Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

سوال نمبر 871: حضور اکرمﷺ‏ نے ہم کو حکم دیا تھا کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یا امیر المؤمنین کہہ کر سلام کہیں کیا اصحابِ ثلاثہؓ کے لیے بھی ایسا حکم ہے؟ (ابنِ مردویہ از ابنِ بریدہؓ)

جواب: ابنِ مردویہ مطبوع نہیں ہے ماخذ کا حوالہ نہیں دیا سند بھی کچھ نہیں لہٰذا بے سروپا روایت قابلِ استدال نہیں۔ 

حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کے لیے جب حضورﷺ‏ خلافت کی پیشین گوئی فرما گئے اور فاقتدوا بالذین من بعدى ابی بكر و عمر کہ میرے بعد سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی پیروی کرنا۔ (ترمزی) تو لفظ امیر المؤمنین کہنے سے عملی خلافت کے قیام کی منظوری زیادہ وزنی ہے۔

سوال نمبر 872: شیخینؓ جب خود عہدِ نبوی میں آپﷺ‏ کے حکم سے السلام علیک یا امیر المؤمنين ورحمة الله وبركاته کہہ کر سنتِ اسلام ادا کرتے تھے۔ (ارجح المطالب) تو حضرت عمرؓ نے اپنی ذات کو امیر المؤمنین کیوں کہلوایا؟

جواب: یہاں سے پتہ چلا کہ شیخینؓ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے محب و عقیدت مند تھے اب جو ان کا دشمن ان پر علی دشمنی کا بہتان لگاتا ہے وہ خود مفتری کذاب اور بباطن دشمنِ سیدنا علیؓ ہے۔ 

نیز امیر المؤمنین آپؓ کا لقب تھا حقیقتہً عہدہ خلافت نہ تھا ورنہ عہدِ نبوت میں آپؓ خلیفہ و امیر المؤمنین نہ تھے پھر کیوں یہ بولا گیا۔ 

ارجح المطالب شیعہ کتاب ہے روایت بے سند و بے حوالہ ہے حجت نہیں علاوہ ازیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ لقب مسلمانوں نے دیا اور آپؓ کو پسند آ گیا ۔افسرانِ فوج عموماً امیر کے نام سے پکارے جاتے تھے کفارِ عرب آنحضرتﷺ‏ کو امیرِ مکہ کہا کرتے تھے۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو اعراق میں لوگ امیر المؤمنین کہنے لگے۔ (مقدمہ ابنِ خلدون) 

ایسی عادت پر ایک دفعہ سیدنا لبید بن ربیعہؓ اور سیدنا عدی بن حاتم نے مدینہ آ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے لیے یہ لفظ استعمال کیا تو مشہور ہو گیا۔ (ادب المفرد للبخاری) پھر خاص عہدہ کا نام سمجھا گیا۔

سوال نمبر 873: دیلمی نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے: سیدنا علیؓ کا نام اس وقت سے امیر المؤمنین ہوا ہے کہ ابھی حضرت آدم علیہ السلام روح اور جسد کے درمیان تھے پھر خدا نے ارواح سے خطاب کیا میں تمہارا خدا ہوں محمدﷺ‏ تمہارے نبی ہیں علیؓ تمہارا امیر ہے کیا حضورﷺ‏ نے خدا کی طرف جھوٹی نسبت کی؟

جواب: دیلمی چوتھی صدی کا حاطب اللیل ہے اور کمزور ترین روایت و کتاب والا ہے جو حجت نہیں۔ نیز ظاہر عقل بھی اسے جھوٹا بتاتی ہے کیونکہ خدا کی خدائی دائمی ہے اور کوئی خدا نہیں۔ رسالت و نبوت تا قیامت دائمی ہے اور کوئی نبی نہیں بن سکتا۔ مگر امارتِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ عارضی ہیں نہ حضورﷺ کے وقت تھی نہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد تھی۔ کیونکہ شیعہ عقیدہ کے مطابق یکے بعد دیگرے 11 اور امیر و امام بنتے رہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امارت کا خطاب تمام انسانوں کے لیے ممکن نہیں۔ علاوہ ازیں درایت کے اعتبار سے بھی یہ روایت غلط ہے کیونکہ اس میں کنت نبيا و آدم بين الماء والطین۔ کا مقابلہ کر کے حضورﷺ کی ختمِ نبوت اور خصوصیت کو مٹایا گیا ہے۔(معاذاللہ)

سوال نمبر 874: اگر حضورﷺ نے یوں ہی منسوب کر دی تو پھر خدا کے اس عہد کا کیا ہو گا۔ اگر رسولﷺ کسی بات کو یوں ہی ہماری طرف منسوب کر دیتا تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ کر اس کی رگِ جان کاٹ ڈالتے۔ (پارہ 29 سورۃ حاقہ)

جواب: حضورﷺ نے تو خدا کی طرف ایسی عقل و نقل کے خلاف بات منسوب ہی نہیں کی۔ ہاں جن کذاب راویوں نے بنا کر نسبت کی ان کے نام و نشان کی رگ خدا نے کاٹ ڈالی۔ جس کتاب میں یہ روایت ہے وہ ضعاف اور موضوعات کا پلندہ بن کر محدثین میں مشہور ہے۔

سوال نمبر 875: جب خدا نے ارواح کے سامنے اپنا، اپنے رسولﷺ کا اور ہمارے امیر کا کلمہ پڑھا تو آپ لوگ کلمے کے ساتھ ذکرِ امارت، ولایت، اور امامت، کو کیوں برا سمجھ کر خدا کی مخالفت کرتے ہو؟

جواب: جھوٹے لوگوں کے دلائل بھی اسی طرح جھوٹے ہوتے ہیں جب ایک گھڑنتو کلمہ ولایت نہ قرآن سے ملا نہ حدیثِ نبویﷺ‏ سے تو عالمِ ارواح کی بات بنا کر خدا کے ذمے لگا دی۔ اگر خدا نے عالمِ ارواح میں یہ کلمہ پڑھا تھا تو اب جب عالمِ دنیا میں اپنا کلمہ لا الہ الا اللہ اپنے رسولﷺ‏ کا کلمہ محمد رسول اللہﷺ قرآن میں نازل فرما دیا تو خدا کو کیا ڈر لگ گیا یا وہ بھول گیا کہ علی ولی اللہ امیر المومنین الامام علی کا کلمہ قرآن میں نہ اتارا اور تمہارا امیر کلمے کی سرپرستی سے محروم اور یتیم ہو گیا؟ شیعوں کو کچھ تو عقل و نقل سے بات کرنی چاہیے اور خدا پر بہتان باندھ کر بقول قرآن ظالم ترین مفتری نہ بننا چاہیے۔ ہم تو خدا کے فرماں بردار ہیں۔ خدا کے مخالف اس پر بہتان باندھنے والے شیعہ ہی ہیں۔

سوال نمبر 876: سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے یہ امیر المؤمنین، سید المسلمین سفید منہ اور ہاتھ والوں کا قائد ہے قیامت کے دن یہ پل صراط پر بیٹھے گا اور اپنے دوستوں کو جنت میں اور دشمنوں کو دوزخ میں داخل کرے گا۔ (ابنِ مردویہ) کیا اس سے دوستی جنت کی ضمانت ہے یا نہیں؟ 

جواب: فرضی دوستی اور بغضِ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی وجہ سے طرف داری تو کسی چیز کی ضامن نہیں ہاں خدا و رسولﷺ اور شریعتِ محمدیہ پر کامل ایمان کے بعد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی پیروی مؤجب نجات ہے اور شیعہ اس سے یقیناً محروم ہیں۔ پھر یہ روایت جعلی ہے جو یکے از تین لاکھ ہے۔ 

موضوعاتِ کبیر صفحہ 169 پر ہے کہ جو کچھ رافضیوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں روایتیں گھڑی ہیں وہ گنتی سے زائد ہیں۔ حافظ ابو یعلی رحمۃ اللہ کہتے ہیں کہ خلیلی نے کتاب الارشاد میں فرمایا ہے رافضیوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کے فضائل میں تقریباً تین لاکھ حدیثیں گھڑی ہیں۔ یہ کوئی عجیب بات نہیں کیونکہ اگر آپ ان کی روایتیں تلاش کریں گے تو ایسے ہی پائیں گے۔

سوال نمبر 877: ایسی ہستی سے عداوت رکھنا جہنم کا امیدوار بننا ہے یا نہیں؟ 

جواب: ایسی ہستی کو خدا کا شریک فی الصفات بنانا، قرآن کا سارق بتانا اور اس کے تمام ظاہری اعمال و عقائد میں مخالفت کرنا جو شیعہ، سبائیہ، غالیہ، اثناء عشریہ کا اصل مذہب ہے یقیناً جہنم میں پہنچنا ہے۔ شیعوں کے سوا سیدنا علیؓ کا دشمن کوئی نہیں ہو سکتا۔

سوال نمبر 878، 879: یقین اور شک میں سے کون سی چیز بہتر ہے اگر شک بہتر ہے تو قرآن و حدیث سے ثابت کریں؟ 

جواب: یقین بہتر ہے تبھی تو مسلمانوں کا کلمہ شہادتین جو قرآن اور احادیثِ صحیحہ سے یقیناً ثابت ہے پڑھنا ہی یقیناً مسلمانی ہے اور شیعہ کا گھڑنتو کلمہ ولایت مشکوک ہے جسے پڑھنے ماننے سے یقینی محمدی اسلام حاصل نہیں ہو سکتا۔

سوال نمبر 880: اگر یقین بہتر ہے تو یہ ماننا ہو گا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شخصیت یقیناً مشترک و مسلّم ہے غیروں کو یہ شرف حاصل نہیں؟ 

جواب: اہلِ سنتِ نبی و اہلِ جماعتِ نبی مسلمانوں میں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شخصیت مسلم ہے مگر شیعہ کے ہاں ہرگز مسلم نہیں۔ ورنہ وہ آپ کی تمام زندگی والا مذہب اپناتے اور خارجیوں کے ہاں بھی نہیں۔ لہٰذا عقل کا تقاضا یہ ہے کہ دین قرآن سے اور سنتِ نبیﷺ سے اور مجموعہ جماعتِ نبی سے حاصل کیا جائے جن پر سب کو یقین ہے اور کوئی سب کا منکر نہیں اور خلفائے راشدینؓ پر حضرت علیؓ سمیت سب کو اعتماد تھا۔

سوال نمبر 881: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ذکرِ علی عبادت ہے کیا حضراتِ ثلاثہؓ کے ذکر کو رسول اللہﷺ نے عبادت قرار دیا ہے؟ 

جواب: پتہ چلا کہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی عقیدت مند تھیں۔ آپ سے بغض رکھنے والے کا منہ کالا ہو۔ عبادت صرف اللہ کی ہوتی ہے اور بار بار نام لینا اور ورد و کثرت کرنا بھی اللہ کا حق ہے سینکڑوں مرتبہ قرآن میں آیا اے ایمان والو اللہ کا بہت ذکر کیا کرو صبح بھی شام بھی اور اس کی پاکی بیان کرو۔ اول حدیث تو بے سند اور غیر ثابت ہے۔ بفرضِ تسلیم قابلِ تاویل ہے کہ ذکر سے مراد تذکرہ ہے اور عبادت سے مراد کارِ ثواب ہے یعنی حضرت علیؓ کا حال بیان کرنا کارِ ثواب ہے۔ تو اب یہ سیدنا علیؓ کی خصوصیت اور حصر والی بات نہ رہی۔ کہ بھنگی، چرسی، ملنگ، کلمہ نماز تک نہ جاننے والے علی علی کے ورد کرتے پھریں۔ کیونکہ خدا نے خلفاء ثلاثہؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین کا بشمول سیدنا علی رضی اللہ عنہ قرآن میں عموماً ذکر فرمایا حضور اکرمﷺ‏ نے مناقب میں ان کا بار بار ذکر فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بارہا ان کا تذکرہ خیر فرمایا اور سب کے تذکرے کارِ خیر ہیں۔

سوال نمبر 882: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے اور کرم اللہ وجہہ آپ حضرات بھی جنابِ امیر کے ساتھ تحریر کرتے ہیں حضراتِ ثلاثہؓ کے نام کے ساتھ یہ کیوں نہیں لکھا جاتا؟

جواب: پتہ چلا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور تمام سنی مسلمان سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے محب و عقیدت مند ہیں۔ خدا ان کے دشمنوں کو رسوا کرے عبادت کا مفہوم گزشتہ روایت میں بیان ہو چکا۔ کرم اللہ وجہہ کی شہرت اہلِ سنت نے یوں کی کہ بگڑے ہوئے شیعہ (خارجیوں) نے جب آپ کو سود اللہ وجہہ اللہ سیدنا علیؓ کا چہرہ سیاہ کرے (معاذ اللہ) کہنا شروع کیا تو سنی مسلمانوں نے کرم اللہ وجہہ اللہ حضرت علیؓ کے چہرے کو معزز بنائے۔ کہنا اپنا لیا اور اب تک کہتے ہیں۔ حضراتِ ثلاثہ رضی اللہ عنہم سے نہ کسی مسلمان نے دشمنی کی نہ ایسا بد دعائیہ کلمہ کہا تو ایسا جوابی لفظ کہنے کی ضرورت نہ تھی۔ ہاں خدا کا دیا ہوا تمغہ رَضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ‌ اللہ ان سے راضی وہ اللہ سے راضی اب بھی ہم فخریہ استعمال کرتے ہیں۔ 

یہ حدیث النظر الى وجه على عبادة۔ بے اعتبار ہے کیونکہ اس میں حسن بن علی عدوی ہے جو کذاب اور دجال ہے۔ (تذکرہ الموضوعات للحافظ طاہر بن علی المقدسی المتوفی 507 ھ)

تنزیہ الشریعہ المرفوعہ عن الاخبار الشنیعہ صفحہ 383 پر ہے: کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ سے دو سندوں کے ساتھ مروی ہے ایک میں قاضی محمد جعفی اور اس کا شیخ محمد بن احمد بن مخزم ہے۔ ایک ان میں سے آفت (چھوٹی بلا) ہے اور دوسری سند میں ابو سعید عدوی (کذاب) ہے۔ حدیثِ حضرت عثمانؓ میں راوی مجہول ہے۔ حدیث ابنِ عباس رضی اللہ عنہما میں حمانی کی سند میں یزید بن ابی زیاد متروک ہے۔ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں جو ابو سعید علوی سے مروی ہے چھ کتب میں تخریج ہے اور ہر سند ضعیف ہے۔

سوال نمبر 883: آپ حضرات کا اتنا عقیدہ ضرور ظاہر ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنا جزو ایمان ہے۔ جب عالم الغیب ذاتِ خدا ہے کچھ لوگوں کی عداوت حضرتِ امیرؓ سے مشہور ہے تو پھر ظاہر چھوڑ کر محض قیاس سے دشمنانِ سیدنا علیؓ کی محبت کا اظہار کیوں کرتے اور اجتہاد کے تنکے کے کا سہارا دیتے ہو؟ 

جواب: شکر ہے ہمارا محبتِ حضرت علیؓ کرنا بھی مان لیا۔ ہمارے ہاں عداوت میں مشہور شیعانِ علی اور خارجی ہیں۔ ہم ان سے نہ محبت کرتے ہیں نہ اجتہادی تنکا سہارا بناتے ہیں۔

سوال نمبر 884: انا مدينة العلم و على بابها۔ مسلکِ اہلِ حدیث کے چند ناصبی ذہنوں میں موضوع ہے تو پھر شیخینؓ کو علم کی دیواریں کیوں کہا جاتا ہے؟ 

جواب: تذکرہ الموضوعات مع موضوعاتِ کبیر صفحہ 40 پر ہے اسے ترمذی نے جامع میں روایت کیا ہے اور خود منکر کہا ہے اور سخاوی نے بھی ایسا کہا ہے کہ اس کی وجہ صحت کوئی نہیں ابنِ معین اسے جھوٹ اور بے اصل کہتے ہیں۔ اسی طرح ابو حاتم اور یحییٰ بن سعید نے کہا ہے۔ ابنِ جوزی نے موضوعات میں ذکر کیا ہے۔ ابن دقیق العید نے کہا۔ اسے محدثین نے ثابت نہیں کیا ہے ایک قول یہ ہے کہ باطل ہے۔ اور دار قطنی کہتے ہیں ثابت نہیں۔ حافظ عسقلانی نے ایک سوال کے جواب میں کہا صحیح نہیں ہے جیسے حاکم نے کہا حسن ہے موضوع نہیں ہے۔ جیسے ابنِ جوزی نے کہا ہے۔

سوال نمبر 885، 886، 887: کیا شہر کی چھت ہوتی ہے عہدِ نبویﷺ‏ میں ایسے شہر کا نام بتائیں۔ پھر سیدنا عثمانؓ، سیدنا علیؓ کے شہر کی چھت ہیں۔ کا کیا مطلب ہے؟ 

جواب: ان الفاظ کی بھی سنداً وہی حیثیت ہے جو پہلے جملے کی ہے مگر شہر کی چھت ہوتی ہے سورۃ حج میں ہے: کتنے شہروں کو ہم نے تباہ کیا جو ظالم تھے وہ اپنے چھتوں پر گر پڑے ہیں۔ مکہ اور مدینہ بھی چھتے ہوئے شہر تھے چھت سے مکان کی حفاظت ہوتی ہے جب حضرت عثمانؓ کو شہید کر کے چھت گرا دی گئی تو پھر تھوڑے ہی عرصہ میں شہر مدینہ مرکزِ خلافت سے محروم اور ویران ہو گیا بلکہ لاکھ بھر مسلمان کٹ گئے۔ اور حضرت علیؓ بھی چھت گرنے سے محفوظ نہ رہے۔

سوال نمبر 888: تاریخ تذکرۃ الکرام صفحہ 239 میں ہے کہ حضرت عثمانؓ میں قوت فصیح فیصلہ تو مطلق تھی ہی نہیں۔ یہ خاصیت حاکم کی خوبی ہے یا نہیں؟ 

جواب: یہ کتاب ہم نے نہیں دیکھی۔ سیاق و سباق سے کٹے ہوئے یہ الفاظ معتبر نہیں قوتِ فیصلہ یقیناً تھی تبھی تو سب خلفاء راشدینؓ سے زائد 12 سال تک خلافت کی۔ نہ کسی مسلمان کا خون بہا نہ فتوحات میں کمی آئی اور نہ کوئی باغی تا شہادت کسی شہر پر قابض ہو سکا بعد کے واقعات سب کو معلوم ہیں۔

سوال نمبر 889: تاریخِ خلفاء کرام صفحہ 268 میں ہے کہ حضرت عثمانؓ نے بیت المال کی دولت اپنے اقرباء میں تقسیم کی۔ شریعت کے مطابق ہونے کی معقول وجہ بتائیں؟ 

جواب: آپ نے مخالفوں کا سوال لے کر طعن بنا ڈالا جواب نہیں دیکھا ورنہ ہر تاریخ میں لکھا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ دولت اپنی ذاتی کمائی سے دی تھی بیت المال سے تو خود بھی بحیثیتِ خلیفہ ایک درہم نہ لیا رشتہ داروں سے مروت و سلوک سنتِ نبویﷺ ہے یہی معقول وجہ خود حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بتائی ہے۔ (تاریخِ اسلام ندوی و نجیب آبادی، طبری وغیرہ)

سوال نمبر 890: دخائر العقبیٰ میں ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو دھمکی دے کر اقرارِ جرم کرایا اور قصاص جاری کیا۔ حدیثِ رسولﷺ‏ سے ثابت کریں کہ دھمکا کر اقرارِ جرم کرانا جائز ہے؟ 

جواب: قصاص حق العباد میں سے ہے۔ جب کامل گواہ نہ ملیں قرائن سے جرم ثابت ہو رہا ہو مجرم ڈھیٹ بن کر اقرار نہ کرے تو کیا اسے چھوڑ دیا جائے گا؟ اور عہدِ نبوت و حدیثِ نبویﷺ‏ سے بھی اس کی مثال ثابت ہے۔ جب حضرت علیؓ، حضرت زبیرؓ کو حضور اکرمﷺ‏ نے اس عورت کے تعاقب میں بھیجا تھا جو حضرت حاطبؓ بن ابی بلتعہ کا خط (فتح مکہ کی اطلاع) لے کر مینڈھیوں میں گوندھ کر قریش کے پاس لے جا رہی تھی اور تلاشی کے باوجود اقرار نہ کرتی تھی تو سیدنا علیؓ نے دھمکی دی تھی خط نکالو ورنہ کپڑے اتار دیں گے۔ تب اس نے ڈر کر مینڈھیوں سے خط نکالا۔ یہ واقعہ تمام کتبِ تاریخ و سیر میں موجود ہے اور حضورﷺ‏ نے اسے پسند فرمایا۔ حدیث تقریری ہوئی۔

سوال نمبر 891: سیرتِ فاروقؓ صفحہ 73 پر حضرت عمرؓ کا قول ہے کہ کل جو میں نے بولا تھا وہ صحیح نہ تھا۔ الخ۔ کیا سیدنا عمرؓ نے عمداً جھوٹ بولا یا تقیہ کیا تھا؟ 

جواب: دونوں باتیں شیعوں کو مبارک ہوں جو ان کا فرضِ منصبی ہیں اب خود ان کی تحریر سے پتہ چلا کہ جھوٹ اور تقیہ ایک جیسے ہیں اور کسی شخص کو الزام کسی ایک سے بھی دیا جا سکتا ہے۔ یہ قول اپنی ایک رائے اور سوچ کا پہلی رائے کے خلاف بتانا ہے کے خلاف بتانا ہے اور مدبر و دانش ور لوگ صواب سے صواب ترین کی تلاش میں عمدہ رائے پا کر پہلی رائے یہی کہہ کر ختم کرتے ہیں۔ سنتِ نبویﷺ‏ تک میں اس کی مثال موجود ہے جب مسلمان حدیبیہ کے موقع پر عمرہ سے روک دیئے گئے اور قربانی کے جانور ذبح کر کے احرام کھولنا شاق گزرتا تھا۔ تب حضور اکرمﷺ‏ نے فرمایا: 

