Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

اِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہُ وَنَسْتَعِیْنُہُ وَنَسْتَغْفِرَہُ ، وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُروْرِ اَنْفُسِنَا، وَمِنْ سَیِّاٰتِ اَعْمَالِنَا، مَنْ یَّہْدِہِ اللّٰہُ فَـلَا مُضِلَّ لَہٗ، وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَا ہَادِیَ لَہُ۔ وَاَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلَہُ۔

ترجمہ: ’’تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی کی حمد کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں، اسی سے بخشش کے طلب گار ہیں، اور اپنے نفسوں کے شر سے اور اپنے برے اعمال سے اسی کی پناہ میں آتے ہیں۔ وہ جسے راہِ حق سمجھا دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی راہ پر نہیں لا سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔‘‘

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡـتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ۞(سورۃ نمبر 3 آل عمران آیت 102)

ترجمہ: اے ایمان والو! دل میں اللہ کا ویسا ہی خوف رکھو جیسا خوف رکھنا اس کا حق ہے، اور خبردار! تمہیں کسی اور حالت میں موت نہ آئے، بلکہ اسی حالت میں آئے کہ تم مسلمان ہو۔

يٰۤـاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّكُمُ الَّذِىۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا وَبَثَّ مِنۡهُمَا رِجَالًا كَثِيۡرًا وَّنِسَآءً‌ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِىۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِهٖ وَالۡاَرۡحَامَ‌ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيۡكُمۡ رَقِيۡبًا ۞(سورۃ نمبر 4 النساء آیت 1)

ترجمہ: اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کی بیوی پیدا کی، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں (دنیا میں) پھیلا دیئے۔ اور اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حقوق مانگتے ہو، اور رشتہ داریوں (کی حق تلفی سے) ڈرو۔ یقین رکھو کہ اللہ تمہاری نگرانی کررہا ہے۔

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَقُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِيۡدًا۞ يُّصۡلِحۡ لَـكُمۡ اَعۡمَالَـكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَـكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَقَدۡ فَازَ فَوۡزًا عَظِيۡمًا ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 70،  71)

ترجمہ: اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو، اور سیدھی سچی بات کہا کرو۔ اللہ تمہارے فائدے کے لیے تمہارے کام سنوار دے گا، اور تمہارے گناہوں کی مغفرت کردے گا۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، اس نے وہ کامیابی حاصل کرلی جو زبردست کامیابی ہے۔ 

میرے رب! آپ کی ہی ساری تعریف ہے جسے آپ کی ذات کے جلال اور عظیم بادشاہت کے شایانِ شان ہے، آپ کی ہی سب تعریف ہے حتیٰ کہ آپ راضی ہو جائیں، جب آپ راضی ہوں تب بھی آپ ہی کی سب تعریف ہے، رضا مندی کے بعد بھی آپ ہی سب تعریف ہے، وبعد!

یہ کتاب عہدِ رسالت اور خلافتِ راشدہ کے مطالعہ کے بارے میں میری سابقہ کتب کے توسیعی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس سلسلے میں اس سے قبل سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا ابو بکر صدیق، سیدنا عمر بن خطاب،  سیدنا عثمان بن عفان، سیدنا علی بن ابی طالب اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہم پر کتب شائع ہو چکی ہیں۔ میں اپنی اس کتاب کا نام ’’سیدنا معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما شخصیت اور کارنامے‘‘ رکھا ہے۔ اس کتاب میں درج ذیل مباحث ہیں:

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام و نسب، کنیت، خاندان، والد ابو سفیان رضی اللہ عنہ کا قبولِ اسلام، ان کی والدہ بنت عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ، بھائی اور بہنیں، ازواجِ مطہرات، قبولِ اسلام اور ان کے بعض فضائل۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور روایت حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و ذم کے بارے میں باطل روایات۔

 عہد رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور عہد خلافتِ راشدہ میں بنی اُمیہ کا کردار، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی قسمت کا ستارہ کب طلوع ہوا؟

امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں دمشق، بعلبک اور بلقان پر گورنری اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے تعلق۔

اس کتاب میں درج ذیل عنوانات کی بھی وضاحت کی گئی ہے:

 شام کے محاذ پر سیدنا معاویہؓ کی کاوشیں، عہد عمر فاروق رضی اللہ عنہ میں موسم گرما اور سرما کے لشکروں کا نظام رائج کرنا، بحری بیڑے کی ایجاد، عہد عثمان رضی اللہ عنہ میں سیدنا معاویہؓ کے کارنامے اور فتوحات، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بحری جنگ کی اجازت طلبی میں ان کا اصرار، اہل قبرص کا ہتھیار ڈال دینا اور صلح کا مطالبہ، پھر نقض صلح، فتح قبرص۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے اختلاف کی حقیقت اور اس سلسلے میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا مؤقف۔

اُن شبہات کی تردید جو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں پیدا کئے گئے ہیں مثلاً بیت المال سے اقربا پروری کی تہمت، مسلمانوں کے کوٹے سے اپنے رشتے داروں کا حکومتی عہدوں پر تقرر کرنا۔

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے فتنہ شہادت کے اسباب جیسے نرمی اور اس کے معاشرے پر اثرات، ان کے زمانے میں معاشرتی انحراف کی روش اور ایک نئی نسل کا ظہور، پھیلی ہوئی باتوں کو قبول کرنے کی معاشرتی استعداد، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعد خلیفہ بننا، کبار صحابہؓ کا مدینہ سے خروج، جاہلی عصبیت، طبعی یا بشریٰ رکاوٹوں کی وجہ سے فتوحات کا رُکنا، زہد و ورع کا غلط مفہوم، لالچی نسل نو کا ظہور، کینہ رکھنے والے ایسے گروہ کا معرضِ وجود میں آنا جو اپنے مقتول کا بدلہ نہ لے سکا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف پھندے پھیلانے کے لیے مضبوط منصوبہ بندی، لوگوں کو برانگیختہ کرنے کے لیے اسباب و ذرائع کا استعمال، فتنہ پھیلانے میں عبداللہ بن سبا کا کردار، فتنے کے بارے میں سیدنا معاویہ بن ابو سفیان کا مؤقف، گورنروں سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا مشورہ اور اس بارے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی رائے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت اور اس بارے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عہدوں میں صحابہ کرامؓ کا مؤقف۔

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص لینے کے طریقے پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اختلاف، معرکہ صفین، پے درپے واقعات۔

ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابو سفیان کا نعمان بن بشیر کو حضرت عثمان کی قمیص دے کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہم کے پاس بھیجنا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت نہ کرنے کے محرکات، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ قبول نہ کرنا، اہل شام سے جنگ کرنے کے لیے امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی تیاری، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا جنگ جمل کے بعد جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجنا تاکہ انہیں بیعت کرنے کی دعوت دی جائے، امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شام کی طرف پیش قدمی، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا صفین کی طرف نکلنا، طرفین میں حملوں کا آغاز، فریقین میں صلح کی کوششیں، گھمسان کی جنگ اور پھر تحکیم کی دعوت۔

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت اور اس کے مسلمانوں پر اثرات، دورانِ جنگ میں مشفقانہ رویہ اور حسن سلوک، امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کا قیدیوں سے سلوک، مقتولین کی تعداد، امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کا مقتولوں کو تلاش کرنا اور ان پر ترس کھانا، ان واقعات و حادثات کے دوران میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا شاہِ روم کے بارے میں مؤقف، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں صفین کا جھوٹا واقعہ، معرکہ کے جاری رہنے کے لیے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کا اصرار، امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کا لوگوں کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو سب و شتم کرنے اور اہل شام کو لعن طعن کرنے سے منع کرنا، تحکیم، تحکیم کے معاہدے کا متن، تحکیم کے بارے میں مشہور واقعے کا باطل ہونا، معاہدہ تحکیم کی حقیقت، اجتماع کے انعقاد کی جگہ۔

