مقامِ صحابہؓ
حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہبِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَل٘حَم٘دُ لِلّٰهِ عَدَدَ كَلِمَاتِهٖ وَزِنَةَ عَر٘شِهٖ وَرِضىٰ نَف٘سِهٖ وَالصَّلوٰةُ وَالسَّلَامُ عَلىٰ خَي٘رٍ خَل٘قِهٖ وَصَف٘وَةِ رُسُلِهٖ مُحَمَّدٍ وَاٰلِهٖ وَصَح٘بِهِ الَّذِي٘نَ هُم٘ نُجُو٘مُ الْمُه٘تَدى بِهِم٘ وَالْقُد٘وَة وَال٘أُس٘وَة فِي مَعَانِي ال٘قُر٘اٰنِ وَالسُّنَّةِ وَهُمُ ال٘أَدِلَّاءُ عَلَى الصِّرَاطِ ال٘مُس٘تَقِي٘مِ بَع٘دَ رَسُو٘لِهٖ صَلَّى اللَّهُ عَلَي٘هِ وآلہ وَسَلَّمَ ، اَمَّا بَع٘دُ۔
زیرِ نظر مقالے کا نام ”مقامِ صحابہؓ“ رکھا ہے تا کہ پہلے ہی یہ معلوم ہو جائے کہ یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل و مناقب کی کتاب نہیں، اس موضوع پر سینکڑوں کتابیں بحمد للہ ہر زبان میں موجود ہیں اور تمام کتبِ حدیث میں اس کے ایک نہیں بہت سے ابواب موجود ہیں۔ صحابہ کرامؓ کا تو مقام بہت بلند ہے، عام صلحاء و اولیائے اُمت کے فضائل و مناقب اور ان کی حکایات انسان کو راہِ راست دکھانے اور اس میں دینی انقلاب پیدا کرنے کے لیے نسخہ اکسیر ہیں، مگر وہ اس رسالے کا موضوع نہیں۔ اسی طرح اس عنوان سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ کوئی تاریخ کی کتاب بھی نہیں، جس میں افراد و رجال کے اچھے برے حالات درج ہوتے ہیں اور ان میں احوال کی کثرت وقلت کے تناسب سے کسی کو بزرگ صالح اور ولی کہا جاتا ہے، کسی کو فاسق و ظالم۔
کیونکہ انبیاء علیہم السلام کے بعد دنیا کا کوئی اچھے سے اچھا انسان ایسا نہیں جس سے کوئی لغزش اور غلطی نہ ہوئی ہو، اسی طرح کوئی بُرے سے برا انسان ایسا بھی نہیں جس سے کوئی اچھا کام نہ ہوا۔ بس مدار کار اس پر رہتا ہے کہ جس شخص کی زندگی اچھے اخلاق و اعمال میں گزری ہے اس کا صدق و اخلاص بھی اس کے عمل سے پہچانا گیا ہے، اس سے کوئی گناہ یا غلطی بھی ہوگئی تو بھی اس کو صلحائے امت ہی کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسی طرح جو شخص اپنی عام زندگی میں دین کی حدود و قیود کا پابند، احکامِ شرعیہ کا تابع نہیں ہے اس سے دو چار اچھے بلکہ بہت اچھے کام بھی ہو جائیں تو بھی اس کو صلحاء و اولیاء کی فہرست میں شمار نہیں کیا جاتا۔
فنِ تاریخ کا کام اتنا ہے کہ واقعات کو دیانت داری سے ٹھیک ٹھیک بیان کر دے، اس سے نتائج کیا نکلتے ہیں اور کسی فرد یا جماعت کا دینی یا دنیاوی مقام ان واقعات کی روشنی میں کیا ٹھہرتا ہے؟ یہ فنِ تاریخ کے موضوع سے الگ ایک چیز ہے، جس کو ”فقہ التاریخ“ تو کہہ سکتے ہیں، ” تاریخ" نہیں۔
پھر عام دنیا کے افراد و رِجال اور جماعتوں کے بارے میں یہ "فقہ التاریخ" انہیں تاریخی واقعات پر مبنی ہوتا ہے اور فنِ تاریخ کا ہر واقف و ماہر ایسے نتائج اپنی اپنی فکر و نظر کے مطابق نکال سکتا ہے۔
"مقامِ صحابہؓ" میں مجھے یہ دکھلانا ہے کہ رسول اللہﷺ کے ساتھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس معاملے میں عام دنیا کے افراد و رجال کی طرح نہیں کہ ان کے مقام کا فیصلہ نری تاریخ اور اس کے بیان کردہ حالات کے تابع کیا جائے بلکہ "صحابہ کرامؓ" ایک ایسے مقدس گروہ کا نام ہے جو رسول اللہﷺ اور عام اُمت کے درمیان اللہ تعالیٰ کا عطا کیا ہوا ایک واسطہ ہے، اس واسطے کے بغیر نہ امت کو قرآن ہاتھ آسکتا ہے، نہ قرآن کے وہ مضامین جن کو قرآن نے رسول اللہﷺ کے بیان پر چھوڑا ہے، لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيۡهِمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَفَكَّرُوۡنَ (سورۃ النحل آیت: 44) نہ رسالت اور اس کی تعلیمات کا کسی کو اس واسطے کے بغیر علم ہو سکتا ہے۔
یہ رسول اللہﷺ کی زندگی کے ساتھی، آپ کی تعلیمات کو تمام دنیا اور اپنے زن و فرزند اور اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھنے والے، آپ کے پیغام کو اپنی جانیں قربان کر کے دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلانے والے ہیں۔ ان کی سیرت رسول اللہﷺ کی سیرت کا ایک جزء ہے، یہ عام دنیا کی طرح صرف کتبِ تاریخ سے نہیں پہچانے جاتے بلکہ نصوصِ قرآن وحدیث اور سیرتِ رسول اللہﷺ سے جانے پہچانے جاتے ہیں، ان کا اسلام اور شریعت اسلام میں ایک خاص مقام ہے۔ میں اس مقالے میں اسی مقام کو ”مقامِ صحابہؓ“ کے عنوان سے پیش کرنا چاہتا ہوں۔
اس کی ضرورت و اہمیت تو بہت زمانے سے پیشِ نظر تھی مگر اس کے لکھنے کا ایسا قوی داعیہ جو دوسرے کاموں کو مؤخر کر کے اس میں لگا دے اس وقت پیدا ہوا جبکہ یہ ناکارہ اپنی عمر کی چھیترویں منزل سے گزر رہا ہے، قویٰ جواب دے چکے ہیں، مختلف قسم کے امراض کا غیر منقطع سلسلہ ہے، علم و عمل پہلے ہی کیا تھا، اب جو کچھ تھا وہ بھی رخصت ہو رہا ہے۔
ان حالات میں یہ داعیہ قوی ہونے کا سبب موجودہ زمانے کے کچھ حوادث ہیں، یہ تو سب کو معلوم ہے کہ امت کے گمراہ فرقوں میں سے ایک فرقہ جو عہدِ صحابہؓ ہی میں پیدا ہو گیا تھا، صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی سے پیش آتا ہے، اور اسی بناء پر عام امتِ محمدیہ اس سے منقطع ہے، مگر امت کے عام فرقے خصوصاً جمہورِ امت جن کو اہلِ السنۃ والجماعۃ کے لقب سے ذکر کیا جاتا ہے، وہ سب کے سب صحابہ کرامؓ کے خاص مقام اور ادب و احترام پر متفق اور ان کی عظیم شخصیتوں کو اپنی تنقیدات کا نشانہ بنانے سے گریز کرتے رہے، اور اس کو بڑی بے ادبی سمجھتے رہے۔ مسائل میں اختلافِ صحابہؓ کے وقت دو متضاد چیزوں پر ظاہر ہے کہ عمل نہیں ہو سکتا، ان میں سے ایک کو اجتہادِ شرعی کے ساتھ اختیار کرنا اور بات ہے، وہ کسی شخصیت کو ہدف تنقید بنانے سے بالکل مختلف چیز ہے۔
*تحقیق کی وبا*
لیکن اس زمانے میں یورپ سے جو اچھی بری چیزیں اسلامی ملکوں میں درآمد کر لی گئی ہیں ان میں ہر چیز کی تحقیق و تنقید (ریسرچ) بھی ہے، تحقیق و تنقید فی نفسہ کوئی بری چیز نہیں، خود قرآن کریم نے اس کی طرف دعوت دی ہے، سورۃ فرقان میں عِبَادُ الرَّحْمٰنِ کے عنوان سے اللہ تعالیٰ کے صالح اور نیک بندوں کی جو صفات بیان فرمائی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے: وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا (سورۃ الفرقان آیت: 73) یعنی اللہ کے یہ صالح اور نیک بندے آیاتِ الٰہیہ پر اندھے بہروں کی طرح نہیں گر پڑتے کہ بے تحقیق جس طرح اور جو چاہیں عمل کرنے لگیں، بلکہ خوب سمجھ بوجھ کر بصیرت کے ساتھ عمل کرتے ہیں۔
لیکن اسلام نے ہر چیز اور ہر کام کی کچھ حدود مقرر کی ہیں، ان کے دائرے میں رہ کر جو کام کیا جائے وہ مقبول و مفید سمجھا جاتا ہے، حدود و اصول کو توڑ کر جو کام کیا جائے وہ فساد قرار دیا جاتا ہے۔
*کون سی تحقیق مستحسن ہے؟*
تحقیق و تنقید میں سب سے پہلی بات تو اسلامی اصول میں یہ پیش نظر رکھنی ہے کہ اپنی توانائی اور وقت اس چیز کی تحقیق پر صرف نہ کی جائے جس کا کوئی نفع دین یا دنیا میں متوقع نہ ہو، خالی تحقیق برائے تحقیق اسلام میں ایک عبث اور فضول عمل ہے، جس سے پرہیز کرنے کے لیے رسول اللہﷺ نے بڑی تاکید فرمائی ہے، خصوصاً جبکہ کوئی ایسی تحقیق و تنقید ہو جس سے دنیا میں فتنہ اور جھگڑے پیدا ہوں۔ یہ ایسی ہی تنقید ہوگی جیسے کوئی لائق بیٹا اس کی تحقیق اور ریسرچ میں لگ جائے کہ جس باپ کا بیٹا کہلاتا ہوں کیا واقعی میں اسی کا بیٹا ہوں؟ اور اس کے لیے والدہ محترمہ کی زندگی کے گوشوں پر ریسرچ و تحقیق کا زور خرچ کرے۔ دوسرے شخصیتوں پر جرم و تنقید کے لیے اسلام نے کچھ عادلانہ، حکیمانہ اصول اور حدود مقرر کیے ہیں اور ان سے آزاد ہو کر جس کا جی چاہے، جو جی چاہے اور جس کے خلاف جی چاہے بولا یا لکھا کرے، اس کی اجازت نہیں دی۔ یہاں اس کی تفصیلات بیان کرنے کا موقع نہیں، حدیث کی جرح و تعدیل کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ اس پر بحث کی گئی ہے۔
لیکن یورپ سے درآمد کی ہوئی ”ریسرچ و تحقیق“ نام ہی بے قید اور آزاد تنقید کا ہے، ادب اور احترام اور حدود کی رعایت اس میں ایک بے معنی چیز ہے۔ افسوس ہے کہ اس زمانے کے بہت سے اہلِ قلم بھی اس نئے طرزِ تنقید سے متاثر ہو گئے۔
بغیر کسی دینی یا دنیوی ضرورت کے بڑی بڑی شخصیتوں کو آزاد جرح و تنقید کا ہدف بنا لینا ایک علمی خدمت اور محقق ہونے کی علامت سمجھی جانے لگی۔
اسلافِ امت اور ائمہ دین پر تو یہ مشقِ ستم بہت زمانے سے جاری تھی، اب بڑھتے بڑھتے صحابہ کرامؓ تک بھی پہنچ گئی۔ اپنے آپ کو اہلِ السنۃ والجماعۃ کہنے والے بہت سے اہلِ قلم نے اپنی ریسرچ و تحقیق اور علمی توانائی کا بہترین مصرف اسی کو قرار دے لیا کہ صحابہ کرامؓ کی عظیم شخصیتوں پر جرح و تنقید کی مشق کی جاوے۔
بعض حضرات نے ایک طرف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے یزید کی تائید و حمایت کا نام لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد بلکہ پورے بنی ہاشم کو ہدفِ تنقید بنا ڈالا اور اس میں صحابہ کرامؓ کے ادب و احترام تو کیا اسلام کے عادلانہ اور حکیمانہ ضابطہ تنقید کی بھی ساری حدود و قیود کو توڑ ڈالا۔ اس کے بالمقابل دوسرے بعض حضرات نے قلم اُٹھایا تو حضرت معاویہ اور عثمانِ غنی رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں پر اسی طرح کی جرح و تنقید سے کام لیا۔
نئی تعلیم پانے والے نوجوان جو علومِ دین اور آدابِ دین سے ناواقف یورپ سے درآمد کی ہوئی نئی تہذیب کے دل دادہ ہیں، وہ ان دونوں سے متاثر ہوئے اور ان کے حلقوں میں صحابہ کرامؓ پر زبانِ طعن دراز ہونے لگی، اور صحابہ کرامؓ جو رسول اللہﷺ اور اُمتِ مسلمہ کے درمیانی واسطہ ہیں، ان کو دنیا کے عام سیاسی لیڈروں کی صف میں دکھایا جانے لگا، جو اقتدار کی جنگ کرتے ہیں اور اپنے اپنے اقتدار کے لیے قوموں کو گمراہ اور تباہ کرتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ پر تبرا کرنے والا گمراہ فرقہ تو ایک خاص فرقے کی حیثیت سے جانا پہچانا جاتا ہے، عام مسلمان ان کی باتوں سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ نفرت کرتے ہیں، مگر اب یہ فتنہ خود اہلِ سنت والجماعت کہلانے والے مسلمانوں میں پھوٹ پڑا۔
اور یہ ظاہر ہے کہ خدانخواستہ اگر مسلمان، صحابہ کرامؓ ہی کے اعتماد کو کھو بیٹھے تو پھر نہ قرآن پر اعتماد رہتا ہے، نہ حدیث پر، نہ دینِ اسلام کے کسی اصول پر، اس کا نتیجہ کھلی بے دینی کے سوا کیا ہو سکتا ہے؟ یہ سبب ہوا جس نے ان حالات میں اس موضوع پر قلم اُٹھانے کے لیے مجبور کر دیا، والله المستعان وعليه التكلان
*غلط فہمیوں کا اصل سبب*
اس دور میں جبکہ پوری دنیا میں اسلامی شعائر کی کھلی توہین، فحاشی، عریانی، حرام خوری، قتل و غارت گری اور باہمی جنگ و جدال مسلمانوں میں طوفانی رفتار سے بڑھ رہا ہے اور دُشمنانِ اسلام کی ہر جگہ مسلمانوں پر یلغار ہے، اس وقت میں ان محققین ناقدین نے گڑے مردے اکھاڑنے اور سوئے ہوئے فتنے بیدار کرنے کو اسلام کی بڑی خدمت کیوں سمجھا؟ اس بحث کو چھوڑ کر میں ”مقام صحابہؓ" میں اس چیز کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں جو اِن حضرات کے لیے مغالطے کا سبب بنی اور پھر ان کے عمل سے دوسرے لوگوں کے لئے بہت سے دینی مسائل میں مغالطوں کا ذریعہ بن گئی۔
بات یہ ہے کہ ان حضرات نے حضراتِ صحابہؓ کی شخصیتوں کو بھی عام رجالِ امت کی طرح صرف تاریخی روایات کے آئینے میں دیکھا اور تاریخ کی صحیح و سقیم روایات کے مجموعے سے وہ جس نتیجے پر پہنچے، وہی مقام ان مقدس شخصیتوں کے لیے تجویز کر لیا، اور ان کے اعمال و افعال کو اسی دائرے میں رکھ کر پرکھا۔
قرآن وسنت کی نصوص اور اُمت کے اجماعی عقیدے نے جو امتیاز صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ذات و شخصیات کو عطا کیا ہے، وہ نظر انداز کر دیا گیا، وہ امتیازی خصوصیت حضراتِ صحابہؓ کی یہ ہے کہ قرآنِ کریم نے ان سب کے بارے میں رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ کا، اور ان کا مقام جنت ہونے کا اعلان کر دیا، اور جمہور امت نے ان کی ذات و شخصیات کو اپنی جرح و تنقید سے بالاتر قرار دیا۔ ان کے مختلف مسائل و مسالک میں سے عمل کے لیے شرعی حدود اجتہاد کے دائرے میں کسی ایک کو ترجیح دے کر اختیار کر لینا اور دوسرے کو مرجوح قرار دے کر ترک کر دینا دوسری چیز ہے، اس سے جس کے مسلک کو مرجوح قرار دیا گیا ہے اس کی ذات اور شخصیت نہ مجروح ہوتی ہے اور نہ ایسا کرنا ان کے ادب کے خلاف ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ پر عمل فرض ہے اور اختلافِ اقوال کے وقت دو متضاد چیزوں پر عمل ناممکن ہے، شرعی فریضے کی ادائیگی کے لیے اقوالِ مختلفہ میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا ناگزیر ہے، بشرطیکہ دوسرے کی ذات اور شخصیت کے بارے میں کوئی ادنیٰ بے ادبی یا کسرِ شان کا پہلو اختیار نہ کیا جائے۔
*فنِ تاریخ کی اہمیت اور اس کا درجہ*
اوپر جو یہ لکھا گیا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ذات و شخصیات اور ان کے مقام کا تعین صرف تاریخی روایات کی بنیاد پر کر لینا درست نہیں، کیونکہ یہ حضرات رسالت اور امت کے درمیانی واسطہ ہونے کی حیثیت سے از روئے قرآن و سنت ایک خاص مقام رکھتے ہیں، تاریخی روایات کا یہ درجہ نہیں ہے کہ ان کی بناء پر ان کے اس مقام کو گھٹایا بڑھایا جاسکے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں سمجھنا چاہیے کہ فنِ تاریخ بالکل نا قابلِ اعتبار و بیکار ہے، (آگے اسلام میں اس کی ضرورت و اہمیت واضح کی جائے گی) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اعتبار و اعتماد کے بھی مختلف درجات ہوتے ہیں۔
اسلام میں اعتبار و اعتماد کا جو مقام قرآنِ کریم اور احادیثِ متواترہ کا ہے وہ عام احادیث کا نہیں، جو حدیثِ رسولﷺ کا درجہ ہے وہ اقوالِ صحابہؓ کا نہیں۔ اسی طرح تاریخی روایات کے اعتماد و اعتبار کا بھی وہ درجہ نہیں ہے جو قرآن وسنت یا سندِ صحیح سے ثابت شدہ اقوالِ صحابہؓ کا ہے۔
بلکہ جس طرح نصِ قرآنی کے مقابلے میں اگر کسی غیر متواتر حدیث سے اس کے خلاف کچھ مفہوم ہوتا ہو تو اس کی تاویل واجب ہے، یا تاویل سمجھ میں نہ آئے تو نصِ قرآنی کے مقابلے میں اس حدیث کا ترک واجب ہے۔ اسی طرح تاریخی روایات اگر کسی معاملے میں قرآن وسنت سے ثابت شدہ کسی چیز سے متصادم ہوں تو وہ بمقابلہ قرآن و سنت کے متروک یا واجب التاویل قرار دی جائے گی خواہ وہ تاریخی اعتبار سے کتنی ہی معتبر و مستند روایات ہوں۔
اعتبار و اعتماد کی یہ درجہ بندی کسی فن کی عظمت و اہمیت کو گھٹاتی نہیں، البتہ شریعت اور اس کے احکام کی عظمت کو بڑھاتی ہے کہ ان کے ثبوت کے لئے اعتماد و اعتبار کا نہایت اعلیٰ درجہ لازم قرار دیا گیا ہے، پھر احکامِ شرعیہ میں بھی تقسیم کر کے عقائدِ اسلامیہ کے ثبوت کے لیے ہر شرعی دلیل بھی کافی نہیں سمجھی جاتی جب تک قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت نہ ہو، باقی احکامِ عملیہ کے لیے عام احادیث جو قابلِ اعتماد سند کے ساتھ منقول ہوں وہ بھی کافی ہوتی ہیں۔
*فنِ تاریخ کی اسلامی اہمیت*
فنِ تاریخ کی اسلامی اہمیت کے لیے تو اتنی ہی بات کافی ہے کہ تاریخ و قصص قرآنِ کریم کے علومِ خمسہ کا ایک اہم جزء ہیں، قرآنِ کریم نے ایامِ ماضیہ اور اقوامِ سابقہ کے اچھے برے حالات بیان کرنے کا خاص اہتمام فرمایا، البتہ قرآنِ کریم نے جس طرح تاریخ و قصص کو بیان فرمایا ہے وہ ایک انوکھا انداز ہے کہ کسی قصے کو ترتیب کے ساتھ اول سے آخر تک پورا بیان کرنے کے بجائے اس کے ٹکڑے کر کے مختلف مضامینِ قرآنیہ کے ساتھ لائے گئے ہیں اور صرف ایک جگہ نہیں بلکہ بار بار اس کا اعادہ فرمایا ہے۔
اس خاص طرز سے فنِ تاریخ کی اہمیت کے ساتھ اس کے اصلی مقصود کو بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ اقوامِ سابقہ کے قصے بحیثیت قصہ کہانی کے کوئی انسانی اور اسلامی مقصد نہیں، بلکہ ان سے اصل مقصد و غرض وہ عبرتیں اور نتائج ہیں جو اُن میں غور کرنے سے حاصل ہوتے ہیں۔ اچھے کاموں کے اچھے نتائج دیکھ کر ان کی طرف رغبت، اور بُرے کاموں کے بُرے نتائج معلوم کر کے ان سے نفرت، اور زمانے کے انقلابات سے حق تعالیٰ کی قدرت و حکمت کے مضامین حاصل کرنا ان کا اہم مقصد ہے۔
قدیم زمانے سے افسانوں اور کہانیوں اور پچھلے قصوں کو محض ایک دل بہلانے کے مشغلے کے طور پر پڑھا اور سنا جاتا تھا، اسلام نے اول تو تاریخ لکھنے کے خاص آداب سکھائے پھر یہ بھی بتلا دیا کہ تاریخ بحیثیت تاریخ خود کوئی مقصد نہیں بلکہ اس کا مقصد عبرت و نصیحت حاصل کرنا ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہؒ نے”الفوز الکبیر“ میں بعض عارفین کا یہ قول نقل کیا ہے کہ لوگوں نے جب تجوید وقراءة کے قواعد کا شغل اختیار کیا تو اس میں ایسے منہمک ہو گئے کہ ساری توجہ حروف ہی کے درست کرنے پر رہنے لگی، نماز میں خشوع اور تلاوتِ قرآن سے تذکر جو اصل مقصد تھا اس کو فوت کر دیا۔ اسی طرح بعض مفسرین نے جب قصص پر زور دیا اور پوری تفصیلات لکھ دیں تو ان کی کتابوں میں اصل علمِ تفسیر ان قصوں میں گم ہو گیا۔
بہر حال قرآن کے علومِ خمسہ میں سے قصص و تاریخ بھی ایک اہم علم ہے جس کی تحصیل اپنی حد کے اندر واجب اور بہت بڑی طاعت ہے، پھر ذخیرہ حدیث اور سیرتِ رسول اللہﷺ پر غور کیا جائے تو وہ پورا ذخیرہ ہی آنحضرتﷺ کے اقوال و اعمال کی تاریخ ہے اور حدیث کے راویوں میں جب غلط کار یا جھوٹی حدیثیں بنانے والے لوگ شامل ہو گئے تو پورے ذخیرہ حدیث کے روایت کرنے والے راویوں کی تاریخ اور ان کے صحیح اور اصل حالات کا معلوم کرنا حدیث کی حفاظت کے لیے ضروری ہو گیا، حضراتِ ائمہ حدیث نے اس کا بڑا اہتمام فرمایا۔
سفیان ثوریؒ نے فرمایا کہ جب راویوں نے جھوٹ سے کام لیا تو ہم نے ان کے مقابلے میں تاریخ کو سامنے کر دیا۔
(الاعلان بالتوبيخ لمن ذم التواريخ للحافظ السخاوىؒ: صفحہ 9)
تاریخ کا یہ حصہ جس کا تعلق حدیث کے راویوں اور ان کے ثقہ و غیر ثقہ، قوی یا ضعیف ہونے سے ہے ایک حیثیت سے حدیث ہی کا جزء سمجھا گیا ہے اور ائمہ حدیث ہی نے اس حصے کے لکھنے کا اہتمام فرمایا، اس کا نام بھی مستقل”فنِ اسمائے رجال“رکھا گیا، اس کے ضروری اور واجب ہونے میں کس کو کلام ہو سکتا ہے؟ علمائے امت میں جس کسی نے راویوں پر جرح و تعدیل کی بحث کو غیبت میں داخل کر کے اعتراض کیا ہے، وہ صرف اس صورت سے متعلق ہے جس میں جرح و تعدیل کی حدودِ شرعیہ سے تجاوز کیا گیا ہو، بے ضرورت بے مقصد عیب چینی اور کسی کو رسوا کرنا مقصود ہو، یا جرح و تعدیل میں اعتدال و انصاف سے کام نہ لیا گیا ہو، ورنہ رواۃِ حدیث کی ضروری اور معتدل تنقید تو ایسی چیز ہے کہ اس کے بغیر ذخیرہ حدیث ہی کا اعتبار نہیں رہ سکتا، جبکہ کوئی نیک دل انسان حفاظتِ حدیث کی نیت سے غلط کار یا ضعیف راویوں پر معتدل تنقید کرتا ہے تو وہ حدیثِ رسولﷺ کا حق ادا کر رہا ہے۔
جرح و تعدیل کے مشہور امام یحییٰ بن سعید قطان رحمۃاللہ سے کسی نے کہا کہ آپ خدا سے نہیں ڈرتے کہ جن لوگوں کو آپ کذاب یا غیر ثقہ یا ضعیف کہتے ہیں وہ قیامت کے روز آپ کے خلاف مخاصمہ کریں؟ تو فرمانے لگے کہ: قیامت کے روز یہ لوگ میرے خلاف احتجاج کریں، یہ اس سے بہتر ہے کہ رسول اللہﷺ مجھ سے یہ مطالبہ فرماویں کہ میری حدیث میں جن لوگوں نے کمی بیشی کی تھی تم نے اس کی مدافعت کیوں نہیں کی؟ ( سخاویؒ، رسالہ مذکورہ: صفحہ 53) البتہ حضراتِ محدثینؒ نے جس طرح اس ضرورت کا احساس کیا کہ حدیث کے راویوں کی پوری چھان بین کی جائے، صادق، کاذب، ثقہ، غیر ثقہ، قوی، ضعیف کو کھول کر واضح کر دیا جائے، اسی طرح اس کام کو حدودِ شرعیہ میں رکھنے کے لیے چند ضروری شرائط بھی رکھی ہیں، جن کو حافظ عبد الرحمٰن سخاوی رحمۃاللہ نے تاریخ کے موضوع پر اپنی مستقل کتاب "الاعلان بالتوبيخ لمن ذم التواريخ" میں تفصیل سے بیان کر دیا ہے، جن میں سب سے پہلی شرط صحتِ نیت ہے کہ کسی راوی کا عیب ظاہر کرنا، اس کو بدنام کرنا فی نفسہ مقصود نہ ہو بلکہ مقصد اس کی خیر خواہی اور حدیث کی حفاظت ہو۔ دوسرے یہ کہ صرف اس شخص کے متعلق یہ کام کیا جائے جس کا تعلق کسی حدیث کی روایت سے یا کسی فرد یا جماعت کے نفع نقصان سے ہے اور جس کے اظہار سے اس شخص کی اصلاح یا لوگوں کا اس کے ضرر سے بچنا متوقع ہو، ورنہ فضول کسی کے عیوب کو مشغلہ بنانا کوئی دین کا کام نہیں۔
تیسرے یہ کہ اس میں بھی صرف قدر ضرورت پر اکتفا کرے کہ فلاں ضعیف یا غیر ثقہ ہے، یا روایت گھڑنے والا ہے، ضرورت سے زائد الفاظِ عیب سے اجتناب کیا جائے۔
اور جو کچھ کہا جائے مقدور بھر پوری تحقیق کے بعد کہا جائے۔
جرح و تعدیل کے بڑے امام ابن المدینی رحمۃاللہ سے کچھ لوگوں نے ان کے باپ کے متعلق پوچھا کہ وہ روایت حدیث میں کس درجے کے ہیں؟ تو فرمایا کہ: یہ بات میرے سوا کسی اور آدمی سے پوچھو، مگر ان لوگوں نے اصرار کیا کہ ہم آپ ہی کی رائے معلوم کرنا چاہتے ہیں، تو کچھ دیر سر جھکا کر بیٹھ گئے سوچتے رہے اس کے بعد سر اٹھا کر فرمایا:
هو الدين، انہ ضعيف.
