تعارف امام نسائی رحمۃاللہ علیہ
شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحبامام نسائی رحمۃاللہ
ولادت 215ھ وفات 303ھ عمر88 سال:
نام ونسب ونسبت:
یہ ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب بن علی بن سنان بن بحر (خراسانی اور نسائی) ہیں۔
(تفصیلی حالات کے لئے دیکھیے: سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 125 الانساب: جلد، 5 صفحہ، 484 وفیات الاعیان: جلد، 1 صفحہ، 77 تذکرۃ الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 298 البدایہ والنہایہ: جلد، 11 صفحہ، 123 تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 36 معجم البلدان: جلد، 5 صفحہ، 282 تہذیب الکمال: جلد، 1 صفحہ، 328 الحطہ: 293)
آپ کی ولادت شہر نساء میں ہوئی چنانچہ اس کی طرف نسبت کرتے ہوئے آپ کو نسائی کہا جاتا ہے اور چونکہ شہر نساء سر زمینِ خراسان میں ہے تو آپ کو خراسانی بھی کہا جاتا ہے شہر النساء 32ھ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں عبداللہ بن عامر بن کریز کے ہاتھ صلحاً فتح ہوا اور احنف بن قیس اس پر گورنر مقرر ہوئے۔
(دیکھیے: الکامل ابن الکثیر: جلد، 3 صفحہ، 63 شذرات الذہب: جلد، 1 صفحہ، 27)
تحقیق النساء اور وجہ تسمیہ:
علامہ حمویؒ بھی فرماتے ہیں کہ یہ لفظ عجمی ہے اور خراسان میں شہر سرخس سے دو دن کے فاصلے پر ایک مشہور شہر کا نام ہے، نیشاپور اس سے بھی سات دن کے فاصلے پر ہے لشکر اسلام جب فاتحانہ خراسان میں پہنچا اور شہر کا رخ کیا تو تمام مرد شہروں سے نکل کر پہاڑوں میں پناہ گزیں ہوئے مسلمان جب شہر میں داخل ہوئے تو سوائے نساء (عورتوں) کے کوئی اور موجود نہیں تھا اس دن سے اس شہر کو نساء کہا جانے لگا اس وجہ تسمیہ کے پیشِ نظر شہر کا نام نساء (بسکون نون) ہونا چاہئے تھا، لیکن لفظ نساء (بفتح نون) سے مشہور ہوا۔
(معجم البلدان: جلد، 5 صفحہ، 281،282 الانساب میں ہے سمیت نسألان النساء کانت تحارب دون الرجال الانساب: جلد، 5 صفحہ، 483)
ابنِ خلکانؒ فرماتے ہیں: نساء بفتح النون و بفتح السین المھملہ و بعد ھمزہ۔
(وفیات الاعیان: جلد، 1 صفحہ، 78 شیخ مبارک پوری کہتے ہیں نسائی (بالمد) اور نسائی (بالقصر) دونوں صحیح ہیں دیکھیے تحفۃ الاحوذی: صفحہ، 66)
کبھی ہمزہ کو واؤ سے بدل کر نسوی بھی کہتے ہیں (جیسے کہ قیاس کا تقاضا ہے) لیکن مشہور تر نسائی ہی ہے۔
(معجم البلدان: جلد، 5 صفحہ، 282 الانساب: جلد، 5 صفحہ، 283)
ولادت:
امام صاحبؒ شہر نساء ہی میں پیدا ہوئے
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 125)
علامہ ابنِ اثیر کہتے ہیں کہ سنِ ولادت 252ھ ہے۔
(جامع الاصول: جلد، 1 صفحہ، 195)
لیکن ان کی یہ بات ایک تو امام صاحبؒ کی تصریح کے خلاف ہے وہ فرماتے ہیں: یشبہ ان یکون مولدی فی خمس عشرۃ و مائتین۔
(تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 34)
دوسری بات دوسری ابنِ حجر رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ امام صاحبؒ کی وفات 303ھ میں ہوئی ہے اور تقریباً تمام علماءِ مورخین اس پر متفق ہیں۔
(تذکرۃ الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 701 تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 39 جامع الاصول: جلد، 1 صفحہ، 195)
پھر حافظ صاحبؒ نے ذہبی کا قول نقل کیا ہے کہ ان کی کل عمر 88 سال ہے۔
(تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 39)
تو اس حساب سے 225ھ کا قول کسی صورت میں معقول نہیں، بلکہ اس سے امام صاحبؒ کے قول کی تائید ہوتی ہے، بعض حضرات نے 214ھ کا بھی قول نقل کیا ہے۔
(دیکھیے بستان المحدثین: صفحہ، 296)
ابتدائی تعلیم اور علمی رحلات:
اس زمانے میں سر زمینِ خراسان علم و علماء کا مرکز تھا اور بڑے بڑے اصحابِ فن اس علاقے میں گوہر افشانی کرتے تھے اور دور دراز سے تشنگانِ علم آ کر کسبِ فیض کرتے تھے تو بظاہر امام صاحبؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں ہی حاصل کی ہو گی اس کے بعد جب انہوں نے قصدِ سفر فرمایا تو سب سے پہلے امام قتیبہؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے علامہ سبکیؒ اور ذہبیؒ فرماتے ہیں: رحل قتیبةؒ وله خمس و عشرۃ سنة، سنة وثلاثین۔
(طبقات الشافعات الکبریٰ: جلد، 8 صفحہ، 84 تذکرۃ الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 698 امام نسائیؒ فرماتے ہیں: اقمت عندہ سنة وشھرین)
امام صاحبؒ 230ھ میں پندرہ سال کی عمر میں امام قتیبہ رحمۃاللہ کے پاس گئے، لیکن مقدمہ تحفۃ الاحوذی میں امام نسائیؒ کا یہ قول ملتا ہے وہ فرماتے ہیں: رحلتی الاولیٰ الی القتیبةؒ کانت فی سنة 35۔
(مقدمہ تحفۃ الاحوذی: صفحہ، 66)
یعنی 235ھ میں وہ قتیبہؒ کے پاس گئے ہیں تو اس لحاظ سے 20 سال کی عمر میں انہوں نے علمی سفر شروع کیا ہے، بعض حضرات نے عدد 35 سے یہ سمجھا ہے کہ 35 سال کی عمر مراد ہے لیکن یہ غلط ہے۔
