Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

آزادیاں

  علی محمد الصلابی

خلفائے راشدینؓ کی حکومتیں جن اہم اصولوں پر قائم تھیں ان میں سے ایک اصول ’’آزادی" کا بھی تھا۔ اس اصول کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلامی شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام انسانوں کو ہر طرح کی آزادی کی ضمانت دی جائے۔ اسلام کی دعوت درحقیقت انسانوں کی مکمل آزادی کی دعوت تھی تمام انسانوں کی آزادی، ایسی وسیع وعریض دعوت کہ شاید تاریخ میں کم ہی اس کی مثال مل سکے۔ آزادیوں کی دعوت کے میدان میں سب سے پہلے قرآنی آیات کی روشنی میں لوگوں کو اللہ کی وحدانیت کی دعوت دی گئی، کائنات کی ہر شے اور تمام مخلوقا ت سے بے نیاز ہو کر صرف ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی گئی، توحید کی اس دعوت میں بنی نوع انسان کے لیے آزادی و استقلال کے تمام معانی پوشیدہ تھے اس سے بھی آگے بڑھ کر اسلام نے آزادی کے تمام تر معانی، مدلولات اور مفاہیم کا ایک جامع تعارف پیش کیا پس کبھی یہ آزادی مثبت عمل کی شکل میں سامنے آتی ہے جیسے کہ بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا اور کبھی منفی عمل کی شکل میں سامنے آتی ہے جیسے کہ جبراً کسی کو دین اسلام میں داخل کرنے سے منع کرنا اور بیشتر مواقع پر رحمت، عدل، مشورہ اور مساوات کی شکل میں آزادی کا مفہوم سامنے آتا ہے اس لیے کہ مذکورہ تمام ہی زرّیں اصول جن کا اسلام نے مطالبہ کیا ہے آزادی کے بغیر ان کا وجود نہیں ہوسکتا اور نہ وہ صحیح شکل میں باقی رہ سکتے ہیں۔ خلفائے راشدینؓ کے دور حکومت میں آزادی کے اصولوں کا بول بالا رہا، خاص طور سے دین اسلام کی تیزی سے نشر و اشاعت، مسلمانوں کی فتوحات میں پیش رفت اور ان کی ملکی سرحدوں میں وسعت کے ساتھ ساتھ اسلامی حریت کا خوب رواج ہوا۔ اس لیے کہ اسلام ہی نے انسانوں کو اعزاز بخشا اور اسے سب سے زیادہ آزادی سے نوازا اور اس لیے بھی کہ اس دور میں روم و فارس کی حکومتوں کے جو سیاسی نظام و قوانین نافذ تھے سب ظلم واستبداد اور گروہ بندی و دھڑے بازی پر مبنی تھے جس سے رعایا تنگ آ چکی تھی۔

خاص طور پر سیاسی مخالفین اور مذہبی اقلیتیں بدترین وحشت و مظالم اور مصائب و مشکلات کا شکار تھیں مثال کے طور پر رومی سلطنت یعقوبی مذہب کے ماننے والوں کو، خاص طور پر مصر و شام میں، اس بات پر مجبور کرتی تھی کہ ملکانی مذہب کو جو وہاں کا ملکی مذہب ہے، قبول کریں۔ بہت سارے مخالفین کو مشعلوں سے ڈھونڈ نکالا گیا، مشعل کی آگ جلی اور اسے مخالفین کے جسموں میں لگا دیا گیا یہاں تک کہ وہ سب جل کر راکھ ہو گئے، اور ان کے پہلوؤں کی چربیاں زمین پر بہنے لگیں اور سنگ دل جابر حکمران مقدونی مجلس کی قرار داد کے مطابق اسے ایمانی کام سمجھتے رہے یا ایسے مخالفین کو ریت کی بوریوں میں بھر کر سمندر کی گہرائیوں میں ڈال دیا گیا۔ فارسی سلطنت بھی مختلف ادوار میں آسمانی ادیان کے ماننے والوں پر بربریت کا پہاڑ توڑتی تھی اور جب رومی سلطنت سے اس کی لڑائی تیز ہو گئی تو اس وقت مسیحیوں پر خاص مظالم ڈھائے، لیکن جب رسول اللہﷺ اور خلفائے راشدینؓ کا دور آیا تو سب کو عام آزادی میسر ہوئی جو آج بھی ہمارے درمیان معروف ہے اور مکمل طور پر محفوظ ہے۔

(فن الحکم فی الإسلام: صفحہ 477 478)