(رسالہ سخاوی: صفحہ 66)
ترجمہ: یہ دین کی بات ہے (اس لیے کہتا ہوں کہ) وہ
ضعیف ہیں۔
یہ حضرات ہیں جو دین کے ادب کے ساتھ رِجال کے ادب اور حدود کی رعایت کے جامع تھے، ان کے والد روایتِ حدیث میں ضعیف تھے، شروع میں چاہا کہ اس سوال کا جواب ان کی زبان سے نہ ہو، جب اصرار کیا گیا تو ادبِ دین کی روایت مقدم ہو گئی، حقیقت کا اظہار کیا مگر صرف بقدرِ ضرورت لفظوں میں، ضرورت سے زائد ایک لفظ نہیں بولا۔
خلاصہ یہ ہے کہ تاریخ کا وہ حصہ جس کا تعلق حفاظتِ حدیث سے ہے، یعنی اس کے راویوں پر تنقید اور جرح و تعدیل اور ان کے حالات کا بیان، یہ تو ان علومِ ضروریہ میں سے ہے جس پر حدیثِ رسول اللہﷺ کا حجتِ شرعی ہونا موقوف ہے، اس لیے اس کے واجب اور ضروری ہونے میں کسی کو کلام نہیں ہوسکتا، اور تاریخ کا یہ خاص حصہ اپنی مخصوص اہمیت کے پیشِ نظر مؤرخین کے نزدیک یہی ایک مستقل قسم ”اسماء الرجال" کے نام موسوم ہو کر علیحدہ کر دیا گیا ہے۔ اب کلام اس تاریخِ عام میں رہ گیا جس کو عرفِ عام میں "تاریخ" کہا جاتا ہے، جس میں تخلیقِ کائنات اور ہبوطِ آدم علیہ السلام سے لے کر اپنے وقت تک تمام زمینی اور آسمانی واقعات، اقالیمِ عالم اور ملکوں، خطوں اور ان میں پیدا ہونے والے اچھے برے لوگوں کے، خصوصاً انبیاء و صلحاء اور ملوک و روساء کے عام اچھے بُرے حالات، دُنیا کے انقلابات، جنگیں اور فتوحات وغیرہ کا ایک جہان ہوتا ہے، یہ تاریخی حکایات جمع کرنے اور رکھنے کا دستور تو بہت پرانا ہے، ہر ملک، ہر خطے اور طبقے کے لوگوں میں اس طرح کی حکایات سینہ بہ سینہ بھی اور کچھ کتاب میں بھی منقول چلی آتی ہیں، لیکن عام طور پر اسلام سے پہلے یہ بغیر کسی تنقیح و تحقیق کے سنی سنائی باتوں اور افسانوں اور کہانیوں کے ایک غیر مستند مجموعے کے سوا کچھ نہ تھا۔
اسلام نے دُنیا میں سب سے پہلے کسی روایت کے لیے سند و اسناد کی ضرورت اور اس کی تنقیح و تحقیق کو ضروری قرار دیا، قرآنِ کریم نے خود اس کی ہدایت کی: اِنۡ جَآءَكُمۡ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوۡۤا(سورۃ الحجرات آیت: 6)یعنی کوئی غیر معتبر آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کرلو۔
رسول اللہﷺ کی تعلیمات اور آپ کے اقوال و افعال کو کتابوں میں منضبط کرنے والوں نے اس خاص طریق کے ایک سے زیادہ فنون بنا دیئے جس سے حدیثِ رسول اللہﷺ کی حفاظت تو ہو ہی گئی، دوسری چیزوں میں بھی نقل و روایت کے اُصول بن گئے، دنیا کی عام تاریخیں بھی جو مسلمانوں نے لکھنا شروع کیں ان میں بھی جہاں تک ممکن ہوا ان اُصولِ روایت کی رعایت رکھی گئی۔
اس طرح اگر یہ کہا جائے تو کوئی مبالغہ نہیں کہ تاریخ کو ایک معتبر مستند فن کی حیثیت دینے والے مسلمان ہی ہیں، مسلمانوں ہی نے دنیا کو تاریخ لکھنے اور اس کی تنقیح کا سبق دیا، علمائے امت جنہوں نے قصص الانبیاء اور پھر روایاتِ حدیث کو بہت سی چھلنیوں میں چھان کر نہ صرف جھوٹ سچ کو الگ الگ کر دیا، بلکہ سچ اور معتبر روایات میں بھی درجات اعلیٰ و ادنیٰ قائم کر دیے، اور حدیث سے متعلق تاریخ ”اسمائے رِجال“ کو علیحدہ کر کے مثل جزء حدیث بنا کر دین کی یہ اہم خدمت انجام دی۔ انہیں حضرات نے عام تاریخِ عالم ملکوں اور بادشاہوں اور زمین کے مختلف حصوں کی تاریخ و جغرافیہ لکھنے پر بھی خاص توجہ مبذول فرمائی اور بڑے بڑے ائمہ حدیث و تفسیر اور اکابر علماء و فقہائے امت نے مختلف انواع و اقسام کی تاریخیں لکھیں، جن کی کچھ تفصیلات حافظ عبد الرحمٰن سخاویؒ نے اپنی کتاب "الاعلان بالتوبيخ لمن ذم التواریخ“ کے نوّے صفحات میں جمع فرمائی ہیں، یہ خود ایک دلچسپ اور مفید مجموعہ اور قابلِ دید و مطالعہ ہے، مگر یہاں اس کے نقل کرنے کی گنجائش نہیں۔
میرا مقصد یہاں اس کے ذکر سے صرف اتنا ہے کہ علمائے اُمت نے صرف اس حصہ تاریخ پر بس نہیں کی جس کا تعلق حفاظت اور رجالِ حدیث سے ہے، بلکہ عام دنیا کی تاریخ، جغرافیہ اور ملوک و مشاہیر کے حالات اور انقلابات و حوادث کے لکھنے پر بھی ایسی ہی توجہ دی اور ہزارہا چھوٹی بڑی کتابیں لکھیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں اس تاریخ کا بھی ایک مقام ہے جس کے ساتھ انسان کے بہت سے دینی اور دنیاوی فوائد وابستہ ہیں۔
حافظ سخاویؒ نے اپنی کتابِ مذکور کے ابتدائی چالیس صفحات میں تاریخ کے فوائد و فضائل اور ان کے متعلق علماء و حکمائے اسلام کے اقوال جمع فرمائے ہیں۔
*اسلام میں فنِ تاریخ کا درجہ*
فنِ تاریخ کے فضائل اور فوائد جن کو سخاویؒ نے بڑی تفصیل سے علماء و حکماء کے اقوال سے ثابت کیا ہے، ان میں سب سے بڑا اور جامع فائدہ عبرت حاصل کرنا، دنیا کے عروج و نزول اور حوادث و انقلابات سے دنیا کی بے ثباتی کا سبق لینا، آخرت کی فکر کو سب چیزوں پر مقدم رکھنا اور اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت اور اس کے انعامات و احسانات کا استحضار، انبیاء اور صلحائے امت کے احوال سے قلب کی نورانیت اور کفار و فجار کے انجامِ بد سے عبرت حاصل کر کے کفر و معصیت سے پرہیز کا اہتمام، حکمائے سابقین کے تجربوں سے دین و دنیا میں فائدہ اُٹھانا وغیرہ ہے۔ مگر فنِ تاریخ کے اتنے فوائد و فضائل اور اس کی اتنی بڑی اہمیت کے باوجود اس فن کو یہ مقام کسی نے نہیں دیا کہ شریعتِ اسلام کے عقائد و احکام اس فن سے حاصل کئے جائیں، حلال و حرام کے مباحث میں تاریخی روایات کو حجت قرار دیا جائے، جن مسائل کے ثبوت کے لیے قرآن وسنت اور اجماع و قیاس کے شرعی دلائل کی ضرورت ہے، ان میں تاریخی روایات کو مؤثر مانا جائے یا تاریخی روایات کی بناء پر قرآن و سنت یا اجماع سے ثابت شدہ مسائل میں کسی شک و شبہ کو راہ دی جائے۔
وجہ یہ ہے کہ اسلامی تاریخ اگرچہ زمانہ جاہلیت کی تاریخوں کی طرح بالکل بے سند، نا قابلِ اعتبار کہانیاں نہیں ہیں بلکہ علمائے اُمت نے تاریخ میں بھی مقدور بھر أصولِ روایت کی رعایت کر کے اسے مستند و معتبر بنانے کی کوشش کی ہے، لیکن فنِ تاریخ کے مطالعے اور اس سے اپنے مقاصد میں کام لینے کے وقت دو باتوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور جس نے ان دو باتوں کو نظر انداز کیا وہ فنِ تاریخ کو غلط استعمال کر کے بہت سے گمراہ کن مغالطوں میں مبتلا ہو سکتا ہے۔
*روایاتِ حدیث اور روایاتِ تاریخ میں زمین آسمان کا فرقِ عظیم*
پہلی بات یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی احادیث یعنی آپﷺ کے اقوال و اعمال کو جس صحابی نے سنا یا دیکھا ہے اس کو بحکمِ رسولﷺ خدا کی ایک امانت قرار دیا ہے جس کا اُمت کو پہنچانا ان کی ذمہ داری تھی، رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: بَلِّغُوْا عَنِّى وَلَوْ اٰيَة
یعنی میری احادیث امت کو پہنچا دو اگرچہ وہ ایک آیت ہی ہو۔
یہاں آیت سے آیتِ قرآن بھی مراد ہو سکتی ہے، مگر نسقِ کلام سے ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد آپﷺ کی احادیث کی تبلیغ ہے اور ”وَلَوْ اٰیَۃ“ سے مراد یہ ہے کہ اگرچہ وہ کوئی مختصر جملہ ہی ہو، پھر حجۃ الوداع کے خطبے میں ارشاد فرمایا: فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِب
یعنی حاضرین میری یہ باتیں غائبین تک پہنچا دیں۔
آنحضرتﷺ کے ان ارشادات کے بعد کسی صحابی کی کیا مجال تھی کہ آپﷺ کے کلماتِ طیبات یا اپنی آنکھ سے دیکھے ہوئے اعمال و افعال کی پوری پوری حفاظت نہ کرتا اور اُمت کو پہنچانے کا اہتمام نہ کرتا۔ اس کے علاوہ نبی کریمﷺ کے ساتھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جو والہانہ محبت تھی اس کو صرف مسلمان نہیں کفار بھی جانتے اور حیرت کے ساتھ اعتراف کرتے ہیں کہ وہ آپﷺ کے وضو کا مستعمل پانی بھی زمین پر نہیں گرنے دیتے تھے اپنے چہروں اور سینوں پر ملتے تھے۔ ان کے لیے اگر حدیث کی حفاظت اور تبلیغ کے احکامِ مذکورہ بھی نہ آئے ہوتے تب بھی ان سے یہ کیسے تصور کیا جا سکتا تھا کہ یہ لوگ جو آنحضرتﷺ کے جسدِ مبارک سے علیحدہ ہونے والے بالوں کی، آپﷺ کے پرانے ملبوسات کی جان سے زیادہ حفاظت کریں اور جو آپﷺ کے وضو کے مستعمل پانی کو ضائع نہ ہونے دیں، وہ تعلیماتِ رسول اور آپﷺ کی احادیث کی حفاظت کا اہتمام نہ کرتے؟
خلاصہ یہ ہے کہ اول تو خود صحابہ کرامؓ کی والہانہ محبت اس کی داعی تھی کہ آپﷺ کے ایک ایک کلمے، ایک ایک حدیث کی اپنی جان سے زیادہ حفاظت کریں، اس پر مزید آپﷺ نے احکامِ مذکورہ جاری فرما دیے، اس لیے ایک لاکھ سے زائد تعداد کی یہ فرشتہ صفت مقدس جماعت صرف ایک ذاتِ رسولﷺ کے اقوال و افعال کی حفاظت اور اس کی تبلیغ کے لیے سرگرم عمل ہو گئی۔
ظاہر ہے کہ یہ بات نہ کسی دوسرے بڑے سے بڑے بادشاہ کو نصیب ہو سکتی ہے، نہ آنحضرتﷺ کے سوا کسی اور شخصیت کو کہ اس کی ہر بات کو غور سے سن کر ہمیشہ یاد رکھنے کی اور پھر لوگوں تک پہنچانے کی کسی کو فکر ہو۔ بادشاہوں کے واقعات، ملکوں اور خطوں کے حالات، زمانے کے انقلابات دلچسپی کے ساتھ ضرور دیکھے سنے جاتے ہیں مگر کسی کو کیا پڑی ہے کہ ان کو پورا پورا یاد رکھنے کا بھی اہتمام کرے اور پہنچانے کا بھی۔
خلاصہ یہ ہے کہ حدیثِ رسولﷺ کو چونکہ احکامِ شرعیہ میں عملی قرآن کا درجہ دینا اور حجتِ شرعیہ بنانا اللہ تعالیٰ کو منظور تھا، اس لیے اس کا سب سے پہلا ذریعہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اس ناقابلِ قیاس محبت و اطاعت کو بنا دیا، جو ظاہر ہے کہ دنیا کی کسی دوسری شخصیت کو حاصل نہیں، اس لیے تاریخی واقعات و روایات کو کسی حال وہ درجہ حاصل نہیں ہو سکتا جو روایاتِ حدیث کو حاصل ہے۔
رسول اللہﷺ اس پر مامور تھے کہ قرآن اور تعلیماتِ رسالت کو دنیا کے گوشے گوشے تک اور آنے والی نسلوں تک پہنچائیں، اس کا ایک قدرتی انتظام تو صحابہ کرامؓ کی والہانہ محبت کے ذریعے ہو گیا، دوسرا قانونی انتظام نہایت حکیمانہ اُصول پر رسول اللہﷺ نے یہ فرمایا کہ ایک طرف تو ہر صحابی پر فرض کر دیا کہ جو کچھ دین کی بات رسول اللہﷺ سے سنیں یا عمل کرتے دیکھیں وہ امت کو پہنچائیں، دوسری طرف اس خطرے کا بھی سدِ باب کیا جو کسی قانون کے عام اور شائع کرنے میں عادۃً پیش آتا ہے کہ نقل در نقل میں بات کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے اور اصل حقیقت غائب ہو جاتی ہے، اس کا انتظام آپﷺ نے اس ارشاد سے فرمایا:مَنْ كَذَبَ عَلَىَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّءْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ. یعنی جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی غلط بات منسوب کرے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
اس وعیدِ شدید نے صحابہ کرامؓ اور مابعد کے علمائے حدیث کو نقلِ روایت میں ایسا محتاط بنا دیا کہ جب تک نہایت کڑی تنقید و تحقیق کے ساتھ کسی حدیث کا ثبوت نہ ملے اس کو آپﷺ کی طرف منسوب کرنے سے گریز کیا۔ بعد میں آنے والے وہ حضراتِ محدثینؒ جنھوں نے حدیث کی ابواب و فصول کی صورت میں تدوین و تصنیف کا کام کیا ان سب حضرات نے اپنی لکھی ہوئی اور یاد کی ہوئی لاکھوں حدیثوں میں سے ایسی کڑی تنقید و تحقیق کے ساتھ صرف چند ہزار حدیثوں کو اپنی اپنی کتابوں میں جگہ دی ”تدریب الراوی“ صفحہ 12 میں علامہ سیوطیؒ نے لکھا ہے کہ:
امام بخاریؒ نے فرمایا کہ: ایک لاکھ حدیث صحیح اور دو لاکھ غیر صحیح حفظ یاد ہیں، انہیں سے صحیح بخاری کا انتخاب کیا ہے، چنانچہ صحیح بخاری میں کل غیر مکرر احادیث چار ہزار ہیں۔
امام مسلمؒ نے فرمایا کہ: میں نے تین لاکھ احادیث میں سے انتخاب کر کے اپنی کتاب صحیح لکھی ہے، اس میں بھی صرف چار ہزار احادیث غیر مکرر ہیں۔
ابو داؤدؒ فرماتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہﷺ کی پانچ لاکھ احادیث لکھی ہیں جن میں سے انتخاب کر کے سنن مرتب کی ہے، جس میں چار ہزار احادیث ہیں۔
امام احمدؒ نے فرمایا کہ: میں نے مسند احمد کی احادیث کو سات لاکھ پچاس ہزار احادیث میں سے انتخاب کیا ہے۔
اس طرح قدرتی اسباب اور رسول اللہﷺ کے حکیمانہ انتظام کے سایہ میں، احادیثِ رسول اللہﷺ کی روایاتِ حدیث، ایک خاص شان احتیاط کے ساتھ جمع ہو کر کتاب اللہ کے بعد دوسرے درجے کی حجتِ شرعی بن گئی۔
*لیکن دنیا کی عام تاریخ کو نہ یہ مقام حاصل ہوسکتا تھا، نہ ہے*
کیونکہ اول تو لوگوں کو عام وقائع اور حوادث کو یاد رکھنے پھر ان کو لوگوں تک پہنچانے کا اتنا اہتمام کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔
دوسرے کتب تاریخ کی تصنیف کرنے والے اگر تاریخی روایات کو اس معیار پر جانچتے جس پر روایاتِ حدیث کو جانچا تولا ہے اور اتنی ہی کڑی تنقید و تحقیق کے ساتھ کوئی تاریخی روایت درجِ کتاب کرتے تو ذخیرۂ حدیث میں اگر چار لاکھ تین چار ہزار کا انتخاب ہوا تھا تو تاریخی روایات میں وہ چار سو بھی نہ رہتی، اس طرح ننانوے فیصد تاریخی روایات نسیاً منسیاً ہو جاتیں اور بہت سے دینی دنیوی فوائد جو ان روایات سے متعلق تھے وہ مفقود ہو جاتے۔
یہی وجہ ہے کہ ائمہ حدیث جن کی کتابیں حدیث میں اُصولِ معتمد علیہ کا درجہ رکھتی ہیں، ان میں وہ جن راویوں کو ضعیف قرار دے کر ان کی روایت چھوڑ دیتے ہیں، جب وہ تاریخ کے میدان میں آتے ہیں تو ان ضعیف راویوں کی روایات بھی شاملِ کتاب کر لیتے ہیں، واقد کی اور سیف بن عمر وغیرہ کو ائمہ حدیث نے حدیث کے معاملے میں ضعیف بلکہ اس سے بھی زیادہ مجروح کہا ہے مگر تاریخی معاملات مغازی و سیر میں وہی ائمہ حدیث ان کی روایات نقل کرنے میں کوئی رکاوٹ محسوس نہیں کرتے۔ حدیث اور تاریخ کے اس فرق کو ان حضرات نے بھی اپنی کتابوں میں تسلیم کیا ہے جنہوں نے تاریخی روایات کے بھروسے صحابہ کرامؓ کا مقام متعین کرنے اور ان کی شخصیتوں پر الزامات لگانے کا غلط راستہ اختیار کیا ہے، اس لیے اس فرق پر مزید بحث کو طول دینے کی ضرورت نہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ عام دنیا کی تاریخ اور اس میں مدون کی ہوئی کتابیں فنِ حدیث، فقہ یا عقائد کی طرح شریعتِ اسلام کے عقائد و احکام سے بحث کرنے والا کوئی فن نہیں ہے، جس کے لیے روایات کی تنقیح و تنقید کی سخت ضرورت ہو اور کھرے کھوٹے کو ممتاز کیے بغیر مقصد حاصل نہ ہو۔ اس لیے فنِ تاریخ میں ہر طرح کی قومی و ضعیف اور صحیح و سقیم روایتیں بغیر نقد و تبصرہ کے جمع کر دینے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا گیا۔ علومِ قرآن وسنت کے ماہر وہی علماء جو تنقید و تحقیق اور جرح و تعدیل کے امام مانے گئے ہیں، جب فنِ تاریخ پر کوئی تصنیف لکھتے ہیں تو اگرچہ زمانہ جاہلیت کی تاریخوں کی طرح بے سروپا افواہوں اور افسانوں کو اپنی کتاب میں جگہ نہیں دیتے بلکہ اصولِ روایت کا لحاظ رکھتے ہوئے سند کے ساتھ روایت نقل کرتے ہیں، اس لیے اسلامی تاریخیں تاریخی حیثیت میں عام دنیا کی تاریخوں سے صدق و اعتماد کے اعتبار سے ایک ممتاز مقام رکھتی ہیں، لیکن تاریخ میں وہ راویوں کے حالات کی چھان بین اور اس جرح و تعدیل سے کام نہیں لیتے جو فنِ حدیث وغیرہ میں استعمال کی جاتی ہے، جیسا کہ اور عرض کیا گیا کہ اگر فنِ تاریخ میں اس طرح کی چھان بین کی جاتی تو ننانوے فیصد تاریخ دنیا سے گم ہو جاتی اور جو فوائد عبرت و حکمت اور تجاربِِ عالم کے اس فن سے وابستہ ہیں ان سے دُنیا محروم ہو جاتی۔ دوسرے جبکہ عقائد و احکامِ شرعیہ کے مقاصد اس سے وابستہ نہیں تو اس احتیاط و تنقید کی ضرورت بھی نہیں تھی ، اس لیے حدیث اور جرح و تعدیل کے ائمہ نے بھی فنِ تاریخ میں توسیع سے کام لیا، ضعیف و قوی اور ثقہ و غیر ثقہ ہر طرح کے لوگوں کی روایتیں اس میں جمع کر دیں، خود ان حضرات کی تصریحات اس پر شاہد ہیں۔
حدیث و اصولِ حدیث کے مشہور امام ابن صلاحؒ نے اپنی کتاب علوم الحدیث میں فرمایا:
وغالب على الأخباريين الاكثار والتخليط فيما يروونہ.
(علوم الحدیث: صفحہ 263)
ترجمہ: مؤرخین میں یہ بات غالب ہے کہ روایاتِ کثیرہ جمع کرتے ہیں جن میں صحیح و سقیم ہر طرح کی روایات خلط ملط ہوتی ہیں۔
”تدریب الراوی“صفحہ 295 میں سیوطیؒ نے بھی بعینہ یہی بات لکھی ہے، اسی طرح فتح المغیث وغیرہ میں بھی یہی بات نقل کی گئی ہے۔
ابنِ کثیرؒ جو حدیث و تفسیر کے مشہور امام اور بڑے ناقد معروف ہیں، روایات میں تنقید و تحقیق ان کا خاص امتیازی وصف ہے، مگر جب یہی بزرگ تاریخ پر كتاب ”البدايہ والنہايہ“ لکھتے ہیں تو تنقید کا وہ درجہ باقی نہیں رہتا۔ خود ”البدايہ والنہايہ“ جلد 8، صفحہ 202 میں بعض تاریخی روایات درج کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ: اس کی صحت میرے نزدیک مشتبہ ہے، مگر مجھ سے پہلے ابنِ جریرؒ وغیرہ یہ روایت نقل کرتے آئے ہیں، اس لیے میں نے بھی نقل کر دیا، اگر وہ ذکر نہ کرتے تو میں ان کو اپنی کتاب میں نہ لاتا۔
ظاہر ہے کہ کسی حدیث کی تحقیق میں وہ یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ اس کی صحت مشتبہ ہونے کے باوجود چونکہ پہلے کسی بزرگ نے لکھا ہے، اس لیے لکھتا ہوں۔ یہ تاریخ ہی کا اپنا مقام تھا کہ اس میں ابنِ کثیرؒ نے اس توسع کو جائز قرار دیا۔
اور یہ اس کے باوجود ہے کہ ابنِ کثیرؒ نے البدایہ میں بہت سے مقامات پر طبریؒ کی روایت پر تنقید کر کے رد بھی کر دیا ہے۔ یہ سب باتیں اس کی شہادت ہیں کہ فنِ تاریخ میں ان حضراتِ ناقدین نے بھی یہی مناسب سمجھا ہے کہ کسی واقعے کے متعلق جتنی روایات ملتی ہیں سب کو جمع کر دیا جائے، ان پر جرح و تعدیل اور نقد و تبصرہ اہلِ علم کے لیے چھوڑ دیا جائے اور یہ کسی خاص شخص کی اتفاقی غلطی نہیں بلکہ تمام ائمہ فن کی سوچی سمجھی روش تاریخ میں یہی ہے کہ فنِ تاریخ میں ضعیف وسقیم روایات کو بلا تنقید ذکر کر دینا کوئی عیب نہیں۔
کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان روایات سے دین کے عقائد و احکامِ شرعیہ تو ثابت کرنا نہیں، عبرت و نصیحت اور تجاربِ اقوام وغیرہ کے فوائد حاصل کرنا ہیں، وہ یوں بھی ہو سکتے ہیں اور اگر کوئی شخص ان تاریخی روایات سے کسی ایسے مسئلے پر استدلال کرنا چاہتا ہے جس کا تعلق اسلامی عقائد یا احکامِ عملیہ سے ہے تو اس کی اپنی ذمہ داری ہے کہ روایات کی تنقید اور راویوں پر جرح و تعدیل کا وہی ضابطہ اختیار کرے جو حدیث کی روایات میں لازم و ضروری ہے، اس کے بغیر اس کا استدلال جائز نہیں اور یہ کہنا کہ کسی بڑے ثقہ اور امامِ حدیث کی کتابِ تاریخ میں یہ روایت درج ہے، اس کو اس ذمہ داری سے سبکدوش نہیں کرتا۔
اس بات کو اس مثال سے سمجھئے کہ ائمہ مجتہدینؒ اور فقہائے امتؒ میں بہت سے ایسے حضرات بھی ہیں خو فنِ طب کے بھی ماہر ہیں، جیسے امام شافعیؒ وغیرہ اور بعض حضرات کی تصانیف بھی فنِ طب میں موجود ہیں، یہ حضرات اگر کسی طب کی کتاب میں اشیاء کے خواص و آثار بیان کرتے ہوئے یہ لکھیں کہ شراب میں فلاں فلاں خواص و آثار ہوتے ہیں، خنزیر کے گوشت پوست اور بال کے فلاں فلاں خواص و آثار ہیں، پھر کوئی آدمی طب کی کتاب میں ان کے کلام کو دیکھ کر ان چیزوں کو جائز قرار دینے لگے اور استدلال میں یہ کہے کہ فلاں امام یا عالم نے اپنی کتاب میں لکھا ہے اور وہاں اس کے حرام ہونے کا ذکر بھی نہیں کیا، تو کیا اس کا یہ استدلال درست ہوگا؟ اور یہ کوئی فرضی مثال ہی نہیں، شیخ جلال الدین سیوطیؒ اُمت کے کیسے بڑے عالم ہیں، علومِ شرعیہ میں سے شاید کوئی فن نہیں چھوڑا جس پر ان کی تصانیف نہ ہوں، ان کی بزرگی اور تقدس میں کسی کو کلام نہیں، مگر موضوعِ طب پر ان کی تصنیف ”کتاب الرحمۃ في الطب والحكمۃ“ دیکھ لیجیے اس میں متعدد امراض کے علاج اور منافع کی تحصیل کے لیے جو نسخے لکھے ہیں، ان میں بہت سی حرام چیزیں بھی شامل ہیں، اب اگر کوئی شخص اس کتاب کے حوالے سے ان کو جائز ثابت کرنے لگے اور سیوطیؒ کی طرف اس کو منسوب کرے تو کیا کوئی صحیح الحواس آدمی اس کو درست باور کر سکتا ہے؟ اسی طرح اور بہت سے علماء و فقہاء جن کی تصانیف فنِ طب وغیرہ میں ہیں، سب میں حرام چیزوں کے خواص و آثار اور طریقِ استعمال ذکر کیا جاتا ہے، خون اور انسانی بول و براز اور شراب اور خنزیر سبھی چیزوں کے خواص لکھے جاتے ہیں اور اس جگہ وہ اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ ان کا حرام یا نجس ہونا بھی اس جگہ لکھ دیں، کیونکہ یہ موضوعِ طب سے خارج ہے اور دوسری کتب میں بیان ہو چکا ہے۔ ان کی کتبِ طب سے کوئی آدمی حرام چیزوں کو ان کا نام لے کر حلال کرنے لگے تو اس میں قصور ان کا یا علامہ سیوطیؒ کا نہیں، کہ انہوں نے فنِ طب کی کتاب میں حرام اشیاء کے خواص کیوں لکھے؟ کیونکہ اس فن کا مقتضا اور موضوع ہی یہ ہے کہ سب چیزوں کے خواص و آثار لکھے جاویں، حلال، حرام ہونے کی بحث کا یہ موقع نہیں اور جہاں اس کا موقع ہے وہ ان کے حرام ہونے کو لکھ چکے ہیں۔ قصور اس عقلمند کا ہے جو اس حقیقت کو نظر انداز کر کے طبی کتاب سے حلال و حرام کے مسائل نکالنے لگے۔ اس طویل تمہید کے بعد میں اپنے اصل موضوعِ کلام کی طرف آتا ہوں کہ جن حضرات نے مشاجراتِ صحابہؓ (یعنی صحابہ کرامؓ کے باہمی اختلافات) کے معاملے کو تاریخی روایات سے چکانے اور انہیں کی بنیاد پر ان کے فیصلے صادر کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے ان کو مغالطہ یہیں سے لگا ہے کہ یہ تاریخی روایات جن کتابوں سے لی گئی ہیں ان کے مصنفین بڑے ثقہ علماء اور حدیث و تفسیر کے امام مانے گئے ہیں، اس پر غور نہیں کیا کہ وہ اس کتاب میں عقائد اور اعمالِ شرعیہ کی بحث لے کر نہیں بیٹھے، بلکہ فنِ تاریخ کی کتاب لکھ رہے ہیں جس میں صحیح و سقیم ہر طرح کی روایات بلا تنقید جمع کر دینے ہی پر اکتفاء کرنے کا معمول معلوم و معروف ہے۔ ہاں! اگر کوئی شخص ان سے عقیدہ یا عمل کا مسئلہ ثابت کرنا چاہے تو روایت اور راوی کی محدثانہ تنقید و تحقیق اس کی اپنی ذمہ داری ہے، وہ ائمہ فن اس سے بری ہیں۔ علمائے محققین نے اس کو پوری طرح واضح کر دیا ہے کہ عقائد و اعمالِ شرعیہ کے معاملے میں تاریخی روایات جو عموماً صحیح و سقیم، معتبر و غیر معتبر کا مخلوط مجموعہ ہوتی ہیں ان کو نہ کسی مسئلے کی سند میں پیش کیا جاسکتا ہے، نہ بلا تحقیق محدثانہ ان سے استدلال کر کے کوئی مسئلہ شرعیہ ثابت کیا جا سکتا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ مشاجراتِ صحابہؓ کا مسئلہ کوئی عام تاریخی مسئلہ ہے یا احکامِ شرعیہ کا ایک اہم باب ہے؟
*صحابہؓ اور مشاجراتِ صحابہؓ کا مسئلہ*
پوری اُمت کا اس پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی معرفت، ان کے درجات اور ان میں پیش آنے والے باہمی اختلافات کا فیصلہ کوئی عام تاریخی مسئلہ نہیں بلکہ معرفتِ صحابہؓ تو علمِ حدیث کا اہم جزء ہے، جیسا کہ مقدمہ ”اصابہ“ میں حافظ ابنِ حجرؒ نے اور مقدمہ”استیعاب“ میں حافظ ابنِ عبدالبرؒ نے وضاحت سے بیان فرمایا ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مقام اور باہمی تفاضل و درجات اور ان کے درمیان پیش آنے والے اختلافات کے فیصلے کو علمائے امت نے عقیدے کا مسئلہ قرار دیا اور تمام کتبِ عقائدِ اسلامیہ میں اس کو ایک مستقل باب کی حیثیت سے لکھا ہے۔
ایسا مسئلہ جو عقائدِ اسلامیہ سے متعلق ہے اور اسی مسئلے کی بنیاد پر بہت سے اسلامی فرقوں کی تقسیم ہوئی ہے، اس کے فیصلے کے لئے بھی ظاہر ہے کہ قرآن وسنت کی نصوص اور اجماعِ امت جیسی شرعی حجت درکار ہیں، اس کے متعلق اگر کسی روایت سے استدلال کرنا ہے تو اس کو محدثانہ اصولِ تنقید پر پرکھ کر لینا واجب ہے۔ اس کو تاریخی روایتوں میں ڈھونڈنا اور ان پر اعتماد کرنا، اُصولی اور بنیادی غلطی ہے۔ وہ تاریخیں کتنے ہی بڑے ثقہ اور معتمد علمائے حدیث ہی کی لکھی ہوئی کیوں نہ ہوں، ان کی فنی حیثیت ہی تاریخی ہے جس میں صحیح و سقیم روایات جمع کر دینے کا عام دستور ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حافظ الحدیث امام ابنِ عبدالبرؒ نے جو معرفتِ صحابہؓ کے موضوع پر اپنی بہترین کتاب "الاستیعاب في معرفة الاصحاب“ لکھی تو علمائے امت نے اس کو بڑی قدر کی نظر سے دیکھا مگر اس میں مشاجراتِ صحابہؓ کے متعلق کچھ غیر مستند تاریخی روایات بھی شامل کر دیں تو عام علمائے امت اور ائمہ حدیث نے اس عمل کو اس کتاب کے لیے ایک بدنما داغ قرار دیا۔
چھٹی صدی ہجری کے امامِ حدیث ابنِ صلاح رحمۃاللہ جن کی کتاب ”علوم الحديث“ اصولِ حدیث کی رُوح مانی گئی ہے اور بعد میں آنے والے محدثین نے اسی سے اقتباسات لئے ہیں، یہ اپنی کتاب کے انتالیسویں باب میں (جن کو بعنوان ”انواع“ لکھا گیا ہے) معرفتِ صحابہؓ پر کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
هذا عِلم كبير قد ألّف الناس فيه كتبا كثيرة ومن أجلّها وأكثرها فوائد ”كتاب الاستيعاب“ لابن عبدالبر لو لا ما شانه به من ایراده كثيرًا مما شجر بين الصحابة وحكاياته عن الاخباريين لا المحدّثين وغالب على الاخباريين الإكثار والتخليط فيما يروونه.
