Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

خلاصہ

  علی محمد الصلابی

1: امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ اپنی قوم میں افضل ترین لوگوں میں سے تھے۔ بڑی جاہ و حشمت کے مالک، مالدار، شرم و حیا کے پتلے، شیریں کلام تھے، حضرت عثمان غنیؓ کی قوم آپؓ سے بڑی محبت کرتی تھی اور آپؓ کی تعظیم، توقیر اور احترام کرتی تھی۔ جاہلیت میں کسی بت کو کبھی سجدہ نہ کیا، زنا اور فحش کاری کے قریب نہ گئے، جاہلیت میں بھی شراب نہ پی۔

2: جس وقت سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے حضرت عثمان غنیؓ کو اسلام کی دعوت دی اس وقت آپؓ کی عمر چونتیس (34) برس تھی۔ اسلام قبول کرنے میں آپ نے کوئی لیت و لعل نہ کیا، بلکہ فوراً ابوبکر صدیقؓ کی دعوت کو قبول کرنے میں سبقت کی اور سابقین اولین میں شمار ہوئے۔

3: مسلمان حضرت عثمان غنیؓ کے اسلام سے بے حد خوش ہوئے، حضرت عثمان غنیؓ اور ان کے درمیان محبت اور اسلامی اخوت کا رشتہ مضبوط ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو رسول اللہﷺ کی دختر نیک اختر رقیہؓ کے ساتھ شادی سے مشرف ہونے کی توفیق دی۔

4: ابتلاء و آزمائش کی سنت افراد و جماعت، اقوام و امم اور ممالک و دول میں سنت الٰہی رہی ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں بھی یہ سنت الٰہی جاری رہی، ان نفوس نے اس ابتلاء و آزمائش کو برداشت کیا جن سے اونچے پہاڑ بھی عاجز آجائیں۔ اللہ کی راہ میں اپنے مال و خون کو صرف کیا۔ جہد و مشقت انتہاء کو پہنچ گئی اس ابتلاء سے معزز مسلمان بھی نہ بچے۔ حضرت عثمان غنیؓ بھی اللہ کی راہ میں ستائے گئے اور اپنے چچا حکم بن ابی العاص کے ہاتھوں اذیتیں اٹھائیں۔

5: جب سے حضرت عثمان غنیؓ نے اسلام قبول کیا رسول اللہﷺ کو لازم پکڑا، کبھی آپ سے جدا نہ ہوئے الا یہ کہ آپﷺ نے آپ کو کسی مہم پر روانہ کیا ہو جو کسی اور کے بس کا کام نہ ہو یا آپ ہی کی اجازت سے ہجرت حبشہ کی۔ رسول اللہﷺ کی صحبت کو لازم پکڑنے میں آپ دیگر خلفائے راشدینؓ کی طرح تھے گویا کہ اس صحبت کا التزام ان نفوس قدسیہ کا ایسا خاصہ تھا جس کے لیے اس ذات نے ان کو منتخب فرمایا تھا جس نے انہیں یکے بعد دیگرے خلافت کے لیے منتخب فرمایا تھا۔

6: حضرت ذوالنورینؓ کا تعلق اس عظیم دعوت کے ساتھ سال اول سے انتہائی مضبوط تھا، نبی کریمﷺ کی زندگی میں نبوت کی خاص و عام خبروں میں سے کوئی خبر آپ سے مخفی نہ رہنے پائی اور نہ اس کے بعد شیخین ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں خلافت کی کوئی خبر آپ سے مخفی رہنے پائی اور بالفاظ دیگر آج کی اصطلاح میں اسلامی سلطنت کی تاسیس کے اعمال میں سے کوئی عمل آپ سے دور نہ رہنے پایا۔

7: حضرت عثمان غنیؓ اور تمام صحابہ کرامؓ نے جس تربیتی منہج پر تربیت پائی تھی وہ رب العالمین کی طرف سے نازل ہونے والے قرآن سے ماخوذ تھا۔

8: جو چیز حضرت عثمان غنیؓ کی شخصیت پر اثر انداز ہوئی، آپؓ کی وہبی صلاحیت و قابلیت کو صیقل کیا اور آپ کی طاقت کو جوش دیا اور آپ کے نفس کی تہذیب کی وہ رسول اللہﷺ کی صحبت اور مدرسہ نبوت میں آپ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنا تھا۔ حضرت عثمان غنیؓ نے مکہ میں اسلام لانے کے بعد ہی سے آپﷺ کی صحبت کو لازم پکڑا اور اسی طرح ہجرت کے بعد مدینہ میں آپﷺ کی صحبت سے چمٹے رہے، اپنے نفس کو منظم کیا، مدرسہ نبوت میں علوم و معارف کے مختلف فروع و اقسام کے حلقوں میں اس معلم انسانیت و ہادی بشریت کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنے کے حریص رہے جن کو اللہ نے اچھی طرح ادب سکھایا تھا۔

