Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی روایت کردہ حدیثیں

  علی محمد الصلابی

مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رضائے الہٰی تک پہنچانے والے علم کی اصل بنیادیں قرآن کریم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال اور تقریرات پر مشتمل آپﷺ کی حدیثیں ہیں اور یہ حدیثیں نسلاً بعد نسل نقل و روایت ہی سے جانی جاتی ہیں، اہل علم اسماء الرجال کے ضبط اور معرفت کی جانب متوجہ ہوئے، ان کی سوانح اور حالات زندگی کو قلم بند کیا، تاکہ وہ دو اہم بنیادی چیزوں کا پتہ چلا سکیں، اور انھی کی روشنی میں ہر راوی کا مقام و مرتبہ متعین کرسکیں:

1۔ عادل ہونا: اس سے مراد سیرت اور حالات زندگی کی اچھائی اور سدھار، فرائض کی ادائیگی، حرام کردہ چیزوں سے دوری، مرو ت سے مکمل طور پر آراستہ و پیراستہ ہونا ہے۔

2۔ مروی حدیث کا ضبط و اتقان: اس سے مراد حدیث کو یاد کرکے، یا لکھ کر، یا دونوں طریقوں سے مکمل طور پر پورا پورا محفوظ کرلینا ہے۔

یہ مذکورہ حکم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو چھوڑ کر حدیث نبوی کے تمام نقل کرنے اور روایت کرنے والوں کو شامل ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے استثناء کا سبب یہ ہے کہ وہ پہلے حاملین علوم نبوت تھے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص تربیت یافتہ تھے۔

ائمہ اہل بیت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیثیں روایت کی ہیں، محدثین نے ان حدیثوں کے ان سے اخذ کرنے میں بڑا اہتمام کیا ہے، اس لیے کہ ان میں عدالت اور قوت حفظ موجود تھی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور آپ کے صاحبزادے سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما جلیل القدر صحابہ میں سے تھے، چنانچہ وہ جرح و تعدیل سے ماورا تھے۔

امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیثوں کو بقی بن مخلد اندلسی متوفی 276ھ نے اپنی ’’مسند‘‘ میں ذکر کیا ہے، ان کی تعداد 586 ہے۔

(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 139۔ مقدمۃ مسند بقی بن مخلد: صفحہ 80)

اور امام احمد بن حنبلؒ متوفی 241ھ نے انھیں ذکر کیا ہے، مکرر طرق کو شامل کرکے ان کی تعداد 819 ہے۔

(مسند احمد: جلد 1 صفحہ 1641)

ان کی حدیثوں کو اصحاب کتب ستہ امام بخاری و مسلم و ابوداؤد و نسائی و ترمذی و ابن ماجہ رحمہم اللہ نے ذکر کیا ہے، ان کی تعداد 322 ہے۔

(تحفۃ الأشراف بمعرفۃ الأطراف للمزی: جلد 7 صفحہ 346)

ان میں سے بیس حدیثیں متفق علیہ ہیں۔ امام بخاری نو اور امام مسلم پندرہ حدیثوں کو ذکر کرنے میں منفرد ہیں۔ یہ حدیثیں عقائد و احکام اور تفسیر وغیرہ پر مشتمل ہیں، غرض کہ زندگی کے تمام پہلوؤں سے متعلق تمام موضوعات و مضامین کو یہ حدیثیں شامل ہیں۔

(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 140) 

خلفائے راشدینؓ میں سے امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ احادیث رسول کے سب سے زیادہ روایت کرنے والے تھے، اس کے اسباب میں سے بقیہ خلفاء سے بعد میں سیدنا علیؓ کا وفات پانا، سیدنا علیؓ سے روایت کرنے والوں کی کثرت، علم کے متلاشی بکثرت سوال کرنے والے تابعین کا منتشر ہونا، ایسے حادثات کا رونما ہونا جو بہت سارے امور میں روایت کے متقاضی تھے وغیرہ وغیرہ ہیں۔ چنانچہ انھیں سیدنا علیؓ کی جانب سے جو روایتیں پہنچیں پوری امانت و دیانت سے نقل کیا۔

(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 140)

