اہل تشیع کا تیسرا اصول دین: قیامت پر ایمان - ردِ رافضیت |…

اہل تشیع کا تیسرا اصول دین: قیامت پر ایمان

  توقیر احمد

صفحہ 1 از 13

تیسرا اصول دین: قیامت (معاد) پر ایمان

 بنام مفتی عبد العزیز عزیزی دامت برکاتھم 

 ابتدایہ

 رجعت

 رجعت کی لغوی تعریف

 اصطلاحی

 رجعت دیگرادیان میں

 رجعت کی اسنادمتواتر

 خلاصہ کلام

 نتیجہ

 مقصد رجعت

 استلال اہل تشیع

 پہلی آیت 

 تاویلات اہل تشیع

 مسلمان مفسرین

 تائیدی شیعی تفاسیر

 دوسری آیت

 تاویلات اہلتشیع

 مسلمان مفسرین 

 تائیدی شیعی تفاسیر

 تیسری آیت

 تاویلات اہلتشیع

 مسلمان مفسرین

 تائیدی شیعی تفاسیر

 چوتھی آیت

 تاویلات اہلتشیع

 مسلمان مفسرین

 تائیدی شیعی تفاسیر

 پانچویں آیت 

 تاویلات اہلتشیع

 مسلمان مفسرین

 تائیدی شیعی تفاسیر

 متضاد روایات

 روایات کا خلاصہ

 خلاصہ آیات و روایات

 نتیجہ۔ 

ابتدایہ۔۔۔۔

  اسلام میں آخرت پر ایمان لانے کو بڑی تاکید کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور اس کو روز محشر روز قیامت روز جزاو سزا کہا جاتا ہےاور اس کی حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان جس عقیدے اور عمل پر فوت ہو گا تو اس کو اچھے یا برے عقیدے اورعمل کا پورا بدلہ قیامت کے دن دیا جائے گا اگر کسی ظالم کو اللہ تعالی نے دنیا میں ہی اپنے عذاب کا کچھ مزہ چکھایا تو وہ عذاب ادنی یعنی ہلکا ہوگا لیکن وہ بھی اسی ہی زندگی میں نہ کہ مرنے کے بعد دوبارہ دنیا میں لوٹا کا عذاب دیا جائے گا اس طرح نہیں باقی ہر ظالم کو پورا بدلہ یعنی اصل عذاب قیامت کے دن ہونا ہے جو حقیقت میں فیصلے کا دن یعنی جزا اور سزا کا دن ہے اوراس عذاب کو عذاب  اکبر کہا گیا ہے 

اور قیامت کے دن ہی فیصلہ ہوگا اس کو اللہ تعالی نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے 

  Surat No 22 : Ayat No 69 

اَللّٰہُ  یَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ  یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کُنۡتُمۡ  فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۶۹﴾

بیشک تمہارے سب کے اختلاف کا فیصلہ قیامت والے دن اللہ تعالٰی آپ کرے گا ۔  

 Surat No 39 : Ayat No 31 

ثُمَّ  اِنَّکُمۡ  یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ عِنۡدَ رَبِّکُمۡ تَخۡتَصِمُوۡنَ ﴿۳۱﴾٪                

 پھر تم سب کے سب قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے جھگڑو گے ۔  

ان دونوں آیات اور دوسری بہت ساری آیات سے ثابت ہے کہ مرنے کے بعد قیامت کا دن ہی فیصلے کا دن ہے جس میں مومنین کو جنت کا انعام دیا جائے گا اور انکاریوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا کہ یہ تمہارے ان عقائد اور اعمال کا بدلہ ہے جو واقعی تم نے دنیا میں اختیار کئے تھے اور جو اعمال تم نے کیے تھے پوری اسلامی تعلیم میں یہ نہیں ہے کہ قیامت سے پہلے ایک اور قیامت ہونی ہے جس میں دوبارہ زندہ کر کے نیک کاروں کے ہاتھوں سے بدکاروں کو قتل کرایا جائے گا ۔لیکن شیعہ مذہب میں اس کے برعکس قیامت سے پہلے ایک اور قیامت برپا ہونے والی ہے اور وہ قیامت ان کے بارے میں امام محمد مہدی الغائب المنتظر کے غار سے باہر آنے کے بعد ہوگی اور خود وہ جس کو چاہے گا زندہ کرے گا

 اللہ نے آئمہ کو خلیفہ بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ رجعت کے بعد کا ہے نبوت کے بعد بلافصل نہیں ہے   

 رجعت ۔۔ شیعہ کے عقائد خاصہ میں سے ہے جس کے تحت بعض صالحین موت کے بعد مہدی موعود(ع) کی مدد کے  لئے زندہ ہونگے نیز بعض بدکار افراد دنیاوی زندگی میں پلٹ کر آئیں گے تاکہ اپنی سزا پائیں اور اپنے کئے ہوئے مظالم کے بدلے انتقام کا سامنا کریں۔

