کیا قرآن کریم نے متعہ کی اجازت دی ہے؟ - سنی شیعہ مناظرے |…

کیا قرآن کریم نے متعہ کی اجازت دی ہے؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 11

کیا قرآن کریم نے متعہ کی اجازت دی ہے؟

متعہ کی تعریف:

متعہ کی لغوی معنیٰ ہیں فائدہ اٹھانے کی ، عرب میں جہالت کے زمانے میں جب لوگ اپنے شہر سے باہر جاتے تھے تو وہاں اگر ان کا قیام بہت زیادہ ہوتا تھا تو وہ لوگ عورتوں سے اجورے پر مقرر مدت تک فائدہ لیتے تھے جسے متعہ کہا جاتا ہے۔

عرب اور متعہ

عرب میں جاہلیت کے زمانے میں متعہ کا رواج عام تھا بہت سی ایسی مثال موجود ہیں اور تاریخی  روایات احادیث سے اس بات میں زرا سا شک نہیں رہتا کہ متعہ عام تھا اور عام طور پر کیا جاتا تھا صرف عرب میں نہیں دوسری علاقوں میں بھی اس قسم کی رسم عام تھی جیسے ہندستان ایران روم وغیرہ ۔

شیعوں کی طرف سے متعہ کے جائز ہونے کے دلائل

شیعہ کے ہاں متعہ کو جائز قرار دیا جاتا ہے اور وہ آج تک متعہ کرتے رہتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ  نے اس سے منع کیا ہے جس کو ہم یہاں تحریر میں لائیں گے اور ان شاءاللہ  غیر جانب داری سے سچ کو پرکھنے والے ہم سے اس بات پر اتفاق کریں گے۔کہ قرآن کریم میں متعہ کا ذکر نہیں ہے۔ عام طور پر شیعہ سورہ نساء کی آیت 24 کی ایک حصہ سے اپنا استدلا ل کرتے ہیں اور پھر کچھ احادیث بھی پیش کرتے ہیں جن سے وہ متعہ کا جواز تلاش کرتے ہیں یاد رہے شیعہ مذہب میں متعہ جائز ہے اس لیے ہم ان کی کتب سے صرف اسی صور ت میں استدلا ل لیں گے جہاں متعہ کی نفی کی گئی ہو باقی اس کی حمایت میں تو شیعہ کے ہاں مکمل تحاریر ہیں ۔ ہم صرف یہاں اہل سنت کی ہی روایات دیکھیں گے جہاں سے شیعہ متعہ کے جواز کا استدلال کرتے ہیں۔ اس سے پہلے ہم شیعوں کی طرف پیش کردہ آیتِ قرآنی کو دیکھتے ہیں۔
آیت سورہ نساء

وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ‌وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰ لِكُمۡ اَنۡ تَبۡتَـغُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ‌ فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰ تُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً‌ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا تَرٰضَيۡـتُمۡ بِهٖ مِنۡۢ بَعۡدِ الۡـفَرِيۡضَةِ‌ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ۞

ترجمہ:نیز وہ عورتیں (تم پر حرام ہیں) جو دوسرے شوہروں کے نکاح میں ہوں، البتہ جو کنیزیں تمہاری ملکیت میں آجائیں (وہ مستثنی ہیں) اللہ نے یہ احکام تم پر فرض کردیئے ہیں۔ ان عورتوں کو چھوڑ کر تمام عورتوں کے بارے میں یہ حلال کردیا گیا ہے کہ تم اپنا مال (بطور مہر) خرچ کر کے انہیں (اپنے نکاح میں لانا) چاہو، بشرطیکہ تم ان سے باقاعدہ نکاح کا رشتہ قائم کر کے عفت حاصل کرو، صرف شہوت نکالنا مقصود نہ ہو۔ چنانچہ جن عورتوں سے (نکاح کر کے) تم نے لطف اٹھایا ہو، ان کو ان کا وہ مہر ادا کرو جو مقرر کیا گیا ہو۔ البتہ مہر مقرر کرنے کے بعد بھی جس (کمی بیشی) پر تم آپس میں راضی ہوجاؤ، اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ یقین رکھو کہ اللہ ہر بات کا علم بھی رکھتا ہے، حکمت کا بھی مالک ہے۔

