فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 20

سوال نمبر 871: حضور اکرمﷺ‏ نے ہم کو حکم دیا تھا کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یا امیر المؤمنین کہہ کر سلام کہیں کیا اصحابِ ثلاثہؓ کے لیے بھی ایسا حکم ہے؟ (ابنِ مردویہ از ابنِ بریدہؓ)

جواب: ابنِ مردویہ مطبوع نہیں ہے ماخذ کا حوالہ نہیں دیا سند بھی کچھ نہیں لہٰذا بے سروپا روایت قابلِ استدال نہیں۔ 

حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کے لیے جب حضورﷺ‏ خلافت کی پیشین گوئی فرما گئے اور فاقتدوا بالذین من بعدى ابی بكر و عمر کہ میرے بعد سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی پیروی کرنا۔ (ترمزی) تو لفظ امیر المؤمنین کہنے سے عملی خلافت کے قیام کی منظوری زیادہ وزنی ہے۔

سوال نمبر 872: شیخینؓ جب خود عہدِ نبوی میں آپﷺ‏ کے حکم سے السلام علیک یا امیر المؤمنين ورحمة الله وبركاته کہہ کر سنتِ اسلام ادا کرتے تھے۔ (ارجح المطالب) تو حضرت عمرؓ نے اپنی ذات کو امیر المؤمنین کیوں کہلوایا؟

جواب: یہاں سے پتہ چلا کہ شیخینؓ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے محب و عقیدت مند تھے اب جو ان کا دشمن ان پر علی دشمنی کا بہتان لگاتا ہے وہ خود مفتری کذاب اور بباطن دشمنِ سیدنا علیؓ ہے۔ 

نیز امیر المؤمنین آپؓ کا لقب تھا حقیقتہً عہدہ خلافت نہ تھا ورنہ عہدِ نبوت میں آپؓ خلیفہ و امیر المؤمنین نہ تھے پھر کیوں یہ بولا گیا۔ 

ارجح المطالب شیعہ کتاب ہے روایت بے سند و بے حوالہ ہے حجت نہیں علاوہ ازیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ لقب مسلمانوں نے دیا اور آپؓ کو پسند آ گیا ۔افسرانِ فوج عموماً امیر کے نام سے پکارے جاتے تھے کفارِ عرب آنحضرتﷺ‏ کو امیرِ مکہ کہا کرتے تھے۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو اعراق میں لوگ امیر المؤمنین کہنے لگے۔ (مقدمہ ابنِ خلدون) 

ایسی عادت پر ایک دفعہ سیدنا لبید بن ربیعہؓ اور سیدنا عدی بن حاتم نے مدینہ آ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے لیے یہ لفظ استعمال کیا تو مشہور ہو گیا۔ (ادب المفرد للبخاری) پھر خاص عہدہ کا نام سمجھا گیا۔

سوال نمبر 873: دیلمی نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے: سیدنا علیؓ کا نام اس وقت سے امیر المؤمنین ہوا ہے کہ ابھی حضرت آدم علیہ السلام روح اور جسد کے درمیان تھے پھر خدا نے ارواح سے خطاب کیا میں تمہارا خدا ہوں محمدﷺ‏ تمہارے نبی ہیں علیؓ تمہارا امیر ہے کیا حضورﷺ‏ نے خدا کی طرف جھوٹی نسبت کی؟

جواب: دیلمی چوتھی صدی کا حاطب اللیل ہے اور کمزور ترین روایت و کتاب والا ہے جو حجت نہیں۔ نیز ظاہر عقل بھی اسے جھوٹا بتاتی ہے کیونکہ خدا کی خدائی دائمی ہے اور کوئی خدا نہیں۔ رسالت و نبوت تا قیامت دائمی ہے اور کوئی نبی نہیں بن سکتا۔ مگر امارتِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ عارضی ہیں نہ حضورﷺ کے وقت تھی نہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد تھی۔ کیونکہ شیعہ عقیدہ کے مطابق یکے بعد دیگرے 11 اور امیر و امام بنتے رہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امارت کا خطاب تمام انسانوں کے لیے ممکن نہیں۔ علاوہ ازیں درایت کے اعتبار سے بھی یہ روایت غلط ہے کیونکہ اس میں کنت نبيا و آدم بين الماء والطین۔ کا مقابلہ کر کے حضورﷺ کی ختمِ نبوت اور خصوصیت کو مٹایا گیا ہے۔(معاذاللہ)

سوال نمبر 874: اگر حضورﷺ نے یوں ہی منسوب کر دی تو پھر خدا کے اس عہد کا کیا ہو گا۔ اگر رسولﷺ کسی بات کو یوں ہی ہماری طرف منسوب کر دیتا تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ کر اس کی رگِ جان کاٹ ڈالتے۔ (پارہ 29 سورۃ حاقہ)

جواب: حضورﷺ نے تو خدا کی طرف ایسی عقل و نقل کے خلاف بات منسوب ہی نہیں کی۔ ہاں جن کذاب راویوں نے بنا کر نسبت کی ان کے نام و نشان کی رگ خدا نے کاٹ ڈالی۔ جس کتاب میں یہ روایت ہے وہ ضعاف اور موضوعات کا پلندہ بن کر محدثین میں مشہور ہے۔

سوال نمبر 875: جب خدا نے ارواح کے سامنے اپنا، اپنے رسولﷺ کا اور ہمارے امیر کا کلمہ پڑھا تو آپ لوگ کلمے کے ساتھ ذکرِ امارت، ولایت، اور امامت، کو کیوں برا سمجھ کر خدا کی مخالفت کرتے ہو؟

جواب: جھوٹے لوگوں کے دلائل بھی اسی طرح جھوٹے ہوتے ہیں جب ایک گھڑنتو کلمہ ولایت نہ قرآن سے ملا نہ حدیثِ نبویﷺ‏ سے تو عالمِ ارواح کی بات بنا کر خدا کے ذمے لگا دی۔ اگر خدا نے عالمِ ارواح میں یہ کلمہ پڑھا تھا تو اب جب عالمِ دنیا میں اپنا کلمہ لا الہ الا اللہ اپنے رسولﷺ‏ کا کلمہ محمد رسول اللہﷺ قرآن میں نازل فرما دیا تو خدا کو کیا ڈر لگ گیا یا وہ بھول گیا کہ علی ولی اللہ امیر المومنین الامام علی کا کلمہ قرآن میں نہ اتارا اور تمہارا امیر کلمے کی سرپرستی سے محروم اور یتیم ہو گیا؟ شیعوں کو کچھ تو عقل و نقل سے بات کرنی چاہیے اور خدا پر بہتان باندھ کر بقول قرآن ظالم ترین مفتری نہ بننا چاہیے۔ ہم تو خدا کے فرماں بردار ہیں۔ خدا کے مخالف اس پر بہتان باندھنے والے شیعہ ہی ہیں۔

سوال نمبر 876: سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے یہ امیر المؤمنین، سید المسلمین سفید منہ اور ہاتھ والوں کا قائد ہے قیامت کے دن یہ پل صراط پر بیٹھے گا اور اپنے دوستوں کو جنت میں اور دشمنوں کو دوزخ میں داخل کرے گا۔ (ابنِ مردویہ) کیا اس سے دوستی جنت کی ضمانت ہے یا نہیں؟ 

جواب: فرضی دوستی اور بغضِ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی وجہ سے طرف داری تو کسی چیز کی ضامن نہیں ہاں خدا و رسولﷺ اور شریعتِ محمدیہ پر کامل ایمان کے بعد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی پیروی مؤجب نجات ہے اور شیعہ اس سے یقیناً محروم ہیں۔ پھر یہ روایت جعلی ہے جو یکے از تین لاکھ ہے۔ 

موضوعاتِ کبیر صفحہ 169 پر ہے کہ جو کچھ رافضیوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں روایتیں گھڑی ہیں وہ گنتی سے زائد ہیں۔ حافظ ابو یعلی رحمۃ اللہ کہتے ہیں کہ خلیلی نے کتاب الارشاد میں فرمایا ہے رافضیوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کے فضائل میں تقریباً تین لاکھ حدیثیں گھڑی ہیں۔ یہ کوئی عجیب بات نہیں کیونکہ اگر آپ ان کی روایتیں تلاش کریں گے تو ایسے ہی پائیں گے۔

سوال نمبر 877: ایسی ہستی سے عداوت رکھنا جہنم کا امیدوار بننا ہے یا نہیں؟ 

صفحہ 1 از 20