ ہو جائے اس کے بیچنے سے منع فرمایا۔
3: اور لہسن (یعنی کچے لہسن) کے استعمال سے منع فرمایا۔
5: اور لحوم خیل(گھوڑے کا گوشت) کی اجازت دی۔ (جس میں فقہاء کا اختلاف ہے)
ان تمام امور کی تفصیل زرقانی از صفحہ 333 جلد 2 تا صفحہ 235 جلد 2 میں دیکھیں۔
تحریمِ متعہ:
صحیحین میں سیدنا علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے خیبر میں متعہ سے منع فرمایا۔ علاوہ ازیں قرآن کریم کی متعدد آیات سے متعہ کی حرمت ثابت ہوتی ہے۔
1: قَالَ تَعَالٰی: وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰفِظُوۡنَ اِلَّا عَلٰٓى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ
(سورۃ المعارج: آیت 29 تا31)
ترجمہ:اور جو اپنی شرمگاہوں کی (اور سب سے) حفاظت کرتے ہیں۔ سوائے اپنی بیویوں اور ان کنیزوں کے جو ان کی ملکیت میں آچکی ہوں۔ کیونکہ ایسے لوگ قابلِ ملامت نہیں ہیں۔ ہاں جو اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہیں تو ایسے لوگ حد سے گزرے ہوئے ہیں۔
اور ظاہر ہے کہ متعہ کی عورت شیعوں کے نزدیک نہ باندی ہے اور نہ بیوی ہے، اس لیے کہ متعہ کی عورت کے لیے نہ شہادت ہے نہ اعلان ہے نہ نان نفقہ ہے نہ سُکنی ہے اور نہ طلاق ہے اور نہ لعان ہے اور نہ ظہار ہے اور نہ ایلاء ہے اور نہ عدت ہے اور نہ میراث ہے۔
2: نیز حق تعالیٰ نے فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ لَـكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ میں نکاح کی حد مقرر فرما دی ہے کہ چار سے زیادہ نکاح کی اجازت نہیں اور متعہ میں نہ حد متعین ہے اور نہ کوئی عدد خاص ہے۔
3: نیز اس رسم قبیح کے جاری ہونے کی صورت میں نکاح کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔ اس لیے کہ اکثر نکاح کرنے والے نفسانی خواہش کے پورا کرنے کے لیے نکاح کرتے ہیں اور یہ خواہش جب متعہ سے پوری ہو سکے گی تو پھر نکاح ہی کی کیا ضرورت رہے گی۔
حرمت متعہ:
ابتداء اسلام میں حلال اور حرام کے بہت سے احکام رفتہ رفتہ نازل ہوئے۔ چنانچہ شراب اور سود کی حرمت کا حکم نبوت اور بعثت کے تقریباً پندرہ سال کے بعد نازل ہوا۔
اسی طرح متعہ کے بارے میں حکم خداوندی کے نازل ہونے سے پہلے جاہلیت کے عادت اور رسم و رواج کے موافق لوگ متعہ کیا کرتے تھے اور اب تک اس بارے میں کوئی صریح اور واضح حکم نازل نہ ہوا تھا، سب سے پہلے خیبر کی لڑائی میں جو ہجرت کا ساتواں سال تھا نبی کریمﷺ نے متعہ اور لحوم حمر الاہلیہ کی حرمت کا اعلان فرمایا جیسا کہ سیدنا علیؓ سے باسنید صحیحہ مروی ہے۔ (بخاری و مسلم)
پھر اس کے بعد ہجرت کے آٹھویں سال کے آخر میں جنگ اوطاس کا واقعہ پیش آیا۔ صرف تین روز کے لیے متعہ کی اجازت ہوئی اور اباحت کے یہ معنیٰ ہیں کہ جن لوگوں نے حسب سابق متعہ کر لیا تھا اور خیبر میں جو متعہ کی ممانعت کی گئی تھی اس کا ان کو علم نہ تھا۔ اس لاعلمی میں جن لوگوں نے متعہ کر لیا (ان پر مواخذہ نہیں کیا گیا) لیکن اس کے بعد جب حضورﷺ عمرہ کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لائے تو خانہ کعبہ کے دونوں بازوؤں سے پکڑ کر یہ فرمایا کہ متعہ قیامت تک کے لیے ہمیشہ کے واسطے حرام کیا گیا۔ فتح مکہ کے بعد چونکہ ہزاروں آدمی دائرہ اسلام میں داخل ہوئے جن کو متعہ کی حرمت کا علم نہ تھا۔ اس لیے نا واقفی کی بنا پر حسبِ رسم جاہلیت انہی نومسلموں کے بعض لوگوں نے مقام اوطاس میں لاعلمی کی بنا پر متعہ کیا۔ نبی اکرمﷺ کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے باب کعبہ پر کھڑے ہو کر متعہ کی دائمی حرمت کا اعلان فرمایا۔