اس کے بعد امام صاحبؒ نے حجاز، مصر، عراق، جزیرہ، شام، ثغور، اور دوسرے مقامات کے حفاظ حدیث سے یہ کسبِ فیض فرمایا اور بالآخر مصر میں جا کر رہائش پذیر ہوگئے۔
(تہذیب الکمال: جلد، 1 صفحہ، 329)
اساتذہ:
امام نسائیؒ کے اساتذہ کی فہرست کافی طویل ہے، ابنِ حجر رحمۃاللہ فرماتے ہیں: سمع من خلائق لا یحصون یأتی اکثرھم فی ھذا الکتب۔
(تہذیب الکمال: جلد، 1 صفحہ، 36)
علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں: سمع من خلق کثیر۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 127)
تاہم بعض مشہور اساتذہ یہ ہیں: اسحاق بن رہویہ، قتیبہ بن سعید، محمد بن بشار، محمد بن مثنیٰ، یحییٰ بن موسیٰ، ہشام بن عماد، علی بن حجر اور اپنے ہم عمر ساتھیوں میں سے امام ابو داؤد، سلیمان بن ایوب، اور سلیمان بن سیف سے روایت کرتے ہیں، بعض حضرات نے امام نسائیؒ کے اساتذہ کی فہرست میں امام بخاری رحمۃاللہ کا نام بھی لیا ہے، لیکن یہ بات محلِ نظر ہے ایک تو اس لئے کہ اسماء الرجال کی کسی کتاب میں امام نسائی رحمۃاللہ کے اساتذہ میں امام بخاریؒ کا نام نہیں ملتا اور نا ہی امام بخاری رحمۃاللہ کے تلامذہ کی فہرست میں امام نسائیؒ کا نام ملتا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ امام نسائی رحمۃاللہ نے اپنی کتاب "الکنی" میں کئی روایت عن عبداللہ بن احمد الخفاف عن البخاری کے طریق سے نقل فرمائی ہیں، چنانچہ صاحب تہذیب الکمال لکھتے ہیں: فھذۃ قرینة ظاھرۃ فی انه لم یلق البخاری ولم یسمع منه۔
(تہذیب الکمال: جلد، 24 صفحہ، 436)
البتہ ہمارے پاس نسائی کا جو نسخہ ہے:
(بروایت ابن السنی) اس میں ایک روایت اس سند سے مروی ہے: اخبرنا محمد بن اسماعیل البخاری قال حدثنی حفص بن عمر الحارث قال حدثنا حماد قال حدثنا معمر و النعمان بن راشد عن الزھری عن عروۃ عن عائشہؓ قالت: مالعنت رسول اللہ ﷺ من لعنة تذکر الخ۔
(نسائی: جلد، 1 صفحہ، 298 کتاب الصوم باب الفضل والجود فی شہر رمضان)
اس روایت کے متعلق صاحب تہذیب الکمال کہتے ہیں کہ نسائی کے دوسرے تمام نسخوں میں لفظ "البخاری" نہیں ہے اور ابن السنی کے نسخہ میں بھی صرف یہی ایک روایت بخاری سے منقول ہے اور یہ تب قابلِ تسلیم ہے جب کہ ہمیں یہ معلوم ہو کہ ابن السنی نے یہ لفظ اپنی طرف سے زیادہ نہیں کیا بلکہ امام نسائیؒ سے سنا ہے۔
(تہذیب الکمال: جلد، 24 صفحہ، 437)
واللہ تعالیٰ اعلم۔
تلامذہ:
امام صاحبؒ نے جب مصر میں سکونت اختیار فرمائی تو دنیا کے گوشہ گوشہ سے طالبِ علم حدیث ان کی طرف آنے لگے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 127)
اور حضرت امام کا حلقہ درس وسیع ہوتا گیا ابنِ حجر رحمۃاللہ فرماتے ہیں: سمع عنه امم لایحصون۔
(تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 37)
ان کے مشہور تلامذہ جو سنن کے بھی راوی ہیں، یہ ہیں: ان کے صاحبزادے عبد الکریم، ابوبکر احمد بن محمد ابن السنی، حسن بن خضر، حسن بن رشیق، حمزہ بن محمد، محمد بن عبد اللہ بن زکریا، نیشاپوری، محمد بن معاویہ الاندلسی، محمد بن قاسم، علی بن ابوجعفر بن طحاوی، مسعود بن علی بجانی۔
امام نسائی رحمۃاللہ کا علمی مقام:
تمام ائمہ حدیث اور صاحبانِ علم و کمال امام صاحبؒ کا علمی اعتراف کرتے ہوئے مختلف انداز سے ان کی تعریف کرتے ہیں، احمد بن محمد اور منصور رفیقہ کہتے ہیں: ابو عبد الرحمٰن امام بن ائمة المسلمین۔
(تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 37)
ابو علی نیشاپوری کا قول ہے: النسائی امام فی الحدیث بلا مدافعة پھر کہتے ہیں کہ میں نے اپنے تمام اسفار میں صرف چار حفاظ حدیث کو دیکھا ہے ان میں سے ایک امام نسائی رحمۃاللہ ہیں۔
(دیکھیے محولہ بالا)
عبداللہ بن محمد بن احمد بن حنبل اور ان کے کچھ ساتھی مشورہ کر رہے تھے کہ کس کے انتخاب سے احادیث لکھنی چاہیئے، تو سب کا اتفاق ہوا کہ امام نسائی رحمۃاللہ کی احادیثِ منتخبہ لکھنے کے قابل ہیں، کہ میں نے کئی بار علی بن عمر کو کہتے ہوئے سنا ابو عبدالرحمٰن مقدم علی کل من یذکر بھذا العلم من اھل العصرہ وھو افقہ مشائخ مصر فی عصرہ واعرفھم بالصحیح السقیم واعلمھم ھو بالرجال۔
(تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 37)
کہ امام نسائیؒ اپنے زمانے کے تمام محدثین و فقہا پر علمی فوقیت رکھتے تھے، علمِ رجال اور صحیح اور غیر صحیح احادیث کی پہچان میں سب سے آگے تھے ابوبکر بن حداد شافعی امام نسائی رحمۃاللہ کے علاوہ کسی اور سے روایت کرتے ہی نہیں تھے وہ فرمایا کرتے تھے: رضیت به حجة بینی و بین اللہ تعالیٰ علامہ ذہبی رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ امام نسائی رحمۃاللہ علمِ حدیث میں امام مسلم رحمۃاللہ ابو داؤد رحمۃاللہ اور ترمذی رحمۃاللہ سے زیادہ ماہر ہیں اسی طرح فرماتے ہیں: کان من بحور العلم، مع الفھم، والاتقان، والبصر، ونقد الرجال، وحسن التألیف۔
