گورنروں کے حقوق
علی محمد الصلابیخلفائے راشدینؓ کے دور میں گورنروں کو مختلف حقوق حاصل تھے، بعض حقوق کا تعلق رعایا سے تھا اور بعض کا خلیفہ سے، اس کے ساتھ کچھ حقوق بیت المال سے متعلق انہیں حاصل تھے، ان ادبی و اخلاقی اور مادی حقوق کا مقصد واجبات کی ادائیگی اور مصالح عامہ کی خدمت میں گورنروں سے تعاون کرنا تھا تاکہ وہ اپنی ذمہ داری کماحقہ ادا کر سکیں۔ ان حقوق میں سے اہم ترین یہ تھے:
اطاعت بشرطیکہ معصیت نہ ہو:
ارشاد ربانی ہے:
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَـوۡمِ الۡاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا ۞(سورۃ النساء آیت 59)
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی بھی اطاعت کرو اور تم میں سے جو لوگ صاحب اختیار ہوں ان کی بھی۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اگر واقعی تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اسے اللہ اور رسول کے حوالے کردو۔ یہی طریقہ بہترین ہے اور اس کا انجام بھی سب سے بہتر ہے۔
علامہ قرطبیؒ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اس سے قبل والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے حکام کو جب امانت کی ادائیگی اور لوگوں کے مابین عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کا حکم فرمایا تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رعیت کو اولاً اللہ عزوجل کی اطاعت کا حکم فرمایا جو اللہ کے اوامر کی بجا آوری اور اس کے نواہی سے اجتناب کا نام ہے، پھر ثانیاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوامرونواہی میں آپ کی اطاعت کا حکم فرمایا، اور پھر ثالثاً امراء و حکام کی اطاعت کا حکم دیا، جیسا کہ جمہور اور ابوہریرہ و ابن عباس وغیرہ رضی اللہ عنہم کا قول ہے۔
(تفسیر القرطبی: جلد 5 صفحہ 259)
عہد راشدی میں خاص طور سے اور اسلامی معاشرہ میں عام طور سے شریعت سب کے اوپر ہے، حاکم ہو یا محکوم سب اس کے تابع ہیں، اسی لیے حکام و امراء کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے ساتھ مقید کیا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
لا طاعۃ فی معصیۃ انما الطاعۃ فی المعروف۔
(البخاری: کتاب الاحکام: 7145)
’’معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں، اطاعت صرف بھلائی کے کاموں میں ہے۔‘‘