اس سے سیدنا علیؓ کے صاحبزادے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے بہت زیادہ استفادہ کیا۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے نانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اس وقت ہوئی جب کہ وہ ابھی چھوٹے تھے، چنانچہ صغار صحابہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما و محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ کی طرح بہت سی حدیثوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب منسوب کرکے ذکر کیا ہے، چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے نانا، والد اور والدہ سے حدیثوں کو یاد کیا، اور ان سے ان کے صاحبزادے حسن بن حسن رضی اللہ عنہ، سوید بن غفلہ، ابوحوراء سعدی، شعبی، ہبیرہ بن بریم، اصبغ بن نباتہ اور مسیب بن نجبہ (سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 246) نے حدیثوں کو بیان کیا، بقی بن مخلد نے اپنی مسند میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ تیرہ حدیثوں کو ذکر کیا ہے۔

(تلقیح اہل الاثر فی عیون التاریخ و السیر لابن الجوزی: صفحہ 369)

اور امام احمدؒ نے اپنی مسند میں دس حدیثوں کو ذکر کیا ہے، اور سنن اربعہ میں ان کی روایت کردہ چھ حدیثیں ہیں۔

(مسند احمد: جلد 3 صفحہ 167 تحقیق احمد شاکر، و مسند اہل البیت تحقیق عبداللہ اللیثی الانصاری: صفحہ 25، الدوحۃ النبویۃ: صفحہ 143)

ان حدیثوں میں سے بعض درج ذیل ہیں: 

1۔ ابوحوراء سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دعا سکھلائی جس کو میں قنوت وتر میں پڑھتا ہوں:

اَللّٰہُمَّ اہْدِنِیْ فِیْمَنْ ہَدَیْتَ وَعَافِنِیْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ ، وَتَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا اَعْطَیْتَ وَقِنِیْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ، فَإِنَّکَ تَقْضِیْ وَلَا یُقْضٰی عَلَیْکَ إِنَّہُ لَا یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔

(مسند احمد: جلد 3 صفحہ 170 احمد شاکر کہتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے۔)

’’اے اللہ! تو مجھے ہدایت دے ان میں داخل کرکے جن کو تو نے ہدایت دی، اور عافیت دے مجھے ان میں شامل کرکے جن کو تو نے عافیت دی، اور میری سرپر ستی فرما ان لوگوں میں جن کی تو نے سرپرستی فرمائی اور برکت فرما میرے لیے ان چیزوں میں جو تو نے عطا کیں، اور بچا مجھے ان فیصلوں کے شر سے جو تو نے کیے، اس لیے کہ تو ہی فیصلے کرتا ہے اور تیرے فیصلے کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا، واقعہ یہ ہے کہ وہ ذلیل نہیں ہوسکتا جس کا تو دوست بن جائے، تو بہت با برکت ہے اے ہمارے رب! اور نہایت بلند ہے۔‘‘

یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح اس بات کے حریص تھے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اللہ کی محبت، اس کی عبودیت، صرف اسی کو پکارنے اور اسی سے تعلق رکھنے کی تعلیم دیں، حقیقت میں یہی وہ خالص توحید ہے جسے ہر مسلمان کی زندگی میں جلوہ گر ہونا چاہیے، اور اپنے بچوں کو اسی کی تربیت دینی چاہیے۔

2۔ ہبیرہ سے مروی ہے کہتے ہیں: ’’حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ہمیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا: کل تم سے ایسا آدمی جدا ہوا ہے جس کے علمی مقام سے پہلے کے لوگ آگے نہیں تھے اور نہ بعد کے لوگ اس تک پہنچیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں علمِ جہاد دے کر بھیجتے، جبریل علیہ السلام ان کے داہنے، میکائیل علیہ السلام ان کے بائیں ہوتے، وہ فتح حاصل کرکے لوٹتے تھے۔‘‘

(مسند احمد: جلد 3 صفحہ 167، 168 اس کی سند صحیح ہے۔ )

3۔ عمرو بن حبشی سے مروی ہے کہتے ہیں: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ہمیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا: کل تم سے ایسا شخص جدا ہوا ہے جس کے علمی مقام سے پہلے کے لوگ آگے نہ جاسکے، اور نہ بعد کے لوگ اس تک پہنچ سکے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم انھیں علم جہاد دے کر بھیجتے تھے، تو وہ فتح مندی کے ساتھ لوٹتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عطا کردہ سات سو درہم کے علاوہ؛ جن کو اپنے گھر کی خادمہ کے لیے محفوظ رکھا تھا، کچھ بھی دینار و درہم اپنے پیچھے نہیں چھوڑا۔

(مسند احمد: جلد 3 صفحہ 167، 168 اس کی سند صحیح ہے۔)

