دھوکہ نمبر 87 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دھوکہ نمبر 87

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

صفحہ 1 از 7

دھوکہ نمبر 87

ان کے دو علماء جن کو اپنی تاریخ دانی پر بڑا عزہ ہوتا ہے بناوٹی اور جھوٹی حکانیوں کو جنہیں تاریخ کذب صریح کہہ کر ردی میں ڈال دیتی ہے اپنی بڑی معتبر کتابوں میں دھڑلے سے جگہ دیتے ہیں اور کذب و بہتان کی اسی پوٹ سے اپنے اعتقادی مسائل ثابت کرتے ہیں۔

ان حکایات میں بلند درجہ وہ جھوٹی حکایت ہے جو ان کی سیرت نگاروں اور اخبار نویسوں نے گھڑی ہے اور ان کے علماء نے انہیں اخبار نویسوں پر اعتماد کر کے اور حسن ظن سے کام لے کر ہاتھوں ہاتھ لیا ہے اور اس کی تصدیق کی ہے۔

اسی حکایت سے وہ انبیاء الو العزم علیہم السلام پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی افضلیت ثابت کرتے ہیں جو اس مسائل نبوت میں ہیں اور تینوں مذاہب یہودیت نصرانیت اور اسلام کے خلاف ہیں۔

وہ روایت حلیمہ بنت ابی ذویب عبداللہ بن حراث سعدیہ رضی اللہ تعالی عنہما کی ہیں جو آنحضرت ﷺ کی دودھ پلانے والی تھیں۔

یہ ایک وفد کے ہمراہ عراق میں حجاج بن یوسف ثقفی کے پاس پہنچیں تو حجاج نے ان سے کہا حلیمہ اچھا ہوا تم خود ہی آگئیں میں تم کو پکڑ بلوانے والا تھا تاکہ تم سے انتقام لوں وہ بولیں آخر اس خفگی کی وجہ کیا ہے وہ بولا میں نے سنا ہے کہ تو علی کو ابوبکر عمر رضی اللہ عنہم پر فضیلت دیتی ہے یہ سن کر حلیمہ نے سر جھکا لیا اور بڑی دیر بعد سر اٹھا کر کہا سن اے حجاج میں اپنے امام کو خدا کی قسم نہ صرف ابوبکر و عمر ( رضی اللہ عنہم ) پر ترجیح دیتی ہوں کہ ان دونوں کی کیا حیثیت ہے کہ آں جناب کے ساتھ ایک ترازو میں تل سکیں میں تو آپ کو آدم نوح ابراہیم سلیمان موسی اور عیسیٰ علیہم السلام پر فضیلت دیتی ہوں۔

یہ سن کر حجاج اپ گولا ہو گیا اور کہنے لگا کہ میں تو اسی بات پر ناراض تھا کہ تو اس شخص (رضی اللہ عنہ) کو حضور ﷺ کہ دو صحابیوں رضی اللہ عنہما پر ترجیح دیتی ہے اور اب تو نے میرے منہ پر تمام الو العزم پیغمبروں پر ترجیح دے کر اپنے جرم کو اور بھی سنگین اور میرے غصے کو اور بھی بھڑکا دیا ہے اگر تو اپنے اس دعوے سے دستبردار نہ ہوئی تو میں تیرے ٹکڑے کر ڈالوں گا اور تمہیں تماشہ عبرت بنا دوں گا، حلیمہ بولیں آخر تیرا مقصد کیا ہے اگر مجھ پر ظلم ہی توڑنا چاہتا ہے اور نہ حق میرے خون سے ہاتھ رنگنا چاہتا ہے تو یہ سر ہے اور یہ پشت اور اگر مجھ سے اس دعوے کی دلیل سننا چاہتا ہے تو میری بات توجہ سے سن، حجاج کہنے لگا ہاں بتا کس دلیل سے تو آدم علیہ السلام پر علی رضی اللہ عنہ کو فضیلت دیتی ہے حالانکہ آدم کے خمیر کو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ہاتھ سے گوندھا، چالیس دن ان پر رحمت نازل کی پھر ان کے جسم میں اپنی ناس روح پھونکی، ان کو اپنی جنت میں رکھا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ ان کو سجدہ کرو۔

حلیمہ نے کہا اس دلیل سے کہ آدم کے حق میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى‌ۖ (کہ آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی نافرمانی کی پس بہکا) اور سوۃ خسل الخ میں طاعت و بندگی سے علی رضی اللہ عنہ کی تعریف فرمائی اور اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ میں بھی نماز و زکوٰۃ کے حوالے کے ساتھ ان کی مدح سرائی کی پھر عہد آدم علیہ السلام سے اب تک کوئی ایسا نہیں گزرا جس نے عین نماز میں فقیر کو بطورِ صدقہ انگھوٹھی دی ہو (بجز علی رضی اللہ عنہ کے) حجاج بولا تو نے سچ کہا اچھا اب یہ بتا کہ تو نے نوح (علیہ السلام) پر ان کو کس وجہ سے فضیلت دی ؟ حلیمہ نے کہا یہ اس لئے کہ علی رضی اللہ عنہ کی زوجہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نساء عالمین کی سیدہ تھیں جن کا نکاح سدرۃ المنتہٰی کے نیچے جبریل علیہ السلام کی سفارت اور ملائکہ کی شہادت و گواہی سے منعقد ہوا بخلاف زوجہ نوح علیہ السلام کے وہ کافرہ و منافقہ تھیں چنانچہ نص قرآن میں اس کا صاف ذکر ہے حجاج حلیمہ کی اس حاضر جوابی سے بہت متاثر و حیران ہوا اور حلیمہ کی بہت تعریف و ستائش کی۔

اس کے بعد پوچھا کہ اب یہ بتا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر علی (رضی اللہ عنہ) کو کس دلیل سے ترجیح دیتی ہو، وہ بولی کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اللّٰہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کی رَبِّ اَرِنِىۡ كَيۡفَ تُحۡىِ الۡمَوۡتٰى ؕ قَالَ اَوَلَمۡ تُؤۡمِنۡ‌ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰـكِنۡ لِّيَطۡمَئِنَّ قَلۡبِىۡ‌ؕ (میرے رب مجھے دکھا دے کہ آپ مردے کس طرح زندہ کریں گے، اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا ایمان نہیں لایا، کہا کیوں نہیں لیکن صرف اس لئے کہ میرا دل اطمینان حاصل کرلے) بخلاف اس کے علی رضی اللہ عنہ نے بر سر سبز فرمایا لَوۡ كَشَفَ الغِطَاعُ مَا ازۡدَدۡتُ يَقِيۡنًا اگر حجاب کا پردہ اٹھ بھی جائے تو میرے یقین میں اضافہ نہ ہوگا، پھر حلیمہ نے کہا ایک روز حضور ﷺ تشریف فرما تھے اور مؤمنین و منافقین کی جماعتوں نے چاروں طرف سے آپ کے گرد حلقہ کیا ہوا تھا، تب میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا اے جماعت مؤمنین معراج کی رات میرے لئے ایک منبر رکھا گیا جس پر میں بیٹھا پھر میرے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام آئے اور اسی منبر پر مجھ سے ایک درجہ نیچے بیٹھ گئے دوسرے پیغمبران کرام بھی جوق در جوق آئے اور مجھے سلام کرنے لگے تاآنکہ میرے چچا زاد بھائی علی رضی اللہ عنہ کو جنت کی اونٹنی پر سوار کرکے لایا گیا، ان کے ہاتھ میں لوائے حمد اور ان کے چاروں طرف ایسی مخلوق تھی جن کے چہرے چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہے تھے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا یہ جوان کونسا پیغمبر ہے؟ میں نے کہا یہ پیغمبر نہیں بلکہ میرے چچا زاد بھائی علی بن ابی طالب ہیں، پھر پوچھا ان کے اردگرد کون لوگ ہیں؛ میں نے جواب دیا ان کے شیعہ اور محبین ہیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا فرمائی اے اللہ مجھے بھی علی کے شیعوں میں سے کر ، چنانچہ سورۃ صافات کی اس آیت کے یہی معنی ہیں۔

وَاِنَّ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ لَاِبۡرٰهِيۡمَ‌ۘ اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ(البتہ ابراہیم بھی ان کے شیعہ میں سے ہیں جب کہ آیا وہ اپنے رب کے پاس قلب سلیم کے پاس آیا۔)

صفحہ 1 از 7