شیعہ اور مرزا علی جہلمی کا مشہور اعتراض ہے کہتے ہیں کہ صحیح…

شیعہ اور مرزا علی جہلمی کا مشہور اعتراض ہے کہتے ہیں کہ صحیح بخاری حدیث 4108 میں لکھا ہے معاویہ رضی اللہ عنہ خود کو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے زیادہ مستحق خلافت سمجھتے تھے؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 2

جواب اہلسنت:

پہلی بات تو یہ ہے کہ شیعہ معترض نے یہ بات حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی محبت میں نہیں کہی ہے، کیونکہ شیعہ تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بھی گالیاں دیتے ہیں، اُن پر لعنت بھیجتے ہیں اور انہیں حضرت علیؓ اور اہل بیتؓ کا دشمن مانتے ہیں۔ انہیں خلیفۃ المسلمین نہیں مانتے۔ پھر کس منہ سے کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے زیادہ خود کو خلافت کا مستحق سمجھتا تھا، اگر کوئی شیعہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ حضرت یا رضی اللہ عنہ لکھتا یا بولتا ہے تو وہ محض تقیہ ہوتا ہے۔ تقیہ رافضیوں کے یہاں جائز ہے۔ 

دوسری بات: یہ بات غلط ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے آپ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے زیادہ مستحق خلافت سمجھتے تھے۔ اگر ایسا ہوتا تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت سے راضی نہ ہوتے۔ اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا انکار کیا ہے یا اُس پر معترض ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس یہ ثابت ہے کہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نہ صرف خلیفۃ المسلمین تسلیم کیا ہے بلکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب بھی بیان کیے ہیں۔

علامہ ابن کثیر رحمۃاللہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 

وَقَالَ مُعَاوِيَةُ ابْنُ أَبِي سُفْيَانَ: أَمَّا أَبُوبَكْرٍ فَلَمْ يُرِدِ الدُّنْيَا وَ لَم تُرِدْهُ وَ أَمَّا عُمَرُ فَأَرَادَتُهُ فَلَمْ يُرِدْهَا وَ أَمَّا نَحْنُ فَتَمَرَغنَا فِيهَا ظَهْرًا لِبَطْنٍ

ترجمہ: حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دنیا کو نہیں چاہا نہ دنیا نے انہیں چاہا (یعنی اُن کے دورِ خلافت میں غنیمتوں کی کثرت نہیں ہوئی) لیکن عمر رضی اللہ عنہ کو دنیا نے چاہا ان کی خلافت میں فتوحات اور غنیمتوں کی کثرت ہوئی) لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دنیا کو نہیں چاہا کثرت مال کے باوجود فقر کی زندگی گزاری۔ مزید فرمایا:

وَكَانَ يَلْبَسُ وَ هُوَ خَلِيفَةٌ جُبَّةٌ صُوْفٍ مَرْقوعَةٍ بَعْضُهَا بِآدَمٍ وَ يَطْوفُ بالاسْواقِ على عَاتقِةِ الدّرةُ يُؤدَبُ بهَا النَّاسَ

ترجمہ: اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوتے ہوئے چمڑے کا پیوند لگا ہوا اونی جبّہ پہنتے تھے۔ کاندھے پہ درّہ لٹکائے ہوئے بازاروں کا گشت لگاتے اور لوگوں کو ادب دیتے تھے۔

(البدایہ والنہایہ: سيرة عمره: جلد، 7 صفحہ، 152)

 صرف اتنا ہی نہیں بلکہ حضرت معاویہؓ حضرت فاروق اعظمؓ  کے دورِ خلافت میں پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں شام کے گورنر بھی رہے۔ خلیفۃ المسلمین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہی نہیں، سیدنا عثمان ذوالنورینؓ  سے بھی حضرت معاویہؓ  اپنے آپ کو کم تر سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ 20 سال تک دونوں خلیفۃ المسلمین کی طرف سے بحیثیت گورنر شام کی حکومت کا نظم و نسق سنبھالتے رہے۔

