ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق - سنی شیعہ مناظرے | دفاع…

ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 1 از 16

ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق

مشہور محقق فاتحِ اعظم رافضیت حضرت العلام مولانا اللہ یار خانؒ

نظامُ الملک طوسی

سلجوق بادشاہ الپ ارسلاں کا وزیر تھا اسے ابتداء سے ہی علماء اور صوفیاء کے ساتھ بڑا اُنس تھا اور علماءِ حق کی دل و جان سے قدر کرتا تھا چنانچہ شیخ ابواسحٰق شیرازی متوفی 476 ھجری نے نظامُ الملک کی طرف سے ایک محضر نامہ پر لکھ دیا خیر الظلمۃ حسن یعنی سب ظالموں میں حسن (نظامُ الملک کا اصلی نام) اچھا ہے حالانکہ بہت سے علماء نے اس کی تعریف میں لکھا تھا نظامُ الملک نے جب یہ تحریر دیکھی تو بے اختیار کہہ اٹھا ابواسحٰق کے سواء کسی نے سچ نہیں لکھا امام الحرمین ابوالمعالی نظامُ الملک کی صوفیانہ مجلس کے رکن تھے آپ نے مکہ اور مدینہ میں حلقۂ درس قائم کیے وہیں سے آپ کو امام الحرمین کا خطاب ملا۔

شیخ ابوعلی فارمدی م477 ھجری جو شیخ ابوالقاسم گوگانی کے مرید تھے علم اور معرفت میں یکتائے روزگار تھے نظامُ الملک کی ان کے ساتھ بھی علمی محفلیں ہوتی تھیں وہ آپ کا بڑا عقیدتمند تھا یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے اسے کہا کہ آپ سب علماء کے مقابلے میں ان کی ذیادہ عزت کیوں کرتے ہیں تو نظامُ الملک نے جواب دیا کہ شیخ ابوعلی مجھے میرے عیوب سے آگاہ کرتے ہیں اور میں ان سے ہدایت حاصل کرتا ہوں۔

منظر

ملک شاہ سلجوقی کا دربار لگا ہوا ہے باتوں باتوں میں شیعہ مذہب کا ذکر آجاتا ہے بادشاہ پوچھتا ہے شیعہ کون ہوتے ہیں درباریوں میں سے جواب ملتا ہے کہ شیعہ دراصل اسلام کی مخالف ایک سیاسی اور مخفی تحریک ہے بادشاہ کہتا ہے کہ اسلام کے مخالف تو کفر ہی ہو سکتا ہے اگر حقیقت یہی ہے تو شیعہ مسلمان کیوں کر ہوئے۔

اچھا تو میرے وزیر نظامُ الملک کو بلاؤ۔

نظامُ الملک حاضر ہوتا ہے۔

بادشاہ: یہ بتاؤ شیعہ کون ہیں؟ کیا وہ مسلمان نہیں؟۔

نظامُ الملک: حضور مسلمان علماء میں سے جو حضرات مذہب شیعہ کے اصول و فروع سے واقف ہیں وہ تو اس مذہب کو صریح کفر کہتے ہیں اور جو حضرات واقف نہیں وہ توقف اختیار کرتے ہیں۔

بادشاہ: یہ کیا کہا علمائے دین اور اس سے واقف نہ ہوں یہ بات بالکل بے جوڑ ہے۔

وزیر: حضور ان کے مذہب کا ایک بنیادی اصول ہے قال ابوعبداللہ علیہ السلام یا سلمان انکم علی دین من کتمه اعزہ اللہ ومن اذاعه اذله اللہ۔

 لہٰذا یہ مذہب تبلیغی مذہب نہیں بلکہ خفیہ تحریک ہے اس لیے بالعموم علمائے اسلام اس سے کماحقہ واقف نہیں ہو سکتے۔

بادشاہ: دین کے چھپا رکھنے میں عزت اور عنداللہ عزت بےتُکی بات ہے اللہ نے تو اپنی کتاب میں فرمایا ہے کہ: اِنَّ الَّذِيۡنَ يَكۡتُمُوۡنَ مَآ اَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ وَالۡهُدٰى مِنۡۢ بَعۡدِ مَا بَيَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِى الۡكِتٰبِۙ اُولٰٓئِكَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰعِنُوۡنَۙ۝

(سورۃ البقرةآیت نمبر: 159)

کیا دین چھپانے کی چیز ہے؟

وزیر: اللہ کی بات اپنے مقام پر اس مذہب کا اصول وہی ہے جو میں نے عرض کر دیا ہے دین تو واقع چھپانے کی چیز نہیں مگر بےدینی کو چھپائے رکھنا ہی مناسب ہے۔