(علومِ الحديث: صفحہ 262، طبع المدينۃ المنورہ) ترجمہ: معرفتِ صحابہؓ ایک بڑا علم ہے جس میں لوگوں نے بہت بہت تصانیف لکھی ہیں اور ان میں سب سے افضل و اعلیٰ اور سب سے زیادہ مفید کتاب ”الاستیعاب“ ہے ابنِ عبدالبرؒ کی، اگر اس کو یہ بات عیب دار نہ کر دیتی کہ اس میں مشاجراتِ صحابہؓ کے متعلق تاریخی روایات کو درج کر دیا ہے، محدثین کی محدثانہ روایت پر مدار نہیں رکھا اور یہ ظاہر ہے کہ مؤرخین پر غلبہ اس کا ہے کہ بہت روایات جمع کر دی جائیں، جن کی روایت میں معتبر و غیر معتبر روایات خلط ملط ہوتی ہیں۔
اسی طرح علامہ سیوطیؒ نے تدریب الراوی میں علمِ معرفتِ صحابہؓ پر کلام کرتے ہوئے ابنِ عبد البرؒ کی استیعاب کا ذکر تقریباً انہیں الفاظ میں کیا ہے جو ابنِ صلاحؒ کے اُصولِ حدیث سے اوپر نقل کئے گئے ہیں، جس میں مشاجراتِ صحابہؓ کی بحث میں تاریخی روایات کے داخل کر دینے پر سخت اعتراض کیا ہے۔ (تدریب الراوی: صفحہ 295) دوسرے محدثین نے ”فتح المغیث“ وغیرہ میں ابنِ عبدالبرؒ کے اس طرزِ عمل پر رد کیا ہے کہ مشاجراتِ صحابہؓ کا مسئلہ جو عقیدے کا مسئلہ ہے اس میں تاریخی روایات کو کیوں داخل کیا۔
وجہ یہ ہے کہ ابنِ عبدالبرؒ کی کتاب "الاستیعاب“ کوئی عام تاریخ کی کتاب نہیں بلکہ علمِ معرفتِ صحابہؓ کی کتاب ہے، جو فنِ حدیث کا جزء ہے، اگر ابنِ عبدالبرؒ نے بھی عام تاریخ پر کوئی کتاب لکھی ہوتی اور اس میں یہ غیر مستند تاریخی روایات لکھتے تو غالباً کسی کو اعتراض نہ ہوتا، جیسا ابنِ جریرؒ، ابنِ کثیرؒ وغیرہ ائمہ حدیث کی تاریخی کتابوں پر کسی نے یہ اعتراض نہیں کیا۔
*صحابہ کرامؓ کی چند خصوصیات*
سابقہ تحریر میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ صحابہ کرامؓ جس مقدس گروہ کا نام ہے وہ امت کے عام افراد و رِجال کی طرح نہیں، وہ رسول اللہﷺ اور اُمت کے درمیان ایک مقدس واسطہ ہونے کی وجہ سے ایک خاص مقام اور عام اُمت سے امتیاز رکھتے ہیں۔ یہ مقام و امتیاز ان کو قرآن و سنت کی نصوص و تصریحات کا عطا کیا ہوا ہے اور اسی لیے اس پر امت کا اجماع ہے۔ اس کو تاریخ کی صحیح و سقیم روایات کے انبار میں گم نہیں کیا جاسکتا، اگر کوئی روایت ذخیرہ حدیث میں بھی ان کے اس مقام اور شان کو مجروح کرتی ہو تو وہ بھی قرآن و سنت کی نصوصِ صریحہ اور اجماعِ امت کے مقابلے میں متروک ہوگی، تاریخی روایات کا تو کہنا کیا ہے۔
*نصوصِ قرآنِ کریم*
1: كُنۡتُمۡ خَيۡرَ اُمَّةٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ (سورۃالعمران آیت: 110)
ترجمہ: تم بہترین اُمت ہو جو لوگوں کے (نفع اور اصلاح) کے لیے پیدا کی گئی ہے۔
2: وَكَذٰلِكَ جَعَلۡنٰكُمۡ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ
(سورۃالبقرہ آیت: 143)
ترجمہ: اور ہم نے تم کو ایک ایسی جماعت بنا دیا ہے جو (ہر پہلو سے) نہایت اعتدال پر ہے تا کہ تم (مخالف) لوگوں کے مقابلے میں گواہ ہو۔
ان دونوں آیتوں کے اصل مخاطب اور پہلے مصداق صحابہ کرامؓ ہیں، باقی امت بھی اپنے اپنے عمل کے مطابق اس میں داخل ہوسکتی ہے لیکن صحابہ کرامؓ کا ان دونوں آیتوں کا صحیح مصداق ہونا باتفاقِ مفسرین او محدثین ثابت ہے، ان میں صحابہ کرامؓ کا نبی کریمﷺ کے بعد تمام انسانوں سے افضل و اعلیٰ اور عدل و ثقہ ہونا واضح طور پر ثابت ہوتا ہے۔
ذکرہ ابن عبدالبرؒ في مقدمۃ الاستيعاب اور علامہ سفارینیؒ نے شرح ”عقيدة الدرة المضيۃ“ میں اس کو جمہور اُمت کا مسلک قرار دیا ہے کہ انبیاءؑ کے بعد صحابہ کرامؓ افضل الخلائق ہیں۔
ابراہیم بن سعید جوہریؒ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوامامہؒ سے دریافت کیا کہ حضرت معاویہؓ اور عمر بن عبدالعزیزؒ ان دونوں میں سے کون افضل ہے؟ تو انہوں نے فرمایا:
لا تعدل بأصحاب محمد صلى الله عليه وسلم أحداً (الروضة الندية شرح العقيدة الواسطيۃ لابن تيميہؒ: صفحہ 405)
یعنی ہم اصحابِ محمدﷺ کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے، افضل ہونا کجا۔
3: مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ تَرٰٮهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًاسِيۡمَاهُمۡ فِىۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ (سورۃالفتح آیت: 29)
ترجمہ: محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کے صحبت یافتہ ہیں وہ کافروں کے مقابلے میں تیز ہیں اور آپس میں مہربان ہیں، اے مخاطب! تو ان کو دیکھے گا کہ کبھی رکوع کر رہے ہیں اور کبھی سجدہ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں لگے ہیں، ان کے آثار بوجہ تأثیرِ سجدہ ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔
عامہ مفسرین امام قرطبیؒ وغیرہ نے فرمایا کہ”وَالَّذِيْنَ مَعَهُ“ عام ہے، اس میں تمام صحابہ کرامؓ کی پوری جماعت داخل ہے اور اس میں تمام صحابہ کرامؓ کی تعدیل، ان کا تزکیہ اور ان پر مدح و ثناء خود مالکِ کائنات کی طرف سے آئی ہے۔
ابوعروہ زبیریؒ کہتے ہیں کہ: ہم ایک روز حضرت امام مالکؒ کی مجلس میں تھے، لوگوں نے ایک شخص کا ذکر کیا جو بعض صحابہ کرامؓ کو بُرا کہتا تھا، امام مالکؒ نے یہ آیت ”لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّار“ تک تلاوت فرمائی اور پھر فرمایا کہ: جس شخص کے دل میں رسول اللہﷺ کے صحابہؓ میں سے کسی کے متعلق غیظ ہو وہ اس آیت کی زد میں ہے، یعنی اس کا ایمان خطرے میں ہے کیونکہ آیت میں کسی صحابی سے غیظ کفار کی علامت قرار دی گئی ہے۔
وَالَّذِيْنَ آمَنُوْا مَعَهُ میں تمام صحابہ کرامؓ کی جماعت بلا کسی استثناء کے داخل ہے۔
4: يَوۡمَ لَا يُخۡزِى اللّٰهُ النَّبِىَّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ ( سورۃ التحریم:آیت 8)
ترجمہ: جس دن کہ اللہ تعالیٰ نبی(ﷺ) کو اور جو مسلمان(دین کی رو سے) ان کے ساتھ ہیں ان کو رسوا نہیں کرے گا۔
5: وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ(سورۃ التوبہ آیت: 100)
ترجمہ: اور جو مہاجرین اور انصار (ایمان لانے میں سب سے) سابق اور مقدم ہیں اور (بقیہ اُمت میں) جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے ساتھ ان کے پیرو ہیں، اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس(اللہ) سے راضی ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔
اس میں صحابہ کرامؓ کے دو طبقے بیان فرمائے ہیں، ایک سابقینِ اولین کا، دوسرے بعد میں ایمان لانے والوں کا اور دونوں طبقوں کے متعلق یہ اعلان کر دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہیں، ان کے لیے جنت کا مقام و دوام مقرر ہے، جس میں تمام صحابہ کرامؓ داخل ہیں۔ مہاجرین و انصار سے سابقینِ اولین کون لوگ ہیں؟ اس کی تفسیر میں ابنِ کثیرؒ نے تفسیر میں اور ابنِ عبدالبرؒ نے مقدمہ استیعاب میں سندوں کے ساتھ دونوں قول نقل کئے ہیں، ایک یہ کہ سابقینِ اولین وہ حضرات ہیں جنہوں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ دونوں قبلوں یعنی بیت اللہ اور بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی ہو، یہ قول ابو موسیٰ اشعریؒ، سعید بن مسیبؒ، ابنِ سیرینؒ، حسن بصریؒ کا ہے (ابنِ کثیر)، اس کا حاصل یہ ہے کہ تحویلِ قبلہ بیت المقدس سے بیت اللہ کی طرف جو ہجرت کے دوسرے سال میں ہوئی ہے، اس سے پہلے جو لوگ مشرف باسلام ہو کر شرفِ صحابیت حاصل کر چکے ہیں وہ سابقینِ اولین ہیں۔
دوسرا قول یہ ہے کہ جو لوگ بیعتِ رضوان یعنی واقعہ حدیبیہ واقع سنہ 6ھ میں شریک ہوئے ہیں وہ سابقینِ اولین میں سے ہیں، یہ قول امام شعبیؒ سے روایت کیا گیا ہے۔ (ابنِ کثیر، استیعاب)
قرآنِ کریم نے واقعہ حدیبیہ میں درخت کے نیچے بیعت کرنے والے صحابہؓ کے متعلق عام اعلان فرمایا ہے: لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ إِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ اسی لیے اس بیعت کا نام ”بیعتِ رضوان“ رکھا گیا ہے اور حدیث میں حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
لا يدخل النار أحد ممن بايع تحت الشجرة۔
(ابن عبدالبر بسنده في الاستيعاب)
ترجمہ: نہیں داخل ہوگا جہنم میں کوئی شخص جس نے درخت کے نیچے بیعت کی ہے۔
بہر حال سابقینِ اولین خواہ قبلتین کی طرف نماز میں شریک ہونے والے ہوں یا بیعتِ رضوان کے شرکاء، ان کے بعد بھی صحابیت کا شرف حاصل کرنے والے تمام صحابہ کرامؓ کو حق تعالیٰ نے وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِإِحْسَانٍ میں داخل کر کے شامل فرمایا اور سب کے لئے اپنی رضائے کامل اور جنت کی ابدی نعمت کا وعدہ اور اعلان فرما دیا۔ ابنِ کثیرؒ اس کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں:
يا ويل من أبغضهم أو سبَّهم أو سبَّ بعضهم (الىٰ قوله) فأين هؤلاء من الايمان بالقرآن اذ يسبُّون من رضى الله عنهم (ابن کثیرؒ)
ترجمہ: عذابِ الیم ہے ان لوگوں کے لئے جو ان حضرات سے یا ان میں بعض سے بغض رکھے یا ان کو بُرا کہے، ایسے لوگوں کو ایمان بالقرآن سے کیا واسطہ جو ان لوگوں کو برا کہتے ہیں جن سے اللہ نے راضی ہونے کا اعلان کر دیا۔
اور ابنِ عبدالبرؒ مقدمہ ”استیعاب“ میں یہی آیت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
ومن رضى الله عنه لم يسخط عليه أبدا ان شاء اللہ تعالىٰ.
یعنی اللہ جس سے راضی ہو گیا پھر اس سے کبھی ناراض نہیں ہوگا ان شاء اللہ تعالیٰ۔
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تو سب اگلی پچھلی چیزوں کا علم ہے، وہ راضی اسی شخص سے ہو سکتے ہیں جو آئندہ زمانے میں بھی رضاء کے خلاف کام کرنے والا نہیں ہے، اس لئے کسی کے واسطے رضائے الٰہی کا اعلان اس کی ضمانت ہے کہ اس کا خاتمہ اور انجام بھی اسی حالتِ صالحہ پر ہو گا، اس سے رضائے الٰہی کے خلاف کوئی کام آئندہ بھی نہ ہوگا۔ یہی مضمون حافظ ابنِ تیمیہؒ نے ”شرح عقیدہ واسطیہ“ میں اور سفارینیؒ نے ”شرح درہ مضیہ“ میں بھی لکھا ہے، اس سے ان ملحدین کے شبہ کا ازالہ خود بخود ہو گیا جو یہ کہتے ہیں کہ قرآن کے یہ اعلانات اس وقت کے ہیں جبکہ ان کے حالات درست تھے، بعد میں معاذ اللہ ان کے حالات خراب ہو گئے اس لیے وہ اس انعام و اکرام کے مستحق نہیں رہے، نعوذ باللہ منہ، کیونکہ اس سے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ شروع میں بوجہ انجام سے بے خبری کے راضی ہو گئے تھے، بعد میں یہ حکم بدل گیا، نعوذ باللہ منہ۔
یہاں پہنچ کر شاید کسی کو حدیث انی فرطكم على الحوض سے شبہ ہو، جس میں یہ ہے کہ:
ليرون علىّ أقوام أعرفهم ويعرفونني ثم يحال بيني وبينهم وفى رواية: فأقول: أصحابي، فيقول: لا تدرى ما أحدثوا بعدك (بخاری باب الحوض)
ظاہر الفاظ سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میدانِ حشر میں بعض اصحابِ رسول اللہﷺ حوض پر پہنچیں گے تو ان کو وہاں سے ہٹا دیا جائے گا، گو حدیث کی شرح میں شراحِ حدیث نے طویل کلام کیا ہے اور جن لوگوں کے بارے میں یہ روایت ہے ان کا مصداق متعین کرنے میں کئی اقوال منقول ہیں، مگر ہمارے نزدیک تمام روایات کو دیکھ کر اور حضراتِ صحابہؓ کے بارے میں قرآن و حدیث میں جو فضائل وارد ہوئے ہیں، ان کو سامنے رکھ کر امام نوویؒ کا قول صحیح معلوم ہوتا ہے، حافظ ابِن حجرؒ متعدد اقوال کے ذیل میں لکھتے ہیں:
وقال النووى: هم المنافقون والمرتدون فيجوز أن يحشروا بالغرة والتحجيل لكونهم من جملة الأمة فيناديهم من أجل السيما التي عليهم فقال انهم بَدَّلوا بعدك أي لم يموتوا على ظاهر ما فارقتهم عليه، قال عياض وغيره: وعلىٰ هذا فيذهب عنهم الغرة والتحجيل ويطفاء نورهم. (فتح الباری: جلد 11، صفحہ 324)
ترجمہ: امام نوویؒ نے فرمایا کہ: اس حدیث کا مصداق منافقین ہیں اور وہ لوگ جو(دل سے زمانہ نبوت میں بھی مسلمان نہ تھے بلکہ ظاہراً اسلام کے نام کو اپنائے ہوئے تھے) وفاتِ نبویﷺ کے بعد ظاہری اسلام سے پھر گئے، چونکہ یہ لوگ بھی مسلمانوں کے ساتھ دکھاوے کا وضو کرتے تھے اور نماز میں آتے تھے اس لیے ان کے ہاتھ پاؤں بھی وضو کے اثر سے سفید ہوں گے، ان کی اس علامت کی وجہ سے رسول اللہﷺ پکاریں گے،
لیکن جواب دے دیا جائے گا کہ انہوں نے آپ کے بعد حالت بدل دی تھی یعنی جس حال پر آپ نے ان کو چھوڑا تھا اس حالت پر(بھی) باقی نہ رہے اور کھلے کافر ہو گئے، جو ان کے ظاہری دعوائے اسلام کے اعتبار سے ارتداد تھا۔
ہمارے نزدیک یہ قول اس لئے صحیح ہے کہ آیتِ قرآنیہ:
يَوۡمَ يَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالۡمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا انْظُرُوۡنَا نَقۡتَبِسۡ مِنۡ نُّوۡرِكُمۡ قِيۡلَ ارۡجِعُوۡا وَرَآءَكُمۡ فَالۡتَمِسُوۡا نُوۡرًا(سورۃ الحدید آیت: 13)
ترجمہ: جس روز منافق مرد اور منافق عورتیں مسلمانوں سے کہیں گے کہ ذرا ہمارا انتظار کر لو کہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کر لیں، ان کو جواب دیا جائے گا کہ تم اپنے پیچھے لوٹ جاؤ پھر (وہاں سے) روشنی تلاش کرو۔
کے موافق ہے۔ آیت سے صاف ظاہر ہے کہ ابتداء روزِ قیامت میں منافقین، مؤمنین کے ساتھ لگ جائیں گے، بعد میں علیحدگی ہو جائے گی، لفظ ”ارتدوا“ جو حدیثِ بالا کی بعض روایات میں آیا ہے، اس کا مطلب بعض لوگوں نے یہ لیا ہے کہ رسول اللہﷺ کے بعد کچھ لوگ مرتد ہو گئے تھے (العیاذ باللہ)۔
لیکن ہمارے نزدیک حق بات یہ ہے کہ اگر ارتداد سے ارتداد عن الاسلام ہی مراد ہو تب بھی اس سے وہ اعراب مراد ہیں جنھوں نے اسلام کی رُو میں آ کر زبان سے یوں کہہ دیا تھا کہ ہم مسلمان ہیں اور صحیح معنیٰ میں اُن کے دل میں اسلام جاگزیں نہ ہوا تھا جس کو قرآن میں اس طرح ذکر فرمایا:
قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا قُلْ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَلٰـكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا وَلَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ(سورۃالحجرات آیت: 14)
ترجمہ: یہ گنوار کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے، آپ فرما دیجیے کہ تم ایمان تو نہیں لائے لیکن یوں کہو کہ ہم مخالفت چھوڑ کر مطیع ہو گئے اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔
حافظ خطابی رحمۃاللہ نے کیسی اچھی بات لکھی ہے:
لم يرتد من الصحابة أحدٌ وانما ارتد قومٌ من جفاة الأعراب ممن لا نصرة لهٗ فى الدين وذلك لا يوجب قدحاً فى الصحابة المشهورين ويدل قولهٗ أصيحابي بالتصغير على قلة عددهم. (فتح الباری: جلد 11، صفحہ 324)
ترجمہ: حضراتِ صحابہؓ میں سے کوئی بھی مرتد نہیں ہوا، بعض گنوار اعرابی جن کا دین کی نصرت میں کوئی دخل نہیں رہا (صرف زبان سے کلمہ پڑھ لیا) وہ حضرت صدیق اکبرؓ کے زمانے میں مرتد ہو گئے تھے، اس سے مشہور صحابہ کرامؓ کے بارے میں کوئی شک و شبہ پیدا نہیں ہوتا اور خود حدیث کے الفاظ میں ان کو اصحابی کے بجائے ”اصیحابی“ بصیغہ تصغیر لانا بھی اس طرح مشیر ہے۔
6: قُلۡ هٰذِهٖ سَبِيۡلِىۡۤ اَدۡعُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ عَلٰى بَصِيۡرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِىۡ( سورۃ یوسف: آیت 108)
ترجمہ: آپﷺ فرما دیجیے کہ یہ میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف سے دعوت دیتا ہوں بصیرت کے ساتھ میں بھی اور جن لوگوں نے میرا اتباع کیا وہ بھی۔
ظاہر ہے کہ صحابہ کرامؓ سب کے سب ہی رسول اللہﷺ کے تابع و متبع تھے، سب اس میں داخل ہیں۔
7: قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلىٰ عِبَادِهِ الَّذِيْنَ اصْطَفىٰ (سورۃ النمل آیت: 59) (مع قوله تعالىٰ) ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡكِتٰبَ الَّذِيۡنَ اصۡطَفَيۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا فَمِنۡهُمۡ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ وَمِنۡهُمۡ مُّقۡتَصِدٌ وَمِنۡهُمۡ سَابِقٌۢ بِالۡخَيۡرٰتِ بِاِذۡنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الۡفَضۡلُ الۡكَبِيۡرُ(سورۃ فاطر آیت: 32)
ترجمہ: آپﷺ کہہ دیجیے کہ حمد سب اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے ان بندوں پر جن کو اللہ نے منتخب فرمایا ہے۔ (اس کے ساتھ دوسری آیت میں ہے) پھر وارث بنا دیا ہم نے کتاب کا ان لوگوں کو جن کا ہم نے اپنے بندوں میں سے انتخاب کیا، پھر بعض تو ان میں اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض ان میں متوسط درجے کے ہیں اور بعض ان میں وہ ہیں جو خدا کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کیے چلے جاتے ہیں، یہ بڑا فضل ہے۔
اس آیت میں صحابہ کرامؓ کو منتخب بندے قرار دیا گیا ہے، آگے ان ہی کی ایک قسم یہ بھی قرار دی ہے کہ ان میں بعض اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہیں معلوم ہوا کہ اگر کسی صحابی سے کسی وقت کوئی گناہ ہوا بھی ہے تو وہ معاف کر دیا گیا، ورنہ پھر ان کو منتخب بندوں کے ذیل میں ذکر نہ فرمایا جاتا۔
ظاہر ہے کہ کتاب یعنی قرآن کے پہلے وارث جن کو یہ کتاب ملی ہے، صحابہ کرامؓ ہیں اور نصِ قرآنی کی رُو سے وہ اللہ کے منتخب بندے ہیں اور پہلی آیت میں ان منتخب بندوں پر اللہ کی طرف سے سلام آیا ہے، اس طرح تمام صحابہ کرامؓ اس سلامِ خداوندی میں شامل ہیں (کذا ذكره السفاريني في شرح الدرة المضيئۃ).
8: سورۃ حشر میں حق تعالیٰ نے عہدِ رسالت کے تمام موجود اور آئندہ آنے والے مسلمانوں کا تین طبقے کر کے ذکر کیا ہے، پہلا مہاجرین کا، جن کے بارے میں حق تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرمایا:
اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوۡنَ
یعنی یہی لوگ سچے ہیں۔
دوسرا انصار کا، جن کی صفات و فضائل ذکر کرنے کے بعد قرآنِ کریم نے فرمایا:
فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ
یعنی یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
تیسرا طبقہ ان لوگوں کا ہے جو مہاجرین و انصار کے بعد قیامت تک آنے والا ہے، ان کے بارے میں فرمایا:
وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَـنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا
ترجمہ: اور وہ لوگ جو بعد میں یہ کہتے ہوئے آئے کہ اے ہمارے پروردگار! ہماری بھی مغفرت فرما اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والوں سے کوئی بغض نہ کرنا۔
اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابنِ عباسؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سب مہاجرین و انصار صحابہؓ کے لیے استغفار کرنے کا حکم سب مسلمانوں کو دیا ہے اور یہ حکم اس حال میں دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بھی معلوم تھا کہ ان کے باہم جنگ و مقاتلہ بھی ہوگا۔ علماء نے فرمایا کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرامؓ کے بعد اسلام میں اس شخص کا کوئی مقام نہیں جو صحابہ کرامؓ سے محبت نہ رکھے اور ان کے لیے دعا نہ کرے۔
9: وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيۡكُمُ الۡاِيۡمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ وَكَرَّهَ اِلَيۡكُمُ الۡكُفۡرَ وَالۡفُسُوۡقَ وَالۡعِصۡيَانَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَنِعۡمَةً وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ(سورۃالحجرات آیت: 7، 8)
ترجمہ: لیکن اللہ تعالیٰ نے ایمان کو تمہارے لیے محبوب کر دیا اور اس کو تمہارے دلوں میں مزین بنا دیا اور کفر، فسوق اور نافرمانی کو تمہارے لیے مکروہ بنا دیا، ایسے ہی لوگ اللہ کے فضل اور نعمت سے ہدایت یافتہ ہیں اور اللہ خوب جاننے والا، حکمت والا ہے۔
اس آیت میں بھی بلا استثناء تمام صحابہ کرامؓ کے لیے یہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان کی محبت اور کفر و فسوق اور گناہوں کی نفرت ڈال دی ہے۔
اس جگہ فضائلِ صحابہؓ کی سب آیات کا استیعاب پیشِ نظر نہیں، ان کے مقام اور درجے کو ثابت کرنے کے لیے ایک دو آیتیں بھی کافی ہیں جن سے ان کا مقبول عند اللہ ہونا، اللہ تعالیٰ کا ان سے راضی ہونا اور ابدی جنت کی نعمتوں سے سرفراز ہونا ثابت ہے۔
یہاں یہ بات پھر سامنے رکھنا چاہیے کہ یہ ارشادات اس ذاتِ حق کے ہیں جو سب کو پیدا کرنے والا اور پیدائش سے پہلے ہر انسان کے ایک ایک سانس، ایک ایک قدم سے اور اچھے بُرے عمل سے واقف ہے جو اس شخص سے وقوع میں آئیں گے، اس نے صحابہ کرامؓ کے معاملے میں جو اپنی رضائے کامل اور جنت کی بشارت دی ہے، ان سب واقعات و معاملات کو جانتے ہوئے دی ہے جو ان میں سے ہر ایک کو عہدِ رسالت میں یا اس کے بعد پیش آنے والے تھے۔
حافظ ابنِ تیمیہؒ نے اپنی کتاب ”الصارم المسلول على شاتم الرسول“ میں فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ اسی بندے سے راضی ہو سکتے ہیں جس کے بارے میں اس کو معلوم ہو کہ وہ آخر عمر تک موجباتِ رضاء کو پورا کرے گا اور جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہو جاوے تو پھر کبھی اس سے ناراض نہیں ہوتا۔
*صحابہ کرامؓ کا خصوصی مقام احادیثِ نبویہ میں*
جن احادیثِ نبویہ میں ان حضرات کے فضائل و درجات کا ذکر ہے، ان کو شمار کرنا اور لکھنا آسان بھی نہیں اور ضرورت بھی نہیں، اس لیے یہاں چند روایات لکھی جاتی ہیں جن میں پوری جماعتِ صحابہؓ کے فضائل و خصوصیات کا ذکر ہے، خاص خاص افراد یا جماعتوں کے بارے میں جو کچھ آیا ہے اس کو چھوڑا جاتا ہے۔
1: صحیحین اور تمام کتبِ اصول میں حضرت عمران بن حصینؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، فَلَا أَدْرِي ذَكَرَ قَرْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، ثُمَّ إِنَّ بَعْدَهُمْ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلا يُسْتَشْهَدُونَ وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ وَيَنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السَّمَنُ.(للستة الا مالكا، جمع الفوائد: جلد 2، صفحہ 490، طبع مصر)
ترجمہ: بہترین قرن میرا ہے، پھر ان لوگوں کا جو اس سے متصل ہے، پھر ان لوگوں کا جو اس سے متصل ہے، راوی کہتے ہیں کہ مجھے یہ یاد نہیں رہا کہ متصل لوگوں کا ذکر دو مرتبہ فرمایا یا تین مرتبہ، اس کے بعد ایسے لوگ ہوں گے جو بے کہے شہادت دینے کو تیار نظر آویں، خیانت کریں گے، امانت دار نہ ہوں گے، عہد شکنی کریں گے معاہدے پورے نہ کریں گے اور ان میں (بوجہ بے فکری کے) مٹاپا ظاہر ہو جائے گا۔
اس حدیث میں متصل آنے والے لوگوں کا اگر دو مرتبہ ذکر فرمایا ہے تو دوسرا قرن صحابہؓ اور تیسرا تابعین کا ہے اور اگر تین مرتبہ ذکر فرمایا ہے تو چوتھا قرن تبع تابعین کا بھی اس میں شامل ہوگا۔
2: صحیحین اور ابوداؤد و ترمذی میں حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
لَا تَسُبُّو٘ا أَصْحَابِي فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدِ ذَهَبًا مَابَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِي٘فَهُ(جمع الفوائد)
ترجمہ: میرے صحابہؓ کو برا نہ کہو، کیونکہ تم میں سے کوئی آدمی اگر احد پہاڑ کے برابر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو صحابی کے ایک مد بلکہ آدھے مد کے برابر بھی نہیں ہو سکتا۔
مد عرب کا ایک پیمانہ ہے جو وزن کے لحاظ سے آج کل کے مروج تقریباً ایک سیر کے برابر ہوتا ہے۔ اس حدیث نے بتلایا کہ رسول اللہﷺ کی زیارت و صحبت وہ نعمتِ عظیمہ ہے جس کی برکت سے صحابی کا ایک عمل دوسروں کے مقابلے میں وہ نسبت رکھتا ہے کہ ان کا ایک سیر بلکہ آدھا سیر دوسروں کے پہاڑ برابر وزن سے بڑھا ہوا ہوتا ہے، ان کے اعمال کو دوسروں کے اعمال پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
اس حدیث کے شروع میں جو یہ ارشاد ہے: لَا تَسُبُّو٘ا أَص٘حَابِی٘ یعنی میرے صحابہؓ پر سبّ نہ کرو، لفظِ ”سبّ“ کا ترجمہ اُردو میں عموماً ”گالی دینا“ کیا جاتا
ہے، جو اس لفظ کا صحیح ترجمہ نہیں، کیونکہ ”گالی“ کا لفظ اردو زبان میں فحش کلام کے لیے آتا ہے، حالانکہ لفظ ”سبّ“ عربی زبان میں اس سے زیادہ عام ہے، ہر اس کلام کو عربی میں ”سبّ" کہا جاتا ہے جس سے کسی کی تنقیص ہوتی ہو، گالی کے لیے ٹھیٹ لفظ عربی میں ”شتم“ آتا ہے۔
حافظ ابن تیمیہؒ ”الصارم المسلول“ میں فرمایا کہ: اس حدیث میں لفظ ”سبّ“ ایسے عام معنی کے لیے آیا ہے جو لعن طعن کرنے کے مفہوم سے عام ہے، اس لیے احقر نے اس کا ترجمہ برا کہنے سے کیا ہے۔
3: ترمذی نے حضرت عبداللہ بن مغفلؓ سے روایت کیا ہے
کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُو٘هُمْ عَرَضًا مِنْ بَعْدِى، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّى أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِى أَبْعْضَهُمْ وَمَنْ اٰذَاهُمْ فَقَدْ اٰذَانِي وَمَنْ اٰذَانِي فَقَدْ اٰذَى اللَّه وَمَنْ أَذَى اللَّه فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ. (جمع الفوائد: جلد 2، صفحہ 491)
ترجمہ: اللہ سے ڈرو! اللہ سے ڈرو! میرے صحابہؓ کے معاملے میں، میرے بعد ان کو (طعن و تشنیع کا) نشانہ نہ بناؤ کیونکہ جس شخص نے ان سے محبت کی تو میری محبت کے ساتھ ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو میرے بغض کے ساتھ ان سے بغض رکھا اور جس نے ان کو ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذاء پہنچائی اور جس نے مجھے ایذاء دی اس نے اللہ تعالیٰ کو ایذاء پہنچائی اور جو اللہ کو ایذاء پہنچانا چاہتا ہے تو قریب ہے کہ اللہ اس کو عذاب میں پکڑ لے گا۔
اس حدیث میں جو یہ فرمایا کہ جس نے صحابہ کرامؓ سے محبت رکھی وہ میری محبت کے ساتھ محبت رکھی، اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ صحابی سے محبت رکھنا میری محبت کی علامت ہے۔ ان سے وہی شخص محبت رکھے گا جس کو میری محبت حاصل ہو۔ دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ جو شخص میرے کسی صحابی سے محبت رکھتا ہے تو میں اس سے محبت رکھتا ہوں، اس طرح اس کی محبت صحابی کے ساتھ علامت اس کی سمجھو کہ مجھے اس شخص سے محبت ہے۔ یہی دو معنے اگلے جملے بغضِ صحابہؓ کے ہو سکتے ہیں کہ جو شخص کسی صحابی سے بغض رکھتا ہے وہ دراصل مجھ سے بغض ہوتا ہے، یا یہ کہ جو شخص ان سے بغض رکھتا ہے تو میں اس شخص سے بغض رکھتا ہوں۔
دونوں معنے میں سے جو بھی ہوں یہ حدیث ان حضرات کی تنبیہ کے لئے کافی ہے جو صحابہ کرامؓ کو آزادانہ تنقید کا نشانہ بناتے اور ان کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جن کو دیکھنے والا ان سے بدگمان ہو جائے یا کم از کم ان کا اعتماد اس کے دل میں نہ رہے۔ غور کیا جائے تو یہ رسول اللہﷺ سے بغاوت کے حکم میں ہے۔
4: ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
اذا رأيتم الذين يسبون أصحابي فقولوا: لعنة الله علىشركم.
