منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا…

منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا پہلا خطبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

اس سلسلہ میں روایات مختلف ہیں کہ سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے کون سا خطبہ دیا؟ بعض سیرت نگاروں کا کہنا ہے کہ آپؓ منبر پر تشریف لائے اور کہا:

’’اے اللہ! میں سخت ہوں مجھے نرم کر دے، میں کمزور ہوں مجھے قوت دے دے، میں بخیل ہوں مجھے سخی بنا دے۔‘‘ 

(شرح النووی علی صحیح مسلم: جلد، 12 صفحہ 206)

اور بعض روایتوں کے مطابق آپ کا پہلا خطبہ یہ تھا: ’’اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے تم کو آزمایا ہے اور میرے دونوں رفقاء کے بعد تمہارے ذریعہ سے مجھ کو آزمایا ہے۔ اللہ کی قسم تمہارا جو معاملہ میرے سامنے پیش ہو گا میں خود اس کو حل کروں گا اور جو معاملات مجھ سے دور ہوں گے ان کے لیے قوی و امین حضرات کو مقرر کروں گا۔ اللہ کی قسم! اگر لوگوں نے مجھ سے اچھا برتاؤ کیا تو میں ان سے اچھا برتاؤ کروں گا اور اگر غلط طریقہ سے پیش آئے تو انہیں سخت سزا دوں گا۔‘‘

جو لوگ اس خطبہ میں حاضر تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ آپ نے اسی منشور پر عمل کیا، یہاں تک کہ اس دنیا سے چل بسے۔ 

(منہاج السنۃ: جلد، 1 صفحہ 142)

اور یہ بھی مروی ہے کہ جب آپؓ نے خلافت سنبھالی تو منبر پر تشریف لائے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جس زینہ پر بیٹھتے تھے اس پر بیٹھنا چاہا، پھر کہا: اللہ کو پسند نہیں ہے کہ میں خود کو حضرت ابوبکرؓ کی مجلس کا اہل سمجھوں اور پھر نیچے زینہ پر اتر گئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور کہا:

’’تم قرآن پڑھو اس سے پہچانے جاؤ گے، اس پر عمل کرو قرآن والے ہو جاؤ گے، اپنے آپ کا محاسبہ کرو اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے اور بڑی پیشی (قیامت) کے لیے تیاری کرو، جس دن کہ تم اللہ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے اور کوئی چیز پوشیدہ نہ رہے گی۔ کسی حق دار کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اللہ کی معصیت میں اس کی اطاعت کی جائے۔ سن لو میں نے اللہ کے مال کے بارے میں خود کو یتیموں کے ولی (نگران) کے قائم مقام کر لیا ہے۔ اگر مجھے مال ملا تو میں اسے اپنانے سے بچوں گا اور اگر فقیری لاحق ہوئی تو معروف طریقے سے کھاؤں گا۔‘‘ 

(شرح العقیدۃ الطحاویۃ: صفحہ 539 )

مذکورہ تمام روایات کے درمیان اس طرح جمع و تطبیق ممکن ہے کہ حضرت عمرؓ نے مجمع عام کے سامنے خطبہ دیا تھا، جس نے خطبہ کے جس حصے کو سنا اسے روایت کیا اور اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ اوّل خطبہ میں آپؓ نے سیاسی، اداری اور دینی وعظ و نصیحت کو ایک ساتھ بیان کیا ہو، خلفائے راشدینؓ کا یہی طریقہ رہا ہے، انہوں نے اللہ سے تقویٰ نیز اس کے حکم اور انسانوں کی سیاست کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا۔

اسی طرح حضرت عمرؓ کے لیے یہ بھی کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ آپؓ اپنے سلف عظیم حضرت ابوبکر صدیقؓ کے مقام و مرتبہ کی پوری رعایت کرتے ہوئے ان کی جگہ پر نہ بیٹھے ہوں کہ کہیں لوگوں کی نگاہ میں آپؓ ان کے برابر نہ سمجھے جائیں۔ اسی خیال کے پیش نظر سیّدنا عمرؓ نے اپنا محاسبہ کیا اور ابوبکرؓ کی جگہ سے نیچے اتر آئے۔ 

(مناقب أمیر المؤمنین: ابن الجوزی: صفحہ، 170، 171 )