9: حضرت عثمان غنیؓ معرکہ بدر سے بچتے ہوئے اور بھاگتے ہوئے پیچھے نہیں رہے تھے جیسا کہ اہل بدعت کا زعم ہے جو آپ پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ آپ کو رسول اللہﷺ کی مخالفت مقصود نہ تھی کیوں کہ اہل بدر کو بدر میں حاضری کی جو فضیلت حاصل ہوئی وہ رسول اللہﷺ کی اطاعت و اتباع کے نتیجہ میں حاصل ہوئی، حضرت عثمان غنیؓ بھی رسول اللہﷺ کے ساتھ نکلے تھے، لیکن رسول اللہﷺ نے ہی انہیں اپنی بیٹی سیدہ رقیہؓ کی خبر گیری کے لیے لوٹا دیا اور رسول اللہﷺ کی اطاعت میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے مال غنیمت میں رسول اللہﷺ نے ان کا بھی حصہ لگایا اور فضل و اجر میں ان کو شریک رکھا کیوں کہ اللہ و رسولﷺ کی اطاعت اور فرماں برداری ہی میں وہ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے۔

10: محب طبری نے بیان کیا ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر حضرت عثمان غنیؓ کی کئی خصوصیات سامنے آئیں: رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بیعت کرتے ہوئے حضرت عثمان غنیؓ کی عدم موجودگی میں اپنے ہاتھ کو حضرت عثمانؓ کا ہاتھ قرار دیا۔ رسول اللہﷺ کا پیغام مکہ میں قیدی مسلمانوں کو پہنچایا۔ اس موقع پر ترک طواف سے متعلق رسول اللہﷺ نے آپ کی موافقت کی۔

11: فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہﷺ نے عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کے سلسلہ میں آپ کی سفارش کو قبول کیا۔

12: مدینہ میں حضرت عثمان غنیؓ کی اجتماعی زندگی کے واقعات میں سے رقیہ بنت رسول اللہﷺ کے انتقال کے بعد ام کلثوم بنت رسول اللہﷺ سے آپ کی شادی، اور عبداللہ بن عثمان رضی اللہ عنہما کی وفات، پھر ام کلثومؓ کی وفات ہے۔

13: حکومت کی تعمیر و ترقی میں آپ کے تعاون میں سے بئر رومہ کو بیس ہزار درہم میں خرید کر امیر و غریب اور مسافر سب کے لیے وقف کر دینا تھا۔ مسجد نبویﷺ کی توسیع اور لشکر تبوک پر بھاری خرچ کیا۔

14: حضرت عثمان غنیؓ کی فضیلت میں بےشمار احادیث وارد ہیں ان میں کچھ وہ احادیث ہیں جو دوسروں کے ساتھ آپؓ کی فضیلت پر مشتمل ہیں اور کچھ وہ ہیں جن میں صرف آپؓ کی فضیلت بیان ہوئی ہے اور رسول اللہﷺ نے اس فتنہ کی بھی خبر دی تھی جس میں حضرت عثمان غنیؓ شہید ہوئے۔

15: حضرت عثمان غنیؓ عہد صدیقی میں ان صحابہ اور اہل شوریٰ میں سے تھے جن کی رائے اہم اور بنیادی مسائل میں لی جاتی تھی۔ آپ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے نزدیک مرتبہ میں دو میں سے دوسرا تھے۔ سیدنا عمر بن خطابؓ عزم و حزم اور شدائد کے لیے اور حضرت عثمان غنیؓ رفق و نرمی اور صبر و حلم کے لیے مشہور تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ خلافت صدیقی کے وزیر اور حضرت عثمان غنیؓ جنرل سکریٹری، ناموس اعظم اور کاتب اکبر تھے۔

16: حضرت عمر فاروقؓ کے نزدیک آپ کا بڑا بلند مقام و مرتبہ تھا، لوگوں کو جب حضرت عمر فاروقؓ سے کچھ سوال کرنا ہوتا تو عثمان بن عفان اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما کا سہارا لیتے۔ حضرت عثمان غنیؓ کو ردیف کہا جاتا تھا۔ (ردیف عربی زبان میں نائب کو کہا جاتا ہے، صدر مملکت کے بعد لوگ انہی سے امیدیں وابستہ رکھتے ہیں) اور جب یہ دونوں نہ کر سکتے تو ان کے ساتھ حضرت عباسؓ کو بھی شریک کر لیتے تھے۔

