متعہ کی حقیقت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

متعہ کی حقیقت

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 18

متعہ: یا مؤقت شادی: یہ ہے کہ کوئی شخص کسی عورت سے کچھ معین وقت کے لیے کچھ مال کے عوض شادی کرے۔

(صحیح مسلم: جلد: 2 دوسرا پارہ: حدیث نمبر: 3410 حدیث مرفوع)

3410۔ حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ أَنَّ أَبَاهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتْحَ مَکَّةَ قَالَ فَأَقَمْنَا بِهَا خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ فَأَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ فَخَرَجْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ قَوْمِي وَلِي عَلَيْهِ فَضْلٌ فِي الْجَمَالِ وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْ الدَّمَامَةِ مَعَ کُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدٌ فَبُرْدِي خَلَقٌ وَأَمَّا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي فَبُرْدٌ جَدِيدٌ غَضٌّ حَتّٰی إِذَا کُنَّا بِأَسْفَلِ مَکَّةَ أَوْ بِأَعْلَاهَا فَتَلَقَّتْنَا فَتَاةٌ مِثْلُ الْبَکْرَةِ الْعَنَطْنَطَةِ فَقُلْنَا هَلْ لَکِ أَنْ يَسْتَمْتِعَ مِنْکِ أَحَدُنَا قَالَتْ وَمَاذَا تَبْذُلَانِ فَنَشَرَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدَهٗ فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَی الرَّجُلَيْنِ وَيَرَاهَا صَاحِبِي تَنْظُرُ إِلٰی عِطْفِهَا فَقَالَ إِنَّ بُرْدَ هٰذَا خَلَقٌ وَبُرْدِي جَدِيدٌ غَضٌّ فَتَقُولُ بُرْدُ هٰذَا لَا بَأْسَ بِهٖ ثَلَاثَ مِرَارٍ أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ اسْتَمْتَعْتُ مِنْهَا فَلَمْ أَخْرُجْ حَتّٰی حَرَّمَهَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔

3410۔ ابوکامل، فضیل ابن حسین جحدری، بشر ابن مفضل، عمارہ بن غزیۃ، حضرت ربیع بن سبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے رسول اللہﷺ کے ساتھ غزوہ فتح مکہ میں شرکت کی، انہوں نے کہا پس ہم نے مکہ میں پندرہ دن یعنی مکمل تیس دن رات قیام کیا، تو رسول اللہﷺ نے ہمیں نکاح متعہ کی اجازت دی، پس میں اور میری قوم میں سے ایک آدمی نکلے اور میں خوبصورتی میں اس پر فضیلت کا حامل تھا اور وہ بدصورتی کے قریب تھا اور ہم میں سے ہر ایک کے پاس ایک ایک چادر نئی اور عمدہ تھی، جب ہم مکہ کے نیچے یا اونچے علاقے میں آئے تو ہمیں ایک عورت ملی جو کہ باکرہ، نوجوان اور لمبی گردن والی تھی، ہم نے اس سے کہا کیا تو ہم میں سے کسی ایک سے نکاح متعہ کر سکتی ہے؟ اس نے کہا: تم دونوں کیا بدل دو گے؟ ہر ایک نے چادر پھیلائی، پس اس نے دونوں آدمیوں کی طرف دیکھنا شروع کر دیا اور میرا ساتھی اسے دیکھتا تھا، اس کے میلان طبع کے جانچنے کے لئے، اس نے کہا یہ چادر پرانی ہے اور میری چادر نئی اور عمدہ ہے، اس عورت نے دو یا تین مرتبہ کہا کہ اس چادر میں کوئی حرج نہیں، پھر میں نے اس سے نکاح متعہ کیا اور میں اس کے پاس سے اس وقت تک نہ آیا جب تک رسول اللہﷺ نے اسے میرے لئے حرام نہ کردیا۔

شادی میں اصل توبیہ ہے کہ اس میں استمرار اور ہمیشگی ہو، اور مؤقت شادی، یعنی متعہ شروع اسلام میں مباح تھی لیکن بعد میں اسے حرام کر دیا گیا اور قیامت تک یہ حرام ہی رہے گی۔

اہل سنت و الجماعت کے نزدیک متعہ ناجائز اور حرام ہے۔ (ہدایہ: جلد 2 صفحہ 292)

