متعہ کی حقیقت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

متعہ کی حقیقت

  علیان

متعہ: یا مؤقت شادی: یہ ہے کہ کوئی شخص کسی عورت سے کچھ معین وقت کے لیے کچھ مال کے عوض شادی کرے۔

(صحیح مسلم: جلد: 2 دوسرا پارہ: حدیث نمبر: 3410 حدیث مرفوع)

3410۔ حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ أَنَّ أَبَاهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتْحَ مَکَّةَ قَالَ فَأَقَمْنَا بِهَا خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ فَأَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ فَخَرَجْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ قَوْمِي وَلِي عَلَيْهِ فَضْلٌ فِي الْجَمَالِ وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْ الدَّمَامَةِ مَعَ کُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدٌ فَبُرْدِي خَلَقٌ وَأَمَّا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي فَبُرْدٌ جَدِيدٌ غَضٌّ حَتّٰی إِذَا کُنَّا بِأَسْفَلِ مَکَّةَ أَوْ بِأَعْلَاهَا فَتَلَقَّتْنَا فَتَاةٌ مِثْلُ الْبَکْرَةِ الْعَنَطْنَطَةِ فَقُلْنَا هَلْ لَکِ أَنْ يَسْتَمْتِعَ مِنْکِ أَحَدُنَا قَالَتْ وَمَاذَا تَبْذُلَانِ فَنَشَرَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدَهٗ فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَی الرَّجُلَيْنِ وَيَرَاهَا صَاحِبِي تَنْظُرُ إِلٰی عِطْفِهَا فَقَالَ إِنَّ بُرْدَ هٰذَا خَلَقٌ وَبُرْدِي جَدِيدٌ غَضٌّ فَتَقُولُ بُرْدُ هٰذَا لَا بَأْسَ بِهٖ ثَلَاثَ مِرَارٍ أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ اسْتَمْتَعْتُ مِنْهَا فَلَمْ أَخْرُجْ حَتّٰی حَرَّمَهَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔

3410۔ ابوکامل، فضیل ابن حسین جحدری، بشر ابن مفضل، عمارہ بن غزیۃ، حضرت ربیع بن سبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے رسول اللہﷺ کے ساتھ غزوہ فتح مکہ میں شرکت کی، انہوں نے کہا پس ہم نے مکہ میں پندرہ دن یعنی مکمل تیس دن رات قیام کیا، تو رسول اللہﷺ نے ہمیں نکاح متعہ کی اجازت دی، پس میں اور میری قوم میں سے ایک آدمی نکلے اور میں خوبصورتی میں اس پر فضیلت کا حامل تھا اور وہ بدصورتی کے قریب تھا اور ہم میں سے ہر ایک کے پاس ایک ایک چادر نئی اور عمدہ تھی، جب ہم مکہ کے نیچے یا اونچے علاقے میں آئے تو ہمیں ایک عورت ملی جو کہ باکرہ، نوجوان اور لمبی گردن والی تھی، ہم نے اس سے کہا کیا تو ہم میں سے کسی ایک سے نکاح متعہ کر سکتی ہے؟ اس نے کہا: تم دونوں کیا بدل دو گے؟ ہر ایک نے چادر پھیلائی، پس اس نے دونوں آدمیوں کی طرف دیکھنا شروع کر دیا اور میرا ساتھی اسے دیکھتا تھا، اس کے میلان طبع کے جانچنے کے لئے، اس نے کہا یہ چادر پرانی ہے اور میری چادر نئی اور عمدہ ہے، اس عورت نے دو یا تین مرتبہ کہا کہ اس چادر میں کوئی حرج نہیں، پھر میں نے اس سے نکاح متعہ کیا اور میں اس کے پاس سے اس وقت تک نہ آیا جب تک رسول اللہﷺ نے اسے میرے لئے حرام نہ کردیا۔

شادی میں اصل توبیہ ہے کہ اس میں استمرار اور ہمیشگی ہو، اور مؤقت شادی، یعنی متعہ شروع اسلام میں مباح تھی لیکن بعد میں اسے حرام کر دیا گیا اور قیامت تک یہ حرام ہی رہے گی۔

اہل سنت و الجماعت کے نزدیک متعہ ناجائز اور حرام ہے۔ (ہدایہ: جلد 2 صفحہ 292)

جبکہ شیعہ کے نزدیک متعہ صرف جائز ہی نہیں بلکہ باعث اجر و ثواب ہے۔

شیعہ کے نزدیک متعہ (زنا) کی اہمیت:

متعہ کرنا جائز ہی نہیں بلکہ باعث اجر و ثواب ہے، جس نے ایک مرتبہ بھی متعہ (زنا) کر لیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔

(تحفۃ العوام: لمفتی سید احمد علی صاحب قبلہ دام علیہ)

نیز متعہ کا اجر و ثواب اتنا ہے کہ جتنا نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج و خیرات میں بھی نہیں ہے۔

(عمالۃ حسنۃ: ترجمہ رسالہ متعہ: 15، باقر مجلسی)

نیز متعہ کرنے والوں کے لئے فرشتوں کی دعاء اور متعہ نہ کرنے والوں کے لئے قیامت تک فرشتوں کی لعنت ہوتی رہتی ہے۔ (برھان المتعہ: 51۔ الحاج ابو القاسم)

نیز یہ کہ ایمان کامل نہیں جب تک متعہ نہ کرے۔(برھان المتعہ: 44)

جو چار مرتبہ متعہ (زنا) کرے وہ (معاذ اللہ) آپﷺ کے درجہ کو پہنچ جاتا ہے۔ (مطالبِ متعہ: 52) 

لیکن اہل سنت و الجماعت قرآن و حدیث، اجماع اور قیاس سب سے اس کے ناجائز ہونے کو بیان کرتے ہیں، مثلاً:

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے تو شادی کو اپنی نشانی قرار دیا ہے(سورة الروم: آیت 21) 

جو غور و فکر اور تدّبر کی دعوت دیتی ہے، اور اللہ تعالیٰ نے خاوند اور بیوی کے مابین مودت و محبت اور رحمت پیدا کی ہے اور خاوند کے لیے بیوی کو سکون والی بنایا اور اولاد پیدا کرنے کی رغبت پیدا کی ہے، اور اسی طرح عورت کے لیے عدت اور وراثت بھی مقرر فرمائی ہے ، لیکن یہ سب کچھ اس حرام متعہ میں نہیں پایا جاتا۔

رافضیوں کے ہاں یہ شیعہ ہی ہیں جو متعہ کے جواز کے قائل ہیں۔ متعہ کی جانے والی عورت نہ تو بیوی ہے اور نہ ہی لونڈی، اور جہاں تک حضورﷺ سے اجازت متعہ کا تعلق ہے تو بےشک آغاز اسلام میں یہ بالکل جائز تھا اور اسے زیرِ عمل بھی لایا گیا۔ لیکن جن کتابوں سے اسکے جواز کا علم ہوا، وہی کتابیں بھی صراحت سے بتاتی ہیں کہ جنگ خیبر کے دوران حضورﷺ نے ممانعت فرما دی تھی۔ جنگ خیبر غالباً ہجرت کے ساتویں سال ہوئی تھی۔ اس موقع پر ممانعت کی حدیث بھی سیدنا علی المرتضیٰؓ سے مروی ہے اور بخاری، مسلم، ترمذی میں موجود ہے۔ اسکے بعد جب مکہ فتح ہوا تھا تو حضورﷺ نے صرف تین دن کے لئے متعہ کی اجازت فرمائی تھی اور پھر ممانعت فرما دی تھی۔ 

ترمذی میں حضرت ابنِ عباسؓ کی یہ روایت موجود ہے کہ جب قرآن کی مندرجہ ذیل آیت اتری متعہ قطعاً ممنوع ٹھہرا:

متعہ کی حرمت قرآن میں:

قرآن میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰفِظُوۡنَ۞اِلَّا عَلٰٓى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ‌۞(سورۃ المؤمنون آیت 5، 6)

ترجمہ: اور جو اپنی شرمگاہوں کی (اور سب سے) حفاظت کرتے ہیں۔ سوائے اپنی بیویوں اور ان کنیزوں کے جو ان کی ملکیت میں آ چکی ہوں۔ کیونکہ ایسے لوگ قابل ملامت نہیں ہیں۔

قرآن میں شہوت کو پورا کرنے کے لئے دو جگہ متعین ہے:

اِلَّا عَلٰٓى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ

ترجمہ: بیوی اور باندی

فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ‌۞ (سورۃ المؤمنون آیت 7)

ترجمہ: پس جو ان کے سوا چاہے تو وہی ہیں حد سے بڑھنے والے۔

یہی ایک فقرہ حرمتِ متعہ کے لئے ناقابل تردید سند ہے۔

تشریح: یعنی اپنی منکوحہ عورت یا باندی کے سواء کوئی اور راستہ قضائے شہوت کا ڈھونڈے، وہ حلال کی حد سے آگے نکل جانے والا ہے۔ اس میں زنا، لواطت اور استمناء بالید وغیرہ سب صورتیں آ گئیں، بلکہ بعض مفسرین نے حرمتِ متعہ پر بھی اس سے استدلال کیا ہے وفیہ کلام طویل لایسعہ المقام راجع روح المعانی تحت ہذہ الایۃ الکریمہ۔

یہ آیت قرآنیہ صریح طور پر یہ ثابت کرتی ہے کہ اہک مدت متعنیہ کے لئے کسی عورت کا بطورِ بیوی رکھ لینا جائز نہیں، کیونکہ تھوڑی سی مقررہ مدت کے لئے رکھی جانے والی عورت داشتہ ہوتی ہے، بیوی نہیں۔ خود ام المؤمنین، فقہ الفقہاء سیدہ عائشہ صدیقہؓ کا اس آیت سے متعہ کے خلاف تمسک حدیث میں ضروری ہے۔

ممتوعہ (متعہ والی عورت) نہ تو بیوی کے حکم میں داخل ہے اور نہ لونڈی کے حکم میں۔

لونڈی تو ظاہر ہے کہ نہیں اور بیوی اس لئے نہیں کہ زوجیت کے لئے جتنے قرآنی اور قانونی احکام ہیں ان میں سے کسی کا بھی ان پر اطلاق نہیں ہوتا، نہ وہ مرد کی وارث ہوتی ہیں، نہ مرد اس کا وارث ہوتا ہے، نہ اس کے لئے عدّت ہے، نہ طلاق، نہ نفقہ، نہ ایلا، نہ ظہار، بلکہ مقررہ چار بیویوں کی مقدار سے بھی وہ مستشنیٰ ہے۔ پس جو بیوی اور لونڈی دونوں کی تعریف میں نہیں آتی وہ ان کے علاوہ کچھ اور میں شمار ہوتی ہیں جس کے طالب کو قرآن حد سے گزرنے والا قرار دیتا ہے۔

جہاں کہیں اللہ پاک نے زوجہ یا ازواج کا لفظ قرآن پاک میں استعمال کیا ہے اس کے معنیٰ منکوحہ یا منکوحات کے علاوہ کچھ نہیں۔

اے آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔ (سورۃ اعراف آیت 19)

اے نبیﷺ اپنی عورتوں سے کہ دو۔ (سورۃ احزاب آیت 28)

اے نبیﷺ ہم نے اس عورت کو تیری زوجہ بنا دیا۔ (سورۃالأحزاب آیت 37)

کہ اپنی ازواج میں سے تبدیل کرو (سورۃالأحزاب آیت 52)

حضرت زکریا کے لئے ہم نے اس کی بیوی کو درست کیا۔ (سورۃ الانبیاء آیت 90)

ان سب مثالوں سے صاف ظاہر ہوتا کہ زوجہ جس کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے اس کا اطلاق صرف منکوحہ پر ہی ہو سکتا ہے اور بس بیچاری ممتوعہ کسی طرح بھی ازواج کے زمرہ میں نہیں آتی۔

قرآن مجید نے چند لوازمات زوجیت کے لئے مقرر کیے ہیں کہ جن میں بھی یہ لوازمات پائے جائیں گے وہ (زوجہ، بیوی یا منکوحہ) میں شامل ہے اور جن میں نہیں پائے جاتے وہ غیر میں شامل ہے۔

میراث: اور تمھارے لئے جو تمہاری بیویاں چھوڑیں اس کا نصف ہے۔ (سورۃالنساء آیت 12)

طلاق: ان کو اچھے طریقے سے روک لو۔ (سورۃالبقرہ آیت 231)

عدت: اور مدت عدت طلاق کی صورت میں تین حیض ہے۔ (سورۃالبقرہ آیت 238)

نفقہ: نکاح کے بعد شوہر اپنی زوجہ کو خرچہ دینے کا ذمدار (سورۃالنساء 34)

گواہ: دو نیک عادل گواہ ضروری ہیں۔ (سورۃ طلاق آیت 2)

ایلا: یعنی عورت کے پاس نہ جانے کی قسم کھا لینا اور کفارہ ادا کرنا

ظہار: یعنی اپنی عورت کو ماں، بہن کہ دینا اور نکاح میں کفارہ ادا کرنا۔

احصان: مرد کا شادی شدہ ہوتے ہوئے زنا وغیرہ کرنا اور سنگساری اور دوسری سزائیں ملنا۔

نتیجہ یہ نکلا: کہ آرزوئے اسلام زوجہ وہی ہے جس کے مذکورہ بالا احکام مراتب ہو سکیں جب مذکورہ بالا احکام کی ترتیب صرف نکاح صحیح میں ہوتا ہے متعہ میں نہیں۔ لہٰذا قاعدہ مشہور ہے جب کوئی شے ثابت ہوتی ہے تو وہ اپنے لوازم سے ہی ہوتی ہے اپنے لوازم مذکورہ سے نکاح تو ثابت ہو گیا لیکن متعہ میں تو نہ لوازم ہیں اور نہ ہی اسے نکاح حلال کہا جا سکتا ہے اس سے ثابت ہوا متعہ نکاح نہیں بلکہ زنا محض ہے۔

شیعہ روایات ملاحظہ ہوں:

اور امام جعفرؒ (ع) کا قول بھی ہے کہ ممتوعہ عورت زوجیت میں داخل نہیں۔

اعتقادات ابن بایویہ: امام جعفر (ع) سے روایت ہے متعہ کے متعلق فرمایا ممتوعہ عورت چار عورتوں میں سے نہیں یعنی زوجہ منکوحہ سے نہیں اور نہ وارث ہو گی اور سوائے اس کے نہیں کہ مستاجرہ ہے۔ (فروع کافی)

دوم روایت: امام باقر(ع)سے جس کے آخری الفاظ یہ ہیں: امام باقر نے فرمایا یہ ممتوعہ عورت زوجہ منکوحہ نہیں بلکہ یہ اُجرت پر خریدی گئی ہے کہ اس سے جماع کیا جائے۔ (فروع کافی)

فائدہ: امام جعفر اور امام باقر دونوں ممتوعہ کو زوجہ سے خارج فرما گئے ہیں جب آئمہ معصومین زوجہ منکوحہ سے ممتوعہ زن کو خارج فرمائیں تو علماء کی کیا ہستی کہ وہ اسے زوجہ میں داخل کریں۔

علاوہ ازیں امام رازی رحمۃاللہ، حضرت نواب صدیق حسنؒ، امام قرطبیؒ اسی آیت کی روشنی میں متعہ کی حرمت کو ثابت کرنا بتاتے ہیں۔

ام المؤمنین حضرت عائشہؓ اسی آیت کی بنا پر متعہ کو حرام قرار دیتی تھیں۔

نوٹ: زنا (متعہ) کا جب دروازہ کھل گیا تو کوئی مستقل قاعدہ و قانون نہ رہا تو پھر کسی خاص مرد کو کسی خاص عورت سے کوئی خاص لگاؤ باقی نہ رہے گا جس کو جہاں موقع مل گیا اور جو کچھ کر گزرنا ہو، کر گزرتا ہے اور یہی حال حیوانات کا ہے۔

اوپر دی گئی قرآنی آیت کو سامنے رکھتے ہوئے اب تیری پیش کردہ آیت پر غور و فکر کرتے ہیں:

اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتے ہیں: 

وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ‌ وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّاوَرَآءَ ذٰلِكُمۡ اَنۡ تَبۡتَـغُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ‌ فَمَااسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً‌ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا تَرٰضَيۡـتُمۡ بِهٖ مِنۡ بَعۡدِ الۡـفَرِيۡضَةِ‌اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا۞(سورۃ النساء آیت 24)

