مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 33

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

 اَلْحَم٘دُ لِلّٰهِ عَدَدَ كَلِمَاتِهٖ وَزِنَةَ عَر٘شِهٖ وَرِضىٰ نَف٘سِهٖ وَالصَّلوٰةُ وَالسَّلَامُ عَلىٰ خَي٘رٍ خَل٘قِهٖ وَصَف٘وَةِ رُسُلِهٖ مُحَمَّدٍ وَاٰلِهٖ وَصَح٘بِهِ الَّذِي٘نَ هُم٘ نُجُو٘مُ الْمُه٘تَدى بِهِم٘ وَالْقُد٘وَة وَال٘أُس٘وَة فِي مَعَانِي ال٘قُر٘اٰنِ وَالسُّنَّةِ وَهُمُ ال٘أَدِلَّاءُ عَلَى الصِّرَاطِ ال٘مُس٘تَقِي٘مِ بَع٘دَ رَسُو٘لِهٖ صَلَّى اللَّهُ عَلَي٘هِ وآلہ وَسَلَّمَ ، اَمَّا بَع٘دُ۔

زیرِ نظر مقالے کا نام ”مقامِ صحابہؓ“ رکھا ہے تا کہ پہلے ہی یہ معلوم ہو جائے کہ یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل و مناقب کی کتاب نہیں، اس موضوع پر سینکڑوں کتابیں بحمد للہ ہر زبان میں موجود ہیں اور تمام کتبِ حدیث میں اس کے ایک نہیں بہت سے ابواب موجود ہیں۔ صحابہ کرامؓ کا تو مقام بہت بلند ہے، عام صلحاء و اولیائے اُمت کے فضائل و مناقب اور ان کی حکایات انسان کو راہِ راست دکھانے اور اس میں دینی انقلاب پیدا کرنے کے لیے نسخہ اکسیر ہیں، مگر وہ اس رسالے کا موضوع نہیں۔ اسی طرح اس عنوان سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ کوئی تاریخ کی کتاب بھی نہیں، جس میں افراد و رجال کے اچھے برے حالات درج ہوتے ہیں اور ان میں احوال کی کثرت وقلت کے تناسب سے کسی کو بزرگ صالح اور ولی کہا جاتا ہے، کسی کو فاسق و ظالم۔

کیونکہ انبیاء علیہم السلام کے بعد دنیا کا کوئی اچھے سے اچھا انسان ایسا نہیں جس سے کوئی لغزش اور غلطی نہ ہوئی ہو، اسی طرح کوئی بُرے سے برا انسان ایسا بھی نہیں جس سے کوئی اچھا کام نہ ہوا۔ بس مدار کار اس پر رہتا ہے کہ جس شخص کی زندگی اچھے اخلاق و اعمال میں گزری ہے اس کا صدق و اخلاص بھی اس کے عمل سے پہچانا گیا ہے، اس سے کوئی گناہ یا غلطی بھی ہوگئی تو بھی اس کو صلحائے امت ہی کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسی طرح جو شخص اپنی عام زندگی میں دین کی حدود و قیود کا پابند، احکامِ شرعیہ کا تابع نہیں ہے اس سے دو چار اچھے بلکہ بہت اچھے کام بھی ہو جائیں تو بھی اس کو صلحاء و اولیاء کی فہرست میں شمار نہیں کیا جاتا۔

فنِ تاریخ کا کام اتنا ہے کہ واقعات کو دیانت داری سے ٹھیک ٹھیک بیان کر دے، اس سے نتائج کیا نکلتے ہیں اور کسی فرد یا جماعت کا دینی یا دنیاوی مقام ان واقعات کی روشنی میں کیا ٹھہرتا ہے؟ یہ فنِ تاریخ کے موضوع سے الگ ایک چیز ہے، جس کو ”فقہ التاریخ“ تو کہہ سکتے ہیں، ” تاریخ" نہیں۔

پھر عام دنیا کے افراد و رِجال اور جماعتوں کے بارے میں یہ "فقہ التاریخ" انہیں تاریخی واقعات پر مبنی ہوتا ہے اور فنِ تاریخ کا ہر واقف و ماہر ایسے نتائج اپنی اپنی فکر و نظر کے مطابق نکال سکتا ہے۔