(سیر العلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 127، 133)
حلیہ اور طرز زندگی:
قدرت نے امام نسائی رحمۃاللہ کو باطنی محاسن اور خوبیوں کے ساتھ ساتھ حسن ظاہری کا بھی وافر حصہ عطاء فرمایا تھا چہرہ نہایت پر رونق اور روشن تھا، کہا جاتا ہے کہ بڑھاپے میں بھی حسن و تازگی میں بھی فرق نہیں پڑتا، یہاں تک کہ ایک مرتبہ بعض طلبہ نے کہا: ما اظن ابا عبدالرحمٰن الّا انه یشرب النبیذ (لنضرۃ التی فی وجھه) جب امام صاحبؒ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ نبیذ حرام ہے تو میں کیسے پی سکتا ہوں امام صاحبؒ کی خوراک اور پوشاک بھی نہایت عمدہ ہوتی تھی، بہترین لباس زیب تن فرماتے تھے اور روزانہ مرغ کھاتے تھے۔
(تمام اقوال کے لئے دیکھیے: سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 128)
ابن کثیرؒ فرماتے ہیں مرغ کھانے کے بعد حلال نبیذ (شربت) بھی نوش فرمایا کرتے تھے۔
(البدایہ والنہایہ: جلد، 11 صفحہ، 124)
صومِ داؤدی کہ عادی تھے
(دیکھیے محولہ بالا)
ایک دن روزہ رکھتے دوسرے دن افطار کرتے آپ کہ نکاح میں چار بیویاں اور لونڈیاں تھی امام صاحبؒ ان سب میں ترتیب کی ایک خاص رعایت فرماتے تھے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 128 البدایہ والنہایہ: جلد، 11 صفحہ، 123)
تقویٰ اور دلیری:
ابنِ حجر رحمۃاللہ نے ابو الحسن بن مظفر کا قول فرمایا ہے: میرے مصری شیوخ امام نسائی رحمۃاللہ کی کثرتِ عبادت کی تعریف کرتے تھے ان کو حج کا بہت شوق تھا اس کے لیے خاص اہتمام فرماتے تھے سنتوں پر پورا پورا عمل کرنا ان کا شیوہ تھا جہاد میں کئی بار شریک ہوئے اور ان تمام اوصافِ حمیدہ کے ساتھ مجالس سلاطین سے کنارہ کش رہتے تھے تاکہ اخلاص اور للہیت میں کوئی رخنہ نہ آنے پائے۔
(تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 38)
امام نسائی رحمۃاللہ اور حارث بن مسکین کا واقعہ:
پہلے آ چکا ہے کہ امام صاحبؒ پر تکلف لباس زیب تن فرماتے تھے ایک دن حارث بن مسکین کی مجلس میں تشریف لے گئے، حارث بن مسکین نے امام صاحبؒ کو اس ہیئت میں دیکھ کر یہ خیال کیا کہ شاید سلاطین وقت کی طرف سے مقرر شدہ آدمی ہے اور اس مجلس کے بارے میں کوئی معلومات حاصل کرنے آیا ہے تو ان کو کوفت ہوئی اور امام صاحبؒ کو سبق سے نکال دیا، اس دن کے بعد سے امام صاحبؒ جا کر دروازے کے پیچھے بیٹھ کر حدیث سنتے تھے یہی وجہ ہے کہ حدیث بیان کرتے وقت غایت احتیاط کا ثبوت دیتے ہوئے فرماتے تھے: قال الحارث بن مسکین قرات علیه وانا اَسمع۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 130 ابنِ اثیر لکھتے ہیں: حارث بن مسکین مصر میں قاضی کے عہدے پر فائز تھے اور امام نسائیؒ کے ساتھ کچھ نا خوش گواری تھی جس کی وجہ سے امام نسائی رحمۃاللہ مجلس درس میں شریک نہیں ہوسکتے تھے، جامع الاصول: جلد، 1صفحہ، 196)
وفات:
دنیا کا قانون ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو اونچا مقام عطاء فرماتے ہیں تو وہ حاسدین کے حسد کی زد میں آجاتا ہے اس کرہِ ارض میں سب سے پہلا قتل بھی اسی حسد کے نتیجے میں واقع ہوا تھا۔
امام نسائی رحمۃاللہ بھی اس عام ضابطے سے مستثنیٰ نہ رہے بلکہ جب ان کے علمی مقام کا چرچا ہوا تو حاسدین امام صاحبؒ کو طرح طرح سے ستانے لگے چنانچہ امام صاحبؒ مصر کو خیر آباد کہہ کر دمشق میں مقیم ہوئے۔
(یہ دن قاعدہ 302ھ کا واقعہ ہے دیکھیے الحطۃ: صفحہ، 294)
وہاں کے لوگ بوجہ سلطنت بنو امیہ کے خوارج کی طرف میلان رکھتے تھے۔
(دیکھیے بستان المحدثین:297)
ایک دن امام صاحبؒ سے حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے فضائل کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: الا یرضی راسا برأس حتیٰ یتفضل؟ ان کے لیے یہی بات کافی ہے کہ نجات پاجاویں، ان کے فضائل کہاں ہیں؟بعض نے کہا ہے کہ اس کے ساتھ یہ جملہ بھی فرمایا: ای شئی اخرج؟ حدیث: الھم لا تشبع بطنه؟'
(الحدیث اخرجه ابو داؤد الطیالسی من طریق ابو عوانة عن ابی الحمزہ القصاب عن ابن عباسؓ ان رسول اللہﷺ بعث الى الی معاويه ليكتب له فقال انه ياكل ثم بعث اليه، فقال انه ياكل، فقال رسول اللهﷺ لا اشبع الله بطنه مسند ابو داؤد الطیالسی :359 مکتبه حسینیه قال الذهبی هذه منقبه لمعاويه رضی الله عنه لقول رسول اللهﷺ اللهم من لعنته او سببته فجعل ذلك له زكاه ورحمه قلت! الحديثان اخرجهما مسلم فی البر والصلة: جلد، 2 صفحہ، 323 ،325 ہے قدیمی کتب خانہ،کراچی۔ والخبر فی البدایه والنہایة: جلد، 11 صفحہ، 124 سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 132 تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 38 معجم البلدان: جلد، 5 صفحہ، 282)