ترجمہ: نیز وہ عورتیں (تم پر حرام ہیں) جو دوسرے شوہروں کے نکاح میں ہوں، البتہ جو کنیزیں تمہاری ملکیت میں آ جائیں (وہ مستثنی ہیں) اللہ نے یہ احکام تم پر فرض کر دیئے ہیں۔ ان عورتوں کو چھوڑ کر تمام عورتوں کے بارے میں یہ حلال کر دیا گیا ہے کہ تم اپنا مال (بطورِ مہر) خرچ کر کے انہیں (اپنے نکاح میں لانا) چاہو، بشرطیکہ تم ان سے باقاعدہ نکاح کا رشتہ قائم کر کے عفت حاصل کرو، صرف شہوت نکالنا مقصود نہ ہو۔ چنانچہ جن عورتوں سے (نکاح کر کے) تم نے لطف اٹھایا ہو، ان کو ان کا وہ مہر ادا کرو جو مقرر کیا گیا ہو۔ البتہ مہر مقرر کرنے کے بعد بھی جس (کمی بیشی) پر تم آپس میں راضی ہو جاؤ، اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ یقین رکھو کہ اللہ ہر بات کا علم بھی رکھتا ہے، حکمت کا بھی مالک ہے۔

اس آیت پاک میں اس امر کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے کہ جن عورتوں سے نکاح حلال ہے(یعنی بیوی اور لونڈی کیونکہ نکاح جن سے ہوتا ہے قرآن پاک اس بارے میں فیصلہ دے چکا ہے) انھیں چند شرطوں کے بعد اپنے نکاح میں لا سکتے ہیں یعنی ان کے ساتھ شادی جائز ہے ان شرائط میں سے خاص طور پر مُحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ کے الفاظ متعہ کی حرمت کو بہت وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔

مُحْصِنِيْنَ: یعنی جن عورتوں سے تم نکاح کرو تو اس کا مقصد محض وقتی اور عارضی نہ ہو بلکہ دائمی ہو ایسا نہ ہو کہ چند دن کی عیش کی نیت سے اس کے ساتھ شادی رچاؤ اور پھر چھوڑ دو یہ طریقہ غلط ہے جب تم نے اس کے ساتھ نکاح کیا تو شرط یہ ہے کہ اسے ہمیشہ بیوی بنا کر رکھو یہ الگ بات ہے کہ کسی وجہ سے آپس میں نااتفاقی ہو جائے اور طلاق کی نوبت آ جائے لیکن تم پہلے سے ایسی نیت نہ کرو۔

غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ: تمہارا اس نکاح سے مقصد صرف مستی نکالنا نہ ہو یعنی محض شہوت اور خواہش پوری کرنے کی نیت نہ ہو جیسا کے زنا میں ہوتا ہے۔

اس کے بعد فَمَااسْتَمْتَعْتُمْ فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ جن عورتوں (یعنی بیوی اور لونڈی) سے تم نے ان شرطوں کے ساتھ نکاح کر کے فائدہ اٹھا لیا (یعنی جماع اور صحبت کر لی) تو ان عورتوں کا مہر جو بھی مقرر ہوا ہو وہ ان کو پورا دے دو یعنی مہر ادا کرنا ہوگا اگر صحبت سے پہلے طلاق کی نوبت آ جائے تو مرد کے ذمہ نصف مہر اور خلوت (رات گزارنے کے بعد) طلاق کی نوبت آ جائے تو پورا مہر ادا کرنا ہوگا اس میں ٹال مٹول کی کوشش مت کرو اور اس باب میں تم پر کوئی مؤاخذہ نہ ہوگا کہ مقررہ مہر کے بعد تم آپس میں مہر کی رقم گھٹاؤ یا بڑھاؤ یعنی عورت اپنی مرضی سے مہر نہ لے یا کم لے یا مرد اپنی خوشی سے زیادہ دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔

اور دوسری جگہ فرمایا: 

وَاِنۡ طَلَّقۡتُمُوۡهُنَّ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَمَسُّوۡهُنَّ وَقَدۡ فَرَضۡتُمۡ لَهُنَّ فَرِيۡضَةً فَنِصۡفُ مَا فَرَضۡتُمۡ۞ (سورۃ البقرة آیت 237)

ترجمہ: اور اگر تم نے انہیں چھونے سے پہلے ہی اس حالت میں طلاق دی ہو جبکہ ان کے لیے (نکاح کے وقت) کوئی مہر مقرر کر لیا تھا تو جتنا مہر تم نے مقرر کیا تھا اس کا آدھا دینا (واجب ہے) 

اور اس آیت میں فرمایا کہ جن عورتوں (یعنی بیوی یا لونڈی) سے نکاح کرنے بعد فائدہ نہیں اٹھایا (یعنی جماع اور صحبت نہیں کی) تو آدھا مہر دینا پڑے گا۔

نتیجہ: ایک جگہ پر آدھا مہر ذکر کیا گیا اور دوسری جگہ پر پورا مہر ذکر کیا گیا سو معلوم ہوا قران پاک یہاں نکاح صحیحہ کا ہی ذکر کر رہا ہے نہ کہ متعہ کا۔

قرآن پاک کی اس آیت میں متعہ کا بیان سرے سے ہے ہی نہیں لیکن شیعہ نے متعی کو دیکھ کر اس سے متعہ کے جائز ہونے اور اپنے اصطلاحی متعہ کے ثبوت کا فتویٰ دے دیا حالانکہ جس کی قرآن کریم کے سیاق و سباق پر نظر ہوگی وہ ہرگز اس آیت سے متعہ کے جواز کی دلیل نہ لے گا۔

قرآن پاک نے یہاں تک فرمایا کہ:

اور اگر صبر سے کام لو اور لونڈیوں سے نکاح بھی نہ کرو تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ (سورۃالنساء)

تو کیا ایسی صورت حال میں متعہ کا سوال پیدا ہو سکتا ہے؟

آنحضرتﷺ کا فرمان ہے: اے نوجوانو! تم میں سے جو شادی پر قدرت رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ شادی کر لے کہ یہ شادی نگاہ کو نیچا کر دیتی ہے اور اس کے ذریعے سے شرمگاہ کی حفاظت ہوتی ہے اور جو شخص شادی پر قدرت نہیں رکھتا اس کو لازم ہے کہ روزہ رکھے کہ روزہ شہوت کو توڑتا ہے۔ (صحیح بخاری: جلد 58)

نبی پاک نے متعہ کی کہیں تو گنجائش رکھی ہوتی؟

متعہ کی حرمت احادیث میں: اس سلسلہ میں احادیث "متواترہ" ہیں جس کی وجہ سے ان کا انکار کرنا جائز نہیں ہے۔ مثلاً:

صحیح مسلم: «نکاح کا بیان (کتاب النکاح)»

 باب: اس بات کا بیان کہ نکاحِ متعہ جائز کیا گیا، پھر منسوخ کیا گیا، پھر جائز کیا گیا، پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی رکھی گئی۔

بَاب نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَبَيَانِ أَنَّهٗ أُبِيحَ ثُمَّ نُسِخَ ثُمَّ أُبِيحَ ثُمَّ نُسِخَ وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهٗ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيٰی قَالَ قَرَأْتُ عَلٰی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ وَالْحَسَنِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰی عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أَکْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ۔

حضرت علیؓ بن ابوطالب سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے غزوہ خیبر کے دن عورتوں سے نکاح متعہ کرنے اور گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔

(صحیح مسلم: جلد 2 دوسرا پارہ: حدیث نمبر: 3422 حدیث مرفوع)

3422۔ وحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ مَالِکٍ بِهٰذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ لِفُلَانٍ إِنَّکَ رَجُلٌ تَائِهٌ نَهَانَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيٰی بْنِ يَحْيٰی عَنْ مَالِکٍ۔

3422۔ عبد اللہ بن محمد بن اسماء ضبعی، جویریہ، حضرت مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی بن ابی طالبؓ کو ایک آدمی سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ اسے کہہ رہے تھے کہ تو ایک بھٹکا ہوا آدمی ہے، رسول اللہﷺ نے متعہ سے منع فرمایا، باقی حدیث یحیی بن یحیی، مالک کی حدیث کی طرح ہے۔

(صحیح مسلم: جلد 2 دوسرا پارہ حدیث نمبر: 3423 حدیث مرفوع)

3423۔ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْحَسَنِ وَعَبْدِ اللہِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰی عَنْ نِکَاحِ الْمُتْعَةِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ۔

3423۔ ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، زہیر، سفیان ابن عیینہ، زہری، حسن و عبد اللہ ابنا محمد بن علی، حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ بنی کریمﷺ نے غزوہ خیبر کے دن نکاح متعہ اور گھریلوں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔

(صحیح مسلم: جلد 2 دوسرا پارہ: حدیث نمبر: 3424 حدیث مرفوع)

3424۔ وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ الْحَسَنِ وَعَبْدِ اللہِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهٗ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُلَيِّنُ فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ فَقَالَ مَهْلًا يَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَإِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰی عَنْهَا يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ۔

3424۔ محمد بن عبد اللہ بن نمیر، عبید اللہ، ابن شہاب، حسن، عبد اللہ ابنا محمد بن علی، حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عباسؓ کو عورتوں کے متعہ میں نرمی کرتے ہوئے سنا تو فرمایا ٹھہر جاؤ اے ابن عباسؓ! کیونکہ رسول اللہﷺ نے اس سے غزوہ خیبر کے دن منع فرمایا اور پالتو گدھوں کے گوشت سے بھی۔

 و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيٰی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ الْحَسَنِ وَعَبْدِ اللہِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ أَبِيهِمَا أَنَّهٗ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ لِابْنِ عَبَّاسٍ نَهٰی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أَکْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ۔

ابوطاہر، حرملہ بن یحییٰ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حسن، عبد اللہ ابنا حضرت محمد بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت علیؓ بن ابی طالب کو ابنِ عباسؓ سے فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ نے غزوہ خیبر کے دن عورتوں سے نکاح متعہ کرنے اور گھریلو پالتوں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔

امامیہ شیعہ کی معتبر کتب استبصار، فروع کافی، اور تہذیب الاحکام میں بھی یہ روایت حضرت علیؓ سے منقول ہے پھر لطف کی بات یہ ہے یہ روایت ان کتب میں انہی الفاظ سے منقول ہے جن الفاظ سے یہ روایت کتب اہل سنت میں پائی جاتی ہے چنانچہ ملاحظہ ہو:

شیخ التایفہ علامہ طوسی( 460 ) اپنی کتاب تہذیب و استبصار میں ہر دو کتب کے باب تفصیل النکاح میں نقل کرتا ہے۔

ترجمہ: حضرت علیؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے پالتو گدھوں کے گوشت اور نکاحِ متعہ کو حرام قرار دے دیا۔

(استبصار: جلد 3 صفحہ 142)

(تہذیب الاحکام: جلد 2 صفحہ 186)

(فروع کافی: صفحہ 192 جلد 2)

ایک اور شیعی محقق شیخ محمد بن حسن نے اپنی اپنی کتاب وسائل الشیعہ میں اس روایت کو درج کیا ہے۔

یہ حدیث کتب ستہ اہل سنن میں بھی مرقوم ہے اور چونکہ یہ بہترین اسناد سے مروی ہے اس لئے کل محدثین نے بلا اتفاق اس پر حصر کر کے متعہ کو حرام قرار دیا۔

کیسی صاف روایت ہے روایت بھی ایسی کہ جناب علیؓ اپنے فہم سے فتویٰ نہیں دیتے بلکہ پیغمبر علیہ اسلام کی حدیث بیان کرتے ہیں اور روایت حدیث کے متعلق علماۓ اسلام (شیعہ ہو یا سنی ) اتفاق ہے کہ پیغمبر اسلام کے نام سے جھوٹی حدیث بیان کرنا جہنم میں داخل ہونے کا مؤجب ہے۔

نبی پاکﷺ کی حدیث ہے یعنی جو مجھ (پیغمبر ) پر جھوٹی بات لگائے جو میں نے نہیں کہی وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔

نوٹ: یہ خیبر کے دن کے اعلان کا ذکر ہے یہ نہیں کے اس کی حرمت بھی اسی دن نازل ہوئی تھی حکم کو نافذ کرنے کے لئے مناسب وقت اختیار کیا جاتا ہے۔

متعہ کی حرمت پر ایک اور حدیث شیعہ اثنا عشریہ کی کتاب سے ملاحظہ ہو: مفصل نے کہا کہ میں نے امام جعفر (ع) سے سنا کہ متعہ کے بارے میں فرماتے تھے کہ اس کو بلکل چھوڑ دو ، کیا تمہیں حیاء نہیں آتی کہ بیگانہ عورت کی فرج دیکھ کر اپنے بھائیوں اور دوستوں کے آگے اس کا حال بیان کرو۔

(فروع کافی: صفحہ 24 جلد 6 میں یہ روایت ہے)

اس روایت میں نہ صرف متعہ کو حرام کیا گیا بلکہ اس بےحیائی کا نہایت ہی مختصر مگر معنیٰ خیز الفاظ میں میں مرقع کھینچا گیا ہے جو متعہ کا لازمی نتیجہ ہے۔

ایک اور روایت کتاب فقہ الرضا کے باب النکاح میں ہے: راوی کہتا ہے اے برادر پوچھا میں نے امام رضا سے کہ اے حضرت! روح میری آپ پر قربان ہو یہ فرمائے متعہ کی نسبت آپکا کیا حکم ہے کہ روایت کیا ہے کہ آپ کے دادا امیر المؤمنین نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے حلال کیا فتح مکہ کے روز اور حرام کیا تھا خیبر کے روز اور ساتھ منع کیا تھا۔ امیر نے فرمایا! جناب امیر (علی ) نے سچ فرمایا تھا: خدا کی قسم متعہ حرام ہے البتہ اجازت دی گئی تھی قبل میں۔ پھر امام نے فرمایا حضرت محمدﷺ نے متعہ حلال نہیں فرمایا تھا مگر جوانان عرب کے واسطے جو مسافرت میں آپ کے ساتھ تھے اور شکایت اپنی تکلیف کی کرتے تھے پس آپ نے اجازت متعہ کی نہ دی مگر ایسے لوگوں کے واسطے تاکہ حرام سے بچیں لیکن جس نے متعہ کیا اس حالت میں کہ قادر ہے نکاح پر یا لونڈی کے خریدنے پر یا اپنے مکان پر یا کسی شہر میں مقیم ہے پس اس نے مباح کیا اپنے نفس پر، اس چیز کو جس کو حرام کیا اللہ پاک نے اس کے واسطے اور خدا عزوجل نے فرمایا: جس شخص نے تجاوز کیا، اللہ کی حدوں سے داخل ہوگا وہ ظالمین میں۔

میرے بیٹے! نہیں تھا جواز متعہ کا مگر وقت اضطرار اور ضرورت کے جیسا کہ جائز ہے وقت ضرورت کے گوشت خنزیر کا، مردار اور خون لیکن حد ضرورت سے نہ گزرے تو اللہ معاف کرنے والا ہے۔

ذرا آنکھے کھول کر اس روایت کو پڑھ کہ روایت سے صحیح اور معقول روایت کبھی ان آنکھوں نے دیکھی ہے)

حَدَّثنا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: "هَذِهِ حُجَّةٌ عَلَى مُعَاوِيَةَ، قَوْلُهُ: قَصَّرْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصِ أَعْرَابِيٍّ عِنْدَ الْمَرْوَةِ، يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ: حِينَ نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ"

[مسند الحميدي »أَحَادِيثُ رِجَالِ الأَنْصَارِ» أَحَادِيثُ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ۔ رقم الحديث: 587]

حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيِّ بْنُ الصَّوَّافِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثناالْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا هِشَامُ بْنُ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: هَذِهِ حَجَّةٌ عَلَى مُعَاوِيَةَ، قَوْلُهُ: قَصَّرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصِ أَعْرَابِيٍّ عِنْدَ الْمَرْوَةِ، يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ: حِينَ "نَهَاهُ عَنِ الْمُتْعَةِ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ، عَنْ سُفْيَانَ۔

[المسند المستخرج على صحيح مسلم لأبي نعيم »كِتَابُ الْحَجِّ» بَابُ: مَنْ يُحْرِمُ مِنْ مَكَّةَ مِنْ أَيْنَ يُحْرِمُ۔ رقم الحديث 2648]

حَدَّثَنَا أَبِي رَحِمَهُ اللَّه، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خُنَيْسُ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: "إِنَّمَا أُحِلَّتْ لَنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتْعَةُ النِّسَاءِ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، ثُمَّ نَهَى عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" 

[ناسخ الحديث ومنسوخه لابن شاهين »كِتَابٌ جَامِعٌ» بَابُ أَوَّلِ الْمُتْعَةِ وَالأَمْرِ بِهَا قَبْلَ۔ رقم الحديث: 429]

حضرت جابرؓ والی احادیث کا جواب:

سیرت ابنِ ہشام میں ہے کہ جابر بن عبداللہ انصاری خیبر کے موقع پر رسول خداﷺ کے ساتھ موجود نہ تھے۔(سیرت: 331، جلد 2)

اس واسطے خیبر کے دن کی حرمت متعہ کا ان کو علم نہ تھا جب تک کہ سیدنا حضرت عمرؓ نے اس کی وضاحت نہ فرمائی۔