(جمع الفوائد: جلد 2، صفحہ 491)
ترجمہ: جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہؓ کو بُرا کہتے ہیں تو تم ان سے کہو خدا کی لعنت ہے اس پر جو تم دونوں یعنی صحابہؓ اور تم سے بدتر ہیں۔
ظاہر ہے کہ صحابہ کرامؓ کے مقابلے میں بدتر وہی ہے جو ان کو بُرا کہنے والا ہے۔ اس حدیث میں صحابی کو بُرا کہنے والا مستحقِ لعنت قرار دیا گیا ہے اور یہ اوپر گزر چکا ہے کہ لفظ ”سبّ“ عربی زبان کے اعتبار سے صرف فحش گالی ہی کو نہیں کہتے بلکہ ہر ایسا کلام جس سے کسی کی تنقیص و توہین یا دل آزاری ہوتی ہے وہ لفظ ”سبّ“ میں داخل ہے۔
5: ابوداؤد، ترمذی میں حضرت سعید بن زیدؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا کہ بعض لوگ بعض امرائے حکومت کے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا کہتے ہیں، تو سعید بن زیدؓ نے فرمایا: افسوس! میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے سامنے اصحابِ نبی کریمﷺ کو بُرا کہا جاتا ہے اور تم اس پر نکیر نہیں کرتے اور اس کو روکتے نہیں (اب سن لو) میں نے رسول اللہﷺ کو یہ کہتے ہوئے اپنے کانوں سے سنا ہے (اور پھر حدیث بیان کرنے سے پہلے فرمایا کہ یہ بھی سمجھ لو کہ مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے کہ میں رسولﷺ کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کروں جو آپ نے نہ فرمائی ہو کہ قیامت کے روز جب میں رسولﷺ سے ملوں تو آپ مجھ سے اس کا مواخذہ فرماویں، یہ کہنے کے بعد حدیث بیان کی کہ) ابوبکر جنت میں ہیں، عمر جنت میں ہیں، عثمان جنت میں ہیں، علی جنت میں ہیں، طلحہ جنت میں ہیں، زبیر جنت میں ہیں، سعد بن مالک جنت میں ہیں، عبدالرحمن بن عوف جنت میں ہیں، ابو عبیدہ بن جراح جنت میں ہیں، یہ نو حضراتِ صحابہؓ کے نام لے کر دسویں کا نام نہیں لیا، جب لوگوں نے پوچھا دسواں کون ہے؟ تو ذکر کیا سعید بن زید (یعنی خود اپنا نام ابتداءً بوجہ تواضع کے ذکر نہیں کیا تھا، لوگوں کے اصرار پر ظاہر کیا) اس کے بعد حضرت سعید بن زیدؓ نے فرمایا:
والله! لمشهد رجل منهم مع النبي صلى الله عليه وسلم يغبر فيه وجهه خير من عمل أحدكم ولو عُمَّر عمر نوح.
(جمع الفوائد: جلد 2، صفحہ 492، طبع مصر)
ترجمہ: خدا کی قسم ہے کہ صحابہ کرامؓ میں سے کسی شخص کا رسول اللہﷺ کے ساتھ کسی جہاد میں شریک ہونا جس میں اس کا چہرہ غبار آلود ہو جائے، غیر صحابہ سے ہر شخص کی عمر بھر کی عبادت و عمل سے بہتر ہے اگر چہ اس کو عمرِ نوحؑ عطا ہو جائے۔
6: امام احمدؒ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا:
من كان متأسيا فليتأس بأصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فانهم أبرّ هٰذه الأمة قلوباً وأعمقها علمًا وأقلها تكلفاً وأقومها هدياً وأحسنها حالاً، قوم اختارهم الله بصحبة نبيه واقامة دينه، فاعرفوا لهم فضلهم واتبعوا اثارهم فانهم كانوا على الهدى المستقيم.
(شرح عقیدہ سفارینی: جلد2، صفحہ 280)
ترجمہ: جو شخص اقتداء کرنا چاہتا ہے اس کو چاہئے کہ اصحابِ رسول اللہﷺ کی اقتداء کرے، کیونکہ یہ حضرات ساری اُمت سے زیادہ اپنے قلوب کے اعتبار سے پاک، اور علم کے اعتبار سے گہرے، اور تکلف و بناوٹ سے الگ اور عادات کے اعتبار سے معتدل اور حالات کے اعتبار سے بہتر ہیں۔ یہ وہ قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی صحبت اور دین کی اقامت کے لئے پسند فرمایا ہے، تو تم ان کی قدر پہچانو اور ان کے آثار کا اتباع کرو کیونکہ یہی لوگ مستقیم طریق پر
ہیں۔
7: اور ابوداؤد طیالسیؒ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت کیا ہے:
ان الله نظر في قلوب العباد فنظر قلب محمد صلى الله عليه وسلم فبعثه برسالته، ثم نظر في قلوب العباد بعد قلب محمد صلى الله عليه وسلم فوجد قلوب أصحابه خیر قلوب العباد، فاختارهم لصحبة نبيه، ونصرة دينه. (سفارینی شرح الدرة المضيۃ: جلد 2، صفحہ 280)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے اپنے سب بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی تو محمدﷺ ان سب قلوب میں بہتر پایا، ان کو اپنی رسالت کے لئے مقرر کر دیا، پھر قلبِ محمدﷺ کے بعد دوسرے قلوب پر نظر فرمائی تو اصحابِ محمدﷺ کے قلوب کو دوسرے سب بندوں کے قلوب سے بہتر پایا، ان کو اپنے نبی کی صحبت اور دین کی نصرت کے لئے پسند کر لیا۔
8: مسندِ بزار میں حضرت جابرؓ سے بہ سندِ صحیح روایت کیا ہے که رسول اللہﷺ نے فرمایا:
ان الله اختار أصحابي على العالمين سوى النبيين والمرسلين واختار لى من أصحابي أربعة يعني أبابكر وعمر وعثمان وعلى فجعلهم أصحابي. وقال: في أصحابي كلهم خير.
9: اور عوہم بن ساعدہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
ان الله اختارني واختار لى أصحابي فجعل منهم وزراء واختانا وأصهاراً فمن سبّهم فعليه لعنة الله والملئكة والناس أجمعين، ولا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلاً.
(تفسیر قرطبی، سورة الفتح، مجمع الزوائد: 10،12)
10: حضرت عرباض بن ساریہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
انه من يعش منكم فسيرى اختلافاً كثيرًا فعليكم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدين عضّوا عليها بالنواجذ، واياكمومحدثات الأمور فان كل بدعة ضلالة.
(رواه الإمام أحمد و ابوداؤد والترمذي وابن ماجہ وقال الترمذي: حديث حسن صحيح، وقال أبو نعيم حديث جيد صحیح از سفارینی: صفحہ 280)
ترجمہ: تم میں جو شخص میرے بعد رہے تو بہت اختلافات دیکھے گا، تو تم لوگوں پر لازم ہے کہ میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو اختیار کرو، اس کو دانتوں سے مضبوط تھامو اور نو ایجاد اعمال سے پرہیز کرو کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔
اس حدیث میں رسول اللہﷺ نے اپنی سنت کی طرح خلفائے راشدینؓ کی سنت کو بھی واجب الاتباع اور فتنوں سے نجات کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اسی طرح دوسری متعدد احادیث اور متعدد صحابہ کرامؓ کے نام لے کر مسلمانوں کو ان کی اقتداء و اتباع اور ان سے ہدایت حاصل کرنے کی تلقین فرمائی ہے، یہ روایات سب کتبِ حدیث میں موجود ہیں۔
*قرآن وسنت میں مقامِ صحابہؓ کا خلاصہ*
مذکور الصدر آیاتِ قرآنی اور روایاتِ حدیث میں یہی نہیں کہ اصحابِ رسول اللہﷺ کی مدح و ثناء اور ان کو رضوانِ الٰہی اور جنت کی بشارت دی گئی ہے، بلکہ اُمت کو ان کے ادب و احترام اور ان کی اقتداء کا حکم بھی دیا گیا ہے، ان میں سے کسی کو بُرا کہنے پر سخت وعید بھی فرمائی ہے، ان کی محبت کو رسول اللہﷺ کی محبت، ان سے بغض کو رسول اللہﷺ سے بغض قرار دیا ہے، صحابہ کرامؓ کا یہی وہ منصب اور درجہ ہے جس کو زیرِ نظر مقالے”مقامِ صحابہؓ“ میں پیش کرنا ہے۔
*اس پر امتِ محمدیہﷺ کا اجماع*
ایک دو گمراہ فرقوں کو چھوڑ کر باقی امتِ محمدیہﷺ کا ہمیشہ سے صحابہ کرامؓ کے بارے میں اسی اصول پر اجماع و اتفاق رہا ہے جو اوپر کتاب و سنت کی نصوص سے ثابت کیا گیا ہے۔
1: صحابہ کرامؓ کے بعد دوسرا قرن حضراتِ تابعینؒ کا ہے جس کو احادیثِ مذکورہ میں خیر القرون میں داخل کیا ہے، اس خیر القرون حضراتِ تابعینؒ میں بھی حضرت عمر بن عبد العزیزؒ سب سے افضل مانے گئے ہیں، انہوں نے اپنے ایک مکتوب میں صحابہ کرامؓ کے اس مقام کی وضاحت اور لوگوں کو اس کے پابند ہونے کی تاکید الفاظِ ذیل میں فرمائی ہے، یہ طویل مکتوب حدیث کی مشہور کتاب متداول کتاب ابوداؤد میں سند کے ساتھ لکھا گیا ہے، اس کے ضروری جملے جو مقامِ صحابہؓ کے متعلقہ ہیں یہ ہیں:
فارض لنفسك ما رضى به القوم لأنفسهم فانهم علىٰ علم وقفوا ويبصر نافد كفوا وهم على كشف الأمور كانوا أقوى وبفضل ما كانوا فيه أولى فان كان الهدى ما أنتم عليه لقد سبقتموهم اليه ولئن قلتم انما حدث بعدهم ما أحدثه الا من اتبع غير سبيلهم ورغب بنفسه عنهم فانهم هم السابقون فقد تكلموا فيه بما يكفى ووصفوا منه ما يشفى فما دونهم من مقصر وما فوقهم من محسر وقد قصر قوم دونهم فجفوا وطمع عنهم أقوام فعلوا وانهم بين ذلك لعلىٰ هدى مستقيم۔۔۔۔الخ
ترجمہ: پس تمہیں چاہیے کہ اپنے لیے وہی طریقہ اختیار کرلو جس کو قوم (صحابہ کرامؓ) نے اپنے لئے پسند کر لیا تھا، اس لیے کہ وہ جس حد پر ٹھہرے علم کے ساتھ ٹھہرے اور انہوں نے جس چیز سے لوگوں کو روکا، ایک دور بین نظر کی بناء پر روکا اور بلاشبہ وہ ہی حضرات دقیق حکمتوں اور علمی اُلجھنوں کے کھولنے پر قادر تھے اور جس کام میں تھے اس میں سب سے زیادہ فضیلت کے وہی مستحق تھے۔ پس اگر ہدایت اس طریق میں مان لی جائے جس پر تم ہو تو اس کے یہ معنیٰ ہیں کہ تم فضائل میں ان سے سبقت لے گئے (جو بالکل محال ہے)، اگر تم یہ کہو کہ یہ چیزیں ان حضرات کے بعد پیدا ہوئی ہیں (اس لیے ان سے یہ طریقہ منقول نہیں) تو سمجھ لو کہ ان کو ایجاد کرنے والے وہی لوگ ہیں جو ان کے راستے پر نہیں ہیں اور ان سے علیحدہ رہنے والے ہیں کیونکہ یہی حضرات سابقین ہیں جو معاملاتِ دین میں اتنا کلام کر گئے ہیں جو بالکل کافی ہے اور اس کو اتنا بیان کر دیا جو شفا دینے والا ہے، پس ان کے طریقے سے کمی و کوتاہی کرنے کا بھی موقع نہیں ہے اور ان سے زیادتی کرنے کا بھی کسی کو حوصلہ نہیں ہے اور بہت سے لوگوں نے ان کے طریقے میں کوتاہی کی وہ مقصد سے دور رہ گئے اور بہت سے لوگوں نے ان کے طریقے سے زیادتی کا ارادہ کیا وہ غلو میں مبتلا ہو گئے اور یہ حضرات افراط و تفریط اور کوتاہی کے درمیان ایک راہ مستقیم پر تھے۔
افضل التابعین حضرت عمر بن عبد العزیزؒ جن کی خلافت کو بعض علماء نے خلافتِ راشدہ کے ساتھ ملایا ہے اور ان کے دورِ خلافت میں اسلامی قوانین کی تنفیذ اور شعائرِ اسلام کا اعلاء بلاشبہ خلافتِ راشدہ ہی کے طرز پر ہوا ہے، ان کے اس ارشاد کے مطابق ایک دو گمراہ فرقوں کے علاوہ پوری اُمتِ محمدیہ نے صحابہ کرامؓ کے متعلق اسی عقیدے پر اجماع و اتفاق کیا ہے، اس اجماع کا عنوان عام طور پر کتبِ حدیث اور کتبِ عقائد میں یہ ہے کہ: ”الصحابة كلهم عدول“ حاصل مفہوم اس جملے کا وہی ہے جو اوپر کتاب وسنت کے حوالوں سے صحابہ کرامؓ کے درجے و مقام کے متعلق لکھا گیا ہے
*الصّحابہ كلهم عدول کا مفہوم*
لفظ ”عدول“ عدل کی جمع ہے، یہ اصل میں مصدر ہے حصے برابر کرنے کے معنی میں اور محاورات میں اس شخص کو ”عدل“ کہا جاتا ہے جو حق و انصاف پر قائم ہو، یہ لفظ قرآن کریم میں بھی بار بار آیا ہے، حدیث میں بھی، کتب تفسیر میں بھی اس پر بحث ہے اور اصولِ حدیث، اصول فقہ اور عام فقہ میں اس کے اصطلاحی اور شرعی معنی کی تعیین کی گئی ہے، ابنِ صلاح رحمۃاللہ نے فرمایا:
تفصيله ان يكون مسلماً بالغاً عاقلاً سالماً من اسباب الفسق وخوارم المروءة.
(علوم الحديث لابن صلاحؒ)
ترجمہ: اس کی تفصیل یہ ہے کہ انسان مسلمان، بالغ، عاقل ہو اور اسبابِ فسق سے، نیز خلاف مروت افعال سے محفوظ ہو اور شیخ الاسلام نووی رحمۃاللہ نے تقریب میں فرمایا:
عدلاً ضابطاً بان يكون مسلماً بالغاً عاقلاً سليماً من اسباب الفسق وخوارم المروءة۔
علامہ سیوطی رحمۃاللہ نے اس کی شرح ”تدریب“ میں فرمایا:
وفسر العدل بان يكون مسلماً بالغاً عاقلاً (الىٰ قَوْلِهٖ) سليماً من اسباب الفسق وخوارم المروءة۔
(تدريب الراوی: صفحہ 197)
حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃاللہ نے ”شرح نخبۃ الفكر“ میں فرمایا:
والمراد بالعدل من له ملكة تحمله علىٰ ملازمة التقوىٰ والمروءة والمراد بالتقوىٰ اجتناب الاعمال السيئة من شركة او فسق و بدعة۔
ترجمہ: ”عدل“ سے مراد وہ شخص ہے جسے ایسا ملکہ حاصل ہو جو اسے تقویٰ اور مروّت کی پابندی پر برانگیختہ کرے اور تقویٰ سے مراد شرک، فسق اور بدعت جیسے اعمالِ بد سے اجتناب ہے۔
”الدر المختار: كتاب الشهادت“ میں عدالت کی تفسیر یہ کی ہے:
ومن ارتكب صغيرة بلا إصرار وان اجتنب الكبائر كلها وغلب صوابهٗ علىٰ صغائره درر وغيرها قال: وهو معنى العدالة قال: ومتىٰ إرتكب كبيرة سقطت عدالته۔
ترجمہ: اور وہ شخص (بھی عادل ہے) جس سے صغیرہ گناہ بغیر اصرار (مداومت) کے صادر ہو جاتا ہو بشرط یہ کہ وہ تمام کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرتا ہو اور اس کے درست افعال اس کے صغیرہ گناہوں سے زیادہ ہوں (درر وغیرہ) یہی عدالت کے معنیٰ ہیں اور کوئی شخص جب کبھی کسی گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوگا، اس کی عدالت ساقط ہو جائے گی۔
اس کی شرح میں ابنِ عابدین رحمۃاللہ نے فرمایا:
في الفتاوىٰ الصغرىٰ حيث قال: العدل من يجتنب الكبائر كلها حتىٰ لو ارتكب كبيرۃ تسقط عدالته وفي الصغائر العبرة بغلبه أو الإصرار على الصغيرة فتصير كبيرة ولذا قال: غلب صوابه آه. قولهٗ (سقطت عدالتہ) وتعود إذا تاب.... الخ۔
(رد المختار ابن عابدين شامی: صفحہ 523)
ترجمہ: فتاویٰ صغریٰ میں لکھا ہے کہ ”عدل“ وہ جو تمام کبیرہ گناہوں سے مجتنب ہو، یہاں تک کہ اگر ایک کبیرہ گناہ کا ارتکاب بھی کر لے گا تو اس کی عدالت ساقط ہو جائے گی اور صغیرہ گناہوں میں اعتبار اکثریت کا ہے، یا پھر کسی صغیرہ گناہ پر اصرار (مداومت) کا، کیونکہ اس صورت میں صغیرہ بھی کبیرہ بن جاتا ہے اسی لیے مصنف (در مختار) نے یہ کہا ہے کہ اس کے درست افعال زیادہ ہوں اور مصنف نے جو یہ کہا کہ کبیرہ کے ارتکاب سے عدالت ساقط ہو جائے گی (اس میں اتنا اضافہ کرنا چاہیے کہ) اگر وہ توبہ کر لے تو عدالت لوٹ آئے گی۔
فقہاء و محدثین کی مذکورہ بالا تصریحات میں ”عدل“ اور ”عدالت“ کی ایک ہی تفسیر ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ مسلمان عاقل، بالغ ہو اور کبیرہ گناہوں سے مجتنب ہو، کسی صغیرہ گناہ پر مصر نہ ہو اور بہت صغیرہ گناہوں کا عادی نہ ہو، یہی مفہوم شرعی ہے ”تقویٰ“ کا، جیسا کہ ابن عابدینؒ کی عبارتِ مذکورہ میں ہے، جس کا بالمقابل ”فسق“ ہے۔ جس شخص کی عدالت کو ساقط قرار دیا جائے گا تو اصطلاح شرع میں اس کو ”فاسق“ کہا جائے گا اوپر جن حضرات سے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ”عدول“ ہونے پر اجماعِ امت سے نقل کیا گیا ہے ان کی اپنی اپنی عبارتوں سے بھی ”عدل“ اور ”عدالت“ کی یہی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔
*ایک اشکال و جواب*
یہاں یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف امت کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ صحابہ کرامؓ معصوم نہیں، ان سے کبیرہ، صغیرہ ہر طرح کے گناہ کا صدور ہو سکتا ہے اور ہوا بھی ہے، دوسری طرف یہ عقیدہ اوپر لکھا گیا ہے کہ سب کے سب ”عدول“ ہیں اور ”عدل“ کے معنی اصطلاحی بھی سب کے نزدیک یہ ہیں جو کسی گناہِ کبیرہ کا مرتکب اور صغیرہ پر مصر نہ ہو اور جس سے گناہ کبیرہ سرزد ہو گیا یا صغیرہ پر اصرار ثابت ہو گیا وہ ”ساقط العدالت“ کہلائے گا جس کا اصطلاحی نام ”فاسق“ ہے یہ کھلا ہوا تضاد ان دونوں عقیدوں میں ہے۔
اس کا جواب جمہور علماء کے نزدیک یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ سے اگرچہ کوئی بڑا کبیرہ گناہ بھی سرزد ہو سکتا ہے اور ہوا بھی ہے، مگر ان میں اور عام افرادِ امت میں ایک فرق ہے کہ گناہ کبیرہ وغیرہ سے جو کوئی شخص ساقط العدالت یا فاسق ہو جاتا ہے، اب اس کی مکافات توبہ سے ہو سکتی ہے، جس نے توبہ کر لی یا کسی ذریعے سے یہ معلوم ہو گیا کہ اس کی حسنات کی وجہ سے حق تعالیٰ نے اس کا یہ گناہ معاف کر دیا، وہ پھر ”عدل“ اور ”متقی“ کہلائے گا اور جس نے توبہ نہ کی وہ ساقط العدالت فاسق قرار دیا جائے گا۔
اب توبہ کے معاملے میں عام افراد امت اور صحابہ کرامؓ میں ایک خاص امتیاز یہ ہے کہ عام افراد امت کے بارے میں یہ ضمانت نہیں ہے کہ انہوں نے توبہ کی یا نہیں کی؟ اور نہ یہ معلوم ہے کہ اس کی حسنات نے سب سئیات کا کفارہ کر دیا۔ ان کے بارے میں جب تک توبہ کا ثبوت نہ ہو جائے یا کسی ذریعے سے عنداللہ معافی کا علم نہ ہو جائے ان کو ساقط العدالت فاسق ہی قرار دیا جائے گا، نہ ان کی شہادت مقبول ہوگی، نہ دوسرے معاملات میں ان کا اعتبار کیا جائے گا، مگر صحابہ کرامؓ کا معاملہ ایسا نہیں، اول تو ان کے حالات کو جاننے والے جانتے ہیں کہ وہ گناہ سے کتنے ڈرتے اور بچتے تھے اور کبھی کوئی گناہ سرزد ہو گیا تو اس کی توبہ صرف زبانی کرنے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ کوئی اپنے آپ کو بڑی سے بڑی سزا کے لیے پیش کر دیتا ہے، کوئی اپنے آپ کو مسجد کے ستون سے باندھ دیتا ہے، جب تک قبولِ توبہ کا اطمینان نہیں ہو جاتا اس کو صبر نہیں آتا۔ صحابہ کرامؓ کے اس خوف و خشیت کا تقاضا یہ ہے کہ جن حضرات سے توبہ کرنے کا اظہار بھی نہیں ہوا ہم ان کے بارے میں بھی یہی ظن رکھیں کہ انہوں نے ضرور توبہ کر لی ہوگی، دوسرے ان کے حسنات اور سوابق اتنے عظیم اور بھاری ہیں کہ ان کے مقابلے میں عمر بھر کا ایک آدھ گناہ حق تعالیٰ کے وعدے کے مطابق معاف ہی ہو جانا چاہیے، وعدہ یہ ہے: اِنَّ الحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ
(سورۃ الھود آیت: 114)
یہاں تک تو ہر مسلمان کو خود بھی بغیر کسی واضح دلیل کے یہ اعتقاد و اعتماد رکھنا عقل و انصاف کا تقاضا ہے، مگر صحابہ کرامؓ کے معاملے میں ہمارا صرف یہ گمان ہی نہیں، قرآنِ کریم نے اس گمان کی تصدیق بار بار کر دی، کبھی صحابہ کرامؓ کی خاص خاص جماعتوں کے لیے اس کا اعلان کر دیا کبھی صحابہ کرامؓ سابقین و آخرین کے لیے اعلان عام کر دیا کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے۔
بیعتِ حدیبیہ میں جس کو قرآنی بشارت کی وجہ سے ”بیعت رضوان“ اور ”بیعت شجرہ“ بھی کہا جاتا ہے، اس میں جو تقریباً ڈیڑھ ہزار صحابہ کرامؓ شریک تھے، ان کے بارے میں کھلے الفاظ سے یہ اعلان فرمایا:
لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ المُؤْمِنِيْنَ إذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحتَ الشَّجَرَةِ(سورۃالفتح آیت: 18)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ مؤمنوں سے راضی ہو گیا جبکہ وہ درخت کے نیچے آپﷺ سے بیعت کر رہے تھے۔
حدیث میں رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ: اس بیعت تحت الشجرہ میں جو لوگ شریک تھے ان میں سے کسی کو جہنم کی آگ نہ چھو سکے گی، اس مضمون پر متعدد احادیث مختلف الفاظ، اسناد صحیحہ کے ساتھ کتبِ حدیث و تفسیر میں موجود ہیں اور عام صحابہ کرام اولین و آخرین کے حق میں یہ اعلان سورۃ التوبہ میں اس طرح آیا:
وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ذٰ لِكَ الۡـفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ
(سورۃالتوبہ آیت: 100)
ترجمہ: مہاجرین و انصار میں سے جو سب سے پہلے سبقت کرنے والے ہیں اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی اتباع کی، اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے، یہ عظیم کامیابی ہے۔
سورۃ الحدید میں صحابہ کرامؓ کے بارے میں اعلان فرمایا: وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى
ترجمہ: اللہ نے ان میں سے ہر ایک سے حسنیٰ کا وعدہ کر لیا ہے۔
پھر سورۃ الاَنبیاء میں ”حسنیٰ“ کے متعلق یہ ارشاد ہے:
اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّنَّا الۡحُسۡنٰٓى اُولٰٓئِكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ(سورۃ الاَنبیاء: آیت101)
ترجمہ: یعنی وہ لوگ جن کے لیے ہماری طرف سے حسنیٰ مقرر کر دی گئی ہے وہ اس جہنم سے دور کیے جائیں گے۔
اس کا حاصل ظاہر ہے کہ سب ہی صحابہ کرامؓ کے حق میں یہ فیصلہ فرما دیا کہ وہ جہنم سے دور رکھے جاویں گے۔
نیز سورۃ التوبہ میں ارشاد ہے:
لَـقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِىِّ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ فِىۡ سَاعَةِ الۡعُسۡرَةِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا كَادَ يَزِيۡغُ قُلُوۡبُ فَرِيۡقٍ مِّنۡهُمۡ ثُمَّ تَابَ عَلَيۡهِمۡ اِنَّهٗ بِهِمۡ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ(سورۃ التوبہ آیت: 117)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے نبی اور ان مہاجرین و انصار کی توبہ قبول فرمائی جنہوں نے تنگی کے وقت میں نبی کی پیروی کی، بعد اس کے کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک فریق کے دل کج ہو جائیں، پھر اللہ نے ان کو معاف کر دیا، بلا شبہ وہ ان پر بہت مہربان رحمت کرنے والا ہے۔
اس کا حاصل یہ ہے کہ قرآنِ کریم نے اس کی ضمانت دے دی کہ حضراتِ صحابہؓ سابقین و آخرین میں سے کسی سے بھی اگر عمر بھر میں کوئی گناہ سرزد ہو گیا تو وہ اس پر قائم نہ رہے گا، توبہ کر لے گا، یا پھر نبی کریمﷺ کی صحبت و نصرت اور دین کی خدماتِ عظیمہ اور ان کی بے شمار حسنات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دے گا اور ان کی موت اس سے پہلے نہ ہوگی کہ ان کا گناہ معاف ہو کر وہ صاف بے باق ہو جائیں، اسی لیے ان میں سے کسی بھی صحابی کو ساقط العدالت یا فاسق نہیں کہا جا سکتا۔ صدورِ گناہ کے وقت اس پر تمام وہی احکام نافذ ہوں گے جو دوسرے مسلمانوں پر ہوتے، حد شرعی یا تعزیری سزائیں جو عام مسلمانوں کے لیے ہیں وہ ان پر جاری کی جائیں گی اور صدورِ گناہ کے وقت اس عمل کو فسق بھی کہا جائے گا، جیسا کہ آیت اِنۡ جَآءَكُمۡ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ سے معلوم ہوتا ہے، مگر چونکہ ان کی توبہ یا معافی بنصِ قران معلوم ہوچکی ہے اس لیے ان کو کسی وقت ”ساقط العدالت فاسق“ نہیں کہا جائے گا، كذا حققہ الاٰلوسیؒ في روح المعانی تحت آيت: وَاِنۡ جَآءَكُمۡ فَاسِقٌ
قاضی ابویعلیٰ رحمۃاللہ نے آیتِ رضوان کے تحت فرمایا:
والرضىٰ من اللہ صفت قديمۃ فلا يرضىٰ الا من عبد يعلم انه يوفّيه علىٰ موجباتِ الرضىٰ ومن رضی اللہ عنہ لم يسخط عليه أبداً.
(الصارم المسلول: لابن تيميۃؒ)
ترجمہ: اور اللہ کی خوشنودی، باری تعالیٰ کی ایک صفتِ قدیمہ ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ صرف اس بندے سے راضی ہوتا ہے جس کے بارے میں معلوم ہو کہ رضا مندی کے موجبات کا جامع ہے اور جس سے اللہ راضی ہو جائے اس پر کبھی ناراض نہیں ہوگا۔
صحابہ کرامؓ کے غیر معصوم ہونے اور سب کے عدول میں جو ایک ظاہری تعارض ہے اس کا جواب جمہور علماء و فقہاء کے نزدیک یہی ہے اور وہ بالکل واضح اور صاف ہے۔
اور بعض علماء نے جو عدمِ عصمت اور عمومِ عدالت کے تضاد سے بچنے کے لیے ”عدالت“ کے مفہوم میں یہ ترمیم فرمائی کہ یہاں ”عدالت“ سے مراد تمام اوصاف و اعمال کی عدالت نہیں بلکہ صرف روایت میں کذب نہ ہونے کی عدالت مراد ہے، یہ لغت و شرع پر ایک زیادتی ہے جس کی کوئی ضرورت اور کوئی وجہ نہیں اور ان حضرات کے پیشِ نظر بھی اس ترمیم کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اس کی رو سے کسی صحابی کو اپنے عمل و کردار کی حیثیت سے ساقط العدالت یا فاسق قرار دینا چاہتے ہیں، ان کے کلمات دوسرے مواقع میں خود اس کی نفی کرتے ہیں۔
اسی طرح کا ایک مضمون حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃاللہ کی طرف ان کے فتاویٰ کے حوالے سے منسوب کیا گیا ہے، یہ مضمون کی وجہ سے ایسا ہے کہ حضرت شاہ عبدالعزیز دہلویؒ جیسے جامعِ علوم بزرگ کی طرف اس کی نسبت کسی طرح سمجھ میں نہیں آتی اور ”فتاویٰ عزیزی“کے نام سے جو مجموعہ شائع ہو رہا ہے اس کے متعلق یہ سب کو معلوم ہے کہ حضرت شاہ صاحبؒ نے نہ خود ان کو جمع فرمایا ہے، نہ ان کی زندگی میں وہ شائع ہوا ہے، وفات کے معلوم نہیں کتنے عرصے بعد مختلف لوگوں کے پاس جو ان کے خطوط و فتاویٰ دنیا میں پھیلے ہوئے تھے ان کو جمع کر کے یہ مجموعہ شائع ہوا ہے، اس میں بہت سے احتمالات ہو سکتے ہیں کہ کسی نے کوئی تدسیس اس میں کی ہو اور غلط بات ان کی طرف منسوب کرنے کے لیے فتاویٰ کے مجموعے میں شامل کر دیا ہو اور اگر بالفرض یہ واقعی حضرت شاہ عبدالعزیزؒ کا قول ہے تو بھی بمقابلہ جمہور علماء و فقہاء کے متروک ہے۔ (واللہ اعلم)
علمِ عقائد و کلام کی تقریباً سبھی کتابوں میں اسی طرح اصولِ حدیث کی سب کتابوں میں اس پر اجماع نقل کیا گیا ہے، جس میں سے چند کے حوالے اس جگہ نقل کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
2: حدیث اور اصولِ حدیث کے امام ابنِ صلاح رحمۃاللہ ”علوم الحدیث“ میں فرماتے ہیں:
للصحابۃ بأسرهم خصيصة وهي أنه لا يسأل عن عدالة أحد منهم بل ذلك أمر مفروغ عنه لكونهم على الإطلاق معدلين بنصوص الكتاب والسنة وإجماع من يعتد به في الإجماع من الأمة قال تعالىٰ: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ قيل اتفق المفسرون علىٰ أنه وارد في أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم (ثم سرد بعض النصوص القراٰنية والأحاديث كما ذكرنا سابقاً)
(علوم الحديث: صفحہ 264)
ترجمہ: تمام صحابہ کرامؓ کی ایک خصوصیت ہے اور وہ یہ ہے کہ ان میں سے کسی کی عدالت (ثقہ و متقی) ہونے کا سوال بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ ایک طے شدہ مسئلہ ہے، قرآن و سنت کے نصوصِ قطعیہ اور اجماعِ امت جن لوگوں کا معتبر ہے، ان کے اجماع سے ثابت ہے۔ حق تعالیٰ نے فرمایا کہ: تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا کہ مفسرین حضرات کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ آیت اصحاب رسول اللہﷺ کی شان میں آئی ہے۔
3: حافظ ابنِ عبدالبر رحمۃاللہ نے مقدمہ ”استعیاب“ میں فرمایا:
فهم خير القرون وخير أمة أخرجت للناس ثبتت عدالة جميعهم بثناء الله عزوجل عليهم وثناء رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم ولا أعدل ممن ارتضاه الله بصحبة نبيه صلى الله عليه وسلم ونصرته ولا تزكية أفضل من ذلك ولا تعديل أكمل منها، قال تعالىٰ: مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ مَعَهُ
(الاستيعاب تحت الاصابۃ: جلد 1، صفحہ 2)
ترجمہ: یہ حضراتِ صحابہؓ ہر زمانے کے افراد سے افضل ہیں اور وہ بہترین امت ہے جسے اللہ نے لوگوں (کی ہدایت) کے لیے پیدا فرمایا، ان سب کی عدالت اس طرح ثابت ہے کہ اللہ نے بھی ان کی تعریف و توصیف فرمائی اور رسول اللہﷺ نے بھی اور ان لوگوں سے بڑھ کر کون عادل ہو سکتا ہے جنہیں اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت اور نصرت کے لیے چن لیا ہو، کسی شخص کے حق میں عدالت و ثقاہت کی کوئی اس شہادت سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی۔
امام احمد رحمۃاللہ کا اپنا ایک رسالہ ”اصطخری“ کی روایت سے منقول ہے، اس میں فرمایا:
لا يجوز لأحد أن يذكر شيئاً من مساويهم ولا أن يعطن على أحد منهم بعيب ولا نقص فمن فعل ذلك وجب تاديبه. وقال الميموني: سمعت أحمد يقول: ما لهم لمعاوية نسأل الله العافية. وقال لي: يا أبا الحسن! إذا رأيتَ أحدا يذكر أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بسوء فاتهمه على الاسلام.