پھر نبی کریمﷺ نے غزوہ تبوک میں کچھ عورتوں کو مسلمانوں کے خیمہ کے قریب پھرتے دیکھا تو دریافت فرمایا کہ یہ کون عورتیں ہیں، عرض کیا گیا کہ ان عورتوں سے کچھ لوگوں نے متعہ کیا،معلوم ہوا کہ اس وقت یا کسی گزشتہ زمانہ میں۔(بین القوسین عبارت فتح الباری سے ماخوذ ہے)
تو نبی اکرمﷺ سخت ناراض ہوئے اور غصہ کی وجہ سے چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا کی اور اس کے بعد متعہ سے منع فرمایا، صحابہؓ کہتے ہیں کہ اس کے بعد ہم نے کبھی متعہ نہیں کیا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہ ارادہ کر لیا کہ کبھی متعہ نہیں کریں گے۔
حوالہ(کذافی کتاب الاعتبار للامام الحازمی صفحہ 180)اخرج الامام الحازمی باسنادہ عن جابر بن عبداللہ الانصاری یقول خرجنا مع رسول اللہﷺ الی غزوہ تبوک حتی اذا کنا عندالعقبة ممایلی الشام جئن نسوۃ فذکرنا تمعتناھن یجئبن فی رحالنا او قال یطفن فی رحالنا فجاءنا رسول اللہﷺ فنظر الیہن فقال ھؤلاء النسوۃ فقلنا یارسول اللہ نسوۃ تمتعنا منہن فغضب رسول اللہﷺ حتی احمرت وجنتاہ وتغیر لونہ واشتد غضبہ و قام فینا خطیبا فحمداللہ واثنی علیہ ثم نہی عن المتعۃ فتوادعنا ویومئذ الرجال ولم نعد ولا نعود لہا ابد11ھ)
پس نبی کریمﷺ کا شدید ناراض ہونا حتیٰ کہ چہرہ مبارک کے رنگ کا سرخ ہو جانا اس امر کی صریح دلیل ہے کہ متعہ کی حرمت اور مخالفت آپﷺ پہلے ہی فرما چکے تھے بلکہ دو مرتبہ اس کی حرمت سے آگاہ کر چکے تھے۔ پہلی بار خیبر میں اور دوسری بار غزوہ اوطاس میں۔ پس دوسری مرتبہ کی ممانعت کے بعد جب یہ فعل ظہور میں آیا (اگرچہ وہ لاعلمی اور ناواقفیت کی بناء پر تھا) تو نبی کریمﷺ کو شدید ناگوار گزرا اور غصہ کے مارے چہرہ سرخ ہوگیا اور سہ بارہ آپ نے اس کی حرمت کے لیے خطبہ دیا اور تیسری بار اس کی حرمت کا تاکیدی اعلان فرمایا۔
اس کے بعد پھر حجۃ الوداع میں حرمت متعہ کا اعلان عام فرمایا تا کہ خواص اور عوام سب ہی کو اس کی حرمت کا علم ہو جائے۔
بعض راویوں کو تحریم متعہ کے اس بار اعلان سے یہ گمان ہوگیا کہ متعہ دو یا تین مرتبہ حلال کیا گیا اور دو یا تین مرتبہ حرام کیا گیا۔ حالانکہ دوبارہ اور سہ بارہ اعلان کوئی جدید تحریم نہ تھی بلکہ تحریم قدیم اور انہی سابق کا اعادہ اور تاکید تھی۔
بعد ازاں سیدنا عمرؓ کے زمانہ خلافت میں بعض لوگ ناواقفیت کی بنا پر جن پر متعہ کی خبر نہ پہنچی تھی اس فعل کا ارتکاب کر بیٹھے تو فاروقِ اعظمؓ کو جب یہ خبر پہنچی تو سخت ناراض ہوئے اور منبر پر چڑھے اور خطبہ دیا اور متعہ کی حرمت کا اعلان فرمایا تاکہ اس کی حرمت میں کوئی شبہ باقی نہ رہے۔ اور یہ فرمایا کہ میرے اس اعلان کے بعد اب اگر کوئی متعہ کرے گا تو میں اس پر زنا کی حد جاری کروں گا۔ اس وقت سے متعہ بالکل موقوف ہوگیا اور اسی پر تمام صحابہؓ کا اجماع ہوگیا اور عبداللہ بن عباسؓ وغیرہ جو لاعلمی کی بنا پر متعہ کی اباحت کے قائل تھے۔ جب ان کو متعہ کی حرمت اور ممانعت کا علم ہوا تو اپنے قول سے رجوع کیا۔ جیسا کہ ابوبکر جصاص نے احکام القرآن صفحہ 147 جلد 2 میں نہایت تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے۔ حضرات اہل علم فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰ تُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً کی تفسیر میں یہ تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔
عبداللہ بن عباسؓ کی پیدائش ہجرت سے ایک یا دو سال پہلے ہوئی اور آٹھ یا نو برس کی عمر تک اپنے والدین کے ساتھ مکہ معظمہ میں رہے۔ فتح مکہ کے بعد 8ھ میں جب حضرت عباسؓ نے مع خاندان کے ہجرت فرمائی تو ابن عباس اپنے والد محترم کے ساتھ مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور غزوہ خیبر (جس میں حرمت متعہ کا اعلان ہوا تھا) وہ ابن عباس کے مدینہ منورہ آنے سے قبل ہو چکا تھا اور اس عرصہ میں کوئی متعہ کا واقعہ بھی پیش نہیں آیا۔ اس لیے حضرت عباسؓ کو بذات خود متعہ کے متعلق کوئی خبر نہیں ہوئی۔ صرف دوسرے صحابہؓ کی زبانی سنا اور اس بناء پر فتویٰ دیا کہ جس طرح مجبوری کی حالت میں مردار اور خنزیر مباح ہو جاتا ہے۔ اسی طرح مجبوری کی حالت میں متعہ بھی جائز ہے۔ لیکن بعد میں جب حضرت علیؓ نے اور دیگر صحابہؓ کرام نے متعہ کے متعلق قیامت تک کی حرمت اور ممانعت کی روایتیں ابن عباس کو سنائیں تو ابن عباس نے اس سے رجوع فرمایا۔ حضرت علیؓ سے حرمت متعہ کی روایتیں پیش آئیں مگر حضرات شیعہ، متعہ کے اس درجہ شیدائی ہیں کہ سیدنا علیؓ کی بھی نہیں سنتے۔
قال الامام ابو جعفر الطحاوی کل ھؤلاء الذین رووا عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم اطلاقھا اخبروا انھا کانت
فے سفر وان النھی لحقہافے ذٰلک السفر بعد ذٰلک فمنع
منھا ولیس احد منھم یخبر انھا کانت فی حضرو
کذلک روی عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ
(تفسیرقرطبی: صفحہ 131جلد 2)
امام طحاویؒ فرماتے ہیں کہ جتنے لوگوں نےبھی متعہ کی اباحت اور رخصت کو بیان کیا ہے سب نے بالاتفاق بھی بیان کیا ہے کہ یہ وقتی رخصت فقط حالتِ سفر میں پیش آئی ہے اور پھر یہ بھی بیان کیا کہ پھر اسی سفر میں اباحت کے بعد متصل فوراً ہی متعہ کی ممانعت کا اعلان ہوا اور ایک راوی بھی ایسا نہیں کہ جو یہ بیان کرتا ہو کہ متعہ کا واقعہ حضر میں پیش آیا ہو اور ایسا ہی عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے۔
اور اسی طرح امام حازّمیؒ فرماتے ہیں:
وانما کان ذلک فی اسفارھم ولم یبلغنا ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم اباحھم لھم وھم فی بیوتهم
(اکتاب الاعتبار:صفحہ 178)
متعہ کی اباحت کا جو واقعہ بھی ہوا وہ جزایں نیست کہ سفر میں ہوا اور ہم کو کسی ایک راوی سے آنحضرتﷺنے گھر اور وطن میں رہنے کی حالت میں
