شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم…

شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہ کی تعلیمات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 1 از 18

شیخینؓ کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ائمہ اہلِ بیتؓ کی تعلیمات

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ اور آنحضرتﷺ کے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپس میں ہمدم و ہمراز محب و مخلص دوست اور سچے ساتھی تھے ان کے درمیان کسی قسم کی کوئی مخاصمت و عداوت نہ تھی ہر معاملے میں ایک دوسرے کے ممد و معاون تھے اور آپس میں مشورہ کرتے ہر دونوں کے قلوب میں ایک دوسرے کے لیے بے پناہ محبت عظمت اور عزت کا جذبہ موجزن تھا یہ تمام حضرات رحماءُ بینھم کی صحیح اور سچی تفسیر تھے۔ 

جن جن لوگوں نے ان حضرات گرامی قدر کے درمیان عداوت و مخاصمت حسد و دشمنی کینہ و بغض کے جو جو واقعات حالات اور ملفوظات گھڑ رکھے ہیں یاد رکھئے ان میں ذرہ بھر بھی صداقت نہیں اور عقل و نقل کی روشنی میں اس کا باطل اور غلط ہونا واضح ہو چکا ہے

یوں تو حضرات اہلِ بیتؓ کے بےشمار ارشادات خود شیعہ کی کتابوں میں موجود ہیں جن میں حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت کا اعتراف کیا گیا ہے یہاں ان سب کو نقل کرنا مقصود نہیں چند ہی ائمہ کے ارشادات سے اس مسئلے کو سمجھا جا سکتا ہے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مجموعی فضیلت

پوری امت میں کوئی بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مشابہ نہیں شیعہ کے پہلے امام سیدنا علی المرتضیٰؓ کا ارشاد:

ہم نے پچھلے اوراق میں سیدنا علی المرتضیٰؓ کے بہت سے ارشادات نقل کیے تھے انہیں پھر سے ضرور ملاحظہ فرمالیں یہاں صرف ایک ارشاد پیش کیا جاتا ہے اس سے اندازہ لگا لیں کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے قلبِ اطہر میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کیسی عظمت تھی۔

خدا کی قسم میں نے اصحابِ محمدﷺ کو دیکھا ہے آج کوئی بھی ان کے مشابہ نہیں ہے وہ خالی ہاتھ پراگندہ بال غبار آلود چہرے سے صبح کرتے تھے اور وہ رات مسجدوں میں اور قیام کی حالت میں گزارتے تھے کبھی اپنی پیشانیاں زمین پر رکھتے تو کبھی اپنے رخسار وہ اپنی آخرت کو یاد کرتے تو ایسا لگتا تھا کہ انگاروں پر کھڑے ہوں ان کی آنکھوں کے درمیان طویل سجدوں کے باعث اتنا بڑا نشان تھا جتنا مینڈھے کے گھٹنوں پر ہوتا ہے جب اللہ کا ذکر ہوتا تو ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوتی تھیں اور عذاب کے خوف اور ثواب کی امید سے ایسے لرزتے اور کپکپاتے تھے جیسے تیز آندھی میں درخت کی حالت ہوتی ہے (نہج البلاغہ جلد 1 صفحہ 71 البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 2 حلیفہ صفحہ 76)۔

سیدنا علی المرتضیٰؓ کے ارشاد سے معلوم ہوا کہ

1۔ رسول پاکﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسی کوئی قوم نہیں سیدنا علی المرتضیٰؓ کے اس ارشاد میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مقام رفیع کو جس طرح بیان کیا ہے شیعہ کے نئی نسل اور منصف مزاج لوگوں کو بار بار اس پر غور کرنا چاہیے۔

سیدنا زین العابدینؒ کی تعلیمات

سیدنا زین العابدینؒ فرماتے ہیں کہ:

