مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 7

مقدمہ

اِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَنَسْتَعِیْنُہٗ وَنَسْتَغْفِرُہٗ، وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئَاتِ اَعْمَالِنَا، مَنْ یَّہْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہٗ، وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَا ہَادِیَ لَہٗ، وَاَشْہَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ
(سورۃ آل عمران: آیت، 102)
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّـهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا (سورۃ النساء: آیت، 1)
يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا (سورۃ الأحزاب: آیت، 71)
اما بعد!،
ترجمہ: الہٰی تیرے ہی لیے حمد و ثنا ہے، جیسا کہ تیرے جلال و عظمت کے شایان شان ہے۔ تیرے ہی لیے حمد و ثنا ہے، یہاں تک کہ تو خوش ہو جائے اور تیرے خوش اور راضی ہونے کے بعد بھی ہم تیری حمد و ثناء میں لگے رہیں گے۔
عہد طفولیت ہی سے مجھے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سیرت کے ساتھ شغف تھا۔ آپ کی دلکش عطر بیز سیرت کو پڑھنے اور سننے کا مجھے بڑا شوق تھا۔ اسی کیفیت میں شب و روز گزرتے رہے اور وہ سنہری موقع آیا ہے جب اللہ تعالیٰ نے مجھے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں تعلیم حاصل کرنے کا شرف بخشا، جامعہ میں تاریخ اسلامی کے تحت خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی تاریخ مقرر تھی، استاد نے اس سلسلہ میں شیخ محمود شاکر کی التاریخ الاسلامی پر اکتفاء نہ کرتے ہوئے علامہ ابنِ کثیر رحمۃ اللہ کی البدایہ والنہایہ اور ابنِ اثیر کی الکامل کے مطالعہ کا مطالبہ کیا، اللہ رب العالمین کی توفیق کے بعد استاد کی اس رہنمائی کا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شخصیت اور آپ کے دور کی حقیقت کو سمجھنے میں بڑا موثر رول رہا۔
اور جب میں نے جامعہ اسلامیہ ام درمان میں دکتورہ کے لیے تسجیل کرائی تو مقالہ کا عنوان تھا: ’’فقہ التمکین فی القرآن الکریم واثرہ فی تاریخ الامۃ‘‘ اور یہ مقالہ تین ابواب پر مشتمل قرار پایا: فقہ التمکین فی القرآن الکریم، فقہ التمکین فی السیرۃ النبویۃ، فقہ التمکین عند الخلفاء الراشدینؓ، اور یہ 1200 صفحات سے متجاوز ہو گیا۔ جس کی وجہ سے مشرف کی رائے یہ ہوئی کہ اس سلسلہ میں ’’فقہ التمکین فی القرآن الکریم‘‘ پر اکتفاء کیا جائے اور اسی اساس پر اس کے اندر تعدیل کر دی اور یہ رائے کمیٹی کے سامنے پیش کر کے موافقت لے لی اور مناقشہ کے بعد مجھ سے کہا: اب تم ’’فقہ التمکین فی السیرۃ النبویۃ‘‘ اور ’’فقہ التمکین عند الخلفاء الراشدینؓ‘‘ کو کتابی شکل میں شائع کر سکتے ہو تاکہ اہلِ اسلام اس سے مستفید ہوں۔ اللہ کی توفیق اور جو اسباب اس نے ہمارے لیے مہیا کیے اس کی وجہ سے ’’فقہ التمکین فی السیرۃ النبویۃ‘‘ میں تطور آیا، اور وہ ’’السیرۃ النبویۃ عرض و تحلیل‘‘ کی شکل اختیار کر گئی۔
یہ کتاب ’’ابوبکر الصدیقؓ شخصیتہ وعصرہ‘‘ جس کا اس وقت میں مقدمہ تحریر کر رہا ہوں، اس کی تالیف اللہ کے فضل و کرم کا نتیجہ ہے اور پھر اس کا سہرا مشرف محترم اور ان علماء و شیوخ اور دعاۃ کے سر ہے جنہوں نے اس سلسلہ میں ہماری ہمت افزائی کی، ان میں سے ایک کرم فرما نے مجھ سے کہا: مسلمانوں کی نسل جدید اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے دور کے درمیان بڑا بعد پیدا ہو گیا ہے، اولویات کی ترتیب میں بڑی گڑبڑی رونما ہو گئی ہے، دورِ حاضر کے نوجوان، علماء و مصلحین کی سیرتوں کے ساتھ خلفائے راشدینؓ کی سیرتوں کی بہ نسبت زیادہ لگاؤ رکھتے ہیں، حالانکہ خلفائے راشدینؓ کا دور سیاسی، نشریاتی، اخلاقی، اقتصادی، فکری، جہادی، فقہی جوانب سے بھرپور ہے، جن کی آج ہمیں شدید ضرورت ہے۔ آج ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم اسلامی سلطنت کے مختلف اداروں کا تتبع کریں اور دیکھیں کہ زمانے کے ساتھ ان میں کس طرح تطور آیا، جیسے فضائی، مالی، نظام خلافت، عسکری اور ولاۃ کی تعیین کے مختلف ادارے اور جب امت اسلامیہ کا فارسی اور رومی تہذیب و تمدن سے پالا پڑا تو اس دور میں کیا اجتہادات رونما ہوئے اور اسلامی فتوحات کی طبعی حالت کیسی رہی۔
اس کتاب کا آغاز غور و فکر سے ہوا جس کو اللہ تعالیٰ نے حقیقت میں تبدیل کرنا چاہا، اللہ نے مجھے توفیق بخشی اور اس سے متعلق تمام امور آسان کر دیئے، دشواریوں اور مشکلات کو دور کر دیا، مراجع اور حوالہ جات کو مہیا کر دیا اور میرے ذہن و دماغ پر اس مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا بھوت سوار ہو گیا اور میں نے اس کو اپنا سب سے بڑا ہدف بنا لیا، اس کے لیے شب بیداری شروع کر دی، مشکلات و پریشانیوں کی چنداں فکر نہ کی اور اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی کرم رہا کہ اس نے اس سلسلہ میں میری مدد فرمائی۔
بقول شاعر:
اَلْہَولُ فِی دَرْبِی وَفِیْ ہَدَفِی
وَأَظَلُّ أَمْضِیْ غَیْرَ مُضْطَرِبِ
’’میری راہ اور مقصد کے سامنے خوف حائل ہوا لیکن میں کسی اضطراب کے بغیر اپنے مشن میں لگا رہا۔‘‘
مَا کنتُ من نَفْسِی علی خَورٍ
أو کنتُ من ربِّی علی رَیْبِ
’’میں اپنے نفس کے سلسلہ میں پستی کا شکار نہ ہوا اور نہ اپنے رب سے ناامید ہو کر شک کا شکار ہوا۔ ‘‘
ما فی المنایا ما اُحاذِرُہٗ
اللہُ مِل ئُ القصد والارب
’’موت سے مجھے کوئی خوف نہیں، اللہ تعالیٰ مقصد و ضرورت کو پورا کرنے والا ہے۔‘‘
صفحہ 1 از 7