مسلمانوں پر ظلم کی حرمت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسلمانوں پر ظلم کی حرمت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 10

مسلمان پر ظلم کی حرمت

اللہ تعالیٰ نے زندہ اور مردہ مسلمانوں پر ظلم کرنے کو حرام قرار دیا ہے۔ اسی طرح ان کا خون، ان کا مال اور ان کی آبرو بھی حرام ہے ۔صحیحین میں ہے: نبی کریمﷺ نے حجۃ الوداع کا خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:

’’ بیشک مسلمانوں کا خون، ان کا مال اور ان کی آبرو اسی طرح حرام ہے، جیسے اس دن کی حرمت تمہارے اس مہینہ اور تمہارے اس شہر میں ۔ گواہ رہو کہ میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا۔ جو لوگ موجود ہیں وہ ان لوگوں تک یہ احکام پہنچا دیں ، جو موجود نہیں ہیں ، اس لیے کہ جن لوگوں تک یہ احکام پہنچیں گے ان میں سے بعض ان لوگوں سے بھی ان احکام کو زیادہ یاد رکھیں گے جنہوں نے براہِ راست یہ مسائل مجھ سے سنے۔‘‘ [البخاری، کتاب الحج ، باب خطبۃ ایام منی(ح:1741) مسلم ۔ باب تغلیظ تحریم الدماء(ح:1679)]

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اکْتَسَبُوْافَقَدِ احْتَمَلُوْا بُہْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا﴾ (الاحزاب:58)

’’ جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بلا وجہ ایذا دیتے ہیں انھوں نے ایک عظیم بہتان اور کھلا ہوا گناہ کمایا۔‘‘

پس جو شخص کسی زندہ یا مردہ مومن کو دکھ پہنچائے گا وہ اس آیت کا مصداق ہو گا ۔ البتہ مجتہد پر کوئی گناہ نہ ہو گا، جب کسی نے مومن کو اذیت پہنچائی تو یہ بلا وجہ اور بلا استحقاق ہی ہوگی۔ جو شخص گناہ گار ہو اور گناہ سے توبہ کر چکا ہو یا کسی اور وجہ سے اس کا گناہ بخشا گیا ہو اس کے باوجود کوئی شخص اسے تکلیف پہنچائے تو یہ ایذا بلا استحقاق ہو گی ۔اور جو کوئی گنہگار ہو؛ اور اپنے گناہ سے توبہ کر لی ہو؛ یا کسی دوسرے سبب کی وجہ سے اس کی بخشش کردی گئی ہو؛ اور اس پر کوئی سزا باقی نہ ہو؛ تو پھر کوئی موذی اسے تکلیف دے؛ تو یہ ایذا بلا استحقاق ہوگی۔اگرچہ یہ مصیبت اس کے کئے کی وجہ سے ہی آئی ہو۔

جب حضرت آدم اور موسی علیہما السلام کے درمیان مکالمہ ہوا؛تو موسی علیہ السلام نے فرمایا:

’’....آپ لوگوں نے ہم کو اور اپنے آپ کو جنت سے کیوں نکالا۔‘‘

حضرت آدم علیہ السلام نے جواباً فرمایا:’’ آپ کیا دیکھتے ہیں :میری پیدائش سے کتنا عرصہ پہلے میرے لیے لکھ دیا تھا :﴿ وَعَصَى آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَى﴾ [طہ 121] ’’حضرت موسی علیہ السلام نے عرض کیا : چالیس سال۔ ‘‘

نبیﷺ فرماتے ہیں :’’ اس طرح حضرت آدم حضرت موسی پر غالب آگئے۔‘‘[جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر2۔اس باب میں حضرت عمر اور جندب سے بھی احادیث منقول ہیں یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔یہ حدیث نبیﷺ سے ابوہریرہؓ کے واسطے سے کئی سندوں سے منقول ہے۔]