17: حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے افضل ترین اعمال میں شوریٰ کے وقت اپنے آپ کو خلافت سے الگ کر لینا اور اس شخص کا انتخاب کرنا ہے جس کا اصحاب حل و عقد نے مشورہ دیا اور اس سلسلہ میں حضرت عثمان غنیؓ پر امت کو متفق کرنے میں اپنے فرائض منصبی کو بحسن و خوبی ادا کیا۔

18: شوریٰ اور حضرت عثمان غنیؓ کی خلافت کے سلسلہ میں روافض اور شیعوں نے باطل اور جھوٹی روایات کو تاریخ اسلامی میں بھر دیا ہے اور مستشرقین نے اس کو لے کر اس کی خوب نشر و اشاعت کی اور بہت سے مؤرخین اور جدید مفکرین اس سے متاثر ہوئے ان روایات کو پرکھنے اور ان کی سند و متن کی تحقیق کرنے کی زحمت نہ کی پھر یہ جھوٹی روایات مسلمانوں میں پھیل گئیں۔

19: بے شمار دلائل ہیں جو بتاتے ہیں کہ حضرت عثمان غنیؓ خلافت کے زیادہ مستحق تھے، اور متمسکین کتاب و سنت کے نزدیک اس سلسلہ میں کوئی نزاع اور اختلاف نہیں ہے۔ حضرت عثمان غنیؓ کی خلافت پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اسی طرح صحابہ کرامؓ کے بعد آنے والے اہل سنت والجماعت (جنھوں نے صحابہؓ کا راستہ اختیار کیا ہے) کا اس بات پر اجماع ہے کہ عمر بن خطابؓ کے بعد خلافت نبوی کے سب سے زیادہ مستحق عثمان بن عفانؓ تھے۔

20: جب حضرت عثمان غنیؓ کی بیعتِ خلافت ہوئی تو آپ نے لوگوں کو خطاب فرمایا اور اپنے سیاسی منہج کا اعلان فرمایا اور یہ واضح کیا کہ وہ کتاب و سنت اور شیخین کی سیرت کا التزام کریں گے اور اس طرف بھی اپنے خطاب میں اشارہ فرمایا کہ وہ علم و حکمت کے ساتھ حکومت کریں گے الا یہ کہ لوگ خود اپنے اوپر حدود کو عائد کر لیں۔

آپس میں تنافس، تباغض اور تحاسد کے خوف سے لوگوں کو دنیا کی طرف جھکنے اور اس کے فتنے میں مبتلا ہونے سے ڈرایا تاکہ امت افتراق اور اختلاف کا شکار نہ ہو۔

21: حضرت ذوالنورینؓ کی شخصیت قائدانہ شخصیت تھی۔ حضرت عثمان غنیؓ قائد ربانی کے درج ذیل اوصاف سے متصف تھے: علم، تعلیم، توجیہ کی قدرت، حلم، دریا دلی، نرمی، عفو و درگزر، تواضع، حیا، عفت، کرم، شجاعت، عزم و حزم، صبر، عدل، عبادت، خوف، بکاء، محاسبہ، زہد، شکر، لوگوں کی خبر گیری، اختیارات کی تحدید، باصلاحیت افراد سے استفادہ۔

22: خلفائے راشدینؓ کی صفات کی معرفت اور ان کی اقتداء کی کوشش ان قائدین ربانی کی صفات میں سے ہیں جو امت کی قیادت ثابت قدمی کے ساتھ متعین اہداف کی طرف کر سکتے ہیں۔

23: حضرت عثمان غنیؓ کی مالی سیاست درج ذیل عام بنیادوں پر قائم ہوئی: عام اسلامی مالی سیاست کا نفاذ، رعایت کو وصولی مال میں خلل انداز نہ ہونے دینا، مسلمانوں سے بیت المال کے حق کو وصول کرنا اور ذمیوں سے بیت المال کے حق کو وصول کرنا ان کے حقوق کو ادا کرنا، ان پر ظلم نہ کرنا، عاملین خراج کا امانت و وفاداری کی صفت سے متصف ہونا، عوام کے پاس مال و دولت اور نعمتوں کی فراوانی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے ہر طرح کے مالی انحرافات کو ختم کرنا۔