حضرت جابرؓ سے ایک لمبی حدیث مروی ہے جس میں انہوں نے متعہ کی حرمت بیان فرمائی: کہ رسول اللہﷺ نے متعہ سے منع فرما دیا تو اس دن عورتوں کو چھوڑ دیا اور پھر ایسا نہ کیا اور نہ کریں گے۔

علامہ خازمی نے جابر بن عبداللہؓ سے روایت کی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ہم ہمراہ رسول اللہﷺ کے غزوۂ تبوک پر گئے شامی سرحد پر کچھ عورتیں ملیں ہم نے ان سے متعہ کیا اور وہ ہمارے سامان میں پھر رہی تھیں رسول خدا تشریف لائے اور عورتوں کا پوچھا تو ہم نے جواب دیا کہ ہم نے ان سے متعہ (نکاح مؤقت) کیا ہے پس آپ غضبناک ہوئے چہرہ مبارک لال سرخ ہو گیا اور کھڑے ہو کر خدا کی حمد و ثناء کے بعد تقریر فرمائی اور پھر متعہ سے منع فرمایا پس ہم نے ان عورتوں کو وہاں جدا کیا اور پھر اس کے بعد متعہ کی طرف نہ لوٹے اور نہ کریں گے۔ (فتح الملھم: صفحہ 444 جلد 3)

حضرت جابرؓ والی روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے حضرت عمرؓ کے قرآن اور نبی پاک کے استدلال پر مبنی فیصلے سے اتفاق کیا اور ان کے منع کرنے کے بعد پھر کبھی متعہ کے قریب نہ گئے حتیٰ کہ حضرت عمرؓ کے وصال کو مدتیں گزر گئیں اور حضرت علیؓ کا دورِ خلافت بھی گزر گیا امیرِ معاویہؓ کا دور بھی گزر گیا حتیٰ کے یزید کا دور بھی گزرنے کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کا دور آیا مگر حضرت جابرؓ ہیں کہ اس متعہ کی ممنوعیت پر قائم ہیں اور حضرت عمرؓ سے متحد اور متفق تو اس کو سند جواز قرار دینے کا کیا جواز؟

[صحیح مسلم: جلد 2 دوسرا پارہ حدیث نمبر: 3408، حدیث مرفوع]

حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حدثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حدثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حدثنا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: "رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ أَوْطَاسٍ فِي الْمُتْعَةِ ثَلَاثًا، ثُمَّ نَهَى عَنْهَا"

[صحيح مسلم: »كِتَاب النِّكَاحِ» بَاب نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ۔ رقم الحديث: 2507]

3408۔ ابوبکر بن ابی شیبہ، یونس بن محمد، عبدالواحد بن زیاد، ابوعمیس، حضرت ایاس بن سلمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں رسول اللہﷺ م نے غزوہ اوطاس فتح مکہ کے سال تین دن تک متعہ کرنے کی اجازت دی پھر منع فرما دیا۔

ابن اکوع نے کہا کہ فتح مکہ کے سال تین دن کے لئے رسول کریمﷺ نے ہمیں متعہ کی اجازت دی تھی پھر اس کے بعد منع فرما دیا۔

اس قسم کی ایک اور حدیث سلمہ بن اکوع کے بیٹے نے اپنے باپ سے روایت کی ہے۔

سلمہ بن اکوع نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے عورتوں سے متعہ کی پہلے اجازت دی تھی پھر منع فرما دیا تھا۔ سو معلوم ہوا کہ حضرت سلمہ بن اکوع نے حرمت متعہ سے رجوع کر لیا تھا۔

 حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حدثنا أَبِي، حدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ: أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ: أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: "يَاأَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ مِنَ النِّسَاءِ، وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ كَانَ عَنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَه، وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا" 

[صحيح مسلم »كِتَاب النِّكَاحِ» بَاب نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ۔ رقم الحديث: 2510]

حضرت ربیع بن سبرہ جہنیؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے، آپﷺ نے فرمایا: اے لوگو! میں نے تمہیں عورتوں سے نکاح متعہ کی اجازت دی تھی اور تحقیق اللہ نے اسے قیامت تک کے لئے حرام کر دیا ہے، پس جس کے پاس ان میں سے کوئی عورت ہو تو اسے آزاد کر دے اور جو کچھ تم نے انہیں دیا ہے ان سے نہ لے۔

(صحیح مسلم: جلد: 2 دوسرا پارہ: حدیث نمبر: 3413 حدیث مرفوع)

3413۔ وحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بِهٰذَا الْإِسْنَادِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا بَيْنَ الرُّکْنِ وَالْبَابِ وَهُوَ يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ۔

3413۔ ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدة بن سلیمان، عبدالعزیز بن عمر اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اس میں یہ ہے راوی کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو رکن اور باب کعبہ کے درمیان کھڑے ہوئے یہ ارشاد فرماتے دیکھا ابنِ نمیر کی حدیث کی طرح۔

(صحیح مسلم: جلد 2 دوسرا پارہ، حدیث نمبر: 3414 حدیث مرفوع)

حدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حدثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: "أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُتْعَةِ عَامَ الْفَتْحِ حِينَ دَخَلْنَا مَكَّةَ، ثُمَّ لَمْ نَخْرُجْ مِنْهَا حَتَّى نَهَانَا عَنْهَا"

[صحيح مسلم »كِتَاب النِّكَاحِ» بَاب نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ۔ رقم الحديث: 2511]

3414۔ اسحاق بن ابراہیم، یحیی بن آدم، ابراہیم بن سعد، حضرت عبدالملک بن ربیع بن سبرہ الجہنی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں فتح مکہ کے سال مکہ میں داخلہ کے وقت نکاح متعہ کی اجازت دی، پھر ہم مکہ سے نکلے ہی نہ تھے کہ آپﷺ نے ہمیں اس سے منع فرما دیا۔

(صحیح مسلم: جلد 2 دوسرا پارہ حدیث نمبر: 3416 حدیث مرفوع)

حدثنا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ: "أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ" 

[صحيح مسلم »كِتَاب النِّكَاحِ» بَاب نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ۔ رقم الحديث: 2513]

3416۔ عمرو ناقد، ابن نمیر، سفیان بن عیینہ، زہری، حضرت ربیع بن سبرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے نکاح متعہ سے منع فرمایا۔

(صحیح مسلم: جلد 2 دوسرا پارہ حدیث نمبر: 3417 حدیث مرفوع)

وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حدثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى يَوْمَ الْفَتْح عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ"

[صحيح مسلم »كِتَاب النِّكَاحِ» بَاب نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ۔ رقم الحديث: 2514]

3417۔ ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن علیہ، معمر، زہری، حضرت ربیع بن سبرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فتح مکہ کے دن عورتوں کے ساتھ نکاح متعہ سے منع فرمایا۔

فتح مکہ والی روایت ضعیف ہے: شمس الدین پیرزادہ صاحب

متعہ کی رخصت کے سلسلہ میں ایک حدیث صحیح مسلم میں عبدالملک بن الربیع بن سَبرہ سے مروی ہے مگر مشہور محدث یحیٰ بن معین نے اسے ضعیف کہا ہے اور ابوالحسن بن القطان کہتے ہیں ان کا عادل ہونا ثابت نہیں ہے۔ اگرچہ مسلم نے ان کی حدیث بیان کی ہے لیکن وہ قابلِ حجت نہیں ہے۔

(تہذیب التہذیب: لابن حجر عسقلانی: جلد 6 صفحہ 393)

شیعہ یہ بات اس وقت کریں جب وہ کہیں کہ حضرت علیؓ کے مقابلے میں دوسرے صحابہ کا قول تسلیم کیا جاسکتا ہے، جب اہل تشیع ایسا خود تسلیم نہیں کرتے تو اعتراض کرنے کی ضرورت اس کے سوا کوئی نہیں دکھائی دیتی کہ متعہ کا جواز پیدا کیا جا سکے۔ اور صحیح مسلم میں عبد الملک ابن ربیع بن سبرہ کے علاوہ ایک دوسرے طرق سے بھی فتح مکہ کے دن متعہ کی تحریم کی روایت موجود ہے۔ ابوبکر بن ابی شیبہ، یونس بن محمد، عبدالواحد بن زیاد، ابوعمیس، حضرت ایاس بن سلمہؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے غزوہ اوطاس فتح مکہ کے سال تین دن تک متعہ کرنے کی اجازت دی پھر منع فرما دیا۔

(صحیح مسلم: جلد 2 دوسرا پارہ: حدیث نمبر: 3419 حدیث مرفوع)

3419۔ وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيٰی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَامَ بِمَکَّةَ فَقَالَ إِنَّ نَاسًا أَعْمَی اللہُ قُلُوبَهُمْ کَمَا أَعْمٰی أَبْصَارَهُمْ يُفْتُونَ بِالْمُتْعَةِ يُعَرِّضُ بِرَجُلٍ فَنَادَاهُ فَقَالَ إِنَّکَ لَجِلْفٌ جَافٍ فَلَعَمْرِي لَقَدْ کَانَتِ الْمُتْعَةُ تُفْعَلُ عَلٰی عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ يُرِيدُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَجَرِّبْ بِنَفْسِکَ فَوَاللہِ لَئِنْ فَعَلْتَهَا لَأَرْجُمَنَّکَ بِأَحْجَارِکَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ بْنِ سَيْفِ اللہِ أَنَّهٗ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَجُلٍ جَاءَهٗ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَاهُ فِي الْمُتْعَةِ فَأَمَرَهٗ بِهَا فَقَالَ لَهُ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ مَهْلًا قَالَ مَا هِيَ وَاللہِ لَقَدْ فُعِلَتْ فِي عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ قَالَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ إِنَّهَا کَانَتْ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ لِمَنْ اضْطُرَّ إِلَيْهَا کَالْمَيْتَةِ وَالدَّمِ وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ ثُمَّ أَحْکَمَ اللہُ الدِّينَ وَنَهٰی عَنْهَا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي رَبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ قَدْ کُنْتُ اسْتَمْتَعْتُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ بِبُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ ثُمَّ نَهَانَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُتْعَةِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَسَمِعْتُ رَبِيعَ بْنَ سَبْرَةَ يُحَدِّثُ ذٰلِکَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَنَا جَالِسٌ۔

3419۔ حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت عروہ بن زبیرؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زبیرؓ نے مکہ میں قیام کیا تو فرمایا کہ لوگوں کے دلوں کو اللہ نے اندھا کر دیا ہے جیسا کہ وہ بینائی سے نابینا ہیں کہ وہ متعہ کا فتویٰ دیتے ہیں، اتنے میں ایک آدمی نے انہیں پکارا اور کہا کہ تم کم علم اور نادان ہو، میری عمر کی قسم! امام المتقین یعنی رسول اللہﷺ کے زمانہ میں متعہ کیا جاتا تھا تو ان سے ابن زبیرؓ نے کہا تم اپنے آپ پر تجربہ کر لو، اللہ کی قسم! اگر تم نے ایسا عمل کیا تو میں تمہیں پتھروں سے سنگسار کر دوں گا، ابن شہاب نے کہا مجھے خالد بن مہاجر بن سیف اللہ نے خبر دی کہ وہ ایک آدمی کے پاس بیٹھا ہوئے تھے کہ ایک آدمی نے ان سے آ کر متعہ کے بارے میں فتویٰ طلب کیا، تو انہوں نے انہیں اس کی اجازت دے دی تو ان سے ابن ابی عمرہ انصاری نے کہا ٹھہر جاؤ! انہوں نے کہا کیا بات ہے حالانکہ امام المتقین کے زمانہ میں ایسا کیا گیا؟ ابن ابی عمرہ نے فرمایا کہ یہ رخصت ابتدائے اسلام میں مضطر آدمی کے لئے تھی مردار اور خون اور خنزیر کے گوشت کی طرح، پھر اللہ نے دین کو مضبوط کر دیا اور متعہ سے منع کر دیا، ابن شہاب نے کہا مجھے ربیع بن سبرہ الجہنیؓ نے خبر دی ہے، ان کے والد نے کہا میں نے نبی کریمﷺ کے زمانہ میں متعہ کیا تھا، پھر رسول اللہﷺ نے ہمیں متعہ سے منع فرما دیا، ابنِ شہاب نے کہا کہ میں نے ربیع بن سبرہؓ کی یہ حدیث عمر بن عبدالعزیزؒ سے بیان کرتے سنا اس حال میں کہ میں وہاں بیٹھا ہوا تھا۔

اب اگر ہم عقلی طور پر بھی اس معاملے پر غور کریں کہ اگر اسلام متعہ کو جائز کہتا تو اسلام کا وہ معاشرہ جس میں حفاظت نسب، انضباط خاندان، شرم و حیا، پاکیزگی اخلاق اور جنسی اعتدال و احتیاط کا حددرجہ خیال رکھا جاتا ہے اور کسی پر بغیر چار گواہان کے زنا کا الزام لگانے والا مستوجب سزا ہے۔ کتنا بےاعتدال، افراتفری اور گندگی کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ متعہ اگر جائز ہوتا تو ہر صاحبِ دولت ہر مہینے اور ہر دن نئے نکاح کرکے دین ہی کی آڑ میں عیاشی اور فحاشی کا کھیل کھیل سکتے ہیں۔ صاحبِ دولت کے علاوہ ہر عاشق و معشوق متعہ کے ہی سہارے زنا کر سکتے ہیں۔ نکاح کا اصلی تعلق جو عقلاً اور نقلاً سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ کی دنیا کو پاکیزگی طریقہ سے رکھا جائے۔ اور میاں بیوی زندگی بھر ایک دوسرے کی رفاقت اور غمخواری میں کوشاں ہیں، متعہ کی شکل میں قطعاً فوت ہوجاتا ہے۔ خالص جنسی تلذذ اور عیاشی منزل مقصود تباہ ہو جاتی ہے اور وہ معاشرہ پھر جہنم کا نمونہ ہوگا، جس میں نکاحون کا مقصد شرکت حیات ٹہرے بلکہ لذت ہنگامی اور عشرت جنسی ہوگا۔ 

(صحیح مسلم: جلد: 2 دوسرا پارہ حدیث نمبر: 3420 حدیث مرفوع)

وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حدثنا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حدثنا مَعْقِلٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِيزِ، قَالَ: حدثناالرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ، وَقَالَ: أَلَا إِنَّهَا حَرَامٌ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ كَانَ أَعْطَى شَيْئًا ، فَلَا يَأْخُذْهُ"

[صحيح مسلم »كِتَاب النِّكَاحِ» بَاب نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ۔ رقم الحديث: 2517]

3420۔ سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل، ابن ابی عبلة، عمر بن عبدالعزیز، حضرت ربیع بن سبرہ جہنیؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے نکاحِ متعہ سے ممانعت فرمائی اور فرمایا: آگاہ رہو! یہ آج کے دن سے قیامت کے دن تک حرام ہے اور جس نے کوئی چیز دی ہو تو اسے واپس نہ لے۔

حضرت عمرؓ پر اپنی راۓ سے متعہ کو حرام کرنے کے الزام کا جواب:

اب غور طلب بات یہ ہے کہ سیدنا حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے اجتہاد سے اسے ممنوع قرار دیا یا آنحضرتﷺ کا ارشاد مبارک سنا کر اس ممنوعیت کو واضح کیا روایات شاہد ہیں کہ سیدنا عمر فاروقؓ نے اپنے بیان میں آنحضرتﷺ کی حدیث مبارک پیش کی تھی۔ ملاحظہ ہو:

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَمَّا وَلِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: "إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لَنَا فِي الْمُتْعَةِ ثَلَاثًا، ثُمَّ حَرَّمَهَا، وَاللَّهِ لَا أَعْلَمُ أَحَدًا تَمَتَّعَ وَهُوَ مُحْصَنٌ إِلَّا رَجَمْتُهُ بِالْحِجَارَةِ، إِلَّا أَنْ يَأْتِيَنِي بِأَرْبَعَةٍ يَشْهَدُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ أَحَلَّهَا بَعْدَ إِذْ حَرَّمَهَا"[ابن ماجہ: 1953]

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطابؓ خلیفہ بنے تو آپ نے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیشک رسول اللہﷺ نے ہمیں تین دن کے لئے متعہ کی اجازت دی تھی پھر اس کو حرام قرار دیا بخدا میں کسی کے متعلق اگر معلوم کر لوں کہ اس نے متعہ کیا اور وہ شادی شدہ بھی ہے تو اس کو سنگسار کر دوں گا مگر یہ کہ وہ چار گواہ پیش کرے جو اس امر کی گواہی دیں کہ رسول اللہﷺ نے اس کو حرام ٹھہرانے کے بعد پھر اس کو حلال قرار دیا ہو 