 ملاں باقر مجلسی لکھتے ہیں 

بداںکہ الرجعة اجماعیات شیعہ بلکہ ضروریات مزہب فریضہ حجة دراثبات رجعت است 

 توجان لے کہ عقیدہ رجعت شیعہ مزہب کے اجماعی عقیدے میں سےبلکہ ضروریات مزہب میں سے عقیدہ رجعت ہے

 حق الیقین ص354 

 اعتقادنا فی الرجعت انھا حق

رجعت کے حق ہونے پر ہمارا یقین ہے 

 عقائد اثنا عشریہ ص49

عقیدہ رجعت شیعہ کے مشہور عقائد میں سے ہے 

 تفسیر نمونہ ج8/726 

 رجعت کے لغوی معنی

لفظ "رجعت" مصدر ہے جو مادہ "ر ـ ج ـ ع" سے مشتق ہے اور اس کے لغوی معنی بازگشت (= لوٹنے اور پلٹنے) کے ہیں۔

  المعجم الوسیط، ذیل ماده رجع

 اس اعتقادی اصول کے لئے آیات قرآن اور احادیث  میں مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں جیسے: "رجعت"، "کرّۃ"، "ردّ" اور "حشر"؛ تاہم لفظ "رجعت" زیادہ مشہور ہے۔ لفظ "مصدر مَرَہ" ہے اور اس کے معنی ایک بار پلٹنے اور واپس ہونے کے ہیں؛ جیسا کہ  اما لفظ رجعت مشهورتر است۔ رجعت مصدر مرّه به معنی یکبار بازگشتن است، چنانکه در لسان العرب آمده است: رجعت مصدر مرّه از ماده رجوع است۔

 ابن منظور، لسان العرب ج8، ص114

  فیومی کہتا ہے: رجعت بفتح عین  بمعنی رجوع کرنے اور لوٹ آنے کے ہیں اور جو رجعت پر یقین رکھتا ہے وہ دنیا میں پلٹ آنے پر ایمان رکھتا ہے

 فیومی مصباح المبین ص84

 رجعت کے اصطلاحی معنی

اصطلاح میں رجعت کے معنی یہ ہیں خداوند متعال ظہور امام مہدی(ع) کے وقت آپ(عج) کے بعض شیعوں کو زندہ  کرے گا اور دنیا میں پلٹا دے گا تا کہ آپ(عج) کی مدد کریں اور آپ(عج) کی حکومت کا مشاہدہ کرنے کی سعادت پائیں۔ نیز آپ(عج) کے بعض دشمنوں کو پلٹا دے گا تا کہ دنیا کا عذاب چکھ لیں اور امام مہدی(عج) کی طاقت و شوکت کو دیکھ لیں اور جان لیں۔

 طبرسی، مجمع البیان، ج7، ص406

 علامہ طباطبائی اپنی تفسیر المیزان میں لکھتے ہیں: غیر شیعہ فرقے ـ عامۃ المسلمین ـ اگرچہ ظہور مہدی(عج) پر یقین رکھتے ہیں اور اس کے سلسلے میں احادیث کو تواتر  کے ساتھ نقل کرچکے ہیں لیکن وہ مسئلۂ رجعت کے منکر ہوئے ہیں اور اس کو شیعہ اعتقادی خصوصیات کا جزو سمجھے ہیں۔

 الطباطبائي، المیزان، ج2، ص106

شیعہ فرقوں میں رجعت کا پس منظر

بعض تاریخی واقعات کے ضمن میں عراق کے بعض لوگوں کی طرف اشارہ ہوا ہے جو امام علی(ع) کی شہادت کے  فورا بعد آپ(ع) کی دنیا میں رجعت اورواپس آنے پر یقین رکھتے تھے

 طبری، جامع البیان عن تاویل القرآن، ج14، ص140

 محمد بن حنفیہ کی وفات کے بعدامام موسی کاظم(ع) کی شہادت اور امام عسکری(ع) کی شہادت کے بعد بھی بعض شیعہ فرقے ان کی دنیا میں رجعت اور پلٹ آنے پر یقین رکھتے تھے۔

اسی طرح تقریباتمام اماموں کے صاحبزادوں بارے یہی اختلاف شیعہ فرقوں میں ہے 

 نوبختی، فرقة الشیعه، ص25

 نوبختی، فرقة الشیعہ، ص67۔

 نوبختی، فرقة الشیعہ، ص79-80

 رجعت دیگر ادیان میں

عہد عتیق میں رجعت کے موضوع کی طرف اشارہ ہوا ہے منجملہ حزقیال نے بنی اسرائیل کے زندہ ہوجانے اور آخر الزمان میں داؤد(ع) کی حکومت کی طرف اشارے کئے ہیں

  عهد عتیق 37: 21-27

 امو دانیال نے بھی کہا ہے: آخر الزمان میں ـ وہ جو مٹی میں سو چکے ہیں ـ جاگ اٹھیں گے

صفحہ 1 از 13