(ذكره ابن تيميۃ: في الصارم المسلول)
ترجمہ: کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ ان کی کوئی برائی ذکر کرے اور ان پر کسی عیب یا نقص کا الزام لگائے، جو شخص ایسا کرے اس کی تأدیب واجب ہے۔ اور میمونی رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد رحمۃاللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی برائی کرتے ہیں، ہم اللہ سے عافیت کے طلبگار ہیں اور پھر مجھ سے فرمایا کہ: جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ صحابہؓ کا ذکر برائی کے ساتھ کر رہا ہے اس کے اسلام کو مشکوک سمجھو
5: امام نوویؒ نے اپنی کتاب ”تقریب“ میں فرمایا:
الصحابۃ كلهم عدول من لابس الفتن وغيرهم بإجماع من يعتد بہ.
ترجمہ: صحابہؓ سب کے سب عدل ہیں، جو اختلافات کے فتنے میں مبتلا ہوئے وہ بھی اور دوسرے بھی۔
6: علامہ سیوطی رحمۃاللہ نے اسی ”تقریب“ کی شرح ”تدریب الراوی“ میں پہلے اس کے ثبوت میں وہ آیاتِ قرآنی اور روایاتِ حدیث لکھی ہیں جن کا ایک حصہ اوپر لکھا جا چکا ہے، پھر فرمایا:
ان سب حضرات کا تعدیل و تنقید سے بالاتر ہونا اس وجہ سے ہے کہ یہ حضرات حاملانِ شریعت ہیں اگر ان کی عدالت مشکوک ہو جائے تو شریعتِ محمدیہﷺ صرف آنحضرتﷺ کے عہدِ مبارک ہی تک محدود ہو کر رہ جائے گی، قیامت تک آنے والی نسلوں اور دور دراز کے ملکوں اور خطوں میں عام نہیں ہو سکتی۔ اس کے بعد جن بعض لوگوں نے اس مسئلے میں کچھ اختلافی پہلو لکھا ہے ان پر رد کر کے آخر میں فرمایا:
والقول بالتعميم هو الذي صرح به الجمهور وهو المعتبر (تدريب الراوي: صفحہ400)
ترجمہ: عدالت کا تمام صحابہ کرامؓ میں عام ہونا ہی جمہور کا قول ہے اور وہی معتبر ہے۔
7: علامہ کمال ابن ہمام رحمۃاللہ نے عقائدِ اسلامیہ پر اپنی جامع کتاب ”مسایرہ“ میں لکھا ہے:
وإعتقاد أهل السنۃ والجماعۃ تزكيۃ جميع الصحابۃ وجوبا باثبات العدالۃ لكل منهم والكف عن الطعن فیهم والثناء عليهم كما اثنى الله سبحانہ وتعالىٰ عليهم
(ثم سرد الاٰيات والروايت اللتي مرت)
(مسايره: صفحہ 132، طبع ديوبند)
ترجمہ: عقیدہ اہلِ سنت والجماعت کا تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تزکیہ یعنی گناہوں سے پاکی بیان کرنا ہے، اس طرح کے ان سب کے عدول ہونے کو ثابت کیا جائے اور ان پر کسی قسم کا طعن کرنے سے پرہیز کیا جائے اور ان کی مدح و ثنا کی جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح فرمائی ہے (پھر ابن ہمامؒ نے وہ آیات و روایات نقل کی ہیں جو اوپر گزر چکی ہیں)۔
8: حافظ ابنِ تیمیہؒ نے ”شرح عقيدہ واسطيۃ“ میں فرمایا:
ومن أصول أهل السنۃ والجماعۃ سلامۃ قلوبهم وألسنتهم لأصحاب رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم كما وصفهم اللہ تعالىٰ في قوله تعالىٰ: وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ(شرح عقیدہ واسطیہ: صفحہ403،طبع مصر)
ترجمہ:- اہلِ سنت کے اصولِ عقائد میں یہ بات بھی داخل ہے کہ وہ اپنے دلوں اور زبانوں کو صحابہؓ کے معاملے میں صاف رکھتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے کہ: وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ
9: علامہ سفارینی رحمۃاللہ نے اپنی کتاب ”الدرة المضيۃ“ اور اس کی شرح جو سلف صالحین کے عقائد پر تصنیف فرمائی ہے اور ”لوامع الأنوار البهيۃ شرح الدر المضيۃ“ کے نام سے شائع ہوئی، اس میں فرماتے ہیں:
والذي أجمع عليہ أهل السنۃ والجماعۃ أنه يجب علىٰ كل أحد تزكيۃ جميع الصحابۃ باثبات العـدالۃ لهم والكف عن الطعن فيهم والثناء عليهم فقد أثنى اللہ سبحانہ عليهم في عدة آيات من كتابہ العزيز على أنہ لو لم يرد عن اللہ ولا عن رسوله فيهم شيء لأوجبت الحال اللتي كانوا عليها من الهجرة والجهاد ونصرہ الدين وبذل المهج والأموال وقتل الآباء والأولاد والمناصـحة في الدين وقوة الإيمان واليقين القطع بتعديلهم والاعتقاد لنزاهتهم وانهم أفضل جميع الأمۃ بعد نبيهم، هذا مذهب كافۃ الأمۃ ومن عليه المعوّل من الائمۃ
(عقيدہ سفارينيؒ: جلد 2،صفحہ 338)
ترجمہ:- اہلِ سنت والجماعت کا اس پر اجماع ہے کہ ہر شخص پر واجب ہے کہ وہ تمام صحابہؓ کو پاک صاف سمجھے، ان کے لیے عدالت ثابت کرے، ان پر اعتراضات کرنے سے بچے اور ان کی مدح و توصیف کرے، اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی کتابِ عزیز کی متعدد آیات میں ان کی مدح و ثنا کی ہے، اس کے علاوہ اگر اللہ اور اس کے رسولﷺ سے صحابہؓ کی فضیلت میں کوئی بات منقول نہ ہوتی تب بھی ان کی عدالت پر یقین اور پاکیزگی کا اعتقاد رکھنا اور اس بات پر ایمان رکھنا ضروری ہوتا کہ وہ نبیﷺ کے بعد ساری امت کے افضل ترین افراد ہیں، اس لیے ان کے تمام حالات اسی کے مقتضی تھے، انہوں نے ہجرت کی، جہاد کیا، دین کی نصرت میں اپنی جان و مال کو قربان کیا، اپنے باپ بیٹوں کی قربانی پیش کی اور دین کے معاملے میں باہمی خیر خواہی اور ایمان و یقین کا اعلیٰ مرتبہ حاصل کیا۔
10: اسی کتاب میں امام ابو زرعہ عراقی رحمۃاللہ جو امام مسلم رحمۃاللہ کے بڑے اساتذہ میں سے ہیں، ان کا یہ قول نقل کیا ہے:
اذا رأیت الرجل ينتقص أحداً من أصحاب رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم فاعلم أنه زنديق وذلك ان القراٰن حق والرسول حق وما جاء بہ حق وما أدّىٰ ذلك إلينا كل إلا الصحابة فمن جرحهم إنما أراد إبطال الكتاب والسنۃ فيكون الجرح به اليق والحكم عليہ بالزندقۃ والضلال أقوم وأحق (عقیدہ سفارینیؒ :جلد 2، صفحہ 389)
ترجمہ: جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ صحابہ کرامؓ میں سے کسی کی بھی تنقیص کر رہا ہے تو سمجھ لو کہ وہ زندیق ہے، اس لیے کہ قرآن حق ہے، رسولﷺ حق ہیں، جو تعلیمات آپﷺ لے کر آئے وہ حق ہیں اور یہ سب چیزیں ہم تک پہنچانے والے صحابہؓ کے سوا کوئی نہیں، تو جو شخص ان کو مجروح کرتا ہے وہ کتاب و سنت کو باطل کرنا چاہتا ہے، لہٰذا خود اس کو مجروح کرنا زیادہ مناسب ہے اور اس پر گمراہی اور زندقہ کا حکم لگانا زیادہ قرینِ حق و انصاف ہے۔
11: اسی کتاب میں حافظِ حدیث ابنِ حزم اندلسی رحمۃاللہ سے اس مسئلے میں یہ قول نقل کیا ہے:
قال ابن حزم: الصحابۃ كلھم من أهل الجنۃ قطعاً قال تعالیٰ: وَ مَا لَـكُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلِلّٰهِ مِيۡـرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ لَا يَسۡتَوِىۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقَاتَلَ اُولٰٓئِكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَقَاتَلُوۡا وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى وقال تعالىٰ: اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّنَّا الۡحُسۡنٰٓى اُولٰٓئِكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ
ترجمہ: علامہ ابنِ حزمؒ فرماتے ہیں کہ تمام صحابہؓ قطعی طور پر اہلِ جنت میں سے ہیں (دلیل یہ ہے کہ) باری تعالیٰ فرماتے ہیں: تم میں سے جن لوگوں نے فتح (مکہ) سے پہلے اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا اور جہاد کیا (وہ بعد کے لوگوں کے) برابر نہیں ہو سکتے، وہ لوگ درجے کے اعتبار سے ان لوگوں کے مقابلے میں عظیم تر ہے جنہوں نے (فتح مکہ کے) بعد انفاق اور قتال کیا اور اللہ نے اچھائی (جنت) کا وعدہ سبھی سے کیا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: کہ بلاشبہ وہ لوگ جن کے لیے ہمارا اچھائی (جنت) کا وعدہ پہلے سے آچکا ہے وہ دوزخ سے دور رکھے جائیں گے۔
12: عقائد کی مشہور درسی کتاب ”عقائدِ نسفیہ“ میں ہے:
ويكف عن ذكر الصحابۃ الا بخير
یعنی اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ کا ذکر بجز خیر اور بھلائی کے نہ کرے۔
13: اسی طرح عقائدِ اسلامیہ کی معروف کتاب ”شرح مواقف“ میں سید شریف جرجانی رحمۃاللہ نے مقصد سابع میں لکھا ہے:
المقصد السابع انہ یجب تعظيم الصحابۃ كلهم والكف عن القدح فيهم لأن الله عظيم وأثنى عليهم في غير موضع من كتابه (ثم ذكر الاٰيات المنزلۃ في الباب ثم قال:) والرسول صلى اللہ عليہ وسلم قد أحبهم وأثنى عليهم في الاحاديث الكثيرہ
ترجمہ: تمام صحابہؓ کی تعظیم اور ان پر اعتراض سے بچنا واجب ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ عظیم ہے اور اس نے ان حضرات پر اپنی کتاب کے بہت سے مقامات میں مدح و ثناء فرمائی ہے، (اس طرح کی آیات نقل کر کے لکھتے ہیں) اور رسول اللہﷺ ان حضرات سے محبت فرماتے تھے اور آپﷺ نے بہت سی احادیث میں ان پر ثناء فرمائی ہے۔
ان ہی شارح مواقف نے ایک مقام پر بعض اہلِ سنت کی طرف نسبت کر کے یہ قول ذکر کیا ہے کہ ان کے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کرنے والوں کی خطا تفسیق کی حد تک پہنچتی ہے، لیکن شارح مواقف کے اس قول کی کوئی بنیاد ہمیں معلوم نہیں ہو سکی، اہلِ سنت کے کسی ایک عالم کے کلام میں بھی ہمیں یہ بات نظر نہیں آئی کہ انہوں نے اس بنا پر حضرت عائشہؓ یا حضرت معاویہؓ کو فاسق قرار دیا ہو، چنانچہ حضرت مجدد الف ثانیؒ نے "مکتوبات" میں شارح مواقف کے اس قول کی سخت تردید کی ہے، حضرت مجدد الف ثانیؒ تحریر فرماتے ہیں:
و آنچه شارح مواقف گفته که بسیارے از اصحاب ما برآں اند که آں منازعت از روئے اجتہاد نبودہ مراد از اصحاب کدام گروہ را داشتہ باشد، اہلِ سنت بر خلاف آں حاکم اند چنانکہ گذشت
وكتب القوم مشحونة بالخطاء الاجتهادي كما صرّح به الامام الغزالي والقاضي ابوبكر وغيرهما۔ پس تفسیق و تضلیل درحق محاربان حضرت امیر جائز نباشد ۔ قال القاضي في الشفاء: قال مالك: من شتم أحداً من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أبابكر أو عمر أو عثمان أو معاوية أو عمرو بن العاص رضي الله تعالىٰ عنهم فان قال: كانوا علىٰ ضلالٍ أو كفرٍ، قتل وان شتم بغير هذا من مشاعة الناس نُكِلَّ نكالاً شديداً، فلا يكون محاربوا عليَّ كفرةً كما زعمت الغلاۃ من الرفضة ولا فسقةً كما زعم البعض ونسبه شارح المواقف الىٰ كثير من أصحابه...... وآنچہ در عبارات بعضی از فقہاء لفظِ جور درحق معاویہؓ واقع شدہ است و گفتہ: كان معاوية اماماً جائراً مراد جور عدم حقیقت خلافت اور در زمان خلافت حضرت امیر خواہد بود نہ جورے کہ مآلش فسق و ضلالت است تابہ اقوال اہلِ سنت موافق باشد مع ذالک اربابِ استقامت از اتیان الفاظ موہمہ خلافِ مقصود اجتناب می نمائند و زیادہ برخطا تجویز نمی کنند
(مکتوبات امام ربانی: دفتر اول حصہ چہارم مکتوب نمبر 251، صفحہ 67، 69، جلد دوم، مطبوعہ نور کمپنی لاہور)
ترجمہ: اور یہ جو شارحِ مواقف نے کہا ہے کہ ہمارے بہت سے اصحاب اس مسلک پر ہیں کہ حضرت علیؓ کے ساتھ جنگ اجتہاد پر مبنی نہیں تھی، اس میں نہ جانے ”اصحاب“ سے کون سا گروہ مراد لیا ہے، اہلِ سنت کا عقیدہ تو اس کے خلاف ہے، جیسا کہ گزر چکا اور علمائے اہلِ سنت کی کتابیں خطاءِ اجتہادی کی تصریح سے بھری ہوئی ہیں، جیسے کہ امام غزالیؒ اور قاضی ابوبکر بن عربیؒ وغیرہ نے بہ صراحت لکھا ہے۔ لہٰذا حضرت علیؓ سے جن حضرات نے جنگ کی انہیں فاسق یا گمراہ کہنا جائز نہیں ہے۔ قاضی عیاض رحمۃاللہ نے ”شفاء“ میں امام مالکؒ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ: جو شخص صحابہ کرامؓ میں سے کسی کو بھی خواہ وہ ابوبکر و عمر یا عثمان ہوں یا معاویہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم، برا کہے تو اگر یہ کہے کہ: ”وہ گمراہی یا کفر پر تھے“ تو اسے قتل کیا جائے گا اور اگر اس کے علاوہ عام گالیوں میں سے کوئی گالی دے تو اسے سخت سزا دی جائے گی۔ لہٰذا امام مالکؒ کے اس قول کی رو سے بھی حضرت علیؓ کا مقابلہ کرنے والے نہ تو کافر ہیں جیسے کہ بعض غالی روافض کا خیال ہے اور نہ فاسق ہیں جیسے کہ بعض کا گمان ہے اور شارحِ مواقف نے اس کی نسبت اپنے بہت سے اصحاب کی طرف کی ہے اور یہ جو بعض فقہاء کی عبارتوں میں حضرت معاویہؓ کے حق میں ”جور“ کا لفظ آ گیا ہے اور انہوں نے یہ کہا ہے کہ: ”حضرت معاویہؓ امام جائز تھے“ تو اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت علیؓ کے عہد خلافت میں ان کی خلافت برحق نہ تھی، اس سے وہ ظلم و جور مراد نہیں ہے جس کا نتیجہ فسق اور گمراہی ہے، یہ تشریح اس لیے ضروری ہے تاکہ اہلِ سنت کے اقوال کے ساتھ موافقت ہو جائے۔ اس کے ساتھ دین پر استقامت رکھنے والے ان حضرات کے حق میں ایسے الفاظ سے بھی پرہیز کرتے ہیں جن سے خلافِ مقصود کا وہم پیدا ہوتا ہو اور ان حضرات کے لیے ”خطاء“ کے لفظ سے زیادہ کوئی لفظ کہنا جائز نہیں سمجھتے۔
*مشاجرات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے معاملے میں امت کا عقیدہ اور عمل*
لفظ ”مشاجرہ“ شجر سے مشتق ہے، جس کے اصل معنی تنے دار درخت کے ہیں جس کی شاخیں اطراف میں پھیلتی ہیں، باہمی اختلافات و نزاع کو اسی مناسبت سے مشاجرہ کہا جاتا ہے کہ درخت کی شاخیں بھی ایک دوسرے سے ٹکراتی اور ایک دوسرے کی طرف بڑھتی ہیں۔ حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان جو اختلافات پیش آئے اور کھلی جنگوں تک نوبت پہنچ گئی، علمائے امت نے ان کی باہمی حروب اور اختلافات کو جنگ و جدال سے تعبیر نہیں کیا، بلکہ از روئے ادب ”مشاجرہ“ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے کیونکہ درخت کی شاخوں کا ایک دوسرے میں گھسنا اور ٹکرانا مجموعی حیثیت سے کوئی عیب نہیں، بلکہ درخت کی زینت اور کمال ہے۔
*ایک سوال اور جواب*
اسلام میں صحابہ کرامؓ کا درجہ اور مقام جو اوپر قرآن و سنت کی نصوص اور اجماعِ امت اور اکابر علماء کی تصریحات سے ثابت ہو چکا ہے، اس کے بعد ایک قدرتی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب صحابہ کرامؓ سب کے سب واجب التعظیم اور عدل و ثقہ و متقی و پرہیزگار ہیں تو اگر ان کے آپس میں کسی مسئلے میں اختلاف پیش آجائے تو ہمارے لیے طریقِ کار کیا ہونا چاہیے؟ یہ تو ظاہر ہے کہ دو متضاد اقوال میں دونوں کو صحیح سمجھ کر دونوں ہی کو معمول نہیں بنایا جا سکتا، عمل کرنے کے لیے کسی ایک کو اختیار کرنا اور دوسرے کو چھوڑنا لازم ہے تو اس ترک و اختیار کا معیار کیا ہونا چاہیے؟ نیز اس میں دونوں طرف کے بزرگوں کا ادب و احترام اور تعظیم کیسے قائم رہے گی جبکہ ایک کے قول کو مرجوع قرار دے کر چھوڑا جائے گا؟خصوصاً یہ سوال ان معاملات میں زیادہ سنگین ہو جاتا ہے جن میں ان حضرات کا اختلاف باہمی جنگ و خون ریزی تک پہنچ گیا، ان میں ظاہر ہے کہ کوئی ایک فریق حق پر ہے، دوسرا خطا پر، اس خطا و صواب کے معاملے کو طے کرنا عمل و عقیدہ کے لیے ضروری ہے، مگر اس صورت میں دونوں فریق کی یکساں تعظیم و احترام کیسے قائم رکھا جا سکتا ہے؟ جس کو خطا پر قرار دیا جائے اس کی تنقیص ایک لازم امر ہے۔ جواب یہ ہے کہ یہ کہنا غلط ہے کہ دو مختلف اقوال میں سے ایک کو حق یا راجح اور دوسرے کو خطاء یا مرجوح قرار دینے میں کسی ایک فریق کی تنقیص لازم ہے۔ اسلافِ امت نے ان دونوں کاموں کو اس طرح جمع کیا ہے کہ عمل اور عقیدہ کے لیے کسی ایک فریق کے قول کو شریعت کے مسلمہ اصول اجتہاد کے مطابق اختیار اور دوسرے کو ترک کیا، لیکن جس کے قول کو ترک کیا ہے اس کی ذات اور شخصیت کے متعلق کوئی ایک جملہ بھی ایسا نہیں کہا جس سے ان کی تنقیص ہوتی ہو، خصوصاً مشاجراتِ صحابہ رضی اللہ عنھم میں تو جس طرح امت کا اس پر اجماع ہے کہ دونوں فریق کی تعظیم واجب اور دونوں فریق میں سے کسی کو برا کہنا ناجائز ہے، اسی طرح اس پر بھی اجماع ہے کہ جنگِ جمل میں حضرت علیؓ حق پر تھے، ان کا مقابلہ کرنے والے خطا پر تھے، اسی طرح جنگِ صفین میں حضرت علیؓ حق پر تھے اور ان کے مقابل حضرت معاویہؓ اور ان کے اصحاب خطا پر، البتہ ان کی خطاؤں کو اجتہادی خطاء قرار دیا جو شرعاً گناہ نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہو، بلکہ اصولِ اجتہاد کے مطابق اپنی کوشش صَرف کرنے کے بعد بھی اگر ان سے خطا ہو گئی تو ایسے خطا کرنے والے بھی ثواب سے محروم نہیں ہوتے، ایک اجر ان کو بھی ملتا ہے۔
باجماعِ امت ان حضرات صحابہؓ کے اس اختلاف کو بھی اسی طرح کا اجتہادی اختلاف قرار دیا گیا ہے جس سے کسی فریق کے حضرات کی شخصیتیں مجروح نہیں ہوتیں۔
اس طرح ایک طرف خطاء و صواب کو بھی واضح کر دیا گیا دوسری طرف صحابہ کرامؓ کے مقام اور درجے کا پورا احترام بھی ملحوظ رکھا گیا اور مشاجراتِ صحابہؓ میں کفِ لسان اور سکوت کو اسلم قرار دے کر اس کی تاکید کی گئی کہ بلا وجہ ان روایات و حکایات میں خوض کرنا جائز نہیں، جو باہمی جنگ کے دوران ایک دوسرے کے متعلق نقل کی گئی ہیں ، ملاحظہ ہوں مشاجراتِ صحابہؓ کے بارے میں سلفِ صالحین کے اقوال ذیل:-
14: تفسیرِ قرطبی سورۃ الحجرات میں آیت: وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اقۡتَتَلُوۡا" کے تحت مشاجراتِ صحابہؓ پر سلفِ صالحین کے اقوال کے ساتھ بہترین تحقیق فرمائی ہے جو انہیں کی طویل عبارت میں لکھی جاتی ہے۔
العاشرة: لا يجوز أن ينسب الىٰ أحد من الصحابۃ خطاء مقطوع بہ اذ كانوا كلهم اجتهدوا فيما فعلوه وأرادوا الله عزوجل، وهم كلهم لنا ائمة وقد تعبدنا بالكف عما شجر بينهم، ولا نذكرهم الا بأحسن الذكر، لحرمة الصحبة ولنهی النبی صلى الله عليه وسلم عن سبهم، وان الله غفر لهم واخبر بالرضاء عنهم، هذا مع ما قد ورد من الاخبار من طرق مختلفة عن النبی صلى الله عليه وسلم ان طلحة شهيد يمشي علىٰ وجه الارض، فلو كان ما خرج اليه من الحرب عصياناً لم يكن القتل فيه شهيداً، وكذالك لو كان ما خرج اليه خطاء في التأويل وتقصيراً في الواجب عليه لان الشهاده لا تكون الا بقتل في طاعة فوجب حمل أمرهم على ما بيّناه. ومما يدل علىٰ ذلك ما قد صح وانتشر من اخبار علىّ بان قاتل الزبير في النار، وقوله: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: بشر قاتل ابن صفية بالنار. واذا كان كذلك فقد ثبت ان طلحة والزبير غير عاصيين ولا اٰثمين بالقتال، لان ذلك لو كان كذلك لم يقل النبی صلى الله عليه وسلم في طلحة شهيد ولم يخبر ان قاتل الزبير في النار. وكذلك من قعد غير مخطئ في التأويل بل صواب أراهم الله الاجتهاد واذا كان كذلك لم يوجب ذلك لعنهم والبراءۃ منهم وتفسيقهم وابطال فضائلهم وجهادهم وعظيم غنائهم في الدين رضي الله عنهم. وقد سئل بعضهم عن الدماء التی اريقت فيما بينهم فقال: تِلۡكَ اُمَّةٌ قَدۡ خَلَتۡ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَـكُمۡ مَّا كَسَبۡتُمۡ وَلَا تُسۡئَـلُوۡنَ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ وسئل بعضهم عنها ايضاً فقال: تلك دماء قد ظهر الله منها يدي فلا اخضب بها لساني. يعني في التحرز من الوقوع في خطاء والحكم علىٰ بعضهم بما لا يكون مصيباً فيه. قال ابن فورك: ومن أصحابنا من قال ان سبيل ماجرت بين الصحابة من المنازعات كسبيل ماجرى بين أخوة يوسف مع يوسف، ثم انهم لم يخرجوا بذلك عن حد الولاية والنبوة فكذلك الامر فيما جرى بين الصحابة.
وقال المحاسبي: فأما الدماء فقد أشكل علينا القول فيھا باختلافهم. وقد سئل الحسن البصري عن قتالهم فقال: قتال شهده أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم وغبنا، وعلموا وجهلنا، واجتمعوا فاتبعنا، واختلفوا فوفقنا. قال المحاسبي: فنحن نقول كما قال الحسن ونعلم ان القوم كانوا أعلم بما دخلوا فيه منا، ونتبع ما اجتمعوا عليه، ونقف عند ما اختلفوا فيه، ولا نبتدع رأيا منا، ونعلم انهم اجتهدوا وأرادوا الله عزوجل اذ كانوا غير متهمين في الدين ونسال الله التوفيق(تفسير القرطبي: جلد 16، صفحہ 322)
ترجمہ: یہ جائز نہیں ہے کہ کسی بھی صحابی کی طرف قطعی اور یقینی طور پر غلطی منسوب کی جائے، اس لیے کہ ان سب حضراتؓ نے اپنے اپنے طرزِ عمل میں اجتہاد سے کام لیا تھا اور سب کا مقصد اللہ کی خوشنودی تھی، یہ سب حضرات ہمارے پیشواء ہیں، اور ہمیں حکم ہے کہ ان کے باہمی اختلافات سے کفِ لسان کریں اور ہمیشہ ان کا ذکر بہترین طریقے پر کریں، کیونکہ صحابیت بڑی حرمت کی چیز ہے اور رسول اللہﷺ نے ان کو برا کہنے سے منع فرمایا ہے اور یہ خبر دی ہے کہ اللہ نے انہیں معاف کر رکھا ہے اور ان سے راضی ہے، اس کے علاوہ متعدد سندوں سے یہ حدیث ثابت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت طلحہؓ کے بارے میں فرمایا:
ان طلحه شهيد يمشي علىٰ وجہ الارض
یعنی طلحہؓ روئے زمین پر چلنے والے شہید ہیں۔
اب اگر حضرت علیؓ کے خلاف حضرت طلحہؓ کا جنگ کے لیے نکلنا کھلا گناہ اور عصیان تھا تو اس جنگ میں مقتول ہو کر وہ ہرگز شہادت کا رتبہ حاصل نہ کرتے، اسی طرح اگر حضرت طلحہؓ کا یہ عمل تاویل کی غلطی اور ادائے واجب میں کوتاہی قرار دیا جا سکتا تو بھی آپ کو شہادت کا مقام حاصل نہ ہوتا کیونکہ شہادت تو صرف اس وقت حاصل ہوتی ہے جب کوئی شخص اطاعتِ ربانی میں قتل ہوا ہو، لہٰذا ان حضرات کے معاملے کو اسی عقیدے پر محمول کرنا ضروری ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔
اسی بات کی دوسری دلیل وہ صحیح اور معروف و مشہور احادیث ہیں جو خود حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جن میں رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: زبیر کا قاتل جہنم میں ہے۔
نیز حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”صفیہؓ کے بیٹے کے قاتل کو جہنم کی خبر دے دو“ جب یہ بات ہے تو ثابت ہو گیا کہ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ اس لڑائی کی وجہ سے عاصی اور گنہگار نہیں ہوئے، اگر ایسا ہوتا تو حضورﷺ حضرت طلحہؓ کو شہید نہ فرماتے، اور حضرت زبیرؓ کے قاتل کے بارے میں جہنم کی پیشن گوئی نہ کرتے۔ نیز ان کا شمار عشرہ مبشرہ میں ہے جن کے جنتی ہونے کی شہادت تقریباً متواتر ہے۔
اسی طرح جو حضراتِ صحابہؓ ان جنگوں میں کنارہ کش رہے، انہیں بھی تأویل میں خطا کار نہیں کہا جا سکتا، بلکہ ان کا طرزِ عمل بھی اس لحاظ سے درست تھا کہ اللہ نے ان کو اجتہاد میں اسی رائے پر قائم رکھا۔ جب یہ بات ہے تو اس وجہ سے ان حضرات پر لعن طعن کرنا ان سے براءت کا اظہار کرنا اور انہیں فاسق قرار دینا، ان کے فضائل و مجاہدات اور ان کے عظیم دینی مقامات کو کالعدم کر دینا کسی طرح درست نہیں ہے۔ بعض علماء سے پوچھا گیا کہ اس خون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو صحابہ کرامؓ کے باہمی مشاجرات میں بہایا گیا؟ تو انہوں نے جواب میں یہ آیت پڑھ دی کہ:
تِلۡكَ اُمَّةٌ قَدۡ خَلَتۡ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَـكُمۡ مَّا كَسَبۡتُمۡ وَلَا تُسۡئَـلُوۡنَ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ (سورۃ البقرہ: آیت 141)
ترجمہ: یہ ایک امت تھی جو گزر گئی اس کے اعمال اس کے لیے ہے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ہیں اور تم سے ان کے اعمال کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔
کسی اور بزرگ سے یہی سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا:
یہ ایسے خون ہیں کہ اللہ نے میرے ہاتھوں کو اس میں (رنگنے سے) بچایا، اب میں اپنی زبان کو ان سے آلودہ نہیں کروں گا۔
مطلب یہی تھا کہ میں کسی ایک فریق کو کسی معاملے میں یقینی طور پر خطا کار ٹھہرانے کی غلطی میں مبتلا نہیں ہونا چاہتا۔
علامہ ابنِ فورک رحمۃاللہ فرماتے ہیں:
ہمارے بعض اصحاب نے کہا ہے کہ صحابہ کرامؓ کے درمیان جو مشاجرات ہوئے ان کی مثال ایسی ہے جیسے حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کے بھائیوں کے درمیان پیش آنے والے واقعات کی، وہ حضرات آپس کے ان اختلافات کے باوجود ولایت اور نبوت کی حدود سے خارج نہیں ہوئے، بالکل یہی معاملہ صحابہؓ کے درمیان پیش آنے والے واقعات کا بھی ہے۔
اور حضرت محاسبی رحمۃاللہ فرماتے ہیں:
جہاں تک اس خون ریزی کا معاملہ ہے تو اس بارے میں ہمارا کچھ کہنا مشکل ہے، کیونکہ اس میں خود صحابہؓ کے درمیان اختلاف تھا اور حضرت حسن بصریؒ سے صحابہؓ کے باہمی قتال کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ:
یہ ایسی لڑائی تھی جس میں صحابہؓ موجود تھے اور ہم غائب، وہ پورے حالات کو جانتے تھے، ہم نہیں جانتے، جس معاملے پر تمام صحابہؓ کا اتفاق ہے ہم اس میں ان کی پیروی کرتے ہیں اور جس معاملے میں ان کے درمیان اختلاف ہے اس میں سکوت اختیار کرتے ہیں۔
حضرت محاسبیؒ فرماتے ہیں کہ: ہم بھی وہی بات کہتے ہیں جو حضرت حسن بصریؒ نے فرمائی، ہم جانتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ نے جن چیزوں میں دخل دیا، ان سے وہ ہم سے کہیں بہتر طریقے پر واقف تھے، لہٰذا ہمارا کام یہی ہے کہ جس پر وہ سب حضرات متفق ہوں اس کی پیروی کریں اور جس میں ان کا اختلاف ہو اس میں خاموشی اختیار کریں اور اپنی طرف سے کوئی نئی رائے پیدا نہ کریں، ہمیں یقین ہے کہ ان سب نے اجتہاد سے کام لیا تھا اور اللہ کی خوشنودی چاہی تھی، اس لیے کہ دین کے معاملے میں وہ سب حضرات شک و شبہات سے بالاتر ہیں۔
اس طویل عبارت میں علامہ قرطبی رحمۃاللہ نے اہلِ سنت کے عقیدے کی بہترین ترجمانی فرمائی ہے، عبارت کے شروع میں انہوں نے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما کی شہادت سے متعلق جو حدیثیں نقل فرمائی ہیں، ان سے اس مسئلے پر بطورِ خاص روشنی پڑتی ہے، حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ دونوں حضرات آنحضرتﷺ کے جانثار صحابہ میں سے ہیں اور ان دس خوش نصیب حضرات میں آپ کا نام بھی ہے جن کے بارے میں آنحضرتﷺ نے نام لے کر ان کے جنتی ہونے کی خوشخبری دی ہے اور جنہیں ”عشرہ مبشرہ“ کہا جاتا ہے، ان دونوں حضرات نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کا مطالبہ کرنے کے لیے حضرت علیؓ کا مقابلہ کیا اور اسی دوران شہید ہوئے، آنحضرتﷺ نے مذکورہ احادیث میں ان دونوں حضرات کو شہید قرار دیا۔ دوسری طرف حضرت عمار بن یاسرؓ، حضرت علیؓ کے سرگرم ساتھیوں میں سے تھے اور انہوں نے پوری قوت کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مخالفین کا مقابلہ کیا، آنحضرتﷺ نے ان کے لیے بھی شہادت کی پیش گوئی فرمائی، غور کیا جائے تو یہی ارشادات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ ان جنگوں میں کوئی فریق بھی کھلے باطل پر نہ تھا بلکہ ہر ایک فریق اللہ کی رضا کے لیے اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق کام کر رہا تھا، ورنہ ظاہر ہے کہ اگر یہ اختلاف کھلے حق و باطل کا اختلاف ہوتا تو ہر ایک فریق کے رہنماؤں کے لیے بیک وقت شہادت کی پیش گوئی نہ فرمائی جاتی، ان ارشادات نے یہ واضح کر دیا کہ حضرت طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما بھی اللہ کی خوشنودی کے لیے لڑ رہے تھے اس لیے وہ بھی شہید ہیں اور حضرت عمارؓ کا مقصد بھی رضائے الٰہی کے حصول کے سوا کچھ نہ تھا اس لیے وہ بھی لائقِ مدح و ستائش ہیں، دونوں کا اختلاف کسی دنیاوی غرض سے نہیں بلکہ اجتہاد و رائے کی بنا پر تھا اور ان میں سے کسی بھی فریق کو مجروح و مطعون نہیں کیا جا سکتا۔
15: شرحِ مواقف مقصدِ سابع میں ہے:
واما الفتن والحروب الواقعة بين الصحابة فالشامية انكروا وقوعها ولا شك انه مكابرۃ للتواتر في قتل عثمان و واقعة الجمل والصفين ، والمعترفون بوقوعها منهم من سكت عن الكلام فيها بتخطية او تصويب وهم طائفة من اهل السنة فان أرادوا أنه اشتغال بما لا يعني فلا بأس به، وقال الشافعیؒ وغير من السلف: تلك دماء طهر الله عنها أيدينا فلنطهّر عنها ألسنتنا۔۔۔۔ ألخ.
