سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فقہ و فتاویٰ کا مرکز بنانا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 8

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وقت اس دار فانی کو چھوڑ کر اپنے رفیق اعلیٰ سے جا ملے، اس وقت مدینہ اسلامی ریاست کا دارالخلافہ اور خلافت اسلامیہ کا مرکز تھا۔ وہیں پر صحابہ کرامؓ اسلامی احکام کے استخراج و استنباط میں سر توڑ کوشش کرتے تھے۔ جو فتوحات کی کثرت اور اسلامی دائرہ حکومت کی وسعت کے بعد اسلامی معاشرہ میں پیدا ہونے والے جدید حالات کی ایک ضرورت تھی۔ دیگر شہروں کے مقابلے میں مدینہ کا ایک مخصوص و ممتاز مقام تھا، مدنی معاشرہ میں نبی اکرمﷺ نے زندگی گزاری اور اسی سماج میں آپؓ کے ہاتھوں سے ان غنچوں کی تربیت ہوئی تھی، جو خیر الامت تھے اور لوگوں کی اصلاح کے لیے تھے۔ اس خصوصیت کی بنا پر کوئی دوسرا معاشرہ مدنی معاشرہ کا ہم سر نہیں ہو سکتا، نیز مدتِ خلافت کے ابتدائی دس سالوں تک منفرد ذاتی خصوصیات اور کامیاب حکومتی سیاست کے ساتھ مدینۃ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حضرت عمرؓ کی موجودگی کا ایک بڑا اثر یہ ہوا کہ پہلی اور دوسری صدی میں مدینۃ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیث و فقہ اور قانونِ شریعت کا پہلا مدرسہ بن کر سامنے آیا۔

سیدناعمرؓ کے دورِ خلافت میں مدینہ صحابہ کرامؓ رضی اللہ عنہم کا خصوصاً ان صحابہ کرامؓ کا جنہوں نے ابتدائی مرحلہ میں اسلام کی طرف سبقت کی تھی، انسٹیٹیوٹ ایوان علم و فن تھا۔ حضرت عمرؓ نے ان کی بھلائی اور اس ضرورت کے پیشِ نظر ان کو اپنے پاس روک لیا تھا کہ امت کے مسائل کی سیاست و تدبیر میں وہ لوگ سیدنا عمرؓ کے معاون ہوں گے۔ آپؓ نے ان لوگوں کو ان کے علم سے فائدہ اٹھانے اور ان کے مشورہ و خیالات سے رہنمائی حاصل کرنے کی نیت سے ان کے اخلاص پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے پاس روکا تھا اس طرح ان صحابہ کرامؓ کا علم مدینہ میں باقی رہا اور فتویٰ دینے والے فقہاء صحابہ کی تعداد 130 تک پہنچ گئی۔ کثرت سے فتویٰ دینے والے سات لوگ تھے۔ ان کے نام ہیں: عمر، علی، عبداللہ بن مسعود، عائشہ، زید بن ثابت، عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم اجمعین ۔

ابو محمد بن حزم کا کہنا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے فتویٰ کی الگ الگ ضخیم جلدیں تیار ہو سکتی ہیں۔ 

(المدینۃ النبویۃ فجر الإسلام والعصر الراشدی: جلد 2 صفحہ 45)

اور جن صحابہؓ کے فتاویٰ متوسط تعداد و مقدار میں ہیں ان میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس لیے کہ وفات النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد مختصر مدت تک زندہ رہے، پھر وفات پا گئے۔ اسی طرح اس زمرہ میں ام سلمہ، انس بن مالک، ابوسعید خدری، ابو ہریرہ، عثمان بن عفان، عبداللہ بن زبیر، ابو موسیٰ اشعری، سعد بن ابی وقاص، جابر بن عبداللہ، معاذ بن جبل، طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف، عمران بن حصین، اور عبادہ بن صامت رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی شامل ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ الگ الگ چھوٹی چھوٹی جلدیں ان کے فتاویٰ کی تیار ہو سکتی ہیں۔ 

(المدینۃ النبویۃ فجر الإسلام والعصر الراشدی: جلد 2 صفحہ 45)

