خلاصہ
علی محمد الصلابی1: امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ اپنی قوم میں افضل ترین لوگوں میں سے تھے۔ بڑی جاہ و حشمت کے مالک، مالدار، شرم و حیا کے پتلے، شیریں کلام تھے، حضرت عثمان غنیؓ کی قوم آپؓ سے بڑی محبت کرتی تھی اور آپؓ کی تعظیم، توقیر اور احترام کرتی تھی۔ جاہلیت میں کسی بت کو کبھی سجدہ نہ کیا، زنا اور فحش کاری کے قریب نہ گئے، جاہلیت میں بھی شراب نہ پی۔
2: جس وقت سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے حضرت عثمان غنیؓ کو اسلام کی دعوت دی اس وقت آپؓ کی عمر چونتیس (34) برس تھی۔ اسلام قبول کرنے میں آپ نے کوئی لیت و لعل نہ کیا، بلکہ فوراً ابوبکر صدیقؓ کی دعوت کو قبول کرنے میں سبقت کی اور سابقین اولین میں شمار ہوئے۔
3: مسلمان حضرت عثمان غنیؓ کے اسلام سے بے حد خوش ہوئے، حضرت عثمان غنیؓ اور ان کے درمیان محبت اور اسلامی اخوت کا رشتہ مضبوط ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو رسول اللہﷺ کی دختر نیک اختر رقیہؓ کے ساتھ شادی سے مشرف ہونے کی توفیق دی۔
4: ابتلاء و آزمائش کی سنت افراد و جماعت، اقوام و امم اور ممالک و دول میں سنت الٰہی رہی ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں بھی یہ سنت الٰہی جاری رہی، ان نفوس نے اس ابتلاء و آزمائش کو برداشت کیا جن سے اونچے پہاڑ بھی عاجز آجائیں۔ اللہ کی راہ میں اپنے مال و خون کو صرف کیا۔ جہد و مشقت انتہاء کو پہنچ گئی اس ابتلاء سے معزز مسلمان بھی نہ بچے۔ حضرت عثمان غنیؓ بھی اللہ کی راہ میں ستائے گئے اور اپنے چچا حکم بن ابی العاص کے ہاتھوں اذیتیں اٹھائیں۔
5: جب سے حضرت عثمان غنیؓ نے اسلام قبول کیا رسول اللہﷺ کو لازم پکڑا، کبھی آپ سے جدا نہ ہوئے الا یہ کہ آپﷺ نے آپ کو کسی مہم پر روانہ کیا ہو جو کسی اور کے بس کا کام نہ ہو یا آپ ہی کی اجازت سے ہجرت حبشہ کی۔ رسول اللہﷺ کی صحبت کو لازم پکڑنے میں آپ دیگر خلفائے راشدینؓ کی طرح تھے گویا کہ اس صحبت کا التزام ان نفوس قدسیہ کا ایسا خاصہ تھا جس کے لیے اس ذات نے ان کو منتخب فرمایا تھا جس نے انہیں یکے بعد دیگرے خلافت کے لیے منتخب فرمایا تھا۔
6: حضرت ذوالنورینؓ کا تعلق اس عظیم دعوت کے ساتھ سال اول سے انتہائی مضبوط تھا، نبی کریمﷺ کی زندگی میں نبوت کی خاص و عام خبروں میں سے کوئی خبر آپ سے مخفی نہ رہنے پائی اور نہ اس کے بعد شیخین ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں خلافت کی کوئی خبر آپ سے مخفی رہنے پائی اور بالفاظ دیگر آج کی اصطلاح میں اسلامی سلطنت کی تاسیس کے اعمال میں سے کوئی عمل آپ سے دور نہ رہنے پایا۔
7: حضرت عثمان غنیؓ اور تمام صحابہ کرامؓ نے جس تربیتی منہج پر تربیت پائی تھی وہ رب العالمین کی طرف سے نازل ہونے والے قرآن سے ماخوذ تھا۔
8: جو چیز حضرت عثمان غنیؓ کی شخصیت پر اثر انداز ہوئی، آپؓ کی وہبی صلاحیت و قابلیت کو صیقل کیا اور آپ کی طاقت کو جوش دیا اور آپ کے نفس کی تہذیب کی وہ رسول اللہﷺ کی صحبت اور مدرسہ نبوت میں آپ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنا تھا۔ حضرت عثمان غنیؓ نے مکہ میں اسلام لانے کے بعد ہی سے آپﷺ کی صحبت کو لازم پکڑا اور اسی طرح ہجرت کے بعد مدینہ میں آپﷺ کی صحبت سے چمٹے رہے، اپنے نفس کو منظم کیا، مدرسہ نبوت میں علوم و معارف کے مختلف فروع و اقسام کے حلقوں میں اس معلم انسانیت و ہادی بشریت کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنے کے حریص رہے جن کو اللہ نے اچھی طرح ادب سکھایا تھا۔
9: حضرت عثمان غنیؓ معرکہ بدر سے بچتے ہوئے اور بھاگتے ہوئے پیچھے نہیں رہے تھے جیسا کہ اہل بدعت کا زعم ہے جو آپ پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ آپ کو رسول اللہﷺ کی مخالفت مقصود نہ تھی کیوں کہ اہل بدر کو بدر میں حاضری کی جو فضیلت حاصل ہوئی وہ رسول اللہﷺ کی اطاعت و اتباع کے نتیجہ میں حاصل ہوئی، حضرت عثمان غنیؓ بھی رسول اللہﷺ کے ساتھ نکلے تھے، لیکن رسول اللہﷺ نے ہی انہیں اپنی بیٹی سیدہ رقیہؓ کی خبر گیری کے لیے لوٹا دیا اور رسول اللہﷺ کی اطاعت میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے مال غنیمت میں رسول اللہﷺ نے ان کا بھی حصہ لگایا اور فضل و اجر میں ان کو شریک رکھا کیوں کہ اللہ و رسولﷺ کی اطاعت اور فرماں برداری ہی میں وہ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے۔
10: محب طبری نے بیان کیا ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر حضرت عثمان غنیؓ کی کئی خصوصیات سامنے آئیں: رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بیعت کرتے ہوئے حضرت عثمان غنیؓ کی عدم موجودگی میں اپنے ہاتھ کو حضرت عثمانؓ کا ہاتھ قرار دیا۔ رسول اللہﷺ کا پیغام مکہ میں قیدی مسلمانوں کو پہنچایا۔ اس موقع پر ترک طواف سے متعلق رسول اللہﷺ نے آپ کی موافقت کی۔
11: فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہﷺ نے عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کے سلسلہ میں آپ کی سفارش کو قبول کیا۔
12: مدینہ میں حضرت عثمان غنیؓ کی اجتماعی زندگی کے واقعات میں سے رقیہ بنت رسول اللہﷺ کے انتقال کے بعد ام کلثوم بنت رسول اللہﷺ سے آپ کی شادی، اور عبداللہ بن عثمان رضی اللہ عنہما کی وفات، پھر ام کلثومؓ کی وفات ہے۔
13: حکومت کی تعمیر و ترقی میں آپ کے تعاون میں سے بئر رومہ کو بیس ہزار درہم میں خرید کر امیر و غریب اور مسافر سب کے لیے وقف کر دینا تھا۔ مسجد نبویﷺ کی توسیع اور لشکر تبوک پر بھاری خرچ کیا۔
14: حضرت عثمان غنیؓ کی فضیلت میں بےشمار احادیث وارد ہیں ان میں کچھ وہ احادیث ہیں جو دوسروں کے ساتھ آپؓ کی فضیلت پر مشتمل ہیں اور کچھ وہ ہیں جن میں صرف آپؓ کی فضیلت بیان ہوئی ہے اور رسول اللہﷺ نے اس فتنہ کی بھی خبر دی تھی جس میں حضرت عثمان غنیؓ شہید ہوئے۔
15: حضرت عثمان غنیؓ عہد صدیقی میں ان صحابہ اور اہل شوریٰ میں سے تھے جن کی رائے اہم اور بنیادی مسائل میں لی جاتی تھی۔ آپ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے نزدیک مرتبہ میں دو میں سے دوسرا تھے۔ سیدنا عمر بن خطابؓ عزم و حزم اور شدائد کے لیے اور حضرت عثمان غنیؓ رفق و نرمی اور صبر و حلم کے لیے مشہور تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ خلافت صدیقی کے وزیر اور حضرت عثمان غنیؓ جنرل سکریٹری، ناموس اعظم اور کاتب اکبر تھے۔