4۔ محمد بن علی سے مروی ہے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا،

لوگ کھڑے ہوگئے، وہ نہیں کھڑے ہوئے، چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تم نے کیا کیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو یہودی کی تکلیف دہ بدبو کے باعث کھڑے ہوئے تھے۔

(مسند احمد: جلد 3 صفحہ 167، 169 انقطاع کی وجہ سے اس کی سند ضعیف ہے)

5۔ ابو الحوراء سعدی سے مروی ہے کہتے ہیں: میں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بات یاد ہے؟ فرمایا: مجھے یاد ہے کہ میں نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لے کر اپنے منہ میں ڈال لی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لعاب سمیت نکال کر کھجوروں میں پھینک دیا، ایک شخص نے آپﷺ سے کہا: اگر وہ اس کھجور کو کھا لیتے تو آپﷺ کے لیے کوئی حرج کی بات نہ تھی تو آپﷺ نے فرمایا: ہم صدقہ نہیں کھاتے۔ سیدنا حسنؓ فرماتے ہیں کہ آپﷺ فرمایا کرتے تھے: کھٹکنے والی چیزوں کو چھوڑ کر نہ کھٹکنے والی چیزوں کو اختیار کرو، سچائی اطمینان بخش ہے، اور جھوٹ کھٹکنے والی چیز ہے، فرماتے ہیں: آپ ہمیں یہ دعا سکھلاتے تھے:

اَللّٰہُمَّ اہْدِنِیْ فِیْمَنْ ہَدَیْتَ وَعَافِنِیْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ ، وَتَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا اَعْطَیْتَ وَقِنِیْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ، إِنَّہُ لَا یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ۔

اور کبھی کبھی فرمایا: تَبَارَکَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔

(مسند احمد: جلد 3 صفحہ 167، 169 اس کی سند صحیح ہے، دعائے قنوت کا ترجمہ گزر چکا ہے۔)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ آل بیت کے لیے صدقہ حلال نہیں ہے، صدقہ کی دو قسمیں ہیں:

1۔ فرض صدقہ جس کو زکوٰۃ کہا جاتا ہے۔

2۔ نفلی صدقہ۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

خُذۡ مِنۡ اَمۡوَالِهِمۡ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمۡ وَتُزَكِّيۡهِمۡ‏ ۞

( سورۃ التوبة آیت 103)

ترجمہ: (اے پیغمبر) ان لوگوں کے اعمال میں سے صدقہ وصول کرلو جس کے ذریعے تم انہیں پاک کردو گے۔

مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد فرض صدقہ یعنی زکوٰۃ ہے۔

اس سلسلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ دونوں طرح کے صدقے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال نہیں تھے، فرض صدقہ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال نہیں تھا، اسی طرح آپﷺ کی آل کے لیے بھی حلال نہیں تھا، لیکن آل بیت کے لیے نفلی صدقہ کے حلال نہ ہونے میں اختلاف ہے، اس سلسلے میں امام شافعیؒ کے دو قول ہیں، دونوں میں سے صحیح تر قول حلال نہ ہونے کا ہے۔

آل بیت کے لیے زکوٰۃ و صدقہ حلال نہ ہونے کا سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طویل حدیث میں واضح کیا ہے، جس میں آپﷺ نے فرمایا:

إنَّ الصَّدَقَۃَ لَا تَنْبَغِیْ لِآلِ مُحَمَّدٍ إِنَّمَا ہِیَ أَوْ سَاخُ النَّاسِ۔ 

(صحیح مسلم: رقم 1072)

’’آل محمد کے لیے صدقہ مناسب نہیں ہے، وہ تو لوگوں کی میل کچیل کو دور کرنے والی چیز ہے۔‘‘

صحیح مسلم کی اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے امام نوویؒ فرماتے ہیں: ’’أوساخ الناس‘‘ کے معنیٰ یہ ہیں کہ وہ ان کے نفوس اور اموال کی میل کچیل کو پاک کرنے والی چیز ہے، جیسا کہ فرمان الہٰی ہے:

خُذۡ مِنۡ اَمۡوَالِهِمۡ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمۡ وَتُزَكِّيۡهِمۡ‏ ۞

( سورۃ التوبة آیت 103)

ترجمہ: (اے پیغمبر) ان لوگوں کے اعمال میں سے صدقہ وصول کرلو جس کے ذریعے تم انہیں پاک کردو گے۔

گویا وہ صدقہ میل کچیل کو دھونے والی چیز ہے، یہ حدیث آل بیت کے مقام و مرتبہ کی بلندی اور ان کی طہارت و پاکیزگی کو واضح کرتی ہے۔