24: حضرت عثمان غنیؓ کے دور خلافت میں عام اخراجات یہ تھے: گورنروں کی تنخواہیں، افواج کی تنخواہیں، حج کے اخراجات، مسجد نبوی کی توسیع و ترمیم، مسجد حرام کی توسیع، پہلے اسلامی بحری بیڑے کی تیاری، ساحل کو شعیبہ سے جدہ منتقل کرنا، کنوؤں کی کھدائی، مؤذنوں کے اخراجات وغیرہ۔

25: فسادیوں اور خوارج کی طرف سے حضرت عثمان غنیؓ پر بیت المال میں اسراف اور اپنے اعزہ و اقرباء کو زیادہ دینے کا اتہام باندھا گیا اور اس اتہام کے سہارے سبائیوں نے باطل پروپیگنڈہ مہم چلائی اور شیعہ و روافض آج تک آپ کے خلاف اس کو منوانے میں لگے ہیں۔ یہ اتہامات تاریخی کتابوں میں آ گئے، اور مفکرین و مؤرخین نے ان کو حقائق کی حیثیت سے استعمال کیا حالاں کہ یہ باطل و من گھڑت ہیں ان کا سرے سے ثبوت ہی نہیں۔

26: حضرت ذوالنورینؓ کا دور دورِ راشدی کا امتداد ہے جس کی اہمیت عہد نبوی سے متصل و قریب ہونے کی وجہ سے نمایاں ہے۔ دور راشدی عام طور سے اور شعبہ قضا خاص طور سے عہد نبوی کے قضاء کا امتداد ہے۔ عہد نبوی میں ثابت شدہ قضاء کی اس دور میں مکمل محافظت اور نص و معنیٰ کی مکمل تنفیذ کی گئی تھی۔

27: فتوحات کے سلسلہ میں حضرت عثمان غنیؓ کے منصوبہ میں عزم و حوصلہ نمایاں تھا۔ درج ذیل امور سے اس کا اظہار ہوتا ہے:

فارس و روم کے باغیوں کو تابع کرنا، ان ممالک پر اسلام کی حکومت و پکڑ کو بحال رکھنا، ان سے مدد کو روکنے کے لیے ان کے پیچھے ممالک میں جہاد و فتوحات کو جاری رکھنا، اسلامی شہروں کی حفاظت کے لیے فوجی مراکز قائم کرنا، بحری فوجی طاقت تیار کرنا کیوں کہ اسلامی لشکر کو اس کی ضرورت تھی۔

28: حضرت عثمان غنیؓ کے دور خلافت میں اسلامی فوجی چھاؤنیاں اور سرحدی فوجی مراکز صوبوں کے صدر مقام ہوا کرتے تھے۔ عراق کی فوجی چھاؤنی کوفہ و بصرہ میں تھی، اور شام کی فوجی چھاؤنی مکمل شام امیر معاویہؓ کے ماتحت ہونے کے بعد دمشق میں تھی، اور مصر کی فوجی چھاؤنی فسطاط میں قائم تھی۔ یہ فوجی چھاؤنیاں ایک طرف اسلامی سلطنت کی حفاظت کرتی تھیں تو دوسری طرف اسلامی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھیں اور اسلام کی نشر و اشاعت میں لگی ہوئی تھیں۔

29: حضرت عثمان غنیؓ کے دور میں مشہور جرنیل اور سپہ سالار یہ لوگ تھے:

احنف بن قیسؓ، سلیمان بن ربیعہؓ، عبدالرحمٰن بن ربیعہؓ، حبیب بن مسلمہؓ

30: ذات صواری کا معرکہ عسکری تجربہ، جنگی ساز و سامان اور نفری قوت پر عقیدہ صحیحہ کی بالادستی کا مظہر تھا۔ رومی قدیم زمانے سے سمندر کا گہرا تجربہ رکھتے تھے اور ان کے پاس سمندری جنگوں کا طویل تجربہ تھا اور مسلمان سمندری جنگ اور سمندری سفر کے سلسلہ میں ناتجربہ کار اور نئے تھے۔

31: حضرت عثمان غنیؓ کی فتوحات میں اہم ترین دروس و عبر اور فوائد میں سے: اہل ایمان کے لیے نصرت و غلبہ کے سلسلہ میں وعدہ الٰہی کا پورا ہونا، جنگی اور سیاسی فنون میں ترقی، مسلمانوں کا سمندر کا سفر کرنا، اعداء سے متعلق معلومات اکٹھی کرنا اور دشمن کے مقابلہ میں اتفاق و اتحاد کا حریص رہنا ہے۔

32: حضرت عثمان غنیؓ کے عہدِ خلافت میں جمع قرآن کے واقعہ سے یہ حقیقت آشکارا ہوتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اختلافات سے ممانعت کی آیات کا کس حد تک فہم رکھتے تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اختلافات سے منع فرمایا اور اس سے ہوشیار کیا ہے۔ ان آیات کے فہم کی گہرائی ہی کا یہ اثر تھا کہ حضرت حذیفہؓ نے جب قرأت قرآن میں اختلاف کو سنا تو کانپ اٹھے اور فوراً مدینہ پہنچے اور جو کچھ دیکھا اور سنا اس کی خبر حضرت عثمان غنیؓ کو پہنچائی اور مختصر سی مدت میں عثمان رضی اللہ عنہ نے اس مسئلہ کو ختم کیا اور اختلاف کا دروازہ بند کر دیا۔

33: مسلمانوں کے دلوں کو جوڑنے اور ان کی صفوں کو متحد کرنے کے اسباب کو اختیار کرنا عظیم ترین جہاد ہے اور یہ اقدام مسلمانوں کے اعزاز اور ان کی سلطنت کو قائم کرنے اور شریعت الٰہی کے نفاذ کے سلسلہ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ حضرت عثمان غنیؓ کا امت کو ایک مصحف پر جمع کرنے میں خلفائے راشدینؓ کی فقہ انتہائی حسین اور واضح شکل میں نمایاں ہے۔

34: حضرت عثمان غنیؓ کے دورِ خلافت میں اسلامی ریاستیں اور صوبے یہ تھے: مکہ، مدینہ، بحرین، یمامہ، یمن، حضرموت، شام، آرمینیہ، مصر، بصرہ، کوفہ

35: حضرت عثمان غنیؓ نے اپنے عمال و افسران کی نگرانی اور ان کی خبروں پر مطلع ہونے کے لیے مختلف اسالیب اختیار کیے، ان میں سے بعض یہ ہیں: موسم حج میں حاضر ہونا، صوبوں اور شہروں سے آنے والوں سے سوال دریافت کرنا، جانچ پڑتال کرنے والوں کو صوبوں اور ریاستوں میں بھیجنا، گورنروں کو طلب کرنا اور ان سے سوال کرنا وغیرہ۔

36: عہدِ راشدی میں امراء اور گورنروں کے حقوق یہ تھے: غیر معصیت میں ان کی اطاعت کرنا، ان کی خیر خواہی کا حق ادا کرنا، ان تک صحیح خبریں پہنچانا، معزولی کے بعد ان کا احترام کرنا، ان کی تنخواہیں دینا۔

37: عہد راشدی میں امراء اور گورنروں کے فرائض یہ تھے: امور دین کی اقامت، لوگوں کو امن و امان بہم پہنچانا، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، لوگوں کے لیے اشیائے خورو نوش کی حفاظت میں پوری کوشش صرف کرنا، عمال اور وظیفہ دینے والے مقرر کرنا، ذمیوں کا خیال رکھنا، اور اپنے اپنے صوبہ میں اہل رائے سے مشورہ لینا، صوبہ کی تعمیری ضرورت پر غور و فکر کرنا، اور صوبوں کے باشندوں کے معاشرتی اور اجتماعی احوال کا خیال رکھنا۔

38: حضرت عثمان غنیؓ قابل اقتداء خلیفہ راشد ہیں، آپ کے افعال اور کارروائیاں اس امت کے دستوری ریکارڈ ہیں، حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے بعد والوں کے لیے قرابت داروں کو قریب کرنے سے احتراز کرنے کی طرح ڈالی لیکن حضرت عثمان غنیؓ نے قربت داروں کو قریب کرنے کی طرح ڈالی بشرطیکہ انتظامی صلاحیت و قابلیت کے حامل ہوں اور حضرت عثمان غنیؓ پر جو اعتراضات کیے گئے وہ مباح کے دائرے سے خارج نہیں۔

39: حضرت عثمان غنیؓ نے اپنے قرابت داروں میں سے جن والیوں اور گورنروں کو مقرر کیا انہوں نے اپنے اپنے صوبوں اور ریاستوں کے انتظام و انصرام میں اپنی قابلیت و صلاحیت ثابت کر کے دکھائی اور ان کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے بہت سے ممالک پر فتح عطا کی اور انہوں نے رعیت میں عدل و احسان کا طریقہ اختیار کیا، ان میں وہ حضرات بھی تھے جو یہ منصب عہدِ صدیقی اور عہد فاروقی میں سنبھال چکے تھے۔