16: حضرت عمر فاروقؓ کے نزدیک آپ کا بڑا بلند مقام و مرتبہ تھا، لوگوں کو جب حضرت عمر فاروقؓ سے کچھ سوال کرنا ہوتا تو عثمان بن عفان اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما کا سہارا لیتے۔ حضرت عثمان غنیؓ کو ردیف کہا جاتا تھا۔ (ردیف عربی زبان میں نائب کو کہا جاتا ہے، صدر مملکت کے بعد لوگ انہی سے امیدیں وابستہ رکھتے ہیں) اور جب یہ دونوں نہ کر سکتے تو ان کے ساتھ حضرت عباسؓ کو بھی شریک کر لیتے تھے۔
17: حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے افضل ترین اعمال میں شوریٰ کے وقت اپنے آپ کو خلافت سے الگ کر لینا اور اس شخص کا انتخاب کرنا ہے جس کا اصحاب حل و عقد نے مشورہ دیا اور اس سلسلہ میں حضرت عثمان غنیؓ پر امت کو متفق کرنے میں اپنے فرائض منصبی کو بحسن و خوبی ادا کیا۔
18: شوریٰ اور حضرت عثمان غنیؓ کی خلافت کے سلسلہ میں روافض اور شیعوں نے باطل اور جھوٹی روایات کو تاریخ اسلامی میں بھر دیا ہے اور مستشرقین نے اس کو لے کر اس کی خوب نشر و اشاعت کی اور بہت سے مؤرخین اور جدید مفکرین اس سے متاثر ہوئے ان روایات کو پرکھنے اور ان کی سند و متن کی تحقیق کرنے کی زحمت نہ کی پھر یہ جھوٹی روایات مسلمانوں میں پھیل گئیں۔
19: بے شمار دلائل ہیں جو بتاتے ہیں کہ حضرت عثمان غنیؓ خلافت کے زیادہ مستحق تھے، اور متمسکین کتاب و سنت کے نزدیک اس سلسلہ میں کوئی نزاع اور اختلاف نہیں ہے۔ حضرت عثمان غنیؓ کی خلافت پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اسی طرح صحابہ کرامؓ کے بعد آنے والے اہل سنت والجماعت (جنھوں نے صحابہؓ کا راستہ اختیار کیا ہے) کا اس بات پر اجماع ہے کہ عمر بن خطابؓ کے بعد خلافت نبوی کے سب سے زیادہ مستحق عثمان بن عفانؓ تھے۔
20: جب حضرت عثمان غنیؓ کی بیعتِ خلافت ہوئی تو آپ نے لوگوں کو خطاب فرمایا اور اپنے سیاسی منہج کا اعلان فرمایا اور یہ واضح کیا کہ وہ کتاب و سنت اور شیخین کی سیرت کا التزام کریں گے اور اس طرف بھی اپنے خطاب میں اشارہ فرمایا کہ وہ علم و حکمت کے ساتھ حکومت کریں گے الا یہ کہ لوگ خود اپنے اوپر حدود کو عائد کر لیں۔
آپس میں تنافس، تباغض اور تحاسد کے خوف سے لوگوں کو دنیا کی طرف جھکنے اور اس کے فتنے میں مبتلا ہونے سے ڈرایا تاکہ امت افتراق اور اختلاف کا شکار نہ ہو۔
21: حضرت ذوالنورینؓ کی شخصیت قائدانہ شخصیت تھی۔ حضرت عثمان غنیؓ قائد ربانی کے درج ذیل اوصاف سے متصف تھے: علم، تعلیم، توجیہ کی قدرت، حلم، دریا دلی، نرمی، عفو و درگزر، تواضع، حیا، عفت، کرم، شجاعت، عزم و حزم، صبر، عدل، عبادت، خوف، بکاء، محاسبہ، زہد، شکر، لوگوں کی خبر گیری، اختیارات کی تحدید، باصلاحیت افراد سے استفادہ۔
22: خلفائے راشدینؓ کی صفات کی معرفت اور ان کی اقتداء کی کوشش ان قائدین ربانی کی صفات میں سے ہیں جو امت کی قیادت ثابت قدمی کے ساتھ متعین اہداف کی طرف کر سکتے ہیں۔
23: حضرت عثمان غنیؓ کی مالی سیاست درج ذیل عام بنیادوں پر قائم ہوئی: عام اسلامی مالی سیاست کا نفاذ، رعایت کو وصولی مال میں خلل انداز نہ ہونے دینا، مسلمانوں سے بیت المال کے حق کو وصول کرنا اور ذمیوں سے بیت المال کے حق کو وصول کرنا ان کے حقوق کو ادا کرنا، ان پر ظلم نہ کرنا، عاملین خراج کا امانت و وفاداری کی صفت سے متصف ہونا، عوام کے پاس مال و دولت اور نعمتوں کی فراوانی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے ہر طرح کے مالی انحرافات کو ختم کرنا۔
24: حضرت عثمان غنیؓ کے دور خلافت میں عام اخراجات یہ تھے: گورنروں کی تنخواہیں، افواج کی تنخواہیں، حج کے اخراجات، مسجد نبوی کی توسیع و ترمیم، مسجد حرام کی توسیع، پہلے اسلامی بحری بیڑے کی تیاری، ساحل کو شعیبہ سے جدہ منتقل کرنا، کنوؤں کی کھدائی، مؤذنوں کے اخراجات وغیرہ۔
25: فسادیوں اور خوارج کی طرف سے حضرت عثمان غنیؓ پر بیت المال میں اسراف اور اپنے اعزہ و اقرباء کو زیادہ دینے کا اتہام باندھا گیا اور اس اتہام کے سہارے سبائیوں نے باطل پروپیگنڈہ مہم چلائی اور شیعہ و روافض آج تک آپ کے خلاف اس کو منوانے میں لگے ہیں۔ یہ اتہامات تاریخی کتابوں میں آ گئے، اور مفکرین و مؤرخین نے ان کو حقائق کی حیثیت سے استعمال کیا حالاں کہ یہ باطل و من گھڑت ہیں ان کا سرے سے ثبوت ہی نہیں۔
26: حضرت ذوالنورینؓ کا دور دورِ راشدی کا امتداد ہے جس کی اہمیت عہد نبوی سے متصل و قریب ہونے کی وجہ سے نمایاں ہے۔ دور راشدی عام طور سے اور شعبہ قضا خاص طور سے عہد نبوی کے قضاء کا امتداد ہے۔ عہد نبوی میں ثابت شدہ قضاء کی اس دور میں مکمل محافظت اور نص و معنیٰ کی مکمل تنفیذ کی گئی تھی۔
27: فتوحات کے سلسلہ میں حضرت عثمان غنیؓ کے منصوبہ میں عزم و حوصلہ نمایاں تھا۔ درج ذیل امور سے اس کا اظہار ہوتا ہے:
فارس و روم کے باغیوں کو تابع کرنا، ان ممالک پر اسلام کی حکومت و پکڑ کو بحال رکھنا، ان سے مدد کو روکنے کے لیے ان کے پیچھے ممالک میں جہاد و فتوحات کو جاری رکھنا، اسلامی شہروں کی حفاظت کے لیے فوجی مراکز قائم کرنا، بحری فوجی طاقت تیار کرنا کیوں کہ اسلامی لشکر کو اس کی ضرورت تھی۔
28: حضرت عثمان غنیؓ کے دور خلافت میں اسلامی فوجی چھاؤنیاں اور سرحدی فوجی مراکز صوبوں کے صدر مقام ہوا کرتے تھے۔ عراق کی فوجی چھاؤنی کوفہ و بصرہ میں تھی، اور شام کی فوجی چھاؤنی مکمل شام امیر معاویہؓ کے ماتحت ہونے کے بعد دمشق میں تھی، اور مصر کی فوجی چھاؤنی فسطاط میں قائم تھی۔ یہ فوجی چھاؤنیاں ایک طرف اسلامی سلطنت کی حفاظت کرتی تھیں تو دوسری طرف اسلامی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھیں اور اسلام کی نشر و اشاعت میں لگی ہوئی تھیں۔
29: حضرت عثمان غنیؓ کے دور میں مشہور جرنیل اور سپہ سالار یہ لوگ تھے:
احنف بن قیسؓ، سلیمان بن ربیعہؓ، عبدالرحمٰن بن ربیعہؓ، حبیب بن مسلمہؓ
30: ذات صواری کا معرکہ عسکری تجربہ، جنگی ساز و سامان اور نفری قوت پر عقیدہ صحیحہ کی بالادستی کا مظہر تھا۔ رومی قدیم زمانے سے سمندر کا گہرا تجربہ رکھتے تھے اور ان کے پاس سمندری جنگوں کا طویل تجربہ تھا اور مسلمان سمندری جنگ اور سمندری سفر کے سلسلہ میں ناتجربہ کار اور نئے تھے۔
31: حضرت عثمان غنیؓ کی فتوحات میں اہم ترین دروس و عبر اور فوائد میں سے: اہل ایمان کے لیے نصرت و غلبہ کے سلسلہ میں وعدہ الٰہی کا پورا ہونا، جنگی اور سیاسی فنون میں ترقی، مسلمانوں کا سمندر کا سفر کرنا، اعداء سے متعلق معلومات اکٹھی کرنا اور دشمن کے مقابلہ میں اتفاق و اتحاد کا حریص رہنا ہے۔
