سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کس طرح ہوئی؟ - ردِ رافضیت…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کس طرح ہوئی؟

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 1 از 8

سیدنا امیر معاویہؓ سے کس طرح صلح ہوئی

امام حسن بصریؒ کہتے ہیں کہ سیدنا حسنؓ اور سیدنا امیر معاویہؓ کی فوج مقابلہ کے لیے ایک دوسرے کے سامنے آگئی تھی، اس وقت سیدنا حسنؓ کے پاس بھی ایک بڑی فوج موجود تھی جب حضرت عمرو بن العاصؓ نے یہ منظر دیکھا تو کہا کہ ایسے لگتا ہے کہ اب یہ ایک دوسرے کو ختم کیے بغیر یہاں سے نہ ہٹیں گے۔ سیدنا امیر معاویہؓ نے جب یہ بات سنی تو کہا کہ اگر ایک گروہ دوسرے گروہ کو قتل کر ڈالے اور دوسرا پہلے گروہ کی جان لے لے، تو بتاؤ پھر مسلمانوں کے معاملات کون چلائے گا، ان کے بچوں اور ان کی عورتوں کی کون دیکھ بھال کرے گا؟ یعنی اگر سارے مرد ختم ہو گئے تو ان کا پرسان حال پھر کون ہوگا؟

چنانچہ سیدنا معاویہؓ نے بنی عبد شمس کے دو فرد عبدالرحمٰن بن سمرہ اور عبداللہ بن عامر کو سیدنا حسنؓ کے پاس بھیجا اور کہا کہ ان سے بات کریں تاکہ صلح کا راستہ نکل آئے اور ان سے کہیں کہ آپ کی جو ضروریات ہیں اور مطالبات ہیں وہ پورے کیے جائیں گے اور اس کا فیصلہ آپ پر چھوڑتے ہیں چنانچہ وہ دونوں حضرات تشریف لائے اور سیدنا حسنؓ سے بات کی تو آپ نے فرمایا کہ:

انا بنو عبد المطلب،قد اصبنا من ھذاالمال، وان ھذہ الامة قد عاثت فی دمائھا، قالا فانہ یعرض علیک کذا وکذا ویطلب الیک ویسالک۔

ہم عبدالمطلب کی اولاد ہیں اور ہم کو اس مال سے حصہ ملا ہے اور ہمارے ساتھ جو گروہ (لشکر) ہے یہ خون خرابہ کرنے میں بڑے ماہر ہیں ان دونوں نے کہا کہ سیدنا معاویہؓ نے آپ کو اتنے اتنے مال کی پیشکش کی ہے اور وہ صلح چاہتے ہیں اور انہوں نے یہ فیصلہ آپ پر چھوڑا ہے۔

سیدنا حسنؓ نے فرمایا کہ ان باتوں کا ذمہ دار کون بنے گا؟ انہوں نے کہا ہم اس عہد کے ذمہ دار ہیں چنانچہ سیدنا حسنؓ نے پھر سیدنا امیر معاویہؓ سے مصالحت اختیار کر لی۔(صحیح بخاری: جلد 1 صفحہ 373)

شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ (728ھ) فرماتے ہیں کہ سیدنا حسنؓ اگر چاہتے تو مقابلہ کا میدان لگا سکتے تھے لیکن آپ افتراق اور خونریزی کی بجائے اتفاق اور صلح کے ذریعے اس مسئلہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا پسند کرتے تھے اور پھر اللہ کی مدد ان کے شامل حال ہوئی اور امت میں اتحاد قائم ہو گیا، آپ لکھتے ہیں:

بہت سے وہ لوگ جنہوں نے فوجیوں کی کمی کے باوجود جنگیں لڑی ہیں سیدنا حسنؓ بھی ان میں سے تھے۔ آپ اپنے ساتھیوں کی کمی کے باوجود سیدنا معاویہؓ سے جنگ کر سکتے تھے لیکن وہ امت میں اختلاف و انتشار کو سخت ناپسند کرتے تھے اور امن و مصالحت کو زیادہ پسند کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے امت کا اختلاف ختم کر کے انہیں دوبارہ متحد کر دیا۔ (منہاج السنتہ: جلد 4 صفحہ 536) 

آپ کو یاد رہنا چاہیے کہ جس وقت حضرت علیؓ اہل بصرہ کے ساتھ مقابلہ کی تیاری کر رہے تھے اور جب جانے لگے تو سیدنا حسنؓ اس وقت بھی آپ کو اس سے روکتے رہے اور فرماتے رہے کہ ابا جان، اگر خدا نخواستہ بات بڑھ گئی تو اس سے مسلمانوں کا بہت خون بہے گا اور اتحاد و اتفاق ختم ہو جائے گا، آپ مدینہ منورہ چھوڑ کر کہیں نہ جائیں، یہ دارالہجرت ہے اور آپ سے قبل تینوں خلفائے کرامؓ کبھی اس شہر کو اس طرح چھوڑ کر نہ گئے تھے مگر آپ نے ان کا یہ مشورہ قبول نہ کیا تھا۔