40: جب بھی اسلامی تاریخ کے اس دور کا مطالعہ کیا جائے گا تو جو شخص بھی صحیح تاریخی وقائع کی طرف رجوع کرے گا اور ان حضرات کی سیرتوں کا جائزہ لے گا جن سے حضرت عثمان غنیؓ نے ملکی انتظام و انصرام میں کام لیا ہے تو وہ پسندیدگی اور فخر کا اعلان کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اسلامی دعوت کی تاریخ میں ان کے جہاد کا کتنا خوشگوار اثر ہوا اور ان کے حسن انتظام و انصرام کے عظیم نتائج اس امت کی خوش حالی اور سعادت مندی کی شکل میں ظاہر ہوئے۔

41: بہت سے مؤلفین و مصنفین نے دورِ عثمانی سے متعلق غیر منصفانہ اور غیر تحقیقی تحریروں میں حضرت عثمان غنیؓ کو نہیں بخشا ان میں سے اکثر لوگ ضعیف اور رافضی روایات سے متاثر ہوئے اور حضرت عثمان غنیؓ پر ظالمانہ اور باطل حکم لگایا، جسے طہٰ حسین اپنی کتاب ’’الفتنۃ الکبریٰ‘‘ میں، راضی عبدالرحیم اپنی کتاب ’’النظم الاسلامیۃ‘‘ میں، محمد ریس نے اپنی کتاب ’’النظریات السیاسیۃ‘‘ میں، علی حسین خر بوطلی نے اپنی ’’کتاب الاسلام و الخلافۃ‘‘ میں، ابوالاعلیٰ مودودی نے اپنی کتاب ’’خلافت و ملوکیت‘‘ میں، سید قطب نے اپنی کتاب ’’العدالۃ الاجتماعیۃ‘‘ میں، وغیرہم۔ یقیناً حضرت عثمان غنیؓ خلیفۂ مظلوم ہیں۔ حضرت عثمان غنیؓ کے اولین معاندین نے افتراء پردازی کی اور متاخرین نے انصاف سے کام نہ کیا۔ 

42: تاریخی حقائق کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ابوذر غفاریؓ کو جلا وطن نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اجازت طلب کی اور آپ نے ان کو اجازت دے دی۔ حضرت عثمان غنیؓ کے اعداء نے یہ پروپیگنڈہ کیا کہ آپ نے ان کو جلا وطن کر دیا تھا۔

43: حضرت ابوذر غفاریؓ دور و نزدیک کہیں سے بھی عبداللہ بن سبا یہودی کے افکار و نظریات سے متاثر نہیں ہوئے۔ آپ نے مقام ربذہ میں وفات تک سکونت اختیار کی اور کسی فتنہ میں شریک نہیں ہوئے۔

44: فتنہ قتل عثمانؓ کے مختلف اسباب ہیں: خوش حالی اور معاشرہ پر اس کا اثر، عہد عثمانی میں معاشرتی تبدیلی، حضرت عثمان غنیؓ کا حضرت عمرؓ کے بعد آنا، اکابر صحابہؓ کا مدینہ سے منتقل ہو جانا، جاہلی عصبیت، فتوحات کا رک جانا، زہد و ورع کا غلط مفہوم، اقتدار پسندوں کی امنگیں، حاقدین کی سازش، حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف اعتراضات کو ہوا دینے کی منظم اور محکم تدابیر، لوگوں کو برانگیختہ کرنے والے وسائل و اسالیب کو اختیار کرنا، عبداللہ بن سبا کا کردار۔

45: فتنہ کی چنگاری کوفہ سے اٹھی، ان فسادیوں کو شام کی طرف شہر بدر کیا گیا، پھر الجزیرہ میں عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کے پاس ٹھہرے اور یزید بن قیس کے ساتھ خط و کتابت کے بعد یہ لوگ کوفہ لوٹ آئے۔

46: فتنہ کے ساتھ تعامل کے سلسلہ میں عثمانی سیاست حلم و صبر، عدم استعجال اور عدل پر قائم تھی۔ آپ نے اس کے مقابلہ میں متعدد اسلوب اختیار کیے: تحقیق و جانچ کے لیے کمیٹیاں تشکیل دے کر روانہ کرنا، صوبوں کے باشندگان کے نام ہر مسلمان کے لیے عام اعلان کی شکل میں خطوط بھیجنا، صوبوں کے والیان اور گورنروں سے مشاورت کرنا، باغیوں پر حجت قائم کرنا اور ان کے بعض مطالبات کو قبول کرنا۔

