دھوکہ نمبر 8 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دھوکہ نمبر 8

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

صفحہ 1 از 4

دھوکہ نمبر 8

کہتے ہیں کہ اہل سنت قرآن کی مخالفت کرتے ہیں مثلاً وضو میں پاؤں پر مسح کرنے کے بجائے ان کو دھوتے ہیں۔حالانکہ قرآن کی آیت صاف طور پر مسح پر دلالت کرتی ہے۔ اس دھوکہ نے بہت سے ایسے جاہلوں کو راہ راست سے بھٹکا دیا ہے جو نحو اور عربی کی معمولی شد بد کے ساتھ احکام الٰہی کی تحقیق میں قدم رکھتے اور خود کو عالم سمجھتے ہیں حالانکہ وہ اتنی قابلیت بھی نہیں رکھتے اصول اور قواعد اجتہاد کو سمجھ سکیں۔ یا مختلف مسائل میں باہم تطبیق دے سکیں ۔

اب اس اجمال کی تفصیل ملاحظہ ہو فریقین کے نزدیک قرآن مجید میں آیت وضو میں اٙرْجُلِکُمْ ل کے زیر اور زبر کی قرائتیں متواتر صحیح اور درست ہیں۔

پھر دونوں اس اصولی قاعدہ پر بھی متفق ہیں کہ جب متواتر قرائتیں باہم متعارض ہوں تو وہ دو مختلف آیتوں کا حکم رکھتی ہیں ۔ اس سے پہلے تو ان دونوں میں تطبیق کی کوشش کرنی چاہیے۔ پھر ایک کو دوسری پر ترجیح دینے کے بارے میں غور کرنا چاہیے اگر دونوں صورتیں ممکن نہ ہوں تو ان کو کالعدم تصور کر کے ان سے کم مرتبہ دلائل کی طرف رجوع کرنا چاہیئے مثلاً دو آیتوں میں تطبیق ممکن نہ ہو تو حدیث کی طرف رجوع کریں، کیونکہ تعارض کے سبب آیتوں پر عمل ممکن نہ ہونے کے سبب وہ کالعدم ہوئیں اور اگر احادیث باہم متعارض ہوں تو اقوال صحابہ اور اہل بیت کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ یا جو لوگ قیاس کے قائل ہیں ان کو مجتہدین کے قیاس پر عمل کرنا چاہئیے ۔

پس اس آیت وضو میں ہم نے دونوں قرأتوں میں غور کیا تو اہل سنت کے نزدیک ہر دو قرأت میں دو وجوہ سے تطبیق پائی ۔

ایک یہ کہ مسح کو غسل پر محمول کریں جیسا کہ ابو زید انصاری اور دوسرے اہل لغت نے ان الفاظ میں تصریح کی ہے۔

اٙلْمٙسْحُ فِیْ کٙلٙامِ الْعِرٙبِ یٙکُوْن غٙسْلاً یُقٙالُُ لِلرِّجُلِ اِذٙا تٙرٙضّٙاء مٙسٙحُ اللّٰہُ مٙا بِکٙ اٙیْ اٙزٙالٙ عنك المرض ويقال مسح الأرض المطر۔

کلام عرب میں مسح کے معنی غسل کے بھی ہوتے ہیں ۔ وضو کرنے والے کے لئے کہا جاتا ہے مسح یعنی اس نے وضو کیا یہ بھی کہتے ہیں مسح اللّٰہ کہ اللّٰه تعالٰی تیرے مرض کو دور کرے۔

اور اسی طرح مسح الارض کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بارش نے زمین کو دھو دیا ۔

اس وجہ میں اگر شیعہ یہ جرح کریں کہ برؤسكم میں مسح کے حقیقی معنی مراد ہیں اور ارجلكم میں مجازی معنی تو ایک ہی چیز میں حقیقت و مجاز کا اجتماع نا جائز اور ممتنع ہے ۔

اس کا جواب یہ ہو گا کہ با رجلکم سے پہلے امسحوا کا لفظ مانا گیا ہے، تو اب جب لفظ دو ہو گئے تو دو معنی مراد لینے میں کوئی مضائقہ نہ رہا ، شارح زبدة الاصول امامیہ کے ماہرین عربیت سے نقل کرتا ہے کہ حقیقت و مجاز کا اس طرح جمع ہونا جائز ہے ۔ مثلاً معطوف علیہ میں حقیقی معنی مراد ہوں اور معطوف میں مجازی، چنانچہ آیت لاتقربو الصلوة وانتم سکاری حتیٰ تعلموا ماتقولون ولاجنبا الا عابری سبیل ۔ میں کہا ہے کہ صلٰوة بحالت معطوف علیہ مخصوض ارکان شریعت میں حقیقی معنی میں یعنی مسجد جو محل نماز ہے میں مستعمل ہے ۔ شارح زبدہ کا کہنا ہے کہ یہ استخدام کی ایک قسم ہے ۔

امامیہ کے مفسرین کی ایک جماعت اور ان کے فقہاء نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے پس آیت زیر بحث میں بھی یہی صورت ہو گی کہ وہ مسح جو رؤس (سر) سے تعلق رکھتا ہے اپنے حقیقی معنوں میں لیا جائے گا اور وہ مسح جو پاؤں سے تعلق رکھتا ہے مجازی معنی غسل میں لیا جائے گا ۔

پھر اس بحث سے قطع نظر اس آیت کے نزول سے کئی سال پہلے ابتدائے بعثت ہی میں حضرت جبریل علیہ السلام کے واسطہ سے وضو کی فرضیت اور اس کی تعلیم وقوع میں آ چکی تھی ۔ پس اس قسم کا ایہام یہاں مراد لینے میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ مخاطبین، وضو کی کیفیت ترتیب تو پہلے ہی سے سمجھتے تھے بلکہ روزانہ پانچ مرتبہ عملی مظاہرہ کرتے رہتے تھے اس لئے وضو کی کیفیت ترتیب کا سمجھنا ان کے لئے اس آیت پر ہی منحصر نہ تھا۔ بلکہ ظاہری طرز کلام سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ کلام خاص وضو اور غسل کے متبادل طریقہ تیمم کے لئے ہے اور وضو کا ذکر بطور تمہید و تقریب ہے اور جو بات بطور تمہید و تقریب ہو اس کے بیان میں چنداں وضاحت ضروری نہیں ہوتی ۔

دوسرے یہ کہ ارجل کا زیر اپنے متصل لفظ رؤس کے زیر کی وجہ سے ہے مگر معنی با عتبار زبر کے ہوں گے! اور جو جوار کو سیلبویہ ، اخفش، ابوالبقاء اور دیگر تمام معتبر نحویوں نے لغت اور عطف دونوں صورتوں میں جائز رکھا ہے۔ اور یہی قرآن میں بھی ہے ۔ لغت کی حالت میں جر جوار کی مثال قرآن مجید کی اس آیت میں ہے عذاب يوم اليم. کہ اس میں اليم اگرچہ عذاب کی صفت ہے مگر جر جوار يعنی یوم کی وجہ سے مجرور ہوا عطف کی حالت جر جوار کی مثال حورُٗ عین کا مثال الؤلوء المكنون ہے کہ اس میں بقراہ حمزہ کسائ اور بروایت مفضل عاصم کی قِراة پر جر جوار اکواب واباریق کی وجہ سے مجرور ہے۔ اور ولدان مخلدون پر معطوف ہے کیونکہ اکواب واباریق پر عطف کرنے سے اس کے کوئی معنے نہیں رہتے ۔

اس کے علاوہ خالص اور اصل شعرائے عرب کے نظم و نثر میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں ۔ نابغہ کا ایک شعر ہے ۔

لم یبق الا اسیر غیر منفلت ومرتقمن مقال الاسرار مکبول

ان میں سے کوئی قیدی ذندہ نہیں رہا ۔ مگر وہ جو دور سیوں سے پابستہ ہے ۔

اس میں موثق اگرچہ عطف اسیر کی موجودگی میں اس پر معطوف ہے مگر بسبب جرجوار یعنی منفلت کے مجرور ہوا۔

اب اگر زجاج حرف عطف کی موجودگی کے سبب جر جوار سے انکار کرے تو اس کا قول قابل توجہ نہیں۔ کیونکہ ماہرین لسان اور ائمہ عربیت نے اس کو جائز رکھا ہے، اور قرآن مجید اور بلغاء عرب کے کلام میں اس کی مثالیں موجود ہیں دجاج کا قول دراصل اس کے تتبع اور تحقیق کی خامی کے سبب ہے اسی کے ساتھ یہ ایک طرح کی شہادت پر نفی ہے اور ایسی شہادت معتبر نہیں۔ اس مسئلہ میں اہل سنت نے تطبیق کی ایک دوسری صورت بھی ذکر کی ہے وہ یہ کہ قرأة جر(زیر) کو موزہ پہننے کی حالت پر محمول کرتے ہیں اور قرأۃ نصب (زبر) کو پاؤں میں موزہ نہ ہونے کی صورت پر ۔ لیکن اس صورت میں ہمیں ایک ضمیر ماننے کی مجبوری در پیش ہے جو طبیعت سے کچھ دور ہے۔

صفحہ 1 از 4