ولو استقبلت ما استدبرت ما سقت الهدى (صحیحین)

ترجمہ: جو رائے بعد میں ہوئی اگر پہلے یہی آ جاتی تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا۔ 

اور قرآن شریف میں ہے: تم کہو اگر میں آئندہ (غیب) کی بات جان لیتا تو یقیناً بہت سی بھلائی جمع کر لیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ چھوتی۔ (سورۃ الاعراف: رکوع 23)

سوال نمبر 892: عدالتِ سیدنا عمرؓ کے تحت شبلی نے ابو شحمہ کا واقعہ کیوں ذکر نہ کیا؟ 

جواب: کچھ مؤرخین اسے درست نہیں جانتے چنانچہ ابن الجوزی نے سیرت العمرین میں اسے غیر صحیح کہا ہے۔ کچھ زیبِ داستان بناتے ہیں جیسے ابن ابی الحدید شیعی معتزلی نے نہج البلاغہ کی شرح میں حضرت عمرؓ کے حالات میں لکھا ہے۔ 

تاریخِ اسلام ندوی صفحہ 170 پر ہے: اپنے بیٹے ابو شحمہ کو شراب پینے کے جرم میں اسی (80) کوڑے مارے۔ اس کے چند دنوں کے بعد وہ قضا کر گئے۔ (کتاب الخراج: صفحہ 66) حد میں مضروب مر بھی جائے تو ضارب پر تاوان نہیں۔ (مشکوٰۃ)

سوال نمبر 893: اسلامی شریعت میں شراب کب حرام کی گئی؟ 

جواب: 4 ہجری میں۔ (تاریخِ اسلام ندوی: صفحہ 40)

سوال نمبر 894: حضرت عمرؓ نے اپنے فرزند کو کس جرم میں ہلاک کیا؟ 

جواب: بعض مؤرخین کے نزدیک شراب نوشی کی شرعی حد 80 درّے لگائی تو اسی سے وہ بیمار ہو کر چند دن بعد انتقال کر گئے۔ عمداً ہلاکت کا ارادہ نہ تھا۔ بحکم قرآنی، اقرب ترین پر بھی حد جاری کر کے عدل و انصاف کا ریکارڈ قائم کیا۔ اولاد کا گناہ باپ کی شان نہیں گھٹاتا جب کہ محدود پاک ہو جاتا ہے۔

سوال نمبر 895: حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ نے ازالۃ الخفاء میں سیدنا عمرؓ کی طرف ان گنت غلطیاں منسوب کی ہیں۔ کیا قلتِ علم کی وجہ سے ہوئیں یا کسی اور وجہ سے؟ 

جواب: بات کا بتنگڑ ہے۔ حوالہ مجہول ہے۔ ہم نے ازالۃ الخلفاء عربی و فارسی کا حضرت عمرؓ کے متعلق سارا طویل باب پڑھا۔ قضاء یا حدود، وراثت، قصاص، علم تصوف، فقہ و قانون میں لا تعداد مسائل اور جزئیات جمع کی گئی ہیں کسی کو بھی غلط نہیں کہا۔ اسی مطالعہ کے دوران یہ دلچپ کرامت ملی کہ ایک دفعہ حضرت علی المرتضیٰؓ کو خواب میں حضور اکرمﷺ‏ نے یکے بعد دیگرے تین کھجوریں دیں جو بڑی لذیذ تھیں۔ صبح کو حضرت عمرؓ کے پیچھے آ کر نماز پڑھی۔ اس سے پہلے کہ حضرت علیؓ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنا خواب سناتے۔ ایک خاتون کھجوروں کا تھال لائیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نمازیوں کو تقسیم کیں اور اور تین حضرت علیؓ کو دیں بڑی لذیذ تھیں۔ سیدنا علیؓ نے زیادہ خواہش کی تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مسکرا کر فرمایا اگر ﷺ‏ خدا تم کو آج رات زیادہ دیتے تو میں بھی دیتا۔ (ازالۃ الخلفاء: مقصد دوم)

سوال نمبر 896: مہر باندھنے کی ممانعت کے بارے میں ایک عورت نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ خلیفہ ہو کر قرآن سے ناواقف ہے تو سیدنا عمرؓ نے جواب دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سب کا علم زیادہ ہے کیا یہ کسر نفسی تھی یا حقیقت؟ 

جواب: دروغ گوئی آپ پر ختم ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مہر کی ممانعت نہ کر رہے تھے۔ گرانی مہر کے خلاف تقریر کر رہے تھے۔ ایک عورت نے اٹھ کر کہا۔ خدا تو فرماتا ہے: وَّاٰتَيۡتُمۡ اِحۡدٰٮهُنَّ قِنۡطَارًا (کہ تم نے کسی بیوی کو ایک ڈھیر خزانہ مہر دیا ہو) تو ان سے کچھ نہ لو۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس عورت کی جرأت اور قرآن دانی کی قدر و ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ایک عورت بھی قرآن کا علم زیادہ جانتی ہے۔ یہ کسر نفسی ہے۔ اور دوسروں کو قرآن فہمی پر ابھارنا ہے ورنہ حقیقت تو وہ تھی جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بیان کرتے ہیں۔

1: سیدنا ابنِ مسعودؓ کہتے ہیں اگر حضرت عمرؓ کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور زمین کے تمام لوگوں کا علم دوسرے پلڑے میں تو یقیناً سیدنا عمرؓ کا علم ان کے علم سے بڑھ جائے گا۔ لوگ سمجھتے تھے کہ علم کے 9/10 حصے سیدنا عمرؓ کی وفات سے رخصت ہو گئے۔ (طبرانی فی الکبیر والحاکم)

2: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ سب لوگوں کا علم حضرت عمرؓ کی گود میں پڑا ہوا تھا۔ 

3: حضرت علیؓ فرماتے ہیں پختگی اور عزم میں ہوشیاری اور علم میں اور بہادری میں حضرت عمرؓ کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے تھے۔ (طیوریات، تاریخ الخلفاء: صفحہ، 95) 

سب سے آخری بات یہ ہے کہ اس خاتون کا حضرت عمر فاروقؓ سے مناقشہ بے محل تھا۔ کیونکہ آپؓ زیادتی مہر کو معاشرہ کے لیے نقصان دہ خیال کر کے کم کرنا اور قانون بنانا چاہتے تھے۔ نفسِ جواز کے منکر نہ تھے۔ جو قرآن میں مذکور اتفاقی صورت سے عورت بتانا چاہتی تھی۔ 

نوٹ: سوال 897 سے 919 تک غیر مسلموں کی عبارات سے حضرت علی المرتضیٰؓ کی خلافتِ بلافصل پر بے سروپا خیالی استدلالات کیے ہیں۔ جھوٹے مذہب کے لیے محنت تو واقعی قابلِ داد ہے مگر جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ کا مصداق نتیجہ صفر اور ناکامی ہے۔ بھلا مسلمانوں کی کتاب قرآن شریف میں ان اماموں کا یا ان کی جعلی خلافت و امامت کا ایک لفظ تک نہ ہو، تو غیر مسلموں سے امداد وہی لے گا جو خود انہی کا نمائندہ ہو اور ان کے مذاہب میں ترمیم کر کے مجموعہ معجونِ مرکب اسلام کے لیبل سے تیار کر دکھائے۔ شیعہ مذہب کے سب عقائد و اعمال تمام ادیانِ باطلہ وغیرہ سے لے کر مرتب کیے گئے ہیں۔

سوال نمبر 897: بائیبل میں ایلیا سے مراد کون ہے؟ 

جواب: اللہ کی ذات مراد ہے۔

سوال نمبر 898: اے نوٹ بک آف اولڈ آف بائیبل جلد 1 میں لکھا ہے کہ لفظ ایلیا یا ایلی اللہ کے معنیٰ میں استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ مستقبل کی یا آخری وقت کی کوئی ایلیاء ایلی نامی ہستی مراد ہے؟ 

جواب: جب بائیبل خود محرف ہے تو اس پر کسی کے نوٹ بک کیا حجت ہو سکتے ہیں۔ قرآن شریف میں عبرانی لفظ اسرائیل بارہا استعمال ہوا ہے تمام مفسرینِ اسلام اسے حضرت یعقوب علیہ اسلام کا لقب قرار دے کر اسر بمعنیٰ بندہ اور ایل بمعنیٰ اللہ یعنی اللہ کا بندہ ترجمہ کرتے ہیں ایلیاء اور ایلی اس کے بدلی ہوئی شکل ہے حضرت علیؓ مراد نہیں ہیں۔ 

حضرات خلفاء ثلاثہؓ کے خلفاء نبی آخر الزماںﷺ ہونے پر خود قرآن شاہد ہے۔ 

محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں آپﷺ‏ کے ساتھی کافروں پر سخت آپس میں مہربان ہیں ان کی یہ صفت تورات میں اور انجیل میں ہے۔ جیسے کھیتی اپنا پودا نکالے اور پھر اسے مضبوط کریں۔ پھر وہ موٹا ہو جائے اور ٹہنی پر کھڑا ہو جائے۔ کسانوں کو اچھا لگتا ہے تاکہ خدا کافروں کو ان (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے ذریعے جلائے۔ (پارہ 26 رکوع 12) یہ خلفاء ثلاثہؓ کی شوکت و قوت اور فتوحات کی ہی بحوالہ بائیبل ترجمانی ہے۔

سوال نمبر 899: کرشن مہاراج کی دعا سے استدلال (رسالہ کرشن بنتی) تجھے اس کا واسطہ جو اہلی ہے جو سنسار کے سب سے بڑے مندر میں کالے پتھر کے نزدیک اپنا چمکار دکھلائے گا تو میری بنتی سن۔ الخ؟ 

جواب: کرشن مہاراج تو کافر ہو کر خدا کو پکارے اور اس سے دعا مانگے مگر آج کا شیعہ علی، سب پکار و دعا حضرت علیؓ سے کرے یہ کرشن 5 ہزار برس پہلے ہو گزرا ہے اور سومنات کے بڑے مندر میں پوجے جانے والے اہلی بت کے واسطے سے دعا مانگتا ہے جب کہ بیت اللہ بھی آباد نہ ہوا تھا۔ کیونکہ اسے تو آج سے 3500 برس پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام نے آباد کیا اور وہ مندر نہیں کہلاتا۔ کعبۃ اللہ اور بیت اللہ کہلاتا ہے۔ اسے بت خانہ تو حال کے بعض ہندی شاعروں نے اس لیے کہا عہدِ نبوت سے کچھ پہلے اس میں اپنے خیال میں نیک بزرگوں کی یادگاریں اور بت بنا کر رکھ دیے گئے تھے۔ آہلی بت کو حضرت علی رضی اللہ عنہ بنا لینا اور اسے باعثِ تکوین ارض و سما قرار دینا۔ بلی کو خواب میں چھچھڑے نظر آنے والی بات ہے۔ ہندو پیشوا اپنے خیال کے کسی بزرگ کو باعثِ تکوین کائنات قرار دیتا اور دعا مانگتا ہے۔

سوال نمبر 900: پھر کرشن جی کس پیارے کے پیارے کے نام کی قسم پکار رہے ہیں آہلی یہ نام حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہے یا خلفائے ثلاثہؓ میں کسی کا؟ 

جواب: یہ ہندوں کا پیشوا کیا نبی تھا کہ اسے بذریعہ وحی ہزاروں سال قبل حضرت محمد رسول اللہﷺ اور حضرت علیؓ کے خدا کے پیارے ہونے کی اطلاع دی گئی؟ 

اگر نبی نہیں تھا تو اسے اسلامی شخصیت کا علم کیسے ہوا؟ اور اس کی بات کتنی معتبر ہے جو بغیر کسی صراحت کے محض آخری لفظ ی دیکھ کر آھلی بت کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ بنا لیا اور اسے پیاروں کا پیارا کہہ کر اپنا مطلب نکال لیا۔ خوش فہمی یا بدیانتی کی انتہاء ہو گئی ہے۔

سوال نمبر 901: دنیا کے سب سے بڑے عبادت خانے میں کالے پتھر کے نزدیک کس کی پیدائش ہوئی؟

جواب: شیعہ مشہور کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ کی ہوئی۔ مگر تاہنوز 1984ء ہم نے کسی معتبر تاریخ میں یہ نہیں پڑھا دیکھا پھر یہ اشکال سے خالی نہیں ہے۔ شیعہ کعبہ کو بت خانہ اور مندر کہہ رہے ہیں۔ کیا آپؓ کی والدہ کسی بت کی نذر و منت میں بچہ جنم دینے وہاں چلی گئیں؟

یا اگر وہ اسے محترم پاکیزہ بیت اللہ اور مقدس کعبہ مانتی تھیں تو کیا عقل کسی بھی درجے میں گوارا کر سکتی ہے کہ کوئی خاتون مجمع سے بھرے رہنے والے اس مقدس گھر میں بچہ جننے چلی جائے۔ نفاس کی گندگی سے اسے ملوث کرے اور اسے موجود لوگوں سے شرم و حجاب بھی نہ آئے۔ آخر کعبۃ اللہ مقامِ طواف اور عبادت خانہ تھا، زچہ بچہ کا سینٹر تو نہ تھا؟

سوال نمبر 902: حضورﷺ نے روز خیبر یہ کس کے حق میں فرمایا: کل میں عَلَم ایسے مرد کو دوں گا جو کرار غیر فرار خدا اور رسولﷺ‏ کا محب و محبوب ہو گا۔ اللہ اس کے ہاتھ پر فتح کرے گا؟

جواب: سیدنا علیؓ کے حق میں شکر ہے کہ آپ کے جھوٹے دلائل کے انبار سے ایک سچا موتی بھی نکل آیا۔ محترم یہ دعائے نبوت کا نتیجہ تھا اور اعجازِ رسالت تھا۔ امامت کا کرشمہ نہ تھا۔ ورنہ اپنے عہدِ امامت میں کیوں ایک گز زمین بھی فتح نہ ہوئی۔ کاش آپ رسولﷺ‏ خدا کا بھی کوئی کارنامہ تو تسلیم کرتے۔

سوال نمبر 903: کتاب ناگر ساگر میں لفظ ایلا ہے۔ اس کا مطلب ہے بڑے اونچے درجے والا اور آہل، آہلی یا آلی بھی اسی سے نکلا ہے جسے عربی میں کہتے ہیں اعلیٰ، عالی، علی تعالیٰ جواب دیں کہ لفظ ایلا کی یہ تشریح کیا ثابت نہیں کرتی کہ کرشن مہاراج نے اپنی فریاد میں حضرت علیؓ سے مدد کی درخواست کی ہے؟

جواب: اس سے ایلا بمعنیٰ اللہ کے اعلیٰ عالی اور بزرگ ہونے کی تائید ہوئی اور یہ خدا کے نام میں خواہ مخواہ مشرکانہ ذہنیت سے اللہ کے بجائے سیدنا علیؓ مراد لینا سخن سازی ہے۔

سوال نمبر 904: جب حق غیر مسلموں کے قلم و زبان سے جاری ہوا تو مسلمان یا علی مدد پر کیوں معترض ہیں؟

جواب: کیونکہ قرآن شریف نے اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ فرما کر منع کر دیا اور فَانۡصُرۡنَا عَلَى الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ (اے اللہ کافروں پر ہمیں مدد نصیب فرما) کی تعلیم دی۔ تعجب ہے کہ کرشن مہاراج پہلے خدا سے دعا مانگ رہے تھے۔ اب حضرت علیؓ سے مانگنے لگے کیا شیعہ کرشن جی کے مذہب پر مشرک اور ہندو ہیں؟

پھر حق یہی مشرکانہ نعرہ ہے جو غیر مسلم لگاتے ہیں؟ مگر لا اله الا اللہ اور محمد رسول اللہ کا کلمہ پڑھ کر مسلمان نہیں ہوتے۔ شیعو! تمہارا غلو اور بدعقیدہ تمہیں کافروں سے ملا چکا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:

سکھ یہودی اور عیسائی  

ہندو شیعہ بھائی بھائی

سوال نمبر 905: قدیم عبرانی زبور میں حضرت داؤد علیہ السلام کی یہ دعا درج ہے:

اس ذاتِ گرامی کی اطاعت کرنا واجب ہے جس کا نام ایلی ہے۔ جسے حدار کہتے ہیں جو بےکسوں کا سہارا، شیر ببر اور کعابہ میں پیدا ہونے والا ہے۔ کیا اس کا مصداق حضرت علیؓ کے سوا کوئی اور ہے؟

جواب: حوالہ ناقص ہے بصورتِ تسلیم خدا کی ذات مراد ہے۔ جس کی حمد و مناجات سے زبور بھری پڑی ہے۔ وہی بے کسوں کا سہارا ہے اور اسے شیر سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ کیونکہ سمجھانے کے لیے غیر محسوس و اعلیٰ کی محسوس و ادنیٰ سے تشبیہہ درست ہے۔ وہی حدار (طاقتور) ہے اور خانہ کعبہ سے اس کی توحید کا ظہور ہونے والا تھا۔ اگر سیدنا علیؓ مراد ہوں تو پھر سوال ہو گا کیا حضرت داؤد علیہ السلام سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خدا مانتے تھے یا اپنا رسول مانتے تھے۔ جو اس ذاتِ گرامی کی اطاعت اپنے لیے واجب جانتے تھے؟ معلوم ہوا شیعوں نے دعا میں تحریف کر دی ہے۔

سوال نمبر 906: اس ایلی کا دامن پکڑنا اور فرمانبرداری میں رہنا ہر شخص پر فرض ہے۔ (فرمان حضرت داؤد علیہ السلام)

جواب: وہی پہلی بات ہے۔ پہلا جواب کافی ہے کہ خدا کی ذات مراد ہے۔

سوال نمبر 907: میری جان اور میرے جسم کا تو وہی ایک سہارا ہے۔ (دعائے داؤد علیہ السلام)

جواب: خدا کی ذات مراد لے رہے ہیں۔ قرآن کریم میں ہے: اِنَّهُ اَوَّابٌ کہ داؤد علیہ السلام خدا کی طرف بہت رجوع کرتے تھے۔ 

اور سورة انبیاء میں ہے کہ (حضرت ابراہیم، حضرت نوح، حضرت داؤد، حضرت سلیمان، حضرت ایوب، حضرت ذوالکفل، حضرت ادریس، حضرت یونس، حضرت یحییٰ علیہم السلام)

اِنَّهُمۡ كَانُوۡا يُسٰرِعُوۡنَ فِىۡ الۡخَيۡـرٰتِ وَ يَدۡعُوۡنَـنَا رَغَبًا وَّرَهَبًا وَكَانُوۡا لَنَا خٰشِعِيۡنَ (سورۃ الأنبياء: آیت 90)

ترجمہ: کہ سب انبیاء علیہم السلام دوڑ دوڑ کر نیکیاں کرتے اور شوق و دڑ کے ساتھ دعائیں ہم سے ہی مانگتے تھے اور ہمارے ہی آگے جھکتے تھے۔

اہلِ سنت نے تو قرآن پر اور حضرت داؤد علیہ السلام کے عملِ توحید پر کان دھر لیا ہے۔

سوال نمبر 908، 909: بھی نصِ قطعی سے دفع ہو گئے۔ کیونکہ حضرت داؤد علیہ السلام یہ شرک نہ کرتے تھے کہ شیعوں کی طرح حضرت علیؓ کو اولیٰ بالتصرف مانیں اور نہ سیدنا علیؓ انبیاء علیہم السلام سے افضل ہیں کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو افضل الانبیاء یا اولیٰ بالتصرف (شریک خدا) ماننے کی مشرکانہ تعلیم کسی پیغمبر نے نہیں دی۔ خدا کا ارشاد ہے:

وَلَا يَاۡمُرَكُمۡ اَنۡ تَتَّخِذُوا الۡمَلٰٓئِكَةَ وَالنَّبِيّٖنَ اَرۡبَابًا‌ اَيَاۡمُرُكُمۡ بِالۡكُفۡرِ (سورۃ آل عمران: آیت 80)

ترجمہ: کوئی پیغمبر تمہیں یہ حکم نہ دے گا کہ تم فرشتوں اور پیغمبروں کو اپنے حاجت روا و مشکل کشا بنا لو کیا وہ تمہیں کفر کا حکم دے گا؟

سوال نمبر 910: بھی جھوٹا ثابت ہوا۔ کیونکہ ولایت سیدنا علیؓ کا تذکرہ (کتبِ شیعہ کے سوا) کسی بھی دین و شریعت میں نہیں ہے۔ شیعوں نے غلو سے یہ عقیدہ بنایا اور دیگر مذاہب کی کتابوں سے بھی جھوٹے حوالے بنانے لگے۔

سوال نمبر 911: مہاتما بدھ کی دعا (بدھ یوگیا) سے استدلال:

اے پیاروں کے پیارے! اے ایلیا اے سب پر غالب آنے والے آ اپنا جلوہ دکھا میری دستگیری کر، اے پر آتما کے شیر دنیا کی لومڑیاں مجھے کھانا چاہتی ہیں۔ تجھے اس کی قسم جس کا تو دست و بازو ہے تجھے اس کی قسم جس کی شکتی تیرے اندر ہے۔ میری مشکل کشائی کر کہ تیرا وعدہ ہے کہ مصیبت پر پہنچوں گا۔ اب امداد کا وقت ہے آ جلدی آ ورنہ میں برباد ہو جاؤں گا۔ تیرا نام وہ ہے جو پر آتما کا ہے۔ (بدھ گیان: صفحہ 54)