32: حضرت عثمان غنیؓ کے عہدِ خلافت میں جمع قرآن کے واقعہ سے یہ حقیقت آشکارا ہوتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اختلافات سے ممانعت کی آیات کا کس حد تک فہم رکھتے تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اختلافات سے منع فرمایا اور اس سے ہوشیار کیا ہے۔ ان آیات کے فہم کی گہرائی ہی کا یہ اثر تھا کہ حضرت حذیفہؓ نے جب قرأت قرآن میں اختلاف کو سنا تو کانپ اٹھے اور فوراً مدینہ پہنچے اور جو کچھ دیکھا اور سنا اس کی خبر حضرت عثمان غنیؓ کو پہنچائی اور مختصر سی مدت میں عثمان رضی اللہ عنہ نے اس مسئلہ کو ختم کیا اور اختلاف کا دروازہ بند کر دیا۔
33: مسلمانوں کے دلوں کو جوڑنے اور ان کی صفوں کو متحد کرنے کے اسباب کو اختیار کرنا عظیم ترین جہاد ہے اور یہ اقدام مسلمانوں کے اعزاز اور ان کی سلطنت کو قائم کرنے اور شریعت الٰہی کے نفاذ کے سلسلہ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ حضرت عثمان غنیؓ کا امت کو ایک مصحف پر جمع کرنے میں خلفائے راشدینؓ کی فقہ انتہائی حسین اور واضح شکل میں نمایاں ہے۔
34: حضرت عثمان غنیؓ کے دورِ خلافت میں اسلامی ریاستیں اور صوبے یہ تھے: مکہ، مدینہ، بحرین، یمامہ، یمن، حضرموت، شام، آرمینیہ، مصر، بصرہ، کوفہ
35: حضرت عثمان غنیؓ نے اپنے عمال و افسران کی نگرانی اور ان کی خبروں پر مطلع ہونے کے لیے مختلف اسالیب اختیار کیے، ان میں سے بعض یہ ہیں: موسم حج میں حاضر ہونا، صوبوں اور شہروں سے آنے والوں سے سوال دریافت کرنا، جانچ پڑتال کرنے والوں کو صوبوں اور ریاستوں میں بھیجنا، گورنروں کو طلب کرنا اور ان سے سوال کرنا وغیرہ۔
36: عہدِ راشدی میں امراء اور گورنروں کے حقوق یہ تھے: غیر معصیت میں ان کی اطاعت کرنا، ان کی خیر خواہی کا حق ادا کرنا، ان تک صحیح خبریں پہنچانا، معزولی کے بعد ان کا احترام کرنا، ان کی تنخواہیں دینا۔
37: عہد راشدی میں امراء اور گورنروں کے فرائض یہ تھے: امور دین کی اقامت، لوگوں کو امن و امان بہم پہنچانا، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، لوگوں کے لیے اشیائے خورو نوش کی حفاظت میں پوری کوشش صرف کرنا، عمال اور وظیفہ دینے والے مقرر کرنا، ذمیوں کا خیال رکھنا، اور اپنے اپنے صوبہ میں اہل رائے سے مشورہ لینا، صوبہ کی تعمیری ضرورت پر غور و فکر کرنا، اور صوبوں کے باشندوں کے معاشرتی اور اجتماعی احوال کا خیال رکھنا۔
38: حضرت عثمان غنیؓ قابل اقتداء خلیفہ راشد ہیں، آپ کے افعال اور کارروائیاں اس امت کے دستوری ریکارڈ ہیں، حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے بعد والوں کے لیے قرابت داروں کو قریب کرنے سے احتراز کرنے کی طرح ڈالی لیکن حضرت عثمان غنیؓ نے قربت داروں کو قریب کرنے کی طرح ڈالی بشرطیکہ انتظامی صلاحیت و قابلیت کے حامل ہوں اور حضرت عثمان غنیؓ پر جو اعتراضات کیے گئے وہ مباح کے دائرے سے خارج نہیں۔
39: حضرت عثمان غنیؓ نے اپنے قرابت داروں میں سے جن والیوں اور گورنروں کو مقرر کیا انہوں نے اپنے اپنے صوبوں اور ریاستوں کے انتظام و انصرام میں اپنی قابلیت و صلاحیت ثابت کر کے دکھائی اور ان کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے بہت سے ممالک پر فتح عطا کی اور انہوں نے رعیت میں عدل و احسان کا طریقہ اختیار کیا، ان میں وہ حضرات بھی تھے جو یہ منصب عہدِ صدیقی اور عہد فاروقی میں سنبھال چکے تھے۔
40: جب بھی اسلامی تاریخ کے اس دور کا مطالعہ کیا جائے گا تو جو شخص بھی صحیح تاریخی وقائع کی طرف رجوع کرے گا اور ان حضرات کی سیرتوں کا جائزہ لے گا جن سے حضرت عثمان غنیؓ نے ملکی انتظام و انصرام میں کام لیا ہے تو وہ پسندیدگی اور فخر کا اعلان کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اسلامی دعوت کی تاریخ میں ان کے جہاد کا کتنا خوشگوار اثر ہوا اور ان کے حسن انتظام و انصرام کے عظیم نتائج اس امت کی خوش حالی اور سعادت مندی کی شکل میں ظاہر ہوئے۔
41: بہت سے مؤلفین و مصنفین نے دورِ عثمانی سے متعلق غیر منصفانہ اور غیر تحقیقی تحریروں میں حضرت عثمان غنیؓ کو نہیں بخشا ان میں سے اکثر لوگ ضعیف اور رافضی روایات سے متاثر ہوئے اور حضرت عثمان غنیؓ پر ظالمانہ اور باطل حکم لگایا، جسے طہٰ حسین اپنی کتاب ’’الفتنۃ الکبریٰ‘‘ میں، راضی عبدالرحیم اپنی کتاب ’’النظم الاسلامیۃ‘‘ میں، محمد ریس نے اپنی کتاب ’’النظریات السیاسیۃ‘‘ میں، علی حسین خر بوطلی نے اپنی ’’کتاب الاسلام و الخلافۃ‘‘ میں، ابوالاعلیٰ مودودی نے اپنی کتاب ’’خلافت و ملوکیت‘‘ میں، سید قطب نے اپنی کتاب ’’العدالۃ الاجتماعیۃ‘‘ میں، وغیرہم۔ یقیناً حضرت عثمان غنیؓ خلیفۂ مظلوم ہیں۔ حضرت عثمان غنیؓ کے اولین معاندین نے افتراء پردازی کی اور متاخرین نے انصاف سے کام نہ کیا۔
42: تاریخی حقائق کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ابوذر غفاریؓ کو جلا وطن نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اجازت طلب کی اور آپ نے ان کو اجازت دے دی۔ حضرت عثمان غنیؓ کے اعداء نے یہ پروپیگنڈہ کیا کہ آپ نے ان کو جلا وطن کر دیا تھا۔
43: حضرت ابوذر غفاریؓ دور و نزدیک کہیں سے بھی عبداللہ بن سبا یہودی کے افکار و نظریات سے متاثر نہیں ہوئے۔ آپ نے مقام ربذہ میں وفات تک سکونت اختیار کی اور کسی فتنہ میں شریک نہیں ہوئے۔
44: فتنہ قتل عثمانؓ کے مختلف اسباب ہیں: خوش حالی اور معاشرہ پر اس کا اثر، عہد عثمانی میں معاشرتی تبدیلی، حضرت عثمان غنیؓ کا حضرت عمرؓ کے بعد آنا، اکابر صحابہؓ کا مدینہ سے منتقل ہو جانا، جاہلی عصبیت، فتوحات کا رک جانا، زہد و ورع کا غلط مفہوم، اقتدار پسندوں کی امنگیں، حاقدین کی سازش، حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف اعتراضات کو ہوا دینے کی منظم اور محکم تدابیر، لوگوں کو برانگیختہ کرنے والے وسائل و اسالیب کو اختیار کرنا، عبداللہ بن سبا کا کردار۔
45: فتنہ کی چنگاری کوفہ سے اٹھی، ان فسادیوں کو شام کی طرف شہر بدر کیا گیا، پھر الجزیرہ میں عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کے پاس ٹھہرے اور یزید بن قیس کے ساتھ خط و کتابت کے بعد یہ لوگ کوفہ لوٹ آئے۔
46: فتنہ کے ساتھ تعامل کے سلسلہ میں عثمانی سیاست حلم و صبر، عدم استعجال اور عدل پر قائم تھی۔ آپ نے اس کے مقابلہ میں متعدد اسلوب اختیار کیے: تحقیق و جانچ کے لیے کمیٹیاں تشکیل دے کر روانہ کرنا، صوبوں کے باشندگان کے نام ہر مسلمان کے لیے عام اعلان کی شکل میں خطوط بھیجنا، صوبوں کے والیان اور گورنروں سے مشاورت کرنا، باغیوں پر حجت قائم کرنا اور ان کے بعض مطالبات کو قبول کرنا۔
