Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دو غلطیاں ہزیمت کا سبب بنیں

  علی محمد الصلابی

پہلی غلطی تو یہ کہ حضرت ابوعبید رحمہ اللہ نے عمائدین لشکر کی مخالفت کی، انہوں نے ابوعبیدؒ کو دریا عبور کرنے سے منع کیا تھا لیکن وہ نہ مانے اور اپنی بات پر ڈٹے رہے، انہوں نے شجاعت و جانبازی کا ثبوت دیا اور شوق شہادت میں دریا پار کیا، لیکن معرکہ کا صحیح اور مکمل حساب نہ لگا سکے اور نہ جنگ کے لیے منتخب کردہ زمین کا ٹھیک ٹھیک جائزہ لے سکے۔

(عوامل النصر و الہزیمۃ: صفحہ 55) تنگ میدان میں گھر جانے کی وجہ سے اب آپ کے ہاتھوں سے امن کا عنصر چھوٹ چکا تھا، نیز ہتھیار بند شہسواروں کے میدان سے پیچھے ہٹ جانے کی وجہ سے یہ موقع بھی ہاتھ سے گنوا چکے تھے کہ مختلف اسلحہ کے درمیان تعاون کا عنصر مفقود ہو گیا۔ آپ کی فوجی قوت صرف پیادہ پا مجاہدین تک محدود رہی اور انہیں ایرانی فوج کے مسلح فیل بانوں، شہ سواروں اور پیدل جنگ کرنے والوں کا مقابلہ کرنا پڑا۔ اس طرح اس معرکہ میں باصلاحیت و قیادت مفقود ہو کر رہ گئی، یہاں تک کہ حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ نے کمان اپنے ہاتھ میں لی۔

جس طرح جگہ کی تنگ دامانی اسلامی فوج کے امن و امان کو غارت کرنے کا سبب بنی اسی طرح اس سے دوسرا نقصان یہ بھی ہوا کہ وہاں پورا کا پورا اسلامی لشکر اکٹھا نہیں ہو سکا اور چونکہ معرکہ کا محل وقوع جغرافیائی اعتبار سے کثیر فوجی تعداد کی اجازت نہ دیتا تھا اس لیے بڑی فوج تیار کرنے اور اسے وہاں اتارنے کا کوئی فائدہ بھی نہ تھا۔ اسی طرح حضرت ابوعبیدؒ سے جنگی ہدف کے انتخاب میں چوک ہوئی اور پھر اس کے ضمن میں معرکہ کے لیے نہ موزوں مقام منتخب کر سکے اور نہ وہاں تک پہنچنے کا مناسب راستہ۔ ان تمام مواقع کو انہوں نے خود گنوایا اور گنوایا ہی نہیں بلکہ دشمن کو اپنے اوپر حملہ کرنے کا موقع دیا۔

(الطریق إلی المدائن: صفحہ 414) اور دوسری غلطی جس نے حضرت ابوعبیدؒ کی چُوک کو مزید سنگین بنا دیا وہ ایسی غلطی تھی جو نقصان اور مصائب و مشکلات کے اعتبار سے پہلی غلطی سے کہیں زیادہ خطرناک تھی، وہ یہ کہ عبداللہ بن مرثد ثقفیؒ نے دریا پر بنا ہوا پل توڑ دیا تاکہ مسلمان میدان جنگ سے بھاگ نہ سکیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر اس وقت اللہ کی خاص رحمت اور پھر مثنیٰ بن حارثہؓ نیز ان کے ساتھیوں کی ثابت قدمی نہ ہوتی تو اس دن سارے مسلمان ہلاک ہو جاتے۔

( عوامل النصر والہزیمۃ: صفحہ 55)