"اے اللہ حضرت محمدﷺ کے اصحابؓ پر رحمت نازل فرما جنہوں نے حضرت محمدﷺ کے ساتھ اچھی صحبت رکھی (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ ہیں) جو مصیبتوں میں مبتلا کیے گئے اور آپﷺ کی نصرت میں مشکلات برداشت کیں اور رسول اللہ ﷺ کو اپنے درمیان لے لیا اور دشمنوں کے شر سے رسول اللہﷺ کی محافظت کی آپﷺ کی جماعت کو مضبوط بنانے میں بھاگ دوڑ کی آپﷺ کی دعوت قبول کرنے پر ایک دوسرے سے سبقت کی اور ایسے مقام پر دعوت قبول کی کہ آپﷺ نے اپنی رسالت کی واضح دلیل سنی کلمہ حق کے اظہار کے لیے اپنی بیویوں اور اولاد کو خیرباد کہہ دیا اور (اسی دینِ حق کی خاطر اپنے باپ اور بیٹوں سے لڑائیاں کیں تاکہ آپﷺ کی نبوت مستحکم ہو جائے یہ لوگ آپﷺ کی محبت میں سرشار تھے اور آپﷺ کی دوستی میں اس تجارت کے امیدوار تھے کہ اس میں نقصان ہی نہیں اور ان لوگوں نے جب رسول اللہﷺ کا دامن پکڑ لیا تو ان کی قوم و قبیلہ نے ان کو نکال دیا اور جب رسول اللہﷺ کے ظل عاطفت میں آگئے تو سب رشتے ناطے ختم ہو گئے۔

اے اللہ آپ کی رضا اور آپ کے بغض میں انہوں نے جو کچھ چھوڑا اس کے طفیل ان کو مت بھلانا اور اپنی رضا سے ان لوگوں کو راضی رکھنا اور ان کو اس کی جزاء عطا فرما کہ ان لوگوں نے تیرے خلق کو تیرے دین پر جمع کیا اور وہ لوگ تیرے رسول کے ساتھی تھے لوگوں کو تیری اطاعت کی طرف بلاتے تھے اے اللہ تیری رضا کے لیے انہوں نے اپنی قوم کے شہروں سے ہجرت کی اس لیے آپ ان کو جزاء عطاء فرمائیے اور اس بات کی بھی جزاء دے کہ انہوں نے فراخی و معاش سے تنگی معاش کی طرف ہجرت کی (صحیفہ کاملہ آیاتِ بینات صفحہ 99)

فوائد و نتائج

سیدنا زین العابدینؒ کی دعا کا ایک ایک جملہ صحابہ کرام

رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت میں ڈوبا ہوا ہے سیدنا زین العابدینؒ کے نزدیک

1۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسولﷺ کی اچھی طرح صحبت اختیار کی۔

2۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے دینِ حق کی خاطر تکلیفیں برداشت کرتے ہوئے ہر موڑ پر دین قیم کی حفاظت کی۔

3۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہﷺ کی رسالت پر لبیک کہا آپﷺ کو دشمنوں سے حفاظت میں رکھا آپﷺ سے سب سے زیادہ اور سچی محبت کی اور آپﷺ ہی کی خاطر سب کچھ ترک کر دیا۔

اس لیے کہ سیدنا زین العابدینؒ نے بارگاہِ الہٰی میں ان کے لیے رحمت و کرم کی دعائیں مانگیں اور جزائے خیر عطا فرمانے کی دعا کی۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی غیبت گناہ ہے شیعہ کے چھٹے امام سیدنا جعفر صادقؒ کے ارشادات

شیعہ کے چھٹے امام ابوعبد اللہ جعفر صادقؒ (148ھ) سے مدحِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بہت سے ارشادات ملتے ہیں جو قابلِ دید ہیں۔ 

ابو زبیری کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جعفر صادقؒ سے پوچھا کہ ایمان کے مختلف منازل اور درجات ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں میں نے کہا اللہ آپ پر رحم فرمائے بیان فرمائیے تاکہ میں سمجھوں آپ نے ارشاد فرمایا:

صفحہ 1 از 18