شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ (…

شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ ( ترجمہ:ابو عبداللہ زبیر بن حسین)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 1 از 22

شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران پر بحث ناخوشگوار طویل المیعاد عارضہ

ترجمہ: ابو عبداللہ زبیر بن حسین 


تمہید

اس مختصر تحقیقی مقالے کا مقصد اثنا عشری شیعوں کا کتاب اللہ کے متعلق عقیدہ دکھانا ہے، اور ساتھ میں یہ بھی دکھانا ہے کہ کس طرح ان کے یہ عقائد ان کو اللہ تعالیٰ کی کتاب سے دور کرتے ہیں۔ شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران موجود ہے، ایک ایسا بحران جس کا اظہار وہ کسی بھی بحث میں یا کسی تقریر میں نہیں کریں گے کیوں کہ ا ن کا مقصد صرف لوگوں کے سامنے جیتنا اور جتنا ہوسکے، خود کو اچھا ظاہر کرنا ہے۔ یہ مقالہ اس بحران کی اصل جڑ کو سامنے لاکر اس کا پردہ فاش کرے گا اور ان گندے عقائد کو ظاہر کرے گا جن کو شیعہ علماء اپنے عقائد کے طور پر مانتے آرہے ہیں جن کو وہ اہلبیت کی طرف منسوب کرتے ہیں۔

شروع کرنے سے پہلے میں یہ بات صاف کردینا چاہتا ہوں کہ اس مضمون کا مقصد صرف سچ کو ظاہر کرنا ہے اور مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ عام دنیادار شیعہ لوگ ہر اس بات کو مانتے ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے اور اس کی قدر کرتے ہیں، ان لوگوں کے برخلاف جو کہ کالی پگڑی پہنے ہوتے ہیں ۔البتہ عام شیعہ آدمی اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ ایک سنی مسلمان کے مقابلے میں بہت ہی کم وقت گذارتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے علماء انہیں قرآن کریم کے مقابلہ میں نوحہ، ماتم اور امام حسین رضی اللہ عنہ پر رونے زیارات پڑھنے اور کربلا کا ذکر کرنے میں مصروف رکھتے ہیں۔ یہ ہر شیعہ عام آدمی کو ایک ایماندارانہ اور درمندانہ انتباہ ہے، ان خطرناک عقائد سے جو کہ ان کے علماء رکھتے آرہے ہیں، ایسے عقائد جو کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی کتاب سے دور کر رہے ہیں جو ان عام شیعوں کو کتاب اللہ سے الگ کردیتے ہیں۔ یہ زہریلے عقائد عام شیعہ کے دل میں راسخ نہیں ہونے چاہیے۔
تعارف:وہ لوگ جو کہ شیعہ کے قرآن کریم کے بارے میں عقائد سے خوب واقف ہیں جو کہ ان کی روایات اور ان کے علماء اور مُدَرِّسِین کے بیانات پر مبنی ہیں، جان لیں گے کہ شیعوں اور قرآن کریم کے درمیان ایک نفسیاتی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے وہ خود کو قرآن کریم سے بہت دور کر لیتے ہیں  اس سب کا سبب ان کے عقائد ہیں جن کا انہوں نے انتخاب کر رکھا ہے۔ البتہ جب بات اس کتاب قرآن کی تحریف سے حفاظت اور جمع کی آتی ہے تو یہ لوگ اس پر دو گروہوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں۔ اس کے باجود ان کے اور قرآن کریم کے درمیان جو بحران ہے، وہ دونوں کو متاثر کرتا ہے۔ جہاں تک دوسرے گروہ کی بات ہے یہ وہ ہیں جو کہ کہتے ہیں کہ یہ کتاب قرآن کریم کسی بھی قسم کے اضافہ اور حذف سے بالکل ہی محفوظ ہے۔ یہ ایک مثبت صورت ہے جو کہ کسی محقق کو کچھ ساعتوں کے لئے ماننے پر مجبور کرتی ہے کہ یہ گروہ اس بحران سے متاثر نہیں ہے، بدقسمتی سے یہ مختصر تحقیق پڑھنے کے بعد آپ دیکھیں گے کہ اس بیماری کے اثرات کس طرح اس دوسرے گروہ کے عقائد میں بھی گھر کر چکا ہے اور مجھ پر یہ ضروری ہے کہ اس مسئلے کی اصل وجہ بیان کروں اور ساتھ میں یہ بھی وضاحت کروں کہ یہ کیوں ضروری ہے۔

پہلا باب : قرآن کریم کی طرف بحران کا سبب بننے والی بیماری کو بے نقاب کرنا
غور سے پڑھنے والا یہ جلد ہی محسوس کرے گا کہ شیعوں کے عقیدہ میں اس بیماری کی جڑ اصل میں ان کا عقیدہ امامت ہے اہل بیت کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکمران مقرر ہونا) جو کہ انہیں اس بات کو ماننے پر مجبور کرتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ علیہم نے عموماََ اور پہلے تین( ابو بکر، عمر، عثمان رضوان اللہ علیھم) خلفاء راشدین نے خصوصاََ خیانت کی۔ کیوں کہ انہوں نے حضور علیہ السلام کی اولاد سے اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ بارہ اماموں کا حق غصب کیا۔ اس بنیا د پر شیعوں کے سینوں میں موجود صحابہ کرامؓ کی تصویر ان کے عقیدہ کے کے مطابق سیاہ اور بدصورت ہے کیوں کہ وہ یہ مانتے ہیں کہ جن پر اللہ تعالیٰ نے اعتماد کیا، صحابہ نے اس سے غداری کی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کو اللہ کی طرف سے مقرر کردہ خلافت نہیں دی۔ اس کے بر عکس انہوں نے ان پر ظلم کیا ان پر تشدد کیا ان کو قتل کیا اور ان کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے پر مجبور کیا۔
وہ لوگ جنھوں نے شیعہ کے اس عقیدہ کا بہت سا حصہ اپنایا وہ یقیناََ اس حد تک پہنچ جاتے ہیں جہاں پر وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ صحابہؓ اسلام کے لئے کچھ مثبت بھی کر سکتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ آپ دیکھتے ہیں کہ شیعہ علماء اپنے طور پر بہت کوشش کرتے ہیں کہ صحابہؓ کی چھوٹی سی فضلیت یا پھر اچھے عمل کو ایک جرم اور ایک منفی عمل بنا کر پیش کرتے ہیں، چاہے وہ صاف طور پر اس کے بر عکس ہو۔ میں مندرجہ ذیل مثالوں میں اس کا ایک چھوٹا سا نمونہ ذکر کرتا ہوں۔

1۔ نبی ﷺ کے ساتھ ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ کی ہجرت کی سعادت

یہ ایک ایسی سعادت ہے جس کو اللہ تعالی نے اپنی ابدی کتاب میں محفوظ کردیا ہے جہاں پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا  فَأَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَىٰ وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا  وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

صفحہ 1 از 22