مذکورہ افراد میں سے اکثر لوگ حضرت عمرؓ کے عہدِ خلافت میں مدینہ ہی میں رہے، صرف وہی لوگ باہر گئے جنہیں اسلامی حکومت کی وسعت کے نتیجہ میں مفتوحہ ممالک کے باشندگان کو قرآن و احادیث نبویﷺ کی تعلیم دینے کی غرض سے حضرت عمرؓ نے تعلیمی یا جہادی مہم پر بھیج دیا تھا۔ درحقیقت فاروقی سیاست ہی کے نتیجہ میں مدینہ مرکز علم و فقہ، اور دانشوران و مشیرگان کا شہر بنا، اس فاروقی سیاست کی کامیابی پر ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا یہ واقعہ واضح ثبوت ہے: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے میں چند مہاجرین کا استاد تھا، میرے شاگردوں میں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی تھے، ایک مرتبہ جب میں ’’منیٰ‘‘ میں ان کی قیام گاہ پر تھا تو اس وقت وہ سیدنا عمرؓ کے پاس تھے اور یہ حضرت عمرؓ کا آخری حج تھا۔ عبدالرحمٰن میرے پاس آئے اور کہا: اگر آپؓ اس آدمی کو دیکھتے جو آج امیر المؤمنین کے پاس آیا اور کہا کہ اے امیر المؤمنین! کیا آپ فلاں آدمی کی خبر لیں گے؟ وہ کہتا ہے: اگر عمر فوت ہو جاتے تو میں فلاں سے بیعت کر لیتا، اللہ کی قسم سیدنا ابوبکرؓ کی بیعت ہنگامی حالت میں ہوئی تھی اور پوری ہوئی۔ سیدنا عمرؓ یہ سن کر غضب ناک ہوئے اور فرمایا: میں ان شاء اللہ آج شام کو لوگوں کے درمیان ایک تقریر کروں گا اور سب کو ان لوگوں سے خبردار کروں گا جو مسلمانوں کی حکومت کو ان سے غصب کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت عبدالرحمٰنؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: نہیں، امیر المؤمنین ایسا نہ کیجیے، کیونکہ یہ حج کا موسم ہے اس میں جاہل، گنوار اور نالائق طبیعت کے لوگ بھی اکٹھے ہوتے ہیں۔ جب آپؓ تقریر کرنے کھڑے ہوں گے تو یہی لوگ آپؓ کے نزدیک ہوں گے اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپؓ کوئی بات کسی مقصد سے کہیں اور لوگ اسے اوپر ہی سے لے اڑیں۔ نہ تو اس کی حقیقت سمجھیں اور نہ ہی صحیح معنیٰ و مراد پر محمول کریں۔ لہٰذا مناسب ہے کہ ابھی آپؓ کچھ نہ کہیں یہاں تک کہ مدینہ پہنچ جائیں، اس لیے کہ وہ دارالہجرت اور دارالسنہ ہے۔ پھر وہاں آپؓ شرفاء اور سمجھ بوجھ والے لوگوں کو بلائیں اور جو کہنا ہو وہاں پورے اعتماد اور قوت سے کہیں تاکہ اہلِ علم آپ کی بات کو اچھی طرح سمجھ لیں اور اس کو صحیح معنیٰ و مراد پر محمول کریں۔ تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: سنیے، اللہ کی قسم! ان شاء اللہ مدینہ پہنچنے کے بعد میں سب سے پہلے یہی کروں گا۔ 

(صحیح البخاری: کتاب الحدود: حدیث 6830)

حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ اس حدیث سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ ’’مدینہ والے ہی علم و فہم اور دانائی کے مالک ہیں، اس لیے کہ عمر اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما مدینہ والوں کی اس خصوصیت پر متفق تھے۔‘‘ آگے فرماتے ہیں کہ ’’یہ استدلال صرف ان لوگوں کے حق میں صحیح ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں تھے، نیز جو صحابہؓ مدینہ والوں کے ہم پلہ تھے ان کا بھی یہی حکم ہے اور معلوم ہوا کہ مذکورہ اختصاص سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر دور میں مدینہ کے ہر فرد کی یہی خصوصیت باقی رہے۔‘‘ 

(فتح الباری: جلد 12 صفحہ 155، المدینۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 46 )

صفحہ 1 از 8