"مقامِ صحابہؓ" میں مجھے یہ دکھلانا ہے کہ رسول اللہﷺ کے ساتھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس معاملے میں عام دنیا کے افراد و رجال کی طرح نہیں کہ ان کے مقام کا فیصلہ نری تاریخ اور اس کے بیان کردہ حالات کے تابع کیا جائے بلکہ "صحابہ کرامؓ" ایک ایسے مقدس گروہ کا نام ہے جو رسول اللہﷺ اور عام اُمت کے درمیان اللہ تعالیٰ کا عطا کیا ہوا ایک واسطہ ہے، اس واسطے کے بغیر نہ امت کو قرآن ہاتھ آسکتا ہے، نہ قرآن کے وہ مضامین جن کو قرآن نے رسول اللہﷺ کے بیان پر چھوڑا ہے، لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيۡهِمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَفَكَّرُوۡنَ‏ (سورۃ النحل آیت: 44) نہ رسالت اور اس کی تعلیمات کا کسی کو اس واسطے کے بغیر علم ہو سکتا ہے۔

یہ رسول اللہﷺ کی زندگی کے ساتھی، آپ کی تعلیمات کو تمام دنیا اور اپنے زن و فرزند اور اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھنے والے، آپ کے پیغام کو اپنی جانیں قربان کر کے دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلانے والے ہیں۔ ان کی سیرت رسول اللہﷺ کی سیرت کا ایک جزء ہے، یہ عام دنیا کی طرح صرف کتبِ تاریخ سے نہیں پہچانے جاتے بلکہ نصوصِ قرآن وحدیث اور سیرتِ رسول اللہﷺ سے جانے پہچانے جاتے ہیں، ان کا اسلام اور شریعت اسلام میں ایک خاص مقام ہے۔ میں اس مقالے میں اسی مقام کو ”مقامِ صحابہؓ“ کے عنوان سے پیش کرنا چاہتا ہوں۔

اس کی ضرورت و اہمیت تو بہت زمانے سے پیشِ نظر تھی مگر اس کے لکھنے کا ایسا قوی داعیہ جو دوسرے کاموں کو مؤخر کر کے اس میں لگا دے اس وقت پیدا ہوا جبکہ یہ ناکارہ اپنی عمر کی چھیترویں منزل سے گزر رہا ہے، قویٰ جواب دے چکے ہیں، مختلف قسم کے امراض کا غیر منقطع سلسلہ ہے، علم و عمل پہلے ہی کیا تھا، اب جو کچھ تھا وہ بھی رخصت ہو رہا ہے۔

ان حالات میں یہ داعیہ قوی ہونے کا سبب موجودہ زمانے کے کچھ حوادث ہیں، یہ تو سب کو معلوم ہے کہ امت کے گمراہ فرقوں میں سے ایک فرقہ جو عہدِ صحابہؓ ہی میں پیدا ہو گیا تھا، صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی سے پیش آتا ہے، اور اسی بناء پر عام امتِ محمدیہ اس سے منقطع ہے، مگر امت کے عام فرقے خصوصاً جمہورِ امت جن کو اہلِ السنۃ والجماعۃ کے لقب سے ذکر کیا جاتا ہے، وہ سب کے سب صحابہ کرامؓ کے خاص مقام اور ادب و احترام پر متفق اور ان کی عظیم شخصیتوں کو اپنی تنقیدات کا نشانہ بنانے سے گریز کرتے رہے، اور اس کو بڑی بے ادبی سمجھتے رہے۔ مسائل میں اختلافِ صحابہؓ کے وقت دو متضاد چیزوں پر ظاہر ہے کہ عمل نہیں ہو سکتا، ان میں سے ایک کو اجتہادِ شرعی کے ساتھ اختیار کرنا اور بات ہے، وہ کسی شخصیت کو ہدف تنقید بنانے سے بالکل مختلف چیز ہے۔

تحقیق کی وبا

صفحہ 1 از 33