فتنہ قتل عثمان رضی اللہ عنہ اور اس پر مرتب ہونے والے واقعات کے مطالعہ و تحقیق کی اہمیت
علی محمد الصلابیاس فتنہ کے حقیقی اسباب کی معرفت حاصل کرنے کے لیے اس پر مرتب ہونے والے واقعات کی تحقیق اور اس کے مطالعہ کی اہمیت واضح ہے خواہ یہ اسباب داخلی ہوں یا خارجی، اور پھر ان اسباب میں سے ہر ایک کا اس فتنہ میں کس قدر حصہ ہے اور کیا اس کے علاوہ اور اسباب ہیں جنھیں اس ضمن میں داخل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے مطالعہ کی ضرورت و افادیت بھی معلوم ہے۔
اس موضوع پر جو کچھ تحریر کیا گیا ہے اس کا جو بھی مطالعہ کرے گا اس پر یہ حقیقت آشکارا ہو جائے گی کہ یہ ایک بہت بڑی منصوبہ بند سازش ہے جس کی تنفیذ میں یہود و نصاریٰ اور مجوس و منافقین نے ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کیا ہے اور اسلامی تاریخ کے ہر مرحلہ میں اعدائے اسلام کی سازش اس امت کے ساتھ رہی ہے۔
(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 83)
لیکن یہ سازش اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی تھی جب تک کہ کمزوری کے داخلی عوامل و اسباب نہ ہوتے۔ ایسی صورت میں کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور کا مطالعہ و تحقیق واجبات میں سے قرار نہیں پاتا ہے؟ تاکہ امت اسلامیہ کی کمزوری کے اسباب کی معرفت حاصل ہو، اور جس راہ سے یہ بیماری امت میں گھسی ہے اس کی تعیین ہو سکے، اور امت کی موجودہ صورت حال کی اصلاح میں استفادہ کیا جائے، اور مستقبل میں ان لغزشوں سے اجتناب کیا جا سکے۔ یا اس کا مقدر یہی ہے کہ اندر کے اپنے امراض اور باہر سے دشمنوں کی سازشوں کے تلے دبی رہے؟
(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 85)
فتنہ قتل عثمان رضی اللہ عنہ کے سلسلہ میں جو عظیم واقعات رونما ہوئے اس کے گہرے اور سنجیدہ مطالعہ کی ضرورت ہے، تاکہ اس سے دروس و عبر کو حاصل کیا جائے اور حاضر و مستقبل میں روشنی مل سکے، اور منہاج نبویﷺ پر خلافت راشدہ کی دعوت کی رہنمائی مل سکے، تاکہ انسانیت اللہ کے دین و شریعت سے سعادت مند ہو، اور شقاوت و بدبختی سے اس کو نجات ملے، جو شریعت الہٰی سے دوری کی وجہ سے امت کو لاحق ہوئی ہے۔