یہ حدیث صحیحین میں بھی ثابت ہے۔لیکن بہت سارے لوگوں سے اس کے معنی میں غلطی ہوئی ہے۔وہ یہ گمان کر بیٹھے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام نے نوشتۂ تقدیر سے احتجاج کیا کہ کسی پر گناہ کی وجہ سے ملامت نہیں کی جا سکتی۔پھر ان میں اختلاف واقع ہوا ہے؛ ان میں سے کچھ اس کے الفاظ کو جھٹلاتے ہیں ؛ اور اس کے معانی میں فاسد اور باطل تاویلیں کرتے ہیں ۔ 

یہ فاسد فہم اور بہت بڑی غلطی ہے۔ یہ کسی کم تر ایمان اور علم والے انسان کے ساتھ بھی ایسا گمان کرنا جائز نہیں ہو سکتا۔ کوئی یہ گمان کرے کہ کسی انسان پر گناہ کرنے میں اس لیے کوئی ملامت نہیں کہ گناہ اس کے مقدر میں لکھا جا چکا تھا۔ اور وہ قرآن میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی جانے والی خبریں بھی سنتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم اور قوم عاد و ثمود کو کیسے عذاب دیا گیا۔ قوم فرعون؛ اہل مدین اور اور قوم لوط اور دیگر لوگوں کا کیا حشرا ہوا۔

قدر [تقدیر] تمام مخلوق کو شامل ہوتی ہے۔ اگر گناہ کرنے والا معذور ہو تو پھر ان لوگوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے عذاب نہ دیا جاتا۔ وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں محمدﷺ اور دیگر انبیاء کو سرکشوں کے خلاف کن سزاؤوں کے ساتھ مبعوث کیا تھا؛جیسا کہ تورات اور قرآن میں بھی ہے؛ اور جو اللہ تعالیٰ نے فسادیوں پر حدود قائم کرنے اور کافروں سے قتال کرنے کا حکم دیا۔ اور پھر جو اللہ تعالیٰ نے ظالم سے مظلوم کو انصاف دلوانا مشروع ٹھہرایا ہے۔ اور جو قیامت کے دن اس کے بندوں میں فیصلہ ہوگا؛ کافروں کو عذاب دیا جائے گا۔اور مظلوم کو ظالم سے بدلہ دلوایا جائے گا۔ یہ بات کئی جگہ پر ہم تفصیل سے بیان کرچکے ہیں ۔

یہاں پر مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ انسان پر جو بھی مصیبت آتی ہے؛ وہ اس کے نصیب میں لکھی جاچکی ہوتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ اس کے سامنے سر تسلیم خم کرلے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ مَا اَصَابَ مِنْ مُّصِیبَۃٍ اِِلَّا بِاِِذْنِ اللّٰہِ وَمَنْ یُّؤْمِنْ بِاللّٰہِ یَہْدِ قَلْبَہُ﴾ [التغابن:11]

’’کوئی مصیبت نہیں پہنچی مگر اللہ کے اذن سے اور جو اللہ پر ایمان لائے وہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے ۔‘‘

حضرت علقمہؓ فرماتے ہیں : ’’ اس سے مراد وہ آدمی ہے جس پر کوئی مصیبت آتی ہے؛ تو وہ جانتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ پس وہ اس پر راضی رہتے ہوئے سر تسلیم خم کر لیتا ہے۔

والی نے ابنِ عباسؓ سے روایت کیا ہے؛ فرمایا:’’اس کے دل کو یقین کی طرف ہدایت دیں گے ۔‘‘

ابن سائب اور ابن قتیبہ رحمہما اللہ نے کہا ہے:’’بیشک یہ وہ آدمی ہے؛ جب وہ آزمائش میں مبتلا ہوتا ہے؛ تو صبر کرتا ہے؛ اور جب اس پر انعام کیا جاتا ہے تو وہ شکر گزاری کرتا ہے۔ اور جب ظلم کیا جاتا ہے تو معاف کردیتا ہے۔

صفحہ 1 از 10