کہ ان کے مناقب میں کون سی احادیث کی تخریج کروں؟ ایک ہی حدیث ہے اے اللہ اس کے پیٹ کو سیر نہ کر، بعض کا کہنا ہے کہ امام صاحبؒ نے یہ جملہ کسی اور موقع میں فرمایا تھا، ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے مناقبِ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور فضائلِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں کتابیں لکھی ہیں تو سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے مناقب میں کیوں نہیں لکھتے؟ تو انہوں نے یہ جواب دیا بہر صورت جب امام صاحبؒ نے اہلِ دمشق کو یہ جواب دیا
(تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 38 سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 129)
تو وہ امام صاحبؒ پر ٹوٹ پڑے اور زدوکوب کیا چند ضربیں جسم کے نازک حصے پر لگیں خادم اٹھا کر گھر لے گئے، امام صاحبؒ نے فرمایا مجھے مکہ لے چلو تاکہ مکہ میں میرا انتقال ہو مکہ پہنچنے کے بعد بروز دو شنبہ 13 صفر المظفر 303ھ میں انتقال فرما گئے یہ قول دار قطنی اور ابنِ اثیر اور شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ کا ہے۔
(دیکھیے سیر اعلام: جلد، 14 صفحہ، 132 جامع الاصول: جلد، 1 صفحہ، 195 بستان المحدثین:298)
بعض حضرات کہتے ہیں کہ راستے میں شہر رملہ میں انتقال ہو گیا پھر جنازے کو اٹھا کر مکہ پہنچانے کے بعد صفا مروہ کے درمیان میں دفن کئے گئے۔
(بستان المحدثین: صفحہ، 298، الحلقہ: صفحہ، 294)
ابنِ یونس کا قول ہے کہ ان کی وفات فلسطین میں ہوئی علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں: هذا اصح فان ابنِ يونس حافظ يقظ وقد اخذ عن النسائی وهو به عارف۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 133)
حافظ ابنِ حجر رحمۃاللہ نے بھی اسی قول کو راجح قرار دیا ہے۔
(تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 39)
امام نسائی رحمۃاللہ پر تشیع کا شبہ:
امام نسائی رحمۃاللہ کے اس طریقے کار اور طرزِ کلام کو دیکھ کر بعض حضرات نے ان پر تشیع کا حکم لگایا ہے چنانچہ ابنِ اثیر رحمۃاللہ لکھتے ہیں: وقد قيل عنه انه كان ينسب اليه شیء من تشيع علامہ ذہبی رحمۃاللہ لکھتے ہیں: الا ان فيه قليل وانحرف عن خصوم امام علی كمعاوية وعمر رضی الله تعالىٰ عنهم و الله يسامحه۔
(البدایه والنہایة: جلد، 11 صفحہ، 124)
ابنِ خلکان رحمۃاللہ کہتے ہیں: وکان یتشبع۔
(وفات الاعیان: جلد، 1 صفحہ، 77)
البتہ یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیئے کہ قدماء کی اصطلاح میں تشیع اور رفض میں فرق تھا چنانچہ اگر کوئی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو افضل الخلق بعد رسول اللہﷺ مانتا تو وہ رافضی ہے۔
(الرافضة فرقة من الشيعة کانوا بایعوا زید بن علی بن حسین بن علی رضی اللہ عنہ ثم قالوا له تبرّا من الشیخین ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نقاتل معک فأبی، وقال کانا وزیری جدیﷺ فلا ابرأ منھما، فقالوا اذ نرفزك فتركه ورفضوه فمن ذلك الوقت سمو الرافضة والنسبة الرافضى وسميت شیعة بن زید الزیدیة، دیکھیے التعلیقات عبد الفتاح ابو غدہ براء اعلاء السنن: جلد، 1 صفحہ، 141)
اور اگر اس کے ساتھ وہ دوسرے اصحاب پر سبِ وشتم کرتا تو وہ غالی رافضی ہے اور اگر وہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی رجعت الی الدنیا کا قائل ہے تو حد سے زیادہ غالی فی الرفض سمجھا جائے گا لیکن اگر وہ حضراتِ شیخین کی فضیلت کا قائل ہے اور صرف حضرت علی المرتضیٰؓ کو حضرت عثمانِ غنیؓ پر ترجیح دیتا ہے اور ان کے مخالفین کو مخطی کہتا ہے تو شیعہ کہلاتا ہے اب ان کے بارے میں حکم یہ ہے کہ مطلق رافضی اور شیعہ کی روایت قبول ہے خصوصاً جب کہ وہ داعی الی المذھبہ نہ ہو البتہ غالی رافضی کی روایت مردود ہے یہ متقدمین کے ہاں ہیں متاخرین کی اصطلاح میں شیعہ اور غالی رافضی ایک ہی ہے، لہٰذا شیعہ کی روایت مردود ہے۔
(تفصیل کے لئے دیکھیے: ھدی الساری: صفحہ، 459)
حافظ ابو القاسم ابنِ عساکر اس بارے میں کہتے ہیں: هذه حكاية لا تدل على سوء اعتقاد على ابی عبد الرحمٰن فی معاويه وانما تذل على الكف فى ذكره بکل حال۔
(تہذیب الکمال: جلد، 1 صفحہ، 339)
حسن بن ابی ہلال کہتے ہیں کہ جب اس بارے میں امام نسائی رحمۃاللہ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: انما الاسلام كدار لها باب فباب الاسلام الصحابه، فمن اذى الصحابه انما اراد الاسلام، كمن نقر الباب انما يريد دخول الباب، قال: فمن اراد معاويه فانما اراد الصحابه۔(محولہ بالا: جلد، 1 صفحہ، 94)
مسلک:
امام نسائیؒ شاہ ولی اللہ اور شاہ عبد العزیز رحمۃاللہ کی رائے میں شافعی ہیں۔
(ما تمسه الیه الحاجته: صفحہ، 26 بستان المحدثین: صفحہ، 296)
