ابتداء شیعت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ابتداء شیعت

  توقیر احمد

صفحہ 1 از 12

ابتداء شیعت

 فہرست

 ابتدایہ

  پہلا دعویٰ 

 بطلانِ دعویٰ 

 ابتدا شیعت دوسرا دعویٰ 

 بطلانِ دعویٰ دعوی 

 ابتداءشیعت تیسرا دعویٰ 

 بطلانِ دعویٰ دعوی

 ابتداء شیعت چوتھا دعویٰ 

 بطلانِ دعویٰ

 ابتداء شیعت میں غیر شیعہ لوگوں کی آرا

 پہلا قول 

 تبصرہ

 دوسرا قول 

 تیسرا قول 

 چوتھا قول 

 عبداللہ ابن سباء کا تعارف شیعہ کتب سے

  ابتداءشیعت میں راجح ترین قول 

ابتدایہ

شیعہ مذہب کی بنیادی طور پر نشوونما کے مختلف حالات ہیں اور عقائد میں بھی تدریجی تغیر کے مختلف مراحل سے مربوط ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ شیعی عقائد و افکار ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں چنانچہ عصر اول میں تشیع کا مفہوم اور تھا اور اس کے بعد تشیع کا مطلب کچھ اور ہو گیا۔

مثلاً اولین زمانے میں شیعہ صرف اس شخص کو کہتے تھے جو حضرت علیﷺ کو حضرت عثمانؓ سے افضل کہتا ہے اس لئے کسی کو شیعانِ عثمانؓ کہتے تھے اور کسی کو شیعانِ علیؓ کہتے تھے۔ ( الحورالعین: صفحہ 179، المنیۃ والامل: صفحہ 81)

اس بنیاد پر عہدِ اول میں شیعہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو محض علیؓ کو حضرت عثمانؓ پر مقدم کرتے ہیں۔

یہ لوگ اگرچہ شیعہ نام سے موسوم تھے لیکن پھر بھی وہ اہل سنت میں شامل تھے کیونکہ حضرت عثمان و علی رضی اللہ عنہما کو ایک دوسرے پر فضیلت و فوقیت دینا کوئی ایسا اصولی مسئلہ نہیں جس کی بنیاد پر دوسرے کو گمراہ کہا جا سکے۔ البتہ مسئلہ خلافت کی بنا پر ضرور مخالف کو گمراہ کہا جائے گا  اہل سنت کے درمیان ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو متفقہ طور پر مقدم کرنے کے بعد حضرت عثمان و علی رضی اللہ عنہما کی بابت اختلاف تھا کہ دونوں میں کون افضل ہے۔ کسی نے حضرت عثمانؓ کو افضل کہا اور اس مسئلے میں سکوت اختیار کیا یا حضرت علیؓ کو چوتھے نمبر پر رکھا اور کسی گروہ نے حضرت علیؓ کو افضل کہا اور ایک گروہ نے اس مسئلے میں توقف اختیار کیا لیکن پھر اہلِ سنت کے ہاں یہ بات طے ہوگی کہ حضرت عثمانؓ افضل ہیں۔

(مجموع الفتاوی لابن تیمیہ: جلد 3 صفحہ 153)

 (فتح الباری: جلد 7 صفحہ 34)

 ابنِ تیمیہ رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ پہلے شیعہ جو علیؓ کی زندگی میں تھے وہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو افضل قرار دیتے تھے۔

(منہاج السنہ: جلد 2 صفحہ 60)

شریک بن عبداللہ نے ایسے شخص کو شیعہ کہنے سے منع کیا تھا جو حضرت علیؓ کو حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فوقیت دیتا ہے کیوں کہ یہ بات حضرت علیؓ سے اس بارے میں تواتر سے منقول امر کے خلاف ہے۔ ان کے نزدیک شیعہ سے مراد معاونت اور متابعات ہے نہ کہ مخالفت اور کسی سے نفرت و عداوت کی بنا پر ترک تعلق کرنا۔

(التنبیہ والرد: صفحہ 18، الفرق بین الفرق: صفحہ 21، التبصیر فی الدین صفحہ 16، البرھان: صفحہ 36، رسالة  فی بیان مزاہب بعض الفرق الضالة ۔الورقة 6 مخطوط)

ام ابن البط رحمۃاللہ علیہ عبد اللہ بن زیاد بن جدیر سے نقل کرتے ہیں کہ جب ابو اسحاق شیعی کوفہ تشریف لائے تو شمر بن عطیہ نے ہمیں کہا کہ ان کے پاس جاؤ چنانچہ ہم ان کے پاس بیٹھے تو لوگوں کی گفتگو کے دوران میں امام ابو اسحاق فرمانے لگے جب میں کوفہ سے نکلا تھا تو کوئی ایک شخص بھی اس بارے میں متردد نہیں تھا کہ حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما دوسرے تمام صحابہ کرامؓ سے افضل اور مقدم ہیں لیکن اب جب میں آیا ہوں تو وہ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ وہ لوگ ایسا کیوں کہتے ہیں۔ (المنتقیٰ: صفحہ 36)

علامہ محب الدین خطیب فرماتے ہیں:

یہ بڑی اہم صریح تاریخی عبارت ہے جو شیعت کے مختلف مراحل کی تحدید کرتی ہے ابو اسحاق شیعی کوفہ شہر کے بہت بڑے عالم تھے یہ امیر المؤمنین عثمانؓ کے خلافت کے دوران میں ان کی شہادت سے تین سال پہلے پیدا ہوئے اور طویل عمر پا کر 127 ہجری کو فوت ہوئے چنانچہ امیر المؤمنین علیؓ کی خلافت کے وقت ابھی بچے ہی تھے حتیٰ کہ وہ خود اپنے متعلق بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے اوپر اٹھایا تو میں نے حضرت علیؓ کو خطبہ ارشاد فرماتے سنا اس وقت ان کی داڑھی اور سر کے بال سفید تھے اگرچہ ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کوفہ سے کب نکلے لیکن یہ بات طے ہے کہ جب کوفہ کے شیعہ لوگ حقیقتاً حضرت علیؓ کے پیروکار اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی تفضیل سے متعلق اپنے امام علیؓ کی رائے کے مطابق ابوبکر و عمر اللہ عنہما کی افضلیت کا اعتقاد رکھتے تھے وہ کب ان سے الگ ہونا شروع ہوئے اور ان کے اس راسخ عقیدے کے خلاف جانے لگے جو ان کے ایمان میں داخل تھا جس کا وہ کوفہ کے ممبر پر اعلان کرتے تھے یعنی یہ کہ وہ ان کے بھائی رسول اللہﷺ کے رفقاء اور وزیر اور بہترین زمانے میں امت کے معاملے میں ان کے افضل ترین جانشین تھے۔(المنتقی صفحہ 360، 361 حاشیہ)

لیث بن ابی سلیم فرماتے ہیں:

میں نے اولین شیعہ کو دیکھا ہے وہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما پر کسی بھی شخص کو فضیلت و فوقیت نہیں دیتے تھے۔

(المنتقی صفحہ 360، 361)

سیدنا علیؓ کے زمانہ خلافت میں جتنے بھی مہاجر و انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور ان کی پیروی کرنے والے تھے وہ سب ان کی قدر اور منزلت کو پہچانتے اور انہیں ان کے شایانِ شان مقام فضیلت پر فائز رکھتے تھے اور یہ سب لوگ کسی صحابی رسول کی تنقیص کو روا نہیں سمجھتے تھے چہ جائیکہ ان کی تنقیص کرتے یا انہیں سب و شتم کا نشانہ بناتے۔ (تحفہ اثنا عشریہ: صفحہ 3)

صفحہ 1 از 12