47: فتنہ کے ساتھ تعامل کے سلسلہ میں جو بھی حضرت عثمان غنیؓ کے طرز عمل میں غور و فکر کرے گا وہ اس سے بعض ایسے اصول و ضوابط مستنبط کر سکتا ہے جو فتنوں کا مقابلہ کرنے میں مسلمانوں کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔ انہی اصول و ضوابط میں سے چند یہ ہیں: تحقیق و توثیق، عدل و انصاف کا التزام، حلم و صبر، نفع بخش چیز کا حریص ہونا، مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈالنے والے امور کو نظر انداز کرنا، خاموشی اختیار کرنا اور کثرت کلام سے پرہیز کرنا، علماء ربانی سے مشورہ کرنا، فتنوں سے متعلق احادیث نبویہ سے رہنمائی حاصل کرنا۔
48: محققین کے سامنے یہ حقیقت آشکارا ہوتی ہے کہ کچھ اسباب ایسے تھے جن کی وجہ سے حضرت عثمان غنیؓ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دفاع میں قتال کرنے سے روک دیا تھا۔ وہ اسباب یہ تھے: رسول اللہﷺ کی اس وصیت پر عمل جو آپﷺ نے حضرت عثمانؓ کو چپکے سے کی تھی اور جس کو حضرت عثمان غنیؓ نے محاصرہ کے دنوں میں بیان کیا اور بتلایا کہ یہ ان کے ساتھ معاہدہ ہے اور اس پر وہ صابر ہیں۔ آپ نے یہ ناپسند کیا کہ رسول اللہﷺ کے بعد امت میں آپ پہلے شخص ہوں جو مسلمانوں کا خون بہائیں۔ آپ کو اس حقیقت کا علم تھا کہ باغی صرف انہی کو قتل کرنا چاہتے ہیں لہٰذا آپ نے مسلمانوں کے ذریعہ سے بچاؤ کو ناپسند کیا، اور یہ پسند کیا کہ اپنی جان دے کر مسلمانوں کی جانوں کو بچا لیں۔ آپ کو اس بات کا علم تھا کہ اس فتنہ میں شہید ہوں گے اور رسول اللہﷺ نے آپ کو اس کی خبر اس وقت دی تھی جب آپ کو مصیبت کے ساتھ جنت کی خوشخبری دی تھی اور یہ کہ وہ حق پر ثابت رہ کر فتنہ میں شہید ہوں گے۔ حضرت عبداللہ بن سلامؓ کی وصیت پر عمل جب کہ انہوں نے آپ سے کہا تھا کہ دفاع سے رک جائیں یہ آپ کے لیے بلیغ حجت ہے۔
49: حضرت عثمان غنیؓ کا قاتل ایک مصری شخص ہے۔ روایات میں اس کے نام کی وضاحت نہیں، محمد بن ابی بکر پر جو قتل عثمان کا اتہام ہے وہ باطل ہے اس سلسلہ کی روایات ضعیف ہیں اور اس کے متن شاذ ہیں کیوں کہ وہ صحیح روایات کے مخالف ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قاتل مصری شخص ہے۔
50: تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خونِ عثمانؓ سے بری الذمہ ہیں، صحیح اخبار و قائع اور تواریخ اس بات پر شاہد ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے یا فتنہ میں شرکت کرنے سے بری الذمہ ہیں جیسا کہ ہم نے اس سلسلہ میں صحیح روایات پیش کی ہیں۔
51: حضرت عثمان غنیؓ بیدار مغز تھے، باغیوں کی سازشوں اور ان کے اغراض و مقاصد سے آپؓ غافل نہ رہے بلکہ آپ ان کی صفوں کو پھاڑنے اور ان کے منصوبوں کو معلوم کرنے میں کامیاب رہے اور بڑی شجاعت سے ان کا مقابلہ کیا اور اس بات کو ناپسند کیا کہ مسلمانوں میں سب سے پہلے تلوار کھینچنے والے بنیں اور امت کی خاطر اپنی جان قربان کر دی، قربانی و ایثار کی یہ بلندی ہے۔
52: شہادتِ عثمان غنیؓ کا فتنہ دوسرے بہت سے فتنوں کے وجود کا سبب بنا اور اپنے بعد کے فتنوں پر اپنا سایہ ڈالا، لوگوں کے دل بدل گئے، کذب ظاہر ہوا، عقیدہ و شریعت میں اسلام سے انحراف شروع ہوا۔
53: دوسروں پر ناحق ظلم و زیادتی دنیا و آخرت میں ہلاکت کے اسباب میں سے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَتِلۡكَ الۡقُرٰٓى اَهۡلَكۡنٰهُمۡ لَمَّا ظَلَمُوۡا وَجَعَلۡنَا لِمَهۡلِكِهِمۡ مَّوۡعِدًا۞(سورۃ الكهف آیت 59)
ترجمہ: یہ ساری بستیاں (تمہارے سامنے) ہیں، جب انہوں نے ظلم کی روش اپنائی تو ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا، اور ان کی ہلاکت کے لیے (بھی) ہم نے ایک وقت مقرر کیا ہوا تھا۔
حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف خروج کرنے والے باغیوں کے احوال کا جو جائزہ لے گا اس کے سامنے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں نہیں بخشا بلکہ ان کو ذلیل و رسوا کیا اور ان سے اس طرح انتقام لیا کہ ان میں سے کوئی نہ بچ سکا۔
54: اس مصیبت کا مسلمانوں کے نفوس پر گہرا اثر پڑا، ان کی عقلیں زائل ہو گئیں، حزن و غم نے انہیں گھیر لیا، ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، ان کی زبانیں حضرت عثمان غنیؓ کی مدح و ثنا میں لگ گئیں اور ان کے لیے رحمت کی دعائیں کرنے لگے۔ حضرت حسان بن ثابتؓ نے امیر المؤمنین پر مرثیہ کہا، رلانے والے غم ناک قصائد کے ذریعہ سے آپ کی شہادت پر مصائب و آلام کا کثرت سے ذکر کیا اور قاتلین کی ہجو کی، جس کو تاریخ نے ہمارے لیے محفوظ کر لیا، راتوں نے اسے مہمل قرار نہ دیا اور زمانہ کی رکاوٹیں اور صدیوں کی دیواریں اسے ہم سے دور نہ کر سکیں۔
55: یہ ہیں وہ حقائق جن کی جمع و ترتیب اور تحقیق و تحلیل کی اللہ نے مجھے توفیق بخشی جس پر اس کتاب (عثمان بن عثمان رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے) کی فصلیں شامل ہیں۔ اس میں جو درست ہو وہ محض اللہ کا مجھ پر فضل ہے اس کا شکر و احسان ہے، اور جو اس میں غلطی ہو تو میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں۔ اللہ و رسولﷺ اس سے بری الذمہ ہیں۔ میرے لیے یہ کافی ہے کہ میں ان حقائق و براہین اور دلائل کو بیان کرنے کا حریص رہا ہوں جو خلیفہ راشد عثمانؓ کی حقیقت واضح کرتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ وہ میرے مسلمان بھائیوں کو اس کتاب سے نفع پہنچائے اور قارئین اپنی دعاؤں میں مجھے یاد رکھیں، ان شاء اللہ غیاب میں ایک بھائی کی دعا دوسرے کے حق میں مقبول ہو گی۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر اپنی کتاب کو ختم کرتا ہوں:
وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡمِنۡ بَعۡدِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡلَـنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ۞(سورۃ الحشر آیت 10)
ترجمہ: اور (یہ مال فیئ) ان لوگوں کا بھی حق ہے جو ان (مہاجرین اور انصار) کے بعد آئے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ: اے ہمارے پروردگار! ہماری بھی مغفرت فرمائیے، اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں، اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والوں کے لیے کوئی بغض نہ رکھیے۔ اے ہمارے پروردگار! آپ بہت شفیق، بہت مہربان ہیں۔
اور شاعر کہتا ہے:
إن تجد عیبا فسد الخللا
جل من لاعیب فیہ و علا
’’تمھیں کوئی عیب ملے تو اسے دور کر لو۔ اللہ جل جلالہ ہی بےعیب ہے۔‘‘
اور شاعر کا قول ہے:
اطلب العلم ولا تکسل فما
ابعد الخیر علی اہل الکسل
’’علم حاصل کرو، کاہلی مت کرو، کاہلی کرنے والوں سے بھلائی بہت دور ہوتی ہے۔‘‘
احتفل للفقہ فی الدین ولا
تششغل بمال و حول
’’تفقہ فی الدین کی فکر کرو، دین سے روکنے والی چیزوں اور دنیاوی مال و دولت میں نہ پھنسو۔‘‘
