مقدمہ
علی محمد الصلابیاِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَنَسْتَعِیْنُہٗ وَنَسْتَغْفِرُہٗ، وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئَاتِ اَعْمَالِنَا، مَنْ یَّہْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہٗ، وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَا ہَادِیَ لَہٗ، وَاَشْہَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡـتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ۞
( سورۃ آل عمران آیت 102)
يٰۤـاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّكُمُ الَّذِىۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا وَبَثَّ مِنۡهُمَا رِجَالًا كَثِيۡرًا وَّنِسَآءً وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِىۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِهٖ وَالۡاَرۡحَامَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيۡكُمۡ رَقِيۡبًا ۞
( سورۃ النساء آیت 1)
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَقُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِيۡدًا۞ يُّصۡلِحۡ لَـكُمۡ اَعۡمَالَـكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَـكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَقَدۡ فَازَ فَوۡزًا عَظِيۡمًا ۞
(سورۃ الأحزاب آیت 70، 71)
یا رب لک الحمد کما ینبغی لجلال وجہک و عظیم سلطانک وبک الحمد حتی ترضی، و لک الحمد إذا رضیت، ولک الحمد بعد الرضا۔
اما بعد!
یہ کتاب عہد نبوت و خلافت راشدہ کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس سلسلے میں درج ذیل کتابیں شائع ہوچکی ہیں:
1۔ السیرۃ النبویۃ، عرض وقائع و تحلیل أحداث
2۔ سیرۃ أبی بکر الصدیق رضی اللّٰه عنہ
3۔ سیرۃ أمیر المومنین عمر بن الخطاب رضی اللّٰه عنہ
4۔ سیرۃ أمیر المومنین عثمان بن عفان رضی اللّٰه عنہ
5۔ سیرۃ أمیر المومنین علی بن أبی طالب رضی اللّٰه عنہ
میں نے اس کتاب کا نام ’’خامس الخلفاء الراشدین أمیر المومنین الحسن بن علی بن ابی طالب، شخصیتہ و عصرہ‘‘ رکھا ہے۔ یہ کتاب امیر المؤمنین سیدنا حسن کی ولادت سے شہادت تک کو موضوع بحث بناتی ہے۔ کتاب کی ابتداء درج ذیل موضوعات سے ہوتی ہے:
نام و نسب
کنیت و لقب اور صفت
منجانب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسنؓ کا نام رکھا جانا، اور کانوں میں اذان دینا، سر مونڈا جانا، عقیقہ آپؓ کو دودھ پلانے والی أم الفضل رضی اللہ عنہا۔
سیدنا حسنؓ کی شادی، آپؓ کی بیویاں، اس سے متعلق روایتیں، اور ان روایتوں کا حقیقت پسندانہ جائزہ جن میں آیا ہے کہ آپؓ بہت زیادہ شادی کرنے والے اور طلاق دینے والے تھے۔
اسی طرح کتاب درج ذیل موضوعات سے بحث کرتی ہے:
سیدنا حسنؓ کی اولاد، بھائی، بہنیں، چچا، پھوپھیاں، ماموں، خالائیں
سیدنا حسنؓ کی والدہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، ان کی مہر، جہیز، رخصتی، شادی کی دعوت، طرز زندگی، زہد و صبر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سے محبت، ان کی سچائی اور دنیا و آخرت میں ان کی سرداری۔
نیز درج ذیل امور کتاب کے مشتملات میں سے ہیں:
سیدہ فاطمہ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے مابین علاقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات
اسی طرح کتاب میں بالتفصیل ان امور کو ذکر کیا ہے:
اپنے نانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا مقام و مرتبہ
سیدنا حسنؓ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و شفقت اور لاڈ پیار
بچوں کے ساتھ حسن سلوک کے سلسلے میں طریقۂ نبوی سے ماخوذ سبق آموز پہلو جیسے ان کو بوسہ دینا، ان کے ساتھ رحمت و شفقت سے پیش آنا، ان سے لاڈ پیار کرنا، انھیں ہدیہ و تحفہ دینا، ان سے اچھی طرح ملنا، ان کے حالات سے آگاہی حاصل کرنا، ان کے ساتھ کھیلنا۔
