اب حضرت امیرِ معاویہؓ کے فضائل میں چند احادیث ہم ناظرینِ کرام کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں، جنہیں اکابر محدثین رحمہم اللہ نے اپنی تصانیف میں درج فرمایا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:
1: حضرت عبدالرحمن بن ابی عمیرہؓ سے مروی ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا:
اللهم علمه الكتاب والحساب وقه العذاب
(البدایہ والنہایہ: جلد8 صفحہ121 تحت ترجمہ معاویہ بن ابی سفیانؓ، تاریخ الاسلام للذہبی: جلد 2 صفحہ309 تحت معاویہ بن ابی سفیانؓ، سیر اعلام النبلاء: جلد4 صفحہ 288 ترجمہ معاویہ بن ابی سفیانؓ، الاصابہ: جلد 2 صفحہ164 تحت حارث بن زیاد الشامی، مسند احمد: جلد4 صفحہ466 مسند ابن عباسؓ، مجمع الزوائد: جلد9 صفحہ 594، 595 باب ما جاء فی معاویہ بن ابی سفیانؓ)
اے اللہ! معاویہؓ کو کتاب و حساب کا علم عطا فرما اور اسے عذاب سے محفوظ فرما۔
(امام ذہبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: هذا الحديث رواته ثقات، لكن اختلفوا فی صحبة عبد الرحمن، والأظهر أنه صحابی، روی نحوه من وجوه أخر (تاریخ الاسلام: جلد 2 صفحہ 309)
حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: در احادیث نبوی باسناد ثقات آمدہ (مکتوبات: دفتر اول، مکتوب251)
2: حضرت عرباض بن ساریہؓ کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرتﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
اللهم علم معاویۃ الكتاب والحساب وقه العذاب
(مسند احمد: جلد4 صفحہ 157 تحت مسند عرباض بن ساریہؓ، صحیح ابنِ حبان: جلد6 صفحہ371 تحت ذکرِ معاویہ بن ابی سفیانؓ، تاریخ الاسلام للذہبی: جلد2 صفحہ 309 تحت معاویہ بن ابی سفیانؓ، الاستيعاب: جلد 3 صفحہ 474 تحت معاویہ بن ابی سفیانؓ، سیر اعلام النبلاء: جلد4 صفحہ، 288 تحت معاویہ بن ابی سفیانؓ، التاریخ الکبیر للام البخاری: جلد 8 صفحہ 204 تحت معاویہ بن ابی سفیانؓ البدایہ والنہایہ: جلد 8 صفحہ 120 تحت معاویہ بن ابی سفیانؓ، موارد الظمآن: صفحہ 566 باب فی معاویہ بن ابی سفیانؓ، کنز العمال: جلد6 صفحہ109 تحت فضائل الصحابہ، حرف المیم)
اے اللہ! سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو کتاب و حساب کا علم عطا فرما اور اسے عذاب سے محفوظ رکھ۔
(مسند احمد کی اس حدیث کے صحیح ہونے کا تو مصنف نام و نسب انکار نہیں کر سکتے، کیونکہ وہ خود امام احمدؒ کے بڑے مداح ہیں اور ان کا کہنا ہے: غالباً کوئی حدیث ایسی نہیں جس کی اصل اس مسند میں نہ ہو، اور یہ دیگر مسانید سے صحیح تر ہے۔ (نام و نسب: صفحہ 547) علامہ عبد العزیز فرہاروی رحمۃ اللہ (متوفی 1239ھ) نے امام مجد الدین ابن الاثیر کے حوالے سے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ (الناہیہ: صفحہ39)
3: حضرت عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہؓ فرماتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے حضرت امیرِ معاویہؓ کے حق میں یہ دعا فرمائی:
اللهم اجعله هادیاً مهدیاً واهدِ به قال الترمذی: حسن غریب
(جامع الترمذی: صفحہ 574 کتاب المناقب، باب مناقب معاویہ بن ابی سفیانؓ، التاریخ الکبیر للامام البخاری: جلد7 صفحہ 204 تحت معاویہ بن ابی سفیانؓ، تاریخ اسلام للذہبی: جلد2 صفحہ 310 تحت معاویہ بن ابی سفیانؓ، مشکوٰة المصابیح: صفحہ 579 باب جامع المناقب، البدایہ والنہایہ: جلد8 صفحہ121 تحت معاویہ بن سفیانؓ، سیر اعلام النبلاء: جلد 4 صفحہ288 تحت معاویہ بن ابی سفیانؓ، موارد الظمآن: صفحہ566، باب فی معاویہ بن ابی سفیانؓ، حلیۃ الاولیاء: جلد8 صفحہ358 تحت بشر بن الحارث الحافی، المعجم الاوسط: جلد 1 صفحہ380)
اے اللہ! سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو لوگوں کے لیے ہادی بنا، ہدایت یافتہ فرما اور ان کے ذریعے دوسروں کو ہدایت عطا فرما۔
4: حضرت عمیر بن سعدؓ کہتے ہیں کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کا ذکر سوائے بھلائی کے مت کرو، کیونکہ میں نے آپﷺ سے سنا ہے:
اللهم اهدِه
(التاریخ الکبیر للبخاری: جلد4 صفحہ 290 تحت معاویہ بن ابی سفیانؓ، ترمذی شریف: صفحہ547 ابواب المناقب، باب مناقب معاویہ بن ابی سفیانؓ، البدایہ والنہایہ: جلد8 صفحہ122 ترجمہ معاویہ بن ابی سفیانؓ)
اے اللہ! حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو ہدایت عطا فرما۔