Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے بدخلقی سب سے بڑی مصیبت ہے

  علی محمد الصلابی

انہی کا قول ہے: بدخلقی سب سے بڑی مصیبت ہے۔

(تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 227)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے یہ کارنامے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائیوں کا نتیجہ ہیں، چنانچہ عبداللہ بن دینار بعض صحابہ کرامؓ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول اللہﷺ! اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا:

أَنْفَعُہُمْ لِلنَّاسِ، وَأَنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَی اللّٰہُ سُرُوْرٌ تُدْخِلُہٗ عَلٰی مُوْمِنٍ، تَکْشِفُ عَنْہُ کَرْبًا، أَوْ تَقْضِیْ عَنْہُ دَیْنًا، أَوْ تَطْرُدُ عَنْہُ جُوْعًا، وَ لَأَنَّ أَمْشِیَ مَعَ أَخِی الْمُسْلِمِ فِیْ حَاجَۃٍ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَعْتَکِفَ شَہْرَیْنِ فِیْ مَسْجِدٍ، وَ مَنْ مَشٰی مَعَ أَخِیْہِ الْمُسْلِمِ فِیْ حَاجَۃٍ حَتَّی یُثَبِّتَہَا لَہٗ ثَبَّتَ اللّٰہُ قَدَمَہٗ یَوْمَ تَزِلُّ فِیْہِ الْأَقْدَامُ، وَإِنَّ سُوْئَ الْخُلْقِ لَیُفْسِدُ الْعَمَلَ کَمَا یُفْسِدُ الْخَلُّ الْعَسَلَ

(سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: رقم: 906، امام البانی نے صحیح الجامع میں اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔)

’’جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو، اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ کام وہ خوشی ہے جسے تم کسی مومن کو پہنچاؤ، اس کی پریشانیوں کو دور کرکے، اس کے قرض کو ادا کرکے، اس کی بھوک کو رفع کرکے۔ اپنے مسلمان بھائی کی ضرورت کے لیے میں نکلوں یہ مجھے کسی مسجد میں دو مہینہ اعتکاف سے زیادہ محبوب ہے۔ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی کسی ضرورت کے لیے نکلتا ہے اور اس کی اس ضرورت کو پوری کر دیتا ہے تو جس دن کہ قدم پھسلتے رہیں گے اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدم رکھیں گے۔ بدخلقی عمل کو ایسے ہی برباد کر دیتی ہے جیسے سرکہ شہد کو۔‘‘

سلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا فِی الدُّنْیَا سَتَرَہُ اللّٰہُ فِیْ الدُّنْیَا وَ الْآخِرَۃِ، وَ مَنْ نَجَی مَکْرُوْبًا فَکَّ اللّٰہُ عَنْہُ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَ مَنْ کَانَ فِیْ حَاجَۃِ أَخِیْہِ کَانَ اللّٰہُ فِیْ حَاجَتِہٖ

(مصنف عبدالرزاق: رقم: 18936، یہ حدیث صحیح ہے۔)

’’جو دنیا میں کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا۔جو کسی پریشانی میں مبتلا شخص کو نجات دلاتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کی پریشانیوں میں سے اس کی ایک ایک پریشانی کو ختم کر دے گا۔ جو اپنے بھائی کے کام آئے گا اللہ تعالیٰ اس کے کام آئے گا۔‘‘