سیدنا امیر معاویہؓ کے عہد میں سیدنا حسینؓ کا جہاد کے لیے…

سیدنا امیر معاویہؓ کے عہد میں سیدنا حسینؓ کا جہاد کے لیے جانا

  مولانا اقبال رنگونی

سیدنا امیرِ معاویہؓ کے دور میں جب اور جہاں جہاد کی ضرورت پیش آئی مسلمانوں نے اس میں بھرپور حصہ لیا ان نوجوانوں میں سے ایک سیدنا حسینؓ بھی تھے آپؓ نے کبھی نہیں کہا کہ میں ان معرکوں میں اس لیے حصہ نہیں لیتا کہ یہ اسلامی جہاد نہیں ہے اور سیدنا امیرِ معاویہؓ مسلمانوں میں سے نہیں۔ معاذاللہ!

حافظ ابنِ کثیرؒ 774ھ لکھتے ہیں:  

وَقَدْ كَانَ فِی الْجَيْشِ الَّذِينَ غَزَوُا الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ مَعَ ابْنِ مُعَاوِيَةَ يَزِيدَ، فِی سَنَةِ إِحْدَى وَخَمْسِينَ۔  

سیدنا حسینؓ 51ھ میں غزوہ قسطنطنیہ کے موقع پر یزید بن معاویہؓ کے ساتھ لشکر میں بھی شامل تھے۔

شیعہ مؤرخ امیر علی سیدنا حسینؓ سے متعلق لکھتے ہیں کہ سیدنا حسینؓ نے عیسائیوں کے خلاف قسطنطنیہ کے محاصرے میں اعزاز کے ساتھ خدمت انجام دی تھی:  

He (Hazrat Hussain) had served with honour against the Christians in the siege of Constantinople.  

(History of Saracens: p 84)

سیدنا امیرِ معاویہؓ کے دور میں ہونے والے غزوات میں 49ھ کا غزوہِ قسطنطنیہ بڑا مشہور معرکہ ہے اس میں سیدنا عمر فاروق ؓکے بیٹے حضرت عبداللہ اور حضرت زبیر کے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما جیسے صحابہ شریک ہوئے تھے سیدنا ابوایوب انصاریؓ جیسی جلیل القدر شخصیت بھی اس غزوہ میں شریک رہی اور اسی غزوہ میں آپ کا انتقال ہوا تھا سیدنا حسینؓ بھی اس غزوہ میں شریک تھے اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ سیدنا حسنؓ کے بعد بھی سیدنا حسینؓ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی حکومت کو صحیح سمجھتے تھے اور ان لشکروں میں پوری طرح شریک رہا کرتے جو مسلمانوں کے سربراہ کی جانب سے مختلف مقامات پر بھیجے گئے تھے۔

حضرت الاستاذ علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحبؒ لکھتے ہیں:  

اس جہاد میں افواجِ اسلامی نے مدینہ منورہ سے تقریباً چار ہزار کلومیٹر کا فاصلہ عبور کیا اس لشکر میں سیدنا حسنؓ شامل نہ تھے، آپ اس وقت وفات پا چکے تھے اس سے معلوم ہوا کہ سیدنا حسینؓ اپنے بھائی سیدنا حسنؓ کی شہادت کے بعد بھی سیدنا امیر معاویہؓ کی خلافت سے برابر تعاون کرتے رہے ہیں اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ سیدنا حسینؓ کوئی ہاشمی اموی تعصب نہ رکھتے تھے۔ اس لیے آپ خلیفہِ راشد سیدنا عثمانِ غنیؓ جو اموی تھے، کی خلافت کو اسلامی خلافت سمجھتے تھے اور ان کے زیرِ خلافت کیے گئے جہاد کو اسلامی جہاد یقین کرتے تھے سیدنا امیرِ معاویہؓ بھی اموی تھے ان سے اموی خلافت کا آغاز ہوا آپ نے ان کی خلافت میں بھی جہاد میں حصہ لیا آپ نے ان کے عہد میں تین معرکوں میں جہاد کرتے ہوئے تقریباً 15 ہزار کلومیٹر کے قریب زمین عبور کی۔  

(تاریخ کامل ابن اثیر: جلد 3 صفحہ 45)

حضرت الاستاذ خالد محمودؒ ایک اور مجلس میں فرماتے ہیں:  

سیدنا حسنؓ کی شہادت کے بعد بھی سیدنا حسینؓ کے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے ساتھ تعلقات اچھے رہے ہیں شیعہ علماء کی طرف سے ایک پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ نے ایک عورت کے ذریعے سیدنا حسنؓ کو زہر دلوایا تھا بھائی اگر واقعی یہ واقعہ صحیح ہو تو آپ کی عقل کیا کہتی ہے؟ یہی کہ اگر یہ بات درست تھی تو سیدنا حسینؓ جو ان کے بڑے بھائی تھے کیا وہ مدینہ میں ہی رہیں گے؟ پھر تو وہ سیدنا امیر معاویہؓ سے الگ ہو جاتے سیدنا امیر معاویہؓ سے دونوں بھائیوں نے صلح کی تھی اگر زہر خورانی کا یہ الزام صحیح ہو کہ سیدنا حسنؓ کی شہادت میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کا دخل تھا تو پھر کیا سیدنا حسینؓ کی غیرت اس بات کو قبول کرے گی کہ وہ مدینہ منورہ میں رہ کر سیدنا امیرِ معاویہؓ کے وظائف قبول کریں؟ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے دور میں آخر تک سیدنا حسینؓ مدینہ منورہ میں ہی رہے اور جب سیدنا امیرِ معاویہؓ کا انتقال ہوا تو سیدنا حسینؓ مدینہ منورہ میں ہی رہ رہے تھے اس سے معلوم ہوا کہ سیدنا حسینؓ کی لڑائی سیدنا امیرِ معاویہؓ سے نہیں تھی ہاں جب اگلا جانشین ان کا یزید ہوا تو پھر سیدنا حسینؓ نے سفر کیا کہ اب وہ عراق چلیں۔