کتاب نے درج ذیل امور پر بھی گفتگو کی ہے:
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت والی حدیثیں۔
سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا جنتیوں کا سردار ہونا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ’’ہما ریحانتای من الدنیا‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کے سامنے اس بات کا اعلان کہ حضرت حسن سید ہیں، اور اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے مابین صلح کرائے گا۔
میں نے اس کتاب میں درج ذیل چیزوں کو ذکر کیا ہے:
وہ حدیثیں جن کو سیدنا حسنؓ نے اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصف
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے فضائل، جیسے آیت تطہیر، حدیث کساء
آیت تطہیر کے سلسلے میں اہل سنت و شیعہ کے مابین اختلاف کی بنیاد
خیر القرون اور انھی کی راہ پر چلنے والے علما کے منہج پر آیت کی صحیح تفسیر
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے آیت مباہلہ اور نصاریٰ نجران کے وفد کا تعلق
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما پر خاندانی تربیت کا اثر
سیدنا حسنؓ کی تربیت پر معاشرتی احوال کا اثر
اسی طرح میں نے اس کتاب میں درج ذیل امور پر بحث کی ہے:
عہد صدیقؓ میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا مقام و مرتبہ
عہد صدیقؓ میں رونما ہونے والے اہم واقعات جو سیدنا حسنؓ کی تہذیب و ثقافت میں موثر رہے، اور آپ نے ان سے کیا کچھ سیکھا۔
اسی طرح حضرت عمر و عثمان و علی رضی اللہ عنہم کے عہدوں میں نظام حکومت اور دیگر اسلامی امور میں حضرت حسن کا خلفائے راشدینؓ کی فقہ کا احاطہ
سیدنا حسنؓ کا خلفائے راشدینؓ سے گہرا تعلق
میں نے کتاب میں درج ذیل امور کو ذکر کیا ہے:
معرکۂ جمل و صفین اور ان سے متعلق سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا مؤقف
امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی شہادت، سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے لیے آپؓ کی وصیت
امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کا اپنے قاتل کے مثلہ کرنے سے روکنا
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا اپنے والد کی شہادت کے بعد خطبہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قتل کی خبر پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ردعمل۔
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت، بیعت میں آپ کی شرط۔
سیدنا حسنؓ کی خلافت سے متعلق نصوص کا بطلان
سیدنا حسنؓ کو امت نے معروف شورائی نظام کے مطابق منتخب کیا۔
امیر المؤمنین حسن رضی اللہ عنہ کی مدت خلافت
سیدنا حسنؓکی خلافت سے متعلق اہل سنت کا عقیدہ
آپ کی خلافت حقیقت میں خلافت راشدہ تھی۔ آپ کی مدت حکومت خلافت راشدہ کی مدت کا تتمہ تھی اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ خلافت راشدہ تیس سال رہے گی پھر بادشاہت ہو جائے گی، جیسا کہ امام ترمذیؒ نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَلْخَلَافَۃُ فِیْ أُمَّتِیْ ثَـلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ مُلکٌ بَعْدَ ذٰلِکَ۔
(سنن الترمذی مع شرحہا: تحفۃ الاحوذی: جلد 6 صفحہ 395، 397) حدیث حسن ہے۔)
’’میری امت میں خلافت تیس سال رہے گی پھر اس کے بعد بادشاہت ہوگی۔‘‘
ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس حدیث پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا:
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت پر تیس سال پورے ہوجاتے ہیں، سیدنا حسنؓ ربیع الاول 41ھ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت سے دست بردار ہوتے ہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے لے کر اس وقت تک پورے تیس سال ہوتے ہیں، سیدنا حسنؓ کی وفات ربیع الاول 11ھ میں ہوئی تھی، اس طرح کی پیشین گوئی نبوت کی واضح دلیل ہے۔‘‘
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 134)
اس طرح سیدنا حسن رضی اللہ عنہ پانچویں خلیفہ راشد ہیں۔
(مأثر الأنافۃ: جلد ض صفحہ 105، مرویات خلافۃ: معاویۃ خالد الغیث: صفحہ 155)
امام احمدؓ نے حدیث سفینہ کو ان الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے:
اَلْخَلَافَۃُ ثَـلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ یَکُوْنُ بَعْدَ ذٰلِکَ الْمُلْکُ۔
( فضائل الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 745اس کی اسناد حسن ہے۔)
’’خلافت تیس سال رہے گی، پھر اس کے بعد بادشاہت ہوگی۔
امام ابو داؤدؒ نے ان الفاظ میں روایت کی ہے:
خِلَافَۃُ النُّبُوَّۃِ ثَـلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ یُؤتِی اللّٰہُ الْمُلْکَ مَنْ یَّشَائُ أَوْ مُلْکَہُ مَنْ یَّشَائُ۔
(صحیح سنن: ابی داؤد: جلد 3 صفحہ 779، سنن ابی داؤد: جلد 2 صفحہ 515)
’’خلافت نبویہ تیس سال ہوگی پھر اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا بادشاہت عطا کرے گا یا جسے چاہے گا اسے اس کا مالک بنا دے گا۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تیس سالوں میں صرف خلفائے اربعہؓ اور سیدنا حسنؓ کی مدت پوری ہوتی ہے، اور بہت سارے اہل علم مذکورہ حدیث کی شرح کرتے ہوئے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی مدت خلافت کے چند مہینے خلافت راشدہ میں شامل ہیں اور اس کو مکمل کرنے والے ہیں۔
اس سلسلے میں بعض اہل علم کے اقوال درج ذیل ہیں:
1۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’تیس سالوں سے مراد چاروں خلفاء کی مدت خلافت اور وہ چند مہینے ہیں جن میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر بیعت کی گئی تھی، اور حدیث کے اس ٹکڑے میں الخلافۃ ثلاثون سنۃ خلافت سے مراد خلافت نبوت ہے، جیسا کہ دوسری روایت میں اس کی صراحت آتی ہے:
خِلَافَۃُ النُّبُوَّۃِ بَعْدِیْ ثَـلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا۔
(شرح النووی علی: صحیح مسلم: جلد 12 صفحہ 201)
’’خلافت نبوت میرے بعد تیس سال ہوگی پھر بادشاہت ہوگی۔‘‘
2۔ شرح الطحاویہ میں ابوالعز حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت دو سال تین مہینہ رہی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت ساڑھے دس سال رہی، سیدٹ عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت بارہ سال رہی، سیدنا علی کی خلافت چار سال نو مہینے رہی اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت چھ مہینے رہی۔‘‘
(شرح الطحاویۃ: صفحہ 545)
3۔ ابن کثیر رحمہ اللہ کا قول ہے:
سیدنا حسنؓ کے خلفائے راشدینؓ میں سے ہونے کی دلیل وہ حدیث ہے جس کو میں نے ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مولیٰ سفینہ کے طریق سے نقل کیا ہے: ’’اَلْخِلَافَۃُ بَعْدِیْ ثَـلَاثُوْنَ سَنَۃ‘‘ (خلافت میرے بعد تیس سال ہوگی) اور تیس سال سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت پر پورے ہوتے ہیں۔‘‘
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 1 صفحہ 134)
4۔ ابن حجر ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے:
’’آپ اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق آخری خلیفہ راشدؓ ہیں، سیدنا حسنؓ اپنے والد کے بعد اہل کوفہ کی بیعت سے خلیفہ ہوئے، اور چھ مہینہ چند دن اس حدیث کے مطابق خلیفۂ برحق اور سچے اور عادل امام رہے جس میں سیدنا حسنؓ کے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اَلْخِلَافَۃُ بَعْدِیْ ثَـلَاثُوْنَ سَنَۃً ‘‘
(الصواعق المحرقۃ علی أہل الرفض والضلال والزندقۃ: جلد 2 صفحہ 397)
(خلافت میرے بعد تیس سال ہوگی) اور وہ چھ مہینے تیس سال کا تکملہ ہیں۔ ‘‘
(عقیدۃ أہل السنۃ فی الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 748)
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے خلفائے راشدینؓ میں سے ہونے کے سلسلے میں یہ بعض اہل علم کے اقوال ہیں، چنانچہ اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت برحق تھی، اور وہ اس خلافت نبوت کا تکملہ تھی جس کے بارے میں آپ نے خبر دی ہے کہ اس کی مدت تیس سال ہوگی۔
(عقیدۃ أہل السنۃ فی الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 748)
اس کتاب میں میں نے بیان کا ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی جانب کچھ خطبے منسوب ہیں جو درست نہیں ہیں، اور بعض کتابوں کے بارے میں اہل علم کے اقوال کو ذکر کیا ہے، مثال کے طور پر ابوالفرج اصفہانی کی کتاب ’’الأغانی‘‘
اس کتاب کا شمار ان کتابوں میں ہے جنھوں نے اسلام کے ابتدائی دور کی تاریخ کو مسخ کرکے رکھ دیا ہے، یہ کتاب ادب، قصے کہانیوں، گانوں اور بے حیائی کی باتوں پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کا علم و تاریخ اور فقہ سے کوئی تعلق نہیں، اہل ادب و تاریخ کے نزدیک اس کی گونج رہی ہے۔
اصفہانی کے غیر ثقہ، ضعیف اور نقل میں متہم ہونے کے سلسلے میں اہل علم کے اقوال کو ذکر کیا ہے اور واضح دلیلوں سے ثابت کیا ہے کہ یہ کتاب علم و ادب اور تاریخ میں کسی طرح مرجع نہیں بن سکتی، ہماری تاریخ کے بگاڑنے میں اس کتاب کا بڑا رول رہا ہے، اس لیے اس سے دور رہنا لازم و ضروری ہے۔ عہد صحابہؓ کی تاریخ کو بگاڑنے والی بہت ساری کتابیں ہیں اکثر کی سند اور متن غیر قابل قبول ہے، اس لیے کہ تبع تابعین کے عہد کے بعد ان کی تصنیف ہوئی ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق گفتگو کے سلسلے میں ان کتابوں سے بچنا ضروری ہے، جو ان سے استفادہ کرنا چاہے اس پر لازم ہے کہ ان میں وارد اعتقادی مسائل، شرعی احکام اور صحابہ کرامؓ سے متعلق باتوں کو قرآن و حدیث سے توثیق کرے، ان میں سے جو قرآن و صحیح احادیث کے موافق ہوں ان کے ذکر کرنے میں کوئی حرج نہیں اور جو مخالف ہوں ان کو قطعاً نہ ذکر کیا جائے۔
’’الأغانی‘‘ اور اس طرح کی دوسری کتابوں پر سنجیدہ تاریخی بحث میں کوئی ایسا شخص اعتماد نہیں کرسکتا جو علمی حقائق، موضوعیت اور غیر جانب داری کو پسند کرتا ہے۔
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی اہم صفات اور ان کی معاشرتی زندگی کو ذکر کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ آپؓ نرالی قائدانہ شخصیت کے مالک تھے، آپؓ کے اندر ربانی قائد کے اوصاف موجود تھے، آپؓ دور بینی، حالات پر گہری نظر، جمہور کی قیادت کی صلاحیت، مقررہ منصوبوں کی تنفیذ کے لیے عزم مصمم جیسے اوصاف سے متصف تھے، ’’آپؓ کا عظیم اصلاحی منصوبہ‘‘ اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے ان اوصاف اور ان جیسے دوسرے اوصاف کو ذکر کیا ہے، جیسے:
کتاب و سنت کا علم
خشوع و خضوع سے بھر پور عبادت
حکومت و دنیاوی امور سے بے رغبتی
ہر قریب اور دور، چھوٹے اور بڑے، مالدار اور غریب پر دل کھول کر خرچ کرنا، چنانچہ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنا، دینا، مہمان نوازی کرنا، سخاوت سے کام لینا، آپ کے فطری اوصاف تھے۔
اسیدنا حسنؓ ہی کے بارے میں شاعر نے کہا ہے:
إنی لتُطربنی الخلال کریمۃ
طرب الغریب بأوبۃ و تلاق
’’ گھر لوٹنے اور اہل و عیال سے ملاقات پر غریب الدیار کی خوشی کی طرح سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی عمدہ خصلتیں مجھے خوش کر رہی ہیں۔‘‘
و یہزُّنی ذکرُ المروئَ ۃ والندی
بین الشمائل ہِزۃَ المشتاق
’’آپؓ کی مروت و سخاوت جیسی عادتوں کے تذکرے پر میں عاشق کے مانند جھومنے لگتا ہوں۔‘‘
فاذا رُزِقتَ خلیفۃ محمودۃ
فقد اصطفاک مقسم الأرزاق
فالناس ہذا حظہ مال، و ذا
علم و ذاک مکارم الأخلاق
’’لوگوں کے نصیبے مختلف ہوئے ہیں، کچھ کے نصیبہ میں مال، کچھ کے نصیبہ میں علم، اور کچھ کے نصیبہ میں اچھے اخلاق ہوتے ہیں۔‘‘
آپ کے درج ذیل صفات پر بھی گفتگو کی ہے:
آپ کی بردباری
آپ کی خاکساری و تواضع
آپ کی سرداری و سیادت
سیادت کے مفہوم کو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سیرت کی روشنی میں واضح کیا ہے، اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ سیادت ظلم و زیادتی، خونریزی، اور دوسروں کی عزت و دولت کو برباد کرکے نہیں حاصل ہوتی، بلکہ سیادت اس کے اصولوں کی رعایت، بغض و حسد اور دشمنی کے ازالے سے حاصل ہوتی ہے، چنانچہ آپؓ کی مصالحت اور مسلمانوں کے خون کی حفاظت نے آپؓ کو سیادت کے اعلیٰ مقام پر پہنچا دیا۔
میں نے کتاب میں درج ذیل موضوعات پر بھی بحث کی ہے:
سیدنا حسنؓ کی اجتماعی زندگی
سیدنا حسنؓ کی جانب سے باطل عقائد کی تردید
لوگوں کی ضرورتوں کا خیال رکھنا
نبوی حسب و نسب پر اسیدنا حسنؓ کی غیرت
آپؓ کو تکلیف پہنچانے والے کے ساتھ آپؓ کا تعامل
لوگوں کے ساتھ آپؓ کا حسن خلق
بے ہودہ باتوں سے آپؓ کا اجتناب
اسلامی معاشرے کے بڑے لوگوں کی جانب سے آپؓ کی تعریف
سیدنا حسنؓ کے بہت سارے اقوال، خطبے اور مواعظ نیز ہم ان سے اپنی موجودہ زندگی میں کس طرح استفادہ کرسکتے ہیں۔
سیدنا حسنؓ کے اردگرد رہنے والی شخصیتوں کے لیے ایک بحث خاص کردی ہے، ان میں سے قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہیں، وہ سیدنا حسنؓ کے ہاتھوں پر پہلے بیعت کرنے والے ہیں۔ وہ اپنے زمانے کے دور اندیش لوگوں میں سے اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی فوج کے اہم ترین سپہ سالاروں میں سے ہیں۔
ان میں سے عبید اللہ بن عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما ہیں، وہ سیدنا حسنؓ کی فوج کی سپہ سالاروں میں سے اور سیدنا حسنؓ کے والد کے گورنروں میں سے ہیں، تاریخ کی بعض کتابوں نے جھوٹ اور بہتان تراشی کے ذریعے سیدنا حسنؓ کے کردار کو مشکوک کیا، اس لیے میں نے آپؓ کی شخصیت کو منتخب کرکے آپؓ کے مواقف کی حقیقت کو واضح کیا ہے۔
انھی شخصیات میں سے عبداللہ بن جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ ہیں، وہ آپؓ کے مستشار تھے، چنانچہ آپؓ نے انھیں سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مصالحت کے سلسلے میں مشورہ کیا تھا، اور انھوں نے سیدنا حسنؓ کی اس سلسلے میں ہمت افزائی کی تھی، ان شخصیتوں کی سیرت کے توسط سے اس زمانے کے صحیح احوال کی آگاہی حاصل کرسکتے ہیں۔
میں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی مصالحت کا خصوصیت سے ذکر کیا ہے، اور اس کو ایک عظیم اصلاحی منصوبہ قرار دیا ہے، اسی لیے میں نے ذکر کیا ہے کہ آپؓ نے وہ منصوبہ کس طرح بنایا اور کس طرح اس کو نافذ کیا، مصالحت سے متعلق درج ذیل امور کو ذکر کیا ہے:
مصالحت کے مختلف مراحل
ہر مرحلے میں کیا پیش آیا؟
مصالحت کے اہم اسباب، جیسے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی جانب سے آخرت کی ترجیح، مسلمانوں کے خون کی حفاظت، اتحاد امت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اثبات وغیرہ جیسے اسباب۔
سیدنا حسنؓ کے ان اقوال کی توضیح جو مصالحت کے اسباب میں سے تھے، اور مقاصد شریعت سے متعلق آپ کی گہرائی و گیرائی کا پتہ دیتے ہیں۔
اسیدنا حسنؓ کے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین مصالحت کے شرائط اور اس کے نتائج۔
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت سے دست بردار ہوجانا، سیدنا حسنؓ کا ایک قوت سے بھرپور اقدام تھا نہ کہ کوئی اور چیز جیسا کہ بعض مورخین کا خیال ہے۔
زندگی کے مختلف تصرفات و مواقف کے توسط سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی عظمت کا ظہور، ان اہم تصرفات میں سے عظیم اصلاحی منصوبہ کی پلاننگ اور اس کی تنفیذ پر بے مثال قدرت، بہت سارے لوگ اصلاحی منصوبے اور نظریات رکھتے ہیں، لیکن انھیں لوگوں کے سامنے پیش کرنے اور ان کی تنفیذ سے قاصر رہتے ہیں۔
میں نے اس کتاب میں تاریخ کی بعض جھوٹی روایتوں کا پردہ فاش کیا ہے، بطور مثال بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ اموی حکومت نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد میں تمام منبروں کے لیے یہ تعمیم جاری کردی تھی کہ وہاں سے امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا جائے، چنانچہ میں نے صحیح دلائل و براہین سے اس بہتان کا قلع قمع کیا ہے۔ مؤرخین نے بلا بحث و تمحیص، اور نقد و تحلیل کے اس چیز کو تسلیم کرلیا اور متاخرین کے نزدیک یہ چیز ان مسلمات میں سے ہوگئی جن میں مناقشہ کی گنجائش نہیں رہتی، یہ ایسا دعویٰ ہے جسے صحت نقل کی ضرورت ہے، اور جس کی سند کو جرح اور متن کو اعتراض سے خالی رہنا چاہے، محققین کے نزدیک اس طرح کے دعوؤں میں کتنا وزن ہے ظاہر و باہر ہے۔ صحیح تاریخ تو یہ ثابت کرتی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دل میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور آپؓ کے اہل بیت کا بڑا احترام تھا، اسی طرح تاریخ کی بعض کتابوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے یزید پر تہمت لگائی ہے کہ انھوں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دیا تھا، تو میں نے اس کی بھی حقیقت کو واشگاف کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ سند اور متن دونوں اعتبار سے ثابت نہیں ہے۔
اسی طرح سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے مدینہ میں قیام کرنے، امت کے اتحاد کے امام اور محور اور بلا مقابل وحدت امت کے قائد ہونے کا تذکرہ کیا ہے۔ شاعر کا قول ہے:
فی روض فاطمۃ فما غصنان لم
ینجبہما فی النَّیِّران سواہا
’’ بطن فاطمہ رضی اللہ عنہا ہی سے دونوں نونہالوں نے جنم لیا۔‘‘
فأمیر قافلۃ الجہاد و قطب دائرۃ
الوئام و الاتحاد ابناہا
’’چنانچہ ان کے دونوں بیٹے مجاہدین کے قافلہ سالار اور اتحاد واتفاق کے محور ہیں۔‘‘
حسن الذی صان الجماعۃ بعد ما
أمس تفرقہا
یحلُّ عراہا
’’امت کا شیرازہ بکھر رہا تھا تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ہی ہیں جنھوں نے اسے بچایا۔‘‘
ترک الإمامۃ ثم أصبح فی الدیار
إمام ألفتہا و حسن عُلاہا
’’زمام حکومت کو چھوڑ دیا تو امت کے اتفاق و اتحاد اور سربلندی کے امام ہوگئے۔‘‘
کتاب میں درج ذیل موضوعات پر بھی بحث کی ہے:
مصالحت کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے تعلق
سیدنا حسنؓ کے آخری ایام اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے لیے آپ کی وصیت
اللہ کی کائنات میں سیدنا حسنؓ کا غور و فکر کرنا۔
اپنے نفس کا محاسبہ، پھر سیدنا حسنؓ کی شہادت اور مدینہ کی قبرستان بقیع میں سیدنا حسنؓ کی تدفین
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سیرت یہ بتاتی ہے کہ قائد کے مستقبل کی پلاننگ کی کیا اہمیت ہوتی ہے؟ اسی کی روشنی میں اللہ کے سہارے وہ آگے بڑھتا ہے، چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اصلاحی پلاننگ اور منصوبے کے مالک اور اس کی تنفیذ پر قادر تھے، اور اس سلسلے کے تمام مراحل، اسباب، شروط، نتائج، رکاوٹیں، ان رکاوٹوں سے نپٹنے کے طریقے سیدنا حسنؓ کے لیے واضح تھے۔ آپؓ نے اختلافات سے نپٹنے، مصالح و مفاسد، مقاصد شریعت، معاملات کو حل کرنے کے لیے باہمی بات چیت، اللہ کی رضا کے لیے خواہشات نفس اور اس کی خامیوں پر قابو پانے سے متعلق بہت واضح نقوش چھوڑتے ہیں، چنانچہ عالم اسلام کے حکمران خاندان، متحرک سیاسی پارٹیاں، موجود ادارے، اسلامی تحریکات، بامقصد جمعیات کو شدید ضرورت ہے اس بات کی کہ وہ اختلافات کو ختم کرنے، اتفاق واتحاد، خونریزی سے بچاؤ، اور سب کو اکٹھا کرنے سے متعلق سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے تفقہ اور طریقۂ کار کو سمجھیں۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ خلیفۂ راشد ہیں، ان کی اقتداء او ران کے تفقہ کی اہمیت کی جانب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری رہنمائی اپنے اس قول سے کی ہے:
عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْنَ مِنْ بَعْدِيْ۔
(سنن ابی داود: جلد 4 صفحہ 201، سنن الترمذی: جلد 5 صفحہ 44 حسن صحیح)
’’تم میرے طریقۂ کار کو اور میرے بعد ہدایت یافتہ خلفائے راشدینؓ کے طریقۂ کار کو لازم پکڑو۔‘‘
بلاشبہ حقیقت کا متلاشی اس بات پر بہت تعجب کرے گا کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا تفقہ اور ان کا طریقۂ کار امت کے حافظے سے بہت حد تک اوجھل رہا۔ اسی طرح اس با ت پر بھی حیرت کرے گا کہ ہماری تہذیب و ثقافت میں آپ کے تفقہ اور عظیم اصلاحی منصوبے کا کوئی خاص اثر نہیں رہا۔ قوموں کے عروج کے اہم اسباب میں سے ہے کہ حاضر کو سدھارنے کے لیے ماضی سے آگاہ رہا جائے اور مستقبل پر نگاہ رکھی جائے۔
بلاشبہ تاریخ امت کا حافظہ، اس کے تجربات، علوم و معارف، اصول و مبادی اور کارناموں کا خزینہ ہوتی ہے، اس کے ماضی اور حال کے تشخص کی بنیاد ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی گہرائیاں ابھی تک لوگوں کے سامنے واضح نہیں ہوسکی ہیں۔ خلفائے راشدینؓ کی ایک عظیم تابناک تاریخ رہی ہے۔ امت اسلامیہ کی تاریخ تمام قوموں اور ملکوں کی تاریخ پر فوقیت رکھتی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ اس قدیم تابناک تاریخ سے مستفید ہوں۔ اس کے سبق آموز اور عبرت خیز، پہلوؤں کو واضح کریں، اس سے طریقہ ہائے کار کا استنباط کریں، اور اس کی روشنی میں دوسری تہذیبوں کو سمجھیں۔ تاریخی تسلسل، طریقۂ نبوی اور قرآنی قصوں کی روشنی میں امت اسلامیہ کی ایسی ترقی کے لیے منصوبہ سازی کریں جو دور حاضر سے ہم آہنگ ہو، تاکہ لوگوں کی رہنمائی میں امت اسلامیہ اپنا مثالی تہذیبی کردار ادا کرسکے اور آنے والی صدیوں میں دنیا کے سامنے یہ اچھی طرح ثابت ہوجائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے لایا ہوا دین اسلام نہ مٹا ہے اور نہ کبھی مٹے گا، اور قرآن کریم قیامت تک باقی رہنے والی کتاب ہدایت ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم معاملات سے متعلق اپنی نگاہوں کو کھلی رکھیں تاکہ ہمیں دیر تک رونا نہ پڑے۔
میں نے حتیٰ الامکان کوشش کی ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کروں۔ آپ کی زندگی امت کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ سیدنا حسنؓ ان ائمہ میں سے ہیں جن کا طریقۂ کار، اقوال و افعال آج لوگوں کے لیے اسوہ ہیں۔ سیدنا حسنؓ کی سیرت سے دین کی صحیح سمجھ، اسلامی جذبے اور ایمان کو تقویت ملتی ہے۔ سیدنا حسنؓ کی سیرت سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اختلافات کے وقت ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ مصالح و مفاسد اور مقاصد شریعت کیا ہیں۔ خواہشات نفس پر قابو کیسے پایا جاتا ہے۔ ہمارا قرآن کریم کے ساتھ تعامل کیسا ہو۔ کس طرح ہم طریقۂ نبوی کو اختیار کریں اور سیدنا حسنؓ کی اقتداء کریں۔
سیدنا حسنؓ کے اقوال و افعال کے توسط سے ہمارے دلوں میں اللہ کی جانب جھکاؤ گہرا ہوتا ہے پتہ چلتا ہے کہ ان مذکورہ علوم کا امت کی زندگی، ترقی اور مطلوبہ تہذیبی کردار ادا کرنے میں کتنا اثر ہوتا ہے۔
بنا بریں میں اپنی وسعت کے مطابق سیدنا حسنؓ کی شخصیت اور کارناموں کو اجاگر کرنے میں بھرپور کوشش کی ہے۔ غلطی اور لغزش سے بچنے کا دعویٰ نہیں، صرف اللہ کی رضا اور ثواب مطلوب ہے، وہی اسے نفع بخش بنا سکتا ہے اور اسی سے اس سلسلے میں تعاون مطلوب ہے، بلاشبہ وہ اچھے ناموں والا اور دعاؤں کا سننے والا ہے۔
میں بفضلہ تعالیٰ خلفائے راشدینؓ کی تاریخ کے سلسلے میں بتاریخ 21 صفر 1425ھ مطابق 18، 4، 2004 ء بوقت پونے دس بجے رات فارغ ہوا۔ اللہ ہی سے اس کام کی قبولیت و برکت اور انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت کا خواستگار ہوں۔ فرمان الہٰی ہے:
مَا يَفۡتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَةٍ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَا وَمَا يُمۡسِكۡ فَلَا مُرۡسِلَ لَهٗ مِنۡۢ بَعۡدِه وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ۞
(سورۃ فاطر آیت 2)
ترجمہ: جس رحمت کو اللہ لوگوں کے لیے کھول دے، کوئی نہیں ہے جو اسے روک سکے اور جسے وہ روک لے تو کوئی نہیں ہے جو اس کے بعد اسے چھڑا سکے۔ اور وہی ہے جو اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔
اس کتاب کے ذریعے میں قارئین کے ہاتھوں میں خلفائے راشدینؓ کی تاریخ کے سلسلے کی ایک کڑی رکھ رہا ہوں۔ مجھے اس میں کمال کا دعویٰ نہیں۔
شاعر کا قول ہے:
و ما بہا من خطأ أو خلل
أذنت فی إصلاحہ لمن فعل
’’جو کچھ اس میں خلل اور غلطی ہے اس کی اصلاح کی میں ہر شخص کو اجازت دیتا ہوں۔‘‘
لکن بشرط العلم و الانصاف
فذا و ذا من أجمل الأوصاف
’’لیکن وہ اصلاح علم اور انصاف جیسے اوصاف پر مبنی ہو۔‘‘
واللّٰه یہدی سبل السلام
سبحا نہ بحبلہ اعتصامی
’’ اور اللہ تعالیٰ سلامتی کی راہیں دکھا دیتا ہے، میں اسی کی رسی کو مضبوطی سے تھامتا ہوں۔‘‘
اس عظیم احسان پر میں اللہ تعالیٰ کا ہر حال میں شکر گزار ہوں۔ میں اس سے اور اس کے اسماء و صفات کے حوالے سے دعاگو ہوں کہ وہ اس تاریخی سلسلے کو اپنی رضا کے لیے خالص اور اپنے بندوں کے لیے مفید بنائے، اور میرے ہر لکھے ہوئے حرف کا مجھے اجر عطا فرمائے، اور اسے میری نیکیوں کی میزان میں کردے، او ران تمام لوگوں کو اجر عطا کرے جنھوں نے اس کام کے مکمل کرنے میں اپنی حسب استطاعت وسائل سے میری مدد کی۔
قارئین کرام سے امید کرتاہوں کہ مجھ کو اپنی نیک دعاؤں میں یاد رکھیں گے۔ فرمان الٰہی ہے:
فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا وَقَالَ رَبِّ اَوۡزِعۡنِىۡۤ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِىۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَىَّ وَعَلٰى وَالِدَىَّ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًـا تَرۡضٰٮهُ وَاَدۡخِلۡنِىۡ بِرَحۡمَتِكَ فِىۡ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيۡنَ ۞
/سورۃ النمل آیت 19)
ترجمہ: اس کی بات پر سلیمان مسکرا کر ہنسے، اور کہنے لگے : میرے پر ورگار ! مجھے اس بات کا پابند بنا دیجیے کہ میں ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو آپ نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائی ہیں، اور وہ نیک عمل کروں جو آپ کو پسند ہو، اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل فرمالیجیے۔
وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ، سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ، اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ ، اَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوْبُ اِلَیْکَ، وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔
اپنے رب کے عفو و مغفرت و رحمت و رضا کا محتاج
علی محمد محمد الصلاّبی
2ض/صفر 1425ھ