بھی ان کو متعہ کی اجازت دی ہو۔ یعنی ایسا کبھی نہیں ہوا کہ وطن میں رہ کر کسی نے متعہ کیا ہو۔
ابتداء اسلام میں کس قسم کا متعہ مباح تھا
جاننا چاہیے کہ لفظ متعہ ”متاع“ سے مشتق ہے جس کے معنیٰ نفع قلیل کے ہیں کما قال تعالیٰ اِنَّمَا هٰذِهِ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا مَتَاعٌ اور مطلقہ کو جو کپڑے وغیرہ کا جوڑا دیا جاتا ہے اس کو بھی متعہ اس لیے کہتے ہیں کہ بمقابلہ مہر نفع قلیل ہے۔ کما قال تعالیٰ فَمَتِّعُوۡهُنَّ وَلِلۡمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌ ۢ بِالۡمَعۡرُوۡفِ، یہ متعہ کے اصل معنیٰ ہوئے اور متعہ کا اطلاق دو معنی پر آتا ہے۔ ایک یہ کہ متعہ سے” نکاح مؤقت“ مراد ہو یعنی ایک مدت معینہ کے لیے گواہوں کے سامنے کسی عورت سے ازدواجی تعلق قائم کیا جائے اور مدت معینہ گزرنے کے بعد بلا طلاق مفارقت واقع ہو جائے۔ لیکن مفارقت کے بعد استبراء رحم کے لیے ایک مرتبہ ایام ماہواری کا انتظار کرے۔ تاکہ دوسرے نطفے کے ساتھ اختلاط سے محفوظ رہے۔ یہ صورت ابتداء اسلام میں جائز تھی۔ بعد میں ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئی۔ یعنی متعہ یعنی نکاح موقت ابتداء اسلام میں جائز تھا اور بعد میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو گیا۔
اور متعہ کے دوسرے معنیٰ یہ ہیں کہ کوئی شخص کسی عورت سے یہ کہے کہ میں تجھ سے ایک روز کے لیے منتفع ہوں گا اور اس ایک روزہ یا دو روزہ انتفاع کی تجھ کو یہ اجرت دوں گا تو یہ صریح زنا ہے اور عین زنا ہے۔ متعہ کی یہ صورت کبھی بھی اسلام میں جائز اور مباح نہیں ہوئی تاکہ اس کو منسوخ کہا جائے۔ بلکہ متعہ کی صورت کسی دین میں بھی حلال نہیں ہوئی۔ اس لیے کہ متعہ کی یہ صورت صریح زنا ہے اور زنا کسی دین میں کبھی بھی حلال نہیں ہوا۔ البتہ متعہ کی پہلی صورت یعنی ”نکاح مؤقت“ (یعنی مدت معینہ کے لیے گواہوں کی موجودگی میں ولی کی اجازت سے تعلق قائم کرنا اور مدت معینہ گزرنے کے بعد ایک حیض عدت گزارنا) یہ ایک برزخی مقام ہے۔ یعنی یہ نکاح مؤقت نکاح مطلق اور زنا محض کے درمیان ایک درمیانی درجہ ہے کہ جو نہ زنا محض ہے اور زنا نکاح مطلق ہے۔ کہ جس میں طلاق اور عدت اور میراث، ہو نکاح متعہ کی یہ صورت حقیقی نکاح نہیں بلکہ نکاح حقیقی کے ساتھ صرف ظاہری مشابہت ہے کہ متعہ کی اس صورت میں گواہ کی بھی اور ولی کی اجازت کی بھی ضرورت ہے۔ اور مرد سے علیحدہ ہونے کے بعد اگر دوسرے مرد سے متعہ کرنا چاہے تو جب تک ایک مرتبہ حیض نہ آ جائے اس وقت تک دوسرے مرد سے متعہ نہیں کر سکتی۔ اس لیے اس صورت کو محض زنا بھی نہیں کہا جا سکتا۔ ایسے نکاح مؤقت میں (کہ جس میں ابتداء گواہی اور اذن ولی ضروری ہو اور انتہاء استبراء رحم کے لیے حیض کا آنا ضروری ہو) اور ”نکاح صحیح و مؤبد“ میں صرف مؤقت اور موجود اور میراث کا فرق ہے۔ باقی شرائط میں دونوں متفق ہیں۔ امام قرطبیؒ فرماتے ہیں:
روی اللیث بن سعد عن بکیر بن الاشج عن عمار مولى الشريد قال سألت ابن عباس من المتعة اسفاح هي ام نکاح قال لا سفاح ولا نکاح قلت فما هي قال المتعة کما قال تعالیٰ۔ قلت هل علیها عدة قال نعم حیضة قلت یتوارثان قال لا۔(تفسیر قرطبی :صفحہ 132 جلد 5)