جواب: اس میں کوئی صراحت حضرت علیؓ کی یا آپؓ کے کمالات کی نہیں ہے بریکٹ میں ایسے الفاظ کا اضافہ اپنے شیعی ذہن کا عکس ہے۔ قائل کی مراد نہیں ہے معمولی فرق سے یہ سب خدا کی صفتیں ہیں۔ بدھ صاحب خدا کو ہی پکار رہے ہیں۔ ورنہ سوال یہ ہے کہ سیدنا علیؓ نے بدھ سے کب اور کہاں وعدہ کیا تھا کہ میں تیری مصیبت پر امداد کروں گا۔ خلافت کے غصب پر اپنی امداد نہ کر سکے۔ فدک چھن جانے پر خاتونِ جنتؓ کی امداد نہ کر سکے۔ حضرت حسینؓ کی مصیبتِ عظمیٰ پر اپنی اولادِ مظلوم کی کچھ امداد نہ کی۔ اب جنگ کے شکار اور مصیبت میں گرفتار ایران بلائے ایمان کی امداد نہیں کی۔ مگر بدھ صاحب کی مشکل کشائی ہو گئی۔ ان دیو مالائی داستانوں کا کوئی تک بھی ہے جبکہ خدا بار بار فرماتا اور وعدہ کرتا ہے: 

اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ۔ (پارہ: 24 رکوع، 11)

ترجمہ: اگر تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا منظور کر لوں گا۔

اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ۔ (پارہ: 2 رکوع 7)

ترجمہ: میں ہی دعا گو کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ 

اب قرآن جھٹلا کر ہم گوتم بدھ کی پیروی کریں۔ خدا کا در چھوڑ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے استمداد کریں تو کیا ہم مسلمان رہ جائیں گے؟ الغرض نہ تو استمدادِ علویہ قدیم کتب سے ثابت ہے۔ نہ نادِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ورد معتبر سنّی کتب میں ہے۔ تو حضرت علی المرتضیٰؓ کو ہم مافوق الاسباب، مشکل کشا اور شریکِ خدا نہیں مان سکتے۔

سوال نمبر 912: بھی اسی طرح خیالی استدلال ہے وہ خدا ہی کو کہہ رہے ہیں۔

میرے پیارے تو سب کچھ ہے اور میں تیرے بغیر کچھ نہیں تو سب کچھ دیکھ رہا ہے سب حال تیرے سامنے ہے۔ میری تکلیفوں کا تجھے علم ہے تو ہی ان کو دور کر سکتا ہے کیونکہ خدا و رسول کی تعلیم سے ہی ایک سچا مسلمان۔

1: لا حول ولا قوة الا باللہ اللہ کی طاقت و امداد کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں۔

2: اِلَّا كُنَّا عَلَيۡكُمۡ شُهُوۡدًا اِذۡ تُفِيۡضُوۡنَ فِيۡهِ‌ تم کسی بھی کام میں ہو ہم تمہارا حال دیکھتے ہیں۔

3: هُوَ السَّمِيۡعُ الۡبَصِيۡرُ وہی ہر ایک کی سننے والا سب کچھ دیکھنے والا ہے۔

4: اللّٰهُ يُنَجِّيۡكُمۡ مِّنۡهَا وَمِنۡ كُلِّ كَرۡبٍ ثُمَّ اَنۡـتُمۡ تُشۡرِكُوۡنَ‏ اللہ ہی تم کو مصیبت سے اور ہر دکھ سے چھڑاتا ہے پھر تم شرک کرنے لگتے ہو۔ پڑھتا ہے۔

وَلَـقَدۡ كَتَبۡنَا فِى الزَّبُوۡرِ مِنۡ بَعۡدِ الذِّكۡرِ اَنَّ الۡاَرۡضَ يَرِثُهَا عِبَادِىَ الصّٰلِحُوۡنَ (سورۃ الأنبياء: آیت 105)

ترجمہ: بلا شبہ ہم نے تورات کے بعد زبور میں بھی یہ لکھ دیا ہے کہ زمین خاص کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔ 

موجودہ زبور صفحہ 37، بائیبل عہد نامہ قدیم مطبوعہ لدھیانہ صفحہ 991 پر ہے:

لیکن دے جو خدا کے منتظر ہیں زمین کو میراث میں لیں گے لیکن وہ جو علیم ہیں زمین کے وارث ہوں گے جن پر اس کی برکت ہے زمین کے وارث ہوں گے تاریخ شاہد ہے کہ حضرت عمرؓ کے دور میں شام و بیت المقدس کی زمین فتح ہوئی اور اہلِ کتاب نے خلیفہ کو خود بلا کر انہی صفات میں دیکھا جو ان کی کتب میں لکھی تھی اور بلا جنگ چابیاں آپؓ کے حوالے کر دیں۔ وہ ہمیشہ مسلمانوں کا ملک رہے گا۔ یہودی قبضہ و فتنہ عارضی ہے۔ خود کتبِ شیعہ میں یہ پیشن گوئی موجود ہے۔ حضرت رسولِﷺ‏ خدا نے قریشیوں کو کہا تم کو حکم دیتا ہوں بت پرستی چھوڑ دو اور میری بات مانو۔ جس کی طرف تمہیں بلاتا ہوں تاکہ تم عرب کے بادشاہ بن جاؤ اور عجم کے لوگ تمہارے محکوم ہو جائیں اور بہشت میں بھی تم کو بادشاہی ملے گی۔ (حیات القلوب جلد 2 صفحہ 265)

یہ یقینی اور متفقہ بات ہے کہ عربوں نے بت پرستی چھوڑ دی توحید قبول کی فرمانِ رسولﷺ‏ سچا نکلا وہ عرب و عجم کے وارث و بادشاہ بنے اور جنتی بھی ضرور ہوئے۔ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت امیرِ معاویہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حقانیت و خلافت پر یہ واضح دلیل ہے۔

سوال نمبر 913: کا جھوٹا ہونا سابق تفصیل سے اظہر من الشمس ہو گیا۔

اب موصوف انگریز مؤرخین سے خلافتِ علوی پر استمداد طلب کرتے ہیں۔

سوال نمبر 914: لائف آف محمد اینڈ ہز سیکسرز میں ہے کہ خلافت کے سب سے زیادہ امید وار سیدنا علیؓ تھے جن کا سب سے زیادہ فطری حق تھا۔ 

جواب: غیر مسلم کی یہ بات تو الٹا طعن پیدا کرتی ہے کیونکہ کسی عہدہ کی امید و لالچ آج بھی اچھی نہیں سمجھی جاتی اور فرمانِ نبویﷺ‏ ہے: کہ ہم ان کو امیر بناتے ہی نہیں جو امید وار ہوں۔ فطری حق دار ترین کہنا ایک دنیاداری ہے۔ ورنہ خود حضورﷺ نے اس حق سے آپؓ کو کیوں محروم رکھا کہ نہ مصلیٰ پر کھڑا کیا نہ آپؓ کی پیروی کا مسلمانوں کو حکم دیا۔

سوال نمبر 915: مسٹر جان ڈیوٹ پورٹ کے خطبہ غدیر سے استدلال۔

جواب: خطبہ غدیر کے الفاظ و مضمون ثقہ، مسلمانوں کی روایت سے اگر ملیں تو مستند و قابلِ اعتبار ہوں گے۔ ورنہ ایک کافر کی نقل اور پھر تحریف مسلمانوں پر کیا حجت ہو سکتی ہے؟ اس خطبہ کا حاصل حضرت علیؓ سے طعن رفع کرنا، اپنا محبوب اور مسلمانوں کا محبوب کہنا اور پھر مسلمانوں کا مبارک بادی دینا ہے جو عہدِ نبوت، عہدِ خلافت، اور تا ہنوز و تاقیامت سیدنا علیؓ کا عہدہ رہا اور رہے گا۔ اسے خلافت سے ذرا تعلق نہیں جو صرف 11ھ سے 40ھ تک شیعوں کو مطلوب ہے اور حضرت علی المرتضیٰؓ نے اپنی خلافت پر کسی تاریخ اور حدیث صحیح کی روشنی میں اس خطبہ سے استدلال نہیں کیا۔ نہ لوگوں کی اطاعتِ پیغمبر اور وفاداری پر شک کیا۔ اب غیر مسلموں کی امداد سے یہ پروپیگنڈہ مدعی سست گواہ چست کا کردار ادا کرنا ہے۔

سوال نمبر 916: سپرٹ آف اسلام میں خطبہ غدیر سے حضرت علیؓ کی ولی عہدی پر استدلال ظنی ہے۔ اس کے جواب میں سابق تقریر کافی ہے۔

سوال نمبر 917: سپرٹ آف اسلام کے مصنف سٹیڈ لاٹ کی رائے یہ ہے اگر تحت نشینی کا اصول جناب سیدنا علیؓ کے موافق ابتداء سے تسلیم کر لیا جاتا تو وہ برباد کن جھگڑے نہ ہوتے جنہوں نے اسلام کو مسلمانوں کے خون میں غوطہ دیا۔ جوابی تبصرے کریں۔

جواب: عقلاً و نسلاً بلکل غلط بات ہے۔ خلفائے ثلاثہؓ کے انتخاب پر اور عہدِ حکومت میں کوئی جھگڑا اور خونریزی ہوئی ہیں نہیں۔ حضرت علیؓ کے دور میں قاتلینِ سیدنا عثمانؓ کی سازش سے سب کچھ ہوا۔ شیعہ جب تمام مسلمانوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حاسد و دشمن مانتے ہیں؟ تو بالفرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ برسرِ اقتدار آ ہی جاتے تو کیا ضمانت ہے کہ مسلمانوں پر لشکر کشی نہ کرتے یا ان کا مخالف کوئی نہ اٹھتا؟ (ہم یہ شیعہ اصول سے انگریز مؤرخ کا خیال غلط ثابت کر رہے ہیں۔ ورنہ سنَّی اصول اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مؤمنانہ کردار و سلوک حضرت علی المرتضیٰؓ کی حکومت کو بھی اسی طرح کامیاب بناتا جیسے خلفائے ثلاثہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زریں دور کو کامیاب کر چکا۔)

سوال نمبر 918: جنرل ہسٹری از فریزر ٹیلر صفحہ 229 پر ہے:

حضرت محمدﷺ نے اپنے داماد سیدنا علیؓ کو اپنا ولی عہد بنایا تھا مگر آپﷺ‏ کے خسر سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر خلافت پر قبضہ کر لیا۔ کیا شیعوں نے اسے رشوت دی تھی؟ 

جواب: بکواس محض اور بلکل خلاف عقل و نقل ہے مسلمانوں کی متضاد آراء کو معلوم کر چکنے کے بعد دشمن بغیر رشوت لیے بھی اپنی لگائی بجھائی سے مسلمانوں کو لڑانا چاہتا ہے۔ خصوصاً جبکہ خلفائے ثلاثہؓ نے ان کے رومی ممالک فتح کر کے اسلامی قلمرو میں داخل کر دئیے تو انہوں نے ان کے خلاف غصہ نکالا مگر غضب اور تعجب تو یہ ہے کہ شیعہ نے ان کی بات مان لی اور خدا و رسول اللہﷺ اور 100 فیصد سب مسلمانوں کی بات رد کر دی۔

سوال نمبر 919: مسٹر ایڈورڈ گبن، عروج و زوال سلطنت روم کے صفحہ 938 پر لکھتے ہیں: اگر سیدنا علیؓ جو مستحق خلافت تھے بعد از رسول اللہﷺ مقرر کر دیئے جاتے تو اسلام اپنے خون میں نہ نہاتا۔

جواب: محض وہم و خیال ہے۔ تردید سوال 917 میں ہو چکی ہے۔ کتاب کا نام ہی بتاتا ہے کہ فاتحِ روم مسلمانوں کے خلاف بغض و عناد سے جل کر لکھی ہے۔ لہٰذا ان کی کوئی بات مسلمانوں پر حجت نہیں ہو سکتی۔ مناسب ہے کہ دشمن کی گواہی سے خلفاء راشدینؓ کی عظمت بتائی جائے۔

خلفائے ثلاثہؓ کو غیر مسلموں کا خراجِ تحسین

عیسائی فاضل گاؤفری ہینگس اپنی کتاب ایالوجی فرام محمدﷺ میں لکھتا ہے:

1: بخلاف محمدﷺ کے اول مریدوں کے کہ بجز اس کے غلام کے سب لوگ بڑے ذی وجاہت تھے اور جب وہ خلیفہ اور افسر فوجِ اسلام مقرر ہوئے تو اس زمانے میں جو کچھ انہوں نے کام کیے ان سے ثابت ہوتا ہے کہ ان میں اول درجے کی لیاقتیں تھیں اور غالباً ایسے نہ تھے کہ بآسانی دھوکہ کھا جاتے۔ الخ

یہ ذی وجاہت مریدانِ اوّل خلفائے ثلاثہؓ کو ہی خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

2: مشہور انگریز مؤرخ گبن نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ:

پہلے چاروں خلیفوں کے اطوار یکساں اور ضرب المثل تھے اور ان کی سرگرمی اور دل دہی اخلاص کے ساتھ تھی اور ثروت و اختیار پا کر بھی انہوں نے اپنی عمریں ادائے فرائض اخلاقی و مذہبی میں صرف کیں۔ پس یہی لوگ محمدﷺ کے ابتدائی جلسہ میں شریک تھے جو بیشتر اس سے کہ اس نے اقتدار حاصل کیا یعنی تلوار پکڑی اس کے جانب وار ہو گئے۔ یعنی ایسے وقت میں کہ وہ ہدف آزار ہوا اور جان بچا کر اپنے ملک سے چلا گیا۔ اور ان کے اوّل ہی اوّل تبدیل مذہب کرنے سے ان کی سچائی ثابت ہوتی ہے اور دنیا کی سلطنتوں کو فتح کرنے سے ان کی لیاقت کی قوت معلوم ہوتی ہے۔

ایک غیر مسلم تو خلفاء اربعہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے کمالات و صفات سے اسلام کی سچائی ثابت کر رہا ہے مگر مسلمانوں کا گھریلو دشمن ان کی کردار کشی کر کے اسلام کو جھٹلاتا رہتا ہے۔

3: سرولیم میور اپنی کتاب ازلی خلافت میں لکھتے ہیں:

آخر دم تک حضرت ابوبکرؓ کے دل و دماغ کی صفائی اور طاقت کا مطلع مکدر نہ ہونے پایا۔ 

سیدنا ابوبکرؓ میں عزیمت اور استقلال کی کچھ کمی نہیں ہوتی تھی۔ حضرت اسامہؓ کے زیرِ کمان فوج روانہ کرنا اور مشرک قوموں کے برخلاف مدینہ میں محفوظ رکھنا اور وہ بھی ایسی حالت میں کہ آپؓ تن تنہا تھے اور چاروں طرف گویا ایک کالی گھٹا چھا رہی تھی۔ اس جرأت اور عزم کا شاہد ہے جو فتنہ و فساد کی آگ بجھانے میں اور زیادہ کار آمد ثابت ہوا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی قوت کا راز وہ ایمانِ راسخ تھا جو آپؓ حضرت محمدﷺ پر لائے تھے۔ آپؓ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے خلیفہ خدا نے کہو میں رسولِﷺ‏ خدا کا خلیفہ ہوں۔ آپؓ کو ہمیشہ یہی سوال مدِّنظر رہتا تھا کہ حضرت محمدﷺ کا کیا حکم تھا اس وقت وہ ہوتے تو کیا کرتے۔ اس سوال کے جواب پر عمل کرتے وقت آپؓ سرمو تجاوز نہ کرتے تھے اور اس طرح پر آپؓ نے شرک اور بت پرستی کو پامال کر دیا اور اسلام کی بنیاد استوار قائم فرمائی آپؓ کا عہد مختصر تھا مگر رسول اللہﷺ کے بعد اور کوئی ایسا نہیں ہوا جس کا اسلام کو ان سے زیادہ ممنون اور مرہونِ احسان ہونا چاہیے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دل میں رسول اکرمﷺ کا اعتقاد نہایت راسخ طور پر متمکن ہوا اور یہی عقیدہ خود رسول اکرمﷺ سے خلوص اور سچائی کی ایک زبردست شہادت ہے۔ الخ۔ یہی مؤرخ حضرت عمرؓ کے متعلق لکھتا ہے:

رسول اللہﷺ کے بعد سلطنتِ اسلام میں سب سے بڑے شخص سیدنا عمرؓ تھے کیونکہ یہ انہی کی دانائی اور استقلال کا ثمرہ تھا کہ ان دس سال کے عرصے میں شام اور مصر اور فارس کے علاقے جن پر اس وقت سے اسلام کا قبضہ آ رہا ہے تسخیر ہو گئے۔ آپؓ نے ہی جنگِ بدر کے خاتمہ پر یہ صلاح دی تھی کہ تمام قیدیوں کو تَہ تیغ کیا جائے لیکن عمر اور رتبہ نے ان کے مزاج کی تندی اور درشتی کو مبدل بہ حلم کر دیا تھا۔ عدل و انصاف ان میں بحدّ کمال تھا۔ فوج کے سرداروں اور گورنروں کا انتخاب آپؓ نے بِلا رُو و رعایت کیا اور سیدنا مغیرہؓ و سیدنا عمّارؓ کو چھوڑ کر سب کا تقرر نہایت مناسب اور موزوں ہوا۔ یہ تین متعصب مگر ذی علم عیسائی مؤرخوں کے حوالہ جات کا خلاصہ ہم نے آیات بینات از مولانا نواب مہدی علی خاں سے لیا ہے۔ (بحوالہ مباحثہ مکیریاں امام اہلِ سنتؒ)

سوال نمبر 920: مذہب صحیح وہی ہو سکتا ہے جس میں نیک و بد کا امتیاز ہو، مگر مذہب سنّیہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کی پابندی ہے تو یہ عقلاً قابلِ قبول نہیں۔

جواب: نیک و بد کا امتیاز یہاں موجود ہے کہ سب سے بڑی نیکی رسولِ خداﷺ پر ایمان اور آپﷺ‏ کی زیارت ہے۔ اس نیکی والا صحابی ہو کر اتنا بڑا درجہ پا لیتا ہے کہ بعد کی کوئی ہستی یہ درجہ نہیں پا سکتی تو مذہبِ سنّیہ کسی بعد والے کو حق نہیں دیتا کہ وہ ان عظیم نیکوں پر تنقید کرے جب یہ پابندی عام مسلمان کے حق میں ہے اپنے والدین، اساتذہ و مربی کے حق میں اخلاقاً بھی ہے تو بعد از انبیاء علیہم السلام تمام لوگوں سے افضل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو یہ حق کیوں شرعاً حاصل نہ ہو کہ کوئی ان پر تنقید نہ کر سکے اور ان کا بدگو ذلیل و خوار ہو۔ ہاں شیعہ عقیدہ میں نیک و بد اور سابق و لاحق کا فرق نہیں ہے۔ وہ معاذ اللہ اپنے غیر صحابی اماموں کو سیدۃ النساء فاطمہؓ سے بھی افضل کہتے ہیں بلکہ ان کو انبیاء کرام علیہم السلام سے بھی بڑھا دیتے ہیں۔ برائے نام شیعہ کہلانے والے فاسقوں کو قطعی جنتی اور اولیاء کبارؒ سے بھی افضل مانتے ہیں اور محرم کے ماتمی کو سال بھر کے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں سے پاک اعتقاد کرتے ہیں۔

سول نمبر 921: جب دین کا مشن حق و باطل میں تفریق ہے تو تنقید کے بغیر فرق کیسے معلوم ہوا؟

جواب: کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی غیبت و بدگوئی، ان پر اتہام بازی اور دشنام طرازی ہی حق و باطل میں فرق کرنے کا معیار ہے؟ جھوٹے صرف اصحابِ محمدﷺ ہی ہیں؟ (معاذ اللہ) اور سچے صرف دروغ گو بدعمل علانیہ فاسق و عیاش نام نہاد شیعانِ علی ہیں؟ کیا حق و باطل میں تفریق کا یہ مشن اپنے شیعوں میں بھی چلایا ہے؟ اور ان کا سچ جھوٹ بھی کبھی علیحدہ علیحدہ کیا ہے؟ اگر اپنی قوم کے بارے میں تمہاری زبانیں گنگ ہیں تو اصحابِ محمدﷺ کے بارے میں تمہاری تبرّا باز زبانوں پر تالے ہم لگائیں گے۔ کاش کہ بااثر سنِّی مسلمان یہ فرض ادا کریں تو تبرّائی فتنہ ختم ہو جائے۔

سوال نمبر 922: سورت فاتحہ میں ہے سیدھی راہ پر چلا گمراہوں اور مغضوب علیہم سے بچا جب نقد و جرح پر پابندی ہے تو صراطِ مستقیم کیسے متعین ہو گا؟

جواب: باتفاق مفسرین ضالین سے مراد عیسائی ہیں جو عقیدت میں غالی ہو گئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نور من نور اللہ، جزوِ خدا اور ابن اللہ اور خدائی صفات والا مان لیا۔ مغضوب علیہم سے مراد باتفاق مفسرین یہودی ہیں جو دشمنی اور نفرت میں حد سے بڑھے ہوتے تھے کہ حضرت موسیٰ و حضرت عزیر علیہما السلام کے حق میں تو مشرکانہ عقائد بنا لیے مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی تو کجا حال زارہ بھی تسلیم نہیں کیا۔ اب صراطِ مستقیم وہی ہو گا۔ جو رسولِ خداﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و اہلِ بیتؓ سے متعلق افراط و تفریط سے پاک ہو گا۔ سب کو علی فرق المراتب، نیک حلال زادہ اور اپنا محبوب پیشوا جانے لگا۔ اور یہ صراطِ مستقیم مذہبِ اہلِ سنت ہی ہے۔ اس کے برخلاف یہود و نصاریٰ کی عادتیں رکھنے والا خارجی یا شیعہ صراطِ مستقیم سے محروم ہو گا اور یہ وضاحت خود حضرت علی المرتضیٰؓ نے خطبہ نہج البلاغہ سیھلک فی صنفان میں کر دی، دشمن کی مخالفانہ گواہی اور سگے کی بناء بر قربت صفائی کسی قانون میں معتبر نہیں ہے۔

سوال نمبر 923: آپ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کو صحبتِ پیغمبرﷺ پر اعتراض جانتے ہیں تو پھر آغوشِ رسولﷺ کی تربیت کا کیا مقام و درجہ ہو گا؟

جواب: واقعی جیسے اولاد کی بدگوئی باپ کو دکھ دیتی ہے اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید رسولِ خداﷺ کی مجلس و تربیت پر اعتراض ہے۔ ہم آغوشِ نبوت میں تربیت کو بھی بڑا اونچا مقام دیتے ہیں۔ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپﷺ کی آغوش میں ہی تربیت پائی اور وہی روحانی اولاد تھی تو ان پر طعن گویا براہِ راست ذاتِ نبوت پر طعن ہے۔ جو شیعوں کا مشن ہے۔

سوال نمبر 924: قرآن کی وہ آیت بتائیں کہ ہر صحابی سے نیک گمان ضروری ہے۔

جواب: اجْتَنِبُوْا کَثِیْراً مِنَ الظَّنِّ (ایمان والو! بہت سی بدگمانیوں سے بچو یقیناً کچھ گمان گناہ ہیں۔ کسی کے خفیہ عیب تلاش نہ کرو اور پیٹھ پیچھے کسی کی برائی نہ کرو) (پارہ 26) ہم بتا چکے ہیں جب بدظنی ممنوع اور بدگوئی حرام ہے تو نہی کا خلاف کرنا ضروری ہوتا ہے۔ تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے نیک گمان اور نیکیوں کا پرچار ضروری ہوا۔

سوال نمبر 925: مخلصین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل سے کتابِ خدا بھری ہوئی ہے، احادیث میں ان کے مناقب درج ہیں ہم شیعوں کا عقیدہ ہے جو اصحابِ صالحین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مراتب کا انکار کرے، وہ موذی خدا و رسولﷺ‏ ہے مردود اور احسان فراموش ہے پھر ہم پر اصحاب دشمنی کا الزام کیوں لگایا جاتا ہے؟

جواب: آپ کے والد مرحوم کو آفرین! اب ایک تو سچی اور مسلمانوں والی بات کہی، یہی کچھ ہم کہتے ہیں اور آپ سے کہلوانا چاہتے ہیں۔ اپنی بات کو مخلص مؤمن کی طرح سچ کر دکھائیے اور بدگوئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سینکڑوں صفحات کا اپنا اور دیگر مؤلفین شیعہ کا لٹریچر دریا بُرد کرائیے۔ ورنہ یہ بات منافقت اور مکاری ہو گی آپ پر صحابہؓ دشمنی کا الزام اسی وجہ سے لگتا ہے کہ آپ لفظ مخلص کی آڑ میں صرف چار یا پانچ اصحابِ سیدنا علیؓ کو بزعمِ خود اچھا جانتے، باقی سوا لاکھ سب اصحابِؓ رسولﷺ کو برا بھلا کہتے اور لکھتے رہتے ہیں۔ جب ہم معلوم النفاق لوگوں کو صحابی مانتے ہی نہیں آپ کو بھی پورا پورا اختیار دیتے ہیں کہ دو سنّی دو شیعہ معتبر مفسروں کی صراحت سے منافقوں کی فہرست الگ نکال لیں۔ باقی سب کو مخلص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مان کر مسلمانوں سے جنگ و جدال چھوڑ دیں۔ مگر آپ ہماری معقول پیش کش کو ٹھکرا دیتے ہیں اور بدستور چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے علاوہ سب کی بدگوئی اور غیبت میں رطب اللسان رہتے ہیں تو ہم آپ پر صحابہ کرامؓ دشمنی کا الزام نہ لگائیں تو کیا کریں؟

سوال نمبر 926: ہمارے خلاف الزام ہے کہ شیعوں کی کتابوں میں ہے کہ سوائے تین چار اصحابؓ کے باقی سارے مرتد ہو گئے۔ وہ تمام روایات شیعہ اصول کے مطابق صحیح ثابت کی جائیں؟ 

جواب: اخبار آحاد میں یہ مطالبۂ صحت کیا جاتا ہے متواترہ میں نہیں۔ ارتداد والی روایات کو آپ کے ثقہ ترین علماء نے متواتر (لفظاً و معناً) کہا ہے۔ علامہ مامقانی تنقیح المقال جلد 1، صفحہ 216 میں کہتے ہیں:

على ان اخبارنا قد تواترت بانه ارتد بعد النبیﷺ جمیع الناس بنقض البیعة الا ثلثة او اربعة او خمسة (معاذ اللہ)

علاوہ ازیں ہم شیعوں کی روایات اس بات پر متواتر ہیں کہ حضورﷺ کے بعد حضرت علیؓ کی بیعت نہ کرنے کی وجہ سے تین یا چار یا پانچ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سوا باقی سب مرتد ہو گئے۔ (معاذ اللہ)

پھر آپ کا یہی عقیدہ بھی ہے کہ صرف چار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت ابوبکرؓ کی بیعت ناخوشی سے کی۔ یہ ارتداد سے بچ گئے اور باقی سب برضاء و رغبت بیعت کرنے سے معاذ اللہ مرتد ہو گئے۔

احتجاجِ طبرسی جلد 1، صفحہ 84 میں ہے۔

ما من الامة احد بايع مكرھا غير على و اربعتنا۔

سیدنا علیؓ اور ہمارے چار مخلص صحابیوں کے سوا ایک بھی نہیں جس نے سیدنا ابوبکرؓ کی بیعت خوشی سے نہ کی ہو۔

کافی باب قلتہ المومنين، باب التقیہ، رجال کشی، حیات القلوب، حق الیقین بحار الانوار وغیرہا سب کتابوں میں یہ روایات ہیں۔ علماء شیعہ نے ان کو کبھی ضعیف یا غیر معتبر نیں کہا بلکہ صحیح کہا ہے تو ہم یہ الزام لگانے میں سچے ہیں کہ شیعہ تمام اصحابِؓ رسولﷺ کے دشمن ہیں۔ جن کو وہ مؤمن کہتے ہیں وہ صحابی رسولﷺ کی حیثیت سے نہیں بلکہ بعد ارتداد دوبارہ امامتِ حضرت علیؓ پر ایمان لانے کی وجہ سے ان کو مؤمن و مسلمان جانتے ہیں۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا شاگرد مانتے ہیں۔

سوال نمبر 927: کیا ان کا مطلب بطور محاورہ، قلت کا اظہار نہ لیا جائے گا؟

جواب: جب آپ کا عقیدہ ہی اس تعداد پر ہے تو محاورہ سے معنیٰ اخذ نہ ہو گا۔ لفظ اپنے لغوی معنیٰ پر حقیقتہً دال ہو گا۔

سوال نمبر 928: کیا یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بدگمانی ان کو محبوبِ رسولﷺ اور دوستِ سیدنا علیؓ سمجھ کر رکھتے ہیں یا نافرمانِ رسولﷺ اور دشمنِ امیر جان کر؟

جواب: نصوصِ قطعیہ کے مقابل یہ شیعوں کا گمان و اعتقاد حجت نہیں۔ دشمنِ اسلام و خدا ابوجہل بھی حضورﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے دشمنی ان کو خدا اور دینِ ابراہیم کا دشمن سمجھ کر رکھتا تھا، اور اپنے عقیدہ کی حقانیت پر یقین کی وجہ سے ہی اس نے کعبہ شریف کا غلاف پکڑ کر آہ و زاری سے یہ دعا کی تھی:

اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ (پارہ: 9 رکوع 18)

ترجمہ: اے اللہ اگر یہ پیغمبر تیری طرف سے سچا ہے تو ہم پر پتھر برسا یا کوئی درد ناک عذاب لے آ۔

نیز قرآن میں ایسے مخلص بلا اعتقادوں کو مردود کہا گیا ہے:

اَلَّذِيۡنَ ضَلَّ سَعۡيُهُمۡ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَهُمۡ يَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ يُحۡسِنُوۡنَ صُنۡعًا‏ (پارہ: 16 رکوع 3)

ترجمہ: وہ لوگ جن کی کمائی دنیا کی زندگی میں برباد ہو گئی اور وہ دل سے سمجھتے ہیں کہ وہ اچھےکام کر رہے ہیں۔

سوال نمبر 929: کیا شیعوں نے رسول اللہﷺ و آلِ رسولﷺ کی محبت معیارِ عقیدت بنا کر غلطی کی ہے؟

جواب: حضرت رسولﷺ سے شیعوں کی محبت؟ اس سے بڑا دنیا میں کوئی جھوٹ نہیں۔ ورنہ ازواجِ مطہراتِؓ رسولﷺ‏ اور بناتِ طاہراتِؓ رسولﷺ، خلفاء و اصحابِؓ رسولﷺ کو یہ نام نہاد شیعانِ علی گالیاں نہ بکا کرتے۔ آلِ رسولﷺ سے محبت کا دعویٰ ضرور ہے مگر معیارِ عقیدت سمجھنے میں زبردست غلطی کی ہے۔ تمام اصحابِؓ رسولﷺ کو تو آلِ رسولﷺ کا دشمن مان لیا۔ حالانکہ انہوں نے اہلِ بیتؓ کو گود میں پالا، وظائف دیئے، ہر لحاظ سے ناز برداری کی، ان کے خلاف انگلی تک نہ ہلائی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دشمن ان مصری، کوفی، بصری سبائیوں کو اشتر نخعی جیسے ان کے لیڈروں کو محبِ آلِ رسولﷺ مان لیا جنہوں نے اہلِ بیتؓ کے خون سے بلا واسطہ یا بالواسطہ ہاتھ رنگے مسلسل نافرمانی کی اور اہلِ ببیت رضی اللہ عنہم کو بدنام کر کے چھوڑا۔ شیعوں کی تاریخ کا ایک ایک ورق گواہ ہے کہ انہوں نے اہلِ بیتؓ کشی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کردار کشی میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔

سوال نمبر 930: سیدنا ابوبکرؓ نے عاملِ صدقات نبویﷺ مالک بن نویرہ کے قتل کا قصاص نہ لیا اور مرتدوں کے خلاف جنگ کی شیعہ پر اعتراض کیوں؟

جواب: یہاں حضرت ابوبکرؓ دشمنی اور بد دیانتی سے طعن کیا گیا ہے۔ ورنہ مالک بن نویرہ نے حضور اکرمﷺ‏ کی وفات پر خوشی منائی اور کہا اچھا ہوا اس سے جان چھوٹ گئی اور جمع کردہ زکوٰۃ و صدقات اپنے پاس رکھ لی۔ سجاح نامی مرتدہ کے ساتھ ہو کر مدینہ پر حملہ آور ہونے لگا۔ پھر عورت سے تو الگ ہو گیا مگر حضرت خالد بن ولیدؓ سے مقابلہ ہو گیا۔ گرفتار ہوا تو بار بار یہ کہتا تھا تمہارے صاحب نے یوں کہا، پیغمبرﷺ‏ کی نسبت اپنی طرف نہیں کرتا تھا۔ حضرت خالدؓ کو غصہ آیا کہ حضورﷺ‏ تمہارے کچھ نہیں لگتے؟ اسی دوران حضرت ضرار بن الازور نے ان کو قتل کر دیا۔ کیونکہ یہ سب علامات و قرائن ارتداد کی ہی تھیں مگر حضرت ابو قتادہؓ کو یہ قتل اس لیے ناپسند آیا کہ ان کے خیال میں مالک کی بستی سے اذان کی آواز آئی تھی جب کہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی نفی کی۔ جب حضرت ابو قتادہؓ نے حضرت صدیقِ اکبر کو جا کر شکایت کی تو آپؓ نے ڈانٹا کہ بلا اجازت امیر آ گئے اور وہ بھی ان کے خلاف شکایت کرنے، بعد میں حضرت ابوبکر صدیقؓ نے تحقیق کی تو مالک کا ارتداد ثابت ہو گیا۔ تو حضرت خالدؓ سے قصاص نہ لیا۔ بعض مؤرخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ مالک بن نویرہ کو سیدنا خالدؓ نے قتل نہیں کرایا۔ بلکہ وہ تحقیقِ مال کے لیے سیدنا ضرار بن ازورؓ کی حراست میں تھے کہ دھوکے سے رات کے وقت حضرت ضرارؓ کے ہاتھوں قتل ہو گئے۔ سب تفصیل تاریخِ اسلام اکبر شاہ نجیب آبادی صفحہ 239 تا 242 پر دیکھی جا سکتی ہے۔

تحفہ اثناء عشریہ صفحہ 546 اردو پر اسی طعن کے جواب میں ہے کہ جب پیغمبرﷺ کی وفات سنی تھی تو مالک بن نویرہ کی عورتوں نے مہندی لگائی تھی اور دف نوازی کر کے لوازمِ فرحت و شادی ادا کیے تھے اور اہلِ اسلام پر ہنستے تھے۔ (یہ ارتداد کی نشانی تھی۔)

استیعاب ابنِ عبدالبر میں ہے کہ حضرت خالدؓ کو سیدنا ابوبکرؓ نے لشکروں پر امیر مقرر کیا سو ان کے ہاتھ پر اللہ نے یمامہ وغیرہ فتح کرائے اور اکثر مرتد ان کے ہاتھ پر قتل ہوئے جن میں مسیلمہ کذاب اور مالک بن نویرہ بھی تھے۔ الغرض حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کسی مسلمان کو قتل نہیں کیا بحکمِ قرآن صرف مرتدوں کو کیا۔ جب کہ شیعہ مرتدوں، کافروں کے طرف دار ہیں اور حضرت ابوبکر صدیق و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ویری دشمن ہیں۔ وہ معافی کے قابل نہیں۔

سوال نمبر 931: حضرت خالد بن ولیدؓ نے مالک بن نویرہ کی بیوی سے کیا سلوک کیا اور حکومت نے اس کے خلاف کیا کارروائی کی؟

جواب: مرتدہ تھی تو باندی بنا لیا پھر مسلمان ہوئی تو شادی کر لی کیونکہ وہ خاوند سے مطلقہ تھی اور اسیر تھی تو ایک طہر کی عدت گزر چکی تھی اس سے نکاح حلال تھا۔ یہ مذہب تمام فقیہانِ اہلِ سنت کا ہے تاریخوں میں شادی کے قصہ کے ساتھ یہ ختمِ عدت بھی لکھی ہے۔ (تحفہ اثناء عشریہ: صفحہ، 547)

بالفرض مالک کو مرتد نہ سمجھا جائے مگر امارات دیکھ کر سیدنا خالدؓ نے تو مرتد سمجھا اور قصاص شبہ سے جاتا رہا اور حضرت ابوبکرؓ نے دیت بیتُ المال سے ادا کر دی۔

مالک کے بھائی متمم بن نویرہ نے بھائی کے مرتد ہونے کی بار بار شہادت دی۔ اس بناء پر حضرت عمرؓ اپنے دورِ حکومت میں حضرت خالدؓ سے قصاص لینے سے باز آ گئے۔ (تحفہ اثناء عشریہ: صفحہ 549)

سوال نمبر 932: اگر شیعوں نے یہ کہا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مرتد ہو گئے تو امام غزالیؒ نے سر العالمین میں یہ لکھا ہے۔

جواب: پتہ چلا کہ آپ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مرتد مانتے ہیں۔ تبھی تو امام غزالیؒ کو اپنے ساتھ ملانا چاہتے ہیں اور پہلی صفائی محض منافقت اور مکاری تھی۔ یہ رسالہ امام غزالیؒ کا نہیں ہے کسی رافضی نے تصنیف کر کے امام غزالی رحمۃاللہ کے نام لگا دیا ہے۔ تحفہ میں کید 21 میں شاہ صاحبؒ نے اس کی صراحت کی ہے۔ (صفحہ، 76)

سوال نمبر 933: فقہ جعفریہ کو بغیر تائید حکومت کیوں برتری حاصل ہے کہ امام اعظمؒ نے کہا ہے میں نے امام جعفرؒ سے بہتر فقیہہ نہیں دیکھا۔

جواب: آپ نے اقرار کر لیا کہ شیعہ فقہ جعفریہ پر کسی حکومت نے عمل نہیں کیا۔ نہ یہ کسی شیعہ ملک میں ابھی تک نافذ ہوئی۔ یہی اس کے بے قدر اور غیر مؤید ہونے کی دلیل ہے ہم تو اسے تعلیمات جعفری مانتے ہی نہیں، نہ شیعہ اس کی جزئیات امام جعفر صادق رحمۃاللہ سے روایت کرتے ہیں بلکہ یہ تو چھٹی، آٹھویں صدی کے فقہاء شیعہ کی دماغی کاوش ہے کہ انہوں نے کچھ ان روایات سے استنباط کی ہے جو حضرت جعفرؒ کی طرف شیعوں نے منسوب کی ہیں جیسے چاروں فقہاء اہلِ سنت نے احادیثِ نبویہﷺ‏ میں غور و خوض کر کے اپنی اپنی فقہ مستنبط کی ہے گویا حضرت صادقؒ صاحبِ روایت و محدث تھے صاحبِ مذہب فقیہہ نہ تھے۔ ورنہ سب زندگی مدینہ منورہ رہے اہلِ مدینہ یا ایک گروہ مذہبِ جعفری کا قائل و پابند ہوتا۔ حضرت امام اعظمؒ نے آپ کی یہ تعریف ایک سمجھ دار عالم کہہ کر کی ہے اور معاصرین ایسی تعریفیں کرتے ہی ہیں۔ خود حضرت جعفر صادقؒ نے امام اعظم ابو حنیفہؒ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

سوال نمبر 934، 935: کیا اہلِ سنت نماز غیر عربی زبان میں پڑھنا جائز کہتے ہیں؟ اگر نہیں تو نکاح مسنون کے صیغے عربی میں ادا کرنے پر کیا ضد ہے؟

جواب: نماز عبادت ہے۔ اس کی قرآت، دعائیں وغیرہ سب ماثورہ ہیں، عربی میں ادا کرنا ضروری ہیں جب کہ نکاح ایک عقد و معاہدہ ہے جیسے خرید و فروخت کا عقد ہوتا ہے اس میں الفاظ اپنی انشاء اور ایجاد فعل کے ہوتے ہیں۔ طرفین کا ان کو جاننا سمجھنا ضروری ہے۔ ہر کوئی عربی نہیں جانتا لہٰذا اپنی اپنی زبان میں ایجاب و قبول درست ہے۔ مرغی کی تکبیر بھی ماثور ہے اس پر عقد کا قیاس نہیں ہو گا۔

سوال نمبر 936: جب دین میں جبر و اکراہ نہیں تو جبری طلاق کیوں ہو جاتی ہے؟

جواب: سب اہلِ سنت کا ہی مسئلہ نہیں صرف حنفیہ کے ہاں جبری طلاق ہو جاتی ہے۔ اگرچہ جابر گناہ گار اور قابلِ سزا ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃاللہ حتیٰ الامکان مسلمان کی بات کو سچا قرار دیتے ہیں جب کسی پر دباؤ ڈالا گیا کہ یا بیوی کو طلاق دو ورنہ تمہارا مال غصب ہو گا یا بے عزتی ہو گی۔ مار دیں گے وغیرہ تو اس شخص کے لیے دو راستے ہیں وہ ایک اپنی مرضی سے اختیار کرے گا۔ اگر بیوی اختیار کرے گا تو غصب مال، بے عزتی اسے گوارا ہے، اگر اسے مال اور عزت پسند ہے اور اسے بچا کر بیوی چھوڑ دیتا ہے تو اپنی مرضی کی ہے طلاق واقع ہو گئی۔ کیونکہ اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ عام ہے۔ جبری صورت کا استثناء نہیں ہے۔

سوال نمبر 937: بھی اس سے حل ہو گیا کہ شیعہ مذہب میں خواتین کی عزت کا تحفظ ہے ہی نہیں وہ بِکاؤ مال ہے۔ کرایہ دار ہو کر متعہ کرائے۔ عقد عارضی میں گرفتار ہو۔ گواہ تو شرط نہیں۔ جو شخص چاہے کسی عورت پر قبضہ کر کے بیوی بنائے اپنی موطوءہ (باندی) برائے جماع کسی کو دے دے یا اپنے پاس ہی رکھے مگر وطی کسی اور کو حلال کر دے۔ غرض یہ کہ عورت عصمت فروشی اور عیاشی و آشنائی کا بہترین ذریعہ ہے تبھی تو اوباش نوجوان اور عورتیں اس مذہب کو ترجیح دیتی ہیں۔

فقہ حنفیہ میں طلاق جبری کا فائدہ اس صورت میں نظر آتا ہے کہ بنصِ قرآنی عاقلہ بالغہ اپنے نکاح میں خود مختار ہے کہ نکاح کرنے کی نسبت اس کی طرف ہے حَتّٰى تَنۡكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهٗ بعض دفعہ عورت خاندان کی عزت کو بٹہ لگا کر فرار ہو جاتی ہے تو بغیر ولی نکاح کر لیتی ہے۔ اب اگر جبری طلاق کی شق نہ ہو تو عورت کا خاندان ہمیشہ کے لیے بدنام ہو گا اور عورت دشمنی کا ذریعہ بنی رہے گی۔ جبری طلاق سے خرابی دور ہو جائے گی۔