(شرح مواقف: جلد 8، صفحہ 374، طبع مصر)
ترجمہ: رہے وہ فتنے اور جنگیں جو صحابہؓ کے درمیان واقع ہوئے تو فرقہ شامیہ نے ان کے وقوع ہی کا انکار کر دیا ہے اور کوئی شک نہیں کہ حضرت عثمانؓ کی شہادت اور واقعہ جمل و صفین جس تواتر کے ساتھ ثابت ہے، یہ اس کا بے دلیل انکار ہے اور جن حضرات نے ان کے وقوع کا انکار نہیں کیا ہے ان میں سے بعض نے تو ان واقعات میں مکمل سکوت اختیار کیا اور نہ کسی خاص فریق کی طرف غلطی منسوب کی نہ حق و صواب، یہ حضرات اہلِ سنت ہی کی ایک جماعت ہیں، اگر ان کی مراد یہ ہے کہ ایک فضول کام ہے تو ٹھیک ہے، اس لیے کہ امام کی شافعیؒ علمائے سلف نے فرمایا ہے کہ: یہ ایسے خون ہیں جن سے اللہ نے ہمارے ہاتھوں کو پاک رکھا ہے، اس لیے چاہیے کہ ہم اپنی زبانوں کو بھی ان سے پاک رکھیں۔
16: شیخ ابنِ الہمامؒ نے ”شرحِ مسامرہ“ میں فرمایا:
واعتقاد اهل السنة تزكية جميع الصحابة رضي الله عنهم وجوباً باثبات الله انه لكل منهم والكف عن الطعن فيهم والثناء عليهم كما أثنى الله سبحانه وتعالىٰ (وذكر اٰيات عديدة ثم قال) واثنى عليهم الرسول صلى الله عليه وسلم (ثم سرد احاديث الباب ثم قال) وما جرى بين معاوية وعلی من الحروب كان مبنياً على الاجتهاد.
(شرح مسامرہ: صفحہ 132، طبع ديوبند)
ترجمہ: اہلِ سنت کا اعتقاد یہ ہے کہ وہ تمام صحابہؓ کو لازمی طور پر پاک صاف مانتے ہیں اس لیے کہ اللہ نے ان میں سے ہر ایک کا تزکیہ فرمایا ہے، نیز ان کے بارے میں اعتراضات کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اور ان سب کی مدح و ثناء کرتے ہیں، جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ثنا فرمائی (اس کے بعد چند آیتیں ذکر کر کے فرماتے ہیں) اور رسول اللہﷺ نے بھی ان کی تعریف فرمائی۔ (پھر کچھ احادیث نقل کر کے لکھتے ہیں) اور حضرت معاویہؓ اور حضرت علیؓ کے درمیان جو جنگیں ہوئیں وہ اجتہاد پر مبنی تھیں۔
17: شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ رحمۃاللہ نے ”شرح عقیدہ واسطیہ“ میں اس بحث پر تفصیلی کلام فرمایا ہے، ان کے چند جملے یہ ہیں، اہلِ السنۃ والجماعۃ کے عقائد لکھتے ہوئے فرماتے ہیں:
ويبرءون من طريقة الروافض الذين يبغضون الصحابة ويسبونهم، وطريقة النواصب الذين يؤذون اهل البيت بقولٍ لاعمل ويمسكون عما شجر بين الصحابة ويقولون ان هذه الاٰثار المروية في مساويهم منها ما هو كذب، ومنها ما قد زيد فيه ونقص وغير وجهه و الصحيح منه هم فيه معذرون اما مجتهدون مصيبون، واما مجتهدون مخطئون، وهم مع ذلك لا يعتقدون أن كل واحد من الصحابة معصوم من كبائر الاھثم وصغائره بل يجوز عليهم الذنوب في الجملة، ولهم من الفضائل والسوابق ما يوجب مغفرة ما يصدر منهم ان صدر حتى انهم يغفر لهم من السيئات ما لا يغفر لمن بعدهم.
ترجمہ: اہلِ سنت ان روافض کے طریقے سے برأت کرتے ہیں جو صحابہؓ سے بغض رکھتے ہیں اور انہیں برا کہتے ہیں، اسی طرح ناصبیوں کے طریقے سے بھی برأت کرتے ہیں جو اہلِ بیت کو اپنی باتوں سے، نہ کہ عمل سے تکلیف پہنچاتے ہیں اور صحابہؓ کے درمیان جو اختلافات ہوئے ان کے بارے میں اہلِ سنت سکوت اختیار کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ صحابہؓ کی برائی میں جو روایتیں منقول ہیں ان میں سے بعض تو بالکل جھوٹ ہیں، بعض ایسی ہیں کہ ان میں کمی بیشی کر دی گئی ہے اور ان کا صحیح مفہوم بدل دیا گیا ہے اور اس قسم کی جو روایتیں بالکل صحیح ہوں ان میں بھی صحابہؓ معذور ہیں، ان میں سے بعض حضرات اجتہاد سے کام لے کر حق و صواب تک پہنچ گئے اور بعض نے اجتہاد سے کام لیا اور اس میں غلطی ہو گئی، اس کے ساتھ ہی اہلِ سنت کا یہ اعتقاد بھی نہیں ہے کہ صحابہؓ کا ہر فرد تمام چھوٹے بڑے گناہوں سے معصوم ہے، بلکہ ان سے فی الجملہ گناہوں کا صدور ممکن ہے، لیکن ان کے فضائل و سوابق اتنے ہیں کہ اگر کوئی گناہ ان سے صادر بھی ہو تو یہ فضائل ان کی مغفرت کے موجب ہیں، یہاں تک کہ ان کی مغفرت کے اتنے مواقع ہیں کہ ان کے بعد کسی کو حاصل نہیں ہوسکتے۔
18: کتابِ مذکور میں ابنِ تیمیہؒ ایک مفصل کلام کے بعد لکھتے ہیں:
اور جب سلف صالحین اہل السنۃ والجماعۃ کا اصول یہ پڑ گیا جو اوپر بیان کیا گیا ہے تو اب یہ سمجھیے کہ ان حضرات کے قول کا حاصل یہ ہے کہ بعض صحابہ کرامؓ کی طرف جو بھی گناہ یا برائیاں منسوب کی گئی ہیں ان میں بیشتر حصہ تو جھوٹ اور افتراء ہے اور کچھ حصہ ایسا ہے جس کو انہوں نے اپنے اجتہاد سے حکمِ شرعی اور دین سمجھ کر اختیار کیا، مگر بہت سے لوگوں کو ان کے اجتہاد کی وجہ اور حقیقت معلوم نہیں اس لیے اس کو گناہ قرار دیا اور کسی معاملے میں یہ بھی تسلیم کر لیا جائے کہ وہ خطاءِ اجتہادی ہی نہیں بلکہ حقیقتاً گناہ ہی ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ ان کا وہ گناہ بھی معاف ہو چکا ہے، یا اس وجہ سے کہ انہوں نے توبہ کر لی (جیسا کہ بہت سے ایسے معاملات میں ان کی توبہ خود قرآن و سنت میں منقول و ماثور ہے) اور یا ان کی دوسری ہزاروں حسنات و طاعات کے سبب معاف کر دیا گیا اور یا اس کو دنیا میں کسی مصیبت و تکلیف میں مبتلا کر کے اس گناہ کا کفارہ کر دیا گیا، اس کے سوا اور بھی اسبابِ مغفرت ہو سکتے ہیں (ان کے گناہ کو مغفور و معاف قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ) قرآن و سنت کے دلائل سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ وہ اہلِ جنت میں سے ہیں اس لیے ناممکن ہے کہ کوئی ایسا عمل ان کے نامۂ اعمال میں باقی رہے جو جہنم کی سزا کا سبب بنے اور جب یہ معلوم ہو گیا کہ صحابہ کرامؓ میں سے کوئی شخص ایسی حالت پر نہیں مرے گا جو دخولِ جہنم کا سبب بنے تو اس کے سوا اور کوئی چیز ان کے استحقاقِ جنت میں مانع نہیں ہو سکتی۔
اور عشرہ مبشرہ کے علاوہ کسی معین ذات کے متعلق اگرچہ ہم یہ نہ کہہ سکیں کہ وہ جنتی ہے، جنت ہی میں جائے گا، مگر یہ بھی تو جائز نہیں کہ ہم کسی کے حق میں بغیر کسی دلیلِ شرعی کے یہ کہنے لگیں کہ وہ مستحق جنت کا نہیں ہے، کیونکہ ایسا کہنا تو عام مسلمانوں میں سے بھی کسی کے لیے جائز نہیں جن کے بارے میں ہمیں کسی دلیل سے جنتی ہونا بھی معلوم نہ ہو، ہم ان کے بارے میں بھی یہ شہادت نہیں دے سکتے کہ وہ ضرور جہنم میں جائے گا، تو پھر افضل المؤمنین اور خیار المؤمنین (صحابہ کرامؓ) کے بارے میں یہ کیسے جائز ہو جائے گا؟ اور ہر صحابی کے پورے اعمالِ ظاہرہ و باطنہ کی اور حسنات و سیئات اور ان کے اجتہادات کی تفصیلات کا علم ہمارے لیے بہت دشوار ہے اور بغیر علم و تحقیق کے کسی کے متعلق فیصلہ کرنا حرام ہے، اسی لیے مشاجراتِ صحابہؓ کے معاملے میں سکوت کرنا بہتر ہے اس لیے کہ بغیر علمِ صحیح کہ کوئی حکم لگانا حرام ہے۔
(شرح عقیدہ واسطیہ: صفحہ 456، 457)
19: اس کے بعد شیخ الاسلام ابنِ تیمیہؒ نے صحیح روایت سے یہ واقعہ بیان کیا ہے:
ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ پر تین الزام لگائے، ایک یہ کہ وہ غزوہ احد میں میدان سے بھاگنے والوں میں تھے، دوسرے یہ کہ وہ غزوہ بدر میں شریک نہیں تھے، تیسرے یہ کہ بیعتِ رضوان میں بھی شریک نہیں تھے۔
حضرت عبداللہؓ نے ان تینوں الزاموں کا جواب یہ دیا کہ: بے شک غزوہ احد میں فرار کا صدور ان سے ہوا مگر اللہ تعالیٰ نے اس کی معافی کا اعلان کر دیا، مگر تم نے پھر بھی معاف نہ کیا کہ اس کا ان پر عیب لگاتے ہو، رہا غزوہ بدر میں شریک نہ ہونا تو وہ خود آنحضرتﷺ کے حکم سے ہوا اور اسی لیے آپﷺ نے عثمانِ غنیؓ کو غانمینِ بدر میں شمار کر کے ان کا حصہ لگایا اور بیعتِ رضوان کے وقت وہ حضورﷺ ہی کے بھیجے ہوئے مکہ مکرمہ گئے تھے اور رسول اللہﷺ نے ان کو اس بیعت میں شریک کرنے کے لیے خود اپنے ایک ہاتھ کو حضرت عثمانؓ کا ہاتھ قرار دے کر اپنے دستِ مبارک سے بیعت فرمائی اور ظاہر ہے کہ خود عثمانِ غنیؓ حاضر ہوتے اور ان کا ہاتھ اس جگہ ہوتا تو بھی وہ فضیلت حاصل نہ ہوتی کیونکہ آنحضرتﷺ کا دستِ مبارک اس سے ہزاروں درجہ بہتر ہے۔
اس واقعے میں غور کرو کہ تین الزاموں میں سے ایک الزام کو صحیح مان کر یہ جواب دیا کہ اب وہ ان کے لیے کوئی عیب نہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف کر دیا ہے، باقی دو الزاموں کا غلط بے اصل ہونا بیان فرما دیا۔ (اس کو نقل کر کے ابنِ تیمیہؒ کہتے ہیں کہ) یہی حال تمام صحابہؓ کا ہے، ان کی طرف جو کوئی گناہ منسوب کیا جاتا ہے یا تو وہ گناہ ہی نہیں ہوتا بلکہ حسنہ اور نیکی ہوتی ہے یا پھر وہ اللہ کا معاف کیا ہوا گناہ ہوتا ہے۔
(شرح عقیدہ واسطیہ: صفحہ: 460، 461)
20: علامہ سفارینی رحمۃاللہ نے اپنی کتاب ”الدرۃ المضيۃ“ میں، پھر اس کی شرح میں اس مسئلہ پر اچھا کلام کیا ہے، اس کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے، پہلے متنِ کتاب کے دو شعر لکھے ہیں:
واحـذر من الخـوض الذي قـد يزري
بــفـضـلهــم مــمـــا جــرى لـو تدري
ترجمہ: اور پرہیز کرو صحابہ کرامؓ میں پیش آنے والے جھگڑوں میں دخل دینے سے جس میں ان میں سے کسی کی تحقیر ہوتی ہو۔
فــإنــه عــن إجـتــهاد قــد صــدر
فـأسـلـم ازل الله مـن لهـم هــجـر
ترجمہ: کیونکہ ان کا جو عمل بھی ہوا ہے اپنے اجتہادِ شرعی کی بناء پر ہوا ہے، تم سلامتی کی راہ اختیار کرو، اللہ ذلیل کرے اس شخص کو جو ان کی بد گوئی کرے-
اس کے بعد اس کی شرح میں فرمایا:
فانه أی التخاصم والنزاع والتقاتل والدفاع الذي جرى بينهم كان عن اجتهاد قد صدر من كل واحد من رءوس الفريقين ومقصد سائغ لكل فرقة من الطائفتين وان كان المصيب في ذلك للصواب وأحدهما وهو علىّ رضوان الله عليه ومن والاه والمخطئ ومن نازعه وعاداه غير ان للمخطی في الإجتهاد أجراً وثواباً خلافاً لأهل الجفاء والعناد فكل ما صح مما جرى بين الصحابة الكرام وجب حمله علىٰ وجه ينفی عنهم الذنوب والاٰثام فمقاولة علىّ مع العباس رضي الله عنهما لا تفضی الىٰ شين، وتقاعد علىّ عن مبايعة الصديق في بدء الأمر كان لأحد أمرين اما لعدم مشورته كما عتب عليه بذلك واما وقوفاً مع خاطر سيدة نساء العالم فاطمة البتول مما ظنت أنه لها وليس الأمر كما هنالك ثم ان عليًّا بايع الصديق علىٰ رءوس الأشهاد فاتحدث الكلمۃ ولله الحمد وحصل المراد.
وتوقف علىّ عن الاقتصاص من قتلة عثمان اما لعدم العلم بالقاتل واما خشية ترايد الفساد والطغيان، وكانت عائشة و طلحة و الزبير و معاوية رضي الله عنهم ومن اتبعهم ما بين مجتهد ومقلد في جواز محاربة أمير المؤمنين سيدنا أبي الحسنين الانزع البطين رضوان الله تعالى عليه.
وقد اتفق أهل الحق أن المصيب في تلك الحروب والتنازع امير المؤمنين علىّ من غير شك ولا تدافع والحق الذي ليس عنه نزول انهم كلهم رضوان الله عليهم عدول، لانهم متأولون في تلك المخاصمات مجتهدون في هاتيك المقاتلات فانه وان كان الحق على المعتمد عند أهل الحق واحداً فالمخطیٔ مع بذل الوسع وعدم التقصير مأجور لا مأزور وسبب تلك الحروب اشتباه القضايا فلشدۃ اشتباهها اختلف اجتهادهم وصاروا ثلاثة اقسام، قسم ظهر لهم اجتهاد ان الحق فی هذا الطرف و ان مخالفه باغ فوجب عليه نصرة المحق وقتال الباغي عليه فيما إعتقدوه، ففعلوا ذلك ولم يكن لمن هذا صفته التأخر عم مساعدة الامام العادل فی قتال البغاة في اعتقاد. وقسم عكسه سواء بسواء. وقسم ثالث اشتبهت عليهم القضية فلم يظهر لهم ترجيح أحد الطرفين فاعتزلوا الفريقين وكان هذا الاعتزال هو الواجب في حقهم لأنه لايحل الاقدام علىٰ قتال مسلم حتى يظهر ما يوجب ذلك. وبالجملة فكلهم معذورون و مأجورون لا مأزورون ولهذا اتفق اهل الحق ممن يعتد به فی الاجماع علىٰ قبول شهاداتهم ورواياتهم وثبوت عدالتهم ولهذا كان علمائنا لغيرهم من اهل السنة ومنهم ابن حمدان في نهايه المبتدئين يجب حب كل الصحابة والكف عما جرىٰ بينهم كتابة وقراءة واقراء واسماع وتسميعا ويجب ذكر محاسنهم والترضی عنهم والمحبة لهم وترك التحامل عليهم واعتقاد العذر لهم وانهم انما فعلوا ما فعلوا باجتهادهم سائغ لا يوجب كفراً ولا فسقاً بل و ربما يتابون عليه لأنه اجتهاد سائغ ثم قتال، وقيل: المصيب علیّ رضي الله عنه، ومن قاتله فخطاءه معفو عنه، وانما نهى عن الخوض في النظم (أی في نظم العقيدة عن الخوض فی مشاجرات الصحابةؓ) لان الامام احمدؒ كان ينكر علىٰ ما خاض ويسلم احاديث الفضائل وقد تبرأ ممن ضللهم او كفرهم وقال: السكوت عما جرى بينهم. (شرح عقائد سفاريني: جلد 2، صفحہ 386)
ترجمہ: اس لیے کہ جو نزاع و جدال اور دفاع و قتال صحابہؓ کے درمیان پیش آیا وہ اس اجتہاد کی بنا پر تھا جو فریقین کے سرداروں نے کیا تھا اور فریقین میں سے ہر ایک کا مقصد اچھا تھا، اگرچہ اس اجتہاد میں برحق فریق ایک ہی ہے اور وہ حضرت علیؓ اور ان کے رفقاء ہیں اور خطاء پر وہ حضرات ہیں جنہوں نے حضرت علیؓ سے نزاع و عداوت کا معاملہ کیا، البتہ جو فریق خطاء پر تھا اسے بھی ایک اجر و ثواب ملے گا، اس عقیدے میں صرف اہلِ جفاء و عناد ہی اختلاف کرتے ہیں لہٰذا صحابہ کرامؓ کے درمیان مشاجرات کی جو صحیح روایات ہیں، ان کی بھی اس میں تشریح کرنا واجب ہے جو ان حضرات سے گناہوں کے الزام کو دور کرنے والی ہو، لہٰذا حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما کے درمیان جو تلخ و کلامی ہوئی وہ کسی کے لیے موجبِ عیب نہیں نیز ابتداء میں حضرت علیؓ نے جو حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی تھی، وہ دو باتوں میں سے کسی ایک وجہ سے تھی، یا تو اس لیے کہ ان سے مشورہ نہیں لیا گیا تھا جیسا کہ خود انہوں نے اسی پر رنجیدگی کا اظہار فرمایا تھا یا پھر اس سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کی دلداری مقصود تھی جو یہ سمجھتی تھیں کہ آں حضرتﷺ کی میراث سے جو مجھے حصہ ملنا چاہیے وہ ملے، پھر حضرت علیؓ نے بلاشبہ تمام لوگوں کے سامنے حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کی اور اللہ کے فضل سے مسلمانوں کی بات ایک ہو گئی اور مقصد حاصل ہو گیا۔
اسی طرح جو حضرت عثمانؓ کا قصاص لینے میں جو توقف سے کام لیا وہ یا تو اس بنا پر تھا کہ یقینی طور پر قاتل معلوم نہ ہو سکا یا اس لیے کہ فتنہ و فساد میں اضافے کا خدشہ تھا اور حضرت عائشہ، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم اور ان کے متبعین نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں جنگ کرنے کو جو جائز سمجھا اس میں ان میں سے بعض حضرات مجتہد تھے اور بعض ان کی تقلید کرنے والے۔
اور اس بات پر اہلِ حق کا اتفاق ہے کہ ان جنگوں میں حق بلا شبہ حضرت علیؓ کے ساتھ تھا اور وہ عقیدہ برحق جس پر کوئی مصالحت نہیں ہو سکتی یہ ہے کہ یہ تمام حضراتِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں، اس لیے کہ ان تمام جنگوں میں انہوں نے تاویل اور اجتہاد سے کام لیا، اس لیے کہ اہلِ حق کے نزدیک اگرچہ حق ایک ہی ہوتا ہے لیکن حق تک پہنچنے کے لیے پوری کوشش صَرف کرنے اور اس میں کوتاہی نہ کرنے کے بعد کسی سے غلطی بھی ہو جائے تو وہ ماجور ہی ہوتا ہے، گنہگار نہیں۔
اور درحقیقت ان جنگوں کا سبب معاملات کا اشتباہ تھا، یہ اشتباہ اتنا شدید تھا کہ صحابہؓ کی اجتہادی آراء مختلف ہو گئیں اور وہ تین قسموں میں بٹ گئے، صحابہؓ کی ایک جماعت تو وہ تھی جس کے اجتہاد نے اسے اس نتیجے تک پہنچایا کہ حق فلاں فریق کے ساتھ ہے اور اس کا مخالف باغی ہے، لہٰذا اس پر اپنے اجتہاد کے مطابق برحق فریق کی مدد کرنا اور باغی فریق سے لڑنا واجب ہے، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور ظاہر ہے کہ جس شخص کا حال یہ ہو اس کے لیے ہرگز مناسب نہیں تھا کہ وہ امامِ عادل و برحق کی مدد اور باغیوں سے جنگ کے فریضے میں کوتاہی کرے، دوسری قسم اس کے برعکس ہے اور اس پر بھی تمام وہی باتیں صادق آتی ہیں جو جو پہلی قسم کے لیے بیان کی گئی ہیں۔ صحابہؓ کی ایک تیسری جماعت وہ تھی جس کے لیے کچھ فیصلہ کرنا مشکل تھا اور اس پر یہ واضح نہ ہو سکا کہ فریقین میں سے کس کو ترجیح دے؟ یہ جماعت فریقین سے کنارہ کش رہی اور ان حضرات کے حق میں یہ کنارہ کشی واجب تھی، اس لیے کہ جب تک کوئی شرعی وجہ واضح نہ ہو، کسی مسلمان کے خلاف قتال کا اقدام حلال نہیں ہوتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم معذور اور ماجور ہیں، گناہ گار نہیں، یہی وجہ ہے کہ اہلِ حق کے تمام قابلِ ذکر علماء کا اس پر اجماع ہے کہ ان کی شہادتیں بھی قبول ہیں اور ان کی روایات بھی اور ان سب کے لیے عدالت ثابت ہے، اسی لیے ہمارے ملک کے علماء نے اور ان کے علاوہ تمام اہلِ سنت نے جن میں ابنِ حمدانؒ (نہایۃ المبتدئین) بھی داخل ہیں، فرمایا ہے کہ: تمام صحابہؓ سے محبت رکھنا اور ان کے درمیان جو واقعات پیش آئے ان کو لکھنے، پڑھنے، پڑھانے، سننے اور سنانے سے پرہیز کرنا واجب ہے اور ان کی خوبیوں کا تذکرہ کرنا، ان سے رضامندی کا اظہار کرنا، ان سے محبت رکھنا، ان پر اعتراضات کی روش کو چھوڑنا، انہیں معذور سمجھنا اور یہ یقین رکھنا واجب ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ ایسے جائز اجتہاد کی بنا پر کیا جس سے نہ کفر لازم آتا ہے، نہ فسق ثابت ہوتا ہے، بلکہ بسا اوقات اس پر انہیں ثواب ہوگا اس لیے کہ یہ ان کا جائز اجتہاد تھا۔ پھر کہتے ہیں: بعض حضرات نے کہا ہے کہ حق حضرت علیؓ کے ساتھ تھا اور جس نے ان سے قتال کیا اس کی غلطی معاف کر دی گئی ہے اور الدرۃ المضیۃ کی نظم میں جو مشاجرات کے معاملے میں غور و بحث سے منع کیا گیا ہے وہ اس لیے کہ امام احمد رحمۃاللہ اس شخص پر نکیر فرمایا کرتے تھے جو اس بحث میں الجھتا ہو اور فضائلِ صحابہؓ میں جو احادیث آئی ہیں انہیں تسلیم فرما کر ان لوگوں سے براءت کا اظہار کرتے تھے جو صحابہؓ کو گمراہ یا کافر کہتے ہیں اور کہتے تھے کہ (صحیح طریقہ) مشاجراتِ صحابہؓ میں سکوت اختیار کرنا ہے۔
یہ مختصر مجموعہ ہے سلف و خلف، مقدمین و متأخرین علمائے امت کے عقائد و اقوال کا جن میں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عدل و ثقہ ہونے پر بھی اجماع و اتفاق ہے اور اس پر بھی کہ ان کے درمیان پیش آنے والے مشاجرات میں خوض نہ کیا جائے یا سکوت اختیار کریں یا پھر ان کی شان میں کوئی ایسی بات کہنے سے پرہیز کریں جس سے ان میں سے کسی کی تنقیص ہوتی ہو۔
*صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین معصوم نہیں، مگر مغفور و مقبول ہیں*
اسی کے ساتھ ان سب حضرات کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ صحابہ کرامؓ انبیاء علیہم السلام کی طرح معصوم نہیں، ان سے خطائیں اور گناہ سرزد ہو سکتے ہیں اور ہوئے ہیں، جن پر رسول اللہﷺ نے حدود اور سزائیں جاری فرمائی ہیں، احادیثِ نبویہﷺ میں یہ سب واقعات ناقابلِ انکار ہیں۔ مذکورہ سابقہ بیانات میں اس کی تصریحات موجود ہیں، ملاحظہ ہو روایت نمبر 17، مگر اس کے باوجود عام افرادِ امت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بہ چند وجوہ خاص امتیاز حاصل ہے۔
1: اول یہ کہ رسول اللہﷺ کی صحبت کی برکت سے حق تعالیٰ نے ان کو ایسا بنا دیا تھا کہ شریعت ان کی طبیعت بن گئی تھی، خلافِ شرع کوئی کام یا گناہ ان سے صادر ہونا انتہائی شاذ و نادر تھا، ان کے اعمالِ صالحہ، نبی کریمﷺ اور دینِ اسلام پر اپنی جانیں اور مال و اولاد سب کو قربان کرنا اور ہر کام پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی مرضیات کے اِتباع کو وظیفہ زندگی بنانا اور اس کے لیے ایسے مجاہدات کرنا، جس کی نظیر پچھلی امتوں میں نہیں ملتی، ان بے شمار اعمالِ صالحہ اور فضائل و کمالات کے مقابلے میں عمر بھر میں کسی گناہ کا سرزد ہو جانا اس کو خود ہی کالعدم کر دیتا ہے۔
2: دوسرے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی محبت و عظمت اور ادنیٰ گناہ کے صدور کے وقت ان کا خوف و خشیت اور فوراً توبہ کرنا بلکہ اپنے آپ کو سزا جاری کرنے کے لیے پیش کر دینا اور اس پر اصرار کرنا، روایاتِ حدیث میں معروف و مشہور ہیں ، بحکمِ حدیث توبہ کر لینے سے گناہ مٹا دیا جاتا ہے اور ایسا ہو جاتا ہے کہ کبھی گناہ کیا ہی نہیں۔
3: قرآنی ارشاد کے مطابق انسان کی حسنات بھی اس کی سیئات کا خود بخود کفارہ ہو جاتی ہیں: اِنَّ الۡحَسَنٰت يُذۡهِبۡنَ السَّيِّاٰتِ
4: اقامتِ دین اور نصرتِ اسلام کے لیے نبی کریمﷺ کے ساتھ انتہائی عسرت و تنگدستی اور مشقت و محنت کے ساتھ ایسے معرکے سر کرنا کہ اقوامِ عالم میں ان کی نظیر نہیں۔
5: ان حضرات کا رسول اللہﷺ اور امت کے درمیان واسطہ اور رابطہ ہونا، کہ باقی امت کو قرآن و حدیث اور دین کی تمام تعلیمات انہیں حضرات کے ذریعے پہنچی، ان میں خامی و کوتاہی رہتی تو قیامت تک دین کی حفاظت اور دنیا کے گوشے گوشے میں اشاعت کا کوئی امکان نہیں تھا۔ اس لیے حق تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کی صحبت کی برکت سے ان کے اخلاق و عادات، ان کی حرکات و سکنات کو دین کے تابع بنا دیا تھا، ان سے اول تو گناہ صادر ہی نہ ہوتا تھا اور اگر عمر بھر میں کبھی شاذ و نادر کسی گناہ کا صدور ہو گیا تو فورا اس کا کفارہ توبہ و استغفار اور دین کے معاملے میں پہلے سے زیادہ محنت و مشقت اٹھا کر کر دینا ان میں معروف و مشہور تھا۔
6: حق تعالیٰ نے ان کو اپنے نبیﷺ کی صحبت کے لیے منتخب فرمایا اور دین کا واسطہ اور رابطہ بنایا، تو ان کو یہ خصوصی اعزاز بھی عطا فرمایا کہ اسی دنیا میں ان سب حضرات کی خطاؤں سے درگزر اور معافی اور اپنی رضاء و رضوان کا اعلان کر دیا اور ان کے لیے جنت کا وعدہ قرآن میں نازل فرما دیا۔
7: رسول اللہﷺ نے امت کو ہدایت فرمائی کہ ان سب حضرات سے محبت و عظمت علامتِ ایمان ہے اور ان کی تنقیص و توہین خطرہ ایمان اور رسول اللہﷺ کی ایذاء کا سبب ہے۔
یہ وجوہ ہیں جن کی بناء پر ان کے معصوم نہ ہونے اور شاذ و نادر گناہ کے صدور کے باوجود ان کے متعلق امت کا یہ عقیدہ قرار پایا کہ ان کی طرف کسی عیب و گناہ کی نسبت نہ کریں، ان کی تنقیص و توہین کے شائبہ سے بھی گریز کریں، ان کے درمیان جو باہمی اختلافات اور مقاتلہ کی نوبت آئی ان مشاجرات میں اگرچہ ایک فریق خطاء پر، دوسرا حق پر تھا اور علمائے اُمت کے اجماع نے ان مشاجرات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حق پر ہونا اور ان کے بالمقابل جنگ کرنے والوں کا خطاء پر ہونا پوری صراحت و وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا، لیکن ساتھ ہی قرآن و سنت کی نصوصِ مذکورہ کی بناء پر اس پر بھی سب کا اجماع و اتفاق ہوا کہ جو فریق خطاء پر بھی تھا اس کی خطاء بھی اوّلاً اجتہادی تھی جو گناہ نہیں، بلکہ اس پر ایک اَجر ملنے کا وعدہ حدیثِ صحیح میں مذکور ہے اور اگر قتل و قتال اور جنگ کے ہنگاموں میں کسی سے واقعی کوئی لغزش اور گناہ ہوا بھی ہے تو وہ اس پر نادم و تائب ہوئے، جیسا کہ اکثر حضرات سے ایسے کلمات منقول ہیں (ان کا ذکر آگے کیا جائے گا)۔