(شرح النووی علی: صحیح مسلم: جلد 7 صفحہ 183، 187)

اسی لیے وہ لوگ نہ عہد نبوی میں صدقہ لیتے تھے نہ اس کے بعد ہی، وہ صرف مالِ غنیمت کے خمس میں سے اپنا حصہ لیتے تھے۔ فرمان الہٰی ہے

وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوۡلِ وَلِذِى الۡقُرۡبٰى ۞

(سورۃ الانفال آیۃ 41)

ترجمہ: اور (مسلمانو) یہ بات اپنے علم میں لے آؤ کہ تم جو کچھ مال غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول اور ان کے قرابت داروں کا ہے۔

’’وَ لِلرَّسُوْلِ ‘‘ کی تفسیر میں مفسرین کہتے ہیں: خمس کا ایک حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپﷺ کے قرابت داروں کو دیا جائے گا۔ زکوٰۃ کے سلسلے میں آل بیت کی تعیین میں علماء کے دو اقوال ہیں:

6۔ امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام احمد رحمہم اللہ کے ایک قول کے مطابق آل بیت صرف بنوہاشم ہیں، ان میں آل علی، آل عباس، آل جعفر، آل عقیل، اور آل حارث بن عبدالمطلب شامل ہیں، ان میں ابولہب شامل نہیں ہے، اس لیے اس کے بچوں کو صدقہ دینا جائز ہے، ایسا اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنو ہاشم کی عزت و تکریم کی خاطر صدقہ ان کے لیے حرام قرار دیا اور عزت و تکریم اس لیے کہ انھوں نے جاہلیت اور اسلام دونوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی، ابولہب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذا رسانی کا حریص تھا، اس لیے اس کے بچے اس تکریم کے مستحق نہ ہوئے۔

(شرح فتح القدیر لابن الہمام: جلد 2 صفحہ 272، 274، المنتقی للباجی: جلد 2 صفحہ 153، نیل الأوطار: جلد 4 صفحہ 172) 

بعض علمائے حنابلہ کے قول کے مطابق ان میں آل ابولہب بھی شامل ہیں، اس لیے کہ وہ لوگ بھی ہاشم کی نسل سے ہیں۔

(الانصاف للمرداوی: جلد 3 صفحہ 255، 256) 

اور کیوں نہ داخل ہوں، ابولہب کے دو لڑکے عتبہ اور معتب فتح مکہ کے دن مشرف بہ اسلام ہوئے، ان کے اسلام سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے، ان کے لیے دعائیں کیں، وہ دونوں آپﷺ کے ساتھ غزوۂ حنین و طائف میں شریک ہوئے، اہل نسب کے نزدیک انھوں نے اپنے پیچھے نسل بھی چھوڑی۔

(التبیین فی أنساب القرشیین: صفحہ 143) 

2۔ امام شافعیؒ کی رائے میں آل بیت بنو ہاشم و بنو مطلب ہیں، ان کی مندرجہ ذیل دلیلیں ہیں:

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس میں سے قرابت داروں کا حصہ بنوہاشم اور بنومطلب کو دیا، ان کے علاوہ قبائل قریش میں سے کسی کو نہیں دیا، جیسا کہ امام بخاریؒ نے جبیر بن مطعمؓ کی حدیث نقل کی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول آپ نے خیبر کے خمس میں سے بنو عبدمطلب کو دیا اور ہمیں نظر انداز کر دیا جب کہ ہم اور وہ ایک ہی مرتبے میں ہیں، جواباً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنوہاشم اور بنو مطلب ایک ہیں۔‘‘

(صحیح البخاری: کتاب فرض الخمس: رقم: 3140) 

حدیث سے استدلال اس طرح ہے کہ بنو مطلب قرابت داروں کے حصے میں بنو ہاشم کے ساتھ شریک ہیں، اور وہ سب آل رسول ہیں، چنانچہ یہ حدیث اس بات کی دلیل بنی کہ بنومطلب بھی آل رسول میں سے ہیں، نیز یہ کہ زکوٰۃ ان کے لیے بھی حرام ہے، اور خمس کا یہ عطیہ ان پر حرام کردہ صدقہ کے عوض ہے۔ نتیجتاً زکوٰۃ کی حرمت کا حکم خمس کے مستحق ہونے کی طرح قرابت داروں سے متعلق ہوگا اور اس حکم میں ہاشمی و مطلبی دونوں برابر ہوں گے۔ 