ابنِ تیمیہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ یہ بھی اہلِ حدیث میں سے تھے نہ مقلد محض تھے نہ مجتھدِ مطلق۔
(توجیه النظر: 185)
امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃاللہ نے ان کو حنبلی قرار دیا ہے فرماتے ہیں: الامام ابو داؤد حنبلیبان۔
(فیض الباری: جلد، 1 صفحہ، 85 العرف الشذی: صفحہ، 2)
امام اعظم رحمۃاللہ اور امام نسائی رحمۃاللہ:
امام نسائی رحمۃاللہ نے اپنی کتاب "الضعفاء" میں امام ابوحنیفہ رحمۃاللہ کے بارے میں لکھا ہے و ابوحنیفہ لیس القوی فی الحدیث۔
(کتاب الضعفاء: صفحہ، 35)
جن لوگوں کو امام صاحبؒ کے علمی و روحانی مراتب میں عالیہ قابلِ برداشت نہیں اس جیسے عبارت کو بہت اچھالتے ہیں امام صاحبؒ کے اوصافِ حمیدہ اور خصائلِ جمیلہ علمی اور عملی مقام جاننے کے لیے مستقل تصانیف موجود ہیں ہم یہاں نہایت اختصار کے ساتھ امام نسائیؒ کے قول کا جواب ذکر کرتے ہیں۔
1: اس جرح کا ناقل حسن بن رشیق ہے جس پر کلام موجود ہے چنانچہ علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں: لینة الحافظ عبد الغنی بن سعید، ووفقه جماعته، وانکر علیہ دار قطنی انه کان یصلح فی اصله وبغیرہ اور جو آدمی اصل کتاب میں اپنی طرف سے کمی پیشی کرتا ہو اس کا اعتبار نہیں ہوتا۔
(میزان الاعتدال: جلد، 1 صفحہ، 490)
2: جرح کے باب میں امام نسائیؒ متششدد ہیں اور جارحین متشددین کے بارے میں فیصلہ یہ ہے کہ ان کی جرح مقبول نہیں جب تک کسی منصف اور معتبر امام صاحبؒ سے اس کی تصدیق موجود نہ ہو اعلاء السنن میں ہے: فمن المتشددین ابو حاتم و النسائی و ابن معین و فانھم معرفون بالاسراف فی الجرح والتغت فیه۔
(مقدمہ اعلاء السنن: جلد، 1 صفحہ، 110)
3: دار قطنی نے لکھا ہے: ابو حنیفة والحین بن عمارۃ ضعیفان محشی لکھتے ہیں: ضعفة النسائی من جھة حفظه۔
(سننِ دار قطنی مع شرح التعلیق المغنی: جلد، 1 صفحہ، 323 باب من کان له امام فقراة الام له قراءة)
لیکن دار قطنی کے مقابلے میں جو کہ امام صاحبؒ سے دو صدی بعد پیدا ہوئے۔
(امام ابو حنیفہؒ کو 150 ھجری میں شہید کر دیا گیا تھا اور دار قطنی 306 ھجری میں پیدا ہوئے)
ان حضرات کا قول زیادہ معتبر ہے جو امام صاحبؒ کے ہم عصر یا قریب العہد ہیں، جیسے: علی بن المدینی، یحییٰ بن معین وغیرہ ہم عنقریب ان حضرات کے اقوال نقل کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ شعبة بن حجاج جو نقد رجال میں متشدد ہے امام صاحبؒ کے بارے میں کہتے ہیں: کان واللہ حسن الفھم جید الحفظ۔
(الخیرات الحسان: صفحہ، 34)
اس صاف عبارت سے تمام متعصبین اور حاسدین کے اقوال ساقط ہو جاتے ہیں جو امام صاحبؒ کے حفظ پر اشکال کرتے ہیں۔
4: یہ بھی ہو سکتا ہے امام نسائیؒ نے حنفیہ کے بارے میں اور ارجاء کے اقوال سے متاثر ہو کر یہ فرمایا حالانکہ حنفیہ کی طرف ارجاء کی نسبت ایک بے اصل اور بے حقیقت بات ہے اس مسئلے کی تفصیل کتب فن میں موجود ہے ہم حضرت شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ کی تحقیق انیق پر اکتفاء کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ خوارجِ معتزلہ اور جمہور محدثین کے یہاں عمل ایمان کا جزء ہے البتہ مذاہب میں فرق یہ ہے کہ خوارج تارکِ عمل کو کافر کہتے ہیں اور معتزلہ کے ہاں نہ وہ مؤمن رہتا ہے نہ دائرہ کفر میں داخل ہوتا ہے یعنی یہ لوگ منزلہ بین المنزلتین کے قائل ہیں اور محدثین کے ہاں تارک عمل کافر نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی دائرہ اسلام سے خارج ہوتا ہے البتہ فاسق ہوتا ہے امام ابوحنیفہؒ اور اکثر فقہائے متکلمین اور مرجیہ کا مذہب یہ ہے کہ عمل جزء ایمان نہیں ہے فرق یہ ہے مرجیہ کے ہاں عمل کا ایمان میں کوئی دخل نہیں اور نہ ہی نجات کا دار و مدار عمل پر ہے اور امام ابوحنیفہؒ کے ہاں ایمان کے نشونما اور تقویت کے لیے عمل حد درجہ ضروری ہے اور اس کا تارک فاسق ہے تو ادنی تامل سے پتہ چلتا ہے کہ محدثین اور فقہاء کا اختلاف لفظی ہے اس لیے محدثین حضرات اگرچہ جزئیت کے قائل ہیں لیکن اس کے منکر کو کافر نہیں بلکہ فاسق کہتے ہیں اور فقہاء اگرچہ جزیت کے قائل نہیں ہیں لیکن عمل کا حد درجہ اہتمام کرتے ہیں اور اس کے تارے کو فاسق کہتے ہیں لہٰذا اگر ادنیٰ ملابسبت اور اشتراک کی بناء پر ارجاء کی نسبت ہماری طرف ہو سکتی ہے تو اعتزال کی نسبت بھی ان کی طرف ہو سکتی ہے اس لیے کہ وہ بھی معتزلہ کی طرح جزئیت کے قائل ہیں۔
(فیض الباری: جلد، 1 صفحہ، 53، 54)
5: امام ابو داؤدؒ نے فرمایا: رحم اللہ مالکا کان اماما رحم اللہ الشافعی کان اماما رحم اللہ ابا حنیفة کان اماما۔
(جامع بیان العلم: جلد، 2 صفحہ، 163)
محدثین کے ہاں لفظ امام بہترین اور جامع اور ترین الفاظ میں سے ہے، یحییٰ بن معین کا قول ہے: کان ابو حنیفة ثقة لا یحدث بالحدیث الّا بما یحفظ ولا یحدث ما لا یحفظ۔
امام جرح و تعدیل یحییٰ القطان فرماتے ہیں:
لا نکذب الله ما سمعنا احسن من رای ابی حنیفة وقد اخذنا من باکثر اقواله۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 6 صفحہ، 395)
علی بن مدینی نے فرمایا ہے:
(تہذیب الکمال: جلد، 29 صفحہ، 433)
ابو حنیفة روی عن الثوری وابن المبارک وھو ثقة لا بأس به۔
(مقدمه اعلاء السنن: صفحہ، 197 التعلیق المغنی علی سنن دار قطنی: جلد، 1 صفحہ، 324)
اسی طرح یحییٰ بن معینؒ نے بھی فرمایا: لا بأس به اور یہ جملہ توثیق کے لئے استعمال ہوتا ہے یحییٰ بن معین کا ہی قول ہے: اذا قلت لا بأس به فھو ثقة۔
(تدریب الراوی: جلد، 1 صفحہ، 343)
اعلاء السنن کے محشی لکھتے ہیں: ثم انه لاخصوصيته لابنِ معين بهذا الاستعمال بل هو تعبير منتشر فی الكلام المتقدمين من امثال ابن معين وابن المدينی وغيرهم۔
(مقدمه اعلاء السنن: جلد، 1 صفحہ، 152 من افادۃ الشیخ ابو الفتاح ابوغدۃ)
بہتر توجیہ اس کی یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ امام نسائیؒ نے مصر میں امام طحاویؒ سے ملنے کے بعد امام اعظمؒ کے بارے میں اپنے قول و تشدد سے رجوع کیا ہے۔
(حضرت مولانا عبدالرشید نعمانیؒ لکھتے ہیں: كان النسائیؒ يسال عن الطحاویؒ عن الاحاديث و الطحاویؒ ايضاً قد تلمذ على النسائی، واخذ عنه ما تمس الیه الحاجة: صفحہ، 27)
اس کا ایک قرینہ یہ بھی ہے کہ وہ ایک روایت امام صاحبؒ کی اپنی کتاب میں لائے ہیں۔
(محولہ بالا)
تصانیف:
امام نسائیؒ نے کافی تعداد میں چھوٹی بڑی کتابیں لکھیں ہیں جن کی فہرست مندرجہ ذیل ہے:
1: سننِ کبریٰ
2: المجتبیٰ جو سننِ صغریٰ سے مشہور ہے
3: کتاب الاعراب
4: خصائص علی بن ابی طالب
5: فضائل القرآن
6: عمل الیوم والیلة
7: فضائل الصحابة
8: مناسک حج
9: کتاب الجمعۃ
10: الکنی
11: الضعفاء والمتروکین
12: التسمیة من لم یروعنه غیر راو واحد
13: فقھاء الامصار
14: ذکر من حدث عنه ابن ابی عروبة ولم یسمع منه
15: کتاب الطبقات
16: التمیز
17: معجم الشیوخ النسائی
18: معرفة الاخوۃ والاخوات من العلماء والرواۃ 19: الجرح والتعدیل
20: شیوخ الزھری
21: جزء من حدیث عن النَّبِیﷺ
22: مجالس حدیث املائته
23: مسند منصور بن زادن الواسطی
24: مسند علی بن ابی طالب
25: مسند حدیث فضیل بن عیاض و داؤد الطائی
26: مسند حدیث یحییٰ بن سعید القطان
27: مسند حدیث ابنِ جریحؓ
28: مسند حدیث انس بن مالکؓ
29: مسند حدیث الزھری
30: مسند حدیث شعبة بن حجاج بن الورد
31: مسند حدیث ابن سعید الثوری۔
(دیکھیے مقدمہ سننُ الکبریٰ: صفحہ، 20 تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 6)
وجہ تصنیف:
امام نسائیؒ سننِ کبریٰ کی تصنیف سے فارغ ہوئے تو اس کو امیر رملہ کی خدمت میں پیش کیا اس نے پوچھا: اصحّ كلّه؟ کیا اس کی تمام روایات صحیح ہیں امام صاحبؒ نے فرمایا: نہیں تو امیر نے درخواست کی کہ فکتب لنا منه الصحیح۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 131 کشف الظنون: جلد، 2 صفحہ، 1006 الحطه: صفحہ، 254 جامع الاصول: جلد، 1 صفحہ، 197 بستان المحدثین: صفحہ، 296)
اس کتاب کی صحیح روایات ہمارے لیے لکھ دیں تو امام صاحبؒ نے صحیح روایات کو الگ کر کے کتاب "المجتبیٰ" تصنیف فرمائی، نون کے ساتھ ہے لیکن مشہور پہلا قول ہے اگرچہ دونوں لفظ قریب المعنیٰ ہیں کیونکہ الاجتباء کے معنیٰ ہیں انتخاب کرنا۔
(فی المعجم الوسیط اجتباہ ای اختارہ، واصطفاء لنفسه وفی التنزیل العزیز وکذلك یجتبیك ربك المعجم الوسیط: جلد، 1 صفحہ، 106)
اور اجتناء کا معنیٰ ہے درخت سے پھل چنا۔
(معجم الوسیط میں لکھا ہے: اجتنی الثمرۃ ونحوھا جناھا وقال قبل ھذا جنی الثمرۃ ای تناولھا من منبتھا: جلد، 1 صفحہ، 141)
اس واقعہ کے پیشِ نظر جمہور محققین نے فرمایا: "المجتبیٰ'' جو سننِ صغریٰ کے نام سے مشہور ہے امام نسائیؒ کی تصنیف ہے صاحبِ کشف الظنون ،ابن الاثیر، ملاعلی قاریؒ، حضرت شاہ عبدالعزیزؒ، صدیق حسن خان، وغیرہ اسی کو راجح قرار دیتے ہیں،
(کشف الظنون: جلد، 2 صفحہ، 1006 جامع الاصول: جلد، 1 صفحہ، 197 والمرقاۃ: جلد، 1 صفحہ، 25 بستان المحدثین: صفحہ، 269 والحطة فی ذکر صحائح سته: صفحہ، 245)
لیکن علامہ ذہبیؒ اس کے متعلق لکھتے ہیں: ھذا لم یصح، بل مجتبیٰ اختیار ابن السنی۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 131)
یہ خبر قابلِ اعتبار نہیں سننِ صغریٰ درحقیقت امام نسائیؒ کے شاگرد ابن السنی کی انتخاب کردہ احادیث کا مجموعہ ہے۔
البتہ صاحب الیانع الجنی نے تطبیق کی یہ صورت نکالی ہے کہ ابن السنی نے سننِ کبریٰ کا اختصار امام نسائیؒ کے حکم اور ان کی زیرِ نگرانی کیا ہے۔
(الیانع الجنی علی سنن النسائی)
لہٰذا دونوں کی طرف نسبت صحیح ہے، یہ بات یاد رہنی چاہیئے کہ محدثین کے ہاں جب کہا جاتا ہے کہ رواہ النسائی یا اخرجہ النسائی تو اس سے امام نسائی رحمۃاللہ کی کتاب "سننِ صغریٰ" مراد ہوتی ہے اسی طرح صحاحِ سته میں جو کتاب داخل ہے وہ سنن الصغریٰ المجتبیٰ ہی ہے۔
