شہادت حسین رضی اللہ عنہ- اسباب ونتائج - ردِ رافضیت | دفاع…

شہادت حسین رضی اللہ عنہ- اسباب ونتائج

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 1 از 6

  واقعہ کربلا 

شہادت حسینؓ اسباب ونتائج

حضرت حسنؓ اور حضرت معاویہؓ کی صلح کے بعد امیر معاویہؓ مسلمانوں کے سربراہ بن گئے، اور تقریباً بیس سال تک خليفۃ المسلمین کے منصب پر فائز رہے، حضرت معاویہؓ کا دورِ خلافت چالیس ہجری (40ھ) سے لے کر ساٹھ ہجری (60ھ) تک رہا، اس پورے دور میں امن وامان کی حالت تشفی بخش رہی، اور فتوحات اسلامیہ کا دائرہ وسیع تر ہوتا چلا گیا، کہا جاسکتا ہے کہ خلافتِ راشدہ کے  بعد اسلامی تاریخ کا یہ سنہرا دور تھا۔

یزید کی ولی عہدی:

شیعہ نکتہ نظر کے مطابق حضرت معاویہؓ نے اپنے بعد حضرت حسنؓ کو ولی عہد متعین کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت معاویہؓ اور حضرت حسنؓ کے درمیان جن شرطوں صلح ہوئی تھی ان میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ حضرت معاویہؓ کے بعد حضرت حسنؓ خليفتہ المسلمین ہوں گے لیکن اس دور میں حضرت حسنؓ کی شہادت کا واقعہ پیش آ گیا۔ 

تنبیہ:

بعض لوگوں نے مقام شرائط میں ایک شرط یہ بھی ذکر کی ہے کہ حضرت حسنؓ نے حضرت امیر معاویہؓ پر یہ شرط عائد کی تھی کہ "حضرت معاویہؓ کے بعد حضرت حسنؓ خلیفہ ہوں گے" اس بنا پر حضرت امیر معاویہؓ نے حضرت حسنؓ کو زہر دلوا دیا تھا تاکہ وہ امر خلافت پر بعد میں ہمیشہ مسلط رہیں۔

اس شرط کے متعلق درج ذیل چیزیں قابل غور ہیں۔ ان پر توجہ کر لینے سے اس شرط کا سقم واضح ہو جائیگا۔

1: قدیم مؤرخین طبری وغیرہ اور خصوصاً شیعہ کے قدیم تر مؤرخین دینوری، مسعودی اور یعقوبی وغیرہ نے جہاں شرائط صلح ذکر کی ہیں ہماری معلومات کی حد تک ان میں مذکورہ بالا شرط کا ذکر نہیں پایا جاتا۔ حالانکہ حضرت معاویہؓ پر طعن قائم کرنے کے لیے یہ عمدہ موقع تھا۔

نیز معلوم ہوتا ہے کہ ان مؤرخین کے دور تک شرائط میں یہ چیز شامل نہ تھی۔ ایک مدت دراز کے بعد لوگوں نے اس شرط کا اضافہ کر لیا اور زہر خورانی کے طعن کے لیے اس کو زینہ بنایا۔

یہ چیز نقلی طور پر پیش کی گئی ہے۔

2: اب عقلی طور پر توجہ کریں کہ جب حضرت امیر معاویہؓ نے استخلاف یزید کا مسئلہ اس دور کے اکابر کے سامنے پیش کیا تو بعض اکابر نے اس چیز سے اختلاف کرتے ہوئے کلام کیا (جیسا کہ تواریخ میں منقول ہے) تو اس موقع پر ان لوگوں نے یہ چیز نہیں ذکر کی کہ حضرت حسنؓ کی زندگی میں آپؓ کی خلافت تھی اب ان کی وفات کے بعد آپؓ کو خلافت کا حق نہیں اور صلح کی شرائط میں یہ مسئلہ داخل تھا۔

فلہذا اس بات کو اختلاف کرنے والے بزرگوں کا پیش نہ کرنا بھی اس بات کا قرینہ ہے کہ صلح کی شرائط میں یہ شرط داخل نہ تھی ورنہ وہ حضرات اس موقع پر اس شرط کو ضرور پیش کرتے۔

حوالہ: سیرت حضرت امیر معاویہؓ (مولانا نافع رحمہ اللہ)۔

حضرت امیر معاویہؓ نے منصب خلافت سنبھالا تو یہیں سے معاملہ خلافت سے ملوکیت میں تبدیل ہو گیا، اور اسلامی تاریخ میں ملوکیت کا سلسلہ شروع ہو گیا، ان کے عہد میں نبوی منہاج پر خلافت نہیں تھی لیکن امت مسلمہ طویل خانہ جنگیوں اور آپسی کشت وخوں کے بعد ایک پرچم تلے جمع ہو چکی تھی، تقریباً پانچ سال کا عرصہ خانہ جنگی کی نذر ہو چکا تھا،کبار صحابہؓ اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے، صغار صحابہؓ میں بھی کچھ ہی حضرات موجود تھے، جن میں نمایاں ہستیاں عبداللہ ابن زبیر، عبداللہ ابن عمر، عبداللہ ابن عباس اور عبدالرحمٰن ابن ابی بکر (رضی اللہ عنہم) کی تھی۔ 

عہد نبوی کو گزرے پچاس سال کا عرصہ بیت چکا تھا، اتنی مدت کے بعد وہ جوش وجذبہ ایمانی بھی اس درجہ کا نہیں رہا جو خلافت راشدہ کے ابتدائی پچیس سالوں تک تھا، خانہ جنگیوں کی وجہ سے لوگوں کے ذہن بدل چکے تھے مملکت کی وسعت کے ساتھ ہی عجمی عناصر مزاج میں داخل ہو چکے تھے، اور مجموعی اعتبار سے امت مسلمہ کے حالات شورائی نظام کے متمل نہیں تھے، بلکہ مسلم مزاج میں فتوحات کے پہلو بہ پہلو دنیا کی محبت بھی دبے پاؤں چلی آرہی تھی، چنانچہ عظیم صحابی رسول حضرت مغیرہؓ بن ابی شعبہ نے حضرت معاویہؓ کو یہ مشورہ دیا کہ وہ اپنا جانشین نامزد کر دیں، اور اس کی ولی عہدی کی بیعت بھی لے لیں، تاکہ آپ کے بعد مسلمان دوبارہ خلیفہ کے انتخاب میں خانہ جنگی کا شکار نہ ہوں، اور اس کے لیے انھوں نے یزید کا نام بھی پیش کردیا۔ کیونکہ اہل شام اور بنوامیہ کا مزاج اور ان کی طبیعت کسی غیر کو قبول کرنے کو تیار نہ تھی بلکہ ایسی صورت میں خانہ جنگی کے قوی امکانات پیدا ہو جاتے۔

امیر معاویہؓ کے اس موقف کو علامہ ابن خلدون نے اس طرح بیان کیا ہے:

جس بات نے امیر معاویہؓ کو کسی دوسرے کے بجائے اپنے بیٹے کو ولی عہد بنانے پر آمادہ کیا وہ صرف اس مصلحت کی رعایت تھی کہ اس وقت بنوامیہ کے اہل حل و عقد کے نزدیک یزید پر اتفاق کرنے سے مخالفین کا اتفاق و اجماع حاصل ہوجائے گا، اس وقت بنوامیہ اپنے اصحابِ اقدار کے علاوہ کسی اور کو قبول کرنے پر راضی نہ تھے، اور بنوامیہ ہی قریش اور پوری ملت کے سرگروہ تھے انہیں ہی تسلط و اقتدار حاصل تھا، اسی وجہ سے معاویہؓ نے دوسروں پر مزید کو ترجیح دی، جس کے متعلق یہ گمان تھا کہ وہ ولایت و خلافت کے لیے زیادہ موزوں اور بہتر ہے، اور انھوں نے افضل و بہتر سے ہٹ کر مفضول و غیرمناسب کو ولی عہد بنا دیا، وہ بھی اس خیال سے کہ اتحاد باقی رہے، اور لوگوں کے افکار منتشر نہ ہوں، کیونکہ اتحاد و اتفاق شارع کے نزدیک بہت اہم چیز ہے۔

(مقدمہ ابن خلدون: 175، 176)

صفحہ 1 از 6