(معالم السنن للخطابی: جلد 2 صفحہ 71، الأم للشافعی: جلد 2 صفحہ 69، المجموع للنووی: جلد 6 صفحہ 244، العقیدۃ فی اہل البیت: صفحہ 181)

بنو مطلب کے بارے میں امام احمدؒ کے دو قول منقول ہیں:

1۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے باعث ان کے لیے زکوٰۃ حرام ہوگی:

إِنَّا وَبَنُوْ الْمُطَّلَبِ لَمْ نَفْتَرِقْ فِیْ جَاہِلِیَّۃٍ وَّ لَا إِشْلَامٍ إِنَّمَا نَحْنُ شَیْئٌ وَّاحِدٌ۔

(سنن أبي داود: کتاب الإمارۃ: رقم: 2980)

’’ہم اور بنو مطلب نہ زمانہ جاہلیت میں الگ ہوئے اور نہ زمانہ اسلام میں، ہم ایک ہی ہیں۔‘‘

امام شافعیؒ نے اپنی مسند میں ان لفظوں میں حدیث کو روایت کیا ہے:

إِنَّمَا بَنُوْ ہَاشِمٍ وَ بَنُوْ الْمُطَّلَبِ شَیْئٌ وَّاحِدٌ وَ شَبَّکَ بَیْنَ أَصَابِعِہِ۔

(سنن النسائی: رقم: 4137) 

’’بنوہاشم اور بنو مطلب ایک ہی ہیں اور آپﷺ نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کرکے اس کو سمجھایا۔‘‘

اس لیے بھی زکوٰۃ ان کے لیے حرام ہوگی کہ وہ خمس کے حصے کے بنوہاشم کی طرح مستحق ہیں، تو انھی کی طرح ان کے لیے بھی زکوٰۃ حرام ہوگی۔

2۔ امام ابوحنیفہؒ و امام مالکؒ کے مذہب کے مطابق امام احمدؒ کا دوسرا قول ہے کہ ان کے لیے زکوٰۃ لینی جائز ہے، اس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے عموم میں داخل ہیں:

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَالۡمَسٰكِيۡنِ ۞

(سورۃ التوبة آیت 60)

ترجمہ: صدقات تو دراصل حق ہے فقیروں کا، مسکینوں کا 

لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول:

إنَّ الصَّدَقَۃَ لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَّ لَا لِآلِ مُحَمَّدٍ۔

(صحیح مسلم: رقم: 1072)

’’صدقہ نہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )کے لیے حلال ہے اور نہ آل محمد کے لیے ہی۔‘‘

سے بنوہاشم خارج ہو جائیں گے اور زکوٰۃ لینے کی ممانعت انھی کے ساتھ خاص ہوگی۔

(العقیدۃ فی اہل البیت: صفحہ 181) 

ان لوگوں کی رائے ہے کہ بنومطلب کو بنو ہاشم پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ بنو ہاشم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ قریب ہیں۔ باقی خمس کے حصے میں بنومطلب کا بنوہاشم کے ساتھ ہونا قربت کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ اس وجہ سے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی، اور مدد زکوٰۃ کی ممانعت کی متقاضی نہیں ہے۔

(المغنی لابن قدامۃ: جلد 4 صفحہ 111، 112)

خمس نہ دیے جانے کی صورت میں انھیں زکوٰۃ دینے سے متعلق فقہاء نے گفتگو کی ہے، جب مالِ فے یا غنیمت سے بیت المال خالی ہونے یا ظالموں کے ان پر غاصبانہ قبضہ کی وجہ سے انھیں خمس کا اپنا حصہ نہ ملے تو بعض متقدمین و متاخرین علماء کا قول ہے کہ انھیں زکوٰۃ دی جائے گی۔

چنانچہ امام ابوحنیفہؒ سے منقول ہے کہ ایسی حالت میں بنوہاشم کو زکوٰۃ دینی جائز ہے، اس لیے کہ اس کا عوض خمس انھیں نہیں ملا ہے، اور جب عوض خمس انھیں نہیں ملا تو وہ معوض عنہ زکوٰۃ کی جانب لوٹ جائیں گے۔

(حاشیۃ ابن عابدین: جلد 2 صفحہ 91)

بعض مالکیہ کا قول ہے کہ وہ لوگ جب بیت المال سے ملنے والے اپنے حق سے محروم کردیے گئے اور فقیر ہوگئے تو ان کے لیے زکوٰۃ لینا اور انھیں زکوٰۃ دینا جائز ہے۔

(بلغۃ السالک: جلد 1 صفحہ 232 حاشیۃ الدسوقی: جلد 1 صفحہ 452، 253)

