Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دوسروں کے کام آنا

  علی محمد الصلابی

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی نے آکر اپنی ضرورت بیان کی، چنانچہ سیدنا حسنؓ اس کی ضرورت کے لیے اس کے ساتھ نکل پڑے، اس نے کہا: اپنی ضرورت میں میں آپ سے مدد لوں یہ چیز مجھے پسند نہ تھی، میں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے ابتدا کی تھی، تو انھوں نے فرمایا: اگر میرا اعتکاف نہ ہوتا تو میں آپ کے ساتھ چلتا، اس پر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنے کسی مسلمان بھائی کی ضرورت میں کام آنا میرے نزدیک ایک مہینے کے اعتکاف سے بہتر ہے۔

(تاریخ دمشق الکبیر: جلد 14 صفحہ 76)

دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا حسنؓ طواف ترک کرکے دوسرے کی ضرورت کے لیے چلے گئے۔

(تاریخ دمشق الکبیر: جلد 14 صفحہ 76)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے، بعض لوگوں نے اسے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیا ہے۔ لوگ آپ کے ضرورت مند ہوں یہ آپ پر اللہ کی نعمت ہے، اس لیے نعمتوں سے اکتاؤ نہیں کہ وہ زحمت بن جائیں۔

یہ معلوم ہونا چاہیے کہ بھلائی تعریف اور اجر کا باعث ہوتی ہے، اگر تم بھلائی کو کسی شخص کے روپ میں دیکھو تو تم اسے دنیا والوں پر فوقیت رکھنے والا، دیکھنے والوں کو خوش کرنے والا، بہت اچھا اور خوبصورت انسان پاؤ گے، اور اگر تم کمینہ پن کو انسان کے روپ میں دیکھو تو تم اسے نہایت بدصورت، مسخ شدہ چہرہ والا پاؤ گے، لوگوں کے دل اور ان کی نگاہیں اس سے نفرت کریں گی۔

(الشہب اللامعۃ فی السیاسۃ النافعۃ: صفحہ 441)

’’الشہب اللامعۃ فی السیاسۃ النافعۃ‘‘ کے مصنف نے ذکر کیا ہے کہ ایک شخص نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو ایک درخواست دی، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں نے آپ کی درخواست پڑھ لی، آپ کی ضرورت پوری کی جائے گی، آپ سے کہا گیا: اے نواسۂ رسول! اگر آپ اس کی درخواست پڑھ لیتے اور دیکھ لیتے کہ اس میں کیا ہے تو بہتر ہوتا، سیدنا حسنؓ نے فرمایا: میں ڈرتا ہوں کہ میرے پڑھنے تک وہ ذلت کی حالت میں میرے سامنے کھڑا رہے، پھر اس کے بارے میں مجھ سے سوال کیا جائے۔

(الشہب اللامعۃ فی السیاسۃ النافعۃ: صفحہ 439)

ان کارناموں سے سیدنا حسنؓ کی خاکساری کے ساتھ ساتھ آپؓ کے حسنِ اخلاق اور عظمت کا بھی پتہ چلتا ہے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی جانب سے یہ کوئی تعجب خیز چیز نہیں، چنانچہ انھی کا قول ہے: مکارم اخلاق دس ہیں:

1۔ سچائی 2۔ بہادری

3۔ سائل کو نوازنا 4۔ خوش اخلاقی

5۔ احسان کا بدلہ دینا 6۔ صلہ رحمی

7۔ پڑوسی پر رحم کرنا 8۔ صاحب حق کے حق کو پہچاننا

9۔ کمزور کی مہمان نوازی 10۔ ان سب سے اوپر حیا ہے۔

 (من اقوال الصحابۃ محمد خورشید: صفحہ 68، الحسن بن علی: صفحہ 31)