(کشف الظنون: جلد، 1 صفحہ، 1006 الحطه: صفحہ، 254)
البتہ بعض حضرات
(ذکرہ الدکتور بشار عواد فی تعلیقاتیہ علی تہذیب الکمال: جلد، 1 صفحہ ،328)
نے لکھا ہے کہ علامہ منزریؒ مختصر سننِ ابی داؤد میں اور حافظ مزی اپنی کتاب الاطراف میں جہاں اخرجہ النسائی کہتے ہیں اس سے سننِ کبریٰ مراد ہوتی ہے نہ کہ سننِ صغریٰ۔
سنن کبریٰ اور سنن صغریٰ میں فرق:
امام نسائیؒ کی ان دونوں کتابوں میں کئی اعتبار سے فرق ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
1: سننِ کبریٰ کے تقریباً 22 باب سننِ صغریٰ میں نہیں ہیں ان کی تفصیل یہ ہے:
كتاب الاعتكاف، كتاب العتق، المواعظ، احياء الموات، العارية والوديعة، الصوال، اللقطة، الركاز، العلم، الفرائض، الوليمة، الوفاة، الرجم، الطب، التعبير، النعوت، فضائل القرآن، المناقب، الخصائص، السيرة، عمل اليوم والليلة،التفسير۔
2: سننِ کبریٰ میں بہت سارے طرق و متابعات ہیں لیکن سننِ صغریٰ میں نہیں ہیں۔
3: سننِ کبریٰ کے بعض تراجم ابواب سننِ صغریٰ میں نہیں اور بعض تراجم کو کافی مختصر کر کے سننِ صغریٰ میں لایا گیا ہے۔
4: سننِ صغریٰ کی بعض روایات کے آخر میں کچھ تشریحی جملے ملتے ہیں جو کہ سننِ کبریٰ میں نہیں ہیں۔
(تفصیل کے لئے دیکھیے: مقدمہ السنن الکبریٰ: جلد، 1 صفحہ، 5 دار الکتب العلمیة، بیروت)
صاحبِ عون المعبود نے لکھا ہے: كل حديث هو موجود فی السنن الصغرىٰ يوجد فی السنن الكبرىٰ لا محالة من غير عكس۔
(مقدمہ السنن الکبریٰ: جلد، 1 صفحہ، 8)
لیکن یہ قول صحیح نہیں، بعض احادیث سننِ صغریٰ میں ہیں لیکن سننِ کبریٰ میں موجود نہیں ہیں، مثلاً درج ذیل روایت: أخبرنا محمد بن سلمة والحارث بن مسكين قراءة عليه وأنا أسمع واللفظ له عن ابن القاسم قال: حدثنی مالك عن إسحاق بن عبدالله بن أبی طلحة عن رافع بن اسحاق أنه سمع أنا أيوب الأنصاری وهو يعصر يقول: والله ما أخرى كيف اصنع بهذه الكرايس وقد قال رسول الله ﷺ من ذهب إحدكم إلى الغائط أو البول فلا يستقبل القبلة ولا يستدبرها اس سند کے ساتھ سننِ کبریٰ میں نہیں ملتی ہے۔
(دیکھیے مقدمہ السنن الکبریٰ: جلد، 1 صفحہ، 8)
سنن نسائی کی اہمیت اور خصوصیات:
سننِ نسائی کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ امام نسائیؒ نے امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ کے طرزِ تالیف و تصنیف کو دیکھ کر اپنی کتاب مرتب فرمائی ہے اور اس لیے وہ شیخین کے طریقے کا خاص خیال کرتے ہیں۔
چنانچہ امام بخاریؒ کے طریقے کو مدِنظر رکھتے ہوئے مسائل متعددہ کو ثابت کرنے کے لیے ایک روایت کو کئی جگہوں میں لاتے ہیں اور امام مسلمؒ کی طرح احادیث کے طرق مختلفہ کی وضاحت کر کے اختلاف الفاظ کو بھی بیان کرتے ہیں ابنِ رشید کا قول ہے:
(یہ محمد بن عمر بن محمد ابو عبدالله الفیری البستی ہیں جو کتاب السنن الأمين فی المحاكمة بين البخاری و مسلم اور الرحلة المترقبہ کے مصنف ہیں، انتقال 21 ھجری میں ہوا)
وهو جامع بين طريقتی البخاری و مسلم مع حظ كثير من بيان العمل۔
(انکث علی کتاب ابن اصلاح: جلد، 1 صفحہ، 484)
اس سے معلوم ہوا کہ امام نسائیؒ علل پر بھی کافی بحث کرتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو عللِ حدیث میں مہارت کاملہ حاصل تھی، علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں: هو حار فی مضمار البخاری وأبی زرعة۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 133)
اسی طرح امام نسائیؒ مشتبہ ناموں اور مشکل الفاظ کی توضیح، مرسل و متصل ہونے اور راویوں پر جرح وقدح کرنے کا خیال خاص رکھتے ہیں، حدیث کی صحت و سقم کی وضاحت بھی کرتے ہیں، البتہ بعض جگہیں ایسی ہیں کہ جہاں انہوں نے سننِ کبریٰ کے خلاف قول کیا ہے، مثلاً حدیث ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ: صلوة الليل والنهار مثنىٰ مثنیٰ، کے بعد فرماتے ہیں: هذا الحديث عندى خطاء۔
(سننِ نسائی: باب کیف صلوة اللیل، جلد، 1 صفحہ، 246)
اور سننِ کبریٰ میں فرمایا ہے: اسنادہ جید۔
(ذكره الحافظ ابنِ حجرؒ فی تلخيص الحبير باب صلوة التطوع: جلد، 2 صفحہ، 22 و ما وجدت الحديث بھذا السقط فی السنن الکبریٰ، والله اعلم)
سننِ نسائی میں ایک اعشاری روایت بھی ہے یعنی اس میں مصنف اور جناب رسول اللہﷺ کے درمیان دس واسطے ہیں، امام نسائیؒ فرماتے ہیں: ما أعرف إسناداً أطول من هذا۔
(کتاب افتتاح باب الفضل فی قراءۃ قل هو الله احد، سنن النسائی: جلد، 1 صفحہ، 155)
شرائط:
1: ان احادیث کی تخریج جو صحیحین میں موجود ہوں۔
2: یا صحیح علی شرط الشیخین ہوں۔