اس سلسلے میں ابوبکر ابہری (وہ محمد بن عبداللہ بن محمد، ابوبکر تمیمی ہیں، عراق میں مالکیہ کے سردار تھے، ان کی وفات 375ھ میں ہوئی، دیکھو شذرات الذہب: جلد 3 صفحہ 85، 86)

کہتے ہیں: ان کے لیے فرض اور نفلی صدقات حلال ہیں۔

(المنتقی للباجی: جلد 2 صفحہ 153) 

ابوسعید اصطخری شافعی کا قول ہے: جب خمس سے ملنے والے اپنے حق سے محروم کردیے جائیں تو انھیں زکوٰۃ دینی جائز ہے، خمس کے حق کی وجہ سے ان کے لیے زکوٰۃ کی ممانعت تھی، جب وہ حق انھیں نہ ملے تو انھیں زکوٰۃ دینی واجب ہے۔

(المجموع للنووی: جلد 6 صفحہ 244، 246)

ایسا اس حدیث:

(إِنَّ) لَکُمْ فِيْ خُمْسِ الْخُمُسِ مَا یَکْفِیْکُمْ أَوْ یُغْنِیْکُمْ۔

(تفسیر ابن کثیر: جلد 2 صفحہ 313 ابن کثیرؒ کہتے ہیں اس کی سند حسن ہے)

’’خمس کا پانچواں حصہ تمھارے لیے کافی ہے یا تمھیں مستغنیٰ کردے گا۔‘‘

کی وجہ سے ہے، چنانچہ زکوٰۃ سے استغناء خمس کے پانچویں حصے کی وجہ سے ہے، جب خمس معدوم ہوگا تو استغناء بھی معدوم ہوگا، اس طرح خمس ان کے استغناء اور ان کے لیے زکوٰۃ کی ممانعت کے لیے شرط ہے، جب شرط معدوم ہوجائے گی تو زکوٰۃ کی رکاوٹ بھی معدوم ہوجائے گی۔

بعض علمائے حنابلہ کا قول ہے:

’’جب انھیں خمس نہ ملے تو ان کے لیے زکوٰۃ جائز ہوجائے گی، اس لیے کہ یہ حاجت و ضرورت کی صورتِ حال ہے۔‘‘

(الإنصاف للمرداوی: جلد 3 صفحہ 255، و کشاف القناع للبہوتی: جلد 2 صفحہ 291)

اسی کو ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے راجح قرار دیا ہے۔

(الاختیارات: 104، العقیدۃ فی أہل البیت: صفحہ 186)

6۔ ربیعہ بن شیبان بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بات یاد ہے؟ فرمایا: مجھے آپ نے صدقہ کے کمرے میں داخل کیا، وہاں سے میں نے ایک کھجور لے کر اپنے منہ میں ڈال لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اسے منہ سے نکال پھینکو، یہ نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال ہے اور نہ اہل بیت میں سے کسی کے لیے۔‘‘ 

(مسند احمد: جلد 3 صفحہ 170 احمد شاکر کہتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے۔)

7۔ بریدہ بن ابو مریم ابوحوراء سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: ہم حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس تھے، ان سے پوچھا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون سی بات آپ نے سیکھی؟ تو کہا: میں آپ کے ساتھ چل رہا تھا، آپ کا گزر صدقہ کی کھجوروں کے ایک ڈھیر کے پاس سے ہوا، میں نے ایک کھجور لے کر منہ میں ڈال لی، آپ نے میرے لعاب سمیت اس کھجور کو لے لیا، کچھ لوگوں نے کہا: اگر آپ چھوڑ دیتے تو آپ کے لیے کوئی حرج کی بات نہیں تھی، آپﷺ نے فرمایا: ہم آل محمد کے لیے صدقہ حلال نہیں ہے، اور میں نے آپﷺ سے پانچوں نمازوں کو سیکھا۔ 

(مسند احمد: جلد 3 صفحہ 170 احمد شاکر کہتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے۔)

8۔ ایوب بن محمد سے مروی ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک جنازے کو دیکھا، ایک کھڑے ہوگئے، دوسرے بیٹھے رہے، کھڑے ہونے والے نے کہا: کیا ایسے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نہیں ہوئے ہیں؟ اور جو بیٹھے ہوئے تھے انھوں نے کہا : کیوں نہیں اور وہ بیٹھ گئے۔ 

(مسند احمد: جلد 3 صفحہ 171 احمد شاکر کہتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے)