معاشرہ میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا رعب و دبدبہ اور لوگوں کی ضروریات کی تکمیل کے لیے آپ کی تڑپ
علی محمد الصلابیلوگوں کے دلوں میں عمر رضی اللہ عنہ کا احترام بھی تھا اور رعب بھی، ایسا رعب جو ایک آہنی عزم کے انسان ہی کا ہو سکتا ہے اور اس کی روشن مثال یہ ہے کہ انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی معزولی کا پروانہ اس وقت جاری کیا جب ان کی شہرت بام عروج پر تھی جنگ میں ان کی قیادت بلکہ محض موجودگی بھی کامیابی اور فتح مندی کی ضمانت سمجھی جاتی تھی، ہر طرف سے ان کو مدح و تحسین کا خراج پیش کیا جا رہا تھا ان کا قائدانہ و فاتحانہ اقبال اپنے نقطۂ عروج پر تھا، ایسے عالم میں اور ایسے وقت میں جب کہ مسلمانوں کو ان کی قیادت کی سخت ضرورت تھی، اور وہ ہر دل عزیز تھے، سیدنا عمرؓ نے ان کو معزول کرنے کا فیصلہ نافذ کر دیا، اور یہ حکم اس وقت پہنچا جب مسلمان رومیوں کے مقابلہ میں جنگِ یرموک کے میدان میں صف آرا تھے اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو قیادت کی ذمہ داری سونپی گئی، یہ ایسا نازک وقت تھا کہ اچھے اچھوں کے قدم ڈگمگا سکتے تھے اور نفس امّارہ بلکہ فطری خود داری بھی اپنا رنگ دکھا سکتی تھی، لیکن حضرت عمرؓ کا رعب و جلال اور حضرت خالدؓ کی قوت ایمانی تھی کہ حکم پاتے ہی ان کی زبان سے نکلا: ’’سمعا وطاعۃ لأمیر المومنین‘‘ ’’امیر المؤمنین کا حکم سر آنکھوں پر‘‘ اور جب ان سے کہا گیا کہ ایسے نازک موقع پر یہ عظیم تبدیلی لشکر اسلام اور مسلمانوں میں انتشار کی موجب ہو سکتی ہے تو انہوں نے فرمایا کہ ’’جب تک حضرت عمرؓ موجود ہیں کسی فتنہ کی گنجائش نہیں ہے۔‘‘
(المرتضیٰ، ابوالحسن علی الحسنی الندوی: صفحہ 107، اردو طبع: صفحہ 166 واقعہ کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: کتاب الخراج: ابویوسف: صفحہ 87 مترجم)
حضرت خالد بن ولیدؓ کا امیر المؤمنین کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کرنا جب کہ وہ ایک مقبول عام، صاحب اقبال فاتح و سپہ سالار تھے اور ان کا اس طرح عاجزی کے ساتھ سپہ سالاری کے عہدہ سے اتر کر معمولی سپاہی بن جانا ایک ایسا واقعہ ہے جس کی دنیا کی جنگی اور فوج کی سپہ سالاری کی تاریخ میں مثال ملنا مشکل ہے اس کے ساتھ وہ سیدنا عمرؓ کے دبدبہ کی بھی دلیل ہے اور یہ کہ ان کو کس درجہ تمام امورِ سلطنت اور فوج پر قابو تھا۔
(,,المرتضیٰ: ابوالحسن علی الحسنی الندوی: صفحہ 107، اردو طبع میں دیکھیے، صفحہ 167 مترجم)
لوگوں کے دلوں میں آپؓ کی کافی جلالت و عظمت تھی، حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ کو خبر ملی کہ ایک بدچلن عورت ہے، جس کے بارے میں لوگ باتیں کر رہے ہیں، آپؓ نے اسے بلا بھیجا، آپؓ با رعب آدمی تھے ہی، جب اس عورت کے پاس آپؓ کا فرستادہ پہنچا تو اس نے اپنے دل میں کہا: اب تیری بربادی ہے، عمر کو تیری کیا ضرورت پڑ گئی ہے؟ وہ جانے کے لیے نکلی ہی تھی کہ راستے میں حضرت عمرؓ کے خوف سے درد زہ ہو گیا۔ ادھر سے کچھ عورتیں گزریں، جنہوں نے اس کی حالت کو سمجھ لیا، اس عورت کو بچہ پیدا ہوا، وہ ایک بار رویا اور پھر مر گیا حضرت عمرؓ کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے مہاجرین و انصار کو اکٹھا کیا اور ان سے مشورہ لیا، سب نے مشورہ دیا کہ اے امیر المؤمنین! آپ کا کیا قصور آپ نے اس کی تادیب کے لیے اس کو بلایا تھا اور آپ حاکم وقت ہیں آپ کو یہ حق حاصل ہے۔ آپ نے سب سے پیچھے بیٹھے ہوئے آدمی سے پوچھا: اے فلاں تم کیا کہتے ہو؟ اس نے کہا: امیر المؤمنین! میرا کہنا یہ ہے کہ اگر ان لوگوں نے آپ کا لحاظ کیا ہے تو واللہ انہوں نے آپ کی خیر خواہی نہیں کی، اور اگر یہی ان کی صوابدید ہے تو ان کی رائے غلط ہے۔ فرمایا: ’’آپؓ کی وجہ سے یہ صورتِ حال پیدا ہوئی ہے، لہٰذا دیّت لازم ہے۔‘‘ حضرت حسن بصریؒ سے دریافت کیا گیا، یہ صاحب کون تھے؟ فرمایا: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ۔
