سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خرید و فروخت میں تاجروں کے لیے حلال و حرام کی معرفت لازم کر دی
علی محمد الصلابیحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایسے آدمی کو درّے لگاتے تھے جو بازار میں تجارت کرنے آتا اور لین دین کے متعلق شرعی احکامات نہ جانتا ہوتا اور اسے کہتے: جو شخص سود کو نہ پہچانتا ہو وہ ہمارے بازار میں نہ بیٹھے۔
(نظام الحکومۃ الإسلامیۃ: الکتانی: جلد 2 صفحہ 17)
آپؓ بازار کا چکر لگاتے اور بعض تاجروں کو یہ کہتے ہوئے درّے لگاتے کہ ہمارے بازار میں وہی بیچے جو تجارت کا شرعی علم رکھتا ہو، ورنہ وہ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر سود کھا لے گا۔
(نظام الحکومۃ الإسلامیۃ: الکتانی: جلد 2 صفحہ 17 )
خلاصہ یہ کہ حضرت عمرؓ کی نگاہ میں حکومت کے تمام تر معاملات اہمیت و اہتمام کے حامل تھے، کسی گوشہ کا دوسرے گوشہ پر ظلم نہیں ہوتا تھا اور نہ حاکم وقت کے دیکھتے ہوئے کسی صورت حال میں بگاڑ پیدا ہو سکتا تھا، وہ حاکم تجارت کے ایسے قوانین اور اصول بناتے جو بازاروں کے مناسب اور ان کے مفاد میں ہوتے، لین دین کو منظم کرتے اور بھروسا و اطمینان کے ضامن ہوتے، ان اصولوں کی تنفیذ کے بعد نہ غبن ہوتا نہ دھوکا اور نہ کوئی احتکار اور بلیک مارکیٹنگ ہوتی نہ تجارت کی دنیا میں جواز و عدم جواز سے کسی کو ناواقفیت ہوتی۔ مختصر مگر جامع قرارداد صادر ہوتی جو تمام تر مفاسد کا استیصال اور ہر چیز کو منظم کر دیتی۔ یہ ہے فرمانِ فاروقیؓ کہ جو تجارت کے شرعی اصولوں کو نہ سمجھتا ہو وہ ہمارے بازار میں تجارت نہ کرے۔
(شہید المحراب: صفحہ 209 )
سیدنا عمرؓ کا یہ فرمان آج کے ان قوانین سے ملتا جلتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ جس شخص کے پاس فلاں علم کی فلاں سند ڈگری نہ ہو وہ فلاں کام نہیں کر سکتا۔
(شہید المحراب: صفحہ 209)
موجودہ دور کے ممالک بھی بازاروں کو منظم کرنے اور ان کی نگرانی کی طرف توجہ دیتے ہیں اور ایوانِ تجارت چیمبر آف کامرس یا اس کے قائم مقام دوسرے شعبے، بازار میں جن اصلاحات کی ضرورت ہوتی ہے اور جس میں جمہور کا فائدہ ہوتا ہے ان کی اصلاح و رہنمائی اور ضابطہ بندی کا کام کرتے ہیں۔ حضرت عمرؓ اس معاملہ میں سب پر سبقت لے گئے اور اس کا سہرا آپ کے سر ہے، بازاروں کو بے ہنگم نہیں چھوڑا، بلکہ ان پر نگران متعین کیے، جو غلطیوں کی تاک میں لگے رہتے، تجارت کو منظم کرتے اور اسلامی تجارتی اصولوں کی محافظت کرتے۔ چنانچہ جس طرح سائب بن یزید کو عبداللہ بن عتبہ بن مسعود کے ساتھ مدینہ طیبہ کے بازار کا نگران بنا دیا تھا اسی طرح سلیمان بن ابی حثمہ کو کئی بازاروں کا نگران بنا دیا، اس طرح تمام بازاروں کا ایک صدر نگران ہوتا تھا اور ہر بازار کا ایک الگ نگران ہوتا جو صدر کی ماتحتی میں کام کرتا، اور یہ ایک قطعی فائدے کی بات ہے کہ لوگوں کی راحت رسانی میں تنظیم و تیسیر کے لیے بازاروں کی طرف خصوصی توجہ کا بہت بڑا دخل ہے اور قطعی طور پر ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ لوگوں کی ضروریات کی تکمیل کے لیے مختلف اشکال میں توجہ دینے کے مقابلے میں بازاروں کے نظام و انصرام پر خصوصی توجہ دے دینا ہی لوگوں کی راحت رسانی کا بہت بڑا سبب ہے۔ پس جب حاکم اس پہلو سے بازاروں کی تنظیم و نگرانی کا مکمل طور پر اہتمام کرے تو اسے اللہ کی طرف سے اجر و ثواب ملے گا۔ حضرت عمرؓ کے صحیح و سالم اور دقیق عملی کردار و تصرف نے یہ بات ثابت کر دی کہ اسلام ہر زمانے اور دنیا کے چپہ چپہ میں ہر جگہ کے لیے مناسب اور قابلِ عمل ہے۔ پست اقوام کو ترقی کی طرف لے جاتا ہے اور ترقی یافتہ اقوام کو تنزلی کے گڑھے میں گرنے اور زوال سے بچاتا ہے آگے بڑھنے کا راستہ نہیں روکتا کہ وہ آگے نہ بڑھے اور نہ غافل کو خواب خرگوش میں مدہوش چھوڑتا ہے۔
(شہید المحراب: صفحہ 210)