اہل سنت کے بارے میں رہبر انقلاب ایران خمینی کے افکار - ردِ…

اہل سنت کے بارے میں رہبر انقلاب ایران خمینی کے افکار

  مامون رشید

صفحہ 1 از 6

دور حاضر کے چند خود ساختہ مفکرین اور دعات ”اتحاد امت“ کی دہائی دیتے ہوئے شیعہ سنی تقارب اور وحدت کا راگ آلاپتے رہتے ہیں، اور خمینی کے انقلابِ ایران کو قابل تقلید مثالی اسلامی انقلاب کے طور پر پیش کرتے ہیں، حتیٰ کہ ان میں سے بعضوں نے تو ”الخميني الحل الإسلامي والبديل“ کے نام سے کتابیں بھی لکھ رکھی ہے، ایسی صورت میں اگر کوئی ان کے سامنے رافضیوں کے کفریہ و شرکیہ عقائد و افکار کی بات کرتے ہیں اور سنیوں کے تعلق سے ان کے بغض و عداوت پر مبنی نظریات کا حوالہ دیتے ہیں تو ایسے مفکرین اسے فرقہ پرستی اور مسلکی عصبیت کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں اور یہ باور کراتے ہیں کہ ان کے اسوہ و قدوہ خمینی صاحب سنیوں کے تئیں محبت بھرے جذبات رکھتے ہیں اور تعصب وفرقہ پرستی سے پاک ہیں۔

اس دعوے کی تردید کے لیے سنیوں کے بارے میں خمینی کے چند زہریلے اقوال و افکار پیش ہیں ملاحظہ فرمائیں: 

سب سے پہلے تو یہ واضح کر دوں کہ روافض کے ہاں اپنے علاوہ تمام مسالک کو ”عامۃ“ اور ”نواصب“ کہا جاتا ہے، اس لیے ان کی کتابوں میں جہاں جہاں یہ اصطلاحات استعمال ہوتے ہیں ان سے مراد سنی ہوتے ہیں۔ 

رافضی عالم سيد محسن الأمين عاملى لکھتا ہے:

الخاصة وهذا يطلقه أصحابنا على أنفسهم مقابل العامة الذين يسمون بأهل السنة

ہمارے علماء لفظ خاصہ کا اطلاق خود اپنے اوپر کرتے ہیں عامہ کے مقابلے میں جنہیں اہل سنت کہا جاتا ہے۔ (اعيان الشيعۃ: جلد 1 صفحہ 21) 

رافضی فقیہ ومحدث حسین عصفور بحرانی لکھتا ہے:

بل أخبارهم عليهم السلام تنادي بأن الناصب هو ما يقال له عندهم سنيا ولا كلام في أن المراد بالناصبة فيه هم أهل السنہ 

ائمہ علیہم السلام کی روایات واضح طور پر دلالت کرتی ہیں کہ ناصب سے مراد سنی ہے اور اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ان کے کلام میں موجود لفظ ناصبۃ سے مراد اہل السنہ ہیں۔

(المحاسن النفسانيۃ في اجوبة المسائل الخراسانيۃ: صفحہ 145)

خود خمینی نواصب کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے لکھتا ہے: ”المسلم الناصب هو غير الشيعي"

ناصبی مسلمان وہ مسلمان ہے جو شیعہ مسلمان کے علاوہ ہے۔

(المكاسب المحرمۃ: جلد 2 صفحہ 149)

نیز خمینی نے متعدد مقامات پر اہل السنہ کی روایات ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے ”ومن طريق العامة“ اور شیعہ سنی کے درمیان تفریق کرنے کے لیے بارہا ”العامۃ والخاصۃ“ کی اصطلاح استعمال کیا ہے۔ 

1: خمینی کے نزدیک سنیوں کی مخالفت واجب و لازم بلکہ حق کی علامت اور اختلاف کے وقت وجہ ترجیح ہے، یعنی اگر کسی مسئلہ میں کئی مختلف آراء ہوں یا ائمہ سے ایک سے زائد اقوال منقول ہوں تو ایسی صورت میں وہ رائے اور قول حق اور راجح ہوگا جو اہل السنہ کی مخالفت پر مشتمل ہوگا، چنانچہ خمینی نے لکھا ہے:”إن المرجح في باب التعارض منحصر بموافقة الكتاب ومخالفة العامۃ“

(التعادل والترجيح للخميني: صفحہ 180، 210)