47: فتنہ کے ساتھ تعامل کے سلسلہ میں جو بھی حضرت عثمان غنیؓ کے طرز عمل میں غور و فکر کرے گا وہ اس سے بعض ایسے اصول و ضوابط مستنبط کر سکتا ہے جو فتنوں کا مقابلہ کرنے میں مسلمانوں کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔ انہی اصول و ضوابط میں سے چند یہ ہیں: تحقیق و توثیق، عدل و انصاف کا التزام، حلم و صبر، نفع بخش چیز کا حریص ہونا، مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈالنے والے امور کو نظر انداز کرنا، خاموشی اختیار کرنا اور کثرت کلام سے پرہیز کرنا، علماء ربانی سے مشورہ کرنا، فتنوں سے متعلق احادیث نبویہ سے رہنمائی حاصل کرنا۔

48: محققین کے سامنے یہ حقیقت آشکارا ہوتی ہے کہ کچھ اسباب ایسے تھے جن کی وجہ سے حضرت عثمان غنیؓ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دفاع میں قتال کرنے سے روک دیا تھا۔ وہ اسباب یہ تھے: رسول اللہﷺ کی اس وصیت پر عمل جو آپﷺ نے حضرت عثمانؓ کو چپکے سے کی تھی اور جس کو حضرت عثمان غنیؓ نے محاصرہ کے دنوں میں بیان کیا اور بتلایا کہ یہ ان کے ساتھ معاہدہ ہے اور اس پر وہ صابر ہیں۔ آپ نے یہ ناپسند کیا کہ رسول اللہﷺ کے بعد امت میں آپ پہلے شخص ہوں جو مسلمانوں کا خون بہائیں۔ آپ کو اس حقیقت کا علم تھا کہ باغی صرف انہی کو قتل کرنا چاہتے ہیں لہٰذا آپ نے مسلمانوں کے ذریعہ سے بچاؤ کو ناپسند کیا، اور یہ پسند کیا کہ اپنی جان دے کر مسلمانوں کی جانوں کو بچا لیں۔ آپ کو اس بات کا علم تھا کہ اس فتنہ میں شہید ہوں گے اور رسول اللہﷺ نے آپ کو اس کی خبر اس وقت دی تھی جب آپ کو مصیبت کے ساتھ جنت کی خوشخبری دی تھی اور یہ کہ وہ حق پر ثابت رہ کر فتنہ میں شہید ہوں گے۔ حضرت عبداللہ بن سلامؓ کی وصیت پر عمل جب کہ انہوں نے آپ سے کہا تھا کہ دفاع سے رک جائیں یہ آپ کے لیے بلیغ حجت ہے۔

49: حضرت عثمان غنیؓ کا قاتل ایک مصری شخص ہے۔ روایات میں اس کے نام کی وضاحت نہیں، محمد بن ابی بکر پر جو قتل عثمان کا اتہام ہے وہ باطل ہے اس سلسلہ کی روایات ضعیف ہیں اور اس کے متن شاذ ہیں کیوں کہ وہ صحیح روایات کے مخالف ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قاتل مصری شخص ہے۔

50: تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خونِ عثمانؓ سے بری الذمہ ہیں، صحیح اخبار و قائع اور تواریخ اس بات پر شاہد ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے یا فتنہ میں شرکت کرنے سے بری الذمہ ہیں جیسا کہ ہم نے اس سلسلہ میں صحیح روایات پیش کی ہیں۔

51: حضرت عثمان غنیؓ بیدار مغز تھے، باغیوں کی سازشوں اور ان کے اغراض و مقاصد سے آپؓ غافل نہ رہے بلکہ آپ ان کی صفوں کو پھاڑنے اور ان کے منصوبوں کو معلوم کرنے میں کامیاب رہے اور بڑی شجاعت سے ان کا مقابلہ کیا اور اس بات کو ناپسند کیا کہ مسلمانوں میں سب سے پہلے تلوار کھینچنے والے بنیں اور امت کی خاطر اپنی جان قربان کر دی، قربانی و ایثار کی یہ بلندی ہے۔

52: شہادتِ عثمان غنیؓ کا فتنہ دوسرے بہت سے فتنوں کے وجود کا سبب بنا اور اپنے بعد کے فتنوں پر اپنا سایہ ڈالا، لوگوں کے دل بدل گئے، کذب ظاہر ہوا، عقیدہ و شریعت میں اسلام سے انحراف شروع ہوا۔

53: دوسروں پر ناحق ظلم و زیادتی دنیا و آخرت میں ہلاکت کے اسباب میں سے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَتِلۡكَ الۡقُرٰٓى اَهۡلَكۡنٰهُمۡ لَمَّا ظَلَمُوۡا وَجَعَلۡنَا لِمَهۡلِكِهِمۡ مَّوۡعِدًا۞(سورۃ الكهف آیت 59)

