مسئلہ وراثت انبیاء علیہم السلام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسئلہ وراثت انبیاء علیہم السلام

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 8

سوال نمبر 334: کیا نحن معاشر الانبیاء والی حدیث صحیح ہے تو قرآن کے موافق دکھائیں؟

جواب: جی ہاں! ہم نے تحفہ امامیہ باغِ فدک کی بحث میں 10 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کتبِ اہلِ سنت سے اور 10 احادیث کتبِ شیعہ سے اس مضمون کی نقل کر دی ہیں مراجعت کریں۔ یہاں مختصراً کتاب اللہ سے موافقت پیشِ خدمت ہے۔ قرآن میں دسیوں انبیاء علیہ السلام کا ذکرِ خیر اور کچھ کی وراثت کا ذکر بھی ہوا ہے۔ مگر وراثتِ مالی کسی کی بھی مذکور نہیں ہے۔ سب کی علمی، کتابی اور معنوی وراثت کا ذکر ہے۔

1: وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ‌ وَقَالَ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ (سورۃ النمل: آیت 16)

ترجمہ: اور حضرت سلیمان علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام کا وارث ہوا تو کہا اے لوگو ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں۔ اگر وراثت مالی ہوتی تو دیگر 17 بیٹوں کا بھی۔ (خواہ لفظ ابناء سے اجمالاً ذکر ملتا) پرندوں کی بولی کی تعلیم معجزہ نبوت اور وراثتِ معنوی ہے۔ 

2: فَهَبۡ لِىۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا ۙ‏يَّرِثُنِىۡ وَيَرِثُ مِنۡ اٰلِ يَعۡقُوۡبَ (سورۃ مريم: آیت 5، 6)

حضرت زکریا علیہ السلام (نجار پیشہ مزدور) بیٹا مانگ رہے ہیں۔ جو میرا اور آلِ یعقوب علیہ السلام کا وارث بنے۔ دینوی مال تو سوائے چند معمولی اوزاروں کے تھا نہیں۔ بنی اعمام نالائق اور پیغمبری کے اہل نہ تھے۔ خاندان سے منصب چھین جانے کا اندیشہ تھا۔ لائق و پسندیدہ بیٹا مانگا جو آپ کی پیغمبری اور باپ دادا سے وراثۃً منتقل شدہ نبوت کا وارث بنے چنانچہ یحییٰ بیٹا ملا جس کو یہ حکم ملا۔ 

يٰيَحۡيٰى خُذِ الۡكِتٰبَ بِقُوَّةٍ وَاٰتَيۡنٰهُ الۡحُكۡمَ صَبِيًّا (سورۃ مريم: آیت 12)

ترجمہ: اے یحییٰ کتابِ الہٰی مضبوطی سے تھامو اور ہم نے اسے حکمت و نبوت بچپن میں دے دی۔

اگر وراثتِ مالی مراد ہوتی۔ تو دعا کے جواب میں کتاب و حکمت کے بجائے مالی خزانوں کا ذکر ملتا۔

3: سورت اعراف میں بنی اسرائیل کے پیغمبروں کے ذکر میں ہے:

فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ سَيُغۡفَرُ لَنَا‌ (سورۃ الأعراف: آیت 169)

ترجمہ: ان کے بعد ان کے جانشین جو ان سے کتاب کے وارث بنے۔ یہ گھٹیا دنیا لینے لگے اور کہتے تھے ہم بخشے جائیں گے۔

معلوم ہوا کہ پیغمبروں نے تو کتاب اور اپنی سنت وراثت میں چھوڑی تھی۔ مگر پیغمبروں کی غیر پیغمبر نااہل اولاد دنیا پرست نکلی۔

4: ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡكِتٰبَ الَّذِيۡنَ اصۡطَفَيۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا (سورۃ فاطر: آیت 32)

ترجمہ: پھر ہم نے کتاب (قرآن) کا وارث اپنے چنے ہوئے بندوں (امتِ محمدیہ) کو بنایا۔

اب یہ کتاب ان کو اپنے پیغمبر سے ہی بطورِ وراثت ملی جو تمام امتِ محمدیہ کا حصہ ہے۔ اگر حضور اکرمﷺ‏ کی بھی وراثت مالی ہوتی تو اس کا کہیں ذکر ملتا۔ انبیاء سابقین کی طرح وراثت علمی و کتابی کا ذکر نہ ملتا جس کے دعویدار ائمہ شیعہ بھی ہیں اور سب احادیث تحفہ امامیہ میں مذکور ہیں۔

سوال نمبر 335: اگر موافق نہ ہو سکے تو اس کے تین راوی بنو عبدالمطلب سے بتائیں؟

جواب: بخاری جلد، 2 صفحہ، 575، 966 میں ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت عباسؓ و حضرت علیؓ کا تولیت صدقات میں تنازعہ ختم کرانے کے لیے پوچھا تھا:

فاقبل عمر الی علی و عباس فقال انشد کما باللہ ھل تعلمان ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قد قال ذٰلک (لا نورث ما ترکنہ صدقۃ) قالا نعم

ترجمہ: پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا علی و سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا میں تم سے خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہﷺ‏ نے یہ فرمایا (ہماری وراثت نہیں ہوتی جو چھوڑیں صدقہ ہوتا ہے) دونوں نے فرمایا۔ جی ہاں۔ 

تیسرے راوی حضرت زبیرؓ بن عوام بھی ہیں جو عبدالمطلب کے نواسے، حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ و رسول اللہﷺ‏ کی پھوپھی زاد بھائی تھے۔ (البدایہ: جلد، 5 صفحہ، 287) اگر یہ تسلیم نہ ہوں تو حضرت جعفر صادق، سیدنا محمد باقر کو گن لیں جن کی احادیث (نفی وراثت دنیوی از پیغمبرﷺ‏) اصولِ کافی باب صفتہ العلم اور باب ان الائمتہ ورثو اعلم النبی و جمیع الانبیآء میں مذکور ہیں۔

سوال نمبر 336: اگر حدیث صحیح ہے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ جائیدادِ مدینہ حضرت علیؓ و حضرت عباسؓ کو دے کر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے قول و فعل کو عملاً کیوں باطل کر دکھایا؟

جواب: حدیث صحیح ہے جس کے مطابق یہ تمام صدقات اور جائیداد فقراء کے لیے وقف رہی۔ سیدنا عمرؓ نے دو ہاشمی بزرگوں کو بطورِ وراثت و تملیک قبضہ نہ دیا تھا بلکہ مساکن پر خرچ کے لیے متولی و انچارج صدقات بنایا۔ روایت میں یہ سب تصریح ہے مگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بغض اور شیعہ کی روایتی خیانت اس کاروائی پر آپ کو مجبور کرتی ہے اوپر والی حدیث اسی تنازعہ۔ کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ مساکن پر طبعاً فیاض تھے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ فراخ دستی کے بجائے کفایت شعاری سے کام لیتے تو دونوں میں جھگڑا پڑ جاتا اور قضیہ حضرت عمر فاروقؓ تک پہنچا۔ اس کو ختم کرنے کے لیے آپؓ نے ان سے حدیث پوچھی۔ پھر تولیت ان سے لے کر اپنے ہاتھ میں کر لی۔

سوال نمبر 337: بخاری سے ثابت کیجئے کہ سیدہ فاطمہؓ سیدنا ابوبکرؓ پر غضب ناک نہ تھیں؟

صفحہ 1 از 8