واہجر النوم وحصلہ فمن
یعرف المعروف یحقر ما بذل
’’جاگو اور اسے حاصل کرو، جو اچھائی کی قدر جانتا ہے اس کے لیے سب کچھ خرچ کر دیتا ہے۔‘‘
ولا تقل قد ذھبت اربابہ
کل من سار علی الدرب و صل
’’یہ نہ کہو کہ تفقہ فی الدین والے چلے گئے۔ جو چلتا رہتا ہے منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے۔‘‘
و آخر دعوانا ان الحمد للّٰه رب العالمین
کتبہ الفقیر إلی عفو ربہ ومغفرتہ و رحمتہ و رضوانہ
علي محمد محمد الصلابي
8 ربیع ال
ثانی 1423 ھـ
18/2/2002 م
-
مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم میں امت کا عقیدہ اور عمل
-
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علماء دیوبند کا مؤقف
-
کلمہ طیبہ
-
صحابہ رضی اللہ عنہم کا زمانہ
-
اجماع امت اور عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم
-
حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قرآن و سنت کی نظر میں
-
کیا سونے کے نصاب کو زکوٰة کا معیار قرار دیا جا سکتا ہے؟
-
انبیاء علیہم السلام کے ہاتھ سے چھوئی ہوئی چیز کو آگ نہیں جلاتی۔ (تحقیق)
-
جس نے کسی متقی عالم دین کے پیچھے نماز پڑھی گویا اس نے نبی کے پیچھے نماز پڑھی ۔ (تحقیق)
-
میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔ (تحقیق)
-
نبی ﷺ کے چہرہ انور کی روشنی سے سوئی ملنے کا واقعہ (تحقیق)
-
مسجد میں باتیں کرنے سے اعمال برباد(تحقیق)
-
ایک عورت اپنے ساتھ چار لوگوں کو جہنم میں لے کر جائے گی۔ (تحقیق)
-
آدمی جب ماں باپ کے لیے دعا کرنا چھوڑ دیتا ہے تو اس کا رزق قطع ہو جاتا ہے۔(تحقیق)
-
اگر تمام لوگ محبت علی رضی اللہ عنہ پر جمع ہو جاتے تو اللہﷻ جہنم کی تخلیق ہی نہ کرتا۔ (تحقیق)
-
بعد از وفات قرآن کریم کا میت کی حفاظت کرنا(تحقیق)
-
حبیب کو حبیب سے ملا دو۔ (تحقیق)
-
میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ستاروں کے مانند ہیں۔
-
جمہور علماء کے نزدیک اجتہاد کا معنیٰ و مفہوم
-
جمہور علماء کے اصول اجتہاد اور ماخذ دوم سنت
-
ضعیف حدیث کن شرائط کے ساتھ فضائل میں قبول ہوتی ہے؟ (عند المحدثین)
-
مسئلہ عصمت انبیاء علیہم السلام
-
اذان میں حی علی خیر العمل کے الفاظ
-
شق صدر کا واقعہ
-
خلافت امیر معاویہ اور شیخ عبدالقادر جیلانی
-
امام نسائی رحمہ اللہ کی وفات کا قصہ
-
سیرت سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما
-
کاتبین پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
-
حضرت عقبہ بن عامر بن عبس جہنی رضی اللہ عنہ
-
مقدمہ
-
اسلام میں صحابہ رضی اللہ عنہم کا مقام متعین ہے، اس سے چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے
-
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علماء دیوبند کا موقف
-
مقام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
-
اجماع امت اور عدالت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
-
مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے معاملہ میں امت کا عقیدہ اور عمل
-
حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن وسنت کی نظر میں
-
صحابہ كرام رضی اللہ عنہم اور قرآن كريم
-
مقام صحابہ رضی اللہ عنہم قرآن کریم کی روشنی میں
-
برصغیر میں صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین اور تبع تابعین کے اولین نقوش
-
سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ
-
سوانح صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ
-
علامہ محمد عبدالستار تونسوی رحمۃ اللہ کی حیات وخدمات
-
خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کے حضورﷺ اور آپ ﷺ کے اہل بیت کے ساتھ رشتہ داری کے تعلقات
-
خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی حضورﷺ اور آپ کے اہل بیت رضی اللہ عنہم سے رشتہ داری کے تعلقات
-
خلیفہ ثالث سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کی نبی اکرمﷺ اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کے ساتھ قرابتیں اور رشتہ داریاں
-
خلفاء ثلاثہؓ اور ان کی اولاد کے علاوہ بنو امیّہ اور بنوہاشم میں مزید رشتہ دارانہ تعلقات
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا اہل بیت کے ساتھ اچھا سلوک
-
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا آپس میں کسی قسم کا مذہبی اختلاف نہیں تھا، ایمان میں دونوں برابر تھے۔
-
سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہ کے دور میں
-
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ مختصر سوانح و فضائل
-
تیسرا باب شیعہ کا اپنے ائمہ کی تعلیمات اور ان کے عقائد سے انحراف
-
غلط نقطہ نظر کی تاویل کرنے کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر خوف یا تقیہ کا الزام لگایا گیا
-
شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہ کی تعلیمات
-
الصلوٰۃ خیر من النوم پڑھنے کا حکم سیدنا جعفر صادق رحمۃ اللہ نے دیا
-
تعارف لفظ اہل بیت رضی اللہ عنہم
-
سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ
-
اسلامی کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
-
سیرت سیدہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا
-
سیرت سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ
-
رسول اللہﷺ کی دائمی صحبت
-
استحقاق خلافت پر شرعی نصوص کے واضح اشارے
-
آزادیاں
-
تواضع
-
عام بیعت اور داخلی امور کا انتظام وانصرام
-
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر مبارک کے مکان کے بارے میں تحقیق
-
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے فرزند عبداللہ رضی اللہ عنہ کا احترام
-
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا نام و نسب خاندان اور فضائل و مناقب
-
دریائے نیل کی دلہن
-
عبادات کا اہتمام
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خرید و فروخت میں تاجروں کے لیے حلال و حرام کی معرفت لازم کر دی
-
اللہ کی قسم میں ایسی نہیں ہوں کہ مجلس میں اس کی بات مانوں اور تنہائی میں نافرمانی کروں
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حکیمانہ اقوال جو لوگوں میں ضرب المثل بن گئے
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فقہ و فتاویٰ کا مرکز بنانا
-
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور امت مسلمہ
-
شامی درس گاہ
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بحیثیت ناقد ادب عربی