سورہ نساء اس آیت کے بارے میں شیعہ کا کہنا ہے کہ اس میں متعہ کا کہا گیا ہے ۔۔ ہم اس مکمل آیت کو زیرِ نظر لائیں گے
اول : شیعوں کا اس سورۃسے استدلال باطل ہے
کیوں کہ اس آیت میں مقررہ وقت کا کوئی ذکر نہیں ہے بس اتنا ذکر ہے کہ اگر عورتوں سے فائدہ اٹھانے کا ذکر یعنی یہ حکم ہے کہ اگر فائدہ اٹھاو تو ان کو حق مہر پورا دے دو ۔ کیوں اس پہلے سورہ بقرہ میں ذکر ہے کہ اگر نکاح کے بعد فائدہ نہیں اٹھایا اور الگ ہونے کی سوچ ہے تو آدھا مہر دے دو۔ اور یہاں ذکر ہے کہ فائدہ اٹھاؤ تو پھر پورا دینا لازم ہے یہاں پر کہیں بھی مقررہ مدت تک فائدہ اٹھا نے کا ذکر نہیں ہے بلکہ عمومیت کے ساتھ فائدہ اٹھانے کا ذکر یعنی مستقل نکاح۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ عمومی نکاح یہی ہے متعہ خاص صورت میں جائز تھا جسے بعد میں بالکل منع کردیا گیا ۔ اس بات سے شیعہ بھی متفق ہیں کہ یہ خاص صورت میں جائز ہے نہ کہ عمومی طرح۔ بس یہ آیت کسی بھی صورت میں نکاح متعہ کے لئے نہیں ہے بلکہ نکاح مستقل کے لئے ہے شیعہ بس لفظ استمتعتم یعنی فائدہ لینا اس کی وجہ خواہ مخواہ اسے متعہ کی طرف کھینچتے ہیں کیوں کہ آدمی سب سے زیادہ فائدہ اپنی بیوی سے لیتا ہے اور متعہ والی عورت بیوی نہیں ہوتی یہ ہم آگے ثابت کریں گے۔

دوم : اس آیت سے پہلی آیت 23 میں ان عورتوں کا ذکر کیا گیا ہے جن سے آپ نکاح نہیں کر سکتے ہیں پھر اس آیت 24 میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ کی نیت احصان کرنے کی ہو صرف شہوت پوری کرنا مقصود نہیں ہو اسی آیت میں الفاظ محصنین اور غیر مسافحین اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ یہ آیت متعہ کے لئے ہے۔
میری ایک شیعہ مناظر سے متعہ پر بات ہو رہی تھی تو موصوف فرماتے ہیں
سنیوں کی ہر مستند کتاب میں جہاں متعہ کا ذکر وہاں لفظ استمتعت استعمال ہوا ہے اس لئے آیت 24 متعہ کے لئے ہے۔
لفظ استعمتعتم
ہم لفظ استمتاع کو دیکھ لیتے ہیں جیسے قرآن کریم میں ہے:

 اَذۡهَبۡتُمۡ طَيِّبٰـتِكُمۡ فِىۡ حَيَاتِكُمُ الدُّنۡيَا وَاسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهَا ‌(سورۃ الأحقاف آیت 20)

 فَاسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِخَلَاقِكُمۡ(سورۃ التوبہ آیت  69)

 وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يَتَمَتَّعُوۡنَ وَيَاۡكُلُوۡنَ كَمَا تَاۡكُلُ الۡاَنۡعَامُ   (سورۃ محمد آیت نمبر 12)

رَبَّنَا اسۡتَمۡتَعَ بَعۡضُنَا بِبَعۡضٍ (سورۃ الأنعام آیت 128 )

یہاں ہر جگہ اس لفظ کا معنیٰ فائدہ اٹھانا ہے 

صحیح بخاری کی حدیث ہے:

وحدثنا يحيى بن أيوب وقتيبة بن سعيد وعلي بن حجر قالوا حدثنا إسمعيل بن جعفر أخبرني ربيعة عن محمد بن يحيى بن حبان عن ابن محيريز أنه قال دخلت أنا وأبو صرمة على أبي سعيد الخدري فسأله أبو صرمة فقال يا أبا سعيد هل سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر العزل فقال نعم غزونا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم غزوة بلمصطلق فسبينا كرائم العرب فطالت علينا العزبة ورغبنا في الفداء فأردنا أن نستمتع ونعزل فقلنا نفعل ورسول الله صلى الله عليه وسلم بين أظهرنا لا نسأله فسألنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لا عليكم أن لا تفعلوا ما كتب الله خلق نسمة هي كائنة إلى يوم القيامة إلا ستكون

صفحہ 1 از 11