تعارف امام ابو داؤد رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

تعارف امام ابو داؤد رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 1 از 9

امام ابو داؤد رحمۃاللہ

ولادت 202ھ وفات 275ھ کل عمر 73 سال:

نسب و نسبت:

امام ابو داؤد رحمۃاللہ کے سلسلہ نسب میں کچھ اختلاف اور تقدیم و تاخیر ہے علامہ ابنِ حجر رحمۃاللہ تہذیب التہذیب میں علامہ ذہبی رحمۃاللہ سیر اعلام النبلاء میں اور حافظ جمال الدین رحمۃاللہ تہذیب الکمال میں عبدالرحمٰن بن ابی حاتم رحمۃاللہ کا قول نقل کرتے ہیں:

سليمان بن الأشعث بن شداد بن عمرو بن عامر۔

(دیکھیے تہذیب التہذیب: جلد، 4 صفحہ، 169 سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 203 تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 355)

خطیب نے تاریخ بغداد میں لکھا ہے: سليمان بن الأشعث بن إسحاق بن بشير بن شداد بن عمرو بن عمران سمعانیؒ نے الانساب میں اور ابنِ خلکانؒ نے وفیات الاعیان میں اس کو اختیار کیا ہے۔ 

(تاریخ بغداد: جلد، 9 صفحہ، 55 الانساب: جلد، 3 صفحہ، 225 وفیات الاعیان: جلد، 2 صفحہ، 404، تذکره الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 591)

 ابنِ کثیرؒ کے نزدیک نسب یوں ہے: سليمان بن الاشعث بن اسحاق بن بشير بن شداد بن يحيىٰ بن عمران۔

(حافظ ابنِ حجر رحمۃاللہ نے تقریب میں اسی نسب کو ذکر کیا ہے، دیکھیے تقریب التہذیب: صفحہ، 250، البدايۃ والنہايۃ: جلد، 11 صفحہ، 54)

اور محمد بن عبد العزیز کا کہنا سليمان بن الأشعث بن بشير بن شداد۔

 (سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 303 تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 355)

ان کے جد اعلیٰ عمران جنگِ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور اس میں مارے گئے۔

(تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 355 تہذیب التہذیب: جلد، 4 صفحہ، 169)

امام ابو داؤدؒ کا تعلق چونکہ قبیلہ أزد سے ہے اس لیے آپ کو أزدی کہا جاتا ہے اور سجستان آپ کا مولد ہے، اس لیے سجستانی اور سجزی بھی کہا جاتا ہے سجستان کے بارے میں صحیح قول یہ ہے کہ خراسان کے اطراف میں واقع ہے جیسے کہ صاحبِ معجم البلدان نے لفظ سجزی کے تحت لکھا ہے: سجز بكسر أوله و سكون ثانيه وآخره زاى اسم السجستان البلد المعروف فی أطراف خراسان۔

(معجم البلدان: جلد، 3 صفحہ، 189)

صاحب الانساب نے لکھا ہے: هی إحدى البلاد المعروفة بكابل۔

(الانساب: جلد، 3 صفحہ، 225)

علامہ یاقوت حموی نے محمد بن ابی نصر قل ھو اللہ احد خوان کا قول نقل کیا ہے: أبو داؤد رحمۃاللہ السجستانی الإمام هو من كورة بالبصرة يقال لها سجستان وليس من سجستان خراسان۔ 

(معجم البلدان: جلد، 3 صفحہ، 191) 

اسی قول کو ابنِ خلکانؒ نے بھی قیل کے ساتھ ذکر کیا ہے، لکھتے ہیں: وقيل بل نسبته إلى سجستان أو سجستانة قرية من قرى البصرة والله أعلم۔ 

(وفیات الاعیان: جلد، 2 صفحہ، 405) 

لیکن یہ قول ضعیف ہے ایک وجہ تو یہ ہے کہ محمد بن ابی نصرؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اہلِ بصرہ سے جستجو کی لیکن ان کو بصرہ میں اس نام کا کوئی مقام معلوم نہیں تھا۔ 

(معجم البلدان: جلد، 3 صفحہ، 192)

دوسری بات یہ ہے کہ حضرت مولانا شاہ عبد العزیزؒ فرماتے ہیں کہ ابنِ خلکانؒ نے تاریخ دانی اور انساب میں مہارت کاملہ رکھنے کے باوجود غلطی کی ہے اور شیخ تاج الدین سبکی نے بھی اس قول کو وہم قرار دیا ہے، وہ لکھتے ہیں: هذا وهم، والصواب انه نسبة الى الاقليم المعروف المتاخر لبلاد الهند یعنی یہ ان کا وہم ہے، صحیح یہ ہے کہ یہ نسبت اس سرزمین کی طرف ہے جو ہند کے پہلو میں واقع ہے (یعنی سیستان کی طرف نسبت ہے) جو سندھ اور ہرات کے مابین مشہور ملک اور قندھار کے متصل واقع ہے۔ 

(بستان المحمدثین: صفحہ، 283) 

بہر حال یہ قول ضعیف تو ہے لیکن اس کو ابنِ خلکانؒ کا قول قرار دینا اور ان کی غلطی کہنا ٹھیک نہیں ہے، کیونکہ انہوں نے پہلے اس قول مشہور کو نقل کیا ہے پھر اس قول ضعیف کو لفظ قیل کے ساتھ لکھا ہے۔

(وفیات الاعیان: جلد، 2 صفحہ، 405)

 پہلے زمانہ میں بست شہر اس ملک کا پایۂ تخت تھا چشت جو بزرگان چشتیہ کا وطن رہا ہے اسی ملک میں واقع ہے، عرب لوگ اس ملک کی نسبت میں کبھی سجزی بھی کہہ دیتے ہیں۔ 

(بستان المحدثین: صفحہ، 284)

پیدائش:

امام ابو داؤد رحمۃاللہ 202ھ میں سیستان میں پیدا ہوئے، وہ خود فرماتے ہیں: ولدت سنة اثنتين (و مئتين)

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 204)

ابتداء تحصیل علم اور علمی رحلات:

ابتداء تحصیلِ علم کے بارے میں کسی نے کوئی قول نقل نہیں کیا ہے، البتہ امام ابو داؤدؒ خود فرماتے ہیں: دخلت الكوفة سنة إحدى وعشرين اسحاق بن ابراہیم کا بیان ہے کہ میں نے امام صاحب سے 220ھ میں دمشق میں حدیث سنی۔

(تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 366) 

جس کا مطلب ہے کہ امام صاحب نے 20 سال کی عمر سے کافی پہلے تعلیم کی ابتداء کر کے علمی سفر شروع فرمایا تھا اور مختلف بلادِ اسلامیہ کا سفر کیا تھا جن میں مصر، حجاز، شام، عراق، خراسان، جزیرہ اور شعر شامل ہیں۔

(تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 356 تذکرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 591)

 بعض اسفار میں آپ کے بڑے بھائی محمد بن الاشعث بھی ہمسفر رہے اور امام صاحب سے کچھ مدت پہلے وفات پا گئے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 221)

مشائخ:

آپ کے اساتذہ بیشمار ہیں 

(حافظ ابنِ حجرؒ کہتے ہیں: امام ابوداؤدؒ کی تصانیف میں تقریباً تین سو اساتذہ کے نام ملتے ہیں: دیکھیے تہذیب التہذیب: جلد، 4 صفحہ، 172) 

چنانچہ مکہ میں قعنبی اور سلیمان بن حرب، بصرہ میں مسلم بن ابراہیمؒ اور ابو الولید طیالسیؒ وغیرہ، کوفہ میں حسن بن ربیع بورانیؒ اور احمد بن یونسؒ یربوعی وغیره، حران میں ابو جعفر نفیلیؒ وغیرہ، حلب میں ربیع بن نافعؒ، حمص میں حيوة بن شریحؒ اور یزید بن عبدربہؒ، دمشق میں صفوان بن صالحؒ اور ہشام بن عمارؒ، خراسان میں اسحاق بن راہویہؒ وغیرہ، بغداد میں احمد بن حنبلؒ وغیرہ، بلخ میں قتیبہ بن سعیدؒ، مصر میں احمد بن صالحؒ، اسی طرح آپ نے علی بن المدینی علی بن الجعد محمد بن المنہال، یحییٰ بن معین وغیرہ سے بھی استفادہ کیا ہے، اس مختصر فہرست سے اندازہ ہوتا ہے کہ بہت سے شیوخ میں امام بخاریؒ کے ساتھ شریک ہیں اسی طرح اپنے استاذ احمد بن حنبلؒ کے بعض اساتذہ سے بھی مستفید  ہوئے ہیں، جیسے ابو الولید ہشام بن عبد الملک طیالسی وغیره۔ (تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 359)

تلامذہ:

صفحہ 1 از 9