 اسلامی ممالک میں پیدا ہونے والے تنازعات کے سلسلے میں واقعہ تحکیم سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

ان جنگوں کے بارے میں اہل سنت والجماعت کے مؤقف کی بھی میں نے وضاحت کی ہے۔ معرکہ صفین کے بعد صلح جُو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے معیارات میں تبدیلی، امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان صلح، امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی شہادت اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع موصول ہونے کے بارے میں بھی میں نے بحث کی ہے۔

اس کے بعد میں نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے دور کے صلح کے بہت بڑے اصلاحی منصوبے کے بارے میں بات کی ہے، یہ منصوبہ وحدت اُمت کا سبب بنا، یہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت سے دستبرداری کا عمل ہے۔ میں نے صلح کے مراحل، شرائط، اسباب، اس کی رکاوٹوں اور نتائج کی طرف بھی اشارہ کیا ہے، اسی طرح میں نے مقاصد شریعت کی فقہ کبیر اور فقہ مصالح و مفاسد کی وضاحت کی ہے، اسی طرح اختلاف سے متعلق فقاہت کی وضاحت کی ہے، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ اس فقہ میں ممتاز تھے۔ انہوں نے اپنے عظیم اصلاحی منصوبے کی بنیاد رکھی تھی، اسی کی بنیاد پر اُمت مسلمہ ان جدید مراحل میں داخل ہوئی، جن میں موجود تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اور ابنائے اُمت کی طرف سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت مکمل ہوئی۔

میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی صفات کی وضاحت کی ہے، جن میں سے اہم یہ ہیں:

علم ، فقاہت، حلم و بردباری، عفو و درگزر، ہوشیاری، حیلہ و تدبیر، منفرد عقلیت، باریک بینی کی صلاحیت، عاجزی و انکساری، تقویٰ و پرہیز کاری اور خشیت الہٰی سے رونا۔

میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں علماء کے تعریفی کلمات بھی نقل کیے ہیں، اور اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ سلطنت بنو اُمیہ خیر القرون میں داخل ہے، جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا:

خَیْرُکُمْ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ۔ (بخاری: 6695)

ترجمہ: ’’تمہارے بہترین لوگ میرے زمانے کے لوگ ہیں، پھر جو اُن کے بعد کے زمانے کے ہیں اور پھر جو اُن کے بعد آئیں گے۔‘‘

میں نے بنو اُمیہ کے دار الحکومت (شام) کے بارے میں بحث کی ہے اور اہل شام کے بارے میں احادیث رسول پیش کی ہیں، نیز عہد معاویہ رضی اللہ عنہ کے اہل حل و عقد اور شوریٰ کا تذکرہ کیا ہے، اس کے علاوہ اظہارِ رائے کی آزادی اور ان کی داخلی سیاست جیسے شیوخ صحابہ کی کبار شخصیات اور ان کے بیٹوں سے حسن سلوک کا تذکرہ کیا ہے، اسی طرح سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے اچھا تعلق بیان کیا ہے۔

اس بات کی بھی وضاحت سے تردید کی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سلطنت بنو اُمیہ کے منبروں پر امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کو عام کر دیا تھا، بعض مؤرخین کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے زہر دلوایا تھا، میں نے علمی دلائل اور روشن براہین سے اسے باطل ثابت کیا ہے۔

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین کے بارے میں امیر المؤمنین بننے کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا مؤقف بھی پیش کیا ہے ، نیز حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے قتل کا واقعہ اور اس بارے میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا مؤقف بیان کیا ہے۔

میں نے ان اُمور کی وضاحت بھی کی ہے:

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی تمام اُمور کی خود نگرانی کرنے اور اپنی خلافت میں امن قائم کرنے کی حرص، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی یومیہ مجلس اور اس کے ذیلی مرکزی محکمے، جیسے محکمہ خط و کتابت، محکمہ مہر، محکمہ ڈاک، سینگی لگانے کا نظام، چوکیداری اور پولیس کا محکمہ، آدمیوں اور معاونین کا عمدہ انتخاب، معاونین اور تالیف قلبی، اس میں پختگی کے لیے مال خرچ کرنا، سختی اور نرمی کی سیاست اختیار کرنا، بنی اُمیہ اوران کی رعیت کے درمیان منفعت کے تبادلے کی سیاست، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اپنے آپ کو مضبوط کرنے اور اپنی خلافت کو استحکام دینے کے لیے اطلاعات کی سیاست اپنانا اور انہیں بنی اُمیہ کی طرف مائل کرنا، خبر رسانی کے نظام کا اہتمام کرنا، اسلامی لشکر کی تشکیل و ترقی، قبائل، برادریوں اور معاشرے کے بڑے افراد میں موازنہ کی سیاست کے بارے میں ان کی دانائی، اُموی خاندان کے بارے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیاست۔

 میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی معاشرتی زندگی نیز علم، تاریخ ، شعر، لغت اور تجرباتی علوم کے بارے میں ان کے اہتمامات کو بیان کیا ہے۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خوارج کے بارے میں معاملے اور ان کے عمل دخل کی کمی بیشی کے سلسلے میں آپ کے وسائل پر میں نے ایک الگ مبحث لکھی ہے۔

مالی نظام، سلطنت کے ذرائع آمدن جیسے زکوٰۃ، جزیہ، خراج، عشر، زرعی پیداوار، غنائم عمومی اخراجات جیسے عسکری، انتظامی اور معاشرتی اخراجات۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا زراعت، داخلی و خارجی تجارت اور حرف و صنعت کا اہتمام کرنا، عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں مصارفِ اموال کے بارے میں شبہات کا معاملہ اور ان کا علم و انصاف پر مبنی تجزیہ، مثلاً عطیات دینے میں فرق روا رکھنا، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو بطورِ رشوت دینے کا جھوٹ، تالیف قلبی اور معاونین بنانے کے لیے بہت زیادہ خرچ کرنا، امویوں کی پر تعیش زندگی کے مظاہر۔

سلطنت بنی اُمیہ کے عدالتی نظام کی مستقل بحث، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا خلافت راشدہ سے تعلق، خلفا کا عدالتی معاملات سے الگ ہونا اور ان پر اثر انداز نہ ہونا، قاضیوں کے مراتب، فیصلوں کو لکھنا اور ان پر گواہ مقرر کرنا، ججوں کے معاونین جیسے منادی، دربان، ترجمان یا مترجم، نگرانی اور پیروی کرنے والے وغیرہ۔

 عہد اُموی میں عدالتی فیصلوں کے مصادر، قاضیوں کا تخصص، مشہور ترین قاضیوں کے نام، قضاء کے عمومی امتیازات، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو قضاء کے بارے میں خط، محکمہ پولیس اور اس کی ذمہ داریاں جیسے خلیفہ اور صوبہ جات کے گورنروں کی ان کے داخلی دشمنوں سے حفاظت کرنا، جرائم پیشہ افراد اور قانون شکنی کرنے والوں کو سزا دینا، شرعی سزاؤں کا نفاذ، دیگر طاقتیں اور دوسرے محکمے اور ان کا پولیس سے تعلق جیسے چوکیدار، چودھری، جلاد، نظامِ احتساب، نگہبانی کا نظام، مجرموں کو پکڑنے والا محکمہ، محکمہ ولاۃ و انتظامیہ، سلطنت کے تحت آنے والے اہم صوبے، ان کے مشہور گورنروں کے نام اور ان کے ان صوبوں میں اہم ترین کارنامے، مدینہ نبویہ کی بحث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حالاتِ زندگی، ان کی وفات مدینے میں 58 ھ یا 59 ھ کو ہوئی تھی، عہدِ معاویہ رضی اللہ عنہ میں انھوں نے تقریباً اٹھارہ سال گزارے، اس جلیل القدر صحابی پر دشمنانِ صحابہ کی طرف سے زمانہ قدیم اور عصر حاضر میں ظالمانہ حملے کیے گئے، ان باطل تہمتوں کو مستشرقین کے ایک گروہ نے بھی اختیار کر لیا ہے، لہٰذا میں نے یہ ضروری سمجھا کہ اس عظیم صحابی کا دفاع کروں کیونکہ وہ سنت نبویﷺ کے بڑے بڑے راویوں میں شمار ہوتے ہیں، ان کا تعارف اور کچھ حالاتِ زندگی پیش کیے ہیں جیسے ان کی عبادات، پاکدامنی، صبر و تحمل اور ان کا عفو و درگزر۔ ان شبہات کی تردید بھی کر دی گئی ہے جو ان کے بارے میں جھوٹے پھیلائے گئے ہیں، جن کا مقصد ہم تک پہنچنے والی سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں شک و شبہ پیدا کرنا ہے، اس ہدف کو منافقین اس جلیل القدر صحابی پر طعنہ زنی کر کے پورا کرنا چاہتے ہیں، ان کذابوں کا مقابلہ کرنے کے لیے زبانِ حال سے شاعر کا یہ قول منطبق ہوتا ہے:

وإذا اضطررت علی الجدال و لم تجد

لک مہربًا و تلاقت الصّفان

فاجعل کتاب اللّٰہ درعًا سابغًا

والشرع سیفک وابد فی المیدان

والسنۃالبیضاء دونک جُنَّۃ

وارکب جواد العزم فی الجولان

واثبت بصبرک تحت ألویۃ الہدی

فـالصـبـر أوثق عدۃالإنسـان

واطعن برمح الحق کل معاند

للّٰہ درُّ الفارس الطعان

واحمل بسیف الصّدق حملۃ

مخلص مستجردًا للّٰہ غیر جبان

’’جب تو جنگ کرنے کے لیے مجبور ہو جائے اور تجھے بھاگنے کے لیے کوئی چارہ نہ ہو اور دونوں گروہوں کا ٹکراؤ ہو تو کتاب اللہ کو اپنی پوری زرہ بنا لے، شریعت کو اپنی تلوار بنا کر میدان میں نکل آ، چمکدار سنت کو اپنی ڈھال بنا، عزم و ہمت کے برق رفتار گھوڑے پر سوار ہو جا، ہدایت کے جھنڈوں تلے اپنے صبر کے ساتھ جمے رہو، اس لیے صبر انسان کی مضبوط ترین تیاری ہے۔ ہر دشمن پر حق کے نیزے برسا، نیزہ باز گھڑ سوار کا اللہ کے ہاں بڑا مقام ہے، حملہ کرنے کے لیے سچائی کی تلوار اُٹھا، بزدلی کا مظاہرہ نہ کرنا، مخلص بن جا اور بس اللہ کا ہو کر رہ۔‘‘

اس کے علاوہ میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور کی تحریک فتوحات کی صورتِ حال بیان کی ہے، تحریک فتوحات کے تذکرے سے پہلے ان شبہات کا محاکمہ کیا ہے جو جھوٹ اور بہتان کی بنا پر اس تحریک فتوحات کے بارے میں پیدا کیے گئے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے تحریک فتح کے اس پہلے ادھورے سلسلے کو ہی بچایا اور مضبوط کیا جس کی قیادت اور تشکیل خلفائے راشدینؓ نے کی تھی۔ تحریک فتوحات کا دوسرا سلسلہ وہ ہے جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں شروع ہوا ور بعد میں بھی جاری رہا، یہ سلسلہ ولید بن عبدالملک کے دورِ حکومت میں بہت دُور تک پھیل چکا تھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بازنطینی حکومت کے خلاف برپا کردہ تحریک جہاد کا بھی میں نے تذکرہ کیا ہے، انہوں نے قسطنطنیہ کو فتح کرنے کا منصوبہ بھی بنایا، اس پر غلبہ پانے کے لیے انہوں نے اپنی حکمت عملی کا نقشہ ترتیب دیا، اس کے لیے مصر اور شام میں کشتی سازی کے مراکز بنائے، مصر اور شام کی بحری سرحدوں کو مضبوط کیا، بحر متوسط کے شمال مشرقی جانب واقع جزیروں پر غلبہ حاصل کیا، شام کی شمالی اطراف کو محفوظ کر دیا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا، حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ قسطنطنیہ کے محاصرے کے دوران میں ہی فوت ہوئے تھے۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے وصیت کی تھی کہ جہاں تک ممکن ہو انہیں دشمن کے علاقے کے قریب بہت آگے لے جا کر دفن کیا جائے، یہ شاندار منظر ہے جو اُن کے جہاد کے ساتھ تعلق کو ظاہر کرتا ہے کہ ان کی لاش لوگوں کے کندھوں پر ہو گی، اور وہ ان کی صفوں میں موجود ہوں گے، ان کی خواہش یہ تھی کہ وہ زندہ و مردہ ہر دو حالتوں میں دشمن کی زمین میں دُور تک جائیں، گویا کہ زندگی میں انہوں نے جو کچھ کیا تھا وہ ان کے لیے کافی نہیں تھا تو انہوں نے اپنی وفات کے بعد اس پر مزید اضافے کی تمنا کی، صحیح اور دقیق معنیٰ کے اعتبار سے یہ ایسی چیز ہے کہ حقیقی مجاہد کے نزدیک اس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا۔

مزید برآں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مسلسل بری و بحری حملوں کے ذریعے بازنطینی حکومت کا ناطقہ بند کر دیا، انہوں نے بازنطینوں کو ڈرا دیا، طرح طرح کی تنگیوں اور خوف سے دو چار کر دیا، انہیں پریشان کن نقصانات میں مبتلا کر دیا، اس سارا کچھ کے باوجود وہ قسطنطنیہ کو عبور نہیں کر سکے، اس کے بہت سے عوامل تھے جیسا کہ قارئین کتاب میں ان شاء اللہ دیکھیں گے۔ بازنطینی حکومت کے ساتھ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے صلح کے تعلقات قائم کر لیے، اموی اور بازنطینی دونوں حکومتوں کے درمیان مراسلات، تجربات اور سفراء کا بھر پور تبادلہ ہوتا رہا، جبکہ شمال افریقہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا، سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ کا حملہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہی ہوا تھا۔ ان فتوحات میں عقبہ بن نافع کا نام بہت نمایاں ہوا، جنہوں نے قیروان شہر آباد کیا تھا جسے آج تونس کہا جاتا ہے، یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں ہی ہوا تھا، قیروان مغرب میں اسلامی تہذیب و ثقافت کے فروغ کا مرکز اور اس علمی دار الحکومت بن گیا۔ قارئین کرام دیکھیں گے کہ شمال افریقہ کی فتوحات کا سلسلہ حضرت عقبہ رحمہ اللہ کی شہادت تک جاری رہتا ہے۔

کتاب میں یہ عنوانات بھی زیر بحث آئے ہیں:

اموی سلطنت کے مشرقی بازو خراسان، سجستان اور ماوراء النہر میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی فتوحات، سندھ کی فتوحات، ان فتوحات کے اہم دروس، عبرتیں اور فوائد جن میں سے اہم یہ ہیں:

آیات اور احادیث نبوی کے مجاہدین کے دلوں پر اثرات، فتوحات میں اللہ کے طریقے جیسے اتحاد و اتفاق میں اللہ کا طریقہ، وسائل و اسباب کو اختیار کرنے کا طریقہ، ایک دوسرے کو روکنے اور دفاع کا طریقہ، ظلم اور ظالموں کے بارے میں اللہ کا طریقہ، تعیش پسندوں کے بارے میں اللہ کا طریقہ، سرکشی اور سرکشوں کے بارے میں اللہ کا طریقہ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک فتوحات کی حکمت عملی کا نقشہ، روم ، شمالی افریقی محاذ اور سجستان، خراسان اور ماوراء النہر کے محاذ پر معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیاست ، تحریک جہاد کے بارے میں ان کا محکمہ شوریٰ، معاویہ رضی اللہ عنہ کی انتظامیہ میں مرکزی قیادت اور امداد، سرکاری اور قبائلی جھنڈوں کا نظام، جاسوسی، ڈاک اور سلطنت کی بری حدود کا اہتمام، بحری بیڑے، بحری حدود، محکمہ فوج اور محکمہ مال کا اہتمام، آپ کے دور میں علمی، معاشی اور معاشرتی اثرات۔

میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد کے مجاہدین کی بعض کرامات بھی بیان کی ہیں۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ، عبدالملک اور ان کے دونوں بیٹوں ولید اور سلمان کے زمانے میں سلطنت اُمویہ کے فضائل میں وہ وسیع فتوحات بھی ہیں جو انہی کے ہاتھوں پایہ تکمیل کو پہنچیں۔ جس کے نتیجے میں دار السلام میں بہت وسعت آگئی۔ مشرق میں چین اور مغرب میں بلادِ اندلس اور فرانس کے جنوب مغرب کے درمیان تک اسلامی سلطنت کا دائرہ پھیل گیا۔

خلفاء اپنے بیٹوں کو جہاد کے لیے بھیجتے اور خود بھی قتال میں شریک ہوتے، صحابہ رضی اللہ عنہم اور کبار تابعین رحمہم اللہ بھی ان عساکر میں موجود ہوتے تھے، تحریک فتوحات سے سلطنت کا مقام بلند ہوا ان کے ساتھ اسلامی معاشرے میں ہر قسم کے لوگ معرضِ وجود میں آئے جیسے علماء، فقہاء، تجار، زہاد اور عبادت گزار لوگ۔ یہ لشکر مشارق و مغارب میں متحرک ہو گئے، ان دور دراز کے اطراف میں واقع قبائل کے فاتحین نے انہیں عدل و احسان دیا، ان کی روحانی اور جسمانی ضروریات کو پورا کیا، ان تک دین اسلام پہنچایا جس نے اس زمین پر انسانیت کا صحیح مفہوم دیا، اس لیے اسلام بہت جلد ان کے دلوں میں جا گزیں ہو گیا، یہ بڑی نرمی اور چپکے سے افکار میں داخل ہو جاتا ہے، عقل و فہم پر اس کی تاثیر بہت قوی ہے، فاتحین ان قبائل میں وہ حقائق لے کر آئے جن سے اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سعادت مند ہوئے تھے، اور انہوں نے انہی کے ساتھ انہیں بہرہ ور کر دیا۔ شاعر کہتا ہے:

اللّٰه أکبر إن دین محمد

وکتابہ أقوی و أقوم قیلا

طلعت بہ شمس الہدایۃ للوری

وأبی لہا وصف الکمال أفولا

والحق أبلج فی شریعتہ التی

جمعت فروعًا للہدی وأصولا

لا تذکروا الکتب السوالف عندہ

طلع الصباح فأطفؤا القندیلا

’’اللہ سب سے بڑا ہے، محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کا دین اور اس کی کتاب بہت قوی اور بہت مضبوط کلام ہے۔ اس کے ساتھ مخلوق کے لیے آفتاب ہدایت طلوع ہوا ہے، کمزور رائے والوں نے اس کے وصف کمال کو تسلیم نہیں کیا، اس کی شریعت میں حق واضح ہو چکا ہے جو ہدایت کے اُصول و فروع کا مجموعہ ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے سابقہ کتب کا ذکر نہ کرو، صبح نمودار ہو گئی لہٰذا قندیل بجھا دو۔‘‘

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور اُموی حکومت کے دور کی بڑی بڑی فتوحات اس بات کی صریح دلیل ہیں کہ اُمت قوی اور متحد تھی، اللہ کے دین پر عمل پیرا تھی اور اقوام و قبائل کی ہدایت کی حریص تھی۔ اس کے علاوہ میں نے درج ذیل معاملات پر بات کی ہے:

ولی عہدی کی سوچ اور یزید کی بیعت کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اقدامات، مشورے، اطلاعاتی دباؤ، اہل شام کا بیعت یزید کو تسلیم کر لینا، وفود کی طرف سے بیعت، اہل مدینہ سے بیعت کا مطالبہ اور حضرت عبداللہ بن عمر، عبدالرحمٰن بن ابوبکر، عبداللہ بن زبیر اور حسین بن علی رضی اللہ عنہم کا اس بیعت پر اعتراض، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اپنے بیٹے یزید کو ولی عہدی کے لیے تیار کرنے کے اسباب جیسے اتحاد اُمت کی حفاظت، قبائلی عصبیت کی قوت، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیٹے سے محبت اور اس پر قناعت کرنا، بیعت یزید کے سلسلے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر کی جانے والی تنقید، عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں ولی عہدی کے تصور کے ماخذ، آپ کی زندگی کے آخری ایام، موت کی سختیوں میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی دُعا:

اَللّٰہُمَّ اَقَلِّ الْعَثَرَۃَ، وَاْعفُ عَنِ الزَّلَّۃِ، وَتَجَاوَزْ بِحِلْمِکَ عَنْ جَہْلٍ مَالَمْ یُرْجَ غَیْرُکَ فَاِنَّکَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَۃِ، لَیْسَ لِذِیْ خَطِیْئَۃٍ مَہْرَبٌ اِلَّا اِلَیْکَ۔

’’اللہ!میری پھسلن کو مٹا دیجیے، لغزش کو معاف کر دیجیے، اپنے حلم سے اس لا علمی سے درگزر کیجیے جس کی آپ کے سوا کسی سے اُمید نہیں رکھی جا سکتی، ( اے اللہ!) آپ وسیع مغفرت والے ہیں، غلطی کرنے والے کے لیے آپ کی طرف بھاگنے کے علاوہ کوئی جگہ نہیں۔‘‘

اس (دُعا ) کے بعد ان کی وفات ہو گئی۔

اول و آخر اللہ کا ہی فضل ہے، میں اللہ تعالیٰ سے اس کے اسمائے حسنی اور بلند صفات کے طفیل اس سے سوال کرتا ہوں کہ وہ میرے اس کام کو اپنی رضا کے لیے خالص اور اپنے بندوں کے لیے نفع بخش بنا دے، میرے لکھے ہوئے ہر ہر حرف پر مجھے اجر و ثواب عطا کرے، اور اسے میری نیکیوں کے پلڑے میں ڈال دے، اور میرے ان بھائیوں کو بھی جزا دے جنہوں نے اس عاجزانہ کوشش کی تکمیل میں حصہ ڈالا ہے۔ ہم اس کتاب کے پڑھنے والے ہر اس مسلمان سے یہ اُمید کرتے ہیں کہ وہ اس بندہ ناچیز کو اپنی دُعاؤں میں نہ بھولیں جو اپنے رب کی معافی، مغفر، رحمت اور خوش نودی کا محتاج ہے:

رَبِّ اَوۡزِعۡنِىۡۤ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِىۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَىَّ وَعَلٰى وَالِدَىَّ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًـا تَرۡضٰٮهُ وَاَدۡخِلۡنِىۡ بِرَحۡمَتِكَ فِىۡ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيۡنَ ۞ (سورۃ النمل آیت 19

ترجمہ: میرے پر ورگار! مجھے اس بات کا پابند بنا دیجیے کہ میں ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو آپ نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائی ہیں، اور وہ نیک عمل کروں جو آپ کو پسند ہو، اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل فرمالیجیے۔

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

مَا يَفۡتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَةٍ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَا وَمَا يُمۡسِكۡ فَلَا مُرۡسِلَ لَهٗ مِنۡ بَعۡدِه وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ۞ (سورۃ فاطر آیت 2)

ترجمہ: جس رحمت کو اللہ لوگوں کے لیے کھول دے، کوئی نہیں ہے جو اسے روک سکے اور جسے وہ روک لے تو کوئی نہیں ہے جو اس کے بعد اسے چھڑا سکے۔ اور وہی ہے جو اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ۔

سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔

الفقیر الی عفو ربہ ومغفرتہ

علي محمد محمد الصلابي