-
طاعون
-
طاعون زدہ زمین میں جانے اور نکلنے کا حکم
-
جزیہ
-
کیا خراجی زمین کے بارے میں فاروقی مؤقف سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف تھا؟
-
فے اور مال غنیمت
-
محکمۂ عدل
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین شمار کیا
-
اہل کوفہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے قاتل ہیں
-
مقتل حسین رضی اللہ عنہ کا خلاصہ
-
مدفن سر حسین رضی اللہ عنہ کی بابت اختلاف کا سبب
-
قتل حسین رضی اللہ عنہ کی بابت یزید کا موقف
-
تعارف امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ
-
مسلمان دریا عبور کرتے ہیں
-
فتح مصر کے اہم دروس و عبر اور فوائد
-
اہل ایمان کے درمیان اختلاف رونماء ہونا اور کتاب و سنت کی طرف رجوع کر کے حل کرنا
-
سیدنا مہاجر بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ کا لشکر حضر موت اور کندہ کے ارتداد کا قلع قمع کرنے کے لیے
-
سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی ام تمیم سے شادی
-
مقامِ صحابہؓ
-
تیسرا مبحث سیدہ عائشہ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کی باہمی فضیلت
-
تیسرا شبہ
-
رد شبہ
-
ساتواں شبہ
-
پہلا نکتہ واقعہ جمل پر سیر حاصل بحث
-
جنگ جمل کی آڑ پیدا کردہ شبہات اور ان کی تردید
-
عہد رسول اللہﷺ میں بنو امیہ کا کردار
-
فتنہ کی آگ بھڑکانے میں ابن سبا کا کردار
-
اہل حل و عقد کے مفہوم و معنیٰ کے بارے میں فقہاء کی آراء
-
کثرت حدیث
-
دونوں حکومتوں میں پرامن باہمی تعلقات
-
مربی باپ کے اوصاف
-
رابعا والد کے قتل کے بعد کے وہ خطبے جن کی نسبت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی جانب صحیح نہیں ہے
-
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے
-
مقدمہ
-
بصرہ
-
حضرت ولید بن عقبہ الاموی رضی اللہ عنہ
-
حضرت ابوذر غفاری اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے مابین تعلقات کی حقیقت خلاصہ
-
فتنہ کی تحریک میں عبداللہ بن سبا کا کردار
-
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ
-
خلاصہ مناظرہ رشیدیہ
-
کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین از عقیدہ صحابہ اہل سنت
-
ہم آپ سے امید رکھتے ہیں اللہ تعالی آپ کو معاف فرمائے کہ آپ قرآن کریم میں تحریف اور کمی بیشی کے حوالے سے شیوخ الشیعہ کے عقائد کا خلاصہ بیان کریں گے؟
-
براہ کرم شیعہ کے عقیدہ عصمت ائمہ تشکیل نو کا خلاصہ بیان کریں۔
-
مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات
-
باغ فدک: سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کی سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ سے ناراضگی اور صحیح روایات پر تحقیق
-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فدک دیا یا نہیں؟؟
-
خاندان بنو ہاشم اور متعدد صحابہ نے ابوبکر کی خلافت تسلیم نہیں کی۔ (کتاب المختصر فی اخبار البشر لابی الفداء، الکامل فی التاریخ ابن الاثیر، العقد الفريد، محمد بن عبدربہ، حیاۃ الصحابہ)
-
سیده فاطمہ الزہرا ع کا دروازہ اور مجاۃ اسلمی کو آگ سے جلانے پر حضرت ابوبکر کا اظہار افسوس (العقد الفريد)
-
سیدہ فاطمہ الزہرا ع کا دروازہ اور فجاۃ اسلمی کو آگ سے جلانے پر حضرت ابو بکر کا اظہار افسوس۔
-
حضرت ابوبکر و عمر کو گالی دینا کفر نہیں ھے. (شرح فقہ اکبر)
-
جنگ صفین اور واقعہ تحکیم کے متعلق تاریخی روایات کا حقیقت پسندانہ تجزیہ
-
قاتلین حسین عوامی عدالت میں!
-
حضرت عمررضی اللہ عنہ ڈرپوک اور بزدل تھے (حياة الصحابہ)
-
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو کافر اور یہودی کہہ کر واجب القتل قرار دیا۔ نعوذباللہ (تاریخ طبری)
-
امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) سود خور تھا۔ (ابن ماجہ، السنن الکبریٰ، طحاوی)
-
امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے قیصر و کسری کی سنت پر عمل کرتے ہوئے یزید کو نامزد کیا۔کلیات شبلی
-
1: معاویہ (رضی اللہ عنہ) آگ کے ایک صندوق میں ہے۔ 2: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان، معاویہ، مروان بن حکم پر لعنت کی ہے۔ (خلافت بغداد کا دور انحطاط)
-
حضرت معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے بُغض علی سے سنت کو ترک کر دیا۔(معاویہ رضی اللہ عنہ کے ڈر سے لبیک نہ پڑھنا) سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو تلبیہ سے روکتے تھے؟
-
شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ ( ترجمہ:ابو عبداللہ زبیر بن حسین)
-
جنگ جمل: تاریخ اسلام
-
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف اقوالات اصولوں کے مطابق مردود ہیں
-
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور روایات میں آگ کا انگارہ کے الفاظ(پارٹ1)
-
اہل بیت کا کیا مطلب ہے اور اس کے مصداق کون لوگ ہیں؟
-
اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید
-
میدان کربلا میں اکیس صحابی رسول کی شہادت (اہل سنت و اہل تشیع معتبرکتب)
-
اہل تشیع کا دوسرا اصول دین نبوت
-
اعتراض غزوہ بدر اور صحابہ کا خوف خیر طلب کے اعتراضات کا رد
-
اعتراض: ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے دو مردوں کے سامنے(معاذاللہ) غسل کیا تھا۔
-
اہل تشیع اور تحریف القران
-
اہل تشیع کا تیسرا اصول دین: قیامت پر ایمان
-
اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت
-
حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے داماد تھے۔
-
کیا ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ سلام اللہ علیہا نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ پر لعنت کی ؟؟ شیعہ اعتراض کا تحقیق کی روشنی میں جواب
-
سیدنا سلیمان بن الصرد رضی اللہ عنہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں
-
ابو مخنف لوط بن یحیی
-
حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ کا تعارف
-
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی وفات، جنازہ اور تدفین
-
امام مہدی علیہ السلام کے متعلق صحیح عقیدہ
-
سنی و شیعہ کے مابین عدالت صحابہ کا مسئلہ اور اس کے نتائج(قسط 2)
-
سنی و شیعہ کے مجموعات حدیث میں تعداد روایات (قسط 6)
-
حدیث میں آتا ہے کہ کچھ لوگ حوض کوثر سے راندے جائیں گے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائیں گے میرے صحابی تو جواب آئے گا آپ نہیں جانتے کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا عمل کئے!