ام لیث بن سعد بن بکیر بن اشج سے روای ہیں کہ عمار مولائے شرید سے کہا کہ میں نے ابن عباسؓ سے متعہ کے متعلق یہ سوال کیا کہ متعہ زنا ہے یا نکاح۔ فرمایا متعہ نہ زنا ہے نہ نکاح ہے۔ میں نے پھر سوال کیا کہ آخر وہ کیا ہے؟ فرمایا کہ وہ متعہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر لفظ متعہ کا اطلاق کیا ہے۔ میں نے سوال کیا کہ متعہ والی عورت پر عدت ہے؟ فرمایا کہ ہاں متعہ کی مدت گزرنے کے بعد اس پر ایک حیض کا انتظار کرنا واجب ہے۔ میں نے سوال کیا کہ وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے؟ فرمایا نہیں۔
اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ نکاح متعہ یعنی مؤقت ایک برزخی مقام ہے یعنی نکاح مطلق اور زنا محض کے درمیان ایک درمیانی درجہ ہے۔ ابتداء اسلام میں صرف یہ صورت بھی ایسی مجبوری کی حالت میں جائز تھی جیسا کہ مجبوری کی حالت میں مردار اور خنزیر حلال ہو جاتا ہے۔
اس کے بعد امام قرطبیؒ فرماتے ہیں۔
قال ابو عمر لم یختلف العلماء من السلف والخلف ان المتعة نکاح الی اجل لا میراث فیه والفرقة تقع عند انقضاء الاجل من غیر طلاق وقال ابن عطیة وکانت المتعة ان یتزوج الرجل بشاھدین واذن الولی الی اجل مسمى وَعَلیٰ ان لا میراث بینھما ویعطیھا ما اتفقا علیه فاذا انقضت المدة فلیس لہ علیھا سبیل ویستبرئ رحمھا لان الولد لا حق فیه بلا شک فان لم تحمل حلت لغیره وفى کتاب النحاس فى ھذا خطاء وان الولد لا یلحق فی نکاح المتعة (قلت) ھذا ھو المفهوم من عبارة النحاس فانه قال انما المتعة ان یقول لھا اتزوجک یوما او ما اشبہ ذلک علی انہ لا عدة علیک ولا میراث بیننا ولا طلاق ولا شاھد یشھد علی ذلک وھذا ھو الزنا بعینہ ولم یبح قط فی الاسلام ولذا قال عمر لا اوتی برجل تزوج متعة الا غیبتہ تحت الحجارہ۔
(تفسیر قرطبی: جلد 5 صفحہ 132)
خلاصہ کلام:
یہ کہ احادیث نبویہ میں جس نکاح متعہ کی اباحت اور پھر اس کی حرمت اور ممانعت کا ذکر ہے اس سے یہ عرفی متعہ ہرگز مراد نہیں جس کے حضرات شیعہ قائل ہیں۔ بلکہ اس سے وہ نکاح مؤقت مراد ہے کہ جو نکاح ایک مدت معین کے لیے گواہوں کی موجودگی میں ولی کی اجازت سے منعقد ہو اور پھر مدت معینہ گزر جانے کے بعد بلا طلاق کے مفارقت واقع ہو جائے اور پھر اس کے بعد وہ عورت بغیر ایک حیض آئے دوسرے مرد سے متعہ نہ کر سکے۔
یہ صورت ابتداء اسلام میں بایں معنیٰ جائز اور مباح تھی کہ شریعت میں اس خاص صورت کی ممانعت اور حرمت کا ابھی تک کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ جیسا کہ شراب اور سود کے ابتداء اسلام میں مباح اور حلال ہونے کے یہ معنی ہیں کہ ابتداء اسلام میں حق تعالیٰ کی طرف سے شراب اور سود کی ممانعت اور حرمت کا ابھی تک کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا اور جن لوگوں نے ممانعت سے پہلے شراب پی یا سود لیا، شریعت کی طرف سے ان پر کوئی حد جاری نہیں کی گئی اور نہ ان کو کوئی سزا دی گئی۔ یہاں تک کہ شراب اور سود کی حرمت کا حکم نازل ہو گیا۔