علامہ جلال الدین محمد بن اسعد دوانیؒ (928ھ) لکھتے ہیں: 

فاستشار بالحسن للخروج ورایھا فاشار الیہ ان لا یخرج قال لہ ان المدینة دار الھجرة والخلفاء قبلک لم یفار قوھا فاستقام امرھم فلم یقبل شورہ (الجج الباہرة    124)

جب سیدنا علیؓ نے جانے کا پختہ عزم کر لیا تو سیدنا حسنؓ بھی آپ کے ساتھ ہو گئے اور پھر ایک بڑا معرکہ پیش آیا جسے تاریخ نے جنگ جمل کے نام سے یاد کیا ہے۔ جب جنگ جمل میں شدت پیدا کر دی گئی اور یہ منظر حضرت علیؓ کے سامنے آیا تو آپ نے انا للہ پڑھا اور اپنے بیٹے سیدنا حسنؓ کو گلے لگا لیا اور فرمایا کہ بیٹا اس کے بعد اب کس خیر کی امید کی جا سکتی ہے؟  

ای خیریر جی بعد ھذا

 (البدایہ: جلد 7 صفحہ 241)

حضرت علیؓ نے اپنے بیٹے سے یہ بھی کہا کہ

یا حسن لیت اباک مات منذ عشرین سنۃ 

(البدایہ: جلد 7صفحہ 241، المصنف لابن ابی شیبہ: جلد 7 صفحہ 544)

اے حسنؓ کاش تیرا باپ آج سے 20 سال قبل فوت ہو چکا ہوتا۔

سیدنا حسنؓ نے اس کے جواب میں فرمایا:

یا ابہ قد کنت انھاک عن ھذا قال: یا بنی انی لم اران الامر یبلغ ھذا (البدایہ: جلد 7 صفحہ 241)

ابا جان میں آپ کو اس سے روکا کرتا تھا آپ نے کہا بیٹا، مجھے معلوم نہ تھا کہ بات اتنی دور تک پہنچ جائے گی۔ حضرت علیؓ کو پھر اس پر بہت ہی افسوس ہوا تھا اور آپ نے فریق مخالف کے مقتولین کے لیے بھی دعائے رحمت و مغفرت فرمائی تھی۔

اسی طرح جنگ صفین کے موقع پر بھی سیدنا حسنؓ نے اپنے والد گرامی قدر کو جنگ سے روکنے کی کوشش کی تھی اور درخواست کی تھی آپ رک جائیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک پھر مرتبہ مسلمانوں کے خون سے زمین رنگین ہو جائے اور مسلمانوں میں اختلاف و انتشار پیدا ہو جائے۔ آپ نے عرض کیا:

یا ابتی دع ھذا فان فیہ سفک دماء المسلمین ووقوع الاختلاف بینھم، فلم یقبل منہ ذلک۔ (البدایہ: جلد 7 صفحہ 229)

ابا جان! آپ اس ارادہ کو ترک کر دیجیے، کیونکہ اس میں مسلمانوں کے درمیان خونریزی ہو گی اور ان کے درمیان بڑا اختلاف ہوگا، حضرت علیؓ نے یہ بات قبول نہ کی۔

 شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ (728ھ) لکھتے ہیں:

وکذلک الحسن کان دائما یشیر علی ابیہ واخیہ بترک القتال، ولما صار الامر الیہ ترک القتال، واصلح اللہ بہ بین الطائفتین المقتلین۔ وعلی رضی اللہ عنہ فی آخر الامر تبین لہ ان المصلحة فی ترک القتال اعظم منھا فی فعلہ(منہاج السنہ: جلد 4 صفحہ 535)

اور اسی طرح سیدنا حسنؓ ہمیشہ اپنے والد اور بھائی کو لڑائی چھوڑ دینے کا مشورہ دیتے رہے اور جب خلافت آپ کے ہاتھ میں آئی تو آپ نے جنگ بند کر دی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے لڑائی کرنے والی مسلمانوں کی دو جماعتوں کے درمیان صلح کرا دی اور خود حضرت علیؓ کو آخر کار معلوم ہو گیا تھا کہ جنگ کرنے کے بجائے جنگ بند کر دینا ہی بہتر ہے۔

صفحہ 1 از 8