-
اہل سنت اور اہل تشیع کے حدیثی ذخیرے کا معیارات نقد حدیث میں فرق (قسط 8)
-
اہل تشیع کا اصولی گروہ اور نقد حدیث کا منہج (قسط 9)
-
نقد حدیث کے شیعہ اصولی منہج پر چند سوالات (قسط 10)
-
اہل تشیع کا علم الدرایہ اور اہلسنت کا فن مصطلح الحدیث (قسط 11)
-
امام احمد بن حنبل کی ذکر کردہ یہ روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے سلمان سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیجیے کہ آپ کا وصی کون ہے؟ جب سلمان نے یہ سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابا فرمایا:’’ اے سلمان! حضرت موسی علیہ السلام کا وصی کون تھا؟‘‘ کہا ’’یوشع بن نون ‘‘ فرمایا :’’میرا وصی اور وارث علی بن ابی طالب ہے؛ جو میرا قرض ادا کرے گا اور میرے وعدے پورے کرے گا۔
-
مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا دوسرا مؤقف نبوت کے آخری سال آخری حکم حضرت علی کی خلافت کا اعلان کرنا تھا یہ حکم پہلے نہیں دیا گیا تھا!(قسط 3)
-
کیا سیدنا عمرؓ نے سیدہ فاطمہؓ بنت رسولﷺ کے گھر کا دروازہ توڑا اور اسے جلایا پھر سیدہ فاطمہؓ کے بطن میں موجود حمل پر لات مار کر گرایا جس سے محسن دنیا میں آنے سے پہلے ہی فوت ہو گئے؟؟
-
جاگیر فدک کا اعتراض اور اس کا جواب
-
حضرت علی رضی اللہ عنہ کووصی کہنا ابن سبا کی اختراع
-
اگر کسی شخص کی بیٹی مشرق میں سکونت پذیر ہو اور خود مغرب میں رہتا ہو، پھر وہ مغرب ہی میں غائبانہ طور پر کسی آدمی سے اپنی لڑکی کا نکاح کر دے، رات و دن میں کسی وقت بھی ان کاجوڑ نہیں ہواہو۔ چھ ماہ کے بعد اس لڑکی یہاں بچہ پیدا ہو تو وہ بچہ اسی خاوند کا قرار دیا جائے گا۔اوروہ مغرب میں اس کا باپ قرار پائے گا۔حالانکہ اس انسان کا اس عورت تک پہنچنا کئی سال کے بعد ہی ممکن ہوسکتا ہے۔بلکہ اگر کسی انسان کو حکمران اس کے نکاح کے وقت سے ہی قید کردے ؛ اور پچاس سال تک کے لیے اس پر پہرہ بیٹھادے ؛ پھر جب وہ اپنی بیوی کے شہر میں پہنچے تو وہاں پر اپنے بچوں اور پوتوں وغیرہ کا ایک جم غفیر دیکھے ؛ تو پھر بھی ان سب کا نسب اس انسان کیساتھ لگایا جائے گاجو ایک دن کے لیے بھی اس عورت کے [یا کسی دوسری عورت کے] قریب تک نہیں گیا۔
-
حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ''لو كان بعدی نبی لكان عمر بن الخطاب میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا''
-
قتل عثمان میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شراکت کا الزام اور اس پر رد
-
شیعہ اور اہل بیت رضی اللہ عنهم
-
کیا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہارے باپ سے زیادہ خلافت کا حق دار ہوں؟؟؟
-
جناب عبداللہ بن مسعود علیہ السلام پر دو سورتوں معوذتین کے حوالے سے امامیہ کے الزام کا تحقیقی محاسبہ ۔
-
شیعہ کی طرف سے پیش کردہ ماتم کے دلائل اور ان کا تحقیقی رد
-
واقعہ ایلاء
-
تقیہ اور کتمان قرآن وسنت کی روشنی میں
-
آگ در بتول (ایک من گھڑت افسانے کی حقیقت)
-
شیعہ سے 185 سوالات
-
شیعہ عقیدہ رجعت
-
یہودیوں کا مختصر تعارف
-
فدک کے بارے میں شیعہ علماء کا تیسرا مؤقف
-
کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فدک اولاد فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کو دیا؟؟
-
مطالبہ میراث کے سلسلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کردار
-
مقدمہ
-
بعثت نبوی اور مقصد نزول قرآن تحریف قرآن کی ذد میں
-
شیعہ مذہب پر عقیدہ تحریف قرآن کے اثرات
-
شیعہ اماموں کا تعارف
-
تحقیق حدیث منزلت
-
شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ
-
دھوکہ نمبر 8
-
دھوکہ نمبر 10
-
دھوکہ نمبر 37
-
دھوکہ نمبر 67
-
دھوکہ نمبر 71
-
دھوکہ نمبر 87
-
دھوکہ نمبر 89
-
دھوکہ نمبر 91
-
دھوکہ نمبر 99
-
ایجاد مذہب شیعہ
-
غدیر خم کے حوالے سے شیعہ کے 8 سوالوں کے جواب
-
شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار مسلمانوں سے عداوت اور اسکے اصلی اسباب
-
حضرت عمار بن یاسررضی اللہ عنہ کا قاتل ابو الہادیہ رضی اللہ عنہ اولین سابقین اور بیعتِ رضوان میں شامل صحابه رضوان اللہ علیھم اجمعین میں سے تھا
-
جنگِ احد میں صحابہ رضی اللہ عنہم بھاگ کر پہاڑ پر چڑھ گئے تھے۔ (طبری)
-
قرآن کے ناقص ہونے پر حسن اللہیاری کا الزام
-
شرح نہج البلاغہ مصنفہ ابن ابی الحدید
-
مروج الذہب مصنفہ علی بن حسین مسعودی
-
حلیتہ الاولیاء مصنفہ حافظ ابونعیم
-
کتاب الفتوح: اعثم کوفی مصنفہ احمد ابن اعثم کوفی
-
روضته الصفاء مصنفہ محمد میر خواند
-
روضتہ الشهداء مصنفہ ملاحسین کاشفی
-
مودت القربی مصنفہ سید علی ھمدانی
-
مقتل الحسين الخوارزمي مصنفه ابوالمؤید محمد بن احمد
-
المحاضرات مصنفہ حسین ابن محمد الراغب اصفہانی
-
مصنف عبدالرزاق مصنفہ عبدالرزاق
-
کفایۃ الطالب مصنفہ محمد بن یوسف بن محمد قرشی گنجی
-
مطالب المسئول مصنفہ کمال الدین محمد بن طلحه
-
نورالابصار مصنفه شیخ مومن بن حسن شبلنجی
-
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو وفات کے بعد غسل دیے جانے کی تحقیق مع غسل نہ دینے سے متعلق وصیت کی حقیقت
-
مقدمہ
-
تحریف قرآن
-
رجعت
-
شہید ابن شہید مصنفہ صائم نعت خواں فیصل آبادی
-
اوراق غم مصنفہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری:
-
یزید کی ولی عہدی
-
تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان)
-
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بری الزمہ ہو گئے تھے یہی وجہ ہے کہ محاصرہ دار کے وقت کوئی بھی ان کے ساتھ نہ ہوا جب قتل ہو گئے اس کی لاش کو مزبلہ پر ڈال دیا گیا تین روز تک کسی نے دفن نہ کیا۔
-
شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید
-
مسئلہ امامت میں مختلف مذاہب
-
فصل:....مسئلہ قدراور رافضی الزام کا رد
-
فصل:....تقدیر کے بارے میں اہل سنت کے عقیدہ پر رافضی کا کلام اور اس پر رد
-
فصل:....اہل سنت کے نزدیک افعال اختیاریہ پر رافضی کا کلام اور اس پر رد
-
اللہ تعالیٰ کے عدل اور حکمت کے بارے میں اہل سنت کا عقیدہ:
-
تقدم اور تأخر کا صحیح معنی
-
فصل: الزام : اللہ تعالی وہ کام نہیں کرتے جو زیادہ مناسب ہو
-
فصل دوم : امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت:
-
فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور اس کا رد
-
احادیث مبارکہ سے خلافت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دلائل
-
خارجی فرقے اور ان کے متعلق فتوی
-
فصل:....کلام اللہ کے متعلق اشاعرہ کا عقیدہ اوررافضی اعتراض پر رد
-
مسئلہ عصمت انبیاء علیہم السلام
-
فصل: ....بعض فقہی مسائل پر شیعہ کی تشنیع
-
فصل:....شیعہ اور یقین نجات
-
فصل:....بارہ آئمہ کے خصائص پر رافضی کا کلام
-
ائمہ اثناء عشرہ مقاصد امامت کی تکمیل سے قاصر تھے
-
فصل: ....علی بن موسی الرضا
-
فصل:....عصمت آئمہ اور رافضی کا غرور
-
فصل:....وضوء میں پاؤں کے مسح کا مسئلہ
-
فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ
-
فصل: ....جاگیر فدک کا اعتراض اور اس کا جواب
-
فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی اعتراضات
-
فصل:....رافضی دعوی کا فساد
-
فصل:....حضرت خالد بن ولید اور مالک بن نویرہ کا واقعہ
-
فصل:....بقول روافض اہل یمامہ مرتد نہ تھے
-
فصل:....اہل سنت پر تعصب کا الزام
-
فصل:....شہادت حسین رضی اللہ عنہ اور بدعات کی شروعات
-
قرآنی آیات سے مدح صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین
-
ملحدین کی ریشہ دوانیوں کا سبب رافضی حماقتیں
-
اللہ کا شکر ہے کہ مرنے سے پہلے مسلمان بن گیا ہوں
-
پانچویں فصل حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وصی کہنا ابن سبا کی اختراع
-
فصل: شیعہ کے افکار و معتقدات
-
صفات باری تعالی میں تشبیہ کا وہم اور اس پررد
-
امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل
-
فصل: محبت علی رضی اللہ عنہ اور گناہ کی چھوٹ
-
فصل: ....کلبی کے مطاعن اور ان کا جواب
-
