اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید

  توقیر احمد

صفحہ 1 از 18

 اہل تشیع کا اصول دین التوحید

بنام مفتی عبدالعزیزعزیزی دامت براکاتھم

 فہرست

 اہل اسلام کی توحید

 عبادت کا مفہوم

 ہر قسم کی عبادت صرف اللہ کے لئے ہے

 غیبی مدد کے لیے پکار صرف اللہ کے

 عبادت کی طرح پکار بھی صرف اللہ کے لئے ہے

 مصیبت کے وقت ہر دور کے رسول اور مومنین اللہ ہی کو پکارتے تھے

 منت صرف اللہ کا حق ہے

 پریشان حال کی پکار کو قبول کر کے اللہ ہی مصیبت دور کرتا ہے

 غیبی مدد کے لیے پکار صرف اللہ

 درباروں کا حج بیت اللہ کے حج سے بڑا عمل ہے

 عرفات کے دن کربلا کی زیارت

 قبرے حسین رضی اللہ عنہ کی زیارت تمام اعمال سے افضل ہے

 بقول شیعہ کربلا کعبہ سے افضل ہے

 حسین رضی اللہ عنہ کے زائرین کے پاس فرشتے آتے ہیں اور ان سے اللہ تعالی سرگوشیاں کرتا ہے

 قبروں کا طواف

 قبرکے پاس نماز

 قبروں پر اوندھا گرنا

 خلاصہ عنوانات

 شیعہ کا نقوش و رموز کے ساتھ پکارنا اور نامعلوم سے فریاد رسی کرنا

 شیعہ کا جاہلیت کے تیروں سے مشابہ اشیاء کے ساتھ استخارہ کرنا

 اثبات میں غلو کی گمراہی جسے تجسیم وتعطیل کہا جاتا ہے

 شیعہ مذہب کا پہلا اصول توحید

 اہل اسلام کی توحید

اسلام میں توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی ذات و صفات میں وحدہٗ لاشریک ہے یعنی نہ اس کی ذات کے برابر کوئی ذات ہے اور نہ ہی اس کی صفات میں کوئی ذاتی یا عطائی طور پر اس کا شریک ہے

وہی الحیی القیوم یعنی ہمیشہ زندہ اور قائم ذات ہے ۔السمیع ہر آواز سننے والا البصیر کائنات کی ہر چیز دیکھنے والا العلیم کائنات کی ہر چیز جاننے والا

اور مخلوق کی ہر زبان سمجھنے والا یعنی حاضر ناظر اور عالم الغیب وہی ہے القادر جو چا ہے کرنے والا الصمد بےنیاز یعنی کسی کا حاجت مند نہیں ہے اس لئے وہی عبادت کے لائق ہے اور اس کے سوا مخلوقات میں سے کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں ہے کیونکہ عبادت اس ذات کی برحق ہے جس میں غیبی طاقت یعنی مافوق الاسباب طاقت موجود ہو اور وہ ذات کسی بھی ظاہری سبب کی محتاج نہ ہو وہ ذات اپنی غیبی طاقت یعنی مافوق الاسباب طاقت سے ہی ہر حاجت مند کی حاجت روائی مشکل زدہ کی مشکل کشائی کر سکتی ہو اور وہی ذات غیبی مدد گار ہے جس کی وجہ سے اس کی عبادت کی جاتی ہو

 عبادت کا مفہوم

عبادت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کسی ذات میں غیبی طاقت یعنی مافوق الاسباب طاقت تصور کرکے اس کو غیبی مدد گار سمجھ کر اور اس کو

 الحیی ہمیشہ زندہ

 السمیع ہر آواز سننے والا

 القیوم موجود

  البصیر ہر چیز دیکھنے والا

 العلیم ہرایک کے حال اور اور ہر زبان کو جاننے والا

 القادر مراد پوری کرنے کی طاقت رکھنے والا ۔سمجھ کر اس کے سامنے اپنی انتہائی عاجزی کا اظہار کرنا عبادت ہے

 اور اس کو غیبی مدد کے لیے پکارنا لسانی عبادت ہے جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے  الدعاء مخع العبادة۔ دعا عبادت کا مغز ہے