دوسری روایت کے مطابق آپؓ نے خلیفہ بنائے جانے کے دو دن بعد لوگوں سے اپنی تند مزاجی اور سخت گیری کے بارے میں سوچا اور کہا کہ اپنے بارے میں لوگوں کے شکوک و شبہات خود ہی دور کر دینا ضروری ہے۔ چنانچہ آپؓ منبر پر تشریف لائے، لوگوں کو مخاطب کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیز حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ ان کی صحبت اور معاملات کا ذکر کیا اور بتایا کہ کس طرح ان سے راضی و خوشی ہونے کی حالت میں وہ دونوں اس دنیا سے رخصت ہوئے، پھر فرمایا:

’’ اے لوگو! میں تمہارے معاملات کا حاکم بنایا گیا ہوں، جان لو کہ (میری) سختی دوگنی ہو گئی ہے لیکن وہ ظلم و زیادتی کرنے والوں کے لیے ہے، جان لو میں کسی کو کسی پر ظلم کرتے ہوئے یا سرکشی کرتے ہوئے نہیں چھوڑوں گا، میں ظالم کے ایک رخسار کو زمین پر اور دوسرے رخسار پر پاؤں رکھوں گا یہاں تک کہ وہ حق کے تابع ہو جائے اور اس سختی کے بالمقابل شرفاء اور نیکوکاروں کے لیے اپنا رخسار زمین پر رکھنے کو تیار ہوں۔ اے لوگو! مجھ پر تمہارے کچھ حقوق ہیں، جسے میں تمہیں بتا رہا ہوں اسے تم مجھ سے لے لو، تمہارا مجھ پر حق یہ ہے کہ تمہارے خراج میں سے کوئی بھی چیز میں اپنی پسند سے نہ لوں اور نہ اس مال سے لوں جو اللہ نے تم کو بطورِ غنیمت دیا ہے، مگر اس کی رضامندی کے لیے، اور مجھ پر تمہارا یہ حق بھی ہے کہ جب کوئی مال میرے ہاتھ میں آئے تو وہ جائز مقام پر ہی خرچ ہو اور اگر اللہ چاہے تو تمہارے وظائف اور عطیات کو بڑھا دوں، سرحدوں کو بند کر دوں، تمہیں خطرات میں نہ ڈالوں اور لمبی مدت تک اہل و عیال سے تم کو دور کر کے جنگی مورچہ پر باقی نہ رکھوں، اور جب تم جنگ پر چلے جاؤ تو میں اہل و عیال کا محافظ رہوں، یہاں تک کہ تم ان کے پاس لوٹ آؤ۔ پس اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو، اور اپنے نفوس کے بارے میں اسے مجھ سے روک کر میری مدد کرو اور بھلائی کا حکم دے کر، برائی سے روک کر اور اپنے متعلق میری ذمہ داری سے مجھے آگاہ کر کے میری مدد کرو۔ انہی کلمات پر اپنی بات ختم کرتا ہوں اور اللہ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے مغفرت کا طالب ہوں۔‘‘ 

(الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین، دیکھئے حمدی شاہین: صفحہ 120 )

اور ایک روایت میں ہے کہ آپؓ نے فرمایا:

’’عرب والوں کی مثال نکیل زدہ اونٹ کی طرح ہے جو اپنے قائد کے تابع ہوتا ہے۔ لہٰذا اپنے قائد کو دیکھنا چاہیے جہاں وہ جاتا ہے اس کے پیچھے جائیں اور میں تو اللہ کی قسم لوگوں کو سیدھے راستہ پر ہی لے کر جاؤں گا۔‘‘ 

منصب خلافت سنبھالنے کے بعد خطبۂ فاروقیؓ کے بارے میں وارد شدہ ان تمام روایات سے آپؓ کے نظام حکومت کا ایسا منشور سامنے آتا ہے جس سے ہٹ کر چلنے کی ادنیٰ سی گنجائش بھی نہیں ہے۔ آپؓ کے نظامِ حکومت کے نمایاں خدوخال کچھ اس طرح ہیں:

1۔ آپؓ خلافت کو ایک آزمائش سمجھتے تھے کہ جس سے آپؓ آزمائے گئے ہیں اور یہ کہ اس کے حق کی ادائیگی سے متعلق آپؓ کا محاسبہ کیا جائے گا۔ گویا حکومت خلفائے راشدینؓ کی نگاہ میں عظمت، شرافت، اور بلندی کی چیز نہیں بلکہ وہ ایک عظیم ذمہ داری، فریضہ الہٰی اور آزمائشِ ربانی تھی۔

صفحہ 1 از 3