مسئلہ امامت کے متعلق شیعی عقائد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسئلہ امامت کے متعلق شیعی عقائد

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 4

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

الْحَمْدُ لِلَّهِ وَكَفَى وَسَلَامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى أَمَّا بَعْدُ

شیعہ سنی اختلاف کی سب سے بڑی بنیاد مسئلہ امامت پر ہے۔ اہلسنت کے نزدیک ہر وہ شخص جو خدا اور رسول اللّٰہﷺ کے فرمودات کے مطابق زندگی گزارتا ہوا، دین حقہ کی خدمت میں ہر وقت کوشاں رہے اسے امام کہا جا سکتا ہے۔ بلکہ جو شخص کسی بھی قوم و ملت کا رہبر اور راہنما ہو وہ اس قوم و ملت کا امام ہوتا ہے۔ قرآن پاک میں عبادالرحمٰن کے اوصاف میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں کہ نیکوکار اور صالحین ہر وقت دعا مانگتے ہیں وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا (اے اللّٰہ ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا) اہل سنت کے نزدیک امامت نہ چار میں بند ہے، نہ بارہ میں اور نہ بارہ سو میں۔ اس کے بر خلاف شیعوں کے عقائد و نظریات جو امامت کے متعلق ہیں ان سے چند ایک پیش کیے جاتے ہیں۔ جنہیں پڑھ کر ایک عقلمند آدمی خود اندازہ کرے گا۔ کہ شیعہ سنی نظریات میں کتنا بُعد ہے، اور ان روایات میں حقیقت اور سچائی کس حد تک ہے اور مفروضہ چیزوں کو کتنا داخل کیا گیا ہے۔

مسئلہ امامت کے متعلق شیعی عقائد

پہلا عقیدہ

شیعوں کا عقیدہ ہے کہ امامت اصول دین میں سے ہے، جس طرح توحید و رسالت اور قیامت پر ایمان لانا فرض ہے۔ اسی طرح امام کی امامت کو ماننا بھی فرض ہے۔ اہل سنت کے نزدیک اصول دین تین ہیں۔ توحید، رسالت، قیامت اور شیعوں کے نزدیک اصول دین پانچ ہیں، توحید، رسالت، امامت، قیامت اور عدل۔ جب شیعوں سے سوال کیا جائے کہ اگر امامت بھی اصول دین سے ہوتی تو توحید و رسالت اور قیامت کی طرح اس کا ذکر بھی صاف صاف لفظوں میں قرآن پاک میں ہونا چاہئے تھا۔ آج کل کے شیعہ تو اس کا کوئی معقول جواب نہیں دے سکتے۔ البتہ متقدمین شیعہ مصنفین نے دو جواب دیے ہیں:

جواب اول

شیعہ کی معتبر کتاب فصل الخطاب صفحہ 216 طبع ایران میں ہے؛

لو ترك القرآن كما انزل لالفيتنا فيه مسميين

(امام جعفر صادق کا فرمان ہے) اگر قرآن اسی طرح چھوڑا جاتا جیسے نازل کیا گیا تھا۔ تو اے مخاطب تو ہمیں اس میں نام بنام پاتا۔

نیز تفسیر صافی صفحہ 25 تحت مقدمہ سادسہ میں ہے؛

لولا زيد في القرآن ونقص ما خفي حقنا على ذی حجیٰ

(امام باقر کا فرمان ہے) اگر قرآن میں بڑھایا اور گھٹایا نہ گیا ہوتا تو ہم (ائمہ) لوگوں کا حق کسی ذی عقل پر پوشیدہ نہ ہوتا۔

متقدمین شیعوں نے تو یہ جواب دے دیا کہ قرآن پاک سے صحابہ کرامؓ نے خصوصاً خلفاء ثلٰثہؓ نے ائمہ اثناءعشریہ کے نام نکال دیئے۔ حالانکہ ائمہ کے نام اصل قرآن میں موجود تھے۔ فلہذا امامت پر عقیدہ رکھنا فرض ہے۔ گویا یہ قرآن پُورا نہیں ہے بلکہ اس میں کمی زیادتی کی گئی ہے۔

دُوسرا جواب

دوسرا جواب متقدمین شیعہ نے یہ دیا کہ امامت ایک خفیہ راز ہے، بھلا قرآن پاک میں صاف لفظوں میں کیسے آسکتا تھا، اتنا خفیہ کہ خدا تعالیٰ نے تمام ملائکہ میں سے صرف حضرت جبریل علیہ السلام کو بتایا اور جبریل علیہ السلام نے نبیﷺ کو بتایا نبیﷺ نے حضرت علیؓ اور حضرت علیؓ نے صرف امام حسینؓ کو اطلاع دی۔

چنانچہ اصول کافی طبع نولکشور صفحہ487 پر ہے:

باب الکتمان

قال ابوجعفر عليه السلام ولايةاللّٰه اسرها إلى جبرئيل عليه السلام واسرها جبرئيل إلى محمدﷺ واسرها محمد رسول اللّٰہﷺ إلى علیؓ واسرها علی علیہ السلام الى من شاء ثم انتم تذيعون ذالک

امام باقر نے فرمایا امامت بطور راز کے اللّٰہ تعالیٰ نے جبرئیل کو بتائی، جبرئیل نے رسول خداﷺ کو رسول خداﷺ نے حضرت علیؓ کو حضرت علیؓ نے جس کو چاہا۔ اور اب تم لوگ اس کو مشہور کیے دیتے ہو۔

اسی اصول کافی کے صفحہ 184 پر ہے کہ حضرت علیؓ نے یہ راز حضرت امام حسنؓ کو بتا دیا۔ ملاحظہ ہو۔

عن ابى جعفر قال ان امير المومنينؓ لما حضرة الذي ما حضرة قال لابنه الحسنؓ ادن الى حتى اسر اليك ماأسر إلى رسول اللّٰہﷺ

امام جعفر رحمہ اللّٰہ نے فرمایا کہ حضرت علیؓ کی جب موت کا وقت قریب آیا تو اپنے بیٹے حسنؓ کو فرمایا قریب ہو جا تاکہ میں تجھے وہ راز بتا دوں جو رسول خداﷺ نے مجھے بتایا تھا۔

اس قسم کی روایات شیعی کتب سے بکثرت ملتی ہیں۔ کیا امامت کوئی ایسی راز کی بات تھی جس کو چھپایا گیا۔ اب ہم سوال کرتے ہیں کہ جب یہ امامت اتنی راز کی بات تھی جس کو اللّٰہ تعالیٰ نے ملائکہ سے بھی پوشیدہ رکھا تو بقول آپ کے غدیر خم پر رسول خداﷺ نے کس چیز کا اعلان فرمایا تھا۔ متقدمین شیعوں نے تو قرآن پاک کو محرف مان کر اس اعتراض سے جان چھڑالی مگر متاخرین شیعہ اگر قرآن پاک کے غیر محفوظ ہونے کا اعلان کریں تو ان کے مذہب کی قلعی کھل جاتی ہے اور حقیقت آشکارا ہو جاتی ہے۔ اس لیے آیات کو توڑ موڑ کر روایات ضعیفہ کے پیوند لگا کر اپنے اس زعم باطل کو پختہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ اصول دین صریح اور قطعی آیات سے ثابت ہونے چاہئیں۔ جیسے دوسرے پارے کے رکوع پانچ میں ہے۔

وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَۚ

لیکن بھلائی اس کو ہے جو ایمان لایا اللّٰہ پر، اور آخرت کے دن پر، اور ملائکہ پر اور اللّٰہ کی کتاب پر اور نبیوں پر ۔

دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:

من كفر باللّٰه وملائكته وكتبه ورسلم واليوم الآخر

جس شخص نے کفر کیا ساتھ اللّٰہ کے اور ملائکہ کے اور کتابوں کے اور رسولوں کے اور آخرت کے دن کے۔

اگر امامت بھی اصول دین سے ہوتی تو ضرور بر ضرور جہاں ایمان باللّٰہ اور ایمان بالرسول کا ذکر تھا وہاں ایمان بالامامت کا بھی ذکر ہوتا۔ اور جہاں کفر کا ذکر تھا وہاں کفر بالامامت کا بھی ذکر ہوتا۔

نیز قرآن پاک میں اکثر مقامات پر اطیعوا اللّٰه وَالرَّسُولَ ہی آیا ہے۔ سارے قرآن میں اطیعوا الامام کہیں نہیں آیا۔ نیز ایک مقام پر قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے:

مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ

جس شخص نے اطلاعت کی اللّٰہ کی اور اُس کے رسول ﷺ کی تو اُسے اللّٰہ تعالیٰ جنت میں داخل کریں گے۔ جس کے نیچے نہریں جاری ہیں۔

صفحہ 1 از 4