 کہ تعارض کے باب میں ترجیح قرآن کی موافقت اور عوام کی مخالفت میں منحصر ہے۔ 

نیز اپنی کتاب ”التعادل والترجيح“ کے اندر ”البحث الثاني في حال الأخبار الواردة في مخالفۃ العامۃ وهي أيضا طائفتان إحداهما ما وردت في خصوص الخبرين المتعارضين، وثانيتهما ما يظهر منها لزوم مخالفتهم وترك الخبر الموافق لهم مطلقاً“

دوسری بحث: عوام کی مخالفت کے بارے میں وارد اخبار کی حالت کے بیان میں، یہ اخبار دو قسم کے ہیں: 

پہلی قسم: وہ روایات جو خاص طور سے دو متعارض اخبار کے تعلق سے آئی ہوئی ہیں۔

دوسری قسم: ان روایات کی ہے جن سے عوام کی مخالفت کا لازم ہونا اور ان کے موافق خبر کو مطلقاً ترک کر دینا معلوم ہوتا ہے۔) کے عنوان سے ایک مکمل فصل قائم کیا ہے، اور اس کے تحت اپنے ائمہ کی طرف منسوب جھوٹی روایات ذکر کر کے ان سے استدلال کیا ہے، لکھتا ہے:

عن عبد الرحمٰن بن أبي عبد الله: فإن لم تجدوهما في كتاب الله، فأعرضوهما على أخبار العامة، فما وافق أخبارهم فذروه، وما خالف أخبارهم فخذوه

 جعفر صادق کے شاگرد عبدالرحمٰن بن ابی عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ: اگر تم دو باہم متعارض اقوال کو کتاب اللہ کے اندر نہ پاؤ تو انہیں عوام کی روایات پر پیش کرو! چنانچہ جو قول ان کی روایات کے موافق ہو اسے ترک کر دو اور جو ان کی روایات کے مخالف ہو اسے قبول کر لو۔ 

حسن بن السری سے روایت ہے کہتا ہے ابو عبداللہ (جعفر صادق) نے فرمایا:جب تمہارے سامنے دو باہم مختلف حدیثیں ہوں تو اس حدیث کو لے لو جو لوگوں (سنیوں) کے مخالف ہو۔

حسن بن جہم سے روایت ہے، کہتا ہے کہ میں نے عبد صالح (موسیٰ کاظم) سے سوال کیا کہ آپ کی جو باتیں ہم تک پہنچی ہیں کیا ان کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے علاوہ ہمارے لیے اور کوئی گنجائش ہے؟ تو آپ نے فرمایا: نہیں اللہ کی قسم تمہارے لیے قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے تو میں نے کہا کہ ابو عبداللہ (جعفر صادق) علیہ السلام سے ایک بات روایت کی جاتی ہے اور انہی سے اس کے خلاف بھی روایت کی جاتی ہے تو ہم ان دونوں میں سے کس بات کو قبول کریں؟ تو آپ نے فرمایا جو لوگوں (سنیوں) کے مخالف ہو اسے قبول کرو اور جو ان کے موافق ہو اس سے اجتناب کرو! 

محمد بن عبد اللہ سے روایت ہے کہتا ہے میں نے (امام علی) رضا علیہ السلام سے کہا: کہ دو باہم مختلف روایات کے تعلق سے ہمارا تعامل کیسا ہو؟ تو آپ نے فرمایا: جب تمہارے سامنے دو باہم مختلف روایات ہوں تو دیکھو کہ ان میں سے کونسی روایت عوام کے خلاف ہے پس جو ان کے مخالف ہو اسے قبول کر لو اور جو ان کی روایات کے موافق ہو اسے چھوڑ دو!

یہ اور اس طرح کی چند روایات ذکر کرنے کے بعد خمینی لکھتا ہے:یہ اخبار اس بات کی بالکل ظاہر اور روشن دلیل ہے کہ عوام (سنیوں) کی مخالفت باہم متعارض روایات میں سے ایک کے لیے وجہ ترجیح ہے۔

بلکہ یہی مرجح فقہ کے تمام ابواب میں اور فقہاء کی زبانوں پر عام متد اول اور مشہور ہے۔

(التعادل والترجيح للخميني: صفحہ 191- 194) 

اس کے بعد خمینی نے ہر باب میں سنیوں کی مطلق مخالفت کے وجوب و لزوم پر دلالت کرنے والی روایات کو نقل کیا ہے لکھتا ہے: 

صفحہ 1 از 6