مگر آپ کے اس اعلان کے باوجود چار تو کجا دو گواہ بھی دستیاب نہ ہوئے بلکہ سبھی نے حضرت عمرؓ کی اس روایت کردہ حدیث پر آپ کے ساتھ موافقت فرمائی اور تسلیم کیا اور متعہ کی حرمت پر اجماعِ صحابہؓ منعقد ہوا۔

حضرت عمرؓ نے دورانِ خطبہ نبی اکرمﷺ کے منع فرمانے کی تصریح فرمائی ملاحظہ ہو: حضرت عمر فاروقؓ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا ان لوگوں کا کیا حال ہے؟ جو یہ متعہ کرتے تھے حالانکہ نبی پاکﷺ نے اسے ترک فرمایا میرے پاس جو شخص بھی ایسا لایا گیا جس نے متعہ کیا ہو میں اسے سنگسار کر دوں گا۔

(در منشور: جلد 2 صفحہ 141)

امام بیقہیؒ نے ایک روایت نقل کی ہے: حضرت عمر فاروقؓ منبر پر تشریف لاۓ اور آپ نے خدا کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ ان کو کیا ہو گیا ہے جو نکاح متعہ (مؤقت) کرتے ہیں۔ حالانکہ رسول اللہﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔

(فتح الباری: جلد 19 صفحہ 407)

حافظ ان حجر رحمۃاللہ لکھتے ہیں: سیدنا عمرؓ نے اسے صرف اپنے اجتہاد سے نہ روکا تھا بلکہ سیدنا عمرؓ نے اپنی دلیل میں رسول اللہﷺ کے ارشاد کو نقل کیا تھا جس میں آپ نے متعہ کی حرمت بیان کی تھی۔

حضرت علیؓ کی طرف سے منسوب کہ حضرت عمرؓ متعہ سے نہ روکتے تو کوئی بدبخت ہی زنا کرتا۔ بھلا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب خود حضرت علیؓ سے حرمتِ متعہ کی صحیح اور مستند حدیث موجود ہے تو پھر اباحت متعہ کی روایت، کیا عقل باور کر سکتا ہے؟ جس متعہ کو خود حضرت علیؓ حرام فرمائیں تو پھر اگر حضرت عمرؓ اگر حرام بتائیں تو ان پر تعن کیا، ہرگز ہرگز نہیں غلط ہے۔

دوم بالفرض حضرت علیؓ سے دونوں روایتیں حرمت متعہ والی اور اباحت متعہ والی صحیح مان بھی لی جائیں تو پھر حرمت اور حلّت جب جمع ہو جائیں تو عمل حرمت پر ہی ہوگا اور حلّت مردود ہوگی۔

قبل ازیں آیات کلام مجید اور احادیث رسول اللہﷺ سے متعہ کی ممنوعیت واضح ہو چکی ہے اور کتب شیعہ سے بھی ممنوعیت کی روایات حضرت علیؓ اور امام جعفر اور دیگر اکابر اہل بیت کے حوالے سے نقل کی گیں اور ابن ماجہ کی روایت میں ملاحظہ فرما لیا کہ حضرت عمرؓ نے اپنی طرف سے نہیں بلکہ رسول اللہﷺ کی طرف سے متعہ کی ممنوعیت فرمائی اور ساتھ مطالبہ کیا کہ اس کی ممنوعیت کے بعد کسی کو اس کے حلال ٹھہرایا جانا معلوم ہو تو چار گواہ پیش کرے مگر مرکز اسلام مکہ اور مدینہ میں ہزاروں صحابہ کرامؓ کی موجودگی میں چار گواہ دستیاب نہ ہوئے حتیٰ کہ فاتح خیبر علیؓ نے بھی شہادت نہ دی بلکہ اپنے دورِ خلافت میں بھی رسول اللہﷺ کی طرف سے اس کا حکم تحریم نقل فرماتے رہے جس سے اجماعِ صحابہؓ بمعہ حضرت علی مرتضیٰؓ واضح ہو گیا۔

نوٹ: میری ایسی اوقات کہاں کے میں کہوں کہ فلاں کون ہوتا ہے متعہ کو حرام کرنے والا، استغفراللہ

اور اگر بالفرض مان بھی لیا جائے کہ اصحابؓ نے متعہ کو حرام قرار دینے کی نسبت حضرت عمرؓ کی طرف کی ہے تو یہ بات خلیفہ وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نبی پاکﷺ کے فرمان اور سنّت کا اہتمام کرے۔

متعہ کی حرمت میں اجماعِ امت کی نظر میں: اجماع بھی اس کی حرمت پر ہے، صحابہؓ سے لے کر آج تک سوائے روافض کے سب ہی نے اس کو حرام کہا ہے۔

متعہ کی حقیقت قیاس میں:

قیاس: قیاس کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ یہ حرام ہو، کیونکہ اس سے نسب خلط ملط ہوگا اور نسب کے بارے میں شریعت محمدیہﷺ میں بہت اہتمام کیا گیا ہے۔

انسان فطرتاً آزاد واقع ہوا ہے تو جس صورت میں ازروئے مذہب ہی اس کو ایک طرف تو شہوت رانی لائسنس مل جائے یعنی ہزار عورتوں سے متعہ کرو کہ وہ ٹھیکہ کی چیز ہیں تو انسان کو کیا غرض پری ہے کہ خواہ مخواہ منکوحات کے چکر میں پڑ کر عورت کے نان نفقہ کی ذمہ داری لے اور کہیں بال و بچوں کی تعلیم و پرورش کا بھار اپنے کندھوں پر ڈالے جبکہ اسے کھلے موقع میسر ہیں۔

دوم: جب اس امر سے کسی کو انکار نہیں کہ ہر نئی چیز کشش رکھتی ہے تو مرد کمبخت کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ خواہ مخواہ ایک پرانی بوسیدہ ڈفلی بجاتا رہے ہر شب نئے مزے نہ لوٹے، سوسائٹی میں میری اور تیری کی قید اٹھ جائے گی ہر تلوار کا حق ہو گا کہ وہ جس نیام میں چاہے گھسے۔

اگر ایک بار مرد نے اپنا ذہن متعہ (شہوت زنی) کی طرف کر لیا تو عورتوں کا سر پھرا ہے جو خواہ مخواہ حمل کی تکلیف برداشت کریں، بچوں کی پرورش کی زحمت، خانہ داری کی درد سری محض مردوں کی خاطر برداشت کرے عورتوں کا جی نہیں چاہے گا کہ بوڑھے کھوسٹ خاوند کی جگہ ہر شب نئے کے پہلو میں مزے اڑائیں۔

ولد متعہ اپنی حیثیت قائم کرنے سے ایسے عاری ہے کہ اگر ہندو پاک میں کروڑوں شیعہ آبادی ہوں تو اس میں ایک بھی اپنے آپ کو متاعی کہنے کے لئے تیار نہیں، گویا لاکھوں متاعی مومنوں کی اولاد ہوں گے اور ہونے چاہئیں پھر جس عورت سے متعہ کیا گیا ہو چونکہ وہ پوشیدہ ہوتا ہے۔ اس کا اعلان نہیں ہوتا۔ اظہار نہیں ہوتا۔ تو اب خدا معلوم ایک ہی عورت سے کون کون متعہ کرتا ہو گا اور جو اولاد ہوتی ہوگی اس میں لڑکیوں کا کیا حشر ہوتا ہوگا۔

اور اس کی اتنی کباہتیں ہیں کہ مضمون لمبا ہو گیا ہے باتیں ختم نہیں ہو سکتیں۔

لمحہ فکریہ: کیا ہے کوئی اپنی بہن اور بیٹی کی عزت کا پاسبان جو اس قسم کے گھناؤنے اور گندے کام کو جائز رکھے اور الٹا اسے کار ثواب دے بلکہ این ایمان سمجھے۔

سوال: متعہ کب حرام ہوا؟ اس کے بارے میں مختلف روایات ہیں، بعض سے معلوم ہوتا ہے خیبر کے موقع پر متعہ حرام ہوا اور بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اعلان فتح مکہ کے موقع پر ہوا ہے، دونوں روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ غزوۂ اوطاس کے موقع پر حرام ہوا ہے، نیز بعض روایات میں غزوۂ تبوک بھی آیا ہے۔

جواب 1: متعہ کی حرمت کا اعلان بار بار آیا ہے، جس نے جس غزوہ کے موقع پر سنا اس نے اسی غزوہ کی طرف اس کو منسوب کر دیا۔

(شرح مسلم للنووی: جلد 1 صفحہ 450)

جواب 2: ابتدائے خیبر کے موقع پر متعہ حرام کیا گیا تھا، پھر فتح کے موقع پر محدود وقت کے لئے اجازت دیدی گئی اور پھر قیامت تک کے لئے حرام کردیا گیا۔

(حاشیہ ترمذی: متعہ کی مزید تحقیق کے لئے دیکھیے: فتح الملہم: جلد 3 صفحہ 444۔ تعلیق الصبیح: جلد 4 صفحہ 22۔ عمدۃ القاری: 404۔ بذل المجہود: جلد 3 صفحہ 16۔ رسالۃ تحقیق متعہ: مولانا مفتی احمد پسروری حرمت متعہ: قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ)

متعہ کی حرمت کے بارے میں اختلاف نہیں، اختلاف اس میں ہے کہ متعہ کب حرام قرار پایا۔ تو یہ ایک ایسی چیز ہے جس میں اختلاف کا ہونا کوئی ایسی چیز نہیں کہ متعہ کی حرمت کے بارے میں ہی شکوک پیدا کئے جائیں۔ حضرت فاطمہؓ کے مہر میں کافی اختلاف ہے کہ ان کا مہر کتنا تھا، احقر العباد کے سامنے اس وقت ایک معتبر شیعہ کتاب جلاء العیون موجود ہے، جس میں حضرت فاطمہؓ کے بیان مہر کا تذکرہ موجود ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت فاطمہؓ کے بیان مہر میں حضرت ام کلثوم بنت علی کے نکاح مہر سے کئی گنا زیادہ اختلاف ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

روایت نمبر اول: حضرت فاطمہ(ع) کا مہر دنیا و بہشت و دوزخ مقرر تھا۔

بسنت معتبر جناب صادق سے روایت ہے کہ حق تعالیٰ نے حصہ چہارم دنیا و بہشت و دوزخ مہر جناب فاطمہ کا مقرر ہوا، کہ اپنے دشمنوں کو داخل جہنم اور دوستوں کو داخل بہشت کرینگی۔

روایت نمبر دوم: حضرت فاطمہ کا مہر ایک قیمتی زرہ تیس درہم کی تھی۔

قرب الاسناد میں بسند موثق جناب صادق سے روایت کی ہے کہ مہر جناب فاطمہ کا ایک قیمتی زرہ تیس درہم کی تھی۔

روایت نمبر دوم: مہر پانچ سو درہم تھا

مؤلف فرماتے ہیں: اشہر یہ ہے کہ مہر جناب فاطمہ پانچ سو درہم تھا۔

روایت نمبر سوم: سیدہ فاطمہ کا مہر زمین کا پانچواں حصہ اور چار سو اسی درہم تھا

بروایت دیگر رسول اللہﷺ نے کہا: یا علی! میں نے فاطمہ کو تم سے حصہ پنجم زمین اور چار سو اسی درہم پر بحکم حق تعالیٰ تزویج کیا

روایت نمبر چہارم: سیدہ فاطمہ کا مہر زمین تھا رسول اللہﷺ نے علی ابن ابی طالب سے فرمایا: اے علی! حق تعالیٰ نے فاطمہ کو تم سے تزویج کیا، اور زمین اس کے مہر میں عطا کی۔ پس جو کوئی زمین پر راہ چلے، اور تمہارا دشمن ہو، وہ زمین پر حرام راہ چلا ہے۔

روایت نمبر پنجم: فاطمہ(ع) کا مہر زمین کا پانچواں حصہ ہے۔

بسند معتبر روایت کی ہے کہ ایک دن حضرت رسولﷺ جناب فاطمہ کے پاس تشریف لائے، دیکھا جناب سیدہ رو رہی ہیں۔ حضرت نے فرمایا: اے فاطمہ کیوں روتی ہو۔ تم یقین جانو اگر میرے اہل بیت میں کوئی علی سے بہتر ہوتا، تو میں اس سے تجھے تزویج کر دیتا۔ اور میں نے تجھے اس سے تزویج نہیں کیا، بلکہ خدا نے تجھے اس سے تزویج کیا۔ اور جب تک آسمان و زمین باقی ہیں، پانچواں حصہ دنیا کا تیرے مہر میں دیا۔ 

تو آپ فرمائیے، کیا ہم کہیں کہ کیا حضرت علیؓ کا نکاح حضرت فاطمہؓ سے ہوا ہی نہیں تھا؟ کسی ذیلی مسئلے میں کوئی اختلاف ہونے پر آپ واقعے کا انکار کس طرح کرتے ہیں؟ اور ابھی تو ہم نے فدک کے متعلق اہلِ تشیع کی بنیادی باتوں میں اختلاف کو پیش ہی نہیں کیا۔ اور امامت کے متعلق اختلافی باتیں تو پوری کتاب کی محتاج ہیں۔ اس لئے آپ ہمیں یہ نہ بتائیں کہ بعض علماء نے اختلاف کیا کہ متعہ خیبر کے دن حرام قرار پایا۔ نہ صرف اہل سنت بلکہ اہل تشیع کے اکثر فرقے جیسے زیدیہ وغیرہ بھی متعہ کو حرام کہتے ہیں اور انہوں نے اپنے ائمہ سے بھی اس متعلق روایات نقل کی ہیں۔ 

یہ اعتراض کوئی اور کرتا تو شاید اتنا عجیب نہ لگتا، لیکن یہ اعتراض امامیہ اثنا عشریہ کی جانب سے آ رہا ہے، جو کہ انتہائی تعجب کا مقام ہے۔ کیا امامیہ نہیں جانتے کہ حدیث غدیر میں ایسا ہی اختلاف ہے، اکثر روایات میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا

من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ

جبکہ دوسری روایات کے مطابق اس کے بعد یہ الفاظ بھی اس روایت کا حصہ ہیں

اللھم وال من والاہ وعاد من عادہ

تو بتائیے کہ یہ دوسرے الفاظ جھوٹ ہیں؟ اگر جھوٹ نہیں تو آپ کا اعترض بھی بکواس ہے۔

اعتراضات میں سب سے بھونڈا اعتراض:

نوٹ: علت میں صحابہ کرامؓ کے مابین آراء یہ تھیں کہ:

1۔ پالتو گدھا نجس چیزیں کھاتا ہے اس لیے حرام قرار دیا گیا۔

2۔ پھر رائے تھی اگر واقعی گدھا نجس چیزیں کھاتا ہے تو جنگلی گدھا بھی حرام قرار دیا جاتا۔

3۔ چنانچہ وجہ تھی کہ خیبر والے دن اُسی وقت گدھوں کو ایسی حالت میں پکایا جانے لگا کہ انکا "خمس" نہیں نکالا گیا تھا اور اسی وجہ سے وہ ابھی تک حرام تھے (خمس کا حکم قرآن میں ہے اور وہ کبھی منسوخ نہیں ہوا ہے)

4۔ کچھ نے کہا وجہ یہ تھی رسول اللہﷺ کو پسند نہ آیا کہ سامان ڈھونے والے جانور کو یوں ذبح کر کے ضائع کر دیا جائے۔

چنانچہ خیبر میں ہوئے اس واقعہ کا تو ہر ہر شخص کو اچھی طرح علم ہے اور اختلاف صرف اس ممانعت کی "علت" میں ہے۔ مگر اسی خیبر میں متعہ کی ممانعت کے واقعہ تک کا لوگوں کو دور دور تک نصف صدی گذر جانے کے بعد بھی کوئی علم نہیں ہے۔

"واقعہ" اور اسکی "علت" میں فرق کو ملحوظ خاطر رکھیے۔

پالتو گدھے کے واقعہ کو 15 سے زائد صحابہ کرامؓ نے مستقل نقل کیا ہے، مگر ان میں سے کوئی بھی ایک لفظ عقد المتعہ کےخیبر میں پیش آنے والے کسی واقعے کے متعلق نہیں نکالتا۔

اسکے مقابلے میں ایک ایک قول علی ابن ابی طالبؓ سے منسوب کیا گیا ہے جس میں دونوں گدھے اور متعہ کی حرمت بیان کی گئی ہے (مگر متعہ کے کسی واقعہ کی ایک بھی تفصیل بیان نہیں ہوئی ہے۔

یہ تو اب تک کے اعتراضات میں سب سے بھونڈا اعتراض ہے۔ علت کے بارے میں اختلاف رائے تو متفق علیہ روایتوں میں بھی ہوتا ہے، اس کیلئے اہل تشیع کی کتاب علل الشرائع ہی دیکھ لیں تو بات سمجھ میں آ جائے گی۔ اور پھر یہ اعتراض کہ باقی صحابہؓ نے متعہ کی حرمت کی بات نہیں کی، صرف حضرت علیؓ نے کی ہے، یہ اعتراض کوئی ناصبی کرتا تو بات سمجھ میں آتی، اہل تشیع کی طرف سے یہ اعتراض آرہا ہے، جو کہ مقام تعجب ہے۔

