یہودیوں کا مختصر تعارف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

یہودیوں کا مختصر تعارف

  مولانا غلام محمد

صفحہ 1 از 6

یہودیوں کا مختصر تعارف

یہودی اللہ کے جلیل القدر پیغمبر سیدنا یعقوب علیہ السلام جن کا لقب اسرائیل ہے ان کے بڑے فرزند یہودا کی اولاد ہونے کی طرف نسبت کرتے ہیں۔ لہٰذا ان لوگوں میں نسلی امتیاز کے متعلق ایسا فخر و نخوت کا عنصر کار فرما ہے یہ دوسرے کسی کے لیے یہودیت میں آنے کو قبول ہی نہیں کرتے اقوام عالم کی تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہودی فطری طور پر اللہ تعالیٰ کے منکر دھوکہ دینے والے جھوٹے شرارتی سازشیں فسادی اور ایک دوسرے کو آپس میں لڑانے والے ( پھر چاہے ان کو فائدہ پہنچے یا نہ پہنچے) ہیں اور یہ ان کا شروع سے کردار رہا ہے قرآن مجید میں سابقہ اقوام کے حالات کے ذیل میں سب سے زیادہ اسی قوم کا تذکرہ ملتا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ اس قوم کو اپنی نعمتیں عطا کیں لیکن یہ قوم سب سے زیادہ نافرمان شریر اور سازشی ثابت ہوئی مسلسل نافرمانیوں کے بعد ان کو وعیدیں سنائی گئیں تنبیہات کی گئیں درگزر کیا گیا اور ان کو دیگر نئے نئے انعامات سے نوازا گیا ہدایت کے لیے سب سے زیادہ پیغمبر اس قوم میں مبعوث ہوئے لیکن دنیا اور اس کی لذتوں کی حرص میں اور اس کو حاصل کرنے کے لیے ہر قسم کی سازشیں اور ناجائز حرب اس قوم کی فطرت ثانیہ بن چکی تھی کتمان حق اور اس کو ختم کرنے کی ہر قسم کی سازشیں ان کی طبیعت کا لاینفک حصہ بن چکی تھیں نبیوں کی شدید مخالفت ان کی بتائی ہوئی تعلیم اور کتابوں میں تبدیلی اور اپنی پسند کی تحریفیں کرنا یہودیوں کا خاص مشغلہ تھا نیکیوں اور نیکوکار لوگوں کی مخالفت ان کو ستانے اور ختم کرنے کی سازش میں یہودی اتنے آگے بڑھ چکے تھے کہ بے شمار پیغمبر ان کے ہاتھوں شہید ہوئے بالآخر ان گناہوں اور نافرمانیوں کی پاداش میں ان کے اوپر اللہ تعالیٰ کا دائمی قہر نازل ہوا اور ان کے اوپر ابدی ذلت مسلط کی گئی جس کا ذکر قران مجید میں اس طرح ہے

وَضُرِبَتۡ عَلَيۡهِمُ الذِّلَّةُ وَالۡمَسۡکَنَةُ وَبَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ‌ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَانُوۡا يَكۡفُرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَيَقۡتُلُوۡنَ النَّبِيّٖنَ بِغَيۡرِ الۡحَـقِّ‌ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوا وَّڪَانُوۡا يَعۡتَدُوۡنَ۞

یعنی ان پر خواری اور محتاجی ڈالی گئی اور وہ اللہ تعالیٰ کے غضب میں لوٹے وہ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیات کو نہیں مانتے تھے اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے تھے ( سورۃ البقرہ آیت 61)

اس وقت محترم علی اکبر کی ایک انگریزی میں شاہکار تصنیف (رسالہ) کا اردو ترجمہ اسرائیل قرانی پیشنگوئیوں کی روشنی میں میرے سامنے ہے یہ تصنیف 81_2×11 سائز میں 50 صفحات پر مشتمل ہے اس میں ہے