سوال نمبر 938: نکاح جیسا اہم معاہدہ صرف (تجھے) طلاق، طلاق، طلاق کہنے سے کیسے ٹوٹ جاتا ہے عہدِ رسالتﷺ و حضرت ابوبکر صدیقؓ میں یہ رواج ثابت کیجیے؟

جواب: یہ معاہدہ زبانی اقرار، قَبِلْتُ وَ تَزَوِّجْتُ (میں نے قبول کر لی) سے ہی بنا تھا۔ اب زبانی طلاق سے ہی ختم ہو گا۔ تمام معاہدات اسی زبان کے چلنے سے ہی بنتے بگڑتے ہیں۔ عہدِ رسالت میں بھی تین طلاقیں پڑ جاتی تھیں۔ تفصیل سوال نمبر 410، 411 میں دیکھیں۔

سوال نمبر 939: صحیح مسلم کی حضرت ابنِ عباسؓ والی روایت کا جواب وہیں ہو چکا ہے۔

سوال نمبر 940: کا جواب بھی ہو گیا کہ عقلی تقاضا ہے کہ معاہدہ نکاح تین سیکنڈ میں قائم ہوا تھا۔ تو تین سیکنڈ میں طلاق کے ذریعے ختم ہو۔ کیونکہ تعمیر کی بہ نسبت تخریب جلدی ہوتی ہے۔ ہمارے دین نے اس کا تحفظ یوں کیا ہے کہ اسے ناپسندیدہ ترین کام کیا ہے اور بلاوجہ طلاق دینے والا مجرم ہے۔

شیعوں کا جلوس دیکھنے سے تو طلاق نہیں پڑتی ہاں جلوس و بازار کی رونق متعائی حسیناؤں کا نظارہ یہ دعوت ضرور دیتا ہے کہ چار دیواری میں پابند منکوحات کو چھوڑ کر آزاد منشوں کے پاس آ جاؤ یہ دونوں جہان کی جنت ہیں۔ عشرہ محرم 1406 ہجری کے تمام اخبارات نے ملک کی نامور اداکاروں، ایکٹرسوں اور پیشہ ور مغنیہ طوائفوں کی رنگین تصاویر شائع کی ہیں جن میں وہ تعزیہ، عَلَم، ضریح اور دُلدُل کی تعظیم اور پرستش کر رہی ہیں۔ واقعی شیعہ مذہب کی تبلیغ کا سب سے بڑا ہتھیار یہی عورتیں ہیں۔

سوال نمبر 941: امام غزالیؒ نے حقوق الانسان صفحہ 172 میں لکھا ہے کے جمہور فقہاء نے حضرت عمرؓ كے اجتہاد کی پیروی کر کے اس طلاق کی صحت کا فتویٰ دیا ہے حالانکہ سنّتِ پیغمبرﷺ اس کے خلاف تھی۔

جواب: نبی تو حضرت محمد مصطفیٰﷺ تھے سیدنا عمرؓ نہ تھے۔ مگر سنّتِ پیغمبرﷺ یہی تھی۔ بخاری باب من اجاز طلاق الثلاث کی احادیث پڑھ لیجیے۔ یہ سياق و سباق کے بغیر امام غزالیؒ کی عبارت قابلِ تاویل ہے۔

سوال نمبر 942: جو اجتہاد حضورﷺ کی سنّت کے خلاف ہو گا کیا اسے مان کر بھی آپ اہلِ سنت کہلائیں گے؟ 

جواب: اجتہاد کی خاص شرائط ہیں جو اجتہاد شرائط کے اندر ہو بظاہر الفاظ کے خلاف ہو، مگر روحِ سنّت کے خلاف نہ ہو اہلِ سنت کے ہاں وہ بھی درست ہو گا۔ مثلاً حضور اکرمﷺ‏ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ فلاں قبطی غلام کو قتل کر دو کہ اس پر حرم پاک میں خیانت کا الزام ہے جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ قتل کرنے گئے وه بھاگ کر درخت پر چڑھ گیا اور ننگا ہو گیا۔ حضرت علیؓ نے اس کا مقطوع عضو دیکھ کر تلوار نیام میں کر لی کہ الزام جھوٹا ثابت ہوا۔ اب یہ اجتہاد ظاہر حکم کے خلاف تھا مگر منشاء نبوت کے مطابق تھا۔ طلاقِ ثلاثہ معاً کا رواج عام عہدِ نبوت میں نہ پڑا تھا۔ اگر ہوتا تو آپ نصِ قرآنی کے مطابق تین ہی نافذ کرتے۔ جیسے چند واقعات میں کی تھیں۔ حضرت عمرؓ نے اپنے دور میں قرآن اور منشاء نبوت کے مطابق اجتہاد سے عام قانون بنا دیا اور تین کو تین قرار دیا۔

سوال نمبر 943: کیا مختار ثقفی سے اہلِ سنت کی بدگمانی قاتلانِ سیدنا حسینؓ کو قتل کرنے کی وجہ سے ہے؟ 

جواب: قاتل تو شمرو ابنِ زیاد وغیرہ چند تھے۔ مگر اس نے 70 ہزار بے گناہوں کو بھی اپنی سیاست و حکومت کی خاطر شہید کیا۔ حضرت زین العابدینؒ نے اس کو بدنیت اور کذاب کہا، ہدایا قبول نہ کیے۔ اصولِ کافی کے باب الکتمان میں اس کی اور اس کے پیروکاروں کی خوب مذمت کی گئی ہے اور ان کو شیعیت سے خارج کیا گیا ہے پھر یہ جھوٹی نبوت کا دعوے دار تھا۔ حضرت محمد بن الحنفیہؒ کو امام کہتا تھا۔ جس کے اثناء عشریہ اعلانیہ منکر اور دشمن ہیں۔ تمام حوالہ جات ہم ہم سنی کیوں ہیں؟ کی بحث تقیہ، مختار ثقفی کا تعارف میں ہم ذکر کر چکے ہیں۔

سوال نمبر 944: حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے خونِ سیدنا حسینؓ کے بارے میں کیا عملی قدم اٹھایا؟

جواب: اہلِ مکہ و مدینہ کو یزید کے خلاف آپؓ نے ہی اٹھایا۔ پہلی تقریر میں کہا: 

لوگو! دنیا میں عراق کے آدمیوں سے برے کہیں کے آدمی نہیں اور عراقیوں میں سب سے بدتر کوفی لوگ ہیں کہ انہوں نے بار بار خطوط بھیج کر باصرار حضرت حسینؓ کو بلایا اور ان کی خلافت کے لیے بیعت کی لیکن جب ابنِ زیاد کوفہ میں آیا تو اس کے گرد ہو گئے اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو جو نماز گزار، روزے دار، قرآن خواں اور ہر طرح مستحقِ خلافت تھے قتل کر دیا اور ذرا بھی خدا کا خوف نہ کیا۔ یہ کہہ کر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ رو پڑے۔

(تاریخِ اسلام نجیب آبادی: جلد، 2 صفحہ، 83)

ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابن زبیرؓ نے تمام امویوں کو نکال دیا تھا اور خود امویوں کی زبانی یزید کو حالات معلوم ہوئے۔

(تاریخِ اسلام ندوی: جلد، 1 صفحہ، 371)

سوال نمبر 945: شاہ اسماعیل شہید رحمۃاللہ نے منصبِ امامت میں اقرار کیا ہے کہ روزِ قیامت سیدنا علیؓ کی ولایت کا سوال ہو گا۔ جب ولایت ضروری نہیں تو سوال کیا؟ 

جواب: یہ مقام دیکھا۔ شاہ اسماعیل شہید بالا کوٹ ہمارے ہی پیشوا اور محبتِ مرتضوی سے سرشار ہیں۔

ولایت بمعنیٰ محبت ہے اور سب سنی مسلمان حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے ہیں اور سوال کا مطلب محبت کی نیکی کا کم و بیش ہونا ہے۔ شیعوں کی مزعومہ ولایت بلا طفصل مراد نہیں ہے۔

سوال نمبر 946: جب اہلِ سنت کی کتابیں بھی شیعوں نے لکھیں تو سنی علماء کیا کرتے رہے؟ 

جواب: اہلِ سنت کے علماء، علم قرأت، حدیث، تفسیر، فقہ و قانون خالص مذہبی علوم کی تدوین میں معروف رہے۔ تاریخ و سیرت کی طرف کم توجہ کی۔ اگرچہ اس پر بھی بہت کچھ کتابیں لکھی۔ جب کہ شیعہ تاریخ سازی اور اس کی اشاعت میں لگے رہے۔ خصوصاً مشاجرات و مطاعن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور خلافیت کو اپنی طرف سے مرچ مصالحہ لگا کر خوب اچھالا اور نقل و تاریخ کا جزو بنا دیا جسے قرآن و حدیث پر پیش کیے بغیر معتبر و قابلِ استدلال نہیں مانا جا سکتا۔

سوال نمبر 947: اپنے کم از کم 25 معتمد علماء متقدمین کے نام لکھیے؟ 

جواب: عام علمی اصطلاح کے مطابق پہلی تین صدیوں کے علماء کو متقدمین کہا جاتا ہے۔ چند علمائے محدثین فقہاء کے اسماء حاضر ہیں:

1: ثقہ و حافظ ابراہیم بن سعید الجوہری المتوفیٰ 250 ہجری۔

2: اسحاق بن ابراہیم ابنِ راہویہ حافظ المتوفیٰ 230 ہجری۔

3: احمد بن سعید الدارمی ثقہ و حافظ المتوفیٰ 253 ہجری۔

4: احمد بن یوسف ازدی نیسابوری حافظ ثقہ المتوفیٰ 274 ھ

5: ابراہیم بن یزید النخعی ثقہ کثیر الارسال المتوفیٰ 96 ہجری۔

6: ابراہیم بن سعد بن ابراہیم زہری ثقہ و حجتہ المتوفیٰ 185 ہجری۔

7: احمد بن ابراہیم الدورقی آفندی ثقہ حافظ المتوفیٰ 247 ہجری۔

8: ایوب بن ابی تمیمہ سختیانی، ثقہ، حجتہ، فقیہہ المتوفیٰ 131 ہجری۔

9: سیدنا انسؓ بن مالک انصاری خزرجی خادم النبیﷺ المتوفیٰ 93 ہجری،

10: اسماعیل بن ابراہیم المعروف بابن علیہ ثقہ حافظ المتوفیٰ 193 ھ

11: حبیب بن ابی ثابت بن قیس ثقہ، فقیہہ المتوفیٰ 119 ہجری۔

12: الحسن بن ابی یسار المعروف بالبصری ثقہ فقیہہ فاضل المتوفیٰ 110 ہجری۔

13: الحسن بن علی الملوانی ثقہ حافظ لہ تصانیف المتوفیٰ 242 ہجری۔

14: حماد بن ابی سلیمان الاشعری المتوفیٰ 120 ہجری،

15: خارجہ بن زید بن ثابت ثقہ فقیہہ یکے از فقہاء سبعہ المتوفیٰ 100 ہجری۔

16: حماد بن سلمہ بن دینار ثقہ فقیہہ عابد المتوفیٰ 167 ہجری۔

17: سفیان بن عینیہ الکونی حافظ فقیہہ المتوفیٰ 198 ہجری۔

18: سفیان بن سعید الثوری ثقہ امام حجتہ المتوفیٰ 161 ہجری۔

19: الامام الاعظم مقتدا و حجت نعمان بن ثابت ابو حنیفہؒ المتوفیٰ 150 ہجری۔

20: ابو یوسف یعقوب الامام الفقیہہ الحجۃ المتوفیٰ 187 ہجری۔

21: محمد بن الحسن الشیبانیؒ الامام صاحب ابی حنیفہؒ،

22: محمد بن ادریس الامام الشافعیؒ المتوفیٰ 204 ہجری۔

23: الامام مالک بن انسؒ صاحب الموطا المتوفیٰ 179 ہجری۔

24: الامام احمد بن حنبل بغدادیؒ المتوفیٰ 240 ہجری۔

25: ابو جعفر محمد بن علی بن حسینؒ الباقر المدنی ثقہ امام المتوفیٰ 114 ہجری رحمہم اللہ اجمعین۔

سوال نمبر 948: صحاح ستہ کے علاوہ مزید 40 کتابوں کی فہرست شائع فرمائیں جو حجت ہوں اور 300 سال پہلے کی تحریر ہوں؟ 

جواب: کتب احادیث: 1: صحیح ابنِ حبان

2: موارد الظمآن

3: مستدرک حاکم مع تصحیح الذہبی تنہا حجت نہیں

4: مسند احمد متکلم فیہ احادیث کے سوا

5: مؤطا امام مالک

6: سنن رزین

7: شرح معانی الاثار للطحاوی،

8: مشکوٰۃ المصابیح،

9: جمع فوائد،

10: ریاض الصالحین،

11: مجمع الزوائد مع تضعیف و توثیق رجال،

12: زاد المعاد،

13: اعلام الموقعین،

14: جامع الاصول من احادیث الرسولﷺ‏،

15: فتح الباری لابنِ حجر،

16: عمدۃ القاری للعینی،

17: صحیح ابو عوانہ للاسفرائینی،

18: مسند ابوداؤد طیالسی،

19: سنن الکبریٰ بیہقی،

20: شمائل ترمذی،

21: تخریج الزیلعی علی احادیث الہدایہ یعنی نصب الرایہ، ان کے حجت ہونے کا معنیٰ یہ ہے کہ اکثر و بیشتر احادیث صحیح حجت ہیں اگر بعض متکلم فیہ یا مجروح ہوں تو استدلال نہ ہو گا۔ 

کتبِ فقہ:

22: امام محمدؒ کی کتب ظاہر روایتہ

23: کتاب الام للشافعی،

24: المدونتہ الکبریٰ علی فقہ الامام مالکؒ

25: مغنی ابنِ قدامہ علی فقہ الامام احمد بن حنبلؒ

26: کتاب المبسوط للسرخسی

27: ہدایہ للمرغنیانی

28: البدائع والصنائع

29: فتح القدیر لابنِ ہمام

30: فتاویٰ عالمگیری۔ 

کتبِ تفسیر:

31: الجامع لاحکام القرآن للقرطبی

32: تفسیر ابنِ کثیرؒ

33: تفسیر مدارک

34: روح المعانی

35: تفسیر جلالین۔

کتبِ تاریخ و رجال:

36: طبقات ابنِ سعد المتوفیٰ 230 ھ

37: کتاب الجرح والتعدیل لابنِ ابی حاتم المتوفیٰ 327 ہجری

38: تاریخ الامم والملوک للطبری المتوفیٰ 310 ہجری

یہ کچی پکی ہر قسم کی تاريخی روایات کی ڈکشنری ہے۔ راوی کذاب و وضاع بھی ہیں۔ صرف وہ واقعات و روایت صحیح ہیں جو قرآن و سنت اور اسلامی انقلاب کی روح کے مطابق ہیں۔

39: تاریخ ابنِ خلدون

40: الہدایہ والنہایہ لابنِ کثیر الدمشقی المتوفیٰ 774 ہجری، رحمہم اللہ علی مؤلفیہا۔

سوال نمبر 949: عزاداری کو آپ ناجائز کہتے ہیں عقلی دلائل دیجیے؟ 

*جواب:* آپ کا ہر لفظ الٹے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ گویا لغت سے لفظ اچھا تلاش کیا اور اس کا مفہوم اور استعمال اغراضِ فاسدہ کے تحت انتہائی غلط چیزوں میں کیا مثلاً ذاکر کا شرعی و لغوی معنیٰ خدا کا یاد کرنے والا ہے۔ آپ نے ایک فاسق گویّے تبرّا باز کا نام رکھ دیا۔ عزا اور تعزیہ تعزی سے بنا ہے یعنی کسی غمزدہ کو تسلی دینا صبر کی تلقین کرنا۔ آپ نے خلاف شرع و صبر رونے پیٹنے اور بین و ماتم کی محفل کو مجلس عزا نام دے دیا۔ بطور یادگار پوجی جانے والی شکلِ قبر کو تعزیہ نام دے دیا۔ منافق اور دوغلے شخص کا نام مومن رکھ دیا۔ شیعہ تابعدار اور گروہ کو کہتے ہیں۔ آپ نے اس گروه کا نام رکھ دیا جو سیدنا علیؓ کا عملاً اعلانیہ مخالف ہو مگر آپ کی محبت میں غلو کرے باقی سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعینؒ اور امتِ محمدیہ کو منافق یا کافر بتائے۔ 

ردّ عزاداری پر ہماری مستقل کتاب حرمتِ ماتم اور تعلیماتِ اہلِ بیتؓ ہے۔ اس کے مقدمہ میں 15 وجوه بالتفصیل مذکور ہیں ملاحظہ فرمائیں۔ قرآن و کتبِ سنی و شیعہ سے 150 دلائل مزید ہیں۔

سوال نمبر 950: ہر قوم اپنے بزرگوں کی یادگاروں کی تعظیم و قدر کرتی ہے لیکن آپ اہلِ بیتؓ کی زیارات ناگوار سمجھتے ہیں کہ اہلِ بیتؓ برگزیدہ نہیں؟ 

جواب: بزرگوں کی یادگار دو قسم کی ہوتی ہیں۔

1: عقائد، افکار، رسوم و اعمال اور اخلاقی اقدار جو قوم اپنے بزرگوں کی ان چیزوں کی تعظیم و قدر کرے اور ان کو اپنائیں معاشرے میں پھیلائے وہ ایک زندہ اور بزرگوں کی صحیح جانشین سمجھی جاتی ہے جیسے مسلمان قوم کو اپنے پیغمبرﷺ‏ اور اصحابِؓ پیغمبرﷺ‏ کی ایک ایک سنت و ادا کو اپناتے اور پھیلاتے پھرتے ہیں ان کا نام زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

2: ان کی شکل و صورت، قبر، سواری، استعمال شدہ چیز کی تصویر و نقل اور مورتی بنا لینا، اس کی اصل کی طرح تعظیم و قدر کرنا، بت پرستوں اور عملاً مردہ اپنے اسلاف کی مخالف قوموں کا شعار ہے۔ اپنے ہاتھ کی بنی ہوئی یادگار فرضی ہوتی ہیں۔ خود ان بزرگوں کی یادگار نہیں ہوتی اس میں غلو کرنا شرک و بدعت کا دروازہ کھولنا ہے جیسے عیسائی، یہودی، ہندو، سکھ اپنے بزرگوں کی تعلیمات بھلا بیٹھے۔ اعمال ضائع کر دیئے۔ اور یادگاریں بنا کر پوجنے لگے۔ شیعہ تعزیہ عَلَم وغیرہ یادگاروں کی تعظیم و پرستش میں بالکل کفار قوموں کے شانہ بشانہ چل رہے ہیں اسلام محمدیﷺ‏ یا اعمالِ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم سے ان کو ذرا بھی تعلق نہیں۔ سنی مسلمان اہلِ بیتؓ کو برگزیدہ پیشوا مان کر ان کی تقلید و تابعداری کرتے ہیں۔ کسی شیعہ کی یہ جرأت نہیں کہ وہ اہلِ سنت پر یہ اعتراض کرے کہ ان کا فلاں عقیدہ و عمل اہلِ بیتؓ کے خلاف ہے۔

سوال نمبر 951: اگر کالا لباس برا ہے تو غلافِ کعبہ اور حضورﷺ کی کمبلی کیوں کالی تھی؟

جواب: مطلقاً برا نہیں گناہِ ماتم کا شعار ہے تو برا ہے حضرت علیؓ نے اپنے شاگردوں کو تعلیم دی تھی: 

لَا تَلْبَسُوْا السّوَادَ فإِنَّهُ لِبَاسُ فِرْعَوْنَ (من لايحضره الفقيہہ)

کالا لباس نہ پہنو کیونکہ وہ فرعون کا لباس تھا۔

سوال نمبر 952: 1: صحابہؓ نے دنیا کے کونے کونے میں اسلام پھلایا۔ 2: شیعوں نے اسلامی لٹریچر لکھا کون سی بات صحیح ہے؟

جواب: پہلی بات سچی ہے شکر ہے۔ آپ کے منہ سے بھی نکل گئی دوسری غلط ہے شیعوں نے تو اسلامِ محمدیﷺ قرآن اور جماعتِ رسولﷺ کو دنیا سے مٹانے کے لیے قلمی کاوشیں کیں۔

سوال نمبر 953: آپ کو ناز ہے اگر ایک حضرت عمرؓ اور ہوتا تو ساری دنیا میں اسلام پھیل جاتا زمانہ سیدنا عمرؓ میں صرف نصف ایشیاء میں مسلمانوں کی کثرت ثابت کیجیے؟

جواب: ناز بجا ہے کیونکہ ساڑھے 22 لاکھ مربع میل رقبۂ کفار آپ کے عہد میں فتح ہوا مولانا دوست محمد قریشی رحمۃاللہ کے جلاء الاذہان کے جواب میں آپ نے یہ لکھا ہے۔ یہ سارے علاقے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں فتح ہوئے۔ قادسیہ، جلولاء حلوان، تکریت، خوزستان، ایران، اصفہان، طبرستان، آذربائیجان، آرمینہ، فارس، سیستان، مکران، خراسان اردن، حمص، یرموک، بیت المقدس، اسکندریہ، طرابلس۔ (ذکاءالاذہان: صفحہ، 564)

یہ غرب تا شرق (ترکستان و حالیہ روس) ایشیاء کا کثیر الآباد متمدن حصہ ہے اور اکثریت مسلمان ہوئی آج پندرہ صدیوں کے بعد بھی روسی مقبوضات کے سوا سب مسلم ممالک اور ان کی حکومتیں ہیں یہ آبادی نصف ایشیاء سے کم نہیں ہے۔