جھوٹ بولنے کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس احمق نے غزوہ خیبر پر متعہ کو حرام قرار دینے والی روایت گھڑی ہے، اُس کے جھوٹ کا پول کھول دینے کا پورا انتظام اللہ تعالیٰ نے کر رکھا ہے اور وہ یہ کہ سن 7 ہجری میں غزوہ خیبر تک اہل کتاب کے ساتھ نکاح یا کسی بھی قسم کے عقد کی اجازت ہی نہ تھی۔

علامہ ابن قیم اپنی کتاب زاد المعاد: جلد 3 صفحہ 183 میں اس جھوٹ کا پول کھولتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

وأيضا: فإن خيبر لم يكن فيها مسلمات وإنما كن يهوديات وإباحة نساء أهل الكتاب لم تكن ثبتت بعد إنما أبحن بعد ذلك في سورة المائدة بقوله۔

ترجمہ: غزوہ خیبر میں صحابہ کرامؓ کے ساتھ کوئی مسلمان عورت نہیں گئی تھی، اور خیبر میں صرف یہودی عورتیں تھیں اور اُس وقت تک اہل کتاب کی عورتوں سے عقد کرنے کی اجازت نازل ہی نہ ہوئی تھی۔ اور اہل کتاب کی عورتوں سے عقد کی اجازت غزوہ خیبر کے بعد سورۃ المائدہ میں نازل ہوئی۔"

یہ اعتراض بھی شیعہ کے لئے کوئی فائدہ مند نہیں۔ کیونکہ نکاح دائمی اگر اہل کتاب کی عورتوں کے ساتھ جائز نہیں تھا، تو اس سے متعہ جو کہ نکاح غیر دائمی ہوتا ہے، اس کے جائز یا ناجائز ہونے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور اہل تشیع کے مطابق اہل کتاب کی عورتوں سے متعہ کرنا اب بھی جائز ہے۔

سوال: حلالہ اور متعہ میں کیا فرق ہے، اگر دونوں میں کچھ وقت کے لیے رشتہ ازدواج مقصود ہو اور اس رشتہ کے بعد میاں اور بیوی ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائیں؟ از راہ مہربانی جواب دے کر مشکور فرمائیں۔

جواب: متعہ خاص مدت کے لیے تمتع حاصل کرنے کا معاملہ کیا جائے جو کہ ناجائز و حرام ہے اور حلالہ میں نکاح کے وقت کی تعیین نہیں ہوتی بلکہ نکاح کی دوامی خصوصیت موجود رہتی ہے، کوئی جملہ اس کے منافی نہیں صادر کیا جاتا ہے جب کہ متعہ میں نکاح کی دوامی کیفیت کے خلاف مدت کی تعیین کی جاتی ہے کہ ہم مثلاً ایک ہفتہ ایک ماہ کے لیے تم سے نکاح کر دیتے ہیں۔

حدیث سے متعہ کی تنسیخ کے حکم کا ثبوت: ابتدائے اسلام میں حلال اور حرام کے بہت سے احکام رفتہ رفتہ نازل ہوئے، شراب اور سود کی حرمت کا حکم نبوت اور بعثت کے تقریباً 15-20 سال کے بعد نازل ہوا۔ اسی طرح متعہ کے بارے میں حکم خداوندی نازل ہونے سے پہلے جاہلیت کے رسم و رواج کے مطابق لوگ متعہ کیا کرتے تھے، اب تک اس بارے میں کوئی صریح اور واضح حکم نازل نہ ہوا تھا۔ سب سے پہلے خیبر کی لڑائی میں رسول اللہﷺ نے اس کی حرمت کا اعلان فرمایا۔ جیسا کہ بخاری و مسلم میں حضرت علیؓ سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے۔ پھر آپ نے مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کے دونوں بازو پکڑ کر فرمایا متعہ قیامت تک کے لیے ہمیشہ کے واسطے حرام کیا گیا۔ پھر غزوۂ تبوک میں اس کا اعادہ فرمایا۔ پھر حجۃ الوداع میں حرمت متعہ کا اعلان عام فرمایا تاکہ خواص اور عوام سب ہی کو اس کی حرمت کا علم ہو جائے۔

تفصیل کے لیے احکام القرآن للجصاص: جلد 2 صفحہ 148، اور تفسیر مظہری کا مطالعہ کریں، نیز علامہ امام حازمی کی کتاب الاعتبار: صفحہ 187 کی طرف مراجعت کریں۔

رافضی شیعہ نے متعہ کی اباحت پر ایسے دلائل سے استدلال کیا ہے جن میں سے کوئی دلیل بھی صحیح نہیں:

ا: اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے:

 اس لیے جن سے تم فائدہ اٹھاؤ ان کا مقرر کیا ہوا مہر دے دو۔ سورۃ النساء آیت 24)

ان کا کہنا ہے کہ:

اس آیت میں متعہ کے مباح ہونے کی دلیل ہے، اور اللہ تعالیٰ کے فرمان (ان کے مہر) کو اللہ تعالیٰ کے فرمان (استمتعتم) سے متعہ مراد لینے کا قرینہ بنایا ہے کہ یہاں سے مراد متعہ ہے۔

رافضيوں پر رد: اس کا رد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے قبل آيت میں یہ ذکر کیا ہے کہ مرد پر کونسی عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے اور اس آیت میں مرد کے نکاح کے لیے حلال عورتوں کا ذکر کیا اور شادی شدہ عورت کو اس کا مہر دینے کا حکم دیا ہے۔

اور اللہ تعالیٰ نے شادی کی لذت کو یہاں پر استمتاع سے تعبیر کیا ہے، اور حدیث شریف میں بھی اسی طرح وارد ہے:

ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہيں کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا:

( عورت پسلی کی مانند ہے اگر اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو توڑ بیٹھو گے، اور اگر اس سے فائدہ لینے کی کوشش کرو گے تو فائدہ اٹھاؤ گے، اور اس میں کچھ ٹیڑھا پن ہے) 

صحیح بخاری: حدیث نمبر (4889) صحیح مسلم حدیث نمبر (1468)

اوپر والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مہر کو اُجرت سے تعبیر کیا ہے یہاں سے وہ مال مراد نہيں جو متعہ کرنے والا متعہ کی جانے والی عورت کو عقد متعہ میں دیتا ہے، کتاب اللہ میں ایک اور جگہ پر بھی مہر کو اُجرت کہا گيا ہے:

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے: اے نبی (ﷺ) ہم نے تیرے لیے تیری وہ بیویاں حلال کردی ہیں جنہیں تو ان کے مہر دے چکا ہے سورۃ الاحزاب آیت 50 ) 

تو یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اٰتَیْتَ اُجُوْرَھُنَّ کے الفاظ بولے ہیں جس سے یہ ثابت ہوا کہ شیعہ جس آیت سے متعہ کا استدلال کر رہے ہیں اس میں متعہ کی اباحت کی نہ تو کوئی دلیل ہی ہے اورنہ ہی کوئی قرینہ ہی پایا جاتا ہے۔

اور اگر بالفرض ہم یہ کہیں کہ آیت اباحت متعہ پر دلالت کرتی ہے تو ہم یہ کہيں گےکہ یہ آیت منسوخ ہے جس کا ثبوت سنت صحیحہ میں موجود ہے کہ قیامت تک کے لیے متعہ حرام کردیا گيا ہے۔

ب: ان کی دوسری دلیل یہ ہے کہ بعض صحابہ کرامؓ سے اس کے جائز ہونے کی روایت ملتی ہے اور خاص کر ابن عباس رضی اللہ عنہما سے۔

اس کا رد یہ ہے کہ: رافضی و شیعہ اپنی خواہشات پر چلتے ہیں اور ان میں اتباع ھواء ہے ، وہ تو سب صحابہ کرامؓ کو (نعوذ باللہ) کافر قرار دیتے ہیں، اور پھر آپ دیکھیں کہ ان کے افعال سے استدلال بھی کرتے ہیں جیسا کہ یہاں اور اس کے علاوہ بھی کئی ایک مواقع پر کیا ہے۔

اور جن سے متعہ کے جواز کا قول ملتا ہے انہیں تحریم متعہ کی نص نہیں پہنچی اس لیے انہوں نے جواز کا قول کہا، ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے اباحت معتہ کے قول پر صحابہ کرامؓ نے تو رد بھی کیا ہے (جن میں علی بن ابی طالب، اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم) شامل ہیں۔

حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عباسؓ کے بارے میں سنا کہ وہ عورتوں سے متعہ کے بارہ میں نرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو حضرت علیؓ کہنے لگے:

اے ابن عباس ذرا ٹھہرو! بلاشبہ نبی اکرمﷺ نے خیبر کے دن اس سے اور گھریلو گدھوں سے روک دیا تھا۔

(صحیح مسلم حدیث نمبر (1407)

حلّتِ متعہ پر امامیہ کے استدلال کا جواب: حضرات امامیہ نے جوازِ متعہ پر قرآن کی حسب ذیل آیت سے استدلال کیا ہے۔ 

جن بیویوں سے تم نے عمل زوجیت کر لیا ہے انہیں ان کا پورا مہر ادا کرو۔

امامیہ حضرات کہتے ہیں: اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جن عورتوں سے تم نے متعہ کر لیا ہے ان کو اس کی اجرت ادا کرو اور یہ استدلال متعدد وجوہ سے باطل ہے۔ اوّلاً اس لیے کہ متعہ کی حقیقت یہ ہے کہ اس میں مدت متعین ہو اور اس آیت میں تعین مدت کا اصلاً ذکر نہیں ہے۔ لہٰذا "استمتعتم" کا معنٰی متعہ کرنا صحیح نہیں ہے۔اصل میں یہ لفظ "استمتاع" سے ماخوذ ہے جس کا معنیٰ ہے نفع حاصل کرنا اور فائدہ اٹھانا اور آیت کا صاف اور صریح مطلب یہی ہے کہ جن بیویوں سے تم عمل زوجیت کر کے جسمانی نفع حاصل کر لیا ہے، انہیں ان کا پورا مہر ادا کرو، ثانیاً اس آیت میں سے پہلے اور بعد کی آیات میں نکاح کا بیان اور اس کے احکام ذکر کیے گئے ہیں۔ اب درمیان میں اس آیت کو متعہ پر محمول کرنے سے نظم قرآن کا اختلال اور آیات کا غیر مربوط ہونا لازم آئے گا۔

ثالثاً اس آیت سے متصل پہلی آیت میں فرمایا:

وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمۡ اَنۡ تَبۡتَـغُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ‌ 

(سورۃ النساء آیت 24)

یعنی محرمات کے سوا باقی عورتیں تمھارے نکاح کے لیے حلال کردی گئی ہیں، تم مہر دے کر اس سے فائدہ اٹھاؤ بشرطیکہ تم انہیں حصن بناؤ اور سفاح نہ کرو۔

حصن کا معنیٰ ہے: قلعہ، یعنی عورت سے نفع اندوزی تب حلال ہے جب وہ تمہارے نطفہ کی حفاظت کے لیے قلعہ بن جائے اور متعہ سے عورت قلعہ نہیں بنتی، ہر ہفتہ دوسرے کے پہلو میں ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے متعہ سے نسب محفوظ نہیں رہتا، اب اگر "فمااستمتعتم" کا معنٰی متعہ کرلیا جائے تو قرآن کریم کی دو متصل آیتوں میں کھلا تصادم لازم آئے گا کہ پہلی آیت سے متعہ حرام ہوا اور دوسری آیت سے حلال اور قرآن کریم اس تضاد کا متحمل نہیں ہے۔ 

رابعاً سفاح کا معنیٰ ہے: محض قضاء شہوت اور نطفہ گرا دینا اور مطلب یہ ہے کہ عورت سے نفع اندوزی حلال ہے، بشرطیکہ تمہارا مقصد محض قضاء شہوت اور جنسی تسکین نہ ہو بلکہ اولاد کو طلب کرنا مقصود ہو اور ظاہر ہے کہ متعہ سوائے قضاء شہوت اور جنسی تسکین کے اور کچھ مقصود نہیں ہوتا۔ پس متعہ جائز نہ رہا اور جب اس آیت سے متعہ حرام ہوا تو اس سے اگلی آیت میں حلّت متعہ کا معنیٰ کرنا باطل ہوگا۔ امامیہ حضرات کہتے ہیں کہ بعض روایات میں مذکور ہے کہ بعض قرأت میں "فما استمتعتم بہ منھن" کے بعد"الی اجل مسمی" بھی پڑھا گیا ہے، اب معنیٰ یوں ہوگا: جن عورتوں سے تم نے مدت معینہ تک فائدہ اٹھایا ان کو اُجرت دے دو یہ بعینہ متعہ ہے کیونکہ اب آیت میں مدت اور اُجرت دونوں کا ذکر آ گیا اور یہی متعہ کے ارکان ہیں۔

 یہ ٹھیک ہے کہ یہ روایت خبر واحد ہے اور اس روایت سے یہ الفاظ قرآن کا جزو نہیں بن سکتا۔ لیکن متعہ ثابت کرنے کے لیے اس قدر کافی ہے کہ بعض قرأت میں "الی اجل مسمی" کے الفاظ موجود ہیں۔

اس استدلال کے جواب میں اوّلاً معروض ہے کہ "الی اجل مسمی" سے استدلال تب ہوگا جب اسے "فما استمتعتم بہ" کے ساتھ لاحق کر کے قرآن کا جُزو مانا جائے اور شیعہ حضرات کو بھی یہ تسلیم ہے کہ بغیر تواتر کے محض خبر واحد سے کوئی لفظ قرآن کا جزو نہیں بن سکتا۔ لہٰذا اس قرأت سے جوازِ متعہ پر استدلال صحیح نہ رہا۔

ثانیاً تفاسیر میں جہاں اس روایت کو ذکر کیا ہے وہیں تصریح کر دی ہے کہ یہ روایت معتمد نہیں ہے اور قرآن کریم میں اس کی تلاوت کرنا اور اس سے کوئی حکم ثابت کرنا جائز نہیں ہے، چنانچہ ابوبکر رازی الجصاص المتوفی 370ھ فرماتے ہیں۔

فانہ لا یجوز اثبات الاجل فی تلاوتہ عند احد من المسلمین فالا جل اذا غیر ثابت فی القران۔

(احکام القرآن: جلد 2 صفحہ 14)

"تلاوت میں اجل پڑھنا کسی مسلمان کے نزدیک جائز نہیں ہے اور یہ لفظ قرآن میں ثابت نہیں ہے۔"

اور ابن جریر طبری المتوفی 310ھ فرماتے ہیں:

واما ماروی عن ابی بن کعب وابن عباس من قرأتھما فما استمتعتم بہ منھن الی اجل مسمی فقرا بخلاف ما جاء ت بہ صحائف وغیر جائز لاحد ان یلحق فی کتاب اللہ تعالی شیئا لم یات بہ الخیر القاطع (تفسیر طبری: جز 3 صفحہ 13)

"ابی بن کعب اور ابن عباس کی ایک قرأت میں جز "الی اجل مسمی" کے الفاظ مروی ہیں وہ تمام مصاحف المسلمین کے خلاف ہیں اور کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کتاب اللہ میں بغیر خبر متواتر کے کسی چیز کا اضافہ کرے۔"

ثالثاً صرف کسی روایت کا موجود ہونا اس کی ثقاہت کے لیے کافی نہیں۔

روایات تو صحیح سے لے کر موضوع تک ہر قسم کی موجود ہیں۔ کیونکہ رافضی، قدری، جہمی ہر طرح کے بدعقیدہ لوگوں نے اپنے اپنے مذہب کے موافق روایات وضع کر کے شائع کر دی تھیں۔ یہ محدثین کرام کا ملت اسلامیہ پر احسان عظیم ہے کہ انہوں نے علم اسماء رجال ایجاد کر کے ہر حدیث کی صحت اور وضع پرکھنے کا ذریعہ مہیا کردیا۔

جس روایت کے سہارے امامیہ حضرات نے"الی اجل مسمی" کی قرأت کو تسلیم کیا ہے، ہم آپ کے سامنے اس روایت کے طرق اور اسانید کا حال بیان کر دیتے ہیں، جس سے روایت کی حقیقت سامنے آجائے گی۔

ابن جریر طبری اس روایت کی سند بیان کرتے ہیں:

حدثنا محمد بن الحسین قال حدثنا احمد بن المفضل قال ثنا اسباط عن السدی فما استمتعتم بہ منھم الی اجل مسمی فاتو ھن اجورھن۔

(تفسیر طبری: جلد 5 صفحہ 12)