ابتداء اسلام میں شراب اور سود کے حلال ہونے کے یہ معنی نہیں کہ معاذاللہ شریعت کی طرف سے اجازت تھی کہ جس کا جی چاہے شراب پیئے اور جس کا جی چاہے سود لے۔ اسی طرح متعہ یعنی نکاح موقت کے ابتداء اسلام میں جائز اور مباح ہونے کے یہ معنیٰ ہیں کہ ابتداء اسلام میں نکاح متعہ، یعنی نکاح مؤقت کی ممانعت تھی، معاذاللہ یہ معنیٰ نہیں کہ نبی اکرمﷺ نے قولاً نکاح متعہ کی اجازت دی تھی۔ نکاح متعہ کی حرمت کا پہلا اعلان غزوہ خیبر میں ہوا اور پھر غزوہ اوطاس میں اور پھر غزوہ تبوک میں اور پھر حجۃ الوداع میں تاکہ عوام وخواص کو اس کی حرمت کا خوب علم ہو جائے اور نبی اکرمﷺ کا حرمت متعہ کے متعلق یہ بار بار اعلان اسی پہلے اعلانِ حرمت کی تاکید کے لئے تھا کہ جو آپﷺ غزوہ خیبر میں فرما چکے تھے، کوئی جدید حکم نہ تھا۔
باقی شیعوں والا متعہ کہ مرد عورت سے ایک دن یا دو دن ایک گھنٹے یا دو گھنٹے کے لیے معاوضہ لے کر کے استفادہ کرے تو یہ صریح زنا اور صریح بدکاری ہے۔ یہ صورت کبھی بھی اسلام میں جائز نہیں ہوئی۔ چہ جائیکہ منسوخ ہوئی جیسے زنانہ بھی مباح ہوا اور نہ منسوخ ہوا۔
بلکہ
ابتداء آفرنیش عالم سے لے کر اب تک سوائے مذہب شیعہ کے کسی دین اور مذہب میں متعہ جائز نہیں ہوا، معاذاللہ اگر شیعوں والا متعہ جائز ہو جائے تو پھر نسب میں بھی خلل واقع ہوگا اور اولاد بھی ضائع ہوگی اور وراثت اور مورث کی تمیز نہ ہوگی اور نہ یہ معلوم ہوگا کہ کون بیٹا ہے اور کون بھائی۔ نیز میراث اور طلاق اور عدت کے جو احکام شریعت میں آئے ہیں وہ سب معطل ہو جائیں گے۔ نیز شریعت نے نکاح میں جو چار عورتوں کی حد مقرر کی ہے وہ بھی معطل ہو جائے گی۔ اس لیے کہ متعہ میں نہ چار کی قید ہے نہ عدت ہے اور نہ طلاق ہے اور نہ میراث ہے، ایک متعہ کے قائل ہونے سے قرآن و حدیث کے یہ تمام احکام یکلخت معطل ہوئے جاتے ہیں۔ بلکہ نکاح کی بھی ضرورت نہ رہے گی۔ مرد اپنی حاجت متعہ سے پوری کر لیں گے اور عورتیں اپنے نان نفقہ اور دکھ اور درد کے مستقل کفیل اور ذمہ داری سے محروم ہو جائیں گی اور چلتے پھرتے اوباشوں پر ان کی نظر ہوگی اور پھر وہ شباب گزرنے کے بعد کون ان کا کفیل اور ذمہ دار ہوگا۔
حضرات شیعہ غور کریں کہ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی ذلت اور مصیبت کا منظر ہو سکتا ہے، شیعوں کو چاہیے کہ دل و جان سے سیدنا عمر فاروقؓ کے شکر گزار ہوں کہ جس نے اپنے دورِ خلافت میں اس بے حیائی کا نام و نشان بھی مٹا دیا۔
حرمتِ متعہ کی ایک وجدانی دلیل:
ہر شریف الطبع اور باعزت انسان اپنے اور اپنی بیٹی اور بہن کے نکاح کے اعلان کو فخر سمجھتا ہے اور غایتِ مسرت اور انبساط کے ساتھ وہ نکاح پر اقارب اور احباب کو مدعو کرتا ہے۔
بخلاف متعہ کے کہ اس کو چھپاتا ہے اور اپنی بیٹی اور بہن اور ماں کی طرف متعہ کی نسبت کرنے سے عار محسوس کرتا ہے، آج تک کسی اونچی غیرت مند بلکہ کسی بے غیرت کے متعلق بھی نہیں سنا گیا کہ اس نے کسی مجلس میں بطورِ فخر یا بطورِ ذکر یہ کہا ہو کہ میری بیٹی اور بہن اور میری ماں نے اتنے متعے کیے ہیں۔
نیز تمام عقلاء نکاح پر مرد اور عورت کو اور اس کے والدین کو مبارک باد دیتے ہیں مگر متعہ کے متعلق کہیں مبارک باد دیتے نہیں سنا۔