3: امام ابو داؤدؒ کی طرح امام نسائیؒ بھی حدیث ضعیف کو رائے اور قیاس پر ترجیح دیتے ہوں اگر کسی مقام پر صحیح حدیث نہ ملے تو ضعیف روایت نقل کر کے ضعف بھی بیان کر جاتے ہیں، ابنِ حجرؒ نے امام نسائیؒ کا قول نقل کیا ہے: لايترك الرجل عندى حتى يجتمع الجميع على تركه، پھر اس جملہ کی تشریح کرتے ہوئے حافظ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ دراصل ناقدین کے چار طبقے ہیں اور ہر طبقے میں متشدہ اور متوسط دونوں قسم کے ناقد ملتے ہیں تو امام نسائیؒ کے قول کا مطلب یہ ہے کہ وہ صرف متشددین کی توثیق و تضعیف پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ متوسطین کی رائے کا بھی خیال رکھتے ہیں، لہٰذا معلوم ہوا کہ لفظ يجتمع الجميع سے اجماعِ عام مراد نہیں بلکہ اجماعِ خاص مراد ہے، پھر آگے لکھتے ہیں کہ اس تفصیل سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نقد رجال کے سلسلے میں امام نسائیؒ کے مذہب میں کچھ توسع ہے حالانکہ ایسا نہیں، بہت سارے ایسے راوی ہیں جن کی روایت ابوداؤدؒ اور ترمذیؒ نے نقل کی ہے لیکن امام نسائیؒ نے انہیں چھوڑ دیا ہے۔
(تفصیل کے لیے دیکھیے النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 292)
اس پر کئی شواہد ہیں، مثلاً:
1: امام نسائیؒ خود فرماتے ہیں: کہ جب میں نے سنن کی تالیف کا ارادہ کیا تو وہ شیوخ جن کے بارے میں میرے دل میں شبہ تھا ان کی روایات اور اسنادِ عالیہ کو چھوڑ کر مجھے اسنادِ نازلہ پر اکتفاء کرنا پڑا۔
(النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 483 شروط الائمه الابن طاہر المقدسی، المطبوع مع سنن ابن ماجہ: صفحہ، 72)
2: ابوالفضل بن طاہر کہتے ہیں کہ میں نے کسی راوی کے بارے میں سعد بن علی سے سوال کیا تو انہوں نے اس کی توثیق کی، میں نے کہا کہ نسائی تو اس کی روایت سے استدلال نہیں کرتے سعد نے کہا کہ عبد الرحمٰن نسائی بعض شرائط میں شیخین سے بہت زیادہ سخت ہیں۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 113 تذکرہ الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 700)
3: دار قطنی کے استاد احمد بن نصر (متوفی 323ھ) کہتے ہیں کون اخذ حدیث میں امام نسائیؒ کی طرح احتیاط سے کام لے سکتا ہے؟ ابن لھیعہ کی تمام روایات ان کے پاس موجود تھیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے ابن لہیعہ سے ایک روایت بھی نہیں لی۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 130 تہذیب الکمال: جلد، 1 صفحہ، 335 تذکرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 700)
سنن نسائی پر صحت کا اطلاق:
امام نسائیؒ کا اپنا قول ہے: کتاب السنن كله صحيح وبعضه معلول إلا أنه لم يبين عليه والمنتخب المسمى بالمجتبٰى صحيح كله۔
(دیکھیے زهر الرابی علی المجتبیٰ المطبوع سنن النسائی: جلد، 1 صفحہ، 3)
اس سے پہلے ہم بیان کر آئے ہیں کہ امام نسائیؒ نے رملہ کے امیر کی درخواست سننِ کبریٰ کی احادیثِ صحیحہ کو الگ کر کے المجتبیٰ کی تصنیف فرمائی ان اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ پوری سننِ نسائی صحیح ہے، اسی طرح خطیب بغدادی، ابو طاہر سلفی، ابوعلی نیشاپوری، دار قطنی وغیرہ نے بھی سننِ نسائی پر صحیح کا اطلاق کیا ہے۔
(مقدمہ ابن الصلاح: صفحہ، 25 النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 381)
دوسری طرف ابن الصلاح نے فرمایا کہ یہ فیصلہ نظر سے خالی نہیں لان فیه أحاديث ضعيفة و معلقة ومنكرة۔
(مقدمہ ابن الصلاح: صفحہ، 25)
اس اختلاف اقوال کو علامہ زرکشی اس طرح رفع دفع فرماتے ہیں: وتسمية الكتب الثلثة (وأعنى كتاب النسائی وأبی داؤد والترمذی) صحاحاً، إما باعتبار الأغلب لأن عليها الصحاح والحسان وهی ملحقة بالصحاح والضعيف فيها التحق بالحسن، فإطلاق الصحة عليها من باب التغليب۔
(زہر الربی المطبوع مع سنن النسائی: جلد، 1 صفحہ، 3)
علامہ ابنِ حجرؒ لکھتے ہیں:
وفى الجملة فكتاب السنن أقل الكتب بعد الصحيحين حديثاً ضعيفاً ورجلاً مجروحاً و يقاربه كتاب أبج داؤد و كتاب الترمذی ويقابله في الطرف الآخر کتاب ابنِ ماجه۔
(النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 484)
شروح و تعلیقات:
سننِ نسائی کے صحاحِ ستہ میں داخل ہونے کے باوجود ائمہ فن کی طرف سے اس کا استقبال نہیں کیا گیا جس طرح کہ صحاحِ ستہ کی دوسری کتابوں کو استقبال اور تلقی بالقبول حاصل ہوا، علامہ سیوطیؒ نے اس پر ایک تعلیق لکھی ہے زهر الربی کے نام سے اس سے پہلے شیخ عمر بن ملقن نے سننِ نسائی کی ان احادیث کی نشاندہی اور تشریح کی جو صحاحِ ستہ کی دوسری کتابوں میں نہیں ہیں علامہ سندھیؒ نے بھی اس پر ایک تعلیق لکھی ہے جس میں الفاظ غریبہ کی تشریح اور ضروری مقامات کا حل موجود ہے۔
(کشف الظنون: جلد، 2 صفحہ، 1006)
حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ کی بھی ایک تعلیق ہے جو حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ مولانا خلیل احمدؒ اور مولانا یحییٰؒ کے افادات کا مجموعہ ہے.