اس سند کا ایک راوی احمد بن مفضل ہے، ازدی نے کہا: یہ منکرالحدیث ہے اور ابو حاتم نے بیان کیا کہ یہ رؤسا شیعہ میں سے تھا۔

(تہذیب التہذیب: جلد 6 صفحہ 96) 

اس سند کا تیسرا آدمی اسباط ہے، امام نسائی نے کہا: یہ قوی نہ تھا۔ ابن معین نے کہا۔"لیس بشیء" یہ کچھ بھی نہیں۔ ابو نعیم نے کہا: بہت ضعیف تھا۔

(تہذیب التہذیب: جلد 1 صفحہ 81) 

اس سند کا چوتھا راوی اسماعیل بن عبدالرحمٰن السدی ہے، جو زجانی نے کہا: یہ کذاب تھا، صحابہ کرامؓ کو سب و شتم کرتا تھا۔ حسین واقدی نے کہا: میں سماع حدیث کے لیے اس کے پاس آیا، جب دیکھا کہ یہ حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کو برا بھلا کہتا ہے تو میں چلا آیا اور پھر کبھی اُس کے پاس نہیں گیا۔

 ان ابی سلین نے کہا کہ یہ شیخین کی شان میں بدگوئی کرتا تھا۔

طبری نے کہا: اس کی روایات لائق استدلال نہیں ہیں۔(تہذیب التہذیب: جلد 1 صفحہ 317)

اس روایت کی دوسری سند ملاحظہ ہو۔

حدثنا ابو کریب قال حدثنا یحیی بن عیسی قال حدثنا نصیر بن ابی الاشعث قال حدثنی حبیب بن ابی ثابت قال اعطانی ابن عباس مصحفا فقال ھذا علی قراۃ ابی قال ابو بکر قال یحیی فرایت المصحف عند نصیر فیہ فما استمتعتم بہ منھن الی اجل مسمی۔ (تفسیر طبری: جلد 5 صفحہ 263)

اس سند میں ایک راوی ہے یحییٰ بن عیسٰی، نسائی نے کہا: یہ قوی نہ تھا۔

(میزان الاعتدال: جلد 4 صفحہ 401-402) 

سلمہ نے کہا: اس میں ضعف تھا۔

ابن معین نے کہا: "لیس بشیء" یہ کچھ نہ تھا۔ عجلی نے کہا: اس میں تشیع تھا۔ (تہذیب التہذیب: جلد 11 صفحہ 263)

ان دونوں سندوں میں رافضی منکرالحدیث اور کذاب راوی موجود ہیں۔ پس ایسے لوگوں کی بنیاد پر کوئی روایت کس طرح قابل قبول ہوسکتی ہے، ان دونوں سندوں کے بعد ایک اور سند پیش خدمت ہے:

حدثنا ابن المثنی قال ثنی عبدالاعلی قال ثنی داؤد عن ابی نضر ۃ قال سالت ابن عباس عن المتعہ فذکر نحوہ۔ (طبری: جز 5 صفحہ 12)

اس سند میں ایک راوی ہے عبدالاعلیٰ، ابن سعد نے کہا: یہ قوی نہ تھا۔ 

ابن حبان اور امام محمد نے کہا: یہ قدریہ عقائد کا حامل تھا۔(تہذیب التہذیب: جلد 6 صفحہ96) 

اس سند کا ایک راوی ہے داؤد ابن ابی ہند، اس کے بارے میں تصریح ہے کہ اس کی روایات میں اضطراب تھا اور یہ کثیر الخلاف تھا۔

(تہذیب التہذیب: جلد 3 صفحہ 205)

 ان حوالوں سے ظاہر ہو گیا کہ اس روایت کے طرق میں بکثرت رافضی قدری جیسے بدعقیدہ اور کذاب، منکرالحدیث، کثیرالخلاف اور ضعیف راوی موجود ہیں۔ لہٰذا یہ روایت قطعاً باطل اور جعلی ہے۔

رابعاً ابن عباس اس آیت کو کس طرح پڑھتے تھے اور استمتاع سے ان کی مراد متعہ تھی یا نکاح، اس بارے میں ابن جریر نے جو روایت صحیح سند کے ساتھ ذکر کی ہے وہ یہ ہے:

حدثنی المثنی قال ثنا عبد اللہ بن صالح قال ثنی معاویۃ بن صالح بن ابی طلحۃ عن ابن عباس قولہ فما استمتعتم بہ منھن فاتوھن اجورھن فریضۃ یقول اذا تزوج الرجل المرأۃ ثم نکحھا مرۃ واحدۃ وجب صداقھا کلہ والا ستمتاع ھو النکاح۔

(تفسیر طبری: جز 5 صفحہ 11)

حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ انہوں نے"فما استمتعم بہ منھن فاتوھن اجورھن"پڑھا (بغیر"الی اجل مسمی"کے) اور اس کی تفسیر میں فرمایا: جب شادی کے بعد کوئی شخص ایک بار بھی عمل زوجیت کرے تو اس پر پورا مہر واجب ہو جاتا ہے اور فرمایا: اسمتاع سے مراد نکاح ہے۔

اگر "فما استمتعتم" کے بعد "الی اجل مسمی" پڑھا جائے تو استمتاع سے مراد نکاح کسی صورت میں نہیں ہو سکتا۔ متعہ ہی مراد لینا پڑے گا اور جب ابن عباس نے فرمایا: استمتاع سے مراد نکاح ہے اور بغیر "الی اجل مسمی" اس آیت کو پڑھا تو معلوم ہوا کہ "الی اجل مسمی" پڑھنے کی نسبت اس کی طرف کرنا سراسر افتراء ہے اور یہ روایت صحیح السند ہے اور مصاحف مسلمین کے مطابق ہے۔ اسے چھوڑ کر رافضیوں اور قدریوں کی روایت کو لینا جو مصاحف مسلمین کے مخالف اور نظم قرآن سے متصادم ہے، صریح ہٹ دھرمی کے سوا اور کیا ہے۔ امامیہ حضرات کہتے ہیں کہ ابن عباس جواز متعہ کا فتویٰ دیتے تھے اور چونکہ اہل سنت کے نزدیک حضرت ابن عباس کی شخصیت واجب التسلیم ہے اس لیے اس پر لازم ہے کہ ان کے فتویٰ کا احترام کریں۔

ہماری گزارش یہ ہے کہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے مطلقاً جواز کا فتویٰ نہیں دیا، وہ متعہ کو مردار اور خنزیر کی طرح حرام سمجھتے تھے اور جس حالت اضطرار میں مردار اور خنزیر کھانا جائز ہے اسی طرح ان کے نزدیک حالت اضطرار میں متعہ کرنا بھی جائز تھا۔

 چنانچہ علامہ نیشا پوری المتوفی 728ھ فرماتے ہیں:

ان الناس لما ذکروا الاشعار فی فتیا ابن عباس فی المتعۃ قال قاتلھم اللہ الی ما افتیت با باحتھا علی الاطلاق لکنی قلت انھا تحل للمضطر کما تحل المیتۃ والدم ولحم الخنزیر۔

"جب لوگوں نے ابن عباس کے فتویٰ کی وجہ سے ان کی ہجو میں اشعار کہے تو انہوں نے کہا: خدا ان کو ہلاک کرے، میں نے علی الاطلاق متعہ کی اباحت کا فتویٰ نہیں دیا، بلکہ میں نے کہا تھا کہ متعہ مضطر کے لیے حلال ہے جیسے مُردار، خنزیر اور خون کا حکم ہے۔

اس روایت کو ابوبکر رازی الجصاص نے "احکام القرآن" جلد 2 صفحہ 147 پر اور ابن ہمام المتوفی 861ھ نے "فتح القدیر" جلد 2 صفحہ 386 اور علامی آلوسی المتوفی 1270ھ نے "روح المعانی" جز 5 صفحہ 6 پر ذکر کیا ہے۔

حضرت ابن عباس کا مضطر کے لیے اباحت متعہ کا فتویٰ دینا بھی ان کی اجتہادی خطاء پر مبنی تھا اور جب ان پر حق واضح ہو گیا تو انہوں نے اس فتویٰ سے رجوع کر لیا اور اللہ تعالیٰ سے توبہ کی۔

چنانچہ علامہ نیشاپوری لکھتے ہیں:

انہ رجع عن ذالک عند موتہ وقال انی اتوب الیک فی الصرف والمتعۃ (غرآئب القرآن: جز 5 صفحہ 16)

"ابن عباس نے اپنے مرنے سے پہلے اپنے فتویٰ سے رجوع کیا اور کہا: میں صرف اور متعہ سے رجوع کرتا ہوں۔

"فالصحح حکایت من حکی عنہ الرجوع عنھا" "صحیح روایت یہ ہے کہ حضرت ابن عباس نے جواز متعہ سے رجوع کرلیا تھا"۔

نیز فرماتے ہیں:

"نزل عن قولہ فی الصرف و قولہ فی المتعۃ"(احکام القرآن: جلد 6 صفحہ 147-179)"ابن عباس سے صرف اور متعہ سے رجوع کر لیا تھا۔''

 علامہ بدر الدین عینی المتوفی 855ھ نے “عمدۃ القاری“جز 17 صفحہ 246 پر اور علامہ ابن حجر عسقلانی المتوفی 852ھ نے “فتح الباری“ جلد 11 صفحہ 77 پر حضرت ابنِ عباس کا متعہ سے رجوع بیان فرمایا ہے اور اہلسنت کے تمام محقیقین نے اسی پر اعتماد کا اظہار فرمایا ہے، پھر کس قدر حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ جس بات سے حضرت ابن عباس رجوع فرما چکے ہیں اسے ان کا مسلک قرار دے کر اس کی بنیاد پر اپنے مسلک کی دیوار استوار کی جائے۔

حضرت علامہ ابو عمرو یوسف بن عبدالبر مالکی لکھتے ہیں:

اصحاب ابن عباس من اھل مکۃ والیمن علیٰ اباحتھاتم اتفق فقھاء الامصار علیٰ تحریمھا۔ 

مکہ اور یمن میں مقیم اصحاب ابنِ عباس پہلے اباحت متعہ کے قائل تھے پھر جب ان کو صریح حدیث مل گئی اور ابنِ عباس کا رجوع بھی معلوم ہوا تو تمام فقہاء کرام متعہ کی حرمت پر متفق ہو گئے۔ (فتح الباری: جلد 9 صفحہ 2)

حافظ ابن حجر عسقلانیؒ لکھتے ہیں:

 وقہ نقل ابو عوانہ فی صحیحہ عن ابن جریج انہ رجع عنھا۔

 حضرام امام ابو عوانہ نے اپنی صحیح میں اس بات کو نقل کیا ہے کہ حضرت ابن جریج نے (اپنے اباحت والے قول سے ) رجوع کر لیا تھا۔

رقہ اعترف ابن حزم مع ذٰلک بتحریمھا لثبرت قولہ علیہ السلام انھا حرام الیٰ یوم القیامۃ۔

علامہ ابن حزم نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ متعہ حرام ہے کیونکہ حضرت محمدﷺ سے ثابت ہے کہ متعہ اب قیامت تک حرام ہے۔

 (فتح الباری: جلد 9 صفحہ 209)

علامہ ابن جریر طبری مختلف اقوال درج کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

واولی التاویلین فی ذٰلک بالصواب تاویل من تاولہ فما نکحتموا منھن فجا معتموھن فاتوھن اجورھن لقیام الحجۃ بتحریم اللہ تعالیٰ متعۃ النساء علیٰ غیر زوجہ النکاح الصحیح او الملک علیٰ لسان رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

دونوں تفسیروں میں سے اولیٰ اور بہتر تفسیر یہ ہے کہ جن عورتوں سے تم نکاح کرو پھر ان سے مجامعت کرو تو ان کو ان کے مہر ادا کر دو کیونکہ نکاح صحیح اور مملوکہ باندی کے سوا متعۃ النساء کا حرام ہونا آنحضرتﷺ کی زبان مبارکہ سے ثابت ہو چکا ہے اور اس پر حجت قائم ہو چکی۔ 

عن زید بن علی عن آباء علیھم السلام قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لحوم الحمر الاھلیۃ و نکاح المتعۃ۔ (الا ستبصار: جلد 3 صفحہ 201)

حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے پالتو گدھوں کو اور متعہ کو حرام فرما دیا ہے۔

حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے پالتو گدھوں کو اور متعہ کو حرام فرما دیا ہے۔

"استبصار" کے علاوہ امامیہ کی دوسری کتب صحاح میں بھی حرمت متعہ کی روایات موجود ہیں۔ شیعہ حضرات ان کے جواب میں بے دھڑک کہہ دیتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے ایسی روایت تقیۃً بیان فرمائی ہیں اور جان کے خوف سے تقیۃً بیان فرمائی ہیں اور جان کے خوف سے تقیۃً جھوٹ بولنا عین دین ہے۔ کیونکہ "کافی کلینی" میں ہے: "من لا تقیۃ لہ لا دین لہ" جو ضرورت کے وقت تقیہ نہ کرے وہ بے دین ہے۔

سوال یہ ہے کہ حضرت سیدنا حسینؓ نے جب یزید کے خلاف آواز حق بلند کیا اور ہزار ہا مخالفوں کے سامنے تلواروں کے جھنکار اور تیر و تفنگ کی بوچھاڑ میں بیعت یزید سے انکار کیا تو کیا اس وقت امام حسین(ع) تعک تقیہ کی وجہ سے (معاذ اللہ) بے دین ہوگئے تھے؟ اور اگر ایسے شدید ابتلاء میں بھی تقیہ نہ کرنا ہی حق و صواب تھا تو حضرت علی کا بغیر کسی ابتلاء کے بے حساب روایات تقیۃً بیان کرنا کس طح حق و ثواب ہوگا؟ کاش! امامیہ حضرات میں سے کوئی شخص اس نکتہ کو حل کر کے لاکھوں انسانوں کی ذہنی خلش کو دور کر سکے۔

(تہذیب الاحکام: جلد 2 صفحہ 182 مطبوعہ) 

ایران میں روایت کو مانا گیا ہے اور تقیہ کہا گیا۔ 

ان هذا الرواية وردت موردة التقية

 یہ روایت یقیناً تقیہ کے طور پر وارد ہوئی ہے۔

وسائل الشیعہ: جلد 5 صفحہ 438 میں درج ہے۔

اباحۃ المتعۃ من ضروریات مذہب الامامیۃ۔ شیخ محمد بن حسن۔

شیخ الطائفہ بھی لکھتے ہیں کہ یہ روایت تقیہ ہے۔

فالوجہ فی ہذا الروایۃ ان علی التقیۃ لانہا موافقۃ لذاھب العامۃ و الاخبار الادلۃ موافقۃ لظاھر الکتاب و اجماع الفرقۃ علی موجھا فیحب ان یکون العمل بھادون ھذہ الروایۃ الشاذۃ۔

شیخ محمد بن حسن الحر العاملی کہتا ہے۔ اقول حملہ الشیخ وغیرہ علي التقية يعني في الرواية لان اباحة المتعة من ضروريات مذهب الامامية۔

یعنی جن روایات میں حضرت علی سے متعہ کی ممانعت آتی ہے اس کو ہم تقیہ پر محمول کرتے رہیں گے۔ کیونکہ شیعہ امامیہ کی دوسری مستند روایات سے متعہ کا حلال ہونا واضح ہے اور متعہ کی اباحت مذہب امامیہ کی ضروریات دین میں سے ہے۔ اس لیے ممنوع والی روایتوں سے استدلال کرنا صحیح نہیں بلکہ عمل اسی پر ہوگا جن پر شیعوں کا اجماع ہے۔ 

(وسائل الشیعہ: جلد: 7 صفحہ 441 مطبوعہ تہران)

حضرت علامہ ابو جعفر احمد بن محمد نحوی مصری لکھتے ہیں:

ان ابن عباس لما خاطبه علي بهذا لم يحاجه فصار تحريم المتعۃ اجماھا لان الذین یحلونھا اعتمادھم علی ابن عباس۔

حضرت علیؓ نے حضرت ابن عباسؓ سے بات چیت کی تو حضرت ابن عباسؓ نے حضرت علیؓ سے کوئی حجت نہ کی پس اس کے ذریعہ متعہ کی حرمت پر اجماع ہو گیا اس لیے کہ جو لوگ متعہ کی اباحت کے قائل تھے ان کا سارا دارومدار ابن عباس کے قول پر تھا۔

 (تفسیر نحاس: صفحہ 106)

قاضی عبدالجبار متعزلی لکھتے ہیں: وانکر ذالک علی رضی اللہ عنہ لما بلغہ اباحۃ ابن عباس انکار ظاہر اوقد عنہ رضی اللہ عنہ الرجوع عن ذالک فصار اجماعا من کل صحابۃ۔

