سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 11

وَاللّٰہِ مَا تَشَاوَرَ قَوْمٌ قَطُّ إِلَّا ہَدَاہُمُ اللّٰہُ لِأَفْضَلَ مَا یَحْضُرُہُمْ

(تہذیب الریاسۃ و ترتیب السیاسۃ للقلعی: صفحہ 183)

’’اللہ کی قسم جب بھی کوئی قوم باہم مشورہ کرتی ہے اللہ تعالیٰ ان کی موجودہ رائے سے بہتر رائے کی جانب ان کی رہنمائی کرتا ہے۔‘‘

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ لوگوں کو اپنے تمام معاملات میں باہمی مشورے کی وصیت کر رہے ہیں اور اس پر آمادہ کر رہے ہیں، قرونِ اولیٰ کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم سے شورائیت کا طریقہ سیکھا اور اس کو برتا، خود سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مصالحت سے متعلق اپنے بھائی حسین رضی اللہ عنہ، چچا زاد بھائی عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ اور اپنے دوسرے قائدین سے مشورہ کیا جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔

شورائیت شریعت و احکام کے بنیادی اصول و ضوابط میں سے ہے، جو حاکم بھی باعمل علماء سے مشورہ نہیں کرتا اس کو اس کے منصب سے ہٹا دینا بالاتفاق واجب ہے۔

(المحرر الوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز: جلد 3 صفحہ 379)

جصاص حنفی اپنی تفسیر ’’احکام القرآن‘‘ میں(أَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ)پر گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’اقامتِ صلاۃ اور ایمان کے ساتھ شورائیت کا ذکر کیا جانا اس کے عظیم المرتبت ہونے کا پتہ دیتا ہے، اور یہ بھی بتاتا ہے کہ ہم اس کے مامور ہیں۔‘‘

(أحکام القرآن للجصاص: جلد 3 صفحہ 386)

علامہ طاہر بن عاشورؒ کہتے ہیں:

’’جصاص کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ شورائیت امام ابوحنیفہ رحمۃاللہ کے نزدیک واجب ہے۔‘‘

(التحریر و التنویر: جلد 4 صفحہ 149)

امام نووی رحمۃاللہ کا قول ہے:

’’ہمارے اصحاب کا اختلاف ہے کہ ہماری طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں شورائیت واجب ہے یا سنت، ان کے نزدیک راجح واجب ہونا ہے اور یہی مختار قول ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنا امر صادر کر رہا ہے: 

 وَشَاوِرۡهُمۡ فِى الۡاَمۡرِ‌۞ (سورۃ آل عمران آیت 159)

ترجمہ: اور ان سے (اہم) معاملات میں مشورہ لیتے رہو۔

اور جمہور فقہاء و محقق اصولیین کے نزدیک راجح بات یہی ہے کہ امر وجوب کے لیے ہوتا ہے۔‘‘

(شرح النووی علی: صحیح مسلم: جلد 4 صفحہ 76)

ابن تیمیہ رحمۃاللہ کا قول ہے

’’حاکمِ وقت مشاورت سے مستغنیٰ نہیں ہو سکتا، اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو اس کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے:

فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِى الۡاَمۡرِ‌ فَاِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ‌ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُتَوَكِّلِيۡنَ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 159)

ترجمہ: لہٰذا ان کو معاف کردو، ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو، اور ان سے (اہم) معاملات میں مشورہ لیتے رہو۔ پھر جب تم رائے پختہ کر کے کسی بات کا عزم کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔ اللہ یقیناً توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

بلاشبہ شورائیت اسلامی نظام کے ان بنیادی امور میں سے ہے جو اسلامی معاشرے کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، بہت سارے عظیم مقاصد اور اعلیٰ مصلحتوں کے پیش نظر شورائی نظام مشروع قرار دیا گیا، اس میں معاشرے، امت اور حکومت کی بھلائی اور برکت پر مبنی بہت سارے عظیم فوائد اور مصلحتیں پوشیدہ ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

  •  شوریٰ ایک طرح کھلم کھلا بحث و مناقشہ ہے، یہ رائے عامہ کو ہموار اور واضح کرنے، حاکم و محکوم، رئیس و مرؤوس کے مابین محبت و اعتماد کے اسباب کو مضبوط کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، ڈکٹیٹر شپ میں پروان چڑھنے والے شکوک کو ختم کرنے، اندیشوں کو دور کرنے، شبہات کے ازالے اور افواہوں کو روکنے میں حکومت کے لیے ایک بہترین طریقہ ہے۔
  • اسلامی مبادیات کا تقاضا ہے کہ ہر فرد یہ محسوس کرے کہ معاشرتی اور اجتماعی زندگی میں اس کا ایک کردار ہے، شورائیت ہر فرد کو موقع دیتی ہے کہ وہ معاشرے کی بھلائی کے لیے اپنی ہر ممکن کوشش، فکر، رائے اور صلاحیت کو بروئے کار لائے، نیز عام معاملات میں ہر شخص کو اظہارِ رائے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
  • شورائیت افرادِ امت کو فکری جمود اور گرم جذبات سے روکتی ہے، وہ ہر فرد کو اپنی ذاتی، فکری اور انسانی اہمیت کا احساس دلاتی ہے، افرادِ امت کو محنت، ایجاد اور رضامندی پر آمادہ کرتی ہے، امت کو مختلف طاقت و قوت عطا کرتی اور اس کی خوابیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہے۔
  •  شورائیت سخت قسم کے دباؤ اور پوشیدہ کینوں کا کامیاب علاج ہے، مخفی غم و غصہ کو ختم کرتی ہے، رعایا کو فائدہ پہنچانے کا عادی، نیز نظام حکومت کو مضبوط کرنے اور حاکمِ وقت کی سچی وفاداری کا حریص بناتی ہے۔
  •  شورائی نظام امت کو باور کراتا ہے کہ وہی صاحبِ حکومت ہے، اور حاکمِ وقت کو باور کراتا ہے کہ وہ حکومت و سربراہی میں امت کی نیابت کر رہا ہے۔
  •  شورائیت میں اللہ کے حکم کی بجاآوری اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء ہے، مذکورہ خصوصیتوں کے بالمقابل یہ خصوصیت زیادہ اہم ہے، یہی شورائی نظام کی کامیابی کا سب سے اہم سبب ہے۔

(الشوریٰ بین الأصالۃ و المعاصرۃ لعز الدین التمیمی: صفحہ 33، 34)

چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ شورائی نظام کا اہتمام کرنے، اس کو برتنے اور بروئے کار لانے پر لوگوں کو ابھار رہے ہیں، اسی لیے وہ کہتے ہیں:

’’جب بھی کوئی قوم باہم مشورہ کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی موجودہ رائے سے بہتر رائے کی جانب ان کی رہنمائی کرتا ہے۔‘‘

(تہذیب الریاسۃ و ترتیب السیاسۃ: صفحہ 183)

 سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے مسلمانوں کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

صفحہ 1 از 11