امامت علی رضی اللہ عنہ کی پانچویں دلیل: - ردِ رافضیت | دفاع…

امامت علی رضی اللہ عنہ کی پانچویں دلیل:

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 1 از 9

امامت علی رضی اللہ عنہ کی پانچویں دلیل:

[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’پانچویں دلیل قرآن کریم کی یہ آیت ہے:

﴿اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا﴾ [الأحزاب۳۳]

’’ اے اہل بیت !اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی کو دور کرکے اچھی طرح پاک صاف بنا دے۔‘‘

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ:’’ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر میں تلاش کیا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے ہیں ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دونوں آئے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی وہاں پہنچ گئیں ، آپ نے علی رضی اللہ عنہ کو بائیں جانب اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دائیں طرف اور حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو اپنے سامنے بٹھایا پھر ان پر اپنی چادر تان لی اور فرمایا:

﴿اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا

’’ اے اہل بیت نبی اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی کو دور کرکے اچھی طرح پاک صاف بنا دے۔‘‘

اور پھر فرمایا: ’’اے اللہ ! یہ میرے سچے اہل بیت ہیں ۔‘‘

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میرے گھر میں تشریف فرما تھے ۔توحضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا پتھر کی ایک ہانڈی لیکر آئیں جس میں حریرہ تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اپنے شوہر اور دونوں بیٹوں کو بلا لاؤ۔تو آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو بلا لائیں ۔یہ سب لوگوں گھر میں داخل ہوئے اور گھر میں بیٹھ کر حریرہ کھانے لگے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک خیبری چادرپر بیٹھے ہوئے تھے۔اور میں اپنے حجرہ میں کھڑی نماز پڑھ رہی تھی۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

﴿اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا

[دراوی کہتا ہے : حضرت علی رضی اللہ عنہ اس سورت کے نزول کے وقت بہت کم عمر تھے؛ اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں پرورش پارہے تھے ۔ آپ کا علیحدہ سے کوئی گھر نہیں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں آپ کے دوسرے لے پاک جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی اولاد تھے وہ بھی رہا کرتے تھے ؛ اور آپ کا آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی ہوا کرتے تھے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر یہ ستارہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے والد ابو طالب کے گھر پر گرا تو پھر ان کے دوسرے بھائی بھی مسلمان تھے ؛ جو آپ سے بڑے بھی تھے ؛ تو ان میں سے صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ اور امام ہونے کے لیے کیسے چنا گیا ؟ اور اگر یہ ستارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی گھر پر گرا تھا تو حضرت زید بن حارثہ ؛ حضرت ہالہ اور دوسرے لوگوں کو چھوڑ کر آپ کومتعین امام اور وصی مقرر کرنے کے لیے کوئی خاص دلیل ہونی چاہیے ؛ وگرنہ یہ تمام لوگوں کے لیے عام ہے ؛ کوئی بھی دوسرا اس کا مستحق ہوسکتا ہے ۔ لیکن کیا کریں رافضی بیچارے عقل و علم سے بالکل کورے ہوتے ہیں ؛ ان کو تو ڈھنگ سے جھوٹ بولنا بھی نہیں آتا۔ [دراوی؛ کشمیری]]

آپ فرماتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اپنی چادر کے باقی حصہ میں داخل کرلیا؛ اور پھر اپنے ہاتھ باہر نکال کر آسمان کی طرف بلند کیے اور یہ دعا فرمائی :

’’یا اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں ، ان سے گناہ کی نجاست دور کر دے اور انکو بخوبی پاک کر دے۔‘‘

آپ نے کئی بار ایسے فرمایا ۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے اپنا سر اندر داخل کیا ؛اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں بھی ان کیساتھ ہوں (یعنی چادر میں آنے کا ارادہ کیا)۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنی جگہ رہو تم خیر پر ہو۔‘‘

مذکورہ صدر آیت میں ان کے معصوم ہونے کی دلیل ہے۔اور ﴿اِنَّمَا﴾ کے بعد اس کی خبر پر’’لام‘‘ داخل کیا گیا ہے یہ لفظ بتاکید اس خطاب میں اہل بیت کے اختصاص پر دلالت کرتا ہے۔ اور پھر ﴿ يُطَهِّرَكُمْ ﴾ کے لفظ سے اس مضمون کو دھرایا گیا ہے ‘ اور﴿ تَطْهِيرًا ﴾ کے لفظ سے اس کی تاکید کی گئی ہے۔ اس سے بھی تاکید کا مفہوم نکل رہا ہے، اس آیت سے مستفاد ہوا کہ اہل بیت کے سوا کوئی بھی معصوم نہیں ۔ لہٰذا امام صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ ہوں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے متعدد اقوال میں اس کا دعویٰ کیا ہے، جیسے آپ کا یہ قول:

’’ ابن ابی قحافہ نے یہ لباس اوڑھا(منصب خلافت پر فائز ہوئے) حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ مجھے وہی مرتبہ حاصل ہے جو ایک چکی میں درمیانی سیخ کو حاصل ہوتا ہے۔ ‘‘ علاوہ ازیں آپ سے نجاست کی نفی بھی کردی گئی ہے، لہٰذا حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی خلیفہ صادق ہوں گے۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]

[آیت تطہیر سے شیعہ کا استدلال]:

ہم کہتے ہیں :اجمالی طور پر یہ حدیث صحیح ہے،یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ فاطمہ رضی اللہ عنہا حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور ان سب پر ایک چادر ڈال دی۔پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی :

’’یا اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں ، ان سے گناہ کی نجاست دور کر دے اور ان کو بخوبی پاک کر دے۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت اس حال میں نکلے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اوپر ایک ایسی چادر اوڑھے ہوئے تھے کہ جس کے کناروں پر ہانڈیوں کے نقش سیاہ بالوں سے بنے ہوئے تھے۔ اسی دوران میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ آ گئے تو آپ نے ان کو اپنی اس چادر کے اندر کر لیا پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی اپنی چادر کے اندر کر لیا پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی اپنی چادر میں کر لیا پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی اپنی چادر میں کر لیا پھر آپ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:

صفحہ 1 از 9