جب حضرت علیؓ کو حضرت ابن عباسؓ کے متعہ کے مباح ہونے کے قول کی خبر پہنچی تو آپ نے حضرت ابن عباسؓ پر سخت انکار کیا اور مروی ہے کہ ابن عباسؓ نے اپنے قول سے رجوع کر لیا تھا۔پس حرمت متعہ پر تمام صحابہ کرامؓ کا اجماع ہو گیا۔ (تفسیر تنزیہ القرآن: صفحہ 84)

اور اب ایک شعیہ عالم کی رائے:

شیعی عالم ڈاکٹر موسی الموسوی لکھتے ہیں: حضرت علی (ع) نے اپنی خلافت کے زمانے میں اس حرمت کو برقرار رکھا اور جواز متعہ کا حکم صادر نہیں فرمایا۔ شیعی عرف اور ہمارے فقہاء شیعہ کی رائے کے مطابق امام کا عمل حجت ہوتا ہے خصوصاً جب کہ امام بااختیار ہو۔ اظہار رائے کی آزادی رکھتا ہو اور احکام الہٰی کے اوامر و نواہی بیان کر سکتا ہو اس صورت میں امام علی (ع) کی حرمت متعہ کو برقرار رکھنے کا مطلب یہ ہوا کہ وہ عہد نبوی میں حرام تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ضروری تھا کہ وہ اس حکم تحریم کی مخالفت کرتے اور اس کے متعلق صحیح حکم الہٰی بیان کرتے اور عمل امام شیعہ پر حجت ہے میں نہیں سمجھ پایا کہ ہمارے فقہاء شیعہ کو یہ جرأت کیسے ہوئی کہ وہ اس کو دیوار پر مار دیتے ہیں۔ (اصلاح شیعہ: 112)

ایک روایت استبصار سے اس میں نہ فتح مکہ کا خبیر کا ذکر بھی نہیں مگر حرمت متعہ کا ذکر واضح ہے۔

حضرت علی (ع) فرماتے ہیں: حرم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لحرم الحمر الاھلیۃ ونکاح المتعۃ۔ (الاستبصار: جلد 3 صفحہ 142)

علی بن یقطین سے روایت ہے کہ میں موسیٰ کاظم علیہ اسلام سے(متعہ) کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا تم کو متعہ سے کیا سروکار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو تم کو اس سے بے نیاز فرمایا ہے۔

( حرم رسول الله صلى الله عليه وآله يوم خيبر لحوم الحمر الأهلية ونكاح المتعة) انظر (التهذيب: جلد 2 صفحہ 186، الاستبصار: جلد 2 صفحہ 142)، (وسائل الشيعہ: جلد 14 صفحہ 441)

امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے خیبر کے روز گدھے کے گوشت اور متعہ النساء کی ممانعت کر دی تھی۔

عن عبد الله بن سنان قال سألت أبا عبد الله عليه السلام عن المتعة فقال: (لا تدنس نفسك بـها)

 (بحار الأنوار: جلد 31 صفحہ 100)

عبداللہ بن سنان بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو عبداللہ سے متعہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا مت گندہ کرو اپنے نفس کو اس سے۔ 

عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ نَحَرْنَا عَلَی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا فَأَکَلْنَاهُ۔

عَنْ أَسْمَائَ قَالَتْ ذَبَحْنَا عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ فَأَکَلْنَاهُ۔

(صحیح بخاری: 5086، 5087)

شیخ الاسلام حافظ بن حجر عسقلانی رحمۃاللہ نے شرح بخاری میں "ذبحنا" والی روایت بھی نقل فرمائی ہے۔

(فتح الباری: جلد 3 صفحہ 53)

حضرت اسماءؓ سے روایت ہے ہم نے حضور اکرمﷺ کے دور میں گھوڑا ذبح کیا اور ہم اسے کھا گئے۔

تو کیا اس سے یہ مراد لی جائے کہ پورا گھوڑا حضرت اسماءؓ نے ذبح بھی کیا اور کھا بھی گئیں۔

مذکورہ بالا روایت میں نحرنا (ہم نے نحر کیا) اور ذبحنا (ہم نے ذبح کیا) کے الفاظ سامنے رکھیے۔ عورتوں کا اونٹ کو نحر کرنا اور جانوروں کو ذبح کرنا اس دور میں نہ تو معروف تھا اور نہ ایسا ہوتا تھا۔ مرد ہی جانوروں کو نحر اور ذبح کیا کرتے تھے۔ 

حضرت اسماءؓ اس حدیث میں ایک واقعہ کی حکایت نقل کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ کے زمانے میں گھوڑوں کو نحر اور ذبح کیا جاتا تھا۔ آپ کا یہ مطلب نہیں کہ میں جانوروں کو نحر اور ذبح کیا کرتی تھی۔

اس اسلوب بیان سے یہ بات کھل جاتی ہے کہ فعلناھا سے حضرت اسماءؓ کی مراد یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں ایک وقت تک نکاح مؤقت ہوتا رہا ہے اور یہ ممنوع نہ تھا اور لوگ کیا کرتے تھے۔

اگر پھر بھی اعتراض قائم ہے تو مندرجہ ذیل روایت کہ وضاحت کیجیے۔

لقد کنا مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تقتل اٰباءنا وبنائنا و اخواننا اوعمامنا (نہج البلاغہ: جلد ا صفحہ 120)

بے شک ہم حضورﷺ کے ساتھ اپنے باپوں بیٹیوں بھائیوں اور چچاؤں کو قتل کرتے تھے۔

(تقتل کا معنیٰ ہے ہم قتل کرتے تھے)۔

حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیقؓ اور متعہ کا الزام

تاریخ مسعودی اہل تشیع کی کتاب ہے اور بغض صحابہ سے بھری پڑی ہے۔ اس لئے یہ ہمارے لئے حجت نہیں۔

 مگر پھر بھی اگر مذکورہ روایت کو دیکھا جائے تو پتا چلے گا کہ شیعہ مجتہدین نے اس روایت میں خیانت کا ارتکاب کیا ہے یہ قصہ متعہ الحج کا نہ کہ متعہ النساء کا۔ جس جگہ مذکورہ عبارت درج ہے اس کے بلکل ساتھ یہ الفاظ موجود ہیں

یرید متعہ الحج:اسماء یعنی اس سے مراد متعہ الحج ہے

اور تو اپنے سکین کی تیسری لائن میں دیکھ لے متعہ الحج لکھا ہوا ہے

شیعہ مجتہد کا کہنا کہ حضرت عبدللہ بن زبیرؓ متعہ کی پیداوار تھے (ھٰذہ بہتان العظیم ) انتہائی غلط بیانی ہے۔ حضرت زبیرؓ اور اسماءؓ کا نکاح ایک ایسی کھلی حقیقت ہے کہ تقریباً تمام مؤرخوں اور تذکرہ نگاروں نے اسے ذکر کیا ہے خود تیرے مسودی نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے کہ حضرت زبیرؓ اور حضرت اسماءؓ کی باقاعدہ شادی ہوئی تھی اور اس وقت اسماءؓ کنواری تھیں۔

(شیعہ عالم المسعودی مروج الذہب: جلد 3 صفحہ 82) پر اپنے ہی لوگوں کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

لان الزبیر تزوج اسماء بکر ا فی الاسلام و زوجہ ابوبکر معلنا فکیف تکون متعۃ النساء۔ (مروج الذہب: جلد 3 صفحہ 82)

حضرت زبیرؓ نے حضرت اسماءؓ کے ساتھ باکرہ ہونے کی حالت میں اسلام کی شادی کی تھی اور حضرت ابوبکرؓ نے کھلے عام یہ شادی کرائی تھی۔ پس اس سے کیسے متعہ النساء ثابت ہو سکتا ہے۔

امام بخاریؒ صحیح بخاری میں حضرت زبیر اور اسماء رضی اللہ عنہما کی غیرت کے بارے میں حدیث درج کرتے ہیں:

محمود، ابواسامہ، ہشام، اسماءؓ بنت ابوبکرؓ کہتی ہیں کہ مجھ سے زبیرؓ نے جب شادی کی تو نہ انکے پاس مال تھا نہ زمین اور نہ لونڈی غلام تھے بجز پانی کھینچنے والے اونٹ اور گھوڑے کے کچھ نہ تھا، حضرت زبیرؓ کے گھوڑے کو میں چراتی تھیں، پانی پلاتی تھی، انکا ڈول سیتی تھی اور آٹا پیستی تھی البتہ روٹی پکانا مجھے نہیں آتا تھا میری روٹی انصاری پڑوسنیں پکا دیا کرتی تھیں وہ بڑی نیک عورتیں تھیں، حضرت زبیرؓ کی اس زمین سے جو آنحضرتﷺ نے انہیں دی تھی، میں اپنے سر پر چھوہاروں کی گٹھلیاں اٹھا کر لاتی، وہ مقام دو میل دور تھا ایک دن میں اپنے سر پر گٹھلیاں رکھے آ رہی تھی کہ مجھے آنحضرتﷺ ملے، آپﷺ کے ہمراہ چند صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی تھے، آپﷺ نے مجھے پکارا پھر مجھے اپنے پیچھے بٹھانے کے لئے اونٹ کو اخ اخ کہا، لیکن مجھے مردوں کے ساتھ چلنے سے شرم آئی۔ حضرت زبیرؓ کی غیرت بھی مجھے یاد آئی کہ وہ بڑے غیرت والے ہیں، آپﷺ نے تاڑ لیا کہ اسماء کو شرم آتی ہے، چناچہ آپ چل پڑے، زبیر سے میں نے آ کر کہا کہ مجھے راستہ میں آپﷺ ملے تھے، میرے سر پر گٹھلیوں کا گٹھا تھا اور آپﷺ کے ہمراہ صحابہ کرامؓ تھے، آپ نے مجھے بٹھانے کے لئے اونٹ کو ٹھہرایا، تو مجھے اس سے شرم آئی اور تمہاری غیرت کو بھی میں جانتی ہوں، زبیر نے کہا اللہ کی قسم! مجھے تیرے سر پر گٹھلیاں لاتے ہوئے آپ کا دیکھنا آپ کے ساتھ سوار ہو جانے سے زیادہ برا معلوم ہوا اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ایک خادم بھیج دیا تاکہ وہ گھوڑے کی نگہبانی میں میرا کام دے۔ گویا انہوں نے مجھے آزاد کر دیا۔

(صحیح بخاری: 4823)

اور روایت کی تشریح میں چھپی بددیانتی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ بقول مدعیان متعہ کے پورے دور نبیﷺ میں اور دور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما میں متعہ ہوتا رہا اور ایک ہی معزز خاتون کا نام سامنے آیا۔ وہ بھی حضورﷺ کے یار غار صدیقِ اکبرؓ کی بیٹی اور حضور نبی کریمﷺ کی زوجہ اور امت کی ماں حضرت عائشہؓ کی بہن کا۔ العیاذ باللہ۔

وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَامَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ‌وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمۡ اَنۡ تَبۡتَـغُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ‌ فَمَااسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً‌ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا تَرٰضَيۡـتُمۡ بِهٖ مِنۡ بَعۡدِ الۡـفَرِيۡضَةِ‌ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا۞

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ بَعَثَ جَيْشًا إِلَی أَوْطَاسَ فَلَقُوا عَدُوًّا فَقَاتَلُوهُمْ فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ وَأَصَابُوا لَهُمْ سَبَايَا فَکَأَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِهِنَّ مِنْ الْمُشْرِکِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِکَ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَائِ إِلَّا مَا مَلَکَتْ أَيْمَانُکُمْ أَيْ فَهُنَّ لَکُمْ حَلَالٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ

عبید اللہ بن عمر بن میسرہ قواریری، یزید بن زریع، سعید بن ابی عروبہ، قتادہ، صالح، ابی الخلیل، علقمہ ہاشمی، حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حنین کے دن ایک لشکر کو اوطاس کی طرف بھیجا ان کی دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی اور ان کو قتل کیا اور ان پر صحابہ کرامؓ نے غلبہ حاصل کیا اور انہوں نے کافروں کو قیدی بنایا اصحابِ رسول اللہﷺ میں سے بعض لوگوں نے ان سے صحبت کرنے کو اچھا نہ سمجھا اس لئے کہ ان کے مشرک شوہر موجود تھے تو اللہ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی (وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَامَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌) اور شوہر والی عورتیں بھی تم پر حرام ہیں مگر وہ جو قید ہو کر لونڈیوں کی طرح تمہارے قبضے میں آئیں۔ یعنی وہ تمہارے لئے حلال ہیں جب ان کی عدت پوری ہو جائے۔

صحیح مسلم 2643

و حَدَّثَنِيهِ يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَصَابُوا سَبْيًا يَوْمَ أَوْطَاسَ لَهُنَّ أَزْوَاجٌ فَتَخَوَّفُوا فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَائِ إِلَّا مَا مَلَکَتْ أَيْمَانُکُمْ

یحیی بن حبیب حارثی، خالد بن حارث، شعبہ، قتادہ، ابی الخلیل، حضرت ابوسعیدؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرامؓ کو اوطاس کی قیدی عورتیں ملیں جن کے خاوند تھے یعنی شادی شدہ تھیں۔ صحابہ کرامؓ نے خوف کیا تو یہ آیت مبارکہ نازل کی گئی (وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَامَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌) صیحیح مسلم۔2644

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ يَوْمَ حُنَيْنٍ بَعْثًا إِلَی أَوْطَاسَ فَلَقُوا عَدُوَّهُمْ فَقَاتَلُوهُمْ فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ وَأَصَابُوا لَهُمْ سَبَايَا فَکَأَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِهِنَّ مِنْ الْمُشْرِکِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی فِي ذَلِکَ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَائِ إِلَّا مَا مَلَکَتْ أَيْمَانُکُمْ أَيْ فَهُنَّ لَهُمْ حَلَالٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ

عبید اللہ بن عمر بن میسرہ، یزید بن زریع، سعید، قتادہ، صالح، ابوخلیل، ابوعلقمہ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے جنگ حنین میں ایک لشکر اوطاس کی طرف روانہ کیا۔ (اوطاس ایک جگہ کا نام ہے) پس وہ اپنے دشمنوں پر جا پہنچے ان سے قتال کیا اور ان کو مغلوب کر لیا اور ان کی عورتیں گرفتار کر لیں۔ پس بعض اصحاب نے ان سے ان سے صحبت کرنا جائز نہ سمجھا کیونکہ ان کے کافر شوہر موجود تھے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

ترجمہ: تم پر شوہر والی عورتیں حرام ہیں لیکن جن کے تم مالک بن جاؤ یعنی وہ تمھارے لیے حلال ہیں۔ 

سنن ابو داؤد: 1841

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ جَيْشًا إِلَی أَوْطَاسٍ فَلَقُوا عَدُوًّا فَقَاتَلُوهُمْ وَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ فَأَصَابُوا لَهُمْ سَبَايَا لَهُنَّ أَزْوَاجٌ فِي الْمُشْرِکِينَ فَکَانَ الْمُسْلِمُونَ تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَامَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ أَيْ هَذَا لَکُمْ حَلَالٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ

محمد بن عبدالاعلی، یزید بن زریع، سعید، قتادہ، ابوالخلیل، ابوعلقمہ ہاشمی، حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریمﷺ نے اوطاس کی جانب لشکر روانہ فرمایا جو کہ طائف میں ایک جگہ کا نام ہے پھر دشمن سے مقابلہ ہوا اور انہوں نے ان کو مار ڈالا اور ہم لوگ مشرکین پر غالب آ گئے اور ہم کو باندیاں ہاتھ لگ گئیں اور ان کے شوہر مشرکین میں رہ گئے تھے (یعنی ان کی عورتیں ہاتھ لگ گئیں) اور مسلمانوں نے ان کے ساتھ ہمبستری کرنے سے پرہیز اختیار کیا پھر خداوند قدوس نے آیت کریمہ آخر تک نازل فرمائی یعنی وہ عورتیں تم پر حرام ہیں جو کہ دوسروں کے نکاح میں ہیں لیکن اس وقت حرام نہیں جس وقت تم مالک ہو تم ان کے پاس جاؤ اور اس حدیث میں جو تفسیر مذکور ہے اس سے بھی یہی مطلب نکلتا ہے اور وہ تفسیر یہ ہے یعنی یہ عورتیں تم کو حلال نہیں عدت گزرنے کے بعد اس لیے کہ جس وقت یہ خواتین جہاد میں گرفتار ہوئیں تو وہ باندیاں بن گئیں اگرچہ ان کے شوہر کافر زندہ ہوں لیکن عدت کے بعد مسلمان ان سے ہم بستری کر سکتے ہیں۔

سنن نسائی 3281

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الْبَتِّيُّ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَصَبْنَا سَبَايَا يَوْمَ أَوْطَاسٍ وَلَهُنَّ أَزْوَاجٌ فِي قَوْمِهِنَّ فَذَکَرُوا ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَامَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَهَکَذَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبُو الْخَلِيلِ اسْمُهُ صَالِحُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ

احمد بن منیع، ھشیم، عثمان، ابی خلیل، حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے جنگ اوطاس کے موقع پر کچھ ایسی عورتیں قید کیں جو شادی شدہ تھیں اور ان کے شوہر بھی اپنی اپنی قوم میں موجود تھے پس نبی کریمﷺ سے اس کا تذکرہ کیا گیا تو یہ آیت نازل ہو (وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَامَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌) یہ حدیث حسن ہے۔ ثوری، عثمان بتی بھی ابوخلیل سے اور وہ ابوسعید سے اسی حدیث کی مثل بیان کرتے ہیں ابوخلیل کا نام صالح بن مریم ہے۔

جامع ترمذی 1051 ابواب تفسیر القرآن

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ الْبَتِّيُّ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَصَبْنَا سَبَايَا يَوْمَ أَوْطَاسٍ لَهُنَّ أَزْوَاجٌ فِي قَوْمِهِنَّ فَذَکَرُوا ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَائِ إِلَّا مَا مَلَکَتْ أَيْمَانُکُمْ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَهَکَذَا رَوَی الثَّوْرِيُّ عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَلَيْسَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ وَلَا أَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا ذَکَرَ أَبَا عَلْقَمَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا مَا ذَکَرَ هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ وَأَبُو الْخَلِيلِ اسْمُهُ صَالِحُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ

عبد بن حمید، حبان بن ہلال، ہمام بن یحیی، قتادة، ابوالخلیل، ابوعلقمة ہاشمی، حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ جنگ اوطاس کے موقع پر ہم لوگوں نے مال غنیمت کے طور پر ایسی عورتیں پائیں جن کے شوہر مشرکین میں موجود تھے۔ چنانچہ بعض لوگوں نے ان سے صحبت (جماع) کرنا مکروہ سمجھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَامَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ (ترجمہ: اور حرام ہیں خاوند والی عورتیں مگر یہ کہ وہ تمہاری ملکیت میں آ جائیں۔ 

اللہ تعالیٰ نے ان احکام کو تم پر فرض کر دیا ہے) یہ حدیث حسن ہے۔

جامع ترمذی 2942

تفسیر ابنِ کثیر میں حافظ ابن کثیر رحمۃاللہ سورۃ النساء آیت 24 کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔

یعنی خاوندوں والی عورتیں بھی حرام ہیں ہاں کفار کی عورتیں جو میدانِ جنگ میں قید ہو کر تمہارے قبضے میں آئیں تو ایک حیض گزارنے کے بعد وہ تم پر حلال ہیں، مسند احمد میں حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ جنگ اوطاس میں قید ہو کر ایسی عورتیں آئیں جو خاوندوں والیاں تھی تو ہم نے نبی کریمﷺ سے ان کی بابت سوال کیا تب یہ آیت اتری۔ ہم پر ان سے ملنا حلال کیا گیا۔

ترمذی، ابن ماجہ اور صحیح مسلم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، طبرانی کی روایت میں ہے کہ یہ واقعہ جنگ خیبر کا ہے۔

بعض نے اس آیت سے نکاحِ متعہ پر استدلال کیا ہے۔ بے شک متعہ ابتدائے اسلام میں مشروع تھا لیکن پھر منسوخ ہو گیا۔

حضرت ابنِ عباسؓ اور چند دیگر صحابہ کرامؓ سے ضرورت کے وقت اس کی اباحت مروی ہے، حضرت امام احمد حنبلؒ سے بھی ایک روایت ایسی ہی مروی ہے۔

مجاہد رحمۃاللہ فرماتے ہیں یہ آیت نکاح متعہ کی بابت نازل ہوئی ہے لیکن جمہور اس کے برخلاف ہیں اور اس کا بہترین فیصلہ بخاری و مسلم کی حضرت علیؓ والی روایت کر دیتی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے خیبر والے دن نکاح متعہ سے اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرما دیا۔

شیخ الالسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃاللہ تفسیر عثمانی میں لکھتے ہیں: محرمات کا ذکر فرما کر اخیر میں اب ان عورتوں کی حرمت بیان فرمائی جو کسی کے نکاح میں ہوں یعنی جو عورت کسی کے نکاح میں ہے اس کا نکاح اور کسی سے نہیں ہو سکتا تاوقت یکہ وہ بذریعہ طلاق یا وفات زوج نکاح سے جدا نہ ہو جائے اور عدت طلاق یا عدت وفات پوری نہ کر لے اس وقت تک کوئی اس سے نکاح نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر کوئی عورت خاوند والی تمہاری مِلک میں آ جائے تو وہ اس حکم حرمت سے مستثنٰی ہے اور وہ تم پر حلال ہے گو اس کا خاوند زندہ ہے اور اس نے طلاق بھی اس کو نہیں دی اور اس کی صورت یہ ہے کہ کافر مرد اور کافر عورت میں باہم نکاح ہو اور مسلمان دارالحرب پر چڑھائی کر کے اس عورت کو قید کر کے دارالاسلام میں لے آئیں تو وہ عورت جس مسلمان کو ملے گی اس کو حلال ہے گو اس کا زوج دارالحرب میں میں زندہ موجود ہے اور اس نے طلاق بھی نہیں دی اب سب محرمات کو بیان فرما کر اٰخیر میں تاکید فرما دی کہ یہ اللہ کا حکم اس کی پابندی تم پر لازم ہے۔ 

فائدہ: جو عورت کافرہ دارالحرب سے پکڑی ہوئی آئے اس کے حلال ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ایک حیض گزر جائے اور وہ عورت مشرک بت پرست نہ ہو بلکہ اہل کتاب میں سے ہو۔

یعنی جن عورتوں کی حرمت بیان ہو چکی ان کے سوا سب حلال ہیں چار شرطوں کے ساتھ۔

 اول یہ کہ طلب کرو یعنی زبان سے ایجاب و قبول دونوں طرف سے ہو جائے۔ 

دوسری یہ کہ مال یعنی مہر دینا قبول کرو۔ 

تیسری یہ کہ ان عورتوں کو قید میں لانا اور اپنے قبضہ میں رکھنا مقصود ہو صرف مستی نکالنا اور شہوت رانی مقصود نہ ہو جیسا کہ زنا میں ہوتا ہے یعنی ہمیشہ کے لئے وہ اس کی زوجہ ہو جائے چھوڑے بغیر کبھی نہ چھوٹے مطلب یہ کہ کوئی مدت مقرر نہ ہو اس سے متعہ کا حرام ہونا معلوم ہو گیا جس پر اہل حق کا اجماع ہے۔

 چوتھی شرط جو دوسری آیتوں میں مذکور ہے یہ ہے کہ مخفی طور پر دوستی نہ ہو یعنی کم سے کم دو مرد یا ایک مرد اور دو عورت اس معاملہ کی گواہ ہوں اگر بدون دو گواہوں کے ایجاب و قبول ہو گا تو وہ نکاح درست نہ ہوگا زنا سمجھا جائے گا۔

مفتی اعظم مولانا شفیع عثمانیؒ معارف القرآن میں لکھتے ہیں:

لفظ استمتاع کا مادہ م۔ت۔ع ہے جس کے معنیٰ کسی فائدہ کے حاصل ہونے کے ہیں۔ کسی شخص سے یا مال سے کوئی فائدہ حاصل کیا تو اس کو استمتاع کہتے ہیں، عربی قواعد کی رو سے کسی کلمہ کے مادہ میں س اور ت کا اضافہ کر دینے سے طلب و حصول کے معنیٰ پیدا ہو جاتے ہیں، اس لغوی تحقیق کی بنیاد پر فمااستمتعتم کا سیدھا مطلب پوری امت کے نزدیک خلفاء عن سلف وہی ہے جو ہم نے ابھی اوپر بیان کیا ہے۔ لیکن ایک فرقہ کا کہنا ہے کہ اس سے اصطلاحی متعہ مراد ہے، اور ان لوگوں کے نزدیک یہ آیت متعہ حلال ہونے کی دلیل ہے، حالانکہ متعہ جس کو کہتے ہیں اس کی صاف تردید قرآن کریم کی آیت بالا میں لفظ محصنین غیر مسافحین سے ہو رہی ہے، جس کی تشریح آگے آ رہی ہے۔

قرآن مجید نے محرمات کا ذکر فرما کر یوں فرمایا ہے کہ ان کے علاوہ اپنے اصول کے ذریعہ حلال عورتیں تلاش کرو اس حال میں کہ پانی بہانے والے نہ ہوں یعنی محض شہوت رانی مقصود نہ ہو اور ساتھ ہی محصنین کی قید لگائی ہے یعنی یہ کہ عفت کا دھیان رکھنے والے ہوں۔ متعہ چونکہ مخصوص وقت کے لیے کیا جاتا ہے اور اس لیے جس عورت سے متعہ کیا جاتا ہے اس کو فریق مخالف زوجہ وارثہ بھی قرار نہیں دیتا، اور اس کو ازواج کی معروفہ گنتی میں بھی شمار نہیں کرتا اور چونکہ مقصد محض قضاء شہوت ہے اس لیے مرد و عورت عارضی طور پر نئے نئے جوڑے تلاش کرتے رہتے ہیں، جب یہ صورت ہے تو متعہ عفت و عصمت کا ضامن نہیں بلکہ دشمن ہے۔

مندرجہ بالا حدیثوں اور حوالہ جات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو رہی ہے کہ سورۃالنساء کی آیت 24 اوطاس کے موقع پر نازل ہوئی۔ اور وجہ نزول اوطاس میں قید ہونے والی مشرکین کی عورتوں کے بارے میں ہے نہ کہ متعہ کے بارے میں۔

اور جب فریق مخالف کی قرآنی دلیل نازل ہی 8 ہجری فتح مکہ کے بعد ہو رہی ہے تو پھر 8 ہجری تک کوئی اس آیت سے متعہ کی حلت پر استدلال کیسے کر سکتا ہے؟؟

شیعہ مذهب اور متعہ: متعہ زنا کا دوسرا نام ہے اور دین اسلام نے ان تمام ذرائع و وسائل کو ممنوع وحرام قرار دیا جو زنا کی طرف لے جانے والے ہوں کیونکہ دین اسلام طہارت و عفت کا دین ہے لہٰذا زنا کے قریب جانے کو بھی اسلام نے حرام قرار دیا، اس کے برخلاف شیعہ مذهب میں متعہ (زنا) صرف جائز وپسندیده ہی نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت ہے، لہٰذا شیعہ کی مستند کتب سے چند حوالے پیش کروں گا عاقل و سمجھدار خود ہی فیصلہ کر لے کہ کیا شیعہ مذہب کو کوئی حیوان بھی قبول کر سکتا ہے چہ جائیکہ انسان جو اشرف المخلوقات ہے اس غلیظ و خبیث مذہب کو قبول کرے۔۔۔ 

1: خمینی ملعون کہتا ہے کہ دودھ پیتی بچی کے ساتھ بھی متعہ جائز ہے۔

اور عورت سے متعہ پیچھے کی طرف سے بھی جائز ہے۔(معاذاللہ)

2: شیعہ مذہب میں زانیہ عورت سے بھی متعہ جائز ہے۔ (معاذاللہ)

3: شیعہ مذہب میں متعہ کا ثواب: متعہ کرنے والی عورت سے ہر بات کرنے پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور جب اس کے قریب جاتا ہے هے تو اللہ اس کے گناه معاف کر دیتا ہے، جب غسل کرتا ہے تو بالوں کی تعداد کے برابر اللہ اس کی بخشش کر دیتے ہیں۔

( معاذاللہ نقل کفر کفر نباشد)

5: شیعہ مذہب میں گھروں میں کام کرنے والی خادمہ سے بھی متعہ جائز ہے معاذاللہ 

6: شیعہ مذہب کے مشہور عالم نعمت الله الجزائری اور متعہ و لواطت

نیچے اصل کتاب کے عکس میں جو کچھ لکھا ہے میں اس کا ترجمہ نہیں لکھ سکتا۔ (معاذاللہ)

7: شیعہ مذہب میں شادی شده عورت سے بھی متعہ جائز ہے۔ (معاذاللہ)

8: شیعہ مذہب اور اجتماعی متعہ 

درج ذیل عکس موجوده دور کے ایک شیعہ عالم کا فتویٰ ہے، جس میں وه اجتماعی متعہ کو جائز قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ متعہ ہمارے مذہب میں حلال و مبارک ہے۔ (معاذاللہ)

9: شیعہ مذہب میں مجوسی عورت کے ساتھ بھی متعہ جائز ہے۔

10 شیعہ مذہب میں عورت کے ساتھ پیچھے کی طرف سے بھی متعہ جائز ہے اگر عورت کا روزه ہو تو نہ اس کا روزه ٹوٹتا ہے اور نہ اس پر غسل فرض ہے۔ (معاذاللہ)

بغرض عبرت چند حوالے متعہ کے بارے میں شیعہ کی مستند کتب سے میں نے پیش کیے ہیں، اور متعہ کے بارے میں شیعہ کتب میں عجیب وغریب مسائل لکھے ہیں جس کو پڑھنے کے بعد یہ یقین ہو جاتا ہے کہ شیعہ مذہب میں زنا، فحاشی، عریانی، بےحیائی ، بےراه روی کی جتنی تعلیم و ترغیب دی گئ ہے، مذاہبِ باطلہ میں سے کسی بھی مذہب میں اتنی نہیں دی گئ۔

شیعہ سے متعہ کے متعلق چند سوالات:

• کیا کنواری سے متعہ کے لیے ولی کی شرط ہے یا نہیں( اور بغیر ولی کی اجازت کے کنوری سے نکاح مکروہ ہے، یا بالکل ہی حرام ہے یا ہو جاتا ہے)

• ایک شخص بیک وقت کتنی عورتوں سے متعہ کر سکتا ہے۔ 1،2،3،4،5،6، 1000 یا اس کی کوئی حد نہیں ہے۔

• کیا متعہ کے لیے اعلان ضروری ہے کیا اس کے لیے گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے؟

• جس عورت سے متعہ کیا جارہا ہے اس کا پاک دامن ہونا شرط ہے یا نہیں؟

• کیا کسی قسم کی توثیق ضروری ہے؟

جس عورت سے متعہ کیا جائے اس کو مہر دیا جاتا ہے یا اُجرت۔ اور یہ اُجرت یا مہر کم از کم کتنا ہو سکتا ہے؟

• کیا رہائش، نان و نفقہ ضروری ہوتا ہے؟

• کیا استحقاق مہر یا اجرت کے لیے کوئی خاص مدت شرط ہے؟؟

• کیا کسی زانیہ کے ساتھ متعہ منعقد ہو جاتا ہے؟

• کیا کسی زانیہ مشہورہ کے ساتھ متعہ منعقد ہو جاتا ہے؟

• کیا متعہ میں عدت وفات ہے؟

• اگر متعہ نکاح ہی ہے تو کیا اگر ایک شخص اپنی بیوی کو تین طلاق دے دے اور پھر وہ کسی کے ساتھ نکاح متعہ کرے تو کیا وہ اپنے پہلے شوہر کے لیے جائز ہو جائے گی؟؟

• کیا متعہ غیر مسلم اور غیر اہل کتاب مثلاً مجوسی عورت کے ساتھ کیا جا سکتا ہے؟

• متعہ سے پہلے کیا اس امر کی تحقیق کی ضرورت ہے کہ وہ عورت پہلے سے شادی شدہ ہے یا نہیں؟

• جس عورت سے متعہ کیا جائے وہ کیا زوجہ یا بیوی کہلاتی ہے یا کچھ اور؟؟

• کیا متعہ ایک ہاشمی، سید زادی کے ساتھ جائز ہے اگر ہاں تو کیا آپ کے بارہ اماموں میں سے کسی نے بھی متعہ کیا ہے اگر کیا ہے تو اس کی تفصیل اور اس متعہ سے پیدا ہونے والی اولاد کی تفصیل؟؟

• متعہ کیا اہل تشیع کے نزدیک ضروریات دین میں سے ہے؟؟

• اگر کوئی شخص متعہ کو نہ مانے تو اس کا حکم کیا ہے وہ مسلم ہے یا دین سے خارج ہے؟؟

• اگر متعہ سے انکاری مسلم ہے تو کیا اس کا ایمان کامل ہے یاناقص؟؟

• جو شخص پہلے ہی سے ایک وقت میں چار بیویاں رکھتا ہو وہ متعہ کر سکتا ہے یا نہیں؟

فی الحال میں ان ہی سوالات پر اکتفا کرتا ہوں۔ ایک بار متعہ کے باب میں آپ کی طرف سے یہ وضاحتیں مل جائیں تو امید ہے کہ اس مسئلہ کو سمجھنے میں آسانی رہے گئی کہ متعہ (زنا) اور نکاح میں صرف ٹائم کی میعاد کا فرق ہے یا کچھ اور فرق بھی ہے۔