ترجمہ: یہ ساری بستیاں (تمہارے سامنے) ہیں، جب انہوں نے ظلم کی روش اپنائی تو ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا، اور ان کی ہلاکت کے لیے (بھی) ہم نے ایک وقت مقرر کیا ہوا تھا۔

حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف خروج کرنے والے باغیوں کے احوال کا جو جائزہ لے گا اس کے سامنے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں نہیں بخشا بلکہ ان کو ذلیل و رسوا کیا اور ان سے اس طرح انتقام لیا کہ ان میں سے کوئی نہ بچ سکا۔

54: اس مصیبت کا مسلمانوں کے نفوس پر گہرا اثر پڑا، ان کی عقلیں زائل ہو گئیں، حزن و غم نے انہیں گھیر لیا، ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، ان کی زبانیں حضرت عثمان غنیؓ کی مدح و ثنا میں لگ گئیں اور ان کے لیے رحمت کی دعائیں کرنے لگے۔ حضرت حسان بن ثابتؓ نے امیر المؤمنین پر مرثیہ کہا، رلانے والے غم ناک قصائد کے ذریعہ سے آپ کی شہادت پر مصائب و آلام کا کثرت سے ذکر کیا اور قاتلین کی ہجو کی، جس کو تاریخ نے ہمارے لیے محفوظ کر لیا، راتوں نے اسے مہمل قرار نہ دیا اور زمانہ کی رکاوٹیں اور صدیوں کی دیواریں اسے ہم سے دور نہ کر سکیں۔

55: یہ ہیں وہ حقائق جن کی جمع و ترتیب اور تحقیق و تحلیل کی اللہ نے مجھے توفیق بخشی جس پر اس کتاب (عثمان بن عثمان رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے) کی فصلیں شامل ہیں۔ اس میں جو درست ہو وہ محض اللہ کا مجھ پر فضل ہے اس کا شکر و احسان ہے، اور جو اس میں غلطی ہو تو میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں۔ اللہ و رسولﷺ اس سے بری الذمہ ہیں۔ میرے لیے یہ کافی ہے کہ میں ان حقائق و براہین اور دلائل کو بیان کرنے کا حریص رہا ہوں جو خلیفہ راشد عثمانؓ کی حقیقت واضح کرتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ وہ میرے مسلمان بھائیوں کو اس کتاب سے نفع پہنچائے اور قارئین اپنی دعاؤں میں مجھے یاد رکھیں، ان شاء اللہ غیاب میں ایک بھائی کی دعا دوسرے کے حق میں مقبول ہو گی۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر اپنی کتاب کو ختم کرتا ہوں:

وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡمِنۡ بَعۡدِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡلَـنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ۞(سورۃ الحشر آیت 10)

ترجمہ: اور (یہ مال فیئ) ان لوگوں کا بھی حق ہے جو ان (مہاجرین اور انصار) کے بعد آئے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ: اے ہمارے پروردگار! ہماری بھی مغفرت فرمائیے، اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں، اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والوں کے لیے کوئی بغض نہ رکھیے۔ اے ہمارے پروردگار! آپ بہت شفیق، بہت مہربان ہیں۔ 

اور شاعر کہتا ہے:

إن تجد عیبا فسد الخللا

جل من لاعیب فیہ و علا

’’تمھیں کوئی عیب ملے تو اسے دور کر لو۔ اللہ جل جلالہ ہی بےعیب ہے۔‘‘

اور شاعر کا قول ہے:

اطلب العلم ولا تکسل فما

ابعد الخیر علی اہل الکسل

’’علم حاصل کرو، کاہلی مت کرو، کاہلی کرنے والوں سے بھلائی بہت دور ہوتی ہے۔‘‘

احتفل للفقہ فی الدین ولا

تششغل بمال و حول

’’تفقہ فی الدین کی فکر کرو، دین سے روکنے والی چیزوں اور دنیاوی مال و دولت میں نہ پھنسو۔‘‘

واہجر النوم وحصلہ فمن

یعرف المعروف یحقر ما بذل

’’جاگو اور اسے حاصل کرو، جو اچھائی کی قدر جانتا ہے اس کے لیے سب کچھ خرچ کر دیتا ہے۔‘‘

ولا تقل قد ذھبت اربابہ

کل من سار علی الدرب و صل

’’یہ نہ کہو کہ تفقہ فی الدین والے چلے گئے۔ جو چلتا رہتا ہے منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے۔‘‘

و آخر دعوانا ان الحمد للّٰه رب العالمین

کتبہ الفقیر إلی عفو ربہ ومغفرتہ و رحمتہ و رضوانہ

علي محمد محمد الصلابي

8 ربیع ال

ثانی 1423 ھـ

18/2/2002 م