Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے قول کی شرح

  علی محمد الصلابی

کَانَ إِذَا ابْتَدَأَہُ أَمْرَانِ لَا یَرَی أَیَّہُمَا أَقْرَبْ إِلَی الْحَقِّ، نَظَرَ فِیْمَا ہُوَ أَقْرَبَ إِلَی ہَوَاہُ فَخَالَفَہُ۔

(البدایۃ والنھایۃ: جلد 11 صفحہ 199)

’’جب اس کے نزدیک دو باتوں میں سے کسی کا اقرب الی الحق ہونا واضح نہ ہوتا تو دیکھتا ان میں سے کون سی بات اس کی خواہش کے زیادہ قریب ہے، پھر اس کی مخالفت کرتا۔‘‘

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ’’ہوی‘‘ (نفسانی خواہش) کی مخالفت پر آمادہ کر رہے ہیں، ہویٰ کہتے ہیں بغیر کسی شرعی ضرورت کے لذت بخش خواہشات کی جانب نفس کے میلان کو۔

(التعریفات للجرجانی: صفحہ 257)

نفسانی خواہشات ان اسباب میں سے ایک اہم سبب ہیں، جن کے باعث بہت ساری قوموں نے اپنے انبیاء کی مخالفت کی، ان کا حکم نہ مانا، ان کی لائی ہوئی شریعت و ہدایت کو ٹھکرا دیا۔ فرمان الہٰی ہے:

لَقَدۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَ بَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَاَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ رُسُلًا كُلَّمَا جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ بِمَا لَا تَهۡوٰٓى اَنۡفُسُهُم فَرِيۡقًا كَذَّبُوۡا وَفَرِيۡقًا يَّقۡتُلُوۡنَ ۞ (سورۃ المائدة آیت 70)

ترجمہ: ہم نے بنو اسرائیل سے عہد لیا تھا، اور ان کے پاس رسول بھیجے تھے، جب کوئی رسول ان کے پاس کوئی ایسی بات لے کر آتا جس کو ان کا دل نہیں چاہتا تھا تو کچھ (رسولوں) کو انہوں نے جھٹلایا اور کچھ کو قتل کرتے رہے۔

’’ہم نے بالیقین بنی اسرائیل سے عہد وپیمان لیا اور ان کی طرف رسولوں کو بھیجا، جب کبھی رسول ان کے پاس وہ احکام لے کر آئے جو ان کی اپنی منشا کے خلاف تھے تو انھوں نے ان کی ایک جماعت کی تکذیب کی اور ایک جماعت کو قتل کردیا۔‘‘

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی داؤد علیہ السلام کو خواہشات کی مخالفت کا حکم دیا ہے:

يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلۡنٰكَ خَلِيۡفَةً فِى الۡاَرۡضِ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ بِالۡحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الۡهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَضِلُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ بِمَا نَسُوۡا يَوۡمَ الۡحِسَابِ ۞سورۃ ص آیت 26

ترجمہ: اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے، لہٰذا تم لوگوں کے درمیان برحق فیصلے کرو، اور نفسانی خواہش کے پیچھے نہ چلو، ورنہ وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گی۔ یقین رکھو کہ جو لوگ اللہ کے راستے سے بھٹک جاتے ہیں، ان کے لیے سخت عذاب ہے، کیونکہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا تھا۔

ابن تیمیہ رحمۃاللہ کا قول ہے:

’’ہوی (جو نفس میں موجود حب و بغض کا جذبہ ہے) بذات خود مستحق ملامت نہیں، اس لیے کہ بسااوقات اس کی نہیں چلتی، مستحق ملامت اس کی چاہت کے مطابق عمل کرنا ہے۔‘‘

(مجموع الفتاویٰ: جلد 28، صفحہ 131)

دوسری جگہ انھی کا قول ہے:

’’مجرد نفس کے حب و بغض کا نام ہویٰ ہے، جو چیز حرام کی گئی ہے وہ اس کے حب و بغض کی چاہت کے مطابق عمل کرنا ہے۔‘‘

(مجموع الفتاویٰ: جلد 28، 133)

جو آدمی نفسانی خواہشات کی بیماری میں مبتلا ہو گیا اس کے لیے بہترین دوا اور کامیاب علاج یہ ہے کہ وہ اپنے اوپر کتاب و سنت کی پیروی کو لازم کرے، سلف صالحین کے منہج کو اپنائے، اپنے نفس میں برابر اللہ کا خوف اور ڈر بسائے رکھے، اپنے افعال پر ہمیشہ اپنے نفس کا محاسبہ کرتا رہے، اس کی خواہشات، لبھاوے اور مکاری سے دھوکہ نہ کھائے، جو کچھ کہنا یا کرنا چاہے اس کے بارے میں اہل علم و ایمان سے زیادہ سے زیادہ مشورہ کرے اور ان کی رائے معلوم کرے، دوسروں سے نصیحت حاصل کرے، درست اور صحیح آراء (چاہے وہ نفسانی خواہشات کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں) کو قبول کرنے پر نفس کو آمادہ کرے، اعمال کو کر گزرنے، احکام کو صادر کرنے میں نفس کو توقف اور ان افعال سے بچنے کا عادی بنائے جن میں افراط و تفریط، غلو و تقصیر، جہالت اور حدود سے تجاوز ہو، زیادہ سے زیادہ اللہ سے عاجزی اور دعا کرے کہ وہ اسے نفسانی خواہشات کے اتباع اور گمراہ کن فتنوں سے بچائے اور خوشی اور ناخوشی دونوں صورتوں میں حق بات کہنے کی توفیق دے، منجانب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امت کو سکھائی گئی ان دعاؤں کو زیادہ سے زیادہ پڑھے:

وَ أَسْأَلُکَ کَلِمَۃَ الْحَقِّ فِی الرِّضَا وَالْغَضَبِ۔

(سنن النسائی: کتاب السہو: باب الدعاء بعد الذکر: جلد 3 صفحہ 55، علامہ البانی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے)

’’اے اللہ! میں تجھ سے خوشی و ناخوشی دونوں صورتوں میں حق بات کہنے کی توفیق طلب کر رہا ہوں۔‘‘

اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذِ بِکَ مِنْ مُنْکَرَاتِ الْأَخْلَاقِ وَ الْأَعْمَالِ وَ الَأَہَوَائِ۔

(صحیح سنن الترمذی: جلد 3 صفحہ 183)

’’اے اللہ! میں برے اخلاق و اعمال اور بری خواہشات سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔‘‘

4۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے:

یَجُوْزُ أَنْ یَّظُنَّ السُّوْئَ بِمَنْ عَلِمَ السُّوْئَ مِنْہُ وَ بَدَتْ عَلَیْہِ أَدَّلِتُہُ وَ لَیْسَ یَنْبَغِیْ أَنْ یَّظُنَّ بِہِ السُّوْئَ بِمُجَرَّدِ الظَّنِّ فَإِنَّ الظَّنَّ یَکْذِبْ کَثِیْرًا۔

(الشہب اللامعۃ فی السیاسۃ النافعۃ للمالقی: صفحہ 173)

’’اس کو برا سمجھنا درست ہے جس کی برائی معروف ہو اور اس پر دلیلیں واضح ہوں، صرف گمان کی بنیاد پر کسی کو برا سمجھنا درست نہیں، گمان اکثر و بیشتر جھوٹا ہوتا ہے۔‘‘

حکمت پر مبنی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے اس قول کا مفہوم یہ ہے کہ ہوشیار اور بابصیرت مومن جب کسی شخص کے بعض برے احوال، تصرفات، اقوال اور افعال کو جان لے تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اسے برا سمجھے، انسان کے چہرے کے آثار، بعض اقوال و افعال سے اس کے دل کی بعض باتیں نمایاں ہو جاتی ہیں، لیکن اسے برا سمجھنے کی بنا پر اس شخص کو کوئی سزا نہیں دی جاسکتی، بلکہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے اس قول کا مقصد یہ ہے کہ ایسے لوگوں سے محتاط رہنے اور بچنے کی ضرورت ہے تاکہ ان جیسے لوگوں کے ساتھ حسن ظن کے باعث کوئی مسلمان مصائب و مشکلات سے دوچار نہ ہو جائے، جس کا لوگوں سے سابقہ پڑتا رہتا ہے۔ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ جس سے متعلق سوء ظن کے دلائل و شواہد موجود ہوں اس پر اعتماد کرنا کتنا خطرناک ہوتا ہے، لیکن بلادلائل و شواہد کسی مسلمان کا کسی مسلمان سے سوء ظن رکھنا بالکل مناسب نہیں۔ فرمان الہٰی ہے:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اجۡتَنِبُوۡا كَثِيۡرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعۡضَ الظَّنِّ اِثۡمٌ‌ ۞ (سورۃ الحجرات آیت 12)

ترجمہ: اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بعض گمان گناہ ہوتے ہیں،

اللہ تعالیٰ کے اس قول إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ کا مفہوم یہ بتاتا ہے کہ اہل خیر کے ساتھ بدگمانی گناہ ہے، رہے برے اور فاسق لوگ تو ان کے ظاہری حالات کے مطابق ہم ان کے ساتھ بدگمانی رکھ سکتے ہیں۔

(الأخلاق بین الطبع و التطبع: صفحہ 243)

فرمان نبویﷺ ہے:

إِیَّاکُمْ وَ الظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَکْذَبُ الْحَدِیْثِ۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 5143، صحیح مسلم: حدیث نمبر 2563)

’’تم بدگمانی سے بچو اس لیے کہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔‘‘

ابن حجر رحمۃاللہ نے کسی مسلمان سے بدگمانی کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے، چنانچہ ان کا قول ہے:

’’ایسا اس لیے کہ جو شخص محض بدگمانی کے باعث کسی کو برا قرار دیتا ہے شیطان اس کو اسے حقیر سمجھنے، اس کے حقوق کی رعایت نہ کرنے، اس کے احترام میں کوتاہی کرنے اور اس کی عزت و ناموس سے متعلق زبان درازی پر آمادہ کرتا ہے، یہ تمام باتیں باعث ہلاکت ہیں، جسے تم پاؤ کہ وہ لوگوں سے بدگمانی اس لیے کرتا ہے کہ ان کے عیوب کو ظاہر کرے تو سمجھ لو کہ وہ بدباطن اور بری نیت والا ہے، بلاشبہ مومن اپنی نیک طبیعت کے باعث لوگوں کے لیے مختلف قسم کے عذر تلاش کرتا رہتا ہے، اور منافق اپنی بری طبیعت کے باعث لوگوں کے عیوب تلاش کرتا رہتا ہے۔‘‘

(الزواجر: صفحہ 114)