ہم آپ سے امید رکھتے ہیں اللہ تعالی آپ کو معاف فرمائے کہ آپ قرآن کریم میں تحریف اور کمی بیشی کے حوالے سے شیوخ الشیعہ کے عقائد کا خلاصہ بیان کریں گے؟
-
امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل پہلی دلیل: ﴿انما ولیکم اللہ و رسولہ و الذین امنوا﴾ اور اس پر رد
-
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کے اثبات میں دوسری دلیل:
-
امامت علی رضی اللہ عنہ کی پانچویں دلیل:
-
امامت علی رضی اللہ عنہ کی چھٹی دلیل:
-
امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پندرھویں دلیل:
-
امامت علی رضی اللہ عنہ کی اٹھارھویں دلیل:
-
امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پچیسویں دلیل:
-
امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اٹھائیسویں دلیل:
-
امامت علی رضی اللہ عنہ کی چالیسویں دلیل:
-
فصل:....امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تیسری دلیل؛ حدیث ’’أنت منی بمنزلۃ‘‘
-
فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نویں دلیل: حدیث: سلام امارت]
-
فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بارھویں دلیل :دیگراحادیث]
-
فصل: جھوٹ کی پہچان کے ذرائع :
-
فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ عدیم المثال تھے
-
فصل:....[حقیقت شجاعت]
-
فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ جامع فضائل ]
-
فصل پنجم: اصحاب ثلاثہ رضی اللہ عنہم اور روافض اصحاب ثلاثہ کے بارے میں شیعہ کی دروغ گوئی:
-
فصل :....[ غلطی کا احتمال اور اجماع]
-
فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]
-
فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال
-
آیات جہاد اور مذہب اہل سنت والجماعت
-
آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت
-
آیت تطہیر
-
شیعہ کا اپنی پیدائشی برتری کا عقیدہ
-
شیعہ کا رجعت کے متعلق عقیدہ
-
شیعہ کے ان خفیہ خاکوں پر تبصرہ
-
شیعہ کے خفیہ خاکہ کا خلاصہ
-
معاش رسول صلی اللہ علیہ وسلم
-
تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم
-
آیت استخلاف فی الارض
-
تفسیر آیات رضوان
-
تفسیر آیت اظہار دین
-
آیت غاز
-
مسلمانوں پر ظلم کی حرمت
-
اللہ تعالی کے مخصوص بالقدم اوربالازل ہونے کے عقیدہ پرتبصرہ:
-
اللہ تعالیٰ کے لیے لفظ ’’جسم ‘‘ کا استعمال :
-
منکرین صفات معتزلہ اور ان کے موافقین کا مؤقف :
-
مبتدعین کے دلائل سے امامیہ شیعہ کے دلائل کا ٹکراؤ:
-
مختلف اسلامی فرقوں کا انفراد
-
شیعہ کی دروغ گوئی
-
انبیاء کرام علیہم السلام نے ہدایت کیسے پائی؟ امامیہ شیعہ اثناء عشریہ کے شیوخ کے اعتقاد کے مطابق دیدار الہٰی کا کیا طریقہ ہے؟
-
اشاعرہ پر اعتراض اور اس کا جواب:
-
شیعہ فرقے اور ان کے عقائد و افکار
-
[فلاسفہ کی دھوکہ بازی کی اقسام ]
-
ذات باری تعالی کے مرکب ہونے میں اختلاف آراء
-
اہل عرب کا اجزاء سے مرکب پر اسم جنس کے اطلاق کے دعوے پررد
-
فصل: منکرین صفات سے مناظرہ کرنے کے لیے تجاویز:
-
فصل:اللہ تعالی کے بعض اسمائے مبارکہ کے متعلق اختلاف:
-
فصل: جہت اور حدوث کی بحث اور ابن تیمیہ کا ردّ
-
شیعہ اعتقاد کے مطابق اللہ تعالی کے ساتھ شرک کا مطلب کیا ہے اور مشرکین سے براءت کا مفہوم كیا ہے؟
-
رضاعت پر شیعہ کا سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر اعتراض کے جواب
-
براہ کرم شیعہ کے عقیدہ عصمت ائمہ تشکیل نو کا خلاصہ بیان کریں۔
-
شیعہ عقیدہ کی رو سے شیعہ مجتہدین کا مقام و مرتبہ کیا ہے؟ اور مجتہد کا رد کرنے والے کا حکم کیا ہے؟
-
منکرات و بدعات محرم الحرام
-
شیعہ اور مرزا علی جہلمی کا مشہور اعتراض ہے کہتے ہیں کہ صحیح بخاری حدیث 4108 میں لکھا ہے معاویہ رضی اللہ عنہ خود کو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے زیادہ مستحق خلافت سمجھتے تھے؟
-
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بقول اہل سنت تمام امت محمدیہﷺ سے افضل ہیں تو بوقت مواخات یعنی جب رسول اللہﷺ نے مسلمانوں میں بھائی چارہ قائم فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کیوں اپنا بھائی نہ بنایا جب کہ تاریخ شاہد ہے کہ آنحضرتﷺ دعوت ذوالعشیرہ اور مدینہ منورہ میں تشریف لانے پر فرمایا یا علیؓ انت اخی فی الدنیا والآخرۃ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کیا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بعد از رسول خدا تمام کائنات سے افضل و اکمل ہیں انصاف مطلوب ہیں؟
-
مسئلہ قضاء و قدر
-
توحید اور الٰہیات کے متعلق فریقین کے نظریات
-
ملاں لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شیعوں ہی نے قتل شہید کیا اور اب شیعہ اپنے ان مذموم افعال پر روتے پیٹتے ہیں تو سانحہ کربلا کے موقعہ پر اہل سنت نے امام مظلوم کی مدد کیوں نہ کی جب کہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں اس وقت اہل سنت موجود تھے۔
-
ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)
-
عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے
-
فاطمی ائمہ معصومین کا سیاسی کردار اور ان سے متعلق غیر یقینی معلومات
-
عیب مے جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو
-
حدیث حوض میں لفظ اصحابی کی تحقیق
-
فضائل اہل بیت (رضی اللہ عنہم)
-
مطاعنِ صدیقی
-
مسئلہ وراثت انبیاء علیہم السلام
-
بحث نکاح سیدہ امِّ کلثوم رضی اللہ عنہا
-
مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ
-
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کس طرح ہوئی؟
-
سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید حرام ہے
-
فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات
-
واقعہ غار کی تصدیق کتب شیعہ سے
-
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا عمل
-
نواں طعن (حدیثِ قرطاس)
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
-
شیعہ کا ادعائے قدامت
-
نقشہ اسلام حسب عقائد شیعہ
-
رہبر ایران علی خامنائی کے کفریہ عقائد کی جھلکیاں (حصہ اول)
-
رہبر ایران علی خامنائی کے کفریہ عقائد کی جھلکیاں (حصہ دوم)
-
اہل سنت کے بارے میں رہبر انقلاب ایران خمینی کے افکار
-
لفظ مولیٰ کی تحقیق
-
عقیدہ امامت و خلافت کی حقیقت اور رافضی دلائل کا رد
-
شیعہ کا عقیدہ رجعت قرآن کریم بمقابلہ شیعہ معتبر کتب
-
مکالمہ فدک (دوسری قسط) میراث نبوی ﷺ اور صحیح احادیث
-
سورۃ المائدة کی آیت 67 کی تفسیر اور شیعہ کا امت مسلمہ کو دھوکہ
-
معوّذتین کی قرآنیت
-
تورات کی عبارتیں جن میں گریہ، ماتم اور رونے کے الفاظ ہیں۔
-
سیدہ حضرت عائشہ صدیقہؓ پر ماتم کا شیعہ الزام کا منہ توڑ جواب
-
کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت
-
تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ
-
کیا عبداللہ ابن سبا کم عقل، کم علم اور جاہل شخص تھا؟ دلشاد شیعہ کی غیر منطقی باتیں!
-
شیعہ مناظرکے پاس جب مزید کچھ نہ رہا تو بریک کے دوران بھیجے گئے چارٹ پرہی گفتگو شروع کردی!!
-
شیعہ کی دلیل#4: دعوت ذولعشیرہ۔ (تاریخ طبری)
-
اہل تشیع کا جواب دعوی اور اشکالات
-
شیعہ مناظرکی عجیب منطق :موضوع دو ہیں ، دعوی تبدیل کرنے کا مطالبہ!
-
شیعہ مناظر کی طرف سے غیر علمی گفتگو اور بازاری الفاظ کی شروعات
-
فضیل بن مرزوق راوی پر گرما گرم بحث جاری
-
کیا فضیل بن مرزوق میں تشیع تھی؟
-
شیعہ مناظر کی طرف سے غیر علمی گفتگو اور بازاری الفاظ کی شروعات
-
مختصر تبصرہ (اہل سنت)
-
سُنی مناظر کا آخری ٹرن
-
مسئلہ تحریف قرآن پر سُنی و شیعہ مختصر اور دلچسپ مکالمہ (ایک تیر سے دو شکار)
-
شیعہ مناظر دلشاد کی طرف سےاہلسنت ممبرز کو دئے گئے جوابات(قسط 41)
-
امام زہری کا ادراج اور حقائق (قسط 29)
-
سنی مناظر کی طرف سے اہم نکات جو دنیائے شیعیت پر بھاری حجت ہیں!!(قسط 28)
-
آیت تطہیر اور حدیث کساء
-
شیعہ اور اہل بیت
-
ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق
-
یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا