کفایۃ الطالب مصنفہ محمد بن یوسف بن محمد قرشی گنجی - ردِ…

کفایۃ الطالب مصنفہ محمد بن یوسف بن محمد قرشی گنجی

  محمد علی

صفحہ 1 از 4

کفایۃ الطالب مصنفہ محمد بن یوسف بن محمد قرشی گنجی

 محمد بن یوسف بن محمد قرشی گنجی صاحب کفایۃ الطالب کے حالات

غلام حسین نجفی شیعی نے اپنی تصنیف قول مقبول میں بہت سے مقامات پر کفایت الطالب کے حوالہ جات پیش کیے اور کہا کہ یہ اہلِ سنت کے معتبر کتاب ہے اس طرح اس نے بزعم خود اپنے باطل عقائد کو ان حوالہ جات سے سہارا دینے کی کوشش کی حالانکہ اس کتاب کا مصنف محمد بن یوسف بن محمد قرشی گنجی خود شیعہ ہے اس نے اپنے مسلک کی بھرپور تائید میں کئی ایک باتیں لکھیں جن کا اہلِ سنت کے معتقدات سے کوئی تعلق نہیں ذیل میں چند عبارات ملاحظہ ہوں۔

سیدہ فاطمہ کے زفاف کے وقت فرشتوں نے تکبیریں کہیں لہٰذا ایسے وقت تکبیریں کہنا سنت ٹھہرا

 عبارت نمبر 1 کفایۃ الطالب: قال فلما کان من الیل بعث رسول الله الی سلمان فقال یا سلمان ائتنی ببغلتی الشھباء فاتاہ ببغلتہ الشھباء فحمل علیھا فاطمة فکان سلمان رضی اللہ عنہ یقود ورسول الله  یقوم بھا فینا ھو کذالك اذا سمع حسا خلف ظھرہ فالتفت فاذاھو بجبرئیل ومیکائیل واسرافیل فی جمع کثیر من الملئکة فقال یا جبرئیل وماانزلکم قالوانزلنانزف فاطمہ الی زوجھا فکبر جبرییل ثم کبر میکائیل ثم کبر اسرافیل ثم کبرت الملئکۃ ثم کبر النبی ثم کبر سلیمان الفارسی فصار التکبیر خلف العرائیس سنة من تلك اللیلة۔

(کفایۃ الطالب: صفحہ 303)

 ترجمہ: بیان کیا ہے کہ جب رات کا وقت آیا تو رسول اللہ نے سلیمان فارسی کو بلوایا جب آئے تو انہوں نے فرمایا سلیمان میرا خچر شہباء لاؤ وہ لے آئے تو آپ نے اس پر سیدہ فاطمہ کو بٹھایا سلیمان اس کے آگے سے پکڑے ہوئے تھے اور حضورﷺ اس کی نگرانی فرما رہے تھے اسی دوران ایک آواز محسوس ہوئی جو پشت کی طرف سے آرھی تھی آپﷺ نے مڑکر دیکھا تو جبرئیلؑ میکائیلؑ اور اسرافیلؑ بہت سے فرشتوں کی جماعت کے ساتھ اتر رہے تھے پوچھا کہ اے جبرئیلؑ تم کیوں آئے ہو کہا کہ سیدہ فاطمہ کو ان کے زوج کی طرف زفاف کے لیے آئے ہیں جبرائیلؑ نے اس کے بعد تکبیر کہی پھر میکائیلؑ اسرافیلؑ پھر تمام موجود فرشتوں نے پھر نبی اور پھر سلیمان فارسی نے تکبیریں کہیں اور پس اس رات کے واقعہ کے بعد بارات کے پیچھے تکبیریں کہنا سنت ہو گیا۔ 

نوٹ: اتکبیر خلف العرائس سنة جو کفایۃالطالب میں ابھی آپ نے پڑھی یہی نظریہ کتب شیعہ میں موجود ہے ملاحظہ ہو۔

 جلاءالعیون: چوں شب زفاف شدہ جبرئیل و میکائیل و اسرافیل باہفتاد ہزار ملک بزیر آمدند دلدلرا برائے فاطمہؓ آور وند جبرئیل لجام آنرا گرفت و اسرافیل رکاب را گرفت و میکائیل استادہ بود در پہلوۓ دلدل حضرت رسولﷺ جامہائے اور ادرست میکردپس جبرئیل و میکائیل و اسرافیل و جمیع الملائکہ تکبیر گفتند و سنت جاری شددر تکبیر گفتن در زفاف تاروز قیامت ۔

(جلاء العیون: جلد اول صفحہ 193)

 ترجمہ: جب زفاف کی رات آئی جبرئیلؑ میکائیلؑ اسرافیلؑ اور ان کے ساتھ 70 ہزار فرشتے زمین پر آئے سیدہ فاطمہ کے لیے دلدل کو تیار کیا جبرئیلؑ نے لگام تھامی اسرافیلؑ نے رکاب پکڑی اور میکائیلؑ دلدل کے پہلو میں کھڑے ہو گئے اور حضورﷺ‎ سیدہ کے کپڑے درست کر رہے تھے پس جبرئیلؑ میکائیلؑ اسرافیلؑ اور تمام فرشتوں نے تکبیریں کہی اور زفاف کے وقت تکبیر کہنا تاقیامت سنت ہو گیا۔

لمحہ فکریہ: کفایت الطالب اور جلاءالعیون دونوں کی تحریر ایک ہی مسئلہ کو مختلف الفاظ سے واضح کر رہی ہے یہ سبہی جانتے ہیں کہ زفاف کے وقت تکبیر کہنا اہلِ تشیع کا مسلك ہے لہٰذا محمد بن یوسف قرشی گنجی اس نظریے کی وجہ سے سنی نہیں اس لیے کہ نجفی کا اسے معتبر اہلِ سنت قرار دینا دھوکہ ہے اور غلط بیانی ہے۔

جن پر سیدنا علیؓ ناراض ہو وہ شیطانی نطفہ ہے:

عبارت 2 کفایة الطالب: عن ابن عبد اللہ قال قال علی ابن ابی طالب رایت النبی عند الصفاء وھو مقبل علی شخص فی صورۃ لفیل ملك یلقفہ فقلت ومن ھذا یا رسول اللہ ؟قال ھذاالشیطان الرجیم فقلت واللہ لاقتلنك ولاریحن الامة منك قال ماھذا واللہ جزائی منك قلت وما جزاءك منی یا عدواللہ ؟قال واللہ ما ابغضك احد قط الا شارکت اباہ فی رحم امہ

( کفایۃ الطالب: صفحہ 70)

 ترجمہ: سیدنا ابن عبداللہ کہتے ہیں کہ علی نے فرمایا کہ میں نبیﷺ کو صفا کے قریب ایک ہاتھی کی شکل کے انسان کی طرف متوجہ کھڑے دیکھا آپ اسے تلقین فرما رہے تھے کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ کون ہے فرمایا شیطان مردود ہے میں نے کہا خدا کی قسم اے اللہ کے دشمن میں تجھے ضرور قتل کر دوں گا اور امت محمدیہ کو تجھ سے نجات دے دوں گا شیطان بولا کہ خدا کی قسم تمہاری طرف سے میرا یہ جزا نہیں پوچھا کہ وہ کیا ہے کہنے لگا کہ خدا کی قسم جو بھی تم سے بغض رکھے گا میں اس کے باپ کے نطفہ میں شکم مادر کے اندر شریک ہو جاؤں گا۔ 

 توضیح: روایت مذکورہ کا خلاصہ یہ ہوا کہ جس پر سیدنا علیؓ ناراض ہوں یا جو آپ سے بغض رکھے وہ شیطانی نطفہ سے یعنی شیطان نے اس کے باپ کے جماع کرتے وقت جماع میں شرکت کر لی تھی یہ عقیدہ بھی شیعہ خرافات میں سے ہے کہ صاحب کفایت الطالب نے اس کی تخریج تاریخ بغداد جلد سوم میں صفحہ 290 سے کی ہے وہاں اس واقعہ کے ساتھ یہ بھی موجود ہے کہ اس کا راوی محمد بن مزید بن محمود غالی شیعہ تھا یہی کفایت الطالب کا حوالہ نجفی نے قول مقبول صفحہ 456 پر درج کر کے ثابت کیا کے جن سے علی ناراض ہوں وہ نطفہ شیطانی ہیں تو جب صاحب کفایت الطالب خود شیعہ اور اس واقعہ کے اصل راوی بھی غالی شیعہ تو پھر یہ اہلِ سنت پر حجت کیونکر ھوگا اسے اہلِ سنت کی معتبر کتاب کے عنوان سے پیش کرنا نہایت حماقت اور پرلے درجے کی بددیانتی ہے۔

عرش پر شیعوں کا کلمہ لکھا ہوا ہے

 عبارت 3 کفایۃ الطالب: عن ابی ھریرة قال مکتوبة علی العرش لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وحدی لا شریک لی ومحمد عبدی ورسولی ایدتہ بعلی 

(کفایۃ الطالب: صفحہ 234)

 ترجمہ: ابوہریرہ کہتے ہیں کے رسول اللہﷺ نے فرمایا عرش پر یہ کلمہ لکھا ہوا ہے لا الہ الا اللہ الخ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں میں ایک ہوں میرا کوئی شریک نہیں ہے محمدﷺ میرے بندے اور رسول ہیں میں نے علی المرتضیؓ کے ذریعے ان کی تائید کی ہے ۔ 

تمام پیغمروں سے حضورﷺ کی ولایت اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کی ولایت کا عہد لیا گیا

صفحہ 1 از 4