دوسرا بہتان اور اس کا رد
علی محمد الصلابیشیعہ کہتے ہیں:’’ بے شک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولتی تھیں۔‘‘
روافض کہتے ہیں کہ ’’ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی احادیث قابل قبول نہیں۔ کیونکہ اس کی روایت فاسد ہے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولتی تھی۔‘‘
صدوق نے اپنی سند کے ذریعے جعفر بن محمد سے روایت کی ہے کہ تین شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولتے تھے۔ ابوہریرہ، انس بن مالک اور ایک عورت( رضی اللہ عنہم )
(الخصال للصدوق: صفحہ 190۔ نیز مندرجہ کتب الرافضہ کا مطالعہ بھی کریں۔ الایضاح للفضل بن شاذان ازدی: صفحہ 541۔ بحار الانوار للمجلسی: جلد 2 صفحہ 217)
مذکورہ بالا خبر میں روافض نے جس ’’عورت‘‘ کا تذکرہ کیا ہے اور ان کا یہ دعویٰ کہ یہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولا کرتی تھی۔ اس سے ان کی مراد ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ اس کی تائید ان کی امہات الکتب سے ہوتی ہے۔
مثلاً ’’بحار الانوار‘‘ میں مذکورہ زہر والی جھوٹی خبر کے آخر میں لکھا ہوا ہے۔(اس سے مراد عائشہ) ہے۔
(بحار الانوار للمجلسی: جلد 2 صفحہ 217)
اسی طرح مجلسی نے ایک اور مقام پر لکھا ہے:’’ (و امراۃ) وہ عائشہ ہے۔‘‘
(المصدر السابق: جلد 31 صفحہ 108)
مصنف ’’بحار الانوار‘‘ نے خود ہی ’’عائشہ‘‘ کا لفظ بریکٹ میں لکھا ہے۔
تستری (عبداللہ بن ضیاء الدین بن محمد شاہ تستری۔ 956 ہجری میں پیدا ہوا۔ فرقہ امامیہ اثنا عشریہ کے علماء میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ہندوستان گیا تو اکبر بادشاہ نے اسے لاہور کا چیف جسٹس بنایا اور شرط یہ لگائی کہ وہ اپنے فیصلے میں مذاہب اربعہ سے باہر نہ نکلے گا۔ جب تک وہ اس شرط کی پابندی کرتا رہا اپنے عہدے پر برقرار رہا اور جب شرط توڑ دی تو کوڑوں سے اسے 1019 ہجری میں قتل کر دیا گیا۔ اس کی تصنیف ’’احقاق الحق‘‘ ہے۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 8 صفحہ 52) نے صحیحین میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک روایت نقل کی اور اس پر یوں تعلیق چڑھائی: میں کہتا ہوں کہ عائشہ کی روایت اپنے باپ کی خلافت والی روایت کی طرح فاسد ہے۔
(احقاق الحق: صفحہ 360)
مجلسی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی کسی روایت پر کلام کرتے ہوئے کہتا ہے:
’’اس عورت کے غیر معصوم ہونے پر اتفاق ہے اور اس کی توثیق ہمارے اور مخالفین کے درمیان اختلافی مسئلہ ہے، ہم ضرور اس کی مذمت اور اپنی روایات میں اس پر طعن و تشنیع کریں گے اور مزید یہ کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کس قدر جھوٹ بولتی تھی۔ ہماری ذکر کردہ روایات صاحب بصارت و بصیرت کے لیے کافی ہوں گی۔‘‘
(بحار الانوار للمجلسی: جلد 28 صفحہ 60)
شیعہ مصنف کی کتاب ’’وسائل الشیعۃ الی تحصیل مسائل الشریعۃ‘‘ کے مقدمہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں مصنف لکھتا ہے کہ اس کا ایک کبیرہ گناہ یہ ہے کہ اس نے صراحت کے ساتھ احادیث وضع کیں۔
زہری نے بواسطہ عروہ بن زبیر روایت کی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے بتایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی۔ اس وقت سیدنا عباس اور علی رضی اللہ عنہما آ رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! بے شک یہ دونوں میری ملت یا میرے دین کے علاوہ پر مریں گے۔
عبدالرزاق ( عبدالرزاق بن ہمام بن نافع، ابوبکر صنعانی اپنے وقت میں یمن کا بہت بڑا حافظ حدیث شمار ہوتا تھا اور بڑا عالم تھا۔ 126 ہجری میں پیدا ہوا۔ ثقہ اور مشہور مصنف تھا۔ تاہم وہ اپنی آخری عمر میں نابینا ہو گیا اور اس کا حافظہ بھی کمزور ہو گیا۔ شیعیت کی طرف میلان رکھتا تھا۔ اس کی تصنیفات ’’المصنّف‘‘ اور ’’التفسیر‘‘ ہیں۔ 211 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 9 صفحہ 564۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 3 صفحہ 444۔)نے اپنی سند کے ساتھ روایت کی کہ زہری کے پاس بواسطہ عروہ علی( رضی اللہ عنہ ) کے بارے میں عائشہ( رضی اللہ عنہا ) سے مروی دو روایات تھیں اور اس کے قول کے مطابق دوسری میں عائشہ(رضی اللہ عنہا) نے اسے بتایا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی تو اسی لمحے عباس اور علی(رضی اللہ عنہما) آ رہے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے عائشہ! اگر تم ’’جہنمی مرد دیکھنا چاہتی ہو تو ان دو آنے والوں کو دیکھ لو۔ میں نے جونہی دیکھا تو وہ عباس اور علی بن ابی طالب(رضی اللہ عنہما) تھے۔‘‘
مصنف کہتا ہے: ’’یہ قرآن کے معارض ہے کیونکہ قرآن نے اہل بیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تطہیر کا اعلان کیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد علی(رضی اللہ عنہ) ان سب میں سے پہلا شخص ہے۔‘‘
(وسائل الشیعۃ الی تحصیل مسائل الشریعۃ للمعاملی المقدمۃ: جلد 1 صفحہ 35)
روافض کہتے ہیں: ’’عبدالرزاق نے معمر (معمر بن راشد ابو عروہ بصری 96 ہجری میں پیدا ہوا۔ طلب علوم حدیث کے لیے سب سے پہلے انھوں نے یمن کا سفر کیا۔ اپنے وقت کے امام، حافظ، شیخ الاسلام، ثقہ اور ثبت تھے۔ سچ اور خلوص کے ساتھ علم سے لبالب بھرا مشکیزہ تھے۔ جلالت، ورع اور عمدہ تصنیف میں وہ بے مثال تھے۔ ان کی مشہور تصنیف ’’الجامع‘‘ ہے۔ 154 ہجری میں فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 7 صفحہ 5۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 5 صفحہ 500) سے روایت کی ہے کہ زہری کے پاس بواسطہ عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی دو حدیثیں موجود تھیں جو علی علیہ السلام کے بارے میں تھیں۔ تو ایک دن میں نے ان دونوں کے متعلق ان سے استفسار کیا، تو وہ کہنے لگا، تجھے ان دونوں راویوں اور ان دونوں کی حدیثوں سے کیا غرض ہے؟ اللہ تعالیٰ خود ان دونوں اور ان کی روایتوں کے بارے میں خوب جانتا ہے۔ البتہ میرے نزدیک وہ دونوں بنو ہاشم کے متعلق مرویات میں ’’متہم فیہ‘‘ ہیں۔
ہمارے معاصرین میں سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذمت کرتے ہوئے ایک ملحد و زندیق کہتا ہے: ’’کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اس کی ہزاروں جھوٹی روایات کا تذکرہ کروں کہ جن کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہرت کو بند لگ گیا اور نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس شخصیت پر طعن و تشنیع کا دروازہ کھل گیا۔‘‘
(یو ٹیوب سے ایک سائیٹ پر عائشہ(رضی اللہ عنہا) کے جہنم میں جانے کے جشن کا ایک ویڈیو کلپ۔ نیز دیکھیں: الصاعقۃ فی نسف اباطیل و افتراء ات الشیعۃ لعبد القادر عطا صوفی: صفحہ 99، 101) نیز دوسرے رافضیوں سے بھی یہ شبہ منقول ہے۔
اس بہتان کا جواب متعدد طریقوں سے دیا جائے گا
1۔ یہ اور اس جیسی تمام روایات من گھڑت اور باطل افسانے ہیں جن کے ذریعے سے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان تراشی کی جاتی ہے۔ لہٰذا یہ روایت کلی طور پر مردود ہے، اسے حجت نہیں بنایا جا سکتا، اہل سنت کے نزدیک ہی نہیں بلکہ شیعہ بھی اس روایت کو نہیں مانتے۔
جہاں تک اہل سنت کا تعلق ہے تو وہ رافضیوں کی اسناد اور ان کی روایات پر اعتماد نہیں کرتے، کیونکہ رافضیوں کی اکثر اسانید خود ساختہ، من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور اگر وہ حسن اتفاق سے وضع جیسے گھناؤنے عیب سے محفوظ بھی ہوں تو ان کے راوی عموماً کذاب، متروک اور مجہول ہوتے ہیں اہل سنت کا یہ ماحصل شیعوں کی روایات کی اسناد کے متعلق اور روایات شیعہ کے متون عموماً مسلمانوں کے اجماعی تواتر کے مخالف و معارض ہوتے ہیں، سوائے جس کی مخالفت بے وزن و غیر معتبر ہو۔ جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے روایت کی توثیق کی جائے، کیونکہ وہ صرف صحابیہ ہی نہیں بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مبارکہ اور تمام اہل ایمان کی ماں بھی ہیں۔
اسی لیے صرف اہل سنت کے نزدیک ہی نہیں بلکہ تمام اہل اسلام کے نزدیک کسی دوسرے آدمی کی تصدیق و توثیق کی محتاج نہیں چونکہ خود اللہ تعالیٰ نے ان کو تزکیہ دے دیا ہے نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کی توثیق کر دی ہے اور اس حقیقت دینی کا علم ہونا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔
جہاں تک شیعہ کے معیار کے مطابق اس حدیث کا حکم ہے تو یہ ان کے معیار کے مطابق بھی ضعیف و مردود ہے۔ کیونکہ اس کی سند میں جعفر بن محمد بن عمارہ کندی نامی ایک راوی ہے جو شیعوں کے نزدیک بھی مجہول ہے۔
تو اس جعفر کے بارے میں شیعوں کے جرح و تعدیل کے علماء کہلوانے والے بھی اس پر سکوت کرتے ہیں، نہ کسی نے اس پر جرح کی اور نہ اس کی کوئی تعدیل و توثیق کرتا ہے۔ اسی لیے ہماری صراحت کے مطابق یہ راوی مجہول ہے۔ نیز اس کے بارے میں شیعی عالم علی نمازی شاہرودی نے کہا۔ (علماء جرح و تعدیل نے اس کا تذکرہ نہیں کیا)۔
(مستدرکات علم رجال الحدیث لعلی شاہرودی: صفحہ 290)
2۔ اس روایت میں ’’المرأۃ‘‘ عورت کا نام نہیں لیا گیا، اس لیے یہ بہتان دو پہلوؤں سے مردود ہے۔
الف: روایت میں عائشہ کا نام صراحتاً نہیں، بلکہ ’’امرأۃ‘‘ کا بھی نکرہ کے طور پر ذکر ہے۔ تو جیسا کہ ہم نے پوری روایت پہلے تحریر کی ہے، اس طرح ہے: ’’تین اشخاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولتے تھے۔ ابوہریرہ، انس بن مالک اور ایک عورت۔‘‘ ہم دیکھتے ہیں کہ راوی نے عورت کو مبہم ذکر کیا اور صراحت کے ساتھ اس کا نام نہیں لیا۔
ب: جب عورت سے مراد عائشہ تھی تو پھر اس کے نام کی صراحت کیوں نہ کی گئی، کیونکہ کوئی شیعہ ہمیں کہہ سکے کہ مبہم عورت سے مراد عائشہ ہے۔ چنانچہ مجلسی نے ’’بحار الانوار‘‘ وغیرہ میں یہی لکھا ہے۔
ہم اسے کہتے ہیں: اگر عورت سے مراد عائشہ ہی تھی تو راوی نے صراحت کے ساتھ اس کا نام کیوں نہ لیا۔ تو وہ اس کا جواب نہیں دیتے۔ تب ہم اسے کہتے ہیں، بہتان تراش کو اپنے جھوٹے بہتان پر شک ہونے کی یہی سب سے بڑی دلیل ہے کہ وہ اسے بیان کرنے سے عاجز و لاچار ہو گیا۔ چنانچہ جمہور مسلمانوں کے نزدیک وہ ضعیف ہے۔ اگر اسے یقین ہوتا کہ یہ بات حق ہے تو وہ صراحتاً سب کے نام لیتا۔ اگر رافضی کہیں:
راوی نے تقیہ کرتے ہوئے عائشہ کا نام نہیں لیا۔ جس طرح کہ فضل بن شاذان ازدی (فضل بن شاذان بن خلیل ابو محمد ازدی نیشاپوری علم کلام کا ماہر تھا اور امامیہ شیعہ کا فقیہ شمار ہوتا تھا۔ اس نے تقریباً 180 کتابیں تصنیف کیں۔ ان میں سے ’’الرد علی ابن کرام‘‘ اور ’’الایمان‘‘ ہیں۔ 260 ہجری میں فوت ہوا۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 5 صفحہ 149۔ معجم المؤلفین لعمر رضا کحالۃ: جلد 8 صفحہ 69) نے کہا:
’’میں کہتا ہوں کہ عورت سے مراد ظاہر ہے لیکن راوی نے بطور تقیہ اس کا نام نہیں لیا۔‘‘
(الایضاح للفضل بن شاذان ازدی: صفحہ 541 )
ہم اسے جواب دیتے ہیں: تو نے اچھی بات کہی لیکن ہم یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اس نے عائشہ کا نام لینے سے تقیہ کیوں کیا اور ابوہریرہ اور انس بن مالک کے ناموں میں اس نے تقیہ کیوں نہ کیا؟ ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔ اگر اس کے بعد رافضی معترض خاموش ہو جائے تو ہمیں یقین ہو گا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اللہ قادر و قہار نے بری کر دیا اور اگر وہ رافضی کہے کہ میرے پاس اس کا جواب ہے۔ اس نے ابوہریرہ اور انس بن مالک کے نام صراحتاً لیے لیکن عائشہ کا نام اس لیے مخفی رکھا کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین بیوی ہے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہے۔ تو ہم اسے کہیں گے: اللہ سب سے بڑا ہے۔ یہی ہمارا مقصد ہے۔ تمہارے جھوٹ اور اس مظلومہ صدیقہ کی برأت کی یہ سب سے بڑی دلیل ہے اور جو روایت تم عبدالرزاق کی طرف منسوب کر کے نقل کرتے ہو وہ مصنف عبدالرزاق میں تو ہے نہیں اور نہ ہی اہل سنت کے نزدیک کسی معتبر حدیث کی کتاب میں یہ روایت موجود ہے۔
چونکہ یہ قصہ بھی نرا بہتان، جھوٹا فسانہ اور اس قدر منکر ہے کہ اس کی اصلیت پر بحث کرنا بھی ہم فضول سمجھتے ہیں، کیونکہ یہ کیسے تصور کیا جا سکتا ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس شخص کے متعلق ایسی روایت کر سکتی ہیں جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنتی ہونے اور اس کے لیے اللہ کا محبوب ہونے کی گواہی دی ہو۔
ابوبکر خلال نے محمد بن علی سے روایت کی کہ اس نے کہا: ہمیں اثرم نے یہ حدیث سنائی، اس نے کہا کہ میں نے ابو عبداللہ سے یہ حدیث سنی اور اسے عقیل کی حدیث جو اس نے زہری سے اور اس نے بواسطہ عروہ اور اس نے بواسطہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا علی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور بواسطہ عقیل زہری سے روایت سنائی کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں خالد رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو ابو عبداللہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا، یہ کسی طرح بھی ممکن نہیں اور ان روایات سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا مجھے یہ پسند نہیں کہ ایسی احادیث لکھی جائیں۔
(اسے ابوبکر خلال نے ’’السنۃ‘‘ میں روایت کیا۔ جلد 3 صفحہ 505 حدیث نمبر 809)
چونکہ امام احمدؒ نے ان احادیث کو پہچاننے سے انکار کر دیا تو بلاشبہ یہ روایت مکذوب و موضوع ہے۔ دشمنان دین نے عقیل کی طرف ان کی نسبت کی ہے اور یہ عقیل بن خالد ایلی ہے۔ جبکہ یہ روایت (مصنف عبدالرزاق) میں نہیں ہے۔ گویا جس نے یہ جھوٹ نقل کیا اس سے بھول ہو گئی اور عقیل کے بدلے عبدالرزاق لکھ دیا۔
اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کسی دوسرے عبدالرزاق نے یہ روایت کی ہے تو اس کا جواب امام ذہبیؒ اور ابن حجرؒ کی تحریروں میں مل سکتا ہے۔ جب ان دونوں اماموں نے احمد بن ازہر نیشاپوری کے حالات لکھے تو ذہبی رحمہ اللہ نے لکھا: (ائمہ جرح و تعدیل نے) اس پر کوئی جرح نہ کی سوائے اس روایت کی وجہ سے جو اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل میں عبدالرزاق بواسطہ معمر نقل کی ہے اور دل گواہی دیتا ہے کہ یہ روایت باطل ہے۔
ابو حامد شرقی اس کی وضاحت میں لکھتے ہیں
’’اس روایت کو باطل کہنے کا سبب یہ ہے کہ معمر رحمہ اللہ کا ایک بھانجا یا بھتیجا رافضی تھا تو اس نے یہ حدیث اس کی کتابوں میں شامل کر دی اور خود معمر رحمہ اللہ کی شخصیت اتنی رعب دار تھی کہ کوئی ان سے پوچھنے پر قادر نہ تھا۔ جب پہلی بار کتاب سے عبدالرزاق نے یہ روایت سنی تو بقول ذہبی؛ عبدالرزاق روایات اور رواۃ کے معاملات کو سمجھتے تھے۔ پس یہ اثر احمد بن ازہر کے علاوہ کوئی بھی بیان کرنے کی جسارت نہ کر سکا۔ انتہٰی‘‘
(میزان الاعتدال للذہبی: جلد 1 صفحہ 82)
علامہ ابن حجر رحمہ اللہ نے مذکورہ باطل روایت نقل کرنے کے بعد کہا:
’’اس کے باطل ہونے کا سبب یہ ہے کہ معمر کا ایک بھتیجا رافضی تھا اور معمر اسے اپنی کتابیں پڑھنے کے لیے دے دیتا تھا۔ تو اس نے یہ حدیث معمر کی کتابوں میں ملا دی۔ جبکہ عبدالرزاق کہ جس کی طرف یہ روایت منسوب کی گئی ہے وہ اہل صدق سے ہے اور اسے اہل تشیع کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، شاید اسے یہاں مشابہ لگ گیا ہو۔ انتہٰی‘‘
(تہذیب التہذیب: جلد 1 صفحہ 11)
درج بالا دونوں اقتباسات سے ہمیں قوی احتمال ملتا ہے کہ جس رافضی کو معمر رحمہ اللہ اپنی کتابیں دے دیتا تھا اسی نے زیر بحث حدیث وضع کی ہے تاکہ اس کے ذریعے سے ہماری امی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عیب جوئی کر سکے۔ پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ زہری رحمہ اللہ جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی قدر و منزلت کو بخوبی جانتا ہے وہ اسے بنو ہاشم کے بارے میں عیب جوئی کرنے والی کے طور پر کیسے بیان کر سکتا ہے جو دوسرے مقام پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یوں رقم طراز ہے: اگر تمام عورتوں کے علم کے مقابلے میں ایک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم اکٹھا کیا جائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم ان سب کے علوم سے افضل ہو گا۔
(سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 185)
3۔ شیعہ خود اعتراف کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو صدق کے ساتھ متصف کرتی ہیں۔ مجلسی نے ابو نعیم سے روایت کی اس نے اپنی سند کے ساتھ ابو عبداللہ جدلی سے بیان کیا کہ میں عائشہ(رضی اللہ عنہا) کے پاس گیا اور اس سے ایک آیت کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا تو ام سلمہ(رضی اللہ عنہا) کے پاس چلا جا۔ پھر میں ام سلمہ(رضی اللہ عنہا) کے پاس گیا اور اسے عائشہ(رضی اللہ عنہا) کی بات کے بارے میں بتایا تو ام سلمہ نے کہا وہ سچی ہے یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے گھر میں نازل ہوئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی، فاطمہ اور ان دونوں کے دونوں بیٹوں کو کون میرے پاس لائے گا۔۔ طویل حدیث ہے۔
(بحار الانوار للمجلسی: جلد 35 صفحہ 228۔ مرأۃ العقول فی شرح اخبار آل الرسول للمجلسی: جلد 3 صفحہ 240)
جب یہ گواہی ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی ہے جو شیعہ کے نزدیک بھی شاہد عدل ہے بلکہ وہ شیعہ کے نزدیک اہل بیتؓ سے ہے تو اس نے اپنی بہن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عدالت، ثقاہت اور صدق کا فیصلہ کیا ہے اور یہ سب کچھ اس روایت میں ہے جسے روافض نے خود روایت کیا اور اسے وہ حجت مانتے ہیں تو پھر وہ اسماء کی تعدیل و تحکیم سے کیوں رک جاتے ہیں؟
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے صدق کے اس قدر دلائل ہیں کہ ان کا لقب ہی صدیقہ رضی اللہ عنہا پڑ گیا اور وہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کے نزدیک لائق مدح و ثنا ہیں۔ ان کے صدق کے اس سے بڑی دلیل کیا ہو گی کہ انھوں نے ایسی روایات بھی روایت کی ہیں جن میں ان کی اپنی تنقیص کا پہلو نکلتا ہے اور وہ احادیث بھی روایت کی ہیں جن میں حق ان کے مدمقابل کو ملتا ہے۔ ایسی احادیث میں سے حدیث ’’مغافیر‘‘ (گوند پینے والی) روایت بھی ہے جو پہلے بھی گزر چکی ہے اور آئندہ بھی آ رہی ہے۔
انھوں نے یہ روایت بھی کی ہے:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں اعتکاف بیٹھتے تھے اور جب صبح کی نماز پڑھا لیتے تو اپنی اعتکاف والی جگہ پر چلے جاتے۔ بقول راویٔ حدیث: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اعتکاف کرنے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اجازت دے دی۔ چنانچہ ان لیے ایک خیمہ لگا دیا گیا۔ جب حفصہ رضی اللہ عنہا کو پتا چلا تو انھوں نے بھی خیمہ لگا دیا اور جب زینب رضی اللہ عنہا نے سنا تو انھوں نے بھی ایک اور خیمہ لگا لیا، جب مذکورہ صبح کی نماز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو کر واپس پلٹے تو چار خیمے دیکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، یہ کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی بیویوں کے خیموں کے متعلق بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استفسار فرمایا: انھیں اس فعل پر کس نے آمادہ کیا؟ کیا نیکی کرنا چاہتی ہیں؟ ان خیموں کو اکھاڑ دو۔ میں ان کو دیکھنا نہیں چاہتا۔ تب وہ اکھیڑ دیئے گئے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں اعتکاف نہ کیا حتیٰ کہ شوال کے آخری دہائی میں اعتکاف کیا۔‘‘
(صحیح بخاری: حدیث نمبر 2041۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 1173)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے
’’میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہہ دیا آپ کو صفیہ کی ایسی ایسی کمزوری (یعنی پستہ قامت) نہیں کھلتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک تو نے ایسا لفظ کہا ہے اگر اسے سمندر کے پانی میں ملایا جائے تو پانی پر اس کی کڑواہٹ غالب آ جائے۔‘‘
(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں
’’میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی انسان کے متعلق کچھ کہہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کسی انسان کے متعلق کچھ سننے میں دلچسپی نہیں رکھتا جبکہ مجھ میں ایسی ایسی (خطائیں) ہوں۔‘‘
(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے
’’سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہالہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اجازت طلب کرنے کا انداز یاد آ گیا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سرد آہ بھری اور فرمایا: اے اللہ! یہ تو ہالہ ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: مجھے غیرت آ گئی۔ چنانچہ میں نے کہا: آپ قریش کی سرخ باچھوں والی ایک بوڑھی عورت کی یاد میں کیوں گھلے جاتے ہیں زمانہ ہوا وہ فوت ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے آپ کو اس سے اچھی نعمتیں دے دیں۔‘‘
(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)
اسی طرح کی ایک روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہ الفاظ بھی منقول ہیں:
مَا غِرْتُ عَلَی امْرَأَۃٍ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا غِرْتُ عَلَی خَدِیجَۃَ ہَلَکَتْ قَبْلَ أَنْ یَتَزَوَّجَنِی لِمَا کُنْتُ أَسْمَعُہُ یَذْکُرُہَا وَأَمَرَہُ اللّٰہُ أَنْ یُبَشِّرَہَا بِبَیْتٍ مِنْ قَصَبٍ وَإِنْ کَانَ لَیَذْبَحُ الشَّاۃَ فَیُہْدِی فِی خَلَائِلِہَا مِنْہَا مَا یَسَعُہُنَّ۔
ترجمہ: ’’میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی پر اتنی غیرت نہیں کھائی جتنی غیرت میں نے خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں محسوس کی۔ اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے ساتھ شادی ہونے سے پہلے وہ فوت ہو گئیں ۔ اس لیے کہ میں آپ کو ہر وقت انھیں یاد کرتے ہوئے دیکھتی اور سنتی، اور آپ کا یہ فرمان کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ انھیں جنت میں ان کے لیے موتی کے ایک گھر کی خوشخبری دے دیں اور اگر آپﷺ بکری ذبح کرتے تو ان کی ان سہیلیوں تک گوشت کا تحفہ ضرور بھیجتے جن تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسائی ہوتی۔
چنانچہ میں اکثر اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتی گویا دنیا میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کوئی اور عورت ہے ہی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے:
إِنَّہَا کَانَتْ وَکَانَتْ ، وَکَانَ لِی مِنْہَا وَلَدٌ
(صحیح بخاری: حدیث نمبر 3816۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 2434۔
امام ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں
’’سب سے زیادہ تعجب انگیز بات یہی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایک ایسی بوڑھی عورت کی نسبت سے غیرت محسوس ہوتی تھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی سے چند سال پہلے فوت ہو چکی تھیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو متعدد بیویاں دے کر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مشارکت کے ذریعہ اسے غیرت سے بچایا۔ درحقیقت یہ اللہ تعالیٰ کے اس خاص لطف و عنایت کا ادنیٰ نمونہ ہے جو اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کیے۔ تاکہ ان کے حسن معاشرت میں کجی نہ پیدا ہو جائے اور شاید کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی محبت کے ذریعہ ان کی غیرت کے معاملہ کو کم کیا۔ پس اللہ تعالیٰ اس پر اور وہ اللہ تعالیٰ پر راضی رہے۔‘‘ (سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 165)
’’اس میں یہ یہ (خوبیاں ) تھیں اور اس سے میری اولاد ہے۔‘‘
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ کیا تو میں نے کہا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو ایک سرخ باچھوں والی قریشی عورت۔
اور دوسری سند کے راوی عفان کے یہ الفاظ ہیں
ایک بوڑھی قریشی عورت۔ جو زمانہ ہوا فوت ہو چکی کا اچھا بدلہ دے دیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ یکلخت ہیبت ناک ہو گیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا یہ رنگ صرف نزول وحی یا کالی گھٹا کو دیکھتے وقت ہی دیکھتی تھی یہاں تک کہ آپﷺ دیکھ لیتے یہ رحمت کا بادل ہے یا عذاب کا۔‘‘
(المخیلۃ: وہ بادل جس میں بارش برسانے کے آثار ہوں۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر، جلد 2 صفحہ 93)
(مسند احمد، حدیث: 25212۔ شعیب ارناؤوط
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
’’ایک رات میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گم پایا تو میں نے سوچا کہ شاید آپﷺ اپنی کسی دوسری بیوی کے پاس چلے گئے ہوں۔ چنانچہ میں نے آپ کی سن گن لی پھر واپس آئی تو دیکھا کہ آپ حالت رکوع یا سجدے میں ہیں اور یہ دعا کر رہے ہیں: ’’میں تیری حمد کے ساتھ تیری تسبیح کرتا ہوں، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔‘‘تو میں نے دل میں کہا: میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان! میں کیا سوچ رہی ہوں؟ یقیناً آپﷺ کا معاملہ الگ ہے۔‘‘
(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 485)
اسی باب کی وہ روایت بھی ہے جو محمد بن قیس بن مخرمہ بن مطلب (محمد بن قیس بن مخرمہ قریشی مطلبی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ اس نے کم عمری میں پایا۔ (تہذیب التہذیب: جلد 5 صفحہ 263۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 6 صفحہ 255۔ نے روایت کی کہ اس نے ایک دن کہا: کیا میں تمھیں اپنے اور اپنی والدہ کے بارے میں ایک حدیث نہ بتاؤں۔ بقول راوی ہم نے سوچا کہ اس کی مراد اس کی وہ ماں ہے جس نے اسے جنا۔ اس نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا میں تمھیں اپنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایک حدیث نہ سناؤں ؟ ہم نے کہا، کیوں نہیں۔ انھوں نے فرمایا: جب میری وہ رات آئی جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس ہونا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر آئے، اپنی اوپر والی چادر اتار دی، اپنے جوتے اتارے اور اپنے پاؤں کی طرف رکھ دئیے اور اپنا نصف تہہ بند اپنے بستر پر پھیلا دیا اور لیٹ گئے۔ ابھی کچھ دیرہی گزری تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندازہ کر لیا کہ میں سو گئی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے اپنی چادر اٹھائی اور آہستگی سے اپنے جوتے پہنے اور دروازہ کھول کر آپﷺ باہر چل پڑے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آہستگی سے بند کر دیا۔ چنانچہ میں نے بھی اپنی چادر لی اور سر ڈھانپ لیا اور اپنا تہہ بند کس لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑی یہاں تک کہ آپ بقیع (مدینہ کے قبرستان) میں آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام شروع کیا اور اسے خوب طویل کر دیا۔ پھر آپ نے تین بار اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے۔ پھر آپﷺ واپس مڑے تو میں بھی مڑ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفتار تیز ہو گئی تو میں نے بھی اپنے چلنے کی رفتار تیز کر لی۔ آپﷺ دوڑ پڑے تو میں بھی دوڑ پڑی۔ آپﷺ اپنے گھر تک پہنچ گئے۔ میں بھی آپﷺ کے ساتھ پہنچ گئی۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھ کر اندر داخل ہو گئی۔ تو جونہی میں بستر پر لیٹی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اندر آ گئے اور فرمایا اے عائشہ! کیا بات ہے سانس پھولا ہوا ہے؟ وہ فرماتی ہیں میں نے کہا: کچھ بھی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا تو تم مجھے بتا دو یا وہ باریک بین خبر رکھنے والی ذات مجھے بتا دے گی۔ وہ کہتی ہیں، میں نے کہا: اے رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! پھر میں نے آپ کو پوری بات بتا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو وہ ہیولا تیرا تھا جو میرے آگے تھا۔ میں نے کہا: جی ہاں ۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے میں زور سے دو ہتھڑ(دونوں ہاتھ) مارے جس سے مجھے خاصی تکلیف ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرا یہ گمان ہے کہ اللہ اور اس کا رسول تیرے ساتھ زیادتی کریں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: لوگ جس قدر بھی چھپا لیں اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔
(اس عبارت کی تفسیر گزر چکی ہے۔)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! ایسے ہی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نے دیکھا کہ جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے ہیں اور مجھے بلایا، لیکن تم سے اپنے آپ کو مخفی رکھا۔ میں نے جبریل کی پکار پر لبیک کہا، میں نے بھی اپنے اس فعل کو تم سے مخفی رکھا اور جب تم بستر میں ہوتی ہو تو وہ تمہارے پاس نہیں آتا، لہٰذا میں نے سوچا کہ تم یقیناً سو چکی ہو، تو میں نے تمھیں بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا اور مجھے یہ بھی اندیشہ تھا کہ کہیں تم دہشت زدہ نہ ہو جاؤ۔ جبریل علیہ السلام نے کہا: بے شک آپ کا رب آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ بقیع میں (مدفون) لوگوں کے پاس جائیں اور ان کے لیے استغفار کریں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میں ان کے لیے کس طرح دعا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہو:
اَلسَّلَامُ عَلٰی اَہْلِ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُسْلِمِیْنَ، یَرْحَمُ اللّٰہُ الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنَّا وَ الْمُسْتَأْخِرِیْنَ وَ اِنَّا اِنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَلَاحِقُوْن
(اس روایت کی تخریج گزر چکی ہے)
’’اہل ایمان و اہل اسلام کے گھر والوں پر سلامتی ہو اور اللہ ہم سے پہلے جانے والوں اور بعد میں جانے والوں پر رحم کرے اور بے شک ہم بھی اگر اللہ نے چاہا تو تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔‘‘
اس قسم کی احادیث میں سے وہ حدیث بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مرویات میں سے ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو ہونے کا تذکرہ ہے اور اس حدیث کی وجہ سے شیعہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر طعن و تشنیع کی ہے۔