جبکہ شیعہ کے نزدیک متعہ صرف جائز ہی نہیں بلکہ باعث اجر و ثواب ہے۔

شیعہ کے نزدیک متعہ (زنا) کی اہمیت:

متعہ کرنا جائز ہی نہیں بلکہ باعث اجر و ثواب ہے، جس نے ایک مرتبہ بھی متعہ (زنا) کر لیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔

(تحفۃ العوام: لمفتی سید احمد علی صاحب قبلہ دام علیہ)

نیز متعہ کا اجر و ثواب اتنا ہے کہ جتنا نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج و خیرات میں بھی نہیں ہے۔

(عمالۃ حسنۃ: ترجمہ رسالہ متعہ: 15، باقر مجلسی)

نیز متعہ کرنے والوں کے لئے فرشتوں کی دعاء اور متعہ نہ کرنے والوں کے لئے قیامت تک فرشتوں کی لعنت ہوتی رہتی ہے۔ (برھان المتعہ: 51۔ الحاج ابو القاسم)

نیز یہ کہ ایمان کامل نہیں جب تک متعہ نہ کرے۔(برھان المتعہ: 44)

جو چار مرتبہ متعہ (زنا) کرے وہ (معاذ اللہ) آپﷺ کے درجہ کو پہنچ جاتا ہے۔ (مطالبِ متعہ: 52) 

لیکن اہل سنت و الجماعت قرآن و حدیث، اجماع اور قیاس سب سے اس کے ناجائز ہونے کو بیان کرتے ہیں، مثلاً:

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے تو شادی کو اپنی نشانی قرار دیا ہے(سورة الروم: آیت 21) 

جو غور و فکر اور تدّبر کی دعوت دیتی ہے، اور اللہ تعالیٰ نے خاوند اور بیوی کے مابین مودت و محبت اور رحمت پیدا کی ہے اور خاوند کے لیے بیوی کو سکون والی بنایا اور اولاد پیدا کرنے کی رغبت پیدا کی ہے، اور اسی طرح عورت کے لیے عدت اور وراثت بھی مقرر فرمائی ہے ، لیکن یہ سب کچھ اس حرام متعہ میں نہیں پایا جاتا۔

رافضیوں کے ہاں یہ شیعہ ہی ہیں جو متعہ کے جواز کے قائل ہیں۔ متعہ کی جانے والی عورت نہ تو بیوی ہے اور نہ ہی لونڈی، اور جہاں تک حضورﷺ سے اجازت متعہ کا تعلق ہے تو بےشک آغاز اسلام میں یہ بالکل جائز تھا اور اسے زیرِ عمل بھی لایا گیا۔ لیکن جن کتابوں سے اسکے جواز کا علم ہوا، وہی کتابیں بھی صراحت سے بتاتی ہیں کہ جنگ خیبر کے دوران حضورﷺ نے ممانعت فرما دی تھی۔ جنگ خیبر غالباً ہجرت کے ساتویں سال ہوئی تھی۔ اس موقع پر ممانعت کی حدیث بھی سیدنا علی المرتضیٰؓ سے مروی ہے اور بخاری، مسلم، ترمذی میں موجود ہے۔ اسکے بعد جب مکہ فتح ہوا تھا تو حضورﷺ نے صرف تین دن کے لئے متعہ کی اجازت فرمائی تھی اور پھر ممانعت فرما دی تھی۔ 

ترمذی میں حضرت ابنِ عباسؓ کی یہ روایت موجود ہے کہ جب قرآن کی مندرجہ ذیل آیت اتری متعہ قطعاً ممنوع ٹھہرا:

متعہ کی حرمت قرآن میں:

قرآن میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰفِظُوۡنَ۞اِلَّا عَلٰٓى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ‌۞(سورۃ المؤمنون آیت 5، 6)

ترجمہ: اور جو اپنی شرمگاہوں کی (اور سب سے) حفاظت کرتے ہیں۔ سوائے اپنی بیویوں اور ان کنیزوں کے جو ان کی ملکیت میں آ چکی ہوں۔ کیونکہ ایسے لوگ قابل ملامت نہیں ہیں۔

قرآن میں شہوت کو پورا کرنے کے لئے دو جگہ متعین ہے:

اِلَّا عَلٰٓى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ

صفحہ 1 از 18