امام ابن کثیر رحمۃ اللہ نے "فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ" کے عنوان میں یہ تحریر کیا ہے:

 ولَمَّا فُتِحَتِ الشَّامُ وَلاهُ عُمَرُ نِيَابَةَ دِمَشْقَ بَعْدَ أَخِيْهِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَ اقَرّهُ عَلَى ذَالِكَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بِلادًا أُخْرَى۔

ترجمہ: فتح شام کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہؓ کو ان کے بھائی یزید بن ابی سفیان کی جگہ شام کا گورنر مقرر فرما دیا اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے انہیں اسی منصب پر باقی رکھا نیز دوسرے شہروں کی ولایت بھی سپرد کی۔ (البدایہ والنہایہ: جلد، 8 صفحہ، 21)

 اب اگر سوال کیا جائے کہ جب حضرت امیر معاویہؓ خود کو سیّدنا عمر بن خطابؓ سے زیادہ مستحق خلافت نہیں سمجھتے تھے تو انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کیوں کہا تھا ؟

مَنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يُتَكَلَّمَ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَلْيُطْلِعُ لَنَا قَرْنَهُ فَلَنَحْنُ أَحَقُّ بِهِ منہ و من ابیه.

 اس معاملے میں (خلافت کے معاملے میں ) جو بات کرنا چاہتا ہے وہ سامنے آئے۔ ہم اُس سے اور اس کے باپ سے زیادہ خلافت کے مستحق ہیں۔  (صحیح بخاری: حدیث، 4108)

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ رافضی معترض نے بخاری کی روایت کے جملے کو اُس کے سیاق و سباق سے الگ کر کے اُس کے مفہوم کو غلط انداز میں پیش کیا ہے اور مسلمانوں کو صحابی رسول حضرت امیر معاویہؓ سے بدظن کرنے کی کوشش کی ہے۔

( بخاری کی جس روایت کو شیعہ اور مرزا علی جہلمی نے پیش کیا ہے دراصل اس کا تعلق واقعہ صفین کے بعد اور بعض روایات کے مطابق واقعہ صلحِ حضرت حسن کے بعد سے ہے۔ چنانچہ حدیثِ مذکور کا پس منظر بیان کرتے ہوئے امام قسطلانیؒ، امام عینیؒ اور امام ابنِ حجر العسقلاني رحمۃ اللہ نے جو کچھ تحریر فرمایا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے۔

صفین میں مسلمانوں کے دو گروہوں میں جنگ کے نتیجے میں کافی خون بہہ گیا تو حرمین طیّبین اور دوسرے بلاد میں اُس وقت جو صحابہ کرامؓ موجود تھے انہوں نے باہمی مراسلت کے بعد یہ طے کیا کہ ایک مجلس میں چند مخصوص افراد جمع ہو کر حضرت امیر معاویہؓ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دونوں کے حامیوں کے مابین صلح کروا دی جائے۔

وقت مقررہ پر مخصوص حضرات جمع ہوئے۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ اپنی ہمشیرہ ام المومنین حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے: قَدْ كَانَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ مَا تَرَيْنَ فَلَمْ يُجْعَلْ لِي مِنَ الْأَمْرِ شَي صفین میں جو حال لوگوں کا ہوا وہ آپ کی نگاہوں کے سامنے ہے اور میرے لیے امر خلافت میں سے کچھ حصہ مقرر نہیں کیا گیا ہے۔ اب اس تعلق سے لوگوں کا مشاورتی اجلاس ہونے جارہا ہے تو کیا میں اس میں شرکت کروں؟ ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

الْحَق فَإِنَّهُمْ يَنتَظِرُونَكَ وَ أَخْشَى أَنْ يَكُونَ احْتِبَاسُكَ عَنْهُمْ فُرْقَةٌ 

تم جاؤ، لوگ تمہارا انتظار کریں گے۔ مجھے ڈر ہے اگر تم نہیں جاؤ گے تو انتشار کا سبب ہو گا۔ 

صفحہ 1 از 2