(مناقب عمر: صفحہ 135، مراسیل الحسن: محض الصواب: جلد 1 صفحہ 273 )
ایک مرتبہ علی، عثمان، طلحہ، زبیر، عبدالرحمن، اور سعد رضوان اللہ علیہم اجمعین اکٹھے ہوئے، ان میں حضرت عمرؓ سے سب سے زیادہ بے خوف عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔ ان لوگوں نے کہا: اے عبدالرحمٰن! اگر لوگوں کے بارے میں تم ہی حضرت عمرؓ سے بات کر لیتے تو اچھا ہوتا، وہ یہ کہ آپؓ کے پاس ضرورت مند لوگ آتے ہیں، لیکن آپ کی ہیبت کی وجہ سے آپؓ سے کچھ کہہ نہیں پاتے، وہ لوٹ جاتے ہیں اور ان کی ضرورت پوری نہیں ہوتی۔ عبدالرحمٰنؓ آپ کے پاس گئے اور اس سلسلے میں سیدنا عمرؓ سے بات کی آپ نے فرمایا: اے عبدالرحمٰن میں تمہیں اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں: کیا علی، عثمان، طلحہ، زبیر اور سعد یا ان میں سے دو ایک نے تمہیں مجھ سے یہ کہنے کے لیے مامور کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپؓ نے فرمایا: اے عبدالرحمٰن، میں لوگوں کے لیے نرم ہوا، اتنا نرم ہوا کہ میں اللہ سے ڈر گیا کہ کہیں لوگ میری نرمی سے ناجائز فائدہ نہ اٹھا لیں پھر میں نے ان پر سختی کی، اتنی سختی کی کہ اللہ سے ڈر گیا (کہ کہیں لوگ مجھے اپنی ضرورت نہ بتا سکیں) تمہی بتاؤ، اب میں کیا کروں؟ یہ سن کر حضرت عبدالرحمٰن روتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور آپؓ کی ازار گھسٹ رہی تھی اور آپؓ اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہے تھے: افسوس ہے ان پر، آپؓ کے بعد کیا ہو گا، افسوس ہے ان پر، آپؓ کے بعد کیا ہو گا؟
(الشیخان: بروایت بلاذری: صفحہ 220)
عمرو بن مرۃ (عمر بن مرۃ الشنی بصری ہیں، مقبول ہیں، چوتھے طبقہ کے ہیں۔ التقریب: صفحہ 417) سے روایت ہے، فرمایا: قریش کا ایک آدمی سیدنا عمرؓ سے ملا اور کہا: ہمارے لیے نرم ہو جایئے، ہمارے دل آپؓ کے رعب سے بھر گئے ہیں۔ آپؓ نے پوچھا: کیا اس میں ظلم ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپؓ نے فرمایا: اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ میرا رعب تمہارے دلوں میں اور بڑھ جائے۔
(مناقب عمر: ابن الجوزی: صفحہ 135، محض الصواب: جلد 1 صفحہ 273)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عمرؓ سے ایک آیت کی تفسیر پوچھنے کے لیے پورے ایک سال تک سوچتا رہا لیکن آپ کے رعب کی وجہ سے اسے نہ پوچھ سکا۔(صحیح مسلم: کتاب الطلاق: حدیث 1479 )
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک حجام آپؓ کے بال تراش رہا تھا آپؓ کافی بارعب تھے۔ سیدنا عمرؓ نے گلا صاف کرنے کے لیے کھنکھارا تو خوف کی وجہ سے حجام کی ہوا خارج ہو گئی، حضرت عمرؓ نے اسے چالیس درہم دینے کا حکم دیا۔
(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 287۔ سنداً یہ روایت منقطع ہے۔ مناقب عمر: صفحہ 134)
جب حضرت عمرؓ لوگوں کے دلوں میں اپنا رعب و دبدبہ دیکھتے تو کہتے: اے اللہ تو جانتا ہے کہ لوگ جتنا مجھ سے ڈرتے ہیں میں اس سے کہیں زیادہ تجھ سے خوف کھاتا ہوں۔
(مناقب عمر: ابن الجوزی: صفحہ 134، یہ روایت سنداً منقطع ہے)