بادشاہ: ان کے تعداد کتنی ہوگی؟

وزیر: حضور جس طرح ان کا مذہب مخفی ہے ان کی تعداد بھی مخفی ہے۔

سیدنا جعفر نے ایک مقام پر فرمایا: اگر مجھے تین شیعہ مل جاتے تو میرے لیے حدیثوں کا چھپانا حلال نہ ہوتا۔

دوسرے مقام پر فرماتے ہیں اگر 17 شیعہ مل جاتے تو میں خاموش نہ بیٹھتا۔

یہ تو سیدنا جعفر کے عہد کی بات ہے بعد کے لیے امام نے ایک اصول بنا دیا کہ جب شیعہ کی تعداد 313 ہوگئی تو امام مہدی ظاہر ہو جائیں گے اب تک وہ تو ظاہر ہوئے نہیں لہٰذا اگر ان کا امام سچا ہے تو ان کی تعداد یقینا 313 سے کم ہی ہے اور یہ تعداد صرف حضور کی سلطنت میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں 313 شیعوں کا پایا جانا امام غائب کے ظاہر ہونے کے لیے ضروری ہے۔

بادشاہ: علمائے اسلام کس دلیل سے انہیں کافر قرار دیتے ہیں؟۔

نظامُ الملک: حضور دلیل کوئی ایک ہو تو عرض کروں۔

بادشاہ: نمونتہً کچھ تو کہو؟۔

نظامُ الملک: حضور عقائد کے باب میں سب سے پہلے توحید کا عقیدہ ہے ان کے ہاں اللہ کے متعلق بداء کا عقیدہ رکھنا ضروری ہے یہ بَداء فی العلم اور بَداء فی الارادہ دونوں کے عقائد ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کو پہلے علم نہیں ہوتا جب کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو اسے علم ہوتا ہے اس عقیدہ کی اہمیت کا یہ عالم ہے کہ:

عن ابی عبداللہ یقول ما تنبأ بنی قط حتیٰ یقراللہ بخمس بالبداء والمشیۃ الخ

سیدنا جعفر فرماتے ہیں کوئی ایسا نبی نہیں آیا جس نے اللہ کی پانچ صفات کا اقرار نہ کیا بَداء کا مشیت کا الخ۔

دوسرا عقیدہ: رسالت ہے اس کے متعلق شیعہ کا عقیدہ ہے کہ امام معصوم ہوتا ہے مفترض الطاعتہ ہوتا ہے اور اس پر وحی کے ذریعہ احکام نازل ہوتے ہیں۔

یہ عقیدہ ختمِ نبوت کا انکار ہے اور اجرائے نبوت کا اقرار ہے۔

تیسرا بنیادی عقیدہ: آخرت ہے ان کا عقیدہ ہے کہ قیامت کے دن سُنیوں کی تمام نیکیاں شیعوں کو دے دی جائیں گی اور شیعوں کے تمام برائیاں سُنیوں پر لاد دی جائیں گی اور انہیں جہنم میں بھیج دیا جائے گا۔

چوتھا عقیدہ: قرآنِ حکیم ہے اس کے متعلق ان کا عقیدہ ہے کہ ان القرآن الذی جاءبه جبریل الیٰ محمدﷺ سبعۃ عشرۃ الف اٰیۃ۔

 یعنی جو قرآن محمد رسول اللہﷺ پر نازل ہوا وہ 17 ہزار آیت کا تھا اور ظاہر ہے کہ یہ قرآن تو اس کا ایک تہائی کے قریب ہی بنتا ہے۔

پانچواں عقیدہ: اصحابِ رسولﷺ چند ایک کے سواء سب جھوٹے تھے

عن ابی جعفر قال کان الناس اھل الردۃ بعد النبیﷺ الاثلاثۃ فقلت من الثلاثۃ فقال مقدادؓ ابوذرؓ و سلمانؓ۔

 یعنی سیدنا باقر کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کے بعد 3 کے بغیر سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مرتد ہو گئے وہ 3 سیدنا مقدادؓ سیدنا ابوذرؓ اور سیدنا سلمانؓ ہیں۔

بادشاہ: اگر ان کے بنیادی عقائد یہی ہیں تو کتمان دین کا عقیدہ معقول نظر آتا ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ فریقین کے علماء جمع کیے جائیں اور میں ان سے اپنے دین کی حقانیت اور مخالف کے دین کے بطلان کے دلائل سنوں۔

وزیر: حضور والا جہاں تک دینِ اسلام کی حقانیت کا تعلق ہے وہ آپ سے مخفی نہیں رہا معاملہ شیعہ مذہب کا تو بندہ عرض کرتا ہے کہ غلاظت کے ڈھیر کو کریدنے سے تعفّن پھیلانے کے سواء کچھ حاصل نہ ہوگا۔

صفحہ 1 از 16