 اسی کے سامنے سجدہ رکوع کرنا اس کے حکم کے مطابق اس کے لئے سجدہ رکوع کرنا جسمانی عبادت ہے

 اس کے نام پر مال تقسیم کرنا مثلا اسی کے نام کا نذرونیاز سبیل کرنا اسی کے نام پر کوئی جانور نامزد کرنا اور پھل  میں سے حصہ نکالنا دودھ یا مٹھائی تقسیم کرنا اس کے نام پر دیگ پکانا یہ مالی عبادت ہے

اور اشہد اللہ الہ الا اللہ اللہ کہنے والا اعلان کرتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں یعنی پکی بات کرتا ہوں کے میری عبادت کا اللہ کے سوا کوئی لائق نہیں ہے

 ہر قسم کی عبادت صرف اللہ کے لئے ہے

Surat No 6 : Ayat No 162

 قُلۡ  اِنَّ صَلَاتِیۡ  وَ نُسُکِیۡ وَ مَحۡیَایَ وَ مَمَاتِیۡ   لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۶۲﴾ۙ

آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے ۔

 غیبی مدد کے لیے پکار صرف اللہ کے لئے ہے

Surat No 13 : Ayat No 14

 لَہٗ  دَعۡوَۃُ   الۡحَقِّ ؕ وَ الَّذِیۡنَ  یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ لَا یَسۡتَجِیۡبُوۡنَ لَہُمۡ بِشَیۡءٍ  اِلَّا کَبَاسِطِ کَفَّیۡہِ اِلَی الۡمَآءِ لِیَبۡلُغَ فَاہُ وَ مَا ہُوَ بِبَالِغِہٖ ؕ وَ مَا دُعَآءُ الۡکٰفِرِیۡنَ  اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ ﴿۱۴﴾

اسی کو پکارنا حق ہے  ، جو لوگ اوروں کو اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان  ( کی پکار ) کا کچھ بھی جواب نہیں دیتے مگر جیسے کوئی شخص اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے ہوئے ہو کہ اس کے منہ میں پڑ جائے حالانکہ وہ پانی اس کے منہ میں پہنچنے والا نہیں  ان منکروں کی جتنی پکار ہے سب گمراہی میں ہے ۔

 ترجمہ مقبول۔

مصیبت کے وقت اس کا پکارنا ٹھیک پکارنا ہے اور جو لوگ اسے چھوڑ کر دوسروں کو پکارتے ہیں وہ تو انکی کچھ سنتے تک نہیں مگر جس طرح کوئی شخص اپنی دونوں ہتھیلیاں پانی کی طرف پھیلائیں تاکہ پانی اس کے منہ میں خود پہنچ جائے حالانکہ وہ اسی طرح پہنچنے والا نہیں اور اسی طرح کافروں کی دعا گمراہی میں پڑی بہکی فراق کرتی ہے

 ترجمہ فرمان علی شیعہ

 عبادت کی طرح پکار بھی صرف اللہ کے لئے ہے

Surat No 1 : Ayat No 4

 اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۴﴾

ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں  ۔

 Surat No 8 : Ayat No 10

وَ مَا جَعَلَہُ اللّٰہُ  اِلَّا بُشۡرٰی وَ لِتَطۡمَئِنَّ بِہٖ قُلُوۡبُکُمۡ ۚ وَ مَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ  اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿٪۱۰﴾ 15

اور اللہ تعالٰی نے یہ امداد محض اس لئے کی کہ بشارت ہو اور تاکہ تمہارے دلوں کو قرار ہو جائے اور مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے  جو کہ زبردست حکمت والا ہے ۔

 مصیبت کے وقت ہر دور کے رسول اور مومنین اللہ ہی کو پکارتے تھے۔

مثال

 Surat No 2 : Ayat No 214

اَمۡ حَسِبۡتُمۡ  اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَاۡتِکُمۡ مَّثَلُ الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِکُمۡ ؕ مَسَّتۡہُمُ الۡبَاۡسَآءُ  وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلۡزِلُوۡا حَتّٰی یَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ مَتٰی نَصۡرُ اللّٰہِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰہِ  قَرِیۡبٌ ﴿۲۱۴﴾

صفحہ 1 از 18