خصوصاً جب کہ قرآنِ کریم نے ان کی مدح و ثناء اور ان سے اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کا بھی اعلان فرما دیا، جو عفو و درگزر سے بھی زیادہ اونچا مقام ہے، ملاحظہ ہوں روایاتِ مذکورہ میں نمبر 18، 19، 20، 21۔
جن حضرات کے اتفاقی گناہوں اور خطاؤں کو بھی حق تعالیٰ معاف کر چکا تو اب کسی کو کیا حق ہے کہ ان گناہوں اور خطاؤں کا تذکرہ کر کے اپنا نامہ اعمال سیاہ کرے اور اس مقدس گروہ پر امت کے اعتقاد و اعتماد میں خلل ڈال کر دین کی بنیادوں پر ضرب لگائے، اس لیے سلفِ صالحین نے عموماً ان معاملات میں کفِ لسان اور سکوت کو ایمان کی سلامتی کا ذریعہ قرار دیا۔ باہمی حروب کے درمیان ہر فریق کے حضرات کی طرف جو باتیں قابلِ اعتراض منسوب کی گئیں، ان کے بارے میں وہ طریقہ اختیار کیا جو عقیدہ واسطیہ کے حوالے سے اوپر نقل کیا گیا ہے کہ ان قابلِ اعتراض باتوں کا بیشتر حصہ تو کذب و افتراء ہے جو روافض و خوارج اور منافقین کی روایتوں سے تاریخ میں درج ہو گیا ہے اور جو کچھ صحیح بھی ہے تو وہ بھی گناہ اس لیے نہیں کہ اس کو انہوں نے اپنے اجتہاد سے جائز بلکہ دین کے لیے ضروری سمجھ کر اختیار کیا، اگرچہ وہ اجتہاد ان کا غلط ہی ہو مگر پھر بھی گناہ نہیں اور اگر کسی خاص معاملے میں یہ بھی تسلیم کر لیا جائے کہ خطاء اجتہادی ہی نہیں، واقعی گناہ کی بات ہے، تو ظاہر ان حضرات کے خوفِ خدا و فکرِ آخرت سے یہ ہے کہ انہوں نے اس سے توبہ کر لی، خواہ اس کا اعلان نہ ہوا ہو اور لوگوں کے علم میں نہ ہو اور بالفرض یہ بھی نہ ہو تو ان کی حسنات اور دین کی خدمات اتنی عظیم ہیں کہ ان کی وجہ سے معافی ہو جانا قریب بہ یقین ہے۔
البتہ بعض حضرات نے روافض و خوارج اور منافقین کی شائع کردہ روایات سے عوام میں پھیلنے والی غلط فہمی دور کرنے کے لیے مشاجراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم میں کلام کیا ہے، جو اپنی جگہ صحیح ہے، مگر پھر بھی وہ ایک مــزلّــۃ الاقـــدام ہے، جس سے صحیح سالم نکل آنا آسان کام نہیں ہے، اس لیے جمہور امت اور اتقیائے سلف نے اس کو پسند نہیں فرمایا۔
سلفِ صالحین اور علمائے امت کے ارشادات کا خلاصہ:
1: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے بلا استثناء سب صحابہ کرامؓ کے حق میں فرمایا: وہ پاک دل، عادات و اخلاق میں سب سے بہتر، اللہ تعالیٰ کے منتخب بندے ہیں، ان کی قدر کرنا چاہیے
(امام احمدؒ)
2: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے جب حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ پر تین الزام لگائے گئے تو باوجود یہ کہ ان تین الزاموں میں ایک صحیح بھی تھا، مگر حضرت ابنِ عمرؓ نے مدافعت فرمائی اور الزام لگانے والوں کو ملزم ٹھہرایا
(روایت نمبر 19، ابنِ تيميةؒ بعد صحیح)
3: افضل التابعین حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ نے بلا استثناء سب صحابہ کرامؓ کے متعلق فرمایا کہ: صحابہ کرامؓ امت کے سابقین اور ان کے مقتداء ہیں اور صراطٹ مستقیم پر ہیں(ابوداؤود کتاب السنۃ، روایت نمبر1)
4: حضرت حسن بصری رحمۃاللہ سے قتالِ صحابہؓ کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ: یہ معاملہ ایسا ہے کہ رسول اللہﷺ کے صحابہؓ اس میں حاضر اور موجود تھے اور ہم غائب، وہ حالات و معاملات کی صحیح حقیقت جانتے تھے، ہم نہیں جانتے، اس لیے جس چیز پر وہ متفق ہو گئے ہم نے ان کا اِتباع کیا اور جس چیز میں ان کا اختلاف ہوا اس میں ہم نے توقف اور سکوت کیا(روایت نمبر 14 از قرطبیؒ)۔
5: حضرت محاسبیؒ نے فرمایا کہ: ہم بھی وہی بات کہتے ہیں جو حضرت حسن رحمۃاللہ نے فرمائی کہ ان حضراتِ صحابہؓ نے جو عمل اختیار کیا اس میں وہ ہم سے زیادہ علم رکھنے والے تھے، اس لیے ہمارا مسلک یہ ہے کہ جس معاملے میں ان کا اتفاق ہو تو ہم ان کا اتباع کریں اور جس میں اختلاف ہو وہاں توقف اور سکوت اختیار کریں، کوئی نئی رائے اپنی طرف سے قائم نہ کریں، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ اپنے اجتہاد کی بناء پر کیا اور ان کا مقصود اللہ تعالیٰ ہی کے حکم کی تعمیل تھی، کیونکہ یہ حضرات دین کے معاملے میں متہم نہیں تھے(روایت نمبر 14 از قرطبیؒ)۔
6: حضرت امام شافعی رحمۃاللہ نے مشاجراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم میں گفتگو کرنے کے متعلق فرمایا کہ: یہ وہ خون ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہاتھوں کو پاک رکھا ہے (کیونکہ ہم اس وقت موجود نہ تھے) اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنی زبانوں کو بھی اس خون سے آلودہ نہ کریں (یعنی کسی صحابی پر حرف گیری نہ کریں اور کوئی الزام نہ لگائیں بلکہ سکوت اختیار کریں)۔(روایت نمبر 15 شرحِ مواقف)
7:- امام مالک رحمۃاللہ کے سامنے جب ایک شخص نے بعض صحابہ کرامؓ کی تنقیص کی تو آپ نے قرآن کی آیت وَالَّذِيْنَ مَعَهُ سے لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ تک تلاوت فرمائی اور کہا کہ: جس شخص کے دل میں کسی صحابی کی طرف سے غیظ ہو وہ اس آیت کی زَد میں ہے، ذكره الخطيب أبوبكر اور حضرت امام مالکؒ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا جو صحابہ کرامؓ کی تنقیص کرتے ہیں کہ: یہ وہ لوگ ہیں جن کا اصل مقصد رسول اللہﷺ کی تنقیص ہے، مگر اس کی جرأت نہ ہوئی تو آپﷺ کے صحابہؓ کی برائی کرنے لگے تاکہ لوگ سمجھ لیں کہ معاذ اللہ خود رسول اللہﷺ برے آدمی تھے، اگر وہ اچھے ہوتے تو ان کے صحابہؓ بھی صالحین ہوتے۔(الصارم المسلول ابنِ تیمیہؒ)
8: امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ صحابہ کرامؓ کی برائی کا تذکرہ کرے یا ان پر کسی عیب اور نقص کا طعن کرے اور اگر کوئی ایسی حرکت کرے تو اسے سزا دینا واجب ہے اور فرمایا کہ: تم جس شخص کو کسی صحابی کا برائی کے ساتھ ذکر کرتے دیکھو تو اس کے اسلام و ایمان کو متہم و مشکوک سمجھو (روایت نمبر 4)۔
اور ابراہیم بن میسرہ رحمۃاللہ کہتے ہیں کہ: میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کو کبھی نہیں دیکھا کہ کسی کو خود مارا ہو، مگر ایک شخص جس نے حضرت معاویہؓ پر سب و شتم کی، اس کو انہوں نے خود کوڑے لگائے(رواه الالكائی، ذكره إبنِ تيمية فی الصارم المسلول)۔
9: امام ابو زرعہ عراقی رحمۃاللہ استاذِ مسلم رحمۃاللہ نے فرمایا کہ: تم جس شخص کو کسی صحابی کی تنقیص کرتے دیکھو تو سمجھ لو کہ وہ زندیق ہے، جو قرآن و سنت سے امت کا اعتماد زائل کرنا چاہتا ہے، اس لیے اس کو زندیق اور گمراہ کہنا ہی حق و صحیح ہے(روایت نمبر 4)۔
یہ تو چند اسلافِ امت کے خصوصی ارشادات ہیں، اس کے علاوہ مذکور الصدر روایات و عبارات میں اس کو امت کا اجماعی عقیدہ بتلایا ہے جس سے انحراف کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں۔
مشاجراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے معاملے میں صحابہؓ و تابعینؒ اور ائمہ مجتہدینؒ کا عقیدہ اور فیصلہ ہے کہ خواہ اس وجہ سے کہ ہم ان پورے حالات سے واقف نہیں جن میں یہ حضراتِ صحابہؓ گزرے ہیں یا اس وجہ سے کہ قرآن و سنت میں ان کی مدح و ثناء اور رضوانِ خداوندی کی بشارت اس کو مقتضیٰ ہے کہ ہم ان سب کو اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے سمجھیں اور ان سے کوئی لغزش بھی ہوئی ہے تو اس کو معاف قرار دے کر ان کے معاملے میں کوئی ایسا حرف زبان سے نہ نکالیں جس سے ان میں سے کسی کی تنقیص یا کسرِ شان ہوتی ہو، یا جو ان کے لیے سببِ ایذاء ہو سکتی ہے، کیونکہ ان کی ایذاء رسول اللہﷺ کی ایذاء ہے۔ بڑا بد نصیب ہے وہ شخص جو اس معاملے میں محقق مفکر بہادری کا مظاہرہ کرے اور ان میں سے کسی کے ذمہ الزام ڈالے۔
*مستشرقین اور ملحدین کے اعتراضات کا جواب*
اس زمانے میں جن اہلِ قلم نے مصر اور ہندو پاکستان میں مشاجراتِ صحابہؓ کے مسئلے کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا اور اس پر کتابیں لکھی ہیں، ان کے پیشِ نظر دراصل آج کل کے مستشرقین اور ملحدین کا دفاع اور جواب دہی ہے، جس کو انہوں نے اسلام کی خدمت سمجھ کر اختیار کیا ہے۔
اس وقت جب کہ عام مسلمانوں میں اپنی تعلیم کے فقدان اور نئی ملحدانہ تعلیم کے رواج نے خود مسلمانوں کے بہت بڑے طبقے کو اسلام اور عقائدِ اسلام اور احکامِ اسلام سے بیگانہ کر دیا ہے، اسلاف کا ادب واحترام ان کے ذہنوں میں ایک بے معنیٰ لفظ ہو کر رہ گیا ہے، اسی کا نام ”آزادی خیال“ رکھا گیا ہے۔مستشرقین اور ملحدین جو ہمیشہ سے اسلام پر مختلف جہات سے حملے کرنے اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں، انہوں نے موقع کو غنیمت سمجھ کر اسلام پر اس رخ سے حملہ شروع کیا کہ عوام میں صحابہ کرامؓ کے متعلق ایسی باتیں پھیلائی جائیں جن سے صحابہ کرامؓ کا اعتماد و اعتقاد جو مسلمانوں کے دلوں میں ہے وہ نہ رہے اور جب اس مقدس گروہ سے اعتماد اٹھ گیا تو پھر ہر بے دینی کے لیے راستہ ہموار ہو گیا، اس مقصد کے لیے انہوں نے مسلمانوں ہی کی کتبِ تواریخ پر ریسرچ اور تحقیق کے نام سے کام شروع کیا اور کتبِ تواریخ جو صحیح و سقیم ہر طرح کی روایات پر مشتمل ہیں اور جن میں روافض و خوارج کی روایتیں بھی شامل ہیں ان میں سے چن چن کر وہ حکایات و روایات منظرِ عام پر لائے جن سے اس مقدس گروہ کی حیثیت اقتدار پسند لیڈروں سے زائد کچھ نہیں رہتی اور ان میں بھی ان کی زندگی کو ایک گھناؤنی تصویر میں پیش کرنے لگے۔ ہمارا نو تعلیم یافتہ طبقہ جو اپنے گھر کی چیزوں سے بے خبر اور اسلام کے ضروری عقائد و احکام سے ناواقف کر دیا گیا ہے، وہ مستشرقین کی کتابیں شوق سے پڑھتا ہے اور یہ بدقسمتی سے ان کی بحثوں کو ہی ایک علم سمجھ کر پڑھتا ہے، وہ مستشرقین اور ملحدین کے اس دام میں آنے لگے۔
یہ دیکھ کر مسلمانوں میں سے کچھ اہلِ قلم نے ان کے دفاع کے لیے کام شروع کیا، تو یہ بلا شبہ اسلام کی ایک خدمت تھی جو زمانہ قدیم سے علمِ کلام اور متکلمین اسلام کرتے آئے ہیں۔
لیکن اس کام کا جو طریقہ اختیار کیا وہ اصولاً غلط تھا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ خود ان کے دام میں آگئے اور صحابہ کرامؓ کے تقدس اور پاک بازی کو مجروح اور اس مقدس گروہ کو بدنام کرنے کے جو کام مستشرقین اور ملحدین نہیں کر سکے تھے کہ حقیقت شناس مسلمان بہرحال ان کو دشمنِ اسلام جان کر ان پر اعتماد نہ کرتے تھے، وہ کام ان مصنفین کی کتابوں نے پورا کر دیا۔
وجہ یہ ہے کہ کسی بھی شخصیت کو مجروح کرنے اور اس پر کوئی الزام ثابت کرنے کے لیے اسلام نے جرح و تعدیل کے خاص اصول مقرر فرمائے ہیں جو عقلی بھی ہیں اور شرعی بھی، جب تک الزامات کو جرح و تعدیل کے اس کانٹے میں نہ تولا جائے اس وقت تک کسی بھی شخصیت پر کوئی الزام عائد کرنا، اسلام میں جرم اور ظلم ہے۔ یہاں تک کہ جو شخصیتیں ظلم و جور میں معروف ہیں ان پر بھی کوئی خاص الزام بغیر ثبوت و تحقیق کے لگا دینے کو اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے۔ بعض اکابرِ امت کے سامنے کسی نے حجاج بن یوسف ثقفی پر، جس کا ظلم و جور دنیا میں معروف متواتر ہے، کوئی تہمت لگائی تو اس بزرگ نے فرمایا کہ: تمہارے پاس اس کا ثبوتِ شرعی موجود ہے کہ حجاج بن یوسف نے یہ کام کیا ہے؟ ثبوت کوئی تھا نہیں، نقل کرنے والے نے حجاج کے بدنام اور معروف بالفسق ہونے کی وجہ سے اس کی ضرورت بھی نہیں سمجھی کہ اس کا ثبوت مہیا کرے۔
اس مقدس بزرگ نے فرمایا کہ: خوب سمجھ لو کہ حجاج اگر ظالم ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے ہزاروں کشتگانِ ظلم کا انتقام لے گا تو اس کے ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ حجاج پر اگر کوئی غلط تہمت لگائے تو اس کا بھی انتقام اس سے لیا جائے گا، رب العالمین کا قانونِ عدل اس کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی شخص گنہگار فاسق بلکہ کافر بھی ہے تو اس پر جو چاہو الزام اور تہمت لگا دو۔
اور جب اسلام کا یہ معاملہ عام افرادِ انسان یہاں تک کہ کفار و فجار کے ساتھ بھی ہے تو اندازہ لگائیے کہ جس گروہ یا جس فرد نے اللہ و رسولﷺ پر ایمان لانے کے بعد اپنا سب کچھ ان کی مرضی کے لیے قربان کیا ہو اور اپنے ایک ایک قدم اور ایک ایک سانس میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے احکام کی تعمیل کو وظیفہ زندگی بنایا ہو، جن کے مقامِ اخلاق اور عدل و انصاف کی شہادتیں دشمنوں نے بھی دی ہوں ان کے متعلق اسلام کا عادلانہ قانون اس کو کیسے گوارا کر سکتا ہے کہ ان مقدس ہستیوں کو بدنام کرنے اور ان پر الزامات لگانے کی لوگوں کو کھلی چھٹی دے دے کہ کیسی ہی غلط سلط روایت و حکایت سے بلا تنقید و تحقیق ان کو مجروح قرار دے دیا جائے۔ مستشرقین اور ملحدین تو دشمنِ اسلام ہیں، یہ اگر جان بوجھ کر بھی اسلام کے ساتھ اس عادلانہ اور حکیمانہ اصولِ عدل و انصاف کو نظر انداز کریں تو ان سے کچھ مستعبد نہیں۔
مگر افسوس ان حضرات پر ہے جو ان کی مدافعت کے لیے اس خونی میدان میں اترے تھے، انہوں نے بھی اس اسلامی اصول کو نظر انداز کر کے حضراتِ صحابہؓ ؓ کے بارے میں وہی طریقہ کار اختیار کر لیا جس کو مستشرقین نے اپنی سوچی سمجھی تدبیر سے اسلام اور اسلافِ اسلام کے خلاف اختیار کیا تھا کہ صرف تاریخ کی بے سند اور خلط ملط روایات کو موضوعِ تحقیق اور مدارِ کار بنا کر انہیں روایات و حکایات کی بنیاد پر حضراتِ صحابہؓ کی شخصیتوں پر الزامات عائد کر دیے۔
جبکہ یہ حضرات وہ ہیں کہ ان کی زندگی اور ان کے احوال کا بہت بڑا حصہ رسول اللہﷺ کی احادیثِ مقدسہ کا جزء ہے اور علمِ حدیث میں بڑی احتیاط و تنقید کے ساتھ مدون ہو چکا ہے، اس طرح بہت بڑا حصہ خود قرآنِ کریم میں مذکور ہے، کیونکہ بہت سی آیاتِ قرآن کا نزول خاص خاص صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے واقعات میں ہوا ہے، پھر قرآن میں جو حکم آیا اگرچہ وہ سب مسلمانوں کے لیے عام قرار پایا، مگر یہ صحابی تو خصوصیت سے اس کے مصداق تھے، اس طرح غور کیا جائے تو انہیں آیات کے ضمن میں صحابہ کرامؓ کے بہت سے حالات و معاملات آ جاتے ہیں۔ جن حضرات کی زندگی کو سمجھنے اور ان کے حالات کو معلوم کرنے کے لیے قرآنِ کریم کی محکم آیات اور احادیثِ رسول اللہﷺ میں انتہائی احتیاط و تنقید و تحقیق کے ساتھ مدون کی ہوئی روایات موجود ہوں اور ان کے بالمقابل فنِ تاریخ کی حکایات ہوں جن کے متعلق ائمہ تاریخ کا اتفاق ہے کہ ان حکایات و روایات میں نہ صحتِ سند کا اہتمام ہے، نہ راویوں پر جرح و تعدیل کا محدثانہ دستور ہے، بلکہ ایک مورخ کا دیانت دارانہ کام ہی اتنا ہے کہ کسی واقعے کے متعلق جتنی جس طرح کی روایات اس کو پہنچی ہیں وہ سب کو جمع کر دے، خواہ وہ اس کے مسلک و مذہب کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ تاریخ کی صحیح و سقیم روایتیں اگر احادیثِ رسول اللہﷺ کی مستند ومعتبر روایات کے خلاف کسی شخصیت کے بارے میں کوئی تاثر دیں اور ان پر کچھ الزامات عائد کریں، تو یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ان مجروح، بے سند تاریخی روایات کو قرآن و حدیث کی شہادتوں پر ترجیح دے کر ان حضرات کو ملزم قرار دے دیا جائے۔
یہ صرف ”اسلامی عقیدت مندی“ اور ”صحابہؓ کی جنبہ داری“ کا مسئلہ نہیں بلکہ عقل و انصاف کا مسئلہ ہے، غیر مسلم مستشرقین اور ان کے ہم نواؤں سے میرا سوال ہے کہ ایک شخص یا جماعت کے متعلق اگر دو طرح کی روایات موجود ہوں، ایک قسم کی روایات میں روایت کی پوری سند محفوظ ہے، اس کے راویوں کو جرح و تعدیل کے معیار پر جانچا گیا ہے، الفاظِ روایت میں مکمل احتیاط برتی گئی ہے اور دوسری قسم ایسی روایات کی ہیں جن میں تمام رطب و یابس، صحیح و غلط روایات بلا کسی سند کے آئی ہیں اور کہیں کوئی سند ہے بھی تو اس کے راویوں کی کوئی جانچ پڑتال نہیں کی گئی، نہ روایت کے الفاظ ہی جانچ تول کر لیے گئے، ایسے حالات میں وہ ان دونوں قسم کی روایات میں سے کس قسم کو اپنی ریسرچ اور تحقیق میں ترجیح دیں گے۔
اگر عقل و انصاف آج بھی کسی چیز کا نام ہے تو ایک کام کر دیکھیے کہ مشاجراتِ صحابہؓ اور ان کی باہمی جنگوں میں جو حضرات پیش پیش ہیں، حضرت علی، حضرت معاویہ، حضرت طلحہ و زبیر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم وغیرہ ان حضرات کے حالات اور ایک دوسرے کے خلاف مقالات کچھ حدیث کی کتابوں میں بھی روایتِ حدیث کے اصول پر پرکھ کر جمع شدہ موجود ہیں اور انہیں حضرات کے کچھ حالات و مقالات تاریخی روایت میں آئے ہیں، ان دونوں قسم کی روایات کو الگ الگ پڑھ کر اپنے دلوں اور دماغوں کا جائزہ لیں کہ علمِ حدیث میں آئی ہوئی روایات انہیں معاملات کے متعلق کیا تاثر دیتی ہیں؟ اور تاریخی روایات ان کے بلمقابل کیا تاثر چھوڑتی ہیں؟ ذرا سا تقابل کر کے دیکھیں تو کوئی شک نہیں رہے گا کہ حدیث میں جمع شدہ روایات سے اگر کسی صحابی کی کوئی زیادتی یا لغزش بھی معلوم ہوتی ہے تو اس کا مجموعی تاثر یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ اس کی شخصیت مجروح، ناقابلِ اعتماد ہو جائے، بخلاف تاریخی روایت کے کہ ان کو پڑھ کر ایک انسان دونوں فریق کو یا کم از کم ایک فریق کو غلط کار، اقتدار پسند اور اقتدار ہی کے پیچھے جنگ لڑنے والا قرار دے گا۔ مستشرقین کا تو مقصد ہی یہ تھا کہ مسلمانوں کی صفوں میں انتشار و اختلاف پیدا کریں، صحابہ کرامؓ کے سب گروہ نہیں تو بعض ہی کو مجروح، غیر معتمد بنا دیں، انہوں نے اگر قرآن و سنت کی نصوص و روایات سے آنکھیں بند کر کے صرف تاریخی روایات کی بنا پر حضراتِ صحابہؓ کے بارے میں کچھ فیصلے کیے تو کوئی بعید نہیں تھا، افسوس ان مسلم اہلِ قلم پر ہے جنہوں نے اس میدان میں قدم رکھنے کے ساتھ اسلام کے عادلانہ اصولِ تنقید اور حکیمانہ جرح و تعدیل کے اصول کو نظر انداز کر کے انہیں تاریخی روایت کو مدارِ کار بنا لیا۔ قرآن و حدیث کی نصوصِ صریحہ قطعیہ نے جن بزرگوں کی تعدیل نہایت وزن دار الفاظ میں فرمائی اور دین کے معاملے میں ان کے معتمد و معتبر ہونے کی گواہی دی، جن کے بارے میں قرآن و سنت ہی کے نصوص نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ ان سے کوئی گناہ یا لغزش ہوئی بھی ہے تو وہ اس پر قائم نہیں رہے، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مغفور و مرحوم اور مقبول ہیں، اس کے بعد تاریخی روایات سے ان کو جرح و الزام کا نشانہ بنانا اسلام کے تو خلاف ہے ہی عقل و انصاف کے بھی خلاف ہے۔
امت کے اسلاف و اخلاف صحابہؓ و تابعینؒ اور بعد کے علمائے امت کا جو اجماع اوپر نقل کیا گیا ہے کہ مشاجراتِ صحابہؓ اور باہم ایک دوسرے کے خلاف پیش آنے والے واقعات میں سکوت اور کفِ لسان ہی شیوہ اسلاف ہے، اس معاملے میں جو روایات و حکایات منقول چلی آتی ہیں ان کا تذکرہ بھی مناسب نہیں۔
یہ کوئی”اندھی عقیدت مندی“ یا ”تحقیق سے راہِ فرار“ نہیں، بلکہ صحیح تحقیق کا عادلانہ اور محتاط فیصلہ ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے کہ قرآن و سنت کی نصوصِ قطعیہ کی رو سے یہ وہ مقدس گروہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ اور امت کے درمیان واسطہ بنانے کے لیے منتخب فرمایا اور رسولاللہﷺ کی صحبتِ کیمیاء اثر نے ان کے اعتقادات، اعمال، اخلاق و عادات میں وہ انقلابِ عظیم برپا کیا کہ باوجود غیر معصوم ہونے کے ان کا قدم شریعتِ اسلام کے خلاف نہ اٹھتا تھا۔ رسول اللہﷺ اور دینِ اسلام کی نصرت میں ان کی خدمات حیرت انگیز ہیں، جن کو دشمنانِ اسلام نے بھی حیرت کے ساتھ سراہا ہے، ان کی طرف جو قابلِ اعتراض بعض اعمال منسوب ہیں ان کا بہت بڑا حصہ تو وہ ہے جو سراسر جھوٹ و افتراء، سبائی تحریک کی سازش اور روافض و خوارج کی گھڑی ہوئی خرافات ہیں اور کچھ وہ ہیں جو بظاہر خلافِ شرع ہیں مگر حقیقتاً خلافِ شرع نہیں، بلکہ شرع پر عمل کرنے کی ایک خاص صورت ہے جس کو انہوں نے اپنے اجتہادِ شرعی سے تجویز اور دین کے لیے ضروری سمجھا، اگر اس میں ان سے خطاء بھی ہوئی ہو تو وہ گناہ نہیں بلکہ اس پر ان کو حسبِ تصریحِ حدیث ایک اجر بھی ملے گا۔
اور اگر کوئی ایسا کام بھی کبھی کسی سے سرزد ہوا ہے جو خطاءِ اجتہادی نہیں بلکہ حقیقتاً گناہ ہے تو اولاً ایسا کام ان کی پوری اسلامی زندگی میں اتنا شاذ و نادر ہے کہ ان کے لاکھوں حسنات اور اسلام کی اہم خدمات کے مقابلے میں قابلِ ذکر بھی نہیں، پھر ان کے خوفِ خدا اور علمِ بصیرت کے پیشِ نظر یہ ظاہر ہے کہ وہ اس پر قائم نہیں رہے بلکہ تائب ہوئے اور یہ بھی نہ ہو تو شاذ و نادر خطاء و گناہ ان کے عظیم الشان اسلامی خدمات اور لاکھوں حسنات کی وجہ سے معاف ہو گیا، جس کی معافی کا اعلان حق تعالیٰ کی رضا و رضوان کے عنوان سے قرآنٹ کریم میں کر دیا گیا ہے۔ ان حالات میں کیا عقل اور عدل و انصاف کا یہ تقاضا نہیں کہ تاریخی روایات کو منافقین و مخالفین کی روایات اور جھوٹی حکایات سے خالی بھی تسلیم کر لیا جائے تو یہ روایات بمقابلہ روایاتِ حدیث اور آیاتِ قرآن کے مجروح واجب الترک ہیں۔
*عین جنگ کے وقت بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی رعایت حدود*
جماعتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ مقدس اور خدا ترس گروہ ہے جو اپنے جائز اعمال بلکہ طاعات و عبادات پر بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا اور خائف رہتا ہے کہ جب اپنی کسی اجتہادی خطاء پر تنبہ ہو جاتا ہے تو ندامت کے ساتھ اس کا اعتراف اور اس پر استغفار کرنا ان کا معمول ہے۔ مشاجراتِ صحابہؓ میں جو حضرات باجماعِ امت حق پر تھے اور حق کی مجبوری سے انہوں نے دوسروں پر تلوار اٹھائی اور فتح بھی پائی، وہ بھی نہ اپنی فتح پر مسرور ہوئے ،نہ مفتوح حضرات کے مغلوب ہونے پر کوئی کلمہ فخر ان کی زبانوں سے نکلا، بلکہ مقابل فریق کو بھی اللہ والا، نیک نیت مگر خطاء اجتہادی میں مبتلا سمجھ کر ان کے قتل اور نقصان پر افسوس و ندامت کا اظہار کیا۔ صحابہ کرامؓ کی بہت بڑی جماعت جو فریقین سے الگ غیر جانبدار رہی ان میں سے کسی کے ساتھ نہ رہی تھی، ان کو معذور قرار دیا بلکہ ان حضرات کی تحسین بھی کی گئی، مندرجہ ذیل روایات اس کے ثبوت کے لیے کافی ہیں۔
1: حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ پر جو الزامات لگائے گئے تھے ان میں جس چیز کا خلافِ شرع ہونا ان کو ثابت ہو گیا اس سے توبہ کا اعلان کھلے طور پر فرمایا۔(شرح عقیدہ واسطیہ)
2: اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بصرہ کے سفر پر جہاں جنگِ جمل کا واقعہ پیش آیا، ندامت کا اظہار فرمایا اور جب وہ اس واقعے کو یاد کرتی تھیں تو اتنا روتی تھی کہ ان کا دوپٹہ تر ہو جاتا تھا۔(شرح عقیدہ واسطیہ)
3:حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اپنے اس قصور پر ندامت کا اظہار فرماتے تھے کہ ان سے حضرت عثمانؓ کی مدد کرنے میں کوتاہی ہوئی۔ (ایضاً)
4: حضرت زبیرؓ نے اپنے سفر پر ندامت کا اظہار کیا جس میں جنگ جمل کا حادثہ پیش آیا۔ (ایضاً)
