تعارف امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 1 از 10

امام ترمذی رحمۃاللہ

(امام ترمذی رحمۃاللہ کے حالات کے لیے دیکھیے سیر الاعلام النبلاء: جلد 13، صفحہ 27 

دفیات الاعیان: جلد، 4 صفحہ 278 تہذیب الکمال: جلد، 9 صفحہ، 387 الانساب: جلد، 1 صفحہ، 415 فی نسبة "البوغی" وفی صفحہ، 459 فی نسبة الترمذی معجم البلدان: جلد، 1 صفحہ، 510 فی بیان بوغ: و مجلد، 2 صفحہ، 26 فی بیان ترمذ)

نسب و نسبت: 

محمد بن عيسىٰ بن سورة بن موسىٰ الضحاك بعض نے نسب یوں بیان کیا ہے: محمد بن عيسىٰ بن يزيد بن سورة بن السكن۔

(دیکھیے تہذیب الکمال: جلد، 26 صفحہ، 250) 

بعض اس طرح بیان کرتے ہیں: محمد بن عيسىٰ بن سورة بن شداد بن عيسىٰ۔

(الانساب: جلد، 1 صفحہ، 415، 459 البدايہ و النہايہ: جلد، 11 صفحہ، 66) 

ابوعيسىٰ السلمی، الترمذى، البوغى، الضرير۔

بوغ شہر ترمذ سے چھ فرسخ کے فاصلے پر واقع ایک قریہ کا نام ہے، امام ابوعیسیٰ اسی قریہ میں رہتے تھے اس لیے اس کی طرف نسبت کر کے "بوغی" کہا جاتا ہے اور چونکہ بوغ شہر ترمذ کے مضافات میں ہے تو اس کی طرف نسبت کر کے ترمذی بھی کہا جاتا ہے، البتہ لفظ ترمذ کے تلفظ و کیفیت میں قدرے اختلاف ہے ، تَرمِذ، تِرمِذ، تُرمُذ، تین طرح سے پڑھا گیا ہے۔

(الانساب: جلد، 1 صفحہ، 359، معجم البلدان: جلد، 2 صفحہ، 26 دفیات الاعیان: جلد، 4 صفحہ، 194) 

علامہ سمعانی رحمۃاللہ کہتے ہیں کہ میں بارہ دن اس شہر میں رہا، وہاں کے لوگ تَرمِذ بولتے تھے۔

(الانساب: جلد، 1 صفحہ، 459) 

یہ دو نسبتیں آپ کی مشہور ہیں باقی چونکہ آپ کا تعلق قبیلہ سُلَم سے ہے تو سلمی بھی کہتے ہیں، آخر عمر میں آپ نابینا ہو گئے تھے اس لیے ضریر بھی کہا جاتا ہے۔

ابوعیسیٰ کنیت رکھنا: 

حدیث میں ابوعیسیٰ کنیت رکھنے کی ممانعت ہے، مصنف ابنِ ابی شیبہ میں روایت ہے: عن موسیٰ بن على عن أبيه أن رجلاً اكتنى بأبی عيسىٰ، فقال رسول اللہﷺ إن عيسىٰ لا أب له۔ (دیکھیے مصنف ابنِ ابی شیبہ باب ما يكره للرجل أن يكتنی بأبی عيسىٰ)

اسی طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے ایک صاحبزادے پر اس وجہ سے غصہ ہوئے کہ اس نے اپنی کنیت ابوعیسیٰ رکھی تھی، حدیث میں اس ممانعت کی وجہ اور حکمت کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی باپ نہیں تھا، لہٰذا اگر کوئی ابوعیسیٰ کنیت رکھتا ہے اس سے فسادِ عقیدہ کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔ (دیکھیے بذل المجہود: جلد، 20 صفحہ، 198) اب سوال یہ ہے کہ جب حدیث میں ممانعت موجود ہے تو امام ترمذی رحمۃاللہ نے اپنی کنیت ابوعیسیٰ کیوں رکھی بعض نے کہا کہ شاید یہ روایت امام ترمذی رحمۃاللہ تک نہ پہنچی ہو یا یہ کہ آپ رحمۃاللہ نے خود یہ کنیت اختیار نہ کی ہو بلکہ ان کے باپ، دادا نے یہ کنیت رکھی ہو۔ 

(حوالہ بالا)

دوسرے حضرات نے کہا کہ امام صاحب نے اس روایت کو خلاف اولیٰ پر حمل فرمایا ہوگا نہ کہ حرمت پر لیکن یہ باتیں اس جبلِ علم و تقویٰ کی شان کے خلاف ہیں، حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃاللہ نے فرمایا کہ امام ترمذی رحمۃاللہ کی طرف سے ایک ہی اعتذار پیش کیا جا سکتا ہے جو حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃاللہ نے بیان فرمایا کہ سنن ابو داؤد میں حضرت شعبہؓ کی روایت سے ابو عیسیٰ کنیت رکھنے کا جواز ثابت ہوتا ہے۔(العرف الشذى المطبوع مع جامع الترمذی: جلد 1، صفحہ 2 

معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 14) 

روایت یہ ہے: عن زيد بن أسلم عن أبيه أن عمر بن الخطاب ضرب ابناله تكنى أبا عيسىٰ، وإن المغيرة بن شعبة تكنى بأبی عيسىٰ، فقال له عمر: أما يكفيك أن تكنى بأبی عبداللہ؟ فقال له: أنّ رسول اللہﷺ كنّانی، فقال: انّ رسول اللہﷺ قد غفر له ما تقدم من ذنبه وما تأخر، وإنا فی جلجتنا، فلم يزل يكنى بابی عبداللہ حتىٰ هلك۔(دیکھیے سنن ابی داؤد، کتاب الأدب، باب فيمن يتكنى بأبی عیسیٰ: جلد، 2 صفحہ، 322) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے لڑکے کو مارا جنہوں نے اپنی کنیت ابوعیسیٰ رکھی تھی، حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی کنیت ابوعیسیٰ رکھی تھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ کو ابو عبداللہ کی کنیت کافی نہیں؟ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جناب رسول اللہﷺ نے مجھے اس کنیت کے ساتھ پکارا ہے، حضرت عمر فاروقؓ نے کہا کہ آپﷺ کی تمام بھول چوک اللہ نے معاف فرما دی تھیں اور ہم تو ایک امرِ مضطرب میں مبتلا ہیں پھر انہوں نے مرتے دم تک اپنی کنیت ابو عبداللہ ہی رکھی۔

تو گویا امام ترمذیؒ مصنف ابنِ ابی شیبہ کی روایت کو ابتدائے اسلام پر محمول کرتے ہیں جبکہ فسادِ عقیدہ کا شبہ تھا اور حضرت مغیرہؓ کی روایت بعد کی ہے اور اس سے جواز معلوم ہوتا ہے، حضرت شاہ عبد العزیز رحمۃاللہ اس جواب سے بھی مطمئن نہیں ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ سیدنا مغیرہؓ کے قول کنّانی رسول اللہﷺ کے معنیٰ یہ نہیں کہ آپﷺ نے ان کی کنیت ابوعیسیٰ رکھی بلکہ معنیٰ یہ ہیں کہ مجھے اس کنیت سے پکارا، اور پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا جواب بھی حدیث میں ہے کہ آپﷺ کبھی کوئی غیر اولیٰ فعل کرتے تھے، بیانِ جواز کے لیے اور قاعدہ یہ ہے کہ رسول اگر کوئی غیر اولیٰ فعل کرے بیانِ جواز کے لیے، وہ فعل ان کے لیے مکروہ نہیں ہو گا بلکہ اس پر ثواب ملے گا، بخلاف عام لوگوں کے کہ ان کے حق میں کراہیت ختم نہیں ہوتی، خلاصہ یہ ہوا کہ ابوعیسیٰ کی کنیت رکھنے کی کراہت اب بھی موجود ہے، حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ختم نہیں ہوئی۔

(بستان المحدثین: صفحہ، 294)

حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ نے فرمایا کہ ہو سکتا ہے امام ترمذیؒ کو یہ کنیت اس لیے پسند ہو کہ رسول اللہﷺ نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کو اس کے ساتھ پکارا ہے تو اس سنت پر عمل کرنے کے لیے انہوں نے اس کراہت کا ارتکاب کیا ہو۔

صفحہ 1 از 10