"انہیں ( یہودیوں کو ) پرتگال اور اسپین سے نکالا گیا انگلینڈ سے انہیں 1690 میں باہر نکال دیا گیا انہیں دو مرتبہ ایک 1306 میں اور دوسرا 1394 نکالا گیا بلجیم سے 1370 اور چیکو سلوا کیہ سے 1380 میں انہیں جلا وطن کیا گیا تھائی لینڈ نے 1444 اور اٹلی نے 1540 میں ان کو نکال باہر کیا جرمنی نے 1551 میں انہیں باہر دھکیل دیا روس نے 1510 میں ان کو نکال دیا اصل میں شروع ہی سے ان کی قسمت میں جلاوطنی رہی ہے اور یہ ان کے لیے آسمانی عتاب، قرانی عتاب ( قرآنی وعید ) اور لعنت کی ایک صورت ہے اگرچہ یہ اپنی فریبی میں خود کو خدا کی برگزیدہ قوم سمجھتے ہیں

( اسرائیل قرآنی پیشن گوئیوں کی روشنی میں 19_____18)

ایک جگہ یہودیوں کے دو معتبر کتابوں تالمود اور مشناہ کے حوالے سے لکھتا ہے

غیر یہود کی جائیداد اور دولت یہودیوں کے لیے روا ہے اگر وہ جان اور مال پر تصرف اور اختیار استعمال کرنے کے لیے چنا گیا ہے یہود کو خدا کی طرف سے اذن ہے کہ وہ غیر یہود سے سود قبول کریں اور ان کے لیے سود کے شرط لگائے بغیر ادھار دینا ممنوع ہے ٹھہرایا گیا ہے

ایک جگہ لکھتے ہیں

یہود جو کہ بخت نصر بابل والوں فراعنہ رومیوں اہل فارس عیسائیوں اور ہٹلر کی نازی جرمنی پارٹی کے ہاتھوں جہاں وہ کوئی 60 لاکھ ہلاک ہوئے نخوت تکبر اور بدتمیزی سے باز نہیں آئے اور بزعم خود کہتے ہیں کہ وہی خدا کی واحد منتخب قوم ہے اور اس کی وجہ سے دوسری تمام اقوام پر فائق ہیں (اسرائیل قرانی پیشنگوئیوں کی روشنی میں خلاصہ 60)

اللہ تعالی کے قہر اور لعنت کے بعد اس حق اور صداقت کی ازلی دشمن قوم کے مزاج اور کردار میں آج تک فرق نہیں آیا ابتدا سے لے کر آج تک اس قوم کو جہاں بھی اور جب بھی کوئی صداقت اور نیکی کی آواز سنائی دی ہے تو ہر قسم کی سازش سے اس قوم نے پہلے اس آواز کو دبانے اور آخر میں پیغام حق کی شکل تبدیل کر کے اور اسی طریقے سے اس کو ختم کرنے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا ہے

بنی اسرائیل کے نبیوں کے طویل سلسلے کے آخری پیغمبر سیدنا عیسی علیہ السلام تھے ان کو اور آپ کے حواریوں کو حد سے زیادہ اذیتیں پہنچا کر اور قیصر روم کو برانگیختہ کر کے بالاخر اللہ تعالی کے اس برگزیدہ پیغمبر کو صلیب تک پہنچانے میں اس ازلی بدبخت قوم کا ہاتھ تھا اس کے بعد جب عیسائیت پوری قوت سے پھیلنے لگی اور ان لوگوں کے لیے اس کی اشاعت کو روکنا مشکل ہو گیا تو اسی سازش قوم نے اپنے قدیم دستور کے مطابق عیسائیت میں تحریف اور تبدیلی کے لیے ہر ممکن کوشش کی چنانچہ ظاہر میں خود مسیحی بن کر مسیحیت میں ایسے طریقے سے تبدیلی اور تحریف کر دی جو پہلی صدی عیسوی کے اختتام پر یہ اسمانی ہدایت اور وحدانیت والا مذہب تبدیل ہو کر مکمل طور پر تثلیث کے مشرکانہ عقیدے اور دوسرے مشرکانہ رسومات عبادات اور اعمال کا مجسمہ بن گیا (ذرا اندازہ لگائیں)

صفحہ 1 از 6