سوال نمبر 954: چلیے دورِ حاضرہ میں ایشیاء کے تمام مالک کی آبادی اور مسلمانوں کا تناسب تحریر کر کے مسلمانوں کی کثرت ثابت کریں۔

جواب: سوال کا تیور صاف بتاتا ہے کہ آپ مسلمانوں کے دشمن اور کافروں کے نمائندہ ہیں اور ان کی تعداد کم دکھانے پر مصر ہیں ہم ڈائری لیل و نہار بابت 1983ء مطبوعہ لاہور سے اعداد و شمار پیش کرتے ہیں: 

 نام ملک، مسلم آبادی، تناسب

افغانستان: ایک کروڑ تہتر لاکھ۔ 99٪

الجزائر: ایک کروڑ چوالیس لاکھ۔ 92٪ 

ایران: تین کروڑ نو لاکھ۔ 98٪

ایتھوپیا حبشہ: ایک کروڑ تہتر لاکھ۔ 65٪

بنگلہ دیش: آٹھ کروڑ۔ 87٪

پاکستان: آٹھ کروڑ سینتیس لاکھ۔ 97٪

انڈونیشیا: بارہ کروڑ اکتالیس لاکھ۔ 94٪ 

انڈیا: اٹھارہ کروڑ (یہ ذاتی معلومات کی بناء پر ہے) 30٪

کشمیر: ساٹھ لاکھ۔ 90٪

ترکی: تین کروڑ بہتر لاکھ۔ 98٪  

تیونس: باون لاکھ۔ 93٪  

سعودی عرب: اسّی لاکھ۔ 100٪

شام: اٹھاون لاکھ۔ 87٪

عراق: پچانوے لاکھ۔ 95٪ 

سوڈان: ایک کروڑ انتالیس لاکھ۔ 82٪ 

تنزانیہ: بیاسی لاکھ۔ 65٪

بحرین: دو لاکھ بائیس ہزار۔ 99٪

قطر: ایک لاکھ اسّی ہزار۔ 99٪

کویت: نو لاکھ۔ 99٪

لیبیا: اکیس لاکھ۔ 99٪ 

متحدہ عرب امارات: بارہ لاکھ ساٹھ ہزار۔ 100٪

یمن شمالی: ساٹھ لاکھ۔ 99٪

یمن جنوبی: سولہ لاکھ۔ 98٪

مراکش: ایک کروڑ اکسٹھ لاکھ۔ 95٪

صومالیہ: انتیس لاکھ۔ 98٪

لبنان: سترہ لاکھ۔ 57٪

اومان، مسقط: سات لاکھ چالیس ہزار۔ 99٪

بالائی والٹا: تیس لاکھ۔ 55٪

میزان: سڑسٹھ کروڑ اسّی لاکھ بیاسی ہزار۔ 88٪ 

غیر مسلم ایشائی ممالک مسلم آبادی کا تناسب یہ ہے:ـ

قبرص: ایک لاکھ اکانوے ہزار چار سو۔ 23٪

چین: پچھتر لاکھ چون ہزار۔ 12٪

آرمینہ، روس: دو لاکھ چالیس ہزار آٹھ سو چالیس۔ 12٪

جارجیادوس: آٹھ لاکھ چوبیس ہزار چار سو۔ 19٪

فلپائن: انتیس لاکھ انتیس ہزار آٹھ سو 10٪

(چین روس کی یہ تعداد غلط ہے اس میں ترکستان، بخارا، سمرقند کثیر مسلم علاقہ ہیں۔ مسلمان 8ـ 10 کروڑ ہوں گے۔ چین کے صوبہ کاشغر کی آبادی تقریباً تین کروڑ سبھی مسلمان ہے۔ سب سے بڑے صوبہ سنکیانگ کی 42 ریاستیں (اضلاع) ہیں۔ 14 مسلم اکثریت کی ہے۔ 3 ہزار جامع مسجد آباد ہیں مسلم آبادی 12 کروڑ سے زائد ہے۔ (بحوالہ ایک چینی طالب علم مدرسہ امداد الاسلام گواجرنوالہ)

سوال نمبر 955: اگر کتاب خدا اکیلی ہدایت کے لیے کافی ہے تو الٓمّٓ کے معنیٰ بتائیں؟

جواب: سوال سے قرآن دشمنی کی بدبو آتی ہے۔ گنتی کے حروفِ مقطعات اگر خدا کا راز ہوں اور ان کا معنیٰ خدا کسی کو نہ بتائے یا صرف اپنے پیغمبرﷺ ہی کو بتائے تو باقی سب قرآن ہادی کیسے نہ رہے گا؟ بطورِ تفہیم صحابہ کرامؓ سے یہ معنیٰ منقول ہے کہ الف سے اللہ، لام سے حضرت جبرائیل علیہ السلام اور میم سے محمد رسول اللہﷺ کی ذات مراد ہے یعنی قرآن بھیجنے والا، لانے والا، سنانے والا تینوں سچے ہیں۔ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ اس کتاب میں کوئی شک و شبہ نہیں۔

سوال نمبر 956: جب پہلا سبق ہی نہیں آتا تو آگے اسباق کا کیا حال ہو گا؟

جواب: ہم نے تو پہلے سبق کو استاد کے کہنے کے مطابق پڑھ لیا اور مان لیا مگر تعجب ہے کہ شیعہ ہی اس پہلی بات کا انکار کر کے قرآن میں شک و شبہ کے قائل ہو گئے کہ یہ تو محرّف شدہ بیاضِ عثمانیؓ ہے (معاذ اللہ) تو ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ والے قرآن سے کیا ہدایت پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کے پاس جعلی روایات کا انبار تک تو ہے مگر قرآن کا ایک پاؤ بھی یقینی مرتب اور تحریف سے پاک نہیں ہے۔

سوال نمبر 957: اگر عقلاً کتاب ہدایت کے لیے کافی ہوتی تو پھر دنیا استاد کیوں بناتی؟

جواب: خدا نے پیغمبرﷺ پر کتاب اتاری تو معلم بھی اسے بنایا۔ وہ يُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ کے تحت کتاب و سنت کی تعلیم دیتے رہے۔ پھر ہزاروں اپنے جانشین استاد بنا کر چھوڑ گئے۔ جنہوں نے سب دنیا کو کتاب و سنت کی تعلیم دی اور تاقیامت وہ رہے گی۔ مگر صد افسوس ایک شیعہ فرقہ ایسا بھی دنیا میں پیدا ہوا جس نے معلم کی تعلیمِ سنت کا انکار کر دیا واجب الاتباع ثقلین سے خارج کر دیا۔ تمام تربیت یافتہ تلامذہ نبوت کو گمراہ و مرتد مان لیا۔ صرف عرب علاقہ کے لیے ڈھائی صدیوں تک 12 استاد مانے جنہوں نے صاحبِ کتاب پیغمبرﷺ‏ سے تعلیم پائی ہی نہیں نہ وہ محتاج تعلیم تھے کہ عالم لدنی تھے۔ پھر وہ بھی تقیہ میں روپوش ہو گئے آخری استاد (مہدی) غار میں چھپ گئے۔ آج کوئی شیعہ ان بارہ خیالی استادوں کے تین تین ثقہ حلقہ تعلیم و تدریس والے شاگرد بھی ہرگز نہیں بتا سکتا۔

سوال نمبر 958: اس صحابیؓ کا نام بتائیں جس نے حضورﷺ کے ساتھ سب سے پہلے نماز ادا کی؟

جواب: ترمذی شریف جلد 2 صفحہ 238 میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ مردوں میں سب سے پہلے اسلام لائے۔ (اور سب سے پہلے آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی) حضرت علیؓ اسلام لائے تو آٹھ سال کے تھے۔ عورتوں میں سے سب سے پہلے حضرت خدیجہؓ مسلمان ہوئیں دوسری روایت میں حضرت زید بن ارقمؓ کی روایت سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اوّل اسلام لانے کا ذکر ہے۔ حضرت ابراہیم نخعیؒ کو یہ روایت بتائی گئی تو انہوں نے اسے انوکھا جانا اور کہا سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیقؓ مسلمان ہوئے تھے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

بعض تاریخی کتابوں میں ہے کہ سیدنا علیؓ نے بھی پڑھی مگر اس وقت آپؓ آٹھ یا دس سال کے بچے تھے۔ بالغ کی نماز اور عمل و نصرت زیادہ وزنی ہے۔

سوال نمبر 959: یہ شرف کس صحابی کو حاصل ہے کہ جنگوں میں محافظِ عَلَمِ رسولﷺ ہو اور روزِ اُحد اپنے مقام پر ڈٹا رہا؟

جواب: متعدد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین علَم بردار ہوتے تھے۔ سیدنا مصعب بن عمیرؓ جو اُحد میں علَم بردار تھے۔ (تاریخِ اسلام نجیب آبادی: صفحہ، 142)

سیدنا زبیر بن عوام، سیدنا طلحہ، سیدنا ابو عبیدہ، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا علی، سیدنا زید بن حارثہ، سیدنا عبداللہ بن رواحہ، سیدنا جعفر طیار، سیدنا خالد بن ولید غیرہم رضی اللہ عنہم روزِ اُحد حضرت علیؓ بھی درجن بھر خواص اور بیسیوں عوام کے ساتھ ثابت قدم رہے، بھاگے نہیں۔

سوال نمبر 960: کس بزرگ صحابیؓ نے حضورﷺ کو غسل دے کر قبر میں اتارا؟

جواب: تاریخوں میں ہے۔ غسل وغیرہ کی سعادت اعزّہ خاص حضرت علیؓ، حضرت فضل بن عباس، حضرت قثم بن عباس اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم کے حصے میں آئی اور حضرت ابو طلحہؓ نے قبر کھودی اور باری باری سے مسلمانوں نے بلا امام نمازِ جنازہ پڑھی۔ (تاریخِ اسلام ندوی: صفحہ، 97)

سوال نمبر 961: روزِ قیامت لواء الحمد کس بزرگ کے ہاتھ میں ہو گی؟

جواب: خود حضور خاتم النبیینﷺ کے ہاتھ میں۔

 بروایت حضرت ابو سعید خدریؓ حضورﷺ نے فرمایا میں قیامت کے دن تمام اولادِ آدم علیہ السلام کا سردار ہوں گا فخر نہیں کرتا۔ حضرت آدم علیہ السلام سمیت تمام انبیاء علیہم السلام میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے۔ سب سے پہلے میں قبر سے اٹھوں گا فخر نہیں کرتا۔ (ترمذی، دارمی، مشکوٰۃ: صفحہ، 513، 514)

مشکوٰۃ میں ایسی تین روایتیں اور بھی ہیں۔

سوال نمبر 962: امیر المومنین حضرت علیؓ بن ابی طالب نے شہادت کے بعد کیا ترکہ چھوڑا؟

جواب: بہت کچھ چھوڑا۔ عہدِ نبوت میں گو آپ کی مالی حالت کمزور تھی۔ مگر عہدِ خلفاءؓ میں وظائف پانے اور کاروبار کرنے سے کافی طاقت ور ہو گئی اور اپنے عہدِ خلافت میں تو اچھے بھلے صاحبِ جائیداد تھے۔

سوال نمبر 963: کیا اہلِ بیتؓ سے محبت رکھنا باعثِ نجات نہیں؟

جواب: دعویٰ محبت کافی نہیں۔ سچی عقیدت اور اتباع یقیناً معین نجات ہے۔ جب تمام اہلِ بیتؓ بشمول ازواجِ مطہراتؓ (ازواج کے اہلِ بیتِؓ نبی ہونے پر منجملہ ایک یہ حدیث بھی ہے کہ حضورﷺ‏ نے ارشاد فرمایا جب اللہ کسی قوم سے بھلائی کرنا چاہتا ہے تو انہیں ہدیہ بھیجتا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا ہدیہ کیا ہے۔ فرمایا مہمان ہے جو اپنا رزق لے کر آتا ہے اور اہلِ بیتؓ کے گناہ لے جاتا ہے۔ (جامع الاخبار للشیخ الصدوق: صفحہ، 120) اگر کھانا پکا کر کھلانے والی بیوی، گھر والی (اہلِ بیتؓ) کے گناہ زائل نہ ہوں تو حدیث کا معنیٰ ہی کچھ نہیں۔) بناتِ پاکؓ اور آپ کے خسروںؓ، دامادوںؓ، مومن چچوںؓ سے بھی ہو۔ کہ یہ تمام شرعاً و عرفاً اہلِ بیتِؓ نبوتﷺ اور خاندانِ رسالتﷺ ہیں۔ باقی سب سے دشمنی رکھ کر صرف چار افراد سے شیعوں کی محبت نجات میں اسی طرح ناکافی ہے جیسے خارجی حضرت نبیﷺ حضرت فاطمہؓ و حضرت حسنینؓ سے محبت کرتا ہے۔ مگر حضرت علیؓ کو داماد غیر خونی رشتہ سمجھ کر محبوب نہیں رکھتا تو ناجی نہیں۔

سوال نمبر 964: وہ کون سا رائج مذہب ہے جسے مذہب آلِ محمدﷺ کہا جاتا ہے؟

جواب: مذہبِ اہلِ سنّت ہے جو آلِ محمدﷺ کا حُب دار ہی نہیں پیروکار بھی ہے۔

حضورﷺ کا ارشاد ہے: 

من مَاتَ عَلىٰ حُبِّ اٰلِ محمّدﷺ مَاتَ عَلىٰ السُّنَّةِ وَالجماعةِ (جامع الاخبار للشيخ صدوق: صفحہ، 144)

ترجمہ: جو آلِ محمدﷺ سے محبت پر فوت ہو گا وہ سنت و جماعت والے مذہب پر فوت ہو گا۔

جب سنت و جماعت اور محبت اہلِ بیتؓ رسولﷺ لازم و ملزوم ہیں۔ تو اہلِ سنت ہی مذہب آلِ محمدﷺ کے پیرو ہوئے شیعوں کو تو آلِ محمدﷺ کی پیروی کی ہوا بھی نہیں لگی۔

سوال نمبر 965: حکمِ قرآن یہ ہے کہ ان لوگوں سے محبت نہ رکھو جن پر خدا کا غضب ہوا ہے۔ (ممتحنہ) کیا آپ اس حکم کو مانتے ہیں؟

جواب: جی ہاں! یہ مہاجروں کی دشمنوں کے حق میں ہے۔ تبھی تو ہم شیعوں سے محبت نہیں رکھتے کہ وہ دشمن ہیں مہاجرین کے۔ اسی کتاب کے سوالات 707 تا 711 دشمنی پر دلیل کافی ہیں۔

سوال نمبر 966: سورۃ الاعراف پارہ 9 میں ہے کہ جنہوں نے بچھڑے کو معبود بنایا ان پر اللہ کا غضب ہے۔ رسول کریمﷺ نے حضرت علیؓ کو حضرت ہارون علیہ السلام کا مثیل قرار دیا۔ کیا ان کی نافرمانی غضبِ خدا کا سبب ہو گا یا نہیں؟

جواب: یقیناً ہو گا تبھی تو سیدنا علیؓ کو مشکل کشا، حاجت روا، متصرف ور کائناتِ خدائی صفتوں والا (رب و الہٰ)جن شیعوں نے مانا ان کو خود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے زندہ جلایا اور جو شیعہ بچھڑے کا بدل گھوڑا اور تعزیہ بنا کر پوجتے ہیں۔ حالانکہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ منع کر چکے ہیں کہ جس نے پھر نئی قبر بنائی یا قبر کی شبیہ و مثال تعزیہ بنائی اسلام سے خارج ہو گیا۔ (من لايحضره الفقيہہ) ان پر بھی یقیناً خدا کا غضب ہو گا۔

سوال نمبر967: سورۃ نحل میں ہے کہ مجبور و مطمئن قلب کے علاوہ اگر کوئی کشادہ سینے سے کفر کرے تو اس پر خدا کا غضب ہے جو لوگ بعد از ایمان بلا مجبوری مرتکب کفر ہوئے ان سے محبت رکھنا خدا کی حکم عدولی ہو گی یا نہیں؟

جواب:۔ان سے محبت خدا کی حکم عدولی ہو گی۔ تو جو شیعہ سیدنا ابوبکرؓ دشمنی کے جذبے سے منکرینِ زکوٰۃ، مرتد کفار اور پیروانِ مسیلمہ کذّاب منافقین اشرار کی حمایت و صفائی کر کے حضرت ابوبکر صدیقؓ پر طعن کرتے ہیں وہ یقیناً مغضوب اور نافرمانِ خدا ہیں۔

سوال نمبر 968: سورۃ طٰہٰ میں مضمون ہے کہ عہد شکنی پر اللہ کا غضب ہے۔ کیا جن لوگوں نے عہد غدیر توڑا یا بیعتِ رضوان توڑی ان سے محبت کرنا خلافِ حکمِ خدا ہو گا یا نہیں؟

جواب: طٰہٰ رکوع 4 کا اصل مضمون یہ ہے پاکیزہ رزق کھاؤ اور سرکشی نہ کرو ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہو گا جس پر غضب اترے وہ گمراہ ہوتا ہے۔ اور بے شک میں توبہ کرنے والوں، ایمان لا کر اعمالِ صالحہ کرنے والوں، ہدایت پر چلنے والوں کو یقیناً بہت بخشنے والا ہوں۔

ہم بارہا بتلا چکے ہیں عہد غدیر کسی نے نہیں توڑا۔ بدستور حضرت علیؓ کو محبوب بنائے رکھا۔ بیعتِ رضوان بھی کسی نے نہیں توڑی۔ جو ہزیمت سے پلٹ آیا۔ غفار نے یقیناً ان کو بخش دیا۔ ہاں انعامِ خداوندی حضرت عثمانؓ کے دور میں مال و دولت کی پاکیزہ نعمتیں کھا کھا کر جن بلوائیوں نے سرکشی کی بیعتِ رضوان کا تقاضا پسِ پشت ڈال کر سیدنا عثمانؓ مظلوم کو شہید کیا پھر یہی سرکش بلوائی طالبینِ قصاص سے جنگ کا باعث بنے۔ وہ یقیناً مغضوب اور آیت بالا کا مصداق ہیں ان سے محبت کرنے والے (شیعہ) یقیناً خدا کے مخالف ہیں۔

سوال نمبر 969: سورۃ الشوریٰ پارہ 25 میں ہے کہ خدا کے بارے میں جھگڑنے والوں پر غضب ہو گا۔ ایسے مغضوب قابلِ نفرت ہیں یا لائقِ محبت؟

جواب: خدا کے بارے میں جھگڑالو وہ گروہ ہے جو خدا کی صفات میں اوروں کو شریک بناتا ہے حالانکہ خدا اسی سورۃ میں پہلے فرما چکا ہے:

کیا لوگوں نے اللہ کے سوا اپنے کارساز و مشکل کشا، متصرفِ امور بنا لیے۔ حالانکہ اللہ ہی ہر کسی کا ولی و مددگار کارساز ہے۔ وہی مردے زندہ کرتا ہے وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ (پارہ 25 رکوع 2) 

شیعہ گروہ یقیناً حضرت علیؓ کو اپنا ولی، مشکل کشا، کارساز مان کر خدا کا شریک بناتا ہے۔ تو ایسے لوگ مغضوب و قابلِ نفرت ہیں لائقِ محبت اور سچے ہرگز نہیں۔

سوال نمبر 970: سوالسورۃ مجادلہ پارہ 28 میں ہے کیا آپ نے ان لوگوں کی حالت پر غور نہیں کیا جو ان لوگوں سے محبت رکھتے ہیں جن پر خدا نے غضب ڈھایا تو اب وہ نہ تم میں سے ہے اور نہ ان میں (نہ مسلمان ہیں نہ کافر بلکہ تقیہ باز منافق ہیں۔) یہ لوگ جان بوجھ کر جھوٹ پر قسمیں کھاتے ہیں۔

کیا ایسے حضرات سے اور ان کے عقیدت مندوں سے دوستی خلافِ قرآن ہے یا نہیں؟

جواب: یہ آیت عبداللہ بن اُبَی اور اس کی منافق پارٹی کے متعلق ہے۔ جو کہتے تھے: صحابہؓ رسولﷺ پر مال خرچ نہ کرو حتیٰ کہ بکھر جائیں۔ نیز کہتے تھے اگر ہم مدینہ لوٹے تو زبردست (مقامی یہود و منافقین) لوگ ان ذلیلوں (مہاجرینِ مکہ اصحابِؓ رسولﷺ) کو اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ (سورۃ منافقین پارہ 28 رکوع 1)

یہ پارٹی اصحابِؓ رسولﷺ کی دشمن تھی آج کے شیعہ بالکل ان کی طرح اصحابِؓ رسولﷺ سے دشمنی رکھتے ہیں۔ ابنِ اُبَی، اس کی پارٹی اور ابنِ سبا کے گروہ سے کبھی نفرت و عداوت نہیں رکھتے بلکہ دوستی رکھ کر قرآن کی مخالفت کرتے ہیں۔ لہٰذا آج کے شیعہ سے بھی دوستی خلافِ قرآن اور غضبِ خُدا ہے۔

سوال نمبر 971: خدا کی نشانیوں کا انکار بھی باعثِ غضبِ خدا ہیں۔ (بقرہ) بتائیے جو لوگ آیات اللہ سے انکار کرتے ہیں مغضوب ہیں یا نہیں؟

جواب: قرآن کی آیاتِ اللہ کے منکر یقیناً مغضوب ہیں کہ ان کے اقرار کے مطابق بھی مدح صحابہؓ کی آیات سے قرآن بھرا پڑا ہے۔ مگر وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بزرگی جھٹلا کر ایک ایک آیت کا انکار کرتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ کے ہاتھ پر عرب و عجم کی بے نظیر فتوحات بھی نصرتِ خداوندی کا اعلیٰ نمونہ اور یقیناً آیات اللہ ہیں۔ جو لوگ کفار، مجوس و یہود کے نمائندہ بن کر ان فتوحاتِ الہٰیہ پر ناک بھوں چڑھائے ناراض بیٹھے ہیں اور خدا کی بشارات و پیش گوئیوں کے منکر ہیں یقیناً وہ آیات اللہ کے منکر اور مغضوب ہیں۔

غور کیجیے! اگر آج ایک رسمی شیعہ عالِم مثلاً خمینی آیت اللہ بن جاتا ہے تو براہِ راست مشکوٰۃ نبوت سے قرآن و سنت کا نور سیکھنے والے کیوں آیت اللہ نہیں۔ اور ان کو لعن طعن تبرّے بکنے والا کیوں کر خدا اور رسولﷺ کا منکر اور مغضوب نہیں؟

سوال نمبر 972: جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عنایت سے افضل فرمایا ہے۔ ان کے کفر کرنے والے بھی مغضوب ہیں۔ (بقرہ) ایسے لوگوں سے محبت کس طرح جائز ہو گی؟

جواب: قرآنِ پاک پر بہتان ہے۔ اس ترجمہ والی کوئی آیت سورۃ بقرہ میں نہیں ہے۔ الٹا ہم یہ کہتے ہیں کہ قرآن نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو صاحبِ فضل کہا: 

وَلَا يَاۡتَلِ اُولُوا الۡـفَضۡلِ مِنۡكُمۡ (پارہ: 18) 

شیعہ آپ کے منکر و کافر ہیں تو باقرار خود مغضوب ہوئے بقرہ میں آیتِ تفضیلِ انبیاء ہے جو یہ ہے:

ان پیغمبروں میں ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے۔ کچھ سے اللہ نے کلام کیا اور بعضوں کے درجے بڑھائے اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو ہم نے نشانیاں دیں اور روح القدس (حضرت جبرائیل علیہ السلام) سے ان کی تائید کی۔ (پارہ: 3 پہلی آیت)

اس سے پتہ چلا کہ انبیاء علیہم السلام و رسلﷺ‏ باہمی فرقِ مراتب کے باوجود سب مخلوق سے افضل ہیں اب ان کو سب سے (اپنے اماموں سے بھی) افضل نہ ماننے والا گروہ (شیعہ) ان کا منکر وہ مغضوب کیسے نہ ہو گا؟

سوال نمبر 973: سورۃ اعراف آیت 71 میں ہے کہ: جن لوگوں نے چند ناموں کے بارے میں جھگڑا پیدا کیا جو ان کے آباء و اجداد نے (بلا نص) خواہ مخواہ گھڑ لیے تھے ان پر اللہ کا غضب ہوا۔ فرمائیے بغیر نص کے افراد کے لیے جھگڑنا غضبِ خدا کو دعوت دینا ہے یا نہیں؟ 

جواب: جن خلفاءؓ و صحابہؓ کا ہم دفاع کرتے ہیں قرآن و سنت سے صراحتاً یا دلالۃً ان کی بزرگی اور لیاقت پر باقاعدہ نص اور دلیل ملتی ہے۔ ملاحظہ ہو۔ تحفہ امامیہ: سوال نمبر 13 (خلافتِ راشدہ قرآن و احادیث کی روشنی میں) مگر شیعوں کی پاس اور ائمہ کے لیے تو کچھ ہے ہی نہیں۔ حضرت علیؓ و حسنینؓ کے فضائل ضرور ہیں مگر خلافت و امامت پر نص ایک آیت یا حدیث بھی نہیں۔

سوال نمبر 702 میں تفصیل گزر چکی نہ انہوں نے خود کو کبھی منصوص کہا۔ لیکن شیعوں نے صرف مفروضہ امامت اثناء عشریہ کا جھگڑا ہی نہیں ڈالا بلکہ خدا اور رسولﷺ‏ کی صفاتِ خاصہ اور حقوقِ واجبہ کو بھی چیلنج کر دیا اور مسلمانوں سے خدا کی توحید، ہادیتِ رسولﷺ اور اعجازِ قرآن پر بھی لڑ رہے ہیں۔ تو وہ خود اس آیت کا سب سے بڑا مصداق ہیں کہ بلا نص و سند چند ناموں کے متعلق جھگڑا ڈال رکھا ہے۔

سوال نمبر 974: سورۃ النساء پارہ 5 آیت 72 میں ہے کہ جو شخص کسی مؤمن کو عمداً مار ڈالے وہ ملعون و مغضوب ہے کیا قاتلانِ اہلِ بیتؓ ملعون و مغضوب ہیں یا نہیں؟

جواب: قاتلانِ اہلِ بیتؓ، قاتلانِ سیدنا طلحؓہ، و سیدنا زبیرؓ اور قاتلانِ سیدنا عثمانؓ کا ہی گروہ تھا۔ ایسے سب قاتلانِ مؤمنین ملعون و مغضوب ہیں اور وہ بھی جو ان کو توّابین کہہ کر اپنا مؤمن بھائی سمجھتے ہیں۔

سوال نمبر 975: سورۃ الفتح پارہ 26 میں منافقین و مشرکین و ظانین تینوں پر لعنت و غضبِ خدا مرقوم ہے۔ یہ تینوں ملعون و مغضوب ہوئے ہیں یا نہیں؟

جواب: یہ آیت 1500 بیعتِ رضوان والے مؤمنین اور ان کے دشمنوں کے متعلق ہے پوری یہ ہے: اللہ ہی نے تسلی مؤمنین کے دلوں پر اتاری تاکہ وہ اپنے ایمانوں کے ساتھ ایمان میں مزید بڑھ جائیں۔ تاکہ اللہ مؤمنین اور مؤمنات کو ان جنات میں داخل کر دے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کی برائیاں مٹا ڈالے اور اللہ کے ہاں یہ بڑی کامیابی ہے اور اللہ منافقوں اور منافقات کو عذاب کرے اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو بھی سزا دے جو اللہ سے بدگمانی کرنے والے ہیں ان پر برا چکر پڑے۔ اللہ ان پر غضب ناک ہوا اور ان کو لعنت کی جہنم ان کے لیے تیار کی اور وہ بری بازگشت ہے۔ (سورۃ الفتح: آیت 4، 5، 6)

سنی و شیعہ کی متفقہ روایات یہ ہیں کہ یہ 1500 اصحابِ شجرہ قطعی جنتی اور مغفور لہم ہیں۔ (تفسیر کاشانی) قرآن کا فیصلہ بھی یہی ہے اب سائل کے اشارہ کردہ منافقین، مشرکین، بدگمانی کرنے والے تینوں گروہ وہی ہیں جو اس وقت ان بیعتِ رضوان والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے منکر اور دشمن تھے۔ اور اب بھی ان تینوں کا مصداق اور ملعون و مغضوب وہ لوگ ہیں جو ان کے دشمن ہیں۔ بدگوئی کرتے، تبرّے بکتے اور ان کے فضائل کا انکار کرتے ہیں۔ ع: عیاں راچہ بیاں 

نوٹ: ہم سائل کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس نے منافقوں کے متعلق 11 آیاتِ قرآنی پیش کر کے ہمیں مذہبِ شیعہ پر قلم برداشتہ تبصرہ کا موقع دیا۔

سوال نمبر 976: صراطِ مستقیم کن لوگوں کی راہ ہے؟

جواب: جن پر اللہ کا دینی و دنیوی انعام ہوا، نہ مغضوب بنے نہ گمراہ ہوئے۔ (سورۃ الفاتحہ)

سوال نمبر 977، 978: کیا آلِ محمدﷺ صراطِ مستقیم پر تھے یا نہیں؟ ورنہ ایسی حدیث مرفوع کیوں آئی؟

جواب: یقیناً تھے تبھی تو ان کے تابعدار ہم اہلِ سنت کو اپنی قسمت پر ناز ہے اور ان کے مخالفِ مذہب تمام شیعوں کو ہم برا سمجھتے ہیں۔

سوال نمبر 979: فضیلت کا ثبوت عقل یا نقل سے ہوتا ہے آپ خلفاء ثلاثہؓ کو کس لحاظ سے افضل مانتے ہیں؟

جواب: دونوں لحاظ سے مانتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں۔

سوال نمبر 980، 981: پھر عقلی طور پر علم و شجاعت کے معیار میں خلفاء ثلاثہؓ کو سیدنا علیؓ سے افضل ثابت کیجیے اور نقلاً بھی افضلیت منصوص ثابت کیجیے؟

جواب: عقلاً استدلال بھی ان نصوص سے ہو گا جو قرآن و حدیث اور تاریخ و سیرت میں منقول ہیں۔ یہ مستقل طویل موضوع ہے۔ ہم بحمد اللہ وعونہ اس پر سیر حاصل بحث تحفہ امامیہ سوال 4 اور سوال 20 کے تحت 50 صفحات سے زائد پر کر چکے ہیں۔ مراجعت کیجیے۔ یہاں اتنا کافی ہے کہ اگر وہ سب سے بڑے عالم نہ ہوتے تو حضورﷺ افضل کو چھوڑ کر مفضول سیدنا ابوبکرؓ کو امامِ نماز کیوں بناتے جب کہ باتفاقِ سنّی، شیعہ امامِ نماز اعلم و افضل کو ہی بنایا جاتا ہے۔ (الفقیہہ) اگر اعلم نہ ہوتے تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان پر اتفاق کیوں کرتے؟ اگر وہ اعلم نہ ہوتے تو اپنے فیصلے اور فتوے کیسے نافذ کرتے؟ اور وہ لوگ بلا ریب و اختلاف کیسے تسلیم کرتے؟ اگر وہ اعلم بالشریعہ نہ ہوتے تو اتنا بڑا اسلامی نظام کیسے نافذ کر سکتے تھے؟ اگر وہ اعلم بالامور الامتہ نہ ہوتے تو اتنی بڑی جہادی سکیمیں کیسے کامیابی سے ہم کنار ہوتیں؟ اگر وہ اعلم الاحادیث والآیات نہ ہوتے تو سقیفہ میں انصار کی مدح میں تمام آیات و احادیث کیسے برجستہ پڑھ ڈالتے اور وہ اپنا پروگرام کینسل کر کے حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کے تابعدار کیسے بن سکتے تھے؟ اگر وہ اعلم بالقرآن و قرأۃ الکتاب نہ ہوتے تو تمام دنیا میں قرآن کی تعلیم و تدریس کا بندوبست کیسے کر سکتے تھے؟ اگر وہ بہادر نہ ہوتے تو حضورﷺ جنگوں میں ان کو شانہ بشانہ کیوں رکھتے اور ان کے مشوروں پر عمل پیرا کیوں ہوتے تھے؟ اگر وہ بہادر نہ ہوتے تو مکی زندگی میں حضورﷺ کا دفاع کیسے کرتے اور ظلم و ستم سہتے رہتے تھے۔ اگر وہ بہادر نہ ہوتے تو کفار ان کے نام سے لرزہ براندام اور مرعوب کیوں ہوتے؟ حتیٰ کہ ابو سفیان نے اُحد میں حضورﷺ کے ساتھ ان کی شہادت کی بھی غلط خبر سن کر اسلام کے ختم ہو جانے کا اعلان کیا تھا۔ اگر وہ بہادر نہ ہوتے تو سیدنا صدیقؓ حضور اکرمﷺ‏ کے رفیقِ ہجرت نہ بنائے جاتے اور بدر کے عریش پر باقرار حضرت علیؓ حضورﷺ کی پاسبانی کا خطرناک فریضہ تنہا سرانجام نہ دیتے اور حضرت فاروقِ اعظمؓ اعلانیہ ہجرت نہ کرتے اور بدر میں ماموں کو قتل نہ کرتے۔ اگر وہ بہادر نہ ہوتے تو فتنہ ارتداد کا کمال جرأت و استقلال سے کیسے خاتمہ کرتے؟ اگر وہ جری و شجاع نہ ہوتے تو کافروں و منافقوں کے فتنے ان کے عہد میں کیسے دبے رہتے؟ حضرت عثمانؓ اگر شجاع نہ ہوتے تو اپنی جان پر کھیل کر کیوں سفیر حدیبیہ بنتے؟ مار کھا کر بھی تنہا طواف نہ کیا۔ جان دے کر بھی خلافت کا تقدس برقرار رکھا۔ جب کہ حضرت علی المرتضیٰؓ کی کئی آراء، تجاویز اور اسکیمیں جو علم کا شعبہ ہیں تجربے میں درست ثابت نہیں ہوئیں اور آخر میں مخالفوں سے صلح کر لی نصف سے زائد حصے کا ان کو خود مختار حکمران بنا دیا۔ (طبری وغیرہ)

سوال نمبر 982: حضرت عمرؓ نے مرفوع روایت کی ہے کہ کسی شخص نے حضرت علیؓ کی مثل فضل کا اکتساب نہیں کیا وہ اپنے دوست کو ہدایت کرتا اور برائی سے پھیرتا ہے۔

جواب: سند و صحت کا تو کچھ حال معلوم نہیں۔ مفہوم پر ایمان ہے کہ سیدنا علیؓ خوب نیکیاں کماتے اور ہدایت کرتے تھے۔ تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ باقی سب فضل اور نیکی سے محروم تھے اور ہادی نہ تھے۔ یہ مفہوم مخالف ہرگز مراد نہیں ہے یہ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں ایک حدیث ہے جیسے دوسرے کو حق میں بھی ایسی احادیث ہے جیسے ابنِ ماجہ اور حاکم نے حضرت ابی بن کعبؓ روایت کی ہے کہ: رسول اللہﷺ نے فرمایا: حق تعالیٰ سب سے پہلے سیدنا عمرؓ سے مصافحہ کریں گے، سب سے پہلے ان کو سلام کہیں گے، سب سے پہلے ان کا ہاتھ پکڑیں گے اور داخلِ جنت کریں گے۔ (تاریخ الخلفاء: صفحہ، 93)

جبکہ صحیحین کی یہ بھی مشہور حدیث ہے کہ خواب میں حضرت ابوبکرؓ کے بعد سیدنا عمرؓ آئے کنویں سے پانی نکالنے لگے تو ڈول بہت بڑا مشکیزہ بن گیا۔ میں نے کسی طاقت ور پہلوان کو نہیں دیکھا کہ اتنی طاقت سے پانی نکالتا ہو حتیٰ کہ سب لوگ سیراب ہو گئے اور انہوں نے گھاٹ پر ڈیرے ڈال دیئے۔ علماء کرام کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت مراد ہے اور زمانہ سیدنا عمرؓ میں فتوحات کی کثرت اور غلبۂ اسلام کی پیشن گوئی ہے جیسے اس حدیث سے حضرت ابوبکر صدیقؓ پر سیدنا عمر فاروقؓ کو فضیلت کُلّی نہیں اسی طرح بالا روایت سے حضرت علیؓ کو بھی کُلّی فضیلت نہ دی جائے گی ہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حضرت علیؓ سے محبت ثابت ہوتی ہے۔

سوال نمبر 983: بجز سیدنا علیؓ کے خلفاء ثلاثہؓ میں سے کس نے کہا سلونی (مجھ سے پوچھو جو چاہو)۔

جواب: یہ ارشاد حضرت علیؓ نے خلفاء ثلاثؓہ کے دور میں اکابرین کے مجمعے میں نہیں فرمایا تاکہ استدلال تام ہو۔ یہ کوفہ میں اپنی آخر عمر میں اپنے اصحاب و شاگردوں سے کہا مجھے گم کرنے سے پہلے مجھ سے پوچھ لو۔ ہر کامل استاد شاگردوں کو تنبیہہ کرتا اور مسائل و اسباق پوچھنے کا حکم دیتا ہے تو اس سے خلفاء ثلاثہؓ کی کمی علم پر استدلال درست نہ ہو گا۔ کیونکہ ان کو علم دوست اصحاب میسر ہی تھے ایسا کہنے کی ضرورت نہ تھی ہاں وہ حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کی علمی افضیلت کا برملا اعلان کیا کرتے تھے۔ حوالہ جات ہم کئی دفعہ ذکر کر چکے ہیں۔ (تاریخ الخلفاء وغیرہ) حضرت عثمانؓ میراث اور حج کے مسائل سب سے زیادہ جانتے تھے۔ (تاریخِ ندوی) سیدنا عمرؓ نے اپنے افسروں کو لکھا ویرفعوا الی ما عمی علیہم جن مسائل سے لوگ اندھے ہوں وہ میری طرف لکھ بھیجیں۔ (تاکہ جواب لکھ بھیجوں) (مسند احمد: جلد، 1 صفحہ، 15)

سوال نمبر 984: کنز العمال میں مرفوع حدیث ہے۔ سیدنا علیؓ میرے علم کا خزانہ ہے۔

جواب: سند کا تو کچھ پتہ نہیں۔ اہلِ سنت کی اعتقاد میں حضرت علیؓ خزانۂ علمِ نبوی تھے۔ جبکہ دوسروں کو بھی ایسے خزانے ملے پھر شیعہ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو علمِ کتاب اللہ سمیت عالمِ لدنی مانتے ہیں۔ وہ کیسے حضورﷺ کے علم کا خزانہ بن سکتے ہیں؟ اور شیعہ تاریخ کا ایک ایک دن گواہ ہے کہ انہوں نے اس خزانے سے فیض نہیں پایا۔ ضائع ہی کیا۔ ورنہ دس، بیس شیعہ ہی ایسے ثقہ عالم بتائیں کہ ان سے سیدنا علی المرتضیٰؓ کا علمی خزانہ منقول ہوا ہو؟

سوال نمبر 985: کتابِ خدا متقین کے لیے ہدایت ہے۔ تو امام المتقین سے بڑھ کر ہادی کون تھا؟

جواب: وہی عارف اور ہادی تھے جنہوں نے بعد از رسولﷺ اس کتاب کو تحریراً جمع کیا، گلے سے لگایا۔ ساری دنیا میں پھیلایا۔ جامعینِ قرآن ہادی مشہور ہیں۔ گو حضرت علیؓ بھی بڑے ہادیوں اور عالموں میں سے تھے۔

سوال نمبر 986: حضورﷺ نے بجز سیدنا علیؓ کے خلفاء ثلاثہؓ میں سے کس کو امام المتقین فرمایا؟

جواب: ذرا بتائیں کہ یہ لقب اہلِ سنت کی کون سی معتبر کتاب میں کن سنّی ثقہ راویوں سے مروی ہے ہاں غیر مؤثق بعض روایت میں حضرت علیؓ کو فرمایا مگر یہ حصر نہیں کہ دوسرے پرہیزگاروں کے امام نہ ہوں۔ پھر شیعہ 11 امام اور کیوں مانتے ہیں کیا وہ متقین کے پیشوا نہ تھے اسی طرح خلفاء ثلاثہؓ اور عشرہ مبشرہؓ بھی یقیناً متقین کے پیشوا تھے۔ امام المتقین کہنے سے امام المتقین عملاً بنا جانا زیادہ فضیلت کی بات ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بنصِ قرآنی (اُولٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ) متعین تھے ان کا امام جب خود حضورﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کو بنا دیا اور سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی پیروی کا حکم سب کو دے دیا تو یہی ان کو متقین کا امام و پیشوا بنانا تھا۔ امام المتقین بنانے کی احادیث صحیحین کی ہیں توثیق و تصحیح کی حاجت نہیں مقتداء متقین بنانے کی حدیث ترمذی کی ہے جس کی توثیق ہم سوال میں کر چکے ہیں۔ سوال نمبر 987 کا یہی جواب ہے۔

سوال نمبر 988: جس کا میں ولی ہوں اس کا سیدنا علیؓ ولی ہے جس کا میں امام ہوں اس کا حضرت علیؓ امام ہے۔ (مودۃ القربیٰ) کیا اصحابؓ حضورﷺ کو ولی و امام مانتے تھے؟

جواب: سید علی ہمدانی سُنّی نہیں ان کی کتاب مودۃ القربیٰ شیعہ عقائد و اخبار سے لبریز ہے۔ اہلِ سنت پر حجت نہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حضورﷺ کو اپنا محبوب و پیغمبرﷺ مانتے تھے ولی و امام کا درجہ کم ہے۔

سوال نمبر 989: اگر مانتے تھے تو پھر حضرت علیؓ کو ولی اور امام کیوں تسلیم نہ کیا؟

جواب: ولی بمعنیٰ مولیٰ اور دوست ہے جیسے غدیر کی اسی حدیث میں ہے: اے اللہ تو اس سے دوستی رکھ جو سیدنا علیؓ سے دوستی رکھے اور اس سے دشمنی رکھ جو حضرت علی المرتضیٰؓ سے دشمنی رکھے۔ بایں معنیٰ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت علیؓ کو اپنا ولی اور دوست سمجھا۔ دشمن اور غیر محبوب نہیں سمجھا۔ خلفاء ثلاثہؓ کے دور میں سیدنا علی المرتضیٰؓ کی معزز پوزیشن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبتِ مرتضویؓ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حدیث میں ولی بمعنیٰ امام وہ حاکم مراد نہیں ورنہ حدیث جھوٹی ہو جاتی کیونکہ حیاتِ پیغمبرﷺ میں حضرت علیؓ مسلمانوں کے حاکم و امام نہ تھے۔

سوال نمبر 990: اگر انہوں نے حضرت علیؓ کو ولی و امام مانا تو پھر شیعوں کا عقیدہ پورا ہو گیا۔

جواب: شیعہ عقیدہ خود ساختہ ہے۔ اگر تلامذۂ نبوتﷺ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ہوتا تو معاذ اللہ شیعہ ان کو کافر و مرتد کیوں کہتے؟ انہوں نے ولی بمعنیٰ حاکم و امام نہ مانا نہ حدیث میں یہ مراد تھا۔

سوال نمبر 991: سیدنا امیرِ معاویہؓ وغیرہ نے سیدنا علیؓ کی بیعت نہ کر کے ولایتِ رسولﷺ کا انکار کیا کہ نہیں؟

جواب: فرمانِ نبویﷺ میں جب یہ مراد ہی نہ تھا تو بیعت نہ کرنے سے ولایتِ (محبوبیتِ رسولﷺ) کا انکار نہیں ہوا۔ حضرت علیؓ کی بیعتِ خلافت شورائی تھی جو قاتلینِ سیدنا عثمانؓ کے جارحانہ تشدد آمیز رویہ کی وجہ سے حضرت امیرِ معاویہؓ کے ہاں ابھی ثابت نہ ہوئی تھی تو ابھی کرنے نہ کرنے میں اجتہادی گنجائش تھی۔ جیسے حضرت حسنؓ کی بیعت مصالحت اور سپردگی خلافت با حضرت امیرِ معاویہؓ کو شیعانِ سیدنا حسنؓ نے قبول نہ کیا۔ (جلاء العیون) تو شیعہ ان کو اجتہاداً معذور مانتے ہیں گمراہی اور کفر کا فتویٰ نہیں لگاتے۔ اور سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ تو بیعت کرنے کو تیار تھے۔ صرف قصاصِ حضرت عثمانؓ کی شرط لگائی۔ (طبری) مگر قاتلینِ حضرت عثمانؓ نے سازش سے موقع نہ آنے دیا۔ ملا باقر علی مجلسی حق الیقین جل، 2 صفح، 149 اردو میں لکھتا ہے: بلکہ وہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اسی پر قانع تھا کہ حضرت امیرؓ اس کی امارت برقرار رکھیں اور وہ حضرت (علیؓ) کی بیعت کر کے حضرت کی خلافت کا اقرار کرے اور حضرت کے مناقب و فضائل مکرر اس کے سامنے ذکر کرتے تھے اور وہ ان کا انکار نہ کرتا تھا۔ برا نہ مناتا تھا۔

سوال نمبر 992: حدیث قدسی ہے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے بارے میں ستّر ہزار آدمیوں کو میں نے مارا ہے۔ اور حضرت حسینؓ کے بدلے ستر ہزار افراد کو ہلاک کروں گا۔ اگر سیدنا حسینؓ نے یزید کے خلاف خروج کیا تھا تو حضورﷺ نے مظلومیت کی بشارت کیوں سنائی؟

جواب: بے دردی سے مظلوم کے قتل پر تکوینی عذاب ایسا آتا ہے کہ بد کے ساتھ نیک بھی متاثر ہوتے ہیں۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے بدلے ستّر ہزار افراد قتل ہوئے۔ تو حضرت عثمان ذوالنورینؓ کے عوض اور مسئلہ قصاص میں 73 ہزار شہید ہوئے اور حادثہ کربلا کے ردّ عمل میں بھی اتنے افراد قتل ہو گئے حضرت حسینؓ کے اقدام کو ہم عمداً خروج نہیں کہتے کیونکہ وہ واپسی کی اجازت لے کر یا تین مشہور مطالبات پیش کر کے اس سے بری الذمہ ہو گئے تھے۔ شہادت تو ابنِ زیاد کی پارٹی، شیعانِ کوفہ کی ضد اور حماقت سے تنگ آمد بجنگ آمد کے تحت مظلومانہ ہوئی۔

سوال نمبر 993: ترمذی اور دیلمی میں مرفوع روایت ہے کہ جو مجھے سیدنا حسنینؓ اور ان دونوں کے ماں باپ کو پیارا رکھے گا وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے درجے میں ہو گا۔ کیا محبتِ پنجتن کا درجہ بلند ہے یا ان کے مخالفین کی مؤدۃ کا؟

جواب: حدیث ثابت ہو تو پنجتن بھی مسلمانوں کو پیارے ہیں اور دیگر سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی کہ محبت رکھنے کی احادیثِ نبویﷺ ان کے حق میں بھی آئی ہے:

1: قیامت کا وقت پوچھنے والے سے آپﷺ نے کہا تو نے کیا تیاری کر رکھی ہے کہنے لگا اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت تو آپ نے فرمایا آدمی اپنے محبوبوں کے ساتھ ہو گا حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ اسلام لانے کے بعد وہ اس فرمانِ رسولﷺ سے بڑھ کر کسی چیز سے خوش نہ ہوئے۔

فانا احب الله و رسولهﷺ وابا بكر و عمر (بس میں اللہ سے اور اس کے رسولﷺ سے اور حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ سے محبت رکھتا ہوں اور امیدوار ہوں کہ ان کے ساتھ ہوں گا اگرچہ ان جیسے اعمال نہیں کر سکا۔ (مسلم شریف)

2: قال من احب جمیع اصحابی و تولاھم و استغفرلھم جعلہ اللہ یوم القیٰمۃ معھم فی الجنۃ۔ (ریاض النضرۃ: صفحہ، 21)

جس نے میرے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت رکھی اور ان سے دوستی کی ان کے لیے استغفار کیا تو قیامت کے دن اللہ اسے ان کے ساتھ جگہ دے گا۔

3: حضرت عبداللہ بن مغفل سے ترمذی کی وہ حدیث مشہور ہے جو ہم خطبوں میں پڑھتے ہیں: کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں خدا سے ڈرنا، خدا سے ڈرنا میرے بعد ان کو نشانہ نہ بنانا۔ جس نے ان سے محبت کی اس نے میرے ساتھ محبت کی وجہ سے کی اور جس نے ان سے دشمنی رکھی اس نے میرے ساتھ اپنی دشمنی کی وجہ سے ان سے دشمنی کی۔ توثیق ہم پہلے نقل کر چکے ہیں۔

4: طبرانی نے بسند حسن مرفوع روایت کی ہے جس نے سیدنا عمر فاروقؓ سے دشمنی رکھی اس نے مجھ سے دشمنی رکھی اور جس نے اس سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی۔ (تاریخ الخلفاء للسیوطی: صفحہ، 94)

سوال نمبر 994: مسند احمد میں بروایت انس مرفوع حدیث ہے کہ میرے اہل اور حضرت علیؓ کو پیار کرو جس نے میرے اہلِ بیتؓ میں سے کسی سے بھی بغض رکھا میری شفاعت اس پر حرام ہے۔

جواب: اہلِ سنّت اسی کے مطابق عقیدہ رکھتے ہیں جبکہ شیعہ 1/2 3 افراد کے سوا تمام اہلِ بیتِؓ رسول اکرمﷺ اور آلِ سیدنا علیؓ سے اعلانیہ دشمنی رکھتے ہیں۔

سوال نمبر 995: وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ (الآیۃ) قرآنی حکم کے مطابق ہم بیوی کو شوہر کے ترکے سے وراثت دیتے ہیں آپ شیعہ کے خلاف پروپیگنڈا کیوں کرتے ہیں؟

جواب: وہ غیر منقولہ ترکہ جائیداد میں سے حصہ نہیں دیتے۔ فقہ شیعہ کی نصابی معتبر کتاب توضیح المسائل صفحہ 335 میں ہے بیوی کو گھر باغ اور کھیت کی زمین اور دوسری زمینوں سے اور ان کی قیمت سے کوئی حصہ نہیں ملے گا اور گھر کی اس چیز سے بھی جو فضا میں قائم ہوں جیسے عمارت اور درخت کا کوئی حصہ نہیں ملے گا۔

قرآن پاک میں مِمَّا تَرَكۡتُمۡ تو عام ہے پھر حکمِ قرآنی کے خلاف بیوی کو ترکہ جائیداد سے جو سب سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے کیوں محروم کیا گیا۔ معلوم ہوا شیعہ مذہب صرف دنیا پرستی اور جاگیردارانہ ہے۔

سوال نمبر 996: جَآءَ الۡحَـقُّ وَزَهَقَ الۡبَاطِلُ‌ اِنَّ الۡبَاطِلَ كَانَ زَهُوۡقًا کہ حق آیا باطل بھاگ گیا بے شک باطل بھاگنے ہی والا ہے۔ ہر دور میں اہلِ باطل کثیر ہیں اور اہلِ حق قلیل اس آیت کو کس زمانے پر تطبیق کیا جائے؟

جواب: جب یہ آیت اتری اور رسولِ خداﷺ نے مکہ کو فتح کیا اور کعبہ کو بتوں سے پاک کر کے یہ آیت پڑھی۔ جب خلافتِ ثلاثہ راشدہؓ نے کفار کو مار بھگایا قیصر و کسریٰ ختم ہو گئے جب عہدِ اموی و عباسی و عثمانی میں شوکت و غلبۂ اسلام تمام دنیا پر جم گیا۔ تمام زمانوں پر آیت فٹ ہے۔ کفار کا کم ہونا مراد نہیں مغلوب و مقہور ہو جانا مراد ہے۔

سوال نمبر 997: ابلیس کو يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ تک مہلت ملی وہ دن کون سا ہو گا؟ 

جواب: وہ قیامت کا دن ہو گا۔

سوال نمبر 998: روزِ قیامت يَوْمِ الدِّيْنِ، يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ میں کیا فرق ہے؟

جواب: تینوں ایک طویل دن کے نام ہیں البتہ فرق اعتباری یوں ہے۔ کہ قیامت کا معنیٰ کھڑا ہونا ہے۔ تو نفخۂ اولیٰ سے کائنات ارض و سماء کی شکست و ریخت سے لے کر جنت و دوزخ میں داخلے تک سارا زمانہ قیامت کہلاتا ہے۔ يَوْمِ الدِّيْنِ وہ خاص وقت جس میں اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ نفخۂ دوم کے وقت جب مردے قبروں سے اٹھ کر دوبارہ زندہ ہوں گے۔ شیطان کو مہلت نفخہ اولیٰ تک ہے۔

سوال نمبر 999: اگر کوئی لا دین شخص آپ پر سوال کرے کہ لفظِ دین کی تعریف بزبانِ خلفاء ثلاثہؓ بیان کریں تو آپ کا جواب کیا ہو گا؟ حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ و حضرت عثمانؓ میں سے کسی صاحب کی بیان کردہ دین کی تشریح اپنی کسی صحیح کتاب سے مکمل حوالہ کے ساتھ نقل فرما دیجیے؟

جواب: سب سے بڑے لا دین تو آپ لوگ ہیں کہ یہ بے دینی کا سوال کر رہے ہیں۔ بندۂ خدا مسند احمد بن حنبل رحمۃاللہ کی پہلی جلد کا مطالعہ کریں کیا ان سے مروی سینکڑوں روایات میں مکمل باتشریح دین مروی ہے یا نہیں؟ مسلم شریف کتاب الایمان بخاری، ترمذی وغیرہ میں حدیثِ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے عنوان سے جو حضرت عمرؓ بن خطاب کی طویل حدیث مروی ہے اس میں دینِ اسلام کے عقائد ایمانیات، فرائض و ارکان، اخلاق و تصوف اور علم اشراط الساعہ سب آ گیا ہے۔ اس کا ترجمہ ہم نے تازہ رسالہ مسلمان کسے کہتے ہیں؟ کے ٹائٹل صفحہ 2 پر تعارفِ اسلام کے نام سے لکھ دیا ہے اور آپ کو بھیجا ہے ملاحظہ کریں۔ ہوش سے سنیں! خلفاء ثلاثہؓ پیدائشی عالم لدنی ہونے کا دعویٰ کر کے پیغمبرﷺ پر تکبر نہیں کرتے بلکہ وہ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ والے پیغمبرِ عظیمﷺ‏ کے محنتی شاگرد ہیں تمام عمر آپ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کر کے علمِ دین سیکھا پھر اس کی نشر و اشاعت کی اور اس دنیا کے معلم بن گئے۔ کسی وجہ سے ناراض ہو کر قرآن بغل میں چھپائے نہ حجرہ نشین ہوئے نہ غار میں ٹھکانہ بنایا بلکہ بلا تقیہ و خوف اور بغیر لومۃ لائم اعلانیہ دینِ خدا کی تبلیغ، تعلیم و تشریح کرتے رہے اور سب دنیا ان کو دینِ اسلام کا پیشوا مانتی ہے۔ لفظ دین پر ضد کرنے اور اڑ جانے کا پروگرام ہے تو میں کہتا ہوں لفظِ نظامِ مصطفیٰ جو دینِ شریعت کا نام ہے کی تعریف بزبان 12 ائمہ اپنی کسی کتاب سے مکمل نقل کریں ماتم کرتے کرتے امام باڑا کی دیوار سے اپنا سر تو پھوڑ دیں گے۔ مگر یہ تشریح نہ پائیں گے۔ دیدہ باید؟

خلفاء ثلاثہؓ کے ہاں دین کی تشریح و حقیقت سنتِ نبویﷺ‏ پر چلنا ہے۔

1: حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا: جو کام بھی رسول اللہﷺ کرتے تھے میں وہ ضرور کروں گا۔ میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں نے رسول اللہﷺ کے کاموں سے کوئی چھوڑ دیا تو گمراہ ہو جاؤں گا۔ (مسند احمد: جلد، 1 صفحہ، 6)

2: حضرت عمر فاروقؓ نے انصار رضی اللہ عنہم کے افسروں پر خدا کو بنا کر کہا: میں نے ان کو اس لیے مقرر کیا ہے کہ وہ لوگوں کو ان کا دین سکھائیں اور ان کو اپنی نبی کریمﷺ‏ کی سنت کھول کر بیان کریں جن باتوں کو وہ نہ جانتے ہوں تو میری طرف لکھیں۔ اس سے مقولہ سیدنا علیؓ سلونی کا جواب بھی ہو گیا کہ سیدنا عمرؓ بھی لوگوں کو اپنے سے پوچھنے کا حکم دیتے تھے۔ (مسند احمد: جلد، 1 صفحہ، 15)

سوال نمبر 1000: مسند احمد بن حنبل جلد 1 صفحہ 337 پر ہے: 

عن ابن عباس قال تمتع النبی صلى الله عليه وسلم فقال عروة ابنِ زبير نهى ابوبكر و عمر عن المتعة 

سیدنا ابنِ عباسؓ نے کہا رسول اللہﷺ نے تمتع (حج) کیا تھا۔ حضرت عروہ بن زبیرؓ نے کہا حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ نے تو (عارضی طور پر) منع کیا تھا۔ 

اگر آپ متعہ کو زنا کہتے ہیں توحضور اکرمﷺ‏ کی سیرتِ طیبہ پر ایسا الزام لگا کر توہینِ خلقِ عظیم کے مرتکب ہوئے یا نہیں؟ 

جواب: اس کی سند یوں ہے حدثنا عبدالله حدثنا ابى حدثنا حجاج حدثنا شريك عن الاعمش عن الفضل عن عمر وقال اراه عن سعيد بن جبير عن ابنِ عباس قال تمتع النبیﷺ‏ الخ 

اس کے دو راوی کمزور ہیں۔ 1: حجاج۔ یا تو حجاج بن ارطاۃ ہیں۔ ان کو ابنِ حجرؒ نے صدوق کثیر الخطاء و التدلیس لکھا ہے۔ یا حجاج بن محمد مصیفی ہیں جو اگرچہ ثقہ و ثبت تھے لیکن آخر عمر میں بغداد آنے کے بعد حافظہ بگڑ گیا تھا۔ (تقریب: صفحہ، 64، 65) 

2: شریک: یہ ابنِ عبد اللہ نخعی کوفی ہیں جو صدوق کثیر الخطاء تھے کوفہ کے قاضی بنے تو حافظہ خراب ہو گیا تھا۔ یا شریک بن عبد اللہ بن ابی نمر ہیں جو صدوق اور غلطیاں کرنے والا تھا۔ پانچویں طبقہ میں 140ھ میں فوت ہوا۔ (تقریب: صفحہ، 145) 

اس حدیث میں حج کا تمتع (ایک سفر میں حج و عمرہ دونوں عبادتیں بجا لانا) مراد ہے اور کتبِ احادیث میں اس کی صراحت ہے مگر آپ کی حبّ متعہ و زنا نے اسے بھی متعہ زنا بنا ڈالا اور عفیف ترین پیغمبر پاکﷺ‏ پر بھی گندگی پھینک دی۔ (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ) ہر جھوٹا اور خائن آخر میں تو سچ کہہ ہی دیتا ہے مگر آپ جھوٹے مذہب شیعہ کے ایسے مبلغ ہیں کہ دس نمبری اور چار سو بیس نمبری دھوکہ بازی سے بڑھ کر ہزارویں نمبر پر بھی تقیہ اور فراڈ اور جھوٹ و خیانت اپنا کر رسولﷺ‏ خدا کی عزت کو بھی مجروح کر دیا۔ 

متعہ حج مراد ہونے پر دلائل ملاحظہ فرمائیں: 

1: حضرت ابنِ عباسؓ راوی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: 

هذه عمرة استمتعنا بها (مسلم: جلد، 1 صفحہ، 407)

اس عمرہ سے ہم نے فائدہ اٹھایا 

2: حج و عمرہ کرنے والے شخص سے سیدنا ابنِ عباسؓ نے کہا اللہ اکبر، اللہ اکبر! 

هذه سنة ابى القاسم صلى اللہ علیہ وسلم (مسلم: جلد، 1 صفحہ، 407 ومثلہ فی البخاری: جلد، 1 صفحہ، 213)

یہ حج تمتع ابو القاسمﷺ‏ کی سنت ہے۔ 

3: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے متعہ حج کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا مہاجرینؓ، انصارؓ اور ازواجِؓ النبیﷺ‏ نے حجتہ الوداع کا احرام باندھا اور ہم نے بھی باندھا۔ جب مکہ آئے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا اپنے حج والے احرام کو عمرہ سے بدل دو۔ ہاں جو قربانی ساتھ لائے ہیں وہ نہ بدلیں۔ (بخاری: جلد، 1 صفحہ، 213)

4: سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اور پھر حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمانِ غنیؓ نے حج ولا تمتع کیا۔ امام ترمذیؒ کہتے ہیں۔ سیدنا ابنِ عباسؓ کی حدیث حسن ہے۔ صحابہؓ رسولﷺ‏ کی اہلِ علم جماعت نے متعہ عمرہ کو پسند کیا ہے۔ (ترمذی: جلد، 1 صفحہ، 132) 

5: حضرت ابنِ عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ حج اور عمرہ ایک ساتھ کیا کرو۔ یہ گناہوں اور افلاس کو دور کرتے ہیں جیسے بھٹی لوہے کی گندگی دور کر دیتی ہے۔ (نسائی: جلد، 2 صفحہ، 3)

مسند احمد میں متعتہ النساء کا تو لفظ نہیں صرف تمتع رسول اللہﷺ کا لفظ ہے۔ اس کی مراد و وضاحت ہم نے سیدنا ابنِ عباسؓ کی روایت سے ہی صحاحِ ستہ سے کر دی۔ 

باقی راوی بھی متعہ حج ہی مراد لیتے ہیں۔ دنیا کی کسی روایت میں حضور اکرمﷺ‏ کا متعہ با زنان مذکور نہیں ہے۔ 

سیدنا عکرمہؓ کا بیان ہے میں نے حضرت ابنِ عباسؓ کو یہ فرماتے سنا کہ مجھ سے حضرت عمرؓ بن خطاب نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے سنا: ایک آنے والا (حضرت جبریل علیہ السلام) میرے رب کی طرف سے میرے پاس وادی عقیق میں آیا اور کہا اس مبارک وادی میں نماز پڑھو، نیز کہا عمرة فی حجة (ابو داؤد: جلد، 1 صفحہ، 250 ابنِ ماجہ: صفحہ، 219) کہ عمرہ حج کے ساتھ ادا ہو گا۔ 

اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے حجتہ الوداع میں عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر تمتع کیا اور قربانی کا جانور بھی ساتھ لیا۔ (ابو داؤد: جلد، 1 صفحہ، 251) 

رہی یہ بات کہ جب حج و عمرہ کو ملا کر تمتع کرنا سنتِ نبویﷺ‏ ہے تو حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ نے منع کیوں کیا تو جواب یہ ہے کہ اولاً وہ روایت کثیر الخطایا راویوں سے مروی ہونے کی وجہ سے قابلِ اعتبار نہیں ثانیاً قابلِ تاویل ہے کہ ان کی ممانعت کسی خاص گروہ کو خاص موقعہ و حالت پر ہو گی۔ جیسے مسافروں کے قافلہ میں چند روزہ داروں پر پابندی لگائی جائے تاکہ کھانا وغیرہ کی تیاری میں باقی قافلے پر بار نہ ہوں۔ ورنہ متعہ حج کے یہ تمام اکابر قائل تھے۔ ترمذی کی روایت میں حضرت خلفاء ثلاثہؓ کے تمتع حج کرنے کی صراحت ہے اور ابو داؤد و ابنِ ماجہ کی بروایتِ سیدنا عمر مرفوع حدیث اسی بات پر دال ہے۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب۔ ان ہزار سوالات کا جواب 28 رمضان 1404 ہجری بروز جمعرات بحالتِ اعتکاف 28 جون 1984 ء کو الحمدللہ ورطہ تحریر میں قلم بند اور اختام پذیر ہوا۔ 

خادم اہلِ سنّت مہر محمد عفى عنہ القادر المنتصر 

فقطع دابر القوم الذين ظلموا والحمد لله رب العلمين۔ والصلوٰة والسلام على حبيبه محمد نبی المسلمين وعلى اله واصحابه وخلفاءه الراشدين و ازواجه و اتباعه و جميع امته الصّٰلحين اجمعين۔