5: حضرت علیؓ نے (اس قتال میں حق پر ہونے کے باوجود) بہت سے پیش آنے والے واقعات پر ندامت کا اظہار فرمایا۔(ایضاً)
حضرت علیؓ کا یہ واقعہ، حضرت اسحاق بن راہویہؒ نے اپنی سند سے نقل کیا ہے کہ جنگِ جمل اور جنگِ صفین کے موقع پر آپؓ نے ایک شخص کو سنا کہ وہ مخالف لشکر والوں کے حق میں غلو آمیز باتیں کہ رہا ہے، آپؓ نے فرمایا: ان کے بارے میں بھلائی کے سوا کچھ نہ کہو، ان لوگوں نے سمجھا ہے کہ ہم نے ان کے خلاف بغاوت کی ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے خلاف بغاوت کی ہے، اس لیے ہم ان سے قتال کر رہے ہیں۔(منہاج السنۃ: جلد 2، صفحہ 61)
نیز ایک مرتبہ علیؓ سے پوچھا گیا کہ جنگِ جمل اور جنگِ صفین میں قتل ہونے والوں کا انجام کیا ہوگا؟حضرت علیؓ نے دونوں فریقوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
لا یموتن احد من ھؤلاء وقلبہ نقی الا دخل الجنۃ(مقدمہ ابن خلدون: صفحہ 385، فصل نمبر 30)
ترجمہ: ان میں سے جو شخص بھی صفائی قلب کے ساتھ مرا ہوگا، وہ جنت میں جائے گا۔
اور جنگِ صفین کے دوران راتوں میں یہ فرمایا کرتے تھے کہ: اچھا مقام وہ تھا جو عبداللہ بن عمرؓ اور سعد بن مالکؓ نے اختیار کیا کہ اس جنگ سے علیحدہ رہے، کیونکہ یہ کام اگر انہوں نے صحیح کیا تب تو ان کے اجرِ عظیم میں کیا شبہ ہے؟ اور اگر اس جنگ سے علیحدہ رہنا کوئی گناہ بھی تھا تو اس کا معاملہ بہت ہلکا ہے اور حضرت حسنؓ کو مخاطب کر کے فرمایا کرتے تھے:یا حسن! یا حسن! ما ظن ابوک ان الامر یبلغ الی ھذا ود ابوک لو مات قبل ھذا بعشرین سنہ
یعنی اے حسن! تیرے باپ کو یہ گمان کبھی نہ تھا کہ معاملہ یہاں تک پہنچ جائے گا، تیرے باپ کی تمنا یہ ہے کہ کاش وہ اس واقعے سے 20 سال پہلے فوت ہو گیا ہوتا۔
اور جنگِ صفین سے واپسی کے بعد لوگوں سے فرماتے تھے کہ امارتِ معاویہؓ کو بھی برا نہ سمجھو کیونکہ وہ جس وقت نہ ہوں گے تو تم سروں کو گردنوں سے اڑتے ہوئے دیکھو گے۔(شرح عقیدہ واسطیہ: صفحہ 458، 459)
معجمِ طبرانی کبیر میں طلحہ بن مصرف سے روایت ہے کہ جب واقعہ جمل میں حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ ؓحضرت علیؓ کے لشکر کے ہاتھوں شہید ہو گئے، حضرت علیؓ اپنے گھوڑے سے اترے اور ان کو اٹھایا اور ان کے چہرے سے غبار صاف کرنے لگے اور رو پڑے اور کہنے لگے کہ: کاش! میں اس واقعے سے 20 سال پہلے مر گیا ہوتا۔(از جمع الفوائد: جلد 2، صفحہ 214)
سنن بیہقی میں ان کی سند کے ساتھ یہ روایت ہے کہ جنگِ جمل میں حضرت علیؓ کے مقابلے پر قتال کرنے والے حضرات کے بارے میں حضرت علیؓ سے سوال کیا کہ کیا یہ لوگ مشرک ہیں؟ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ: شرک سے بھاگ کر ہی تو وہ اسلام میں آئے ہیں۔ پھر پوچھا گیا کہ کیا وہ منافق ہیں؟ تو فرمایا: ان المنافقین لا یذکرون اللہ الا قلیلا
یعنی منافقین تو اللہ کو بہت کم یاد کرتے ہیں (اور یہ لوگ تو بکثرت اللہ کو یاد کرنے والے ہیں)
پھر پوچھا گیا کہ پھر یہ کیا ہیں؟ تو فرمایا: ہمارے بھائی ہیں، جنہوں نے ہمارے خلاف بغاوت کی ہے۔
(سنن بیہقی: جلد8، صفحہ 172، طبع دائرۃ المعارف دکن)
اور اسی سننِ بیہقی میں حضرت ربعی بن خراش رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا:
انی لأرجوا ان اکون وطلحہ و زبیر ممن قال اللہ عزوجل: ونزعنا ما فی صدورھم من غل(سنن بیہقی: جلد 8، صفحہ 173)
ترجمہ: مجھے امید ہے کہ قیامت کے روز میں اور طلحہ ؓو زبیر رضی اللہ عنہما ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ: (جنت میں) ان کے دلوں کی باہمی کدورتیں نکال دیں گے۔
6: اسی طرح معاویہؓ سے منقول ہے کہ انہوں نے قسم کھا کر فرمایا کہ: علیؓ مجھ سے بہتر اور مجھ سے افضل ہیں اور میرا ان سے اختلاف صرف حضرت عثمانؓ کے قصاص کے مسئلے میں ہے اور اگر وہ خونِ عثمانؓ کا قصاص لے لیں تو اہلِ شام میں ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے والا سب سے پہلے میں ہوں گا۔(البدایہ والنہایہ: جلد 7، صفحہ 139 و صفحہ 259 )
7: جب حضرت معاویہؓ کے پاس علیؓ کی شہادت کی خبر پہنچی تو وہ رونے لگے، اہلیہ نے پوچھا کہ آپ زندگی میں ان سے لڑتے رہے، اب روتے ہیں؟حضرت معاویہؓ نے فرمایا: کہ تم نہیں جانتیں کہ ان کی وفات سے کیا فقہ اور کیسا علم دنیا سے رخصت ہو گیا۔ (البدایہ والنہایہ: جلد 8، صفحہ 129)
8: ایک مرتبہ حضرت معاویہؓ نے ضرار صدائی سے کہا کہ میرے سامنے علیؓ کے اوصاف بیان کرو اس پر انہوں نے غیر معمولی الفاظ میں حضرت علیؓ کی تعریف کی، حضرت معاویہؓ نے فرمایا: اللہ، ابوالحسن (علیؓ) پر رحم کرے، خدا قسم! وہ ایسے ہی تھے۔ (الاستیعاب تحت الاصابہ: جلد 3، صفحہ 43،44)
9: قیصرِ روم نے مسلمانوں کی باہمی خانہ جنگی سے فائدہ اٹھا کر ان پر حملہ آور ہونے کا ارادہ کیا، حضرت معاویہؓ کو اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے قیصر کے نام ایک خط میں لکھا:
اگر تم نے اپنا ارادہ پورا کرنے کی ٹھان لی تو میں قسم کھاتا ہوں کہ میں اپنے ساتھی (حضرت علیؓ) سے صلح کر لوں گا، پھر تمہارے خلاف ان کا جو لشکر روانہ ہوگا اس کے ہر اول دستے میں شامل ہو کر قسطنطنیہ کو جلا کر کوئلہ بنا دوں گا اور تمہاری حکومت کو گاجر مولی کی طرح اکھاڑ پھینکوں گا۔(تاج العروس: جلد 7، صفحہ 208، مادة: اصطفلین)
10:متعدد مؤرخین نے نقل کیا ہے کہ جنگِ صفین وغیرہ کے موقعے پر دن کے وقت فریقین میں جنگ ہوتی اور رات کے وقت ایک لشکر کے لوگ دوسرے لشکر میں جا کر ان کے مقتولین کی تجہیز و تکفین میں حصہ لیا کرتے تھے۔(البدایہ والنہایہ: جلد 7، صفحہ 227)
خلاصہ یہ ہے کہ جتنے حضراتِ صحابہؓ اس باہمی قتال میں وجوہِ شرعیہ کی بناء پر پیش پیش تھے اور ہر ایک اپنے آپ کو حق پر سمجھ کر مقابل سے لڑنے پر مجبور تھا، انہوں نے عین قتال کے وقت بھی حدودِ شرعیہ سے تجاوز نہیں کیا اور فتنہ فرو ہونے کے بعد ایک دوسرے کے متعلق ان کی روش بدل گئی اور جو کچھ نقصان دوسرے فریق کے لوگوں کو ان کے ہاتھ سے پہنچا، باوجود یہ کہ وہ شرعی وجوہ کی بناء پر تھا، پھر بھی اس پر ندامت و افسوس کا اظہار کیا۔
اللہ تعالیٰ کو ان واقعات کے پیش آنے سے پہلے اس مقدس گروہ کے قلوب اور ان کے اخلاص کا اور اپنی کوتاہیوں پر نادم و تائب ہونے کا حال معلوم تھا، اس لیے پہلے ہی یہ سب کچھ معلوم ہوتے ہوئے ان سب سے راضی ہونے کا اور ان کے ابدی جنتی ہونے کا اعلان قرآن میں نازل فرما دیا تھا، جو درحقیقت اس کا اعلان ہے کہ اگر ان میں سے کسی سے کوئی گناہ سرزد بھی ہوا ہے تو اس پر قائم نہیں رہے تائب ہو گئے اور ان کے نامہ اعمال سے اس کو محو کر دیا گیا، کس قدر حیرت ہے کہ ”اسلام کی خدمت“ کا نام لینے والے بعض حضرات ان سب چیزوں سے آنکھیں بند کر کے مستشرقین و ملحدین کے طریقے پر چل پڑے، ان حضرات کی شخصیات و ذات پر تاریخ کی غلط سلط اور غلط ملط روایات سے الزامات تراشنے لگے، جن کو اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا، انہوں نے ان کو معاف نہیں کیا، جن سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے راضی ہونے کا اعلان کر دیا، یہ ان سے راضی نہیں ہوئے۔
اور جب ان سے کہا گیا تو جواب میں یہ کافی سمجھ لیا کہ ہم نے تو ایسے ثقہ اور مستند علماء اور محدثین کی کتبِ تاریخ سے نقل کیا ہے جن کے ثقہ اور معتمد علیہ ہونے میں کسی کو کلام نہیں اور یہ نہ سوچا کہ ان حضرات نے فنِ تاریخ کو فنِ حدیث سے الگ کیوں کیا، ان کا کلام فنِ حدیث میں جس معیار تنقید و تحقیق پر ہوتا ہے فنِ تاریخ میں وہ معیار نہیں ہوتا، اس میں نہ سند مکمل ہونے کی ضرورت سمجھی جاتی ہے، نہ راویوں پر جرح و تعدیل کی، ان کی نظر میں خود یہ تاریخی روایات کا ذخیرہ اس کام کے لئے نہیں کہ ان سے کوئی عقیدے کا مسئلہ ثابت کیا جائے یا کسی کی ذات و شخصیت کو ان کی بناء پر بلا تحقیق مجروح قرار دے دیا جائے۔ صحابہ کرامؓ کا معاملہ تو بہت بالا و بلند ہے، عام مسلمانوں میں سے بھی کسی کو ان تاریخی روایات کی بناء پر بلا تحقیق کے مجروح، قابلِ سزا یا فاسق کہنے کی یا ایسے انداز میں پیش کرنے کی اجازت کسی کے نزدیک نہیں دی جا سکتی جس سے پڑھنے والے ان کو اقتدار پرست اور شریعت کے جائز و ناجائز سے بے فکر قرار دے۔
*تنبیہ*
یہ بات مقدمہ کتاب میں وضاحت سے لکھی جا چکی ہے کہ اس سے ہرگز لازم نہیں آتا کہ فنِ تاریخ کسی معاملے میں قابلِ اعتماد نہیں، وہ فضول و بےکار ہے۔ علمائے اسلام نے اس فن کی جو خدمتیں کی ہیں وہ اس کی اسلامی اہمیت کی شاہد ہیں اور مسلمان ہی درحقیقت اس فن کو باقاعدہ فن بنانے والے ہیں، مگر ہر فن کا ایک مقام اور درجہ ہوتا ہے، فنِ تاریخ کا یہ درجہ نہیں کہ صحابہ کرامؓ کی ذوات و شخصیات کو قرآن و سنت کی نصوص سے صَرفِ نظر کر کے صرف تاریخی روایات کے آئینے میں دیکھا جائے اور اس پر عقیدے کی بنیاد رکھی جائے۔ جس طرح فنِ طب کی کتابوں سے اشیاء کے حلال و حرام یا پاک و ناپاک ہونے کے مسائل و احکام ثابت نہیں کیے جا سکتے، اگرچہ طب کی یہ کتابیں اکابر علماء ہی کی تصنیف ہوں۔
*مشاجراتِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور کتب تاریخ*
یہاں یہ بات بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ عام واقعات و معاملات میں تاریخی روایات پر جتنا اعتماد کیا جا سکتا ہے، مشاجراتِ صحابہؓ کا معاملہ ایسا ہے کہ اس میں ان تاریخی روایات کے اعتماد کا وہ درجہ بھی قائم نہیں رہ سکتا۔ وجہ یہ ہے کہ اول تو مشاجرات جس حدِ قتل و قتال تک پہنچے ان میں بنیادی طور پر منافقین کی سبائی تحریک کا ہاتھ تھا جن کی اسلام دشمنی کھلی ہوئی ہے، پھر اسی تحریک کے نتیجے میں خود عہدِ صحابہؓ ہی کے اندر روافض و خوارج دو فرقے پیدا ہو گئے تھے، جو بعض صحابہؓ سے عداوت رکھتے تھے اور اس زمانے میں جیسے منافقین مسلمانوں کے ہر طبقہ، کام میں اسلامی شکل و صورت اور اسلامی رفتار و گفتار کے ساتھ شریک رہتے تھے اسی طرح یہ صحابہ کرامؓ کے مخالف گروہ بھی اس وقت آج کی طرح کسی ممتاز فرقے کے حیثیت میں نہ تھے کہ ان کی کتابیں حدیث و فقہ کی الگ ممتاز ہیں، ان کے سارے کام اہلِ سنت والجماعت سے الگ ہیں، اس وقت یہ صورت نہ تھی جس سے عام مسلمان متنبہ ہو سکتے، یہ سب کے سب مسلمانوں کی ہر جماعت، ہر طبقے میں ملے جلے تھے، بہت سے مسلمان بھی اپنے حسنِ ظن اور ان کے عدمِ امتیاز کی وجہ سے ان کی باتوں اور روایتوں پر اعتماد کر لیتے تھے، خود قرآنِ کریم نے ایک تفسیر کے مطابق بعض مسلمانوں کا منافقین کی باتوں سے متاثر ہونے کی تصریح فرمائی:
وَفِيۡكُمۡ سَمّٰعُوۡنَ لَهُمۡ۔ سَمّٰعُوۡنَ کے معنیٰ جاسوس کے ہیں۔ اس طرح منافقین اور روافض و خوارج کی گھڑی ہوئی روایتیں بہت سے ثقہ اور معتمد علیہ مسلمانوں کی زبانوں پر بھی اعتماد کے ساتھ جاری تھیں۔ یہ معاملہ حدیثِ رسول اللہﷺ کا تو تھا نہیں کہ اس میں روایات قبول کرنے میں کڑی احتیاط اور تیقظ کا مظاہرہ کیا جاتا، فتنوں اور ہنگاموں کے حالات اور ان میں مشہور ہونے والی روایات کا جن لوگوں کو تجربہ ہے وہ جانتے ہیں کہ شہر میں کسی جگہ کوئی ہنگامہ پیش آ جائے تو اسی زمانے اور اس کے شہر کے رہنے والے بڑے بڑے ثقہ لوگوں کی روایتوں کا بھروسہ نہیں رہتا، کیونکہ جس شخص سے انہوں نے سنا تھا اس کو ثقہ و معتمد سمجھ کر اس کی روایت بیان کر دی، مگر ہوتا یہ ہے کہ اس معتمد نے بھی خود واقعہ دیکھا نہیں، کسی دوسرے سے سنا اور یوں روایت در روایت ہو کر ایک بالکل بے سروپا افواہ ایک معتمد علیہ روایت کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
مشاجراتِ صحابہؓ کا معاملہ اس سے الگ کیسے ہو جاتا؟ جبکہ اس میں سبائی تحریک کے نمائندوں اور روافض و خوارج کی سازشوں کا بڑا دخل تھا۔ اس لیے اسلامی تواریخ جن کو اکابر علمائے محدثین اور دوسرے ثقہ و معتبر حضرات نے جمع فرمایا اور اصولِ تاریخ کے مطابق ہر طرح کی روایت جو کسی واقعے سے متعلق ان کو پہنچی تاریخی دیانت کے اصول پر سب کو بے کم و کاست درج کر دیا۔
تو اب سمجھ لیجیے کہ روایات کا مجموعہ کس درجہ قابلِ اعتماد ہو سکتا ہے؟ عام دنیا کے واقعات و حالات میں جو تاریخی روایات جمع کی جاتی ہیں ان میں اس طرح کے خطرات عموماً نہیں ہوتے، اس لیے کتبِ تواریخ کا وہ حصہ جو مشاجراتِ صحابہؓ سے متعلق ہے خواہ اس کے لکھنے والے کتنے بڑے ثقہ اور معتمد علماء ہوں ان کے اعتبار کا وہ درجہ بھی ہرگز باقی نہیں رہتا جو عام تاریخی واقعات کا ہوتا ہے۔
حضرت حسن بصریؒ نے ان معاملات میں جو کچھ فرمایا، اگر غور کرو تو اس کے سوا کوئی دوسری بات کہنے اور سننے کے قابل نہیں، حضرت حسن بصریؒ کا یہ ارشاد پہلے روایت نمبر 14 میں بحوالہ تفسیرِ قرطبی گزر چکا ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں:
وقد سئل الحسن البصریؒ عن قتالھم فقال: قتال شھدہ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم وغبنا وعلموا وجھلنا واجتمعوا فاتبعنا واختلفوا فوقفنا قال المحاسبی فنحن نقول کما قال الحسن ونعلم ان القوم کانوا اعلم بما دخلوا فیہ منا ونتبع ما اجتمعوا علیہ ونقف عند ما اختلفوا ولانبتدع رایا منا ونعلم انھم اجتھدوا وارادوا اللہ عزوجل اذ کانوا غیر متھمین فی الدین ونسال اللہ العافیہ۔(تفسیرِ قرطبی، سورۃ الحجرات: جلد 16، صفحہ 322)
ترجمہ: حضرت حسن بصریؒ سے قتالِ صحابہؓ کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: اس قتال میں رسول اللہﷺ کے صحابہ کرامؓ حاضر تھے اور ہم غائب، وہ لوگ حالات و واقعات اور اس وقت کی مقتضیاتِ شرعیہ سے واقف تھے، ہم ناواقف، اس لیے جس چیز پر ان کا اتفاق ہوا اس میں ہم نے ان کی پیروی کی، جس چیز میں ان کا اختلاف ہوا اس میں ہم نے توقف اور سکوت اختیار کیا۔
حضرت محاسبیؒ اس قول کو نقل کر کے حضرت حسنؒ کے قول کو اختیار کرتے ہیں اور آخر میں فرماتے ہیں کہ: ہم پوری طرح جانتے ہیں کہ ان حضرات نے اجتہاد کیا اور اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا ہی کے طالب تھے، کیونکہ دین کے معاملے میں یہ لوگ متہم نہیں تھے۔
*یہ عقل و انصاف کا فیصلہ ہے یا تحقیق حق سے فرار؟*
غور فرمائیں کہ ہنگامی حالات اور منافقین و روافض وخوارج کی روایات کے شیوع نے روایات میں جو تلبیس اور شبہات پیدا کر دیے تھے ایسے حالات میں حضرت حسن بصریؒ نے جو فیصلہ فرمایا وہ عقلِ سلیم اور عین عدل و انصاف کا فیصلہ ہے یا اندھی عقیدت مندی اور تحقیقِ حق سے فرار؟ نعوذ باللہ منہ
یہاں غور طلب یہ ہے کہ حضرت حسن بصریؒ جو اجلہ تابعین میں سے صحابہ کرامؓ کو دیکھنے والے ہیں، وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے باہمی اختلافات میں پیش آنے والا ہنگاموں کے بارے میں یہ فرماتے ہیں کہ ”ہمیں ان کے حالات معلوم نہیں“ جس کا حاصل یہی ہو سکتا ہے کہ حالات کا ایسا علم یقینی شرعی اصول کے مطابق نہیں ہے جس کی بناء پر کسی شخصیت پر کوئی الزام لگایا جا سکے۔
تو بعد کے آنے والے مؤرخین خواہ وہ ائمہ حدیث بھی ہوں، جیسے ابن جریر، ابن اثیر وغیرہ ان کو صدیوں کے بعد ان حالات کا علم اس پیمانے پر کیسے ہو سکتا تھا جن پر کسی عقیدے یاعمل کی بنیاد رکھی جا سکے اور نہ انہوں نے اس کا دعویٰ کیا ہے، بلکہ فنِ تاریخ کا جو چلا ہوا دستور ہر طرح کے موافق و مخالف، صحیح و سقیم روایات جمع کر دینا ہے، اس کے مطابق انہوں نے اپنی تاریخ میں ہر طرح کی روایات جمع کی ہیں۔
حضرت حسن بصریؒ کا یہ فیصلہ تو ایسا ہے کہ اس میں کسی عقیدے اور مذہب کا کوئی دخل نہیں، کوئی غیر مسلم بھی اگر انصاف پسند ہو تو اس کو بھی روایاتِ تاریخی کے التباس وتضاد کے عالم میں اس کے سوا کسی فیصلے کی گنجائش نہیں کہ بے خبری اور ضروری قابلِ اعتماد معلومات نہ ہونے کی بناء پر سکوت کو اسلم قرار دے۔
اور جن حضراتِ علماء نے قرآن و سنت کی نصوص کی بناء پر یہ قرار دیا کہ ان میں سے جس کسی پر کوئی واقعی الزام کسی گناہ و خطاء کا ثابت بھی ہو جائے تو انجام کار وہ اس گناہ و خطاء سے بھی عنداللہ بری ہو چکے ہیں، اس لیے اب کسی کے لیے جائز نہیں کہ ان کے ایسے اعمال کو مشغلہ بحث بنائے، اس کا مستشرقین انکار کریں تو کر سکتے ہیں کہ ان کا قرآن و رسولﷺ پر ایمان ہی نہیں، وہ ان کے ارشادات کو بھی غلط بتاتے ہیں، ان کی بناء پر کسی کی توثیق و تعدیل کیسے کریں؟ مگر کسی مسلمان کے لیے تو ان کی مدافعت میں بھی اس کی گنجائش نہیں کہ ان کے اس کفر و انکار کو تسلیم کر کے اس بحث میں الجھ جائے جس کا جال مستشرقین نے اسی لئے پھیلایا ہے کہ قرآن و سنت سے ناواقف یا بے فکر مسلمان اس میں الجھ کر اپنے صحابہ کرامؓ کے مقدس گروہ کا اعتماد کھو بیٹھیں۔ ایسے لوگوں کی مدافعت بھی کرنا ہے تو اس کا محاذ یہ نہیں کہ جہاں وہ مسلمانوں کو کھینچ کر لانا چاہتے ہیں بلکہ ان کی جنگ کا محاذ یہ ہے کہ ان سے قرآن و رسولﷺ کی حقانیت اور صدق پر کلام کیا جائے، جو اس کو نہیں مانتا اس سے مسلمانوں کے کسی گروہ و جماعت کا تقدس منوانے کا کیا راستہ ہے؟ ایسے حالات میں تو مسلمانوں کی راہِ عمل قرآن نے بتلا دی ہے کہ: لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دِيْنِ
یعنی تمہارے لیے تمہارا دین ہے، ہمارے لیے ہمارا
کہ کر اپنے ایمان کی حفاظت اور اس کو مضبوط کرنے کی فکر میں لگ جائیں، مسلمانوں کو قرآن و سنت کی نصوص سے مطمئن کریں اور غیروں کے اعتراضات کی فکر چھوڑ دیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ جمہور علماء امت نے جو مشاجرات صحابہؓ میں کفِ لسان اور سکوت کو اسلم قرار دیا اور اس میں بحث و مباحثہ کو خطرہ ایمان بتلایا، یہ کورانہ عقیدت مندی کا نتیجہ نہیں بلکہ عقل سلیم اور عدل و انصاف کا فیصلہ ہے۔
جن حضرات نے اس زمانے میں پھر ان مشاجراتِ صحابہؓ کو موضوعِ بحث بنا کر کتابیں لکھی ہیں، اگر واقعی ان کا مقصد اس سے ملحدین و مستشرقین کا جواب اور مدافعت ہے تو ان کا فرض ہے کہ یا تو حضرت حسن بصریؒ کے طریق پر ان کو ان کی اس گمراہی پر متنبہ کریں کہ اعمال و اخلاق اور کردار و عمل کے اعتبار سے جن انسانی ہستیوں کو دوست دشمن، موافق مخالف سب نے بڑی حیثیت دی ہے، ان کو بے اعتبار اور مجروح کرنے کے لیے جو ہتھیار تم استعمال کر رہے ہو وہ ہتھیار کند و ناکارہ ہیں، تاریخ کی بے سند، بے تحقیق روایات سے کسی بھی شخصیت کو ملزم قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک وہ تواتر کی حد کو نہ پہنچ جائے۔
یا پھر ان کو یہ بتلا دینا چاہیے کہ ہم بحمدللہ مسلمان ہیں، اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان رکھتے ہیں، جن شخصیتوں کی تعدیل و توثیق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے کر دی اس کے خلاف اگر کوئی بھی روایت ہمارے سامنے آئے گی، ہم اس کو بمقابلہ قرآن و سنت کی نصوص کے جھوٹ و افتراء یا کم از کم مرجوح اور مجروح قرار دیں گے۔
قُلۡ هٰذِهٖ سَبِيۡلِىۡۤ اَدۡعُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ عَلٰى بَصِيۡرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِىۡ (سورۃ یوسف آیت: 108)
ان دو طریقوں کے سوا کوئی تیسرا طریقہ مستشرقین و ملحدین کی مدافعت کا نہیں ہو سکتا اور اگر خدانخواستہ اس بحث سے مقصود مدافعت نہیں محض ”تحقیق و ریسرچ“ کا شوق پورا کرنا ہے، تو یہ نہ اپنے ایمان کے لیے کوئی اچھا عمل ہے، نہ مسلمانوں کے لیے کوئی اچھی خدمت۔
*درد مندانہ گزارش*
میں اس وقت اپنی عمر کے آخری ایام، مختلف قسم کے امراض اور روز افزوں ضعف کی حالت میں گزار رہا ہوں، زندگی سے دور، موت سے قریب ہوں، یہ وہ وقت ہے جس میں فاسق و فاجر بھی توبہ کی طرف لوٹتا ہے، جھوٹا آدمی سچ بولنے لگتا ہے، ضدی آدمی اپنی ضد چھوڑ دیتا ہے۔
گریہ شام سے تو کچھ نہ ہوا
ان تک اب نالہ سحر جائے
دل مجروح کی صدا ہے یہ
کاش! دل میں تیرے اتر جائے
اس وقت کسی تصنیف و تالیف کے شوق نے مجھے یہ صفات نہیں لکھوائے، بلکہ امتِ مسلمہ کا وہ سویا ہوا فتنہ جس نے اپنے وقت میں ہزاروں لاکھوں کو گمراہ کر دیا تھا، اس وقت ملحدین اور مستشرقین کی گہری چال سے اس کو پھر بیدار کر کے مسلمانوں کو تباہ کرنے والے بہت سے فتوں میں سے ایک اور نئے فتنے کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ملحدین ومستشرقین کی شرارتوں اور اسلام دشمنی سے ہمارے عوام اور نوتعلیم یافتہ حضرات نہ سہی، مگر علم و بصیرت رکھنے والے مسلمان تو کم از کم واقف ہیں، ان کی باتوں سے اتنے متاثر نہیں ہوئے، مگر ہمارے ہی مسلمان اہلِ قلم حضرات کی ان کتابوں نے وہ کام پورا کر دیا جو مستشرقین نہ کر سکتے تھے کہ خود لکھے پڑھے اہلِ علم اور پختہ ایمان مسلمانوں کے ذہنوں کو صحابہ کرامؓ کے بارے میں متزلزل کر دیا اور حدود مذہب و دین سے آزاد علومِ قرآن و سنت سے بے خبر نو تعلیم یافتہ نوجوانوں میں تو ان حضرات پر اس طرح طعن و تشنیع اور جرح و تنقید ہونے لگی جیسے موجودہ زمانے کے اقتدار پرست لیڈروں پر ہوتی ہے۔
اور یہ گمراہی کا وہ درجہ ہے کہ اس کے بعد قرآن و سنت، توحید و رسالت اور اصولِ دین بھی مجروح و ناقابلِ اعتبار ہو جاتے ہیں۔
اس لیے عام مسلمانوں کی اور اپنے نوخیز تعلیم یافتہ طبقے کی اور خود ان حضراتِ مصنفین کی خیر خواہی اور نصیحت کے جذبے سے یہ صفحات سیاہ کیے ہیں۔ کیا عجیب ہے کہ حق تعالیٰ ان میں اثر دے اور یہ حضرات میری گزارشات کو خالی الذہن ہو کر پڑھ لیں، جواب دہی کی فکر نہ کریں، اپنی آخرت کو سامنے رکھ کر اس پر غور کریں کہ نجاتِ آخرت کا راستہ جمہور امت کی راہ سے الگ نہیں ہو سکتا۔ جس معاملے میں ان حضرات نے سکوت اور کفِ لسان کو اختیار کیا وہ کسی بزدلی یا خوفِ مخالفت سے نہیں بلکہ عقلِ سلیم اور اصولِ دین کے مطابق سمجھ کر اختیار کیا، ان کے طریق سے الگ ہو کر محققانہ بہادری دکھانا کوئی اچھا کام نہیں ہو سکتا۔ اگر اپنی کوئی غلطی واضح ہو جائے تو آئندہ اس سے بچنے اور مسلمانوں کو بچانے کا اہتمام کریں اور جتنا ہو سکے سابقہ غلطی کا تدارک کریں۔ یہ بحثیں اور سوال و جواب کی طمطراق بہت جلد ختم ہونے والی ہے اور اس کا ثواب یا عذاب باقی رہنے والا ہے
مَا عِن٘دَکُم٘ یَن٘فَدُ وَمَا عِن٘دَاللّٰہِ بَاقٍ
نہ یہ نقش بستہ مشوشم نہ بہ حرف ساختہ سرخوشم
لفسنےبیاد تو می زنم چہ عبارت و چہ معانیم
آخر میں اپنے لیے اور سب اہلِ علم بھائیوں کے لیے اس دعا پر ختم کرتا ہوں:
اَللّٰھُمَّ أَرِنَا ال٘حَقَّ حَقًّا وَّ ار٘زُق٘نَا اتِّبَاعَهٗ وَ أَرِنَا ال٘بَاطِلَ بَاطِلًا وَ ار٘زُق٘نَا اج٘تِنَابَهٗ
وصلی اللہ علی خیر خلقہ وصفوة رسلہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم وعلى اصحابہ خيار الخلائق بعد الانبیاء ونسال اللہ ان یرزقنا حبھم وعظمتھم ویعیذنا من الوقوع فی شیء یشینھم وان یحشرنا فی زمرتھم۔قد اخذت فی تسویدہ لغرة ربیع الاول 1391ھ فجاء بعون اللہ سبحانہ وحمدہ فی احد عشر یوماً کما تراہ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اسئل ان یتقبلہ
بندہ ضعیف و ناکارہ
محمد شفیع عفا اللہ عنہ
خادم دارالعلوم کراچی
یوم الجمعہ 11 ربیع الاول 1391ھ