منکرین حدیث کی تعریف و شناخت - دورِ حاضر کے فتنے | دفاع…

منکرین حدیث کی تعریف و شناخت

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 1 از 5

منکرین حدیث کی تعریف و شناخت

قرآن کریم بنیادی طور پر عقیدہ اور اسلام کے بنیادی اصولوں کو بیان کرنے والی کتاب ہے اسی لئے احکامات سے متعلق آیت اکثر و بیشتر مجمل ہیں جن پر عمل کرنے کیلئے کسی نہ کسی درجہ میں احادیث نبویہﷺ کی جانب رجوع کرنا از بس ضروری ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب انکار حدیث میں مبتلا افراد کو منکرین احادیث کے لقب سے پکارا جائے تو وہ اکثر وبیشتر برا مان جاتے ہیں کیونکہ روز مرہ کے معمولات میں بے شمار ایسے معاملات آتے ہیں جہاں وہ بھی احادیث پر عمل کرنے کے لئے اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں چناچہ وہ چاہتے ہیں کہ انھیں منکرحدیث نہ کہا جائے بلکہ سیرت طیبہ کا محافظ یا ناموسِ رسالت کی حفاظت کرنے والا کہا جائے
مثلاً منکرین حدیث کے موجودہ دور کے سرخیل غلام احمد پرویز صاحب سے ایک ٹی وی انٹرویو میں جب یہ سوال کیا گیا کہ لوگ آپ کو منکرِ حدیث کیوں کہتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ مجھے خود نہیں معلوم کہ لوگ ہمیں منکر حدیث کیوں کہتے ہیں حالانکہ میں نے اپنی تصانیف میں جہاں کہیں بھی ضروری سمجھا ہے احادیث سے استفادہ کیا ہے اور اسکے علاوہ سیرت النبیﷺ پر میری ایک مستقل کتاب موجود ہے جس میں میں نے بہت سی احادیث نقل کیں ہیں اور کچھ اسی نوعیت کا بیان جناب قریشی صاحب کی طرف بھی آیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ:
{ میری زندگی اہلِ حدیث حضرات کے بیچ گذری ہے جن کا اوڑھنا بچھونا ہی حدیث نبوی کے مطابق تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ میں نے احادیث نبوی کے سمجھنے میں غلطی نہیں کی ہاں بشریت کے تقاضے سے کہیں بھول چوک تو ہو سکتی ہے مگر انکار حدیث جیسا فعل میرے لئے محال ہے اس لئے براہ کرم بغیر تحقیق منکرحدیث کا فتویٰ دینے سے گریز کریں}
قریشی صاحب کے اس بیان کو دیکھتے ہوئے ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ یہاں اہلِ حدیث اور منکر حدیث کے درمیان فرق کو واضح کر دیں اور منکرین حدیث کی شناختی علامات کو بیان کر دیں تاکہ ہر وہ شخص جو کسی بھی سبب انکار حدیث کے جراثیم سے متاثر ہوا ہے اپنامحاسبہ خود کر لے اور اس گمراہی سے تائب ہو جائے اور عوام الناس منکرین حدیث کو ان کی شناختی علامات کے ذریعہ پہچان کر ان خوبصورت جال میں گرفتار ہونے سے محفوظ رہ سکیں اس سلسلہ میں سب سے پہلی علامت تو وہی ہے جس کا کچھ تذکرہ سطور بالا میں بھی ہم نے کیا ہے یعنی ناموس قرآن یا ناموس رسالت کی دہائی دے کر کسی صحیح حدیث کو تسلیم کرنے سے انکار کرنا معلوم ہونا چاہیے کہ اصول حدیث کے مطابق کوئی بھی حدیث جو قرآن کے خلاف یا نبی کی شان کے خلاف ہو قابل رد ہے اور یہ اصول منکرین حدیث کا بنایا ہوا نہیں بلکہ محدثین کا بنایا ہوا ہے اور محدثین کا زہد و تقویٰ اور علمیت ایک مسلمہ حقیقت ہے یعنی آج جو صحیح احادیث منکرین حدیث کو قرآن یا شان رسالت کے منافی نظر آتی ہیں محدثین کی تحقیق میں ان حدیث کا صحیح قرار پانا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ احادیث قرآن یاشان رسالت کے منافی نہیں بلکہ منکرین حدیث کے فہم و فراست سے بعید ہونے کے باعث انہیں اس طرح نظر آتی ہیں ورنہ احادیث کی تخریج اور تشریح کا کام جو تقریباً ہر صدی میں جاری رہا ہے اسمیں ان احادیث کی نشاندہی ضرور کردی جاتی مثلاً صحیح بخاری کی اب تک بہت سی شرحیں لکھی جاچکی ہیں جن میں حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ کی شرح فتح الباری ،علامہ عینی کی شرح عمدہ القاری ،شرح صحیح بخاری للقسطلانی اور شرح صحیح بخاری للکرمانی خاص طور پر قابل ذکر ہیں لیکن ان شارحین میں سے کسی نے بھی کبھی نہیں کہاکہ صحیح بخاری کی فلاں حدیث قرآن کے خلاف ہے یاشان رسالت کے خلاف ہے بلکہ ایسی کوئی حدیث اگر نظر بھی آئی تو صرف منکرین حدیث کواس دور میں نظر آئی جنہیں حدیث ،اصولِ حدیث اوررواۃ حدیث کی حروف ابجد بھی معلوم نہیں ہے۔  ہماری یہ بات کوئی مبالغہ نہیں بلکہ مبنی برحقیقت ہے جسکا ثبوت منکرین حدیث کے سرخیل غلام احمد پرویز کے قلم سے نکلے ہوئے یہ الفاظ ہیں:

ترمذی ،ابوداؤد اور نسائی میں روایت ہے کہ رسول ﷲﷺ نے صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھائے کانوں تک پھر بار بار رفع الیدین دین نہیں کیا جبکہ بخاری و مسلم میں ہے کہ نبی کریم ﷺ رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے بھی رفع الیدین کرتے تھے۔
سنن امام شافعی ؒاور مسند احمد بن حنبلؒ میں روایت ہے کہ رسول ﷲﷺ نماز میں بحالت قیام سینہ پر ہاتھ باندھے تھے جبکہ موطا امام مالکؒ میں روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے تھے قرانی فیصلے حصہ اول صفحہ۳۰}

پرویز صاحب کا یہ بیان ظاہر کر رہا ہے کہ یہ صاحبِ علم حدیث میں قطعی طور پر یتیم ہیں اور جن احادیث کی کتابوں کا نام لے کر حوالے دے رہے ہیں ان میں سے اکثر ان کے پاس موجود بھی نہیں ہیں مثلاً موطا امام مالک کانام لے کر یہ حوالہ دینا کہ وہاں ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنے کی حدیث موجود ہے حالانکہ موطا میں ایسی کوئی حدیث سرے سے موجود ہی نہیں ہے اسی طرح جامع الترمذی ،سنن نسائی اور ابو داؤد کا حوالہ دیکر یہ کہنا کہ وہاں تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین نہ کرنے کی حدیث ہے سفید جھوٹ ہے بلکہ وہاں جو حدیث ہے اس میں تکبیر تحریمہ کے وقت رفع الیدین  کا ذکر ہے مگر اس بات کا کوئی تذکرہ نہیں کہ اسکے بعد رفع الیدین کیا گیا یا نہیں جبکہ بعض دوسری احادیث میں رکوع سے قبل اوربعد میں رفع الیدین کا ذکر موجود ہے اسطرح رفع الیدین  کرنے کے تمام مواقعوں کی تفصیل مل جاتی ہے اور احادیث میں کوئی ٹکراؤ کا امکان بھی باقی نہیں رہتا۔

منکرین حدیث کی دوسری شناختی علامت

پس منکرین حدیث کی دوسری شناختی علامت یہ ہے کہ قرآن کے مفسر بننے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ انھیں احادیث کے درجات ،رواۃ حدیث کی اقسام اور محدثین کی اصطلاحات کا قطعی کوئی علم نہیں ہوتا مثلاً ایک مقام پر جناب پرویز صاحب نے تبصرہ کرتے ہوئے ایک راوی کی تدلیس کو کذب پر محمول فرمایا ہے یعنی یہ لوگ محض اپنی عقل کو احادیث کے قبول و رد کا معیار بناتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ محدثین نے بھی اسی طرح محض اپنی عقل کی بنیاد پر احادیث کو صحیح اور ضعیف قرار دیا ہے حالانکہ یہ خیال قطعی غلط اور بے بنیاد اور لغو ہے ۔

صفحہ 1 از 5