Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تعارف امام مسلم رحمۃاللہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

امام مسلم رحمۃاللہ

نام: ابو الحسین عساکر الدین مسلم بن الحجاج بن مسلم بن ورد بن کوشاذ القشیری النیشا بوری۔

نسب و نسبت:

امام مسلم رحمۃاللہ نسباً عربی ہیں اور قشیر (بضم القاف وفتح الشين المعجمة وسكون الياء) قبیلہ سے آپ کا تعلق ہے اس لیے ان کو قشیری کہا جاتا ہے۔ 

(دیکھیے الانساب: جلد، 4 صفحہ، 105 مزید لکھتے ہیں: هذه نسبة الى قشير بن كعب بن ربيعه بن عامر بن صعصة قبيله كبيرة ينسب اليها كثير من العلماء) 

اور چونکہ شہر نیشاپور آپؒ کا مولد اور مسکن ہے تو اس کی طرف نسبت کر کے نیشاپوری بھی کہتے ہیں۔

مختصر تاریخ نیشاپور:

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں لشکرِ اسلام کے مجاہدین اہلِ نیشاپور سے صلح کر کے اس شہر میں داخل ہوئے اس کا بانی شاہ پور بتایا جاتا ہے جب اس علاقہ سے اس کا گزر ہوا تو اس نے کہا: اچھی جگہ ہے یہاں شہر بسانا چاہیئے اس کی طرف نسبت سے اس کا نام شاہ پور ہو گیا۔

(غیاث اللغات میں لکھا ہے: دراصل یہ شاہ پور یعنی شہر شاہ پور چراکہ نہ بالکسر شہر راگویند و ہائے ہوز بیائے تحتانی بدل شده، غیاث اللغات: 536)

نیشاپور خراسان کے مشہور شہروں میں سرِ فہرست تھا اس میں مختلف قسم کی معدنیات موجود تھیں اور اس کے باشندے خوشحال زندگی بسر کرتے تھے احمد بن طاہر کہتے ہیں: 

ليس فج الأرض مثل نيشابور بلد طيب ورب غفور۔ 

(معجم البلدان میں اس قول کی نسبت ابو العباس زوزنی معروف بما مونی کی طرف کی گئی ہے دیکھیے: معجم البلدان: جلد، 5 صفحہ، 332)

618ھ میں جب چنگیز خان کے لشکر نے شہر نیشاپور کا محاصرہ کیا ہوا تھا تو شہر والوں میں سے کسی نے تیر مارا جس کے نتیجہ میں چنگیز خان کا داماد قتل ہوا اس کے بعد چنگیز بذات خود نیشاپور پر یلغار کرنے کے لیے آیا اور مغول لشکر نے کسی زندہ انسان کو نہیں بچنے دیا، شہر نیشا پورا ایسا ویران ہوا کہ مؤرخین کہتے ہیں اس کے بعد کبھی اس کو وہ مقام و شرف حاصل نہ ہوا اب بھی نیشاپور موجود ہے لیکن پہلے کی نسبت بہت ہی چھوٹا مؤرخین کے مطابق نیشاپور اس زمانے میں دس لاکھ کی آبادی پر مشتمل تھا جبکہ فی الحال اس کی آبادی پچاس ہزار سے زیادہ نہیں۔

(دیکھیے لغت نامہ دہخدا: جلد، 48 صفحہ، 1008) 

اور نہ ہی اس میں وہ دینی، مذہبی اور علمی رونقیں اور بہاریں ہیں جس کی وجہ سے شہر نیشاپور کا نام آج تک تاریخ میں محفوظ ہے۔

دنیائے اسلام میں سب سے پہلا دارالعلوم:

مشہور یہ ہے کہ دنیائے اسلام میں سب سے پہلا مدرسہ نظامیہ بغداد ہے لیکن صحیح قول یہ ہے کہ مدرسہ بیہقیہ نیشاپور کو تقدم حاصل ہے نظامیہ بغداد سے پہلے نیشاپور میں کئی دار العلوم قائم ہو چکے تھے جن میں سے نظامیہ نیشاپور، سعدیہ، نصریہ کا نام لیا جا سکتا ہے۔ 

(دائرہ معارف اسلامیہ اردو: جلد، 20 صفحہ، 157، 158) 

امام الحرمین نے (متوفی 478ھ اور امام غزالیؒ کے استاذ) اسی مدرسہ بیہقیہ میں تعلیم حاصل کی تھی، شیخ ابوحفص حدادؒ 

(صحیح قول کے مطابق ان کا نام عمرو بن سلمہ ہے، علم و عرفان میں مشہور تھے، کسی نے آپ سے کہا کہ آپ کے یہاں کوئی خاص بات کرامت نظر نہیں آئی تو شیخ اس کا ہاتھ پکڑ کر لوہار کی دکان پر گئے اور ایک آتشیں لوہے کو ہاتھ میں لیا تو وہ فوراً ٹھنڈا ہوگیا تب سے آپ کو حداد کہا جاتا ہے وفات کے بارے میں 265، 267، 270 کے مختلف اقوال ملتے ہیں دیکھیے الانساب: جلد، 2 صفحہ، 181) 

1: ابو محمد مرتعشؒ متوفی 323ھ، ابو علی ثقفیؒ متوفی 328ھ۔

2: ابنِ راہویہؒ 

(ابنِ راہویہ رحمۃاللہ، امام بخاری رحمۃاللہ اور امام مسلم رحمۃاللہ کے استاد ہیں ان کی تاریخ وفات کے بارے میں 230، 237، 238 کے مختلف اقوال ملتے ہیں ان کے والد سفر کے دوران مکہ کے راستے میں پیدا ہوئے اس لیے ان کو راہویہ کہتے ہیں، فارسی میں "راہ" کے معنیٰ راستہ کے ہیں اور یہ ملنے کے معنیٰ میں ہے كأنه وجد فی الطريق۔ دیکھیے الرسالة المستطرفتہ: صفحہ، 55)

3: عمر خیام 

(یہ ابوالفتح عمر بن ابراہیم ہیں۔ ریاضی، فلکیات، لغت، فقہ اور تاریخ کے بڑے ماہر تھے لیکن ان کی شہرت ان کی رباعیات کی وجہ سے ہے جو کہ دنیا کی کئی اہم زبانوں میں ترجمہ ہو کر شائع ہو چکی ہے دیکھیے الاعلام: جلد،  5 صفحہ، 38) 

وغیرہ اسی سرزمین نیشاپور کے مدارس کے فیض یافتگان ہیں، امام مسلمؒ کے والد حجاج بھی نیشاپور کے مشایخ میں سے تھے۔ 

(دیکھیے تہذیب التہذیب: جلد، 10 صفحہ، 129)

ولادت: 

آپؒ کی ولادت میں کئی اقوال ہیں: 202، 204ھ، 206ھ۔

حافظ ابنِ کثیرؒ متوفی 774ھ کی تصریح سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک 204ھ راجح ہے، فرماتے ہیں: وكان مولده فی السنة التی مات فيها الشافعی وهی سنة اربع و مائتين۔ (البدايہ والنہايہ: جلد، 11 صفحہ، 34) 

لیکن علامہ ذہبیؒ نے 204ھ کو "یقال" کے ساتھ نقل کیا ہے۔

(دیکھیے تذکرۃ الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 577)

دوسرے محققین نے 206ھ کو راجح قرار دیا ہے، چنانچہ ابنِ خلکانؒ نے وفیات الاعیان میں (وفیات الاعیان: جلد، 5 صفحہ، 195) 

اور علامہ ابنِ اثیر جزریؒ نے مقدمہ جامع الاصول میں 

(جامع الاصول: جلد، 1 صفحہ، 188) 

اس کی تصریح کی ہے وفات بالاتفاق 261ھ میں ہے اس لیے راجح قول کے مطابق کل عمر 55 سال اور حافظ ابنِ کثیرؒ کے قول کے مطابق کل عمر 57 سال بنتی ہے حافظ ابنِ کثیرؒ نے تصریح کی ہے: فكان عمره سبعا وخمسين سنة۔

(البدايہ والنہايہ: جلد، 11 صفحہ، 34)

سماع حدیث:

علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں کہ آپؒ کے سماع حدیث کی ابتداء 217ھ میں 12 سال کی عمر میں ہوئی۔

(تذكرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 577) 

بعض حضرات نے لکھا ہے کہ ابتدائی سماع نیشا پور میں امام ذھلیؒ متوفی 357ھ سے کی، لیکن امام ذہبی رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ آپؒ نے ابتدائی سماع 218ھ میں یحییٰ بن یحییٰ التمیمی رحمۃاللہ سے کیا۔

(دیکھیے سیر اعلام النبلا: جلد 120 صفحہ 557)

پھر 220ھ میں حج کیا، وہاں امام قعنبی رحمۃاللہ سے سماع کیا امام قعنبیؒ آپ کے سب سے بڑے استاذ ہیں۔

علمی رحلات مشہور اساتذہ و تلامذہ:

امام مسلمؒ نے صرف اپنے شہر میں موجود ائمہ فن سے استفادہ کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس زمانے کے دستور کے مطابق انتہائی ذوق و شوق سے آپؒ نے مختلف بلاد و امصار کا سفر کیا اور اس فن کے مشہور و معروف ائمہ اعلام سے سیراب ہوئے، خراسان میں اسحاق بن راہویہؒ، یحییٰ بن بکیؒ، عراق میں احمد بن حنبلؒ اور عبد اللہ بن مسلمہ قعنبیؒ، حجاز میں سعید بن منصورؒ اور ابو مصعبؒ، مصر میں حرملہ بن یحییٰ و عمرو بن سوادؒ، رَی میں محمد بن مہرانؒ و ابوغسانؒ 

(علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں کہ امام مسلمؒ ابو غسانؒ سے نہیں ملے، بلکہ ان کی روایات کو کسی واسطے سے نقل کرتے ہیں اس لیے کہ ابو غسانؒ 219ھ میں وفات پا چکے تھے، دیکھیے سیر اعلام النبلاء: جلد، 12 صفحہ، 561) 

سے اور نیشاپور میں امام بخاریؒ سے بہت استفادہ کیا، احمد بن مسلمہؒ کی رفاقت میں بلخ و بصرہ کا بھی سفر کیا۔

(دیکھیے تذکرۃ الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 210)

بغداد بار ہا جانا ہوا بغداد کا آخری سفر 259ھ میں ہوا اس کے دو سال بعد انتقال ہوگیا۔ (دیکھیے تاریخ ابنِ خلکان: جلد، 5 صفحہ، 194 جامع الاصول میں لکھا ہے کہ بغداد کا آخری سفر 275ھ میں تھا، دیکھیے جامع الاصول: جلد، 1 صفحہ، 187) 

بغداد میں بھی آپ نے درس دیا 

(جامع الاصول: جلد، 1 صفحہ، 187، تہذیب الکمال: جلد، 27 صفحہ، 499)

آپؒ کے تلامذہ میں ابو عیسیٰ ترمذی صاحب السننؒ، ابوحاتم رازیؒ، ابراہیم بن ابی طالبؒ، ابنِ صاعدؒ، ابو حامد ابنُ الشرقیؒ 

(آپ کے والد کا نام محمد بن حسن ہے، نیشاپور کی شرقی جانب میں سکونت پذیر تھے اس لیے ان کو الشرقی کہا جاتا ہے۔ دیکھیے سیر اعلام النبلا: جلد، 150 صفحہ، 37) 

ابو احمد بن حمدانؒ، ابراہیم بن محمد بن سفیانؒ، ابو حاتم مکی بن عبدانؒ، محمد بن مخلدؒ، احمد بن سلمہؒ، موسیٰ بن ہارونؒ اور ابو عوانہؒ جیسے آئمہ فن شامل ہیں۔

امام مسلم رحمۃاللہ کے وہ اساتذہ جن کی روایت صحیح مسلم میں نہیں:

امام مسلمؒ کے اساتذہ کی ایک فہرست ایسی بھی ہے جن کی روایات آپ نے صحیح میں نہیں لی، ان حضرات میں سے ایک امام ذھلیؒ ہیں، ان کا قصہ مشہور ہے کہ جب امام بخاری رحمۃاللہ نیشاپور تشریف لائے اور آپؒ کی تشریف آوری سے وہاں کی تمام علمی مجالس بے رونق ہو گئیں تو حسد کی آگ شعلہ زن ہوئی حتیٰ کہ امام ذھلیؒ نے بھی مسئلہ خلقِ قرآن میں امام بخاریؒ سے نہ صرف یہ کہ اختلاف کیا بلکہ اپنے سبق میں اعلان کر دیا: 

الا من كان يقول بقول البخاری فی مسئلة اللفظ بالقرآن فليعتزل مجلسنا۔

اس اعلان کو سن کر امام مسلمؒ اور احمد بن سلمہؒ فوراً مجلس سے اٹھے اور ان کی روایات کا پورا ذخیرہ ان کو واپس کر دیا اور امام ذھلیؒ سے روایت کرنا ترک کر دیا۔

(دیکھیے سیر اعلام النبلا: جلد، 12 صفحہ، 572 البدایۃ والنہایۃ: جلد،1 صفحہ، 35، تذکرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 579 تاریخِ بغداد: جلد، 13 صفحہ، 103)

امام مسلمؒ نے امام بخاری رحمۃاللہ کے ساتھ کمالِ حسن عقیدت و محبت کے باوجود ان سے کوئی روایت نہیں لی اس بارے میں علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں: ثم ان مسلماً لحدة فی خلقه انحرف ايضا عن البخارى ولم يذكر له حديثا ولا سماه فی صحیحہ۔ 

(سیر اعلام النبلا: جلد، 12 صفحہ، 573)

لیکن اس سے بہتر بات حافظ ابنِ حجرؒ نے کی ہے، فرماتے ہیں: قلت قد أنصف مسلم، فلم يحدث فی كتابه عن هذا ولا عن هذا۔

(هدی الساری مقدمة فتح الباری: صفحہ، 491 دار نشر الکتب الاسلامیہ لاہور پاکستان)

اسی طرح علی بن الجعدؒ متوفی 230ھ، علی بن المدینیؒ متوفی 234ھ محمد بن عبد الوہاب الفراءؒ متوفی 272ھ وغیرہ بھی آپؒ کے اساتذہ ہیں لیکن ان کی روایات صحیح مسلم میں نہیں ہیں۔

حلیہ مبارک:

امام حاکمؒ فرماتے ہیں کہ آپ دراز قد اور بہت ہی خوبرو تھے، سر اور ریش مبارک کے بال سفید تھے، عمامہ کا سرا شانوں کے درمیان لٹکائے رکھتے تھے۔

 (مقدمہ تحفۃ الاحوذی: صفحہ، 60 سیر اعلام النبلا: جلد، 120 صفحہ، 566، 570)

سیرت و اخلاق:

آپ نے پوری زندگی میں نہ کسی کی غیبت کی کسی کو برا بھلا کہا اور نہ کسی کو ناحق مارا۔ 

(بستان المحدثین: صفحہ 280، ایچ ایم سعید) 

اساتذہ اور مشائخ کا بے حد احترام کرتے تھے لیکن اگر کسی مسئلہ میں اساتذہ سے اختلاف ہو جاتا اس کا صاف اظہار فرماتے، چھپاتے نہیں تھے، جیسے مسئلہ خلقِ قرآن میں ہوا، علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے: كان مسلم بن الحجاج يظهر القول باللفظ ولا يكتمه۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 12 صفحہ، 572)

خراج عقیدت:

اکابر امت نے ہمیشہ امام مسلمؒ کے علم و فضل کا اعتراف کیا ہے اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے، چنانچہ امام بخاریؒ و امام مسلمؒ کے شیخ محمد بن بشارؒ فرماتے ہیں: دنیا میں چار حفاظ ممتاز ہیں ابوزرعہؒ ری میں، مسلم بن الحجاجؒ نیشاپور میں، عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمیؒ سمرقند میں اور محمد بن اسماعیلؒ بخارا میں

(دیکھیے سیر اعلام النبلا: جلد، 13 صفحہ، 423، 564، تذکرۃ الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 579 تاریخ بغداد: جلد، 2 صفحہ 16) 

ابوزرعہ رازیؒ اور ابو حاتمؒ نے ان کو اپنے زمانے کے تمام شیوخ پر فائق بتایا ہے، احمد بن سلمہؒ کہتے ہیں کہ یہ دونوں حضرات احادیث کی صحت و سقم کے بارے میں امام مسلمؒ کو اپنے ہمعصر تمام مشایخ پر ترجیح دیتے تھے۔(دیکھیے تذکرۃ الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 589 سیر اعلام النبلا: جلد، 12 صفحہ، 563، البدايہ والنہايہ: جلد، 1 صفحہ، 33، طبقات حنابلہ: جلد، 1 صفحہ، 338 تاریخ بغداد: جلد، 13 صفحہ، 101، جامع الاصول: جلد، 1 صفحہ، 187) 

امام مسلمؒ کے استاد الحق بن راہویہؒ نے کسی موقع پر فرمایا: ای رجل هذا اللہ ہی جانتا ہے کہ یہ کتنا بلند مقام حاصل کرے گا 

(سیر: جلد، 12 صفحہ، 564 تذكرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 589 تاریخِ بغداد: جلد، 13 صفحہ، 103) 

ابو عمرو حمدانؒ کہتے ہیں: میں نے ابنِ عقدہ سے پوچھا امام بخاریؒ احفظ ہیں یا امام مسلمؒ؟ فرمایا بھائی یہ دونوں عالم ہیں، جب میں نے کئی مرتبہ یہی سوال دہرایا تو فرمایا کہ امام بخاریؒ اہلِ شام کی احادیث میں کبھی غلطی کر جاتے ہیں، بایں طور کہ کبھی کسی راوی کا ذکر کرتے ہیں اور پھر دوسرے مقام پر اسی راوی کی کنیت ذکر فرماتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ دو الگ الگ اشخاص ہیں، جبکہ امام مسلمؒ ایسا نہیں کرتے۔

(تہذیب التہذیب: جلد، 10 صفحہ، 128  البدايہ والنہايہ: جلد، 1 صفحہ، 34 تاریخِ بغداد: جلد، 13 صفحہ، 102، 103، جامع الاصول: جلد، 1 صفحہ، 188 طبقات حنابلہ: جلد، 1 صفحہ، 338) 

اسحاق بن منصورؒ نے امام مسلمؒ کو دیکھ کر فرمایا: لن نعدم الخير ما ابقاك الله للمسلمین۔

 یعنی آپ کا وجود مسلمانوں کے لیے باعث خیر و برکت ہے۔

(دیکھیے تہذیب التہذیب: جلد، 10 صفحہ، 128 تذکرة الحفاظ: جلد، 2  صفحہ، 588)

بعد میں آنے والے علماء و مصنفین نے بھی انتہائی وقیع الفاظ میں امام مسلمؒ کا تذکرہ کیا ہے، چنانچہ حافظ ذہبیؒ متوفی748ھ فرماتے ہیں:

 هو الامام الكبير الحافظ المجود الحجة الصادق۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 12 صفحہ، 557) 

اور اپنی دوسری تصنیف تذکرۃ الحفاظ میں لکھتے ہیں: الامام الحافظ، حجة الاسلام۔ (تذکرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 588) 

علامہ نوویؒ فرماتے ہیں: انه امام لا يلحقه من بعد عصره وقل من يساويه بل يدانيه من اهل وقته و دهره۔

(مقدمہ شرح نووی: صفحہ، 12)

وفات کا المناک واقعہ:

اس بات پر تمام اہلِ علم کا اتفاق ہے کہ امام مسلمؒ کی وفات 261ھ میں ہوئی ہے ابنِ خلکانؒ لکھتے ہیں کہ آپ نے بروز یکشنبہ وفات پائی اور بروز دو شنبہ نیشاپور کے باہر نصیر آباد میں دفن کئے گئے۔

(وفیات الاعیان: جلد، 2 صفحہ، 136)

 علامہ ذہبی رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ ان کی قبر زیارت گاہ بنی ہوئی ہے۔

(تذكرة الحفاظ: جلد 2 صفحہ، 590)

کہا جاتا ہے کہ مجلس درس میں آپؒ سے کسی حدیث کے متعلق سوال کیا گیا، اتفاق سے اس وقت آپؒ کو یاد نہ آیا جب گھر تشریف لائے اُن کی خدمت میں کچھ کجھوریں پیش کی گئیں، آپؒ حدیث تلاش کرتے رہے اور خرما بھی کھاتے رہے، یہاں تک کہ حدیث مل گئی اور کھجور بھی ختم ہو گئیں، یہی واقعہ آپؒ کے وصال کا سبب بنا۔

(دیکھیے سیر اعلام النبلا: جلد 120 صفحہ 564، البدایہ والنہایہ: جلد، 1 صفحہ، 34 تہذیب التہذیب: جلد، 10 صفحہ، 127 تاریخ بغداد: جلد، 13 صفحہ، 103)

وفات کے بعد ابو حاتم رازی رحمۃاللہ نے امام مسلم رحمۃاللہ کو خواب میں دیکھا، حال پوچھا تو فرمایا! اللہ نے اپنی جنت کو میرے لیے مباح کر دیا ہے، جہاں چاہتا ہوں پھرتا ہوں۔ (بستان المحدثین: صفحہ، 281)

ابو علی زاغونیؒ کو کسی نے خواب میں دیکھا، پوچھا کس عمل سے آپ کی نجات ہوئی، انہوں نے صحیح مسلم کے کچھ اجزاء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ان کی بدولت 

(حوالہ بالا) 

امام مسلم رحمۃاللہ کا مسلک:

امام مسلم رحمہ اللہ کے مسلک کی تعیین میں اقوال علماء کافی مختلف ہیں، علامہ انور شاہ کشمیریؒ فیض الباری میں لکھتے ہیں کہ امام مسلمؒ کا مذہب معلوم نہیں ہے اور صحیح مسلم کے تراجم سے بھی ان کے مذہب کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا، اس لیے کہ وہ تراجم دوسروں نے قائم کیے ہیں۔

(فیض الباری: جلد، 1 صفحہ، 58)

 اسی طرح العرف الشذی میں فرماتے ہیں: أما مسلم فلا أعلم مذهبه بالتحقيق۔ 

(العرف الشذى مطبوع مع جامع الترمذی: جلد، 1 صفحہ، 2) 

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دھلویؒ نے الانصاف میں 

(الانصاف فی بیان سبب الاختلاف: صفحہ، 79، 80) 

نواب صدیق حسن خانؒ نے الحطہ میں 

لحملة فی ذكر الصحاح الستہ: صفحہ، 328 پاکستان لاہور) 

حاجی خلیفہؒ نے کشف الظنون میں 

شف الظنون عن اسامی الكتب والفنون: جلد، 1 صفحہ، 555 بیروت)

 امام مسلمؒ کو شافعی کہا ہے صاحب الیانع الجنیؒ نے لکھا ہے کہ امام مسلمؒ اصولی طور پر شافعی ہیں اور بہت کم مسائل میں انہوں نے امام شافعیؒ سے اختلاف کیا ہے۔ 

(لامع الدراری: جلد، 1 صفحہ، 70) 

علامہ ابراہیم بن شیخ عبداللطیف سندھیؒ فرماتے ہیں: کہ امام مسلمؒ کے بارے میں عمومی خیال یہ ہے کہ آپ شافعی ہیں لیکن در حقیقت آپ مجتہد ہیں، یہ الگ بات ہے کہ اکثر مسائل میں آپ کا اجتہاد امام شافعیؒ سے جا ملتا ہے۔

(ما تمس اليه الحاجة مطبوع مع سنن ابن ماجه: صفحہ، 25 واسم كتابه سحق الاغبياء من الطاعنين فی كمل الأولياء واتقياء العلماء، وقال الشيخ محمد ادريس الكاندهلوى فی تعليقه على لامع الدراری: هذا الكتاب من محفوظات خزانة مدرسة: مظهر العلوم بكراتشی: انظر لامع الدراری: جلد، 1 صفحہ، 28) 

شیخ طاہر جزائریؒ نے بھی لکھا ہے کہ آپ مقلد محض نہیں تھے البتہ فقہ میں  امام شافعیؒ کی طرف مائل تھے۔ 

(توجيه النظر إلى أصول الأثر: صفحہ، 185)

اس طرح ابنِ حجرؒ اور ابن اثیرؒ کے کلام سے امام مسلمؒ کے مجتہد ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔ 

(ما تمس اليه الحاجة لمن يطالع سنن ابنِ ماجہ: صفحہ، 25، 26) 

ابنِ قیم رحمۃاللہ نے امام مسلم رحمۃاللہ کو حنبلی کہا ہے۔

(دیکھیے اعلام الموقعین: جلد، 2 صفحہ، 242 مطبوع دار الجیل، بیروت) 

اور ابنِ ابی یعلیٰؒ نے بھی آپؒ کا ذکر طبقاتِ حنابلہ میں کیا ہے، علامہ ابراہیم سندہیؒ نے اتحاف الاکابر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ امام مسلمؒ مالکی مذہب پر تھے، البتہ آپؒ کا ذکر طبقات مالکیہ میں نہیں ملتا۔

ا تمس اليه الحاجة لمن يطالع سفن ابنِ ماجه: صفحہ، 25، 26 )

تصانیف:

امام مسلم رحمۃاللہ نے صحیح مسلم کے علاوہ بہت سی کتابیں تصنیف فرمائی ہیں جن سے آپ کے علمی ذوق و مشغلہ کا اندازہ ہوتا ہے، ان کتابوں کی ایک اجمالی فہرست پیش خدمت ہے:

1: مسند کبیر 

2: الاسماء والکنی 

3: جامع کبیر 

4: کتاب العلل 

5: کتاب التميز 

6: كتاب الوحدان

7: کتاب الأقران 

8: کتاب حدیث عمر و بن شعیب 

9: کتاب الانتفاع با هب السباع

10: کتاب مشایخ مالک 

11: کتاب مشایخ الثوری 

12: کتاب مشایخ شعبة

13: کتاب المخضرمین

14: کتاب اولاد الصحابة 

15: کتاب أوهام المحدثین 

16: کتاب الطبقات 

17: کتاب افراد الشامیین 

18: کتاب سولاته احمد بن حنبل

19: کتاب من ليس له الاراو واحد 

20: کتاب رواۃ الاعتبار

(تذكرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 590 مقدمہ صحیح مسلم للنووی: صفحہ، 12)

وجہ تالیف صحیح مسلم:

سب سے پہلے امام بخاریؒ نے احادیثِ صحیحہ کو یکجا کر کے صحیح بخاری کی تصنیف فرمائی، اس عمل کو دیکھ کر امام مسلمؒ کا بھی ارادہ ہوا کہ اسی عنوان سے دوسرے انداز میں احادیث صحیحہ کو جمع کریں، اس ارادے کو ان کے شاگرد احمد بن سلمہؒ یا ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن سفیانؒ (علی اختلاف القولین) کی درخواست سے مزید تقویت ملی، جیسا کہ صحیح مسلم کے شروع میں مذکور ہے اور اس وقت کے حالات کا شدید تقاضا بھی یہی تھا کہ ایسی کتاب لکھی جائے، اس لیے کہ واضعین کا بازار گرم تھا اور کچھ سادہ لوح دیندار بھی ان کے ہمنوا ہو گئے تھے۔

امام بخاریؒ کا مقصود تخریج احادیث صحیحہ کے ساتھ ساتھ فقہ و تفسیر اور سیرت کا استنباط بھی تھا، اس لیے انہوں نے موقوف معلق اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعینؒ کے فتاویٰ بھی نقل کئے ہیں، لیکن امام مسلمؒ نے استنباط مسائل سے تعرض کئے بغیر احادیث صحیحہ اور ان کے مختلف طرق یکجا کرنے کو پیشِ نظر رکھا، اس وجہ سے احادیث منقطعہ وغیرہ ان کی صحیح میں شاذ و نادر ہیں۔

اہتمام تألیف:

امام مسلم رحمۃاللہ نے احادیث صحیحہ کی شناخت میں مہارت تامہ و کاملہ رکھنے کے باوجود اپنی صحیح کی تالیف میں ذاتی رائے تحقیق پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اس فن کے جلیل القدر ائمہ کی آراء کو بھی پیشِ نظر رکھا، چنانچہ وہ خود فرماتے ہیں: لیس کل شی عندی صحیح وضعته فهنا، انما وضعت ههنا ما اجمعوا عليہ۔

(صحیح مسلم: کتاب الصلوة باب التشهد: جلد، 1 صفحہ، 417)

 یعنی میں نے اس کتاب میں ہر وہ حدیث جو میرے نزدیک صحیح ہو، ذکر نہیں کی بلکہ ان احادیث کو ذکر کیا ہے جن کی صحت پر ائمہ فن کا اجماع ہو۔

امام مسلمؒ کا یہ جملہ علماء کے یہاں زیرِ بحث رہا ہے اور باعثِ تشویش بنا ہے اس لیے کہ صحیح مسلم میں کافی روایات موجود ہیں جن کی صحت میں کافی اختلاف ہے علامہ نوویؒ نے ابو عمرو بن صلاحؒ کے حوالے سے اس اشکال کے دو جواب نقل کئے ہیں۔

1: مقصد یہ ہے کہ صرف ان روایات کو ذکر کریں گے جن میں (امام مسلمؒ کے خیال کے مطابق) وہ تمام شرائط موجود ہوں جو صحت حدیث کے لیے مجمع علیہا ہیں، چاہے دوسرے حضرات کے یہاں وہ حدیث ان تمام شرائط کی حامل نہ ہو۔

2: یا یہ مراد ہے کہ انہوں نے کوئی ایسی حدیث اپنی صحیح میں ذکر نہیں کی جس میں ثقات کا نفس حدیث کے متن و سند دونوں میں اختلاف ہوا ہوتا، بعض رواۃ کی توثیق میں اختلاف سے قطع نظر 

(مقدمہ نووی: صفحہ، 5 علوم الحدیث لابن الصلاح: صفحہ، 20 دار الفکر )

لیکن ان جوابات سے زیادہ دلنشین توجیہ وہ ہے جو حضرت علامہ عثمانیؒ نے فتح الملہم میں کی ہے فرماتے ہیں کہ یہاں اجماع سے اجماع عام مراد نہیں بلکہ امام مسلمؒ کے چار شیوخ احمد بن حنبلؒ، ابو زرعہ رازیؒ، یحییٰ بن معینؒ، ابو حاتم رازیؒ کا اجماع مراد ہے۔

(فتح الملہم: جلد، 2 صفحہ، 4 وذكره فی المقدمہ أيضاً: صفحہ، 153)

لہٰذا کوئی اشکال نہیں رہا، البتہ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ علامہ عثمانیؒ نے مقدمہ فتح الملہم میں ابو حاتمؒ اور ابوزرعہؒ کے بجائے عثمان بن ابی شیبہؒ اور سعید بن منصورؒ کا نام ذکر کیا ہے جو بظاہر پہلے قول سے متعارض نظر آتا ہے لیکن یہ کوئی تعارض نہیں بلکہ دونوں اقوال جمع ہو سکتے ہیں تو گویا چھ اکابر کا اجماع مراد ہو گا، علامہ سیوطیؒ نے بھی تدریب الراوی میں عثمان بن ابی شیبہ اور سعید بن منصور کے نام کے بجائے ابو حاتمؒ اور ابوزرعہؒ نقل کئے ہیں۔ 

(تدریب الراوی: جلد، 1 صفحہ، 98 المكتبة العلمية بالمدينة المنورة

ابن الشرقیؒ کا بیان ہے کہ میں نے امام مسلمؒ سے سنا، وہ فرمایا کرتے تھے:

 ما وضعت شيئا فی کتابی هذا المسند الابحجة وما اسقطت منه شيئا الا بحجة۔ 

(دیکھیے تذکرۃ الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 590)

 مکی بن عبدانؒ کہتے ہیں کہ امام مسلمؒ نے کتاب کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے بعد اس کو حافظ ابو زرعہ کی خدمت میں پیش کیا اور جس روایت کے بارے میں کسی علت کی طرف اشارہ کیا اسے کتاب سے خارج کر دیا۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 12 صفحہ، 528 مقدمه نووی: صفحہ، 15)

زمانہ تالیف:

احمد بن سلمہؒ فرماتے ہیں: 

كنت مع مسلم فی تأليف صحيحه خمس عشرة سنة۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 12 صفحہ، 566 علامہ نوویؒ نے مقدمہ میں ست عشر سند نقل کیا ہے دیکھیے مقدمہ نووی مطبوع مع المسلم: صفحہ، 14 ہے)

پندرہ سال تک میں صحیح مسلم کی ترتیب و تالیف میں امام مسلم رحمۃاللہ کے ساتھ شریک رہا اسی طرح امام مسلمؒ کے خاص شاگرد ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن سفیانؒ کا بیان ہے کہ 257ھ میں اس کتاب کی قرأت سے فراغت پائی۔

(دیکھیے فوائد جامعہ برعجالہ نافعہ: صفحہ، 67 رقم الترجمہ: 273 مطبوع نور محمد کتب خانہ کراچی) 

یعنی امام مسلمؒ کے انتقال سے کافی پہلے کتاب مکمل ہو چکی تھی۔

تعداد روایات:

امام مسلم رحمۃاللہ فرماتے ہیں: صنفت هذا "المسند الصحيح" من ثلث مائة الف حديث مسموعة۔

(تاریخ بغداد: جلد، 13 صفحہ، 101، وفیات الاعیان: جلد، 5 صفحہ، 196 سیر اعلام النبلاء: جلد، 12 صفحہ، 565 تذكرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 589، مقدمہ نووی: صفحہ، 15)

احمد بن سلمہؒ کا قول ہے کہ اس میں بارہ ہزار حدیثیں ہیں۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 12 صفحہ، 566،  تذکرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 589)

 ابو حفص میانجیؒ فرماتے ہیں کہ اس میں آٹھ ہزار احادیث ہیں، شیخ طاہر جزائریؒ اور شیخ ابنِ صلاحؒ، امام سیوطیؒ اور محی الدین نوویؒ کے نزدیک مکررات کے علاوہ بنیادی حدیثیں چار ہزار ہیں۔

(النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 296، تدریب الراوی: صفحہ، 104) 

حافظ ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں، کہ یہ قول قابلِ اشکال ہے۔ 

(النكت: جلد، 1 صفحہ، 296) 

لیکن در حقیقت دونوں کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے، ہو سکتا ہے کہ شمار دونوں کے نزدیک مختلف رہا ہو حال ہی میں مصر کے ایک عالم محمد فؤاد عبدالباقیؒ نے صحیح مسلم کی شروع سے آخر تک تمام احادیث پر رقم لگائے تو ان کی تعداد بغیر مکررات کے 3033 تھی۔ (دیکھیے حولہ بالا)

تراجم و ابواب:

یہ طے شدہ بات ہے کہ امام صاحب رحمۃاللہ علیہ نے صحیح کے لیے تراجم قائم نہیں فرمائے اس وجہ سے کہ کہیں حجم کتاب زیادہ نہ ہو جائے یا یہ مقصد تھا کہ کتاب کے اندر سوائے صحیح احادیث کے کوئی خارجی بات نہ آئے۔

علامہ نووی رحمۃاللہ فرماتے ہیں کے امام مسلم رحمۃاللہ نے اگرچہ تراجم قائم نہیں فرمائے لیکن تراجم کا لحاظ کرتے ہوئے صحیح کی ترتیب دی ہے چنانچہ بعد کے آنے والے اہلِ علم حضرات نے تراجم قائم کرنے کی کوشش کی ہے جن میں بعض مناسب اور بعض غیر مناسب ہیں علامہ نووی رحمۃاللہ نے یہ بھی فرمایا کے میں بہتر تراجم قائم کرنے کی کوشش کروں گا۔

(دیکھیے شرح نووی مطبوع مع الصحیح: جلد، 1 صفحہ، 15)

لیکن علامہ عثمانی رحمۃاللہ فرماتے ہیں کے اس جلیل القدر امام کے شایان شان تراجم قائم نہیں کئے جاسکے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندہ کو اس کی توفیق دے تاکہ کما حقہ تراجم کرے۔

(فتح الملہم: جلد، 1 صفحہ، 278)

کیا صحیح مسلم جامع ہے؟:

جامع اصطلاح محدثین میں حدیث کی اس کتاب کو کہا جاتا ہے جس میں اصناف ثمانیہ موجود ہوں جنہیں علامہ کشمیری رحمۃاللہ علیہ نےاس شعر میں جمع کردیا ہے۔

سیر وآداب ، تفسیر وعقائد

رقاق واحکام ، اشراط ومناقب

(معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 18)

اس تعریف کے پیشِ نظر حضرت مولانا شاہ عبد العزیز دہلوی رحمۃاللہ نے فرمایا کہ مسلم کو جامع نہیں کہا جائے گا اس لیے کہ اس میں تفسیری روایات بہت کم ہیں۔ 

(عجالہ نافعہ: صفحہ، 158) 

ان کے مقابلے میں مؤلف قاموس مجد الدین شیرازی (متوفی 806ھ یا 807) استاد ابنِ حجر نے صحیح کو جامع کہا ہے اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں:

ختمت بحمدللہ جامع مسلم 

بجوف دمشق الشام جوف الاسلام

(دیکھیے مقدمہ تاج العروس: جلد، 1 صفحہ، 14 منشورات دار مکتبۃ الحیاۃ بیروت)

ملاعلی قاری رحمۃاللہ نے بھی مشکوٰۃ میں مسلم کو جامع کہا ہے لکھتے ہیں۔

ولہ مصنفات جلیلۃ غیر جامعہ۔

(مرقاۃ المفاتیح: جلد، 1 صفحہ، 17 ملتان، پاکستان)

حاجی خلیفہ نے بھی کشف الظنون میں حرف الجیم میں مسلم کو جامع لکھا ہے الجامع الصحیح للامام الحافظ ابی الحسین مسلم بن الحجاج۔ 

(کشف الظنون: جلد، 1 صفحہ، 555)

علامہ شبیر احمد عثمانی اور نواب صدیق حسن خان نے نے بھی حضرت شاہ صاحب کی رائے سے اختلاف کیا ہے اور فرمایا ہے کہ مسلم جامع ہے۔ 

(الحطۃ: صفحہ، 72 فتح المہلم: جلد، 1 صفحہ، 294)

باقی قلتِ روایات تفسیریہ کا ایک جواب یہ ہے کہ روایات تفسیریہ کم ہی ہیں اور بخاری میں جو بظاہر زیادہ نظر آتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ بخاری میں تکرار احادیث اور اقوال لغویہ بکثرت موجود ہیں اسی طرح آثار موقوفہ بھی کافی ہیں جن سے امام مسلم رحمۃاللہ بہت پرہیز کرتے ہیں۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ تفسیر میں جتنی روایات مرفوعہ مسندہ ہیں ان کی کافی تعداد مسلم میں موجود ہے البتہ وہ اپنے اپنے مقام پر پھیلی ہوئی ہیں۔ 

تیسرا جواب یہ ہے کہ احادیثِ تفسیریہ کا کم ہونا جامع ہونے کے منافی نہیں ہے، کیونکہ جامع سفیان ثوری اور جامع سفیان بن عینیہ بالاتفاق اسلام کی اولین جوامع میں شمار کی جاتی ہیں، حالانکہ ان میں تفسیر کی روایات بہت کم ہیں علامہ کتانی لکھتے ہیں ثم جامع سفیان الثوری وسفیان بن عینیہ فی السنن والآثار وشیئ من التفسیر فھذہ الخمسۃ اول شئ وضع فی الاسلام۔

(الرسالۃ المستطرفہ: صفحہ، 9 تفصیل کے لیے دیکھیے فتح المہلم: جلد، 1 صفحہ، 293)

خصوصیات مسلم:

عموماً مصنف کی کوشش و خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس کی کتاب ایسی خوبیوں سے آراستہ ہو جن سے دیگر مصنفین کی کتابیں خالی ہوں صحیح مسلم میں بھی ایسی کئی امتیازی خصوصیات ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں:

1: صحیح مسلم: 

سے استفادہ بہت ہی آسان ہے چونکہ امام مسلم رحمۃاللہ ہر حدیث کو اس کے مناسب مقام پر بیان فرماتے ہیں اور پھر اسی جگہ پر اس حدیث کے متعدد طرق اور مختلف الفاظ کو ذکر کر دیتے ہیں بخلاف امام بخاری رحمۃاللہ کے کہ وہ روایات میں تقدیم و تاخیر حذف و اختصار کرتے رہتے ہیں جس سے بعض مرتبہ تعقید پیدا ہوجاتی ہے۔ 

(النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 283 جوازِ اختصارِ حدیث کےلیے دیکھیے الباعث الحثیث: صفحہ، 121)

 2: تفاوت الفاظ کی نشاندہی:

یعنی اگر کسی کے پاس کوئی روایت دو یا اس سے زیادہ راویوں سے پہنچی ہے جس کا مضمون ایک لیکن الفاظ مختلف ہوں تو اس کے لیے جائز ہے کہ دونوں کو ایک سند میں جمع کر کے ایک راوی کے الفاظ کو بیان کرے لیکن بہتر طریقہ یہ ہے کہ جس سند سے جو لفظ سنا ہے اس کی تعیین کرے امام مسلمؒ نے اسی افضل صورت کو اختیار کیا ہے مثلاً فرماتے ہیں حدثنا فلان و فلان و اللفظ لفلان۔ 

 3: دفع التباس: 

کبھی یہ ہوتا ہے کہ ایک طبقہ میں ایک ہی نام کے متعدد راوی ہوتے ہیں تو امتیاز کے لیے نسب یا نسبت کا اضافہ کرنا پڑتا ہے کبھی کسی لفظ کی تشریح کی ضرورت پڑتی ہے شیخین (بخاری و مسلم) نے اس بات کا التزام کیا ہے چنانچہ روایت نقل کرتے وقت وہ ایسے لفظ کا اضافہ کر دیتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ توضیح و تشریح ان کی طرف سے ہے شیخ کے الفاظ نہیں ہیں مثلاً حدثنا عبداللہ بن سلمۃ حدثنا سلیمان یعنی ابن بلال عن یحییٰ وھو ابن سعید یعنی ابنِ بلال اور وھو ابن سعید کا اضافی اسی نکتہ کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔

 4: حدثنا اور اخبرنا میں فرق:

محدثین کے یہاں تدریس کے دو طریقے ہیں ایک یہ ہے کہ استاد پڑھے اور شاگرد سنے دوسرا اس کے برعکس ہے امام مسلمؒ کا مذہب یہ ہے کہ حدثنا کا اطلاق اس صورت پر ہوتا ہے جب کہ شاگرد استاد سے سنے اور اخبرنا جب کہ شاگرد استاد کو سنائے اور استاد سنے باقی اخبرنا کا اطلاق حدثنا پر یا حدثنا کا اطلاق اخبرنا پر جائز نہ ہوگا یہی مذہب ہے امام شافعیؒ ابنِ جریج اور اوزاعی ابنِ رجب اور جمہور اہلِ شرق کا امام بخاریؒ  کے یہاں یہ فرق نہیں ہے اور ان کے ساتھ زہری مالک سفیان بن عینیہ اور یحییٰ بن معین بھی ہیں (تفصیل کے لیے دیکھیے مقدمہ شرح النووی مطبوع مع الصحیح مسلم: جلد، 1 صفحہ، 15) بہر حال ظاہر ہے کہ کمال احتیاط امام مسلمؒ کے طریقے میں ہے۔

 5: قلت آثار وتعلیقات: 

امام مسلمؒ چونکہ استنباط مسائل سے تعرض نہیں کرتے اس لیئے آثارِ موقوفہ اور تعلیمات بہت ہی شاذ و نادر ملتے ہیں اور وہ بھی تبعاً و استشہاداً بخلاف امام بخاریؒ کے۔

6: ضبط اسماء: 

امام بخاریؒ سے کبھی اہلِ شام کی روایات میں تسامح ہو جاتا ہے اور ایک ہی راوی کے نام و کنیت کو دو آدمی سمجھ لیتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو اہلِ شام کی روایات بطریقِ منقولہ ملی ہیں امام مسلمؒ کو یہ مغالطہ نہیں ہوتا۔ 

( تذکرۃالحفاظ: جلد، 2 صفحہ 589)

7:روایت باللفظ:

امام صاحبؒ نے چونکہ اپنی کتاب اپنے شہر میں تصنیف کی اور اس وقت ان کے بہت سے شیوخ زندہ تھے اس لیے الفاظ کے سیاق و سباق میں نہایت غور و فکر سے کام لیا ہے اور روایت بالمعنیٰ کے بجائے روایت بالفظ فرماتے ہیں امام بخاریؒ نے چونکہ اپنی کتاب کی تصنیف مختلف بلاد و امصار میں فرمائی ہے اور اکثر و بیشتر اپنے حافظہ پر اکتفاء فرمایا ہے جس سے بعض مرتبہ استاد کے الفاظ چھوٹ جاتے ہیں (امام بخاریؒ فرماتے ہیں رب حدیث سمعتہ بالبصرۃ کتبتہ بالشام ورب حدیث سمعتہ بالشام کتبتہ بالمصر، تاریخِ بغداد: جلد، 2 صفحہ، 11 النکت علی ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 283)

8: احادیث کے بعض مجموعے: 

ایسے ہیں جن میں ایک ہی سند سے کئی روایات ہیں جیسے صحیفہ ہمام مام بن منبہ وغیرہ اس میں سے حدیثِ اول کے علاوہ کوئی دوسری حدیث روایت کرنی ہو تو اس کے لیے محدثین کے یہاں دو طریقے ہیں ایک یہ کہ جب پہلی حدیث کے ساتھ سند بیان کر دی جائے تو باقی احادیث میں سند بیان کرنے کی ضرورت نہیں فقط بالاسناد السابق کہنا کافی ہے عموماً عمل اسی پر ہے اور وکیع بن جراح یحییٰ بن معین ابوبکر اسماعیلی رحہم اللہ وغیرہ کا یہی قول ہے دوسرا احوط طریقہ یہ ہے کہ ہر حدیث کے ساتھ سند بیان کی جائے ابو اسحاق اسفرائینی جو اصولِ حدیث کے مسلم امام ہیں اسی کو ترجیح دیتے ہیں امام مسلمؒ نے بھی اسی احوط طریقہ کو اختیار فرمایا ہے مثلاً حدثنا محمد بن رافع حدثنا عبد الرزاق اخبرنا معمر عن ہمام بن منبه قال هذا ما حدثنا ابو هريره وذكر احاديث منها وقال رسول اللهﷺ اول زمرة تلج الجنة صورهم على صورة القمر ليلة البدر۔ 

(صحیح مسلم: جلد، 2 صفحہ، 379 کتاب الجنہ وصفت نعیمھا واھلھا)

  اس باب میں امام بخاریؒ کا طریقہ یہ ہے کہ جب کسی صحیفے سے روایت لانا چاہتے ہیں تو پہلے اس صحیفے کی حدیث اول مع سند بیان کرتے ہیں پھر اپنے مقصد کی حدیث لاتے ہیں تو دیکھنے والا حیران رہ جاتا ہے کہ ان دونوں احادیث میں کیا ربط ہے بات وہی ہے کہ پہلی حدیث سے دوسری حدیث کی سند کی طرف اشارہ ہے۔