قرآنی آیات سے مدح صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین - ردِ…

قرآنی آیات سے مدح صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 6

قرآنی آیات سے مدح صحابہ

[ایک اور بات قابل ذکر ہے کہ آیت قرآنی میں کفار کی دوستی سے منع کر کے مومنین سے دوستانہ مراسم استوار کرنے کا حکم دیا گیا ہے]۔ بخلاف ازیں روافض اہل ایمان سے بغض و عداوت رکھتے اور مشرکین تا تار سے دوستی لگاتے ہیں ، جیسا کہ ہمارا مشاہدہ ہے، اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

﴿ یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰہُ وَ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ﴾ (الانفال: ۶۴) 

’’اے نبی! آپ کے لیے اللہ کافی ہے اور ان مومنوں کو جو آپ کی پیروی کر رہے ہیں ۔‘‘

یعنی اللہ تعالیٰ آپ کے لیے بھی کافی ہے اور آپ کے پیروکار مؤمنین کے لیے بھی۔ اور ان پیروکاروں میں صف اول کے اور سب سے افضل لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں ۔ نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ oوَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًاoفَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ اِِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا ﴾ [نصر]

’’جب اللہ کی مدد اور فتح آپہنچے۔اور آپ لوگوں کو دیکھیں گے کہ وہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں ۔ تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے اور اس سے بخشش مانگئے، یقیناً وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘

جن لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ فوج در فوج اسلام میں داخل ہورہے ہیں ‘وہ آپ کے زمانہ کے لوگ تھے۔ [جن کے بارے میں ] اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ ہُوَالَّذِیْٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَOوَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِہِمْ

’’وہی ہے جس نے تجھے اپنی مدد کے ساتھ اور مومنوں کے ساتھ قوت بخشی۔اور ان کے دلوں میں الفت ڈال دی۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ذریعہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید و نصرت فرمائی تھی۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَالَّذِیْ جَائَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِہٖ اُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الْمُتَّقُوْنَ 0لَہُمْ مَا یَشَاؤُ وْنَ عِنْدَ رَبِّہِمْ ذٰلِکَ جَزَآئُ الْمُحْسِنِیْنَ oلِیُکَفِّرَ اللّٰہُ عَنْہُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَیَجْزِیَہُمْ اَجْرَہُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴾[الزمر۳۳۔۳۵]

’’اور جو شخص سچی بات لایا اور جس نے اس کی تصدیق کی۔ یہی لوگ پرہیز گار ہیں ۔وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں موجود ہے۔ نیکی کرنے والوں کا یہی بدلہ ہے۔ تاکہ اللہ ان سے وہ برائیاں دور کردے جو انہوں نے کی تھیں اور جو اچھے کام وہ کرتے رہے انہی کے لحاظ سے انہیں ان کا اجر عطا کرے۔‘‘

یہی وہ لوگ ہیں جو سچی بات کہتے اور سچائی کی تصدیق کرتے ہیں ۔ بخلاف رافضی مصنف کے ؛ جوکہ جھوٹ بولتا ہے ‘ اور جب اس کے پاس حق بات آتی ہے ؛ تو اسے جھٹلاتا ہے ۔اس کی تفصیل ہم آگے بیان کریں گے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہی سچے لوگ تھے جو لا إلہ إلا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی دیتے تھے؛ اور ان کا عقیدہ تھا کہ قرآن کتاب برحق ہے۔اورانبیائے کرام علیہم السلام کے بعد سچائی پیش کرنے والوں اور سچائی کی تصدیق کرنے والوں میں سب سے افضل ترین لوگ تھے۔ اہل قبلہ میں سے شیعہ سے بڑھ کر کوئی بھی فرقہ ایسا نہیں ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اس قدر جھوٹ بولنے والا اور حق بات کو جھٹلانے والا ہو۔ اس لیے اس فرقہ سے بڑھ کر کسی بھی فرقہ میں غلو نہیں پایا جاتا۔ ان میں ایسے بھی لوگ ہیں جو بشر کے الہ ہونے کے دعویدار ہیں ۔ اور بعض شیعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دوسرے لوگوں کو بھی نبی تسلیم کرتے ہیں ۔ بعض اپنے ائمہ کے معصوم ہونے کے دعویدار ہیں ۔یہ باقی تمام فرقوں سے بڑھ کر جھوٹ کی آخری حدہے۔ اہل علم کا اتفاق ہے کہ اہل قبلہ کی طرف منسوب فرقوں میں سب سے زیادہ جھوٹ اسی فرقہ میں پایا جاتا ہے ۔ 

٭ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿قُلِ الْحَمْدُ ِللّٰہِ وَسَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہٖ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی ﴾ [النمل ۵۹]

’’فرما دیجیے: سب تعریف اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘

سلف کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ اس سے مراد اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس امت میں سے اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے لوگوں میں سب سے افضل ہیں ۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْہُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ وَ مِنْہُمْ مُّقْتَصِدٌ وَ مِنْہُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰہِ ذٰلِکَ ہُوَ الْفَضْلُ الْکَبِیْرُ٭جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَہَا یُحَلَّوْنَ فِیْہَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَہَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا وَ لِبَاسُہُمْ فِیْہَا حَرِیْرٌ٭وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَذْہَبَ عَنَّا الْحَزَنَ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَکُوْرُنِ٭الَّذِیْٓ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَۃِ مِنْ فَضْلِہٖ لَا یَمَسُّنَا فِیْہَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْہَا لُغُوْبٌ﴾[فاطر۳۲۔۳۵]

’’پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث بنایا جنہیں ہم نے (اس وراثت کیلئے)اپنے بندوں میں سے چن لیا۔ پھر ان میں سے کوئی تو اپنے آپ پر ظلم کرنے والا ہے۔ کوئی میانہ رو ہے اور کوئی اللہ کے اذن سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والاہے۔ یہی بہت بڑا فضل ہے۔وہ ہمیشہ رہنے والے باغات میں داخل ہوں گے۔ وہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا اور وہاں ان کا لباس ریشم کا ہوگا۔اور وہ کہیں گے اس اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم دور کر دیا ۔ یقیناً ہمارا پروردگار بخشنے والا، قدردان ہے۔جس نے اپنے فضل سے ہمیں ابدی قیام گاہ میں اتارا جہاں ہمیں مشقت اٹھانی پڑتی ہے اور نہ تھکان لاحق ہوتی ہے۔‘‘

امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم وہی لوگ ہیں جو یہود و نصاری کے بعد کتاب اللہ